
Chapitre 15 sur 26
Conte 14 : La pilule magique
Tale 14: The Magic Pill
چودھویں کہانی
چودھویں کہانی
بیتال بولا، اے راجا بکرم! کسماوتی نام ایک نگری ہے، وہاں کا سبچار نام راجا، جس کی بیٹی کا نام چندر پربھا۔ جب وہ برجوگ ہوئی، تب ایک دن بسنت رتو میں سکھیوں کو ساتھ لے باغ کی سیر کو چلی۔ وہاں زنانے کے بندوبست سے پہلے ایک برہمن کا لڑکا بیس برس ایک کا اتی سندر منسوی نام کہیں سے پھرتا ہوا اس باغ میں آ، ایک برکش کے نیچے ٹھنڈی چھاؤں پا کر سو رہا تھا۔ راجا کے لوگوں نے آ، اس باڑی میں زنانے کا بندوبست کیا، پر اتفاقاً اس برہمنیٹے کو کسی نے نہ دیکھا، اور وہ اس درخت کے نیچے سوتا رہا، اور راج کنیا اپنے لوگوں سمیت باغ میں داخل ہوئی۔
سہیلیوں کے ساتھ سیر و تماشا دیکھتی ہوئی کہاں آتی ہے، کہ جہاں وہ برہمنیٹا سوتا تھا۔ اس کا وہاں پہنچنا کہ وہ بھی لوگوں کے پاؤں کی آہٹ سے اٹھ بیٹھا، دونوں کی چار نظریں ہوئیں، اور کام دیو کے ایسے بس ہوئے کہ ادھر براہمن کا لڑکا مورچھا کھا بھومی پر گرا، اور ادھر بے سدھ ہو راج کنیا کے پاؤں کانپنے لگے۔ پر وہیں اسے سکھیوں نے ہاتھوں ہاتھ تھام لیا۔ ندان چنڈول میں لٹا گھر کو آئیں۔ اور یہاں براہمن کا لڑکا ایسا بے سدھ پڑا تھا، کہ اپنے تن من کی کچھ خبر نہ رکھتا تھا۔ اس عرصے میں دو براہمن ششی اور مول دیو نام کامروپ دیس سے بدیا پڑھے ہوئے وہاں آ نکلے۔ مول دیو نے اس براہمن کے لڑکے کو پڑا دیکھ کر کہا اے ششی! ایسا بے سدھ یہ کیوں پڑا ہے؟ وہ بولا، نائکا نے بھوں کی کمان سے نین کے تیر مارے ہیں۔ اس سے یہ بے سدھ پڑا ہے۔ مول دیو نے کہا اسے اٹھانا چاہیے۔ اس نے کہا تمہیں اٹھانے سے کیا درکار ہے؟ اس نے ششی کا کہنا نہ مانا، اور اسے پانی چھڑک کر اٹھایا، اور پوچھا کہ تیری کیا دسا ہوئی ہے؟
وہ براہمن بولا، دکھ اس سے کہیے جو دکھ کو دور کرے اور جو سن کے دور نہ کر سکے اس سے کہنا کیا حاصل؟ وہ بولا اچھا تو اپنی پیر ہمارے آگے کہہ، ہم دور کریں گے۔ یہ سن کے وہ بولا کہ ابھی راج کنیا سکھیوں کو ساتھ لیے آئی تھی، سو اس کے دیکھنے سے میری یہ گتی ہوئی ہے، جو وہ ملے گی تو میں اپنا جیو رکھوں گا، نہیں تو پران تجوں گا۔ تب وہ بولا، ہمارے استھان پر چل، اس کے ملنے کا ہم جتن کر دیں گے، اور نہیں تو تجھے بہت سا دھن دیں گے۔
تب منسوی بولا کہ سنسار میں بھگوان نے بہت رتن پیدا کیے ہیں، پر استری رتن سب سے اتم ہے۔ اور اسی کے لیے منش دھن کی اچھا کرتے ہیں، جب ناری کو تیاگا تو دھن لے کے کیا کریں گے۔ جن کو حسین عورت میسر نہ ہو، ان سے سنسار میں پشو بھلے ہیں۔ دھرم کا پھل ہے دھن، اور دھن کا پھل ہے سکھ اور سکھ کا پھل ہے ناری۔ اور جہاں ناری نہیں، تہاں سکھ کہاں؟ یہ سن کے مول دیو بولا جو تو مانگے گا سو دوں گا۔ تب اس نے کہا اے براہمن مجھے وہی کنیا دلا دے۔ پھر مول دیو نے کہا اچھا تو ہمارے ساتھ چل تجھے وہی کنیا دلا دیں گے۔
غرض بہت سی تسلی کر اسے اپنے گھر لے گیا، اور وہاں جا کر دو گٹکے بنائے، ایک گٹکا اس براہمن کو دے کر کہا، جب اسے منہ میں رکھے گا تب تو بارہ برس کی کنیا ہو جائے گا۔ اور جس وقت تو اسے منہ سے نکال لے گا، تو پرش جیوں کا تیوں ہو جائے گا۔ اور کہا، تو اسے اپنے منہ میں رکھ۔ اس نے جو اپنے منہ میں رکھا، تو وہ بارہ برس کی کنیا ہو گیا۔ اور دوسرے گٹکے کو جو اس نے منہ میں رکھا، تو آپ اسی برس کا ڈوکرا بن گیا، اور اس کنیا کو لیے ہوئے راجا کے یہاں گیا۔
راجا نے براہمن کو دیکھ ڈنڈوت کر آسن بیٹھنے کو دیا، اور ایک آسن اس لڑکی کو بھی۔ تب براہمن نے ایک شلوک پڑھ اسیس دی، کہ جس کی سوبھا ترلوک میں پھیل رہی ہے، اور جن نے بونا ہو بلی کو چھلا، اور جن نے بندر ساتھ لے سمدر کا پل باندھا، اور جن نے پربت ہاتھ پر رکھ اندر سے برج کے گوالبال بچائے، سوئی واسو دیو تمہاری رکشا کرے۔
یہ سن کر راجا نے پوچھا مہاراج! آپ کہاں سے پدھارے؟ مول دیو براہمن بولا، کہ گنگا پار سے میں آیا ہوں، اور وہیں میرا گھر ہے، اور میں اپنے بیٹے کی بہو کو لینے گیا تھا، پیچھے میرے گاؤں میں بھاگڑ پڑی، سو میں نہیں جانتا کہ براہمنی اور میرا پتر بھاگ کہاں گئے، اور اب میں اس کو ساتھ لیے ہوئے انہیں کس طرح ڈھونڈھوں گا، اس سے بہتر یہ ہے کہ آپ کے پاس اسے چھوڑ جاتا ہوں، جب تک میں نہ آؤں تب تک جتن سے رکھنا۔
یہ بات براہمن کی سن راجا اپنے چت میں چنتا کرنے لگا، کہ اتی سندر ترن ستری کو میں کس طرح رکھوں، اور جو نہیں رکھتا تو یہ براہمن سراپ دے گا، میرا راج بھنگ ہو جائے گا۔ یہ اپنے جی میں راجا بچار کر بولا مہاراج! جو آپ نے آگیا کی، قبول ہے۔ پھر راجا نے اپنی پتری کو بلا کر کہا، بیٹی! اس براہمن کی بہو کو اپنے پاس لے جا کے بہت جتن سے رکھیو، اور سوتے جاگتے کھاتے پیتے پھرتے چھن بھر اسے اپنے پاس سے جدا مت کیجو۔
یہ سن راج کنیا اس براہمن کی بہو کا کر دھر اپنے مندر میں لے گئی۔ رات کے سمے دونوں ایک سیج پر سوئیں، اور آپس میں باتیں کرنے لگیں۔ باتیں کرتے کرتے براہمن کی بہو بولی، کہ اے راج کنیا تو کس دکھ کے مارے اتی دربل ہو رہی ہے، سو مجھ سے کہہ؟ راج پتری بولی، ایک دن بسنت رتو میں سکھیوں کو ساتھ لے میں باغ کی سیر کو گئی تھی، اور وہاں ایک براہمن اتی سندر کام دیو کے سمان میں نے دیکھا، اور اس کی میری چار نظریں ہوئیں، ادھر وہ بے ہوش ہوا، اور ادھر میں بے سدھ ہوئی۔ تب سکھیاں میری اوستھا دیکھ گھر کو لے آئیں، اور اس کا ناؤں ٹھاؤں میں کچھ نہیں جانتی، میری آنکھوں میں اس کی صورت سما رہی ہے، اور مجھے کھانے پینے کی بھی کچھ رچ نہیں، اسی پیر سے میرے شریر کی یہ دسا ہوئی ہے۔
یہ سن کے وہ براہمن کی بہو بولی، جو میں تیرے پریتم کو تجھ سے ملا دوں تو تو مجھے کیا دے؟ راج کنیا بولی، کہ سدا تیری داسی ہو رہوں گی۔ یہ سن کے وہ گٹکا اپنے منہ سے نکال پھر پرش ہو گیا، اور یہ اسے دیکھ کے شرمائی۔ پھر اس براہمن کے لڑکے نے گندھرب بواہ کی ریت سے اس کے ساتھ اپنا بیاہ کیا، اور ہمیشہ اسی طرح رات کو مرد ہوتا، اور دن کو رنڈی بنا رہتا۔ ندان چھ مہینے پیچھے راج کنیا کو گربھ رہا۔
ایک دن کا ذکر ہے کہ راجا سارے کٹمب کو ساتھ لے کر دیوان کے گھر شادی میں گیا، وہاں منتری کے بیٹے نے اس ستری بھیش دھاری براہمن کے لڑکے کو دیکھا۔ دیکھتے ہی عاشق ہو گیا اور اپنے ایک متر کے آگے کہنے لگا، جو یہ ناری مجھے نہ ملے گی تو میں اپنا پران تجوں گا۔
اس عرصے میں راجا نیوتا کھا کنبے سمیت اپنے مندر کو آیا۔ پر منتری کے پوت کی اس کے برہ کی ڈاہ سے نپٹ کٹھن اوستھا ہوئی، اور ان پانی چھوڑ دیا۔ یہ گتی دیکھ اس کے متر نے جا منتری سے کہا، مہاراج! اس براہمن کی بہو کی پریتی میں میرے بیٹے کی بری حالت ہے، کھانا پینا چھوڑ دیا ہے۔ جو آپ کرپا کر کے براہمن کی بہو کو مجھے دیویں تو اس کی جان بچے۔ یہ سن راجا کرودھ کر بولا، ارے مورکھ! ایسی انیتی کرنا راجاؤں کا دھرم نہیں ہے۔ سن تو ایک منش کی تھاتی ہو، اور بنا آ گیا اس کی دوسرے کو دینا اچت ہے، جو تو مجھ سے یہ بات کہتا ہے؟ یہ سن کے پردھان ہراس ہو اپنے گھر کو آیا۔ پر اس لڑکے کا دکھ دیکھ کر ان نے بھی ان جل چھوڑ دیا۔ جب کہ تین دن دیوان کو بن دانے پانی کے گزرے، تب تو سب کارباریوں نے اکٹھے ہو کر راجا سے آ عرض کی، مہاراج! منتری کا پتر اب تب ہو رہا ہے، اور اس کے مرنے سے دیوان بھی نہ بچے گا، اور دیوان کے مرنے سے راج کاج نہ چلے گا، بہتر یہ ہے کہ جو ہم عرض کریں سو قبول ہو۔
یہ سن راجا نے آگیا دی، کہ کہو۔ تب ان میں سے ایک شخص بولا، مہاراج! اس بوڑھے براہمن کو گئے ہوئے بہت دن ہوئے کہ پھرا نہیں، بھگوان جانے مر گیا یا جیتا ہے، اس سے اچت یہ ہے کہ اس براہمن کی بہو کو منتری کے بیٹے کو دے اپنا راج قائم رکھیے۔ اور کداچت وہ آیا، تو گاؤں دھن دیجیے گا۔ اگر اس پر راضی نہ ہو گا تو اس کے لڑکے کا بیاہ کر بدا کیجیے گا۔ یہ بات سن راجا نے اس براہمن کی بہو کو بلا کر کہا، تو میرے منتری کے پتر کے گھر جا۔ وہ بولی کہ ستری کا دھرم نشٹ ہوتا ہے اتی روپ پا کے، براہمن کا دھرم جاتا ہے، راجا کی سیوا کرنے سے۔ اور گائے خراب ہوتی ہے دور کی چرائی سے۔ اور دھن جاتا ہے دھرم پنے سے۔ اتنا کہہ پھر بولی، جو مہاراج تم مجھے منتری کے بیٹے کو دیتے ہو، تو اس سے یہ بات ٹھہرا دیجیے کہ جو کچھ اس سے میں کہوں، سو وہ کرے، تب میں اس کے گھر جاؤں گی۔ راجا بولا کہہ کہ وہ کیا کرے۔ ان نے کہا مہاراج! میں براہمنی، اور وہ کشتری، اس سے بہتر یہ ہے کہ وہ پہلے سب تیرتھ یاترا کر آوے، تب میں اس کے ساتھ گھر کروں۔
یہ بات سن کے راجا نے منتری کے بیٹے کو بلا کر کہا، پہلے تو تیرتھ یاترا کر آ، تب اس براہمنی کو تجھے دیویں گے۔ راجا کی بات سن دیوان کے بیٹے نے کہا، مہاراج! وہ میرے گھر جا بیٹھے، تو میں تیرتھ کو جاؤں۔ یہ بات سن راجا نے اس براہمنی کو کہا، جو تم پہلے اس کے گھر میں رہو، تو وہ تیرتھ یاترا کو جائے۔ لاچار ہو راجا کے کہنے سے براہمنی اس کے گھر میں جا رہی، تب پردھان کے پتر نے اپنی ناری سے کہا، تم دونوں نہایت پیار اخلاص سے باہم ایک جا رہنا، اور آپس میں کسی طرح کا جھگڑا لڑائی نہ کرنا، اور پرائے گھر کبھی نہ جانا۔ اتنی سیکھ دے وہ تیرتھ یاترا کو گیا، اور ادھر اس کی بہو سوبھاگیہ سندری نام براہمن کی بہو کو ساتھ لے ایک بچھونے پر رات کو لیٹی ہوئی باتیں ادھر ادھر کی کرنے لگی۔ کتنی ایک دیر کے بعد اس دیوان کے پتر کی بہو نے یہ بات کہی، اے سکھی! اس وقت تو میں عشق سے جلی جاتی ہوں، پر مطلب میرا کس طور سے حاصل ہو۔ دوسری بولی کہ اگر تیرے مطلب کو میں بر لاؤں تو تو مجھے کیا دے۔ ان نے کہا، سدا تیرے آگے ہاتھ جوڑے آگیا کاری رہوں۔ تب ان نے اپنے منہ سے گٹکے کو نکال پرش بن گیا، ہمیشہ اس طرح رات کو مرد بنتا اور دن کو رنڈی، پھر تو ان دونوں میں بڑی پریتی ہوئی۔
غرض اسی طرح سے چھ مہینے بیتے، اور منتری کا پتر آ پہنچا۔ ادھر لوگ اس کے آنے کی خبر سن منگلا چار کرنے لگے۔ اور ادھر براہمن کی بہو نے گٹکا منہ سے نکال مرد بن کھڑکی کی راہ محل سے نکل اپنی راہ لی۔ پھر کتنی ایک دیر میں اس مول دیو براہمن کے پاس پہنچا، کہ جس نے اسے گٹکا دیا تھا، اور اس سے سب اپنی آدی انت کی اوستھا کہی۔ تب مول دیو نے تمام احوال سن کر، گٹکا اس سے لے اپنے ساتھی ششی نام براہمن کو دیا، اور دونوں نے گٹکے اپنے اپنے منہ میں رکھ لیے، ایک بوڑھا بن گیا، اور دوسرا بیس برس کا، پھر یہ دونوں راجا کے یہاں گئے۔ راجا نے دیکھتے ہی ڈنڈوت کر ان کے بیٹھنے کو آسن دیے، اور انہوں نے بھی اسیس دیں، راجا نے ان کی کشل کشیم پوچھ مول دیو سے کہا، کہ اتنے دن تمہیں کہاں لگے؟ براہمن بولا مہاراج اسی پتر کے ڈھونڈھنے کو گیا تھا، سو اسے کھوج کر آپ کے پاس لے آیا ہوں، اب اس کی بہو کو دو، تو میں بہو بیٹے کو اپنے گھر لے جاؤں۔
تب راجا نے براہمن کے آگے وہ سب برتانت کہہ سنایا۔ براہمن نے سنتے ہی اتی کوپ کر راجا سے کہا، یہ کون سا بیوہار ہے، جو تم نے میرے بیٹے کی بہو اور کو دی۔ اچھا جو تم نے چاہا سو کیا، پر اب میرا سراپ لو۔ تب راجا بولا کہ ہے دیوتا! تم کرودھ مت کرو، جو تم کہو سو میں کروں۔ براہمن بولا اچھا جو تو میرے سراپ سے ڈر کر میرا کہا کرتا ہے تو تو اپنی پتری میرے لڑکے کو بیاہ دے۔ یہ سن راجا نے ایک جوتشی کو بلا شبھ لگن مہورت ٹھہرائے، اپنی پتری اس براہمن کے لڑکے سے بیاہ دی۔ پھر یہ وہاں سے راج کنیا کو دان دہیز سمیت لے، راجا سے بدا ہوا، اپنے گاؤں میں آیا۔
یہ خبر سن وہ منسوی براہمن بھی وہاں آ اس سے جھگڑنے لگا، کہ میری ستری مجھے دے۔ ششی نام براہمن بولا کہ میں دس پنچوں میں بیاہ کر لایا ہوں، یہ ستری میری ہے۔ اس نے کہا کہ اسے تو میرا گربھ رہا، تیری کس طرح سے یہ ناری ہو گی؟ اور آپس میں بباد کرنے لگے۔ مول دیو نے ان دونوں کو بہت سمجھایا لیکن کسو نے اس کا کہنا نہ مانا۔ اتنی کتھا کہہ بیتال بولا، اے راجا بیر بکرماجیت! کہو وہ بھاریا کس کی ہوئی؟ راجا نے کہا وہ ستری ششی براہمن کی ہوئی۔ تب بیتال بولا گربھ اس براہمن کا، جورو اس کی کس طرح سے ہوئی؟ راجا نے کہا اس براہمن کا پیٹ رکھوایا ہوا تو کسو نے معلوم نہ کیا، اور ان نے دس پنچوں میں بیٹھ کے شادی کی، اس لیے اسی کی جورو ٹھہری، اور وہ لڑکا بھی اسی کی کریا کرم کا ادھیکاری ہو گا۔ یہ بات سن بیتال اسی رکھ میں جا لٹکا، پھر راجا گیا اور بیتال کو باندھ، کاندھے پر رکھ، لے چلا۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.