Urdu in Translation
搜索

第 14 章,共 26 章

Рассказ 13: Вор, который смеялся и плакал

Tale 13: The Thief Who Laughed and Wept

تیرھویں کہانی

Мазхар Али Хан Вила

文字
字号

تیرھویں کہانی

بیتال بولا اے راجا! چندر پردے نام ایک نگری ہے، اور اس جگہ کا رندھیر نام راجا تھا، اس کی نگری دھرم دھوج نام ایک سیٹھ تھا، اور اس کی بیٹی کا نام شوبھنی۔ پر اتی سندری، جوانی اس کی دن بدن بڑھتی تھی، اور روپ اس کا پل پل ادھک ہوتا تھا۔ اتفاقاً اس نگری میں راتوں کو چوری ہونے لگی۔ جب چوروں کے ہاتھ سے مہاجنوں نے بہت دکھ پایا، تب اکٹھے ہو راجا کے نکٹ جا کر سب نے کہا مہاراج! چوروں نے نگر میں بہت ظلم کیا ہے، ہم اس شہر میں اب رہ نہیں سکتے۔ راجا نے کہا، خیر جو ہوا سو ہوا، لیکن اب آگے دکھ نہ پاؤ گے، میں ان کا جتن کرتا ہوں۔ یہ کہہ راجا نے بہت سے لوگ بلوا، چوکی کو بھیج دیے، اور چوکی پہرے کا ڈھب ان کو بتا دیا اور حکم کیا کہ جہاں چوروں کو پاؤ، بنا پوچھے مار ڈالو۔ لوگ رات کو نگر کی رکھوالی کرنے لگے، اس پر بھی چوری ہوتی تھی، سارے ساہوکار اکٹھے ہو کر راجا کے پاس آئے، اور عرض کی، مہاراج آپ نے پہروے بھیجے، تو بھی چور نہ کم ہوئے، اور روز چوری ہوتی ہے۔ راجا نے کہا اس وقت تم رخصت ہو، آج کی رات سے نگر کی چوکی دینے میں نکلوں گا۔ یہ سن کے راجا سے بدا ہو، وے اپنے اپنے گھر گئے، اور جس وقت کہ رات ہوئی، راجا اکیلا ڈھال تلوار لے پیادہ نگری کی رکشا کرنے لگا۔ اس میں آگے جا کے دیکھے تو ایک چور سامنے سے چلا آتا ہے۔ راجا اسے دیکھ کر پکارا تو کون ہے! وہ بولا کہ میں چور ہوں، تو کون ہے! راجا نے کہا میں بھی چور ہوں۔

یہ سن وہ خوش ہو کے بولا، آؤ مل کر چوری کرنے چلیں۔ یہ بات آپس میں ٹھہرا راجا اور چور باتیں کرتے ہوئے ایک محلے میں پیٹھ، اور کتنے ایک گھروں میں چوری کر، مال متاع لے، نگر کے باہر نکل، ایک کنوئیں پر آئے، اور اس میں اتر پاتال پری میں جا پہنچے، وہ چور راجا کو دروازے پر کھڑا کر دھن دولت اپنے مندر میں لے گیا۔ اتنے میں اس کے گھر میں سے ایک داسی نکلی، وہ راجا کو دیکھ کے کہنے لگی، مہاراج! تم کہاں اس دشٹ کے ساتھ یہاں آئے، خیر اس میں ہے کہ وہ آنے نہ پاوے، اور تم سے جہاں تلک بھاگا جائے بھاگو، نہیں تو وہ آتے ہی تمہیں مار ڈالے گا۔ راجا نے کہا میں تو راہ نہیں جانتا کدھر کو جاؤں۔ پھر اس چیری نے باٹ دکھا دی، اور راجا اپنے مندر کو آیا۔

غرض دوسرے دن راجا نے سب اپنی سینا ساتھ لے اس کنوئیں کی راہ پاتال پری میں جا کر چور کا تمام گھر بار گھیر لیا، اور وہ کسی اور راہ سے نکل اس نگری کا مالک جو دیو تھا، اس کے پاس گیا۔ عرض کی کہ ایک راجا میرے مارنے کو گھر پر چڑھ آیا ہے، یا تم میری اس سمے سہائے کرو، نہیں تمہاری پری کا باس چھوڑ اور نگر میں جا بستا ہوں۔ یہ سن راکشس نے خوش ہو کر کہا، تو میرے لیے کھانے کو لایا ہے، میں تجھ سے بہت خوش ہوا۔ یہ کہہ کر جہاں راجا کٹک لیے حویلی گھیرے ہوئے تھا وہاں وہ دیو آ، آدمیوں کو اور گھوڑوں کو کھانے لگا، اور راجا اس دیو کی صورت دیکھ کر بھاگا، اور جن لوگوں سے بھاگا گیا وے تو بچے، اور باقیوں کو دیو نے کھایا۔

غرض راجا اکیلا بھاگا جاتا تھا، کہ چور نے آ کر للکارا، تو رجپوت ہو کر لڑائی سے بھاگتا ہے۔ یہ سنتے ہی راجا پھر کھڑا ہوا، اور دونوں سنمکھ ہو یدھ کرنے لگے۔ ندان راجا اسے بس کر مشکیں باندھ نگر میں لے آیا۔ پھر اس کو نہلوا دھلوا اچھے اچھے بستر دھرا، ایک اونٹ پر بٹھلا، ڈھنڈوریا ساتھ کر ساری نگری کے پھیرنے کو بھیجا، اور سولی اس کے واسطے کھڑی کرنے کا حکم کیا۔ اس میں شہر کے لوگوں میں سے جو اسے دیکھتا تھا سو کہتا تھا، کہ اسی چور نے تمام نگر لوٹا ہے، اور اب اسے راجا سولی دے گا۔

جب کہ اس دھرم دھوج سیٹھ کی حویلی کے نیچے وہ چور گیا، تو اس سیٹھ کی بیٹی نے ڈھنڈورے کی آواز سن اپنی داسی سے پوچھا، یہ کاہے کی ڈونڈی باجتی ہے؟ وہ بولی جو چور اس نگر میں چوری کرتا تھا، اسے راجا پکڑ لایا ہے، اب سولی دے گا۔ یہ سن کے دیکھنے کو وہ بھی دوڑی آئی۔ چور کا روپ جوبن دیکھتے ہی موہت ہو گئی، اور اپنے باپ سے آ کر کہا، تم اس سمے راجا کے پاس جاؤ اور اس چور کو چھڑا لاؤ۔

سیٹھ بولا، کہ جس چور نے راجا کا تمام نگر موسا ہے، اور جس کے لیے سارا کٹک کٹا، اسے میرے کہے سے کیوں کر چھوڑے گا؟ پھر اس نے کہا، جو تمہارے سربس دے سے بھی راجا اسے چھوڑے تو ترنت تم اسے چھڑا لاؤ، جو وہ نہ آوے گا، تو میں بھی اپنی جان دوں گی۔ یہ سن سیٹھ نے راجا سے جا کر کہا، مہاراج! پانچ لاکھ روپے مجھ سے لیجیے، اور اس چور کو چھوڑ دیجیے۔ راجا بولا، اس چور نے سارا نگر موسا، اور تمام لشکر اس کے سبب سے غارت ہوا، اسے میں کسی طرح سے نہ چھوڑوں گا۔ جب راجا نے اس کی بات نہ مانی، لاچار پھر یہ اپنے گھر کو آیا، اور اپنی بیٹی سے کہا، جتنا کہنے کا دھرم تھا اتنا میں نے کہا، لیکن راجا نے نہ مانا۔ اتنے عرصے میں چور کو نگری کے پھیرے دلوا کر سولی پاس لا کھڑا کیا۔ اور چور نے اس بنیے کی بیٹی کا احوال جو سنا، پہلے کھلکھلا کر ہنسا، پھر ڈکرا ڈکرا رونے لگا، اتنے میں لوگوں نے اسے سولی پر کھینچ لیا۔ اور بنیے کی بیٹی اس کے مرنے کی خبر پا کر ستی ہونے کے لیے اسی جگہ پر آئی، چتا بنوا اس میں بیٹھ، اس چور کو سولی سے اتار، اس کا سر گود میں رکھ جلنے کو بیٹھی، چاہے کہ اس میں آگ دلوائے، اتفاقاً وہاں ایک دیوی کا مندر تھا، اس میں سے ترنت دیوی نکل کر بولی، اے پتری! میں تشٹ ہوئی تیرے ساہس پر، تو بر مانگ۔ وہ بولی، ماتا! جو تو مجھ سے تشٹ ہوئی ہے تو اس چور کو جی دان دے۔ پھر دیوی بولی، اسی طرح سے ہووے گا۔ یہ کہہ پاتال سے امرت لا چور کو جلا دیا۔

اتنی کتھا کہہ بیتال نے پوچھا اے راجا! بتاؤ کہ چور پہلے کس کارن ہنسا اور پیچھے کس لیے رویا؟ راجا نے کہا، جس واسطے ہنسا وہ باعث میں جانتا ہوں، اور جس لیے رویا وہ بھی مجھے معلوم ہے۔ سن بیتال! چور نے جی میں بچارا، یہ جو میرے واسطے سربس راجا کو دیتی ہے، اب اس کا میں کیا اپکار کروں گا، یہ سمجھ کر وہ رویا۔ پھر اپنے من میں بچارا کہ مرنے کے سمے اس نے مجھ سے پریتی کی، بھگوان کی گتی کچھ جانی نہیں جاتی۔ کلکشن کو دے لکشمی، کل ہین کو دیوے بدیا۔ مورکھ کو دے سندر ستری، پہاڑ پر برساوے برشا۔ ایسی ایسی باتیں سوچ کر ہنسا۔ یہ سن بیتال پھر اسی پیڑ پر جا لٹکا، راجا پھر وہاں گیا، اور اسے کھول، گٹھڑی باندھ، کاندھے پر رکھ، لے چلا۔

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。