
Capítulo 7 de 25
Viaje del primer derviche: la noche en el jardín y la huida
The First Darvesh: The Night in the Garden and the Flight
سیر پہلے درویش کی: باغ کی رات اور بھاگ نکلنا
اس پروَانگی کے سنتے ہی جوان نے آداب بجا لایا اور منھ پر روہٹ آئی۔ ساری رات اُسی قاعدے سے جیسے ہمیشہ گزرتی تھی، ہنسی خوشی سے کٹی۔ فجر ہوتے ہی وہ رُخصت ہوا، خوجے نے موافق فرمانے کے اُس باغ اور لونڈی کو خرید کر دیا، پھر وہ جوان رات کو موافق معمُول کے آیا جایا کرتا۔ ایک روز بہار کے موسم میں کہ مکان بھی دل چسپ تھا، بدلی گھمنڈ رہی تھی، پھونھیاں پڑ رہی تھیں، بجلی بھی کوندھ رہی تھی، اور ہَوا نرم نرم بہتی تھی، غرض عجب کیفیت اُس دم تھی۔ جونہیں رنگ بہ رنگ کے حباب اور گلابیاں طاقوں پر چُنی ہوئی نظر پڑیں۔ دل للچایا کہ ایک گھونٹ لوں، جب دو تین پیالوں کی نوبت پہنچی وونہیں خیال اُس باغِ نو خرید کا گُزرا۔ کمال شوق ہُوا کہ ایک دم اِس عالم میں وہاں کی سیر کِیا چاہیے۔ کم بختی جو آوے، اونٹ چڑھے کتا کاٹے۔ اچھی طرح بیٹھے بٹھائے ایک دائی کو ساتھ لے کر سرنگ کی راہ اُس جوان کے مکان کو گئی، وہاں سے باغ کی طرف چلی۔ دیکھا تو ٹھیک اُس باغ کی بہار بہشت کی برابری کر رہی ہے۔ قطرے مینھ کے درختوں کے سر سبز پتوں پر جو پڑے ہیں، گویا زمرد کی پڑیوں پر موتی جڑے ہیں، اور سُرخی پھولوں کی اُس ابر میں ایسی چہچہی لگتی ہے جیسے شام میں شفق پھُولی ہے اور نہریں لبا لب مانند فرشِ آئینے کے نظر آتی ہیں اور موجیں لہراتی ہیں۔
غرض اُس باغ میں ہر طرف سیر کرتی پھرتی تھی کہ دن ہو چکا، سیاہی شام کی نمودار ہوئی۔ اتنے میں وہ جوان ایک روش پر نظر آیا، اور مجھے دیکھ کر بہت ادب اور گرم جوشی سے آگے بڑھ کر میرے ہاتھ کو اپنے ہاتھ پر دھر کر بارہ دری کی طرف لے چلا۔ جب وہاں میں گئی تو وہاں کے عالم نے سارے باغ کی کیفیت کو دل سے بھُلا دیا۔ یہ روشنی کا ٹھاٹھ تھا جا بجا قمقمے سرد چراغاں کنول اور فانوس خیال شمع مجلس حیران اور فانوسیں روشن تھیں کہ شبِ برات باوجود چاندنی اور چراغاں اُس کے آگے اندھیری لگتی۔ ایک طرف آتش بازی پھلجڑی انار داؤدی بُھچنپا مروارید مہتابی ہوائی چرخی ہتھ پھول جاہی جوہی پٹاخے ستارے چھٹتے تھے۔
اس عرصے میں بادل پھٹ گیا اور چاند نکل آیا بعینہ جیسے نافرمانی جوڑا پہنے ہوئے کوئی معشوق نظر آ جاتا ہے۔ بڑی کیفیت ہوئی چاندنی چھٹکتے ہی جوان نے کہا کہ اب چل کر باغ کے بالا خانے پر بیٹھیے۔ میں ایسی احمق ہو گئی تھی کہ جو وہ نگوڑا کہتا سو میں مان لیتی، اب یہ ناچ نچایا کہ مُجھ کو اُوپر لے گیا۔ وہ کوٹھا ایسا بلند تھا کہ تمام شہر کے مکان اور بازار کے چراغاں گویا اُس کے پائیں باغ تھے۔ میں اُس جوان کے گلے میں بانہہ ڈالے ہوئے خوشی کے عالم میں بیٹھی تھی۔ اتنے میں ایک رنڈی نہایت بھونڈی سی، صُورت نہ شکل چولھے میں سے نکل، شراب کا شیشہ ہاتھ میں لِئے ہوئے آ پہنچی۔ مجھے اُس وقت اُس کا آنا نپٹ بُرا لگا اور اُس کی صُورت دیکھنے سے دل میں ہول اُٹھی۔
تب میں نے گھبرا کر جوان سے پوچھا کہ یہ تحفہ علّت کون ہے؟ تُو نے کہاں سے پیدا کی؟ وہ جوان ہاتھ باندھ کر کہنے لگا کہ یہ وہی لونڈی ہے جو اِس باغ کے ساتھ حضور کی عنایت سے خرید ہوئی۔ میں نے معلوم کیا کہ اس احمق نے بڑی خواہش سے اِس کو لیا ہے۔ شاید اس کا دل اس پر مائل ہے۔ اسی خاطر سے پیچ و تاب کھا کر میں چُپکی ہو رہی، لیکن دل اُسی وقت سے مکدّر ہوا اور نا خوشی مزاج پر چھا گئی، تس پر قیامت اُس ایسے تیسے نے یہ کی کہ ساقی اُسی چھنال کو بنایا۔ اُس وقت میں اپنا لہُو پیتی تھی اور جیسے طوطی کو کوئی کوّ ے کے ساتھ ایک پنجرے میں بند کرتا ہے، نہ جانے کی فرصت پاتی تھی اور نہ بیٹھنے کو جی چاہتا تھا۔ قصہ مختصر وہ شراب بوند کی بوند تھی جس کے پینے سے آدمی حیوان ہو جاوے۔ دوچار جام پے در پے اُسی تیز آب کے جوان کو دیے اور آدھا پیالہ جوان کی منت سے میں نے زہر مار کیا۔ آخر وہ پلشت بے حیا بھی بدمست ہو کر اُس مردود سے بے ہُودہ ادائیں کرنے لگی، اور وہ چبلا بھی نشے میں بے لحاظ ہو چلا اور نامعقول حرکتیں کرنے لگا۔
مجھے یہ غیرت آئی اگر اُس وقت زمین پھاٹے تو میں سما جاؤں۔ لیکن اس کی دوستی کے باعث میں بلّی بن کر اس پر بھی چُپ ہو رہی۔ پر وہ تو اصل کا پاجی تھا، میرے اس درگزرنے کو نہ سمجھا، نشے کی لہر میں اور بھی دو پیالے چڑھا گیا کہ رہتا سہتا ہوش جو تھا، وہ بھی گُم ہوا۔ اور میری طرف سے مطلق دھڑکا جی سے اُٹھا دیا۔ بےشرمی سے شہوت کے غلبے میں میرے روبرو اُس بے حیا نے اُس بندوڑ سے صحبت کی۔ اور وہ پچھل پائی بھی اُس حالت میں نیچے پڑی ہوئی نخرے تلّے کرنے لگی اور دونوں میں چُوما چاٹی ہونے لگی۔ نہ اِس بے وفا میں وفا نہ اُس بے حیا میں حیا، جیسی روح ویسے فرشتے۔ میری اس وقت یہ حالت تھی جیسے اوسر چوکے ڈومنی گاوے تال بے تال، اپنے اوپر لعنت کرتی تھی کہ کیوں تو یہاں آئی جس کی یہ سزا پائی؟ آخر کہاں تک سہوں، میرے سر سے پاؤں تک آگ لگ گئی اور انگاروں پر لوٹنے لگی، اس غصّے اور طیش میں یہ کہاوت (بیل نہ کوُدا کُودے گون، یہ تماشا دیکھے کون) کہتی ہوئی وہاں سے اُٹھی۔
وہ شرابی اپنی خرابیِ دل میں سوچا کہ اگر پادشاہ زادی اس وقت ناخوش ہوئی تو کل میرا کیا حال ہو گا اور صبح کو کیا قیامت مچے گی؟ اب یہ بہتر ہے کہ شاہ زادی کو مار ڈالوں۔ یہ ارادہ اس غیبانی کی صلاح سے جی میں ٹھہرا کر گلے میں پٹکا ڈال میرے پاؤں آ کر پڑا، اور پگڑی سر سے اُتار کر منّت و زاری کرنے لگا۔ میرا دل تو اُس پر لٹّو ہو رہا تھا، جدھر لئے پھرتا تھا، پھرتی تھی اور چکی کی طرح میں اس کے اختیار میں تھی۔ جو کہتا تھا سو کرتی تھی، جوں توں مجھے پُھسلا پنڈھلا کر پھر بٹھلایا اور اُسی شراب دو آتشہ کے دو چار پیالے بھر بھر کر آپ بھی پیے اور مجھے بھی دیے، ایک تو غصّے کے مارے جل بھن کر کباب ہو رہی تھی، دوسرے ایسی شراب پی جلد بے ہوش ہو گئی، کچھ حواس باقی نہ رہے۔ تب اُس بے رحم نمک حرام کٹّر سنگ دل نے تلوار سے مجھے گھایل کیا بلکہ اپنی دانست میں مار چکا۔ اُس دم میری آنکھ کُھلی تو مُنہ سے یہی نکلا، خیر، جیسا ہم نے کیا، ویسا پایا لیکن تُو اپنے تئیں میرے اس خونِ ناحق سے بچائیو۔
مبادا ہو کوئی ظالم تِرا گریباں گیرمرے لہُو کو تو دامن سے دھو، ہُوا سو ہُوا
کسی سے یہ بھید ظاہر نہ کیجیو، ہم نے تو تجھ سے جان تک بھی درگزر نہ کی، پھر اس کو خدا کے حوالے کر کے مرا جی ڈوب گیا، مجھے اپنی سُدھ بُدھ کچھ نہ رہی شاید اُس قصائی نے مجھے مُردہ خیال کر اُس صندوق میں ڈال کر قلعے کی دیوار کے تلے لٹکا دیا، سو تُو نے دیکھا میں کسی کا برا نہ چاہتی تھی لیکن یہ خرابیاں قسمت میں لکھی تھیں، مٹتی نہیں کرم کی ریکھا، ان آنکھوں کے سبب یہ کچھ دیکھا۔ اگر خوب صورتوں کے دیکھنے کا دل میں شوق نہ ہوتا تو وہ بدبخت میرے گلے کا طوق نہ ہوتا۔ اللہ نے یہ کام کیا کہ تجھ کو وہاں پہنچا دیا اور سبب میری زندگی کا کیا۔ اب حیا جی میں آتی ہے کہ یہ رُسوائیاں کھینچ کر اپنے تئیں جیتا نہ رکھوں یا کسی کو مُنہ نہ دکھاؤں۔ پر کیا کروں، مرنے کا اختیار اپنے ہاتھ میں نہیں، خدا نے مار کر پھر جِلایا، آگے دیکھیے کہ کیا قسمت میں بدا ہے۔ ظاہر میں تو تیری دوڑ دھوپ اور خدمت کام آئی جو ویسے زخموں سے شفا پائی۔ تُو نے جان و مال سے میری خاطر کی اور جو کچھ اپنی بساط تھی، حاضر کی۔ اُن دنوں تجھے بے خرچ اور دو دلا دیکھ کر وہ شقّہ سیدی بہار کو (جو میرا خزانچی ہے) لکھا، اُس میں یہی مضمون تھا کہ میں خیر و عافیت سے اب فلانے مکان میں ہوں مجھ بد طالع خبر والدہ شریفہ کی خدمت میں پہنچائیو۔ اُس نے تیرے ساتھ دو کشتیاں نقد کی خرچ کی خاطر بھیج دیں۔ اور جب تجھے خلعت اور جواہر خرید کرنے کو یوسف سوداگر بچّے کی دکان کو بھیجا، مجھے یہ بھروسا تھا کہ وہ کم حوصلہ ہر ایک سے جلد آشنا ہو بیٹھتا ہے، تجھے بھی اجنبی جان کر اغلب ہے کہ دوستی کا ہاتھ بڑھائے گا، سو میرا منصُوبہ ٹھیک بیٹھا، جو کچھ میرے دل میں خیال آیا تھا اُس نے ویسا ہی کیا۔ تُو جب اُس سے قول قرار پھر آنے کا کر کر میرے پاس آیا اور مہمانی کی حقیقت اور اُس کا بَجِد ہونا مجھ سے کہا، میں دل میں خوش ہوئی کہ جب تُو اس کے گھر میں جا کر کھاوے پیوے گا، تب اگر تُو بھی اُس کو مہمانی کی خاطر بلاوے گا، وہ دوڑا چلا آوے گا۔ اِس لئے تُجھے جلد رُخصت کیا۔ تین دن کے پیچھے جب تُو وہاں سے فراغت کر کے آیا اور میرے رُو برو عذر غیر حاضری کا شرمندگی سے لایا، میں نے تیری تشفّی کے لئے فرمایا، کچھ مضائقہ نہیں، جب اُس نے رضا دی تب تُو آیا، لیکن بے شرمی خوب نہیں کہ دُوسرے کا احسان اپنے سر پر رکھئے اور اُس کا بدلا نہ کیجیے، اب تُو بھی جا کر اُس سے استدعا کر اور اپنے ساتھ ہی ساتھ لے آ۔ جب تُو اُس کے گھر گیا تب میں نے دیکھا کہ یہاں کچھ اسباب مہمان داری کا تیّار نہیں اگر وہ آ جاوے تو کیا کروں؟ لیکن یہ فرصت پائی کہ اس ملک میں قدیم سے پادشاہوں کا یہ معمُول ہے کہ آٹھ مہینے کاروبار مُلکی اور مالی کے واسطے ملک گیری میں باہر رہتے ہیں اور چار مہینے موسِمِ برسات کے قلعۂ مبارک میں جلوس فرماتے ہیں۔ اُن دنوں دو چار مہینے سے پادشاہ یعنی ولی نعمت مجھ بدبخت کے بندوبست کی خاطر ملک میں تشریف لے گئے تھے۔
جب تک تُو اُس جوان کو ساتھ لے کر آوے کہ سیدی بہار نے میرا احوال خدمت میں پادشاہ بیگم کی (کہ والدہ مجھ ناپاک کی ہیں) عرض کیا۔ پھر میں اپنی تقصیر اور گُناہ سے خجل ہو کر اُن کے رُو برو جا کر کھڑی ہوئی اور جو سرگزشت تھی سب بیان کی۔ ہر چند اُنہوں نے میرے غائب ہونے کی کیفیت دُور اندیشی اور مہرِ مادری سے چُھپا رکھی تھی کہ خدا جانے اس کا انجام کیا ہو، ابھی یہ رُسوائی ظاہر کرنی خوب نہیں، میرے بدلے میرے عیبوں کو اپنے پیٹ میں رکھ چھوڑا تھا، لیکن میری تلاش میں تھیں۔ جب مجھے اس حالت میں دیکھا اور سب ماجرا سُنا، آنسُو بھر لائیں اور فرمایا اے کم بخت ناشدنی! تُو نے جان بُوجھ کر نام و نشان بادشاہت کا سارا کھویا، ہزار افسوس! اور اپنی زندگی سے ہاتھ دھویا۔ کاش کہ تیرے عوض میں پتھر جنتی تو صبر آتا! اب بھی توبہ کر، جو قسمت میں تھا سو ہُوا، اب آگے کیا کرے گی؟ جیوے گی یا مرے گی؟ میں نے نہایت شرمندگی سے کہا کہ مُجھ بے حیا کے نصیبوں میں یہی لکھا جو اس بدنامی اور خرابی میں ایسی ایسی آفتوں سے بچ کر جیتی رہوں۔ اِس سے مرنا ہی بھلا تھا، اگرچہ کلنک کا ٹیکا میرے ماتھے پر لگا، پر ایسا کام نہیں کیا جس میں ماں باپ کے نام کو عیب لگے۔
اب یہ بڑا دکھ ہے کہ وہ دونوں بے حیا میرے ہاتھ سے بچ جاویں اور آپس میں رنگ رلیاں مناویں اور میں اُن کے ہاتھوں سے یہ کچھ دُکھ دیکھوں۔ حیف ہے مجھ سے کچھ نہ ہو سکے۔ یہ امیدوار ہوں کہ خانساماں کو پروانگی ہو، تو اسباب ضیافت کا بخوبی تمام اس کم بخت کے مکان میں تیّار کرے تو میں دعوت کے بہانے سے اُن دونوں بدبختوں کو بُلوا کر اُن کے عملوں کی سزا دُوں اور اپنا عوض لُوں۔ جس طرح اُس نے مجھ پر ہاتھ چھوڑا اور گھایل کیا، میں بھی دونوں کے پُرزے پُرزے کرُوں، تب میرا کلیجہ ٹھنڈا ہو، نہیں تو اِس غصّے کی آگ میں پُھک رہیں ہوں، آخر جل بل کر بھوبل ہو جاؤں گی۔
یہ سُن کر امّاں نے آتما کے درد سے مہربان ہو کر میری عیب پوشی کی اور سارا لوازمہ ضیافت کا اُسی خواجہ سرا کے ساتھ (جو میرا محرم ہے) کر دیا۔ سب اپنے اپنے کارخانے میں آ کر حاضر ہوئے۔ شام کے وقت تُو اُس موئے کو لے کر آیا، مُجھے اُس قحبہ باندی کا بھی آنا منظور تھا۔ چنانچہ پھر تجھ کو تَقیّد کر کر، اُسے بھی بُلوایا۔ جب وہ بھی آئی اور مجلس جمی، شراب پی پی کر سب بدمست اور بے ہوش ہوئے اور اُن کے ساتھ تُو بھی کیفی ہو کر مُردا سا پڑا۔ میں نے قلماقنی کو حکم کیا کہ اِن دونوں کا سر تلوار سے کاٹ ڈال۔ اُس نے وَہیں ایک دم میں شمشیر نکال کر دونوں کے سر کاٹ بدن لال کر دیے اور تُجھ پر غصّے کا یہ باعث تھا کہ میں نے اجازت ضیافت کی دی تھی، نہ دو دن کی دوستی پر اعتماد کر کے شریک مے خوری کا ہو۔ البتّہ تیری یہ حماقت اپنے تئیں پسند نہ آئی، اس واسطے کہ جب تُو پی پا کر بے ہوش ہوا، تب توقّع رفاقت کی تُجھ سے کیا رہی؟ پر تیری خدمت کے حق ایسے میری گردن پر ہیں کہ جو تجھ سے ایسی حرکت ہوتی ہے تو معاف کرتی ہوں۔ لے میں نے اپنی حقیقت ابتدا سے انتہا تک کہہ سُنائی، اب بھی دل میں کچھ اور ہَوس باقی ہے؟ جیسے میں نے تیری خاطر کر کے تیرے کہنے کو سب طرح قبول کیا، تُو بھی میرا فرمایا اُسی صورت سے عمل میں لا۔ صلاحِ وقت یہ ہے کہ اب اِس شہر میں رہنا میرے اور تیرے حق میں بھلا نہیں۔ آگے تُو مختار ہے۔
یا معبود اللہ! شہزادی اتنا فرما کر چپ رہی۔ فقیر تو دل و جان سے اس کے حکم کو سب چیز پر مقدّم جانتا تھا، اور اُس کی مَحبّت کے جال میں پھنسا تھا۔ بولا جو مرضیِ مبارک میں آوے سو بہتر ہے۔ یہ فدوی بے عذر بجا لاوے گا۔ جب شہزادی نے میرے تئیں فرماں بردار و خدمت گار اپنا پُورا سمجھا، فرمایا دو گھوڑے چالاک اور جاں باز (کہ چلنے میں ہوا سے باتیں کریں) بادشاہ کے خاص اصطبل سے منگوا کر تیّار رکھ۔ میں نے ویسے ہی پری زاد چار گردے کے گھوڑے چُن کر زین بندھوا کر منگوائے۔ جب تھوڑی سی رات باقی رہی بادشاہ زادی مردانہ لباس پہن اور پانچوں ہتھیار باندھ کر ایک گھوڑے پر سوار ہوئی، اور دوسرے مرکب پر میں مسلّح ہو کر چڑھ بیٹھا اور ایک طرف کی راہ لی۔
جب شب تمام ہوئی اور پرچھا ہونے لگا، تب ایک پوکھر کے کنارے پہنچے۔ اُتر کر ہاتھ مُنہ دھوئے، جلدی جلدی کچھ ناشتہ کر کے پھر سوار ہو کر چلے۔ کبھو ملکہ کچھ کچھ باتیں کرتی، اور یُوں کہتی کہ ہم نے تیری خاطر شرم حیا، ملک مال ماں باپ، سب چھوڑا، ایسا نہ ہو کہ تُو بھی اُس ظالم بے وفا کی طرح سلوک کرے۔ کبھو میں کُچھ احوال اِدھر اُدھر کا راہ کٹنے کے لئے کہتا، اور اُس کا بھی جواب دیتا کہ پادشاہ زادی! سب آدمی ایک سے نہیں ہوتے۔ اُس پاجی کے نُطفے میں کُچھ خلل ہو گا جو اُس سے ایسی حرکت واقع ہوئی اور میں نے تو جان و مال تُم پر تصدّق کیا اور تُم نے مُجھے ہر طرح سرفرازی بخشی۔ اب میں بندہ بغیر داموں کا ہُوں۔ میرے چمڑے کی اگر جُوتیاں بنوا کر پہنو تو میں آہ نہ کروں۔ ایسی ایسی باتیں باہم ہوتی تھیں۔ اور رات دن چلنے سے کام تھا۔ کبھو جو ماندگی کے سبب کہیں اُترتے تو جنگل کے چرند پرند شکار کرتے۔ حلال کر کے نمک دان سے لون نکال چکمک سے آگ جھاڑ بھُون بھان کر کھا لیتے اور گھوڑوں کو چھوڑ دیتے۔ وے اپنے مُنہ سے گھاس پات چَر چُگ کر اپنا پیٹ بھر لیتے۔
ایک روز ایسے کفِ دست میدان میں جا نکلے کہ جہاں بستی کا نام نہ تھا اور آدمی کی صورت نظر نہ آتی تھی، اُس پر بھی پادشاہ زادی کی رفاقت کے سبب سے دن عید اور رات شب برات معلوم ہوتی تھی۔ جاتے جاتے انچت ایک دریا (کہ جس کے دیکھنے سے کلیجہ پانی ہو) راہ میں ملا۔ کنارے پر کھڑے ہو کر جو دیکھا تو جہاں تلک نِگاہ نے کام کیا، پانی ہی تھا، کچھ تھل بیڑا نہ پایا۔ یا الٰہی! اب اس سمندر سے کیوں کر پار اُتریں! ایک دم اِسی سوچ میں کھڑے رہے۔ آخر یہ دل میں لہر آئی کہ ملکہ کو یہیں بِٹھا کر میں تلاش میں ناؤ نواڑی کے جاؤں، جب تلک اسباب گزارے کا ہاتھ آوے، تب تلک وہ نازنین بھی آرام پاوے۔ تب میں نے کہا اے ملکہ! اگر حکم ہو تو گھاٹ باٹ اس دریا کا دیکھوں۔ فرمانے لگی بہت تھک گئی ہوں اور بھوکی پیاسی ہو رہی ہوں، میں ذرا دم لے لوں جب تئیں تو پار چلنے کی کچھ تدبیر کر۔
اُس جگی ایک درخت پیپل کا تھا بڑا، چھتر باندھے ہوئے کہ اگر ہزار سوار آوے تو دھوپ اور مینہ میں اس کے تلے آرام پاوے۔ وہاں اُس کو بٹھا کر میں چلا اور چاروں طرف دیکھتا تھا کہ کہیں بھی زمین پر یا دریا میں نشان انسان کا پاؤں۔ بہتیرا سر مارا پر کہیں نہ پایا۔ آخر مایوس ہو کر وہاں سے پھر آیا تو اُس پری کو پیڑ کے نیچے نہ پایا۔ اُس وقت کی حالت کیا کہوں کہ سرت جاتی رہی؟ دیوانہ باؤلا ہو گیا۔ کبھو درخت پر چڑھ جاتا اور ڈال ڈال پات پات پھرتا، کبھو ہاتھ پاؤں چھوڑ کر زمین میں گرتا اور اُس درخت کی جڑ کے آس پاس تصدّق ہوتا، کدھو چنگھاڑ مار کر اپنی بے بسی پر روتا۔ کبھو پچھم سے پورب کو دوڑا جاتا، کدھو اُتّر سے دکھن کو پھر آتا۔
غرض بہتیری خاک چھانی لیکن اُس گوہرِ نایاب کی نشانی نہ پائی۔ جب میرا کچھ بس نہ چلا تب روتا اور خاک سر پر اُڑاتا تلاش ہر کہیں کرنے لگا۔
دل میں یہ خیال آیا کہ شاید کوئی جن اُس پری کو اُٹھا کر لے گیا اور مجھے یہ داغ دے گیا، یا اُس کے مُلک سے کوئی اُس کے پیچھے لگا چلا آیا تھا، اس وقت اکیلا پا کر منا منو کر پھر شام کی طرف لے اُبھرا۔ ایسے خیالوں میں گھبرا کر کپڑے وپڑے پھینک پھانک دیے، ننگا منگا فقیر بن کر شام کے مُلک میں صبح سے شام تک ڈھونڈھتا پھرتا اور رات کو کہیں پڑ رہتا۔ سارا جہاں روند مارا، پر اپنی بادشاہ زادی کا نام و نشان کسی سے نہ سُنا، نہ سبب غائب ہونے کا معلوم ہوا۔ تب دل میں خیال آیا کہ جب اس جان کا تُو نے کچھ پتا نہ پایا، تو اب جینا بھی حیف ہے۔ کسی جنگل میں ایک پہاڑ نظر آیا، تب اُس پر چڑھ گیا اور یہ ارادہ کیا کہ اپنے تئیں گرا دوں کہ ایک دم میں سر مُنہ پتھروں سے ٹکراتے ٹکراتے پھُوٹ جاوے گا، تو ایسی مصیبت سے جی چھُوٹ جاوے گا۔
یہ دل میں کہہ کر چاہتا ہوں کہ اپنے تئیں گراؤں، بلکہ پاؤں بھی اُٹھ چُکے تھے کہ کسو نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ اتنے میں ہوش آ گیا، دیکھتا ہوں تو ایک سوار سبز پوش مُنہ پر نقاب ڈالے مجھے فرماتا ہے کہ کیوں تُو اپنے مرنے کا قصد کرتا ہے؟ خُدا کے فضل سے ناامید ہونا کفر ہے۔ جب تلک سانس ہے، تب تلک آس ہے۔ اب تھوڑے دنوں میں روم کے ملک میں تین درویش تُجھ سریکھے ایسی ہی مصیبت میں پھنسے ہوئے اور ایسے ہی تماشے دیکھے ہوئے تجھ سے ملاقات کریں گے اور وہاں کے پادشاہ کا آزاد بخت نام ہے، اس کو بھی ایک مشکل درپیش ہے، جب وہ تُم چاروں فقیروں کے ساتھ ملے گا تو ہر ایک کے دل کا مطلب اور مراد جو ہے، بہ خوبی حاصل ہو گی۔
میں نے رکاب پکڑ کر بوسہ دیا، اور کہا اے خدا کے ولی! تمہارے اِتنے ہی فرمانے سے میرے دلِ پُر اضطرار کو تسلّی ہوئی، لیکن خُدا کے واسطے یہ فرمائیے کہ آپ کون ہیں اور اسم شریف کیا ہے؟ تب اُنہوں نے فرمایا کہ مرتضیٰ علیؓ میرا نام ہے اور میرا یہی کام ہے کہ جس کو جو مشکل کٹھن پیش آوے تو میں اس کو آسان کر دوں۔ اتنا فرما کر نظروں سے پوشیدہ ہو گئے۔ بارے اس فقیر نے اپنے مولا مُشکل کشا کی بشارت سے خاطر جمع کر قصد قسطنطنیہ کا کیا۔ راہ میں جو کچھ مصیبتیں قسمت میں لکھی تھیں کھینچتا ہوا اُس پادشاہ زادی کی مُلاقات کے بھروسے خدا کے فضل سے یہاں تک آ پہنچا، اور اپنی خوش نصیبی سے تمہاری خدمت میں مشرّف ہوا۔ ہمارے تمہارے آپس میں ملاقات تو ہوئی، باہم صحبت اور بات چیت میسّر آئی، اب چاہیے کہ پادشاہ آزاد بخت سے بھی رُوشناس اور جان پہچان ہو۔
بعد اس کے مقرّر ہم پانچوں اپنے مقصدِ دلی کو پہنچیں گے۔ تم بھی دعا مانگو اور آمین کہو۔ یا ہادی! اس حیران سرگردان کی سرگزشت یہ تھی جو حضوری میں درویشوں کی کہہ سنائی۔ اب آگے دیکھیے کہ کب یہ محنت اور غم ہمارا پادشاہ زادی کے ملنے سے خوشی و خرّمی سے بدل ہو۔ آزاد بخت ایک کونے میں چھُپا ہُوا چُپکا دھیان لگائے پہلے درویش کا ماجرا سُن کر خوش ہوا، پھر دوسرے درویش کی حقیقت کو سننے لگا۔
¿Qué te deja este capítulo?
Inicia sesión para reaccionar
Conversación
Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.