
Chapter 6 of 25
رحلة الدرويش الأول: حكاية أميرة دمشق
The First Darvesh: The Princess of Damascus Tells Her Story
سیر پہلے درویش کی: دمشق کی شہزادی کی سرگزشت
غرض بہت سی تاکید کر کر کہنے لگی کہ میں بدبخت ملکِ دمشق کے سلطان کی بیٹی ہوں اور وہ سلاطینوں سے بڑا پادشاہ ہے۔ سوائے میرے کوئی لڑکا بالا اُس کے یہاں نہیں ہوا۔ جس دن سے میں پیدا ہوئی ما باپ کے سائے میں ناز و نعمت اور خوشی خرمی سے پلی۔ جب ہوش آیا تب اپنے دل کو خوب صورتوں اور نازنینوں کے ساتھ لگایا۔ چناں چہ سُتھری سُتھری پری زاد ہم جولی اُمرا زادیاں مصاحبت میں، اور اچھی اچھی قبول صورت ہم عمر خواصیں سہیلیاں خدمت میں رہتی تھیں۔ تماشا ناچ اور راگ رنگ کا ہمیشہ دیکھا کرتی، دنیا کے بھلے بُرے سے کچھ سروکار نہ تھا۔ اپنی بے فکری کے عالم کو دیکھ کر سوائے خدا کے شکر کچھ منہ سے نہ نکلتا تھا۔
اتفاقاً طبیعت خود بخود ایسی بے مزہ ہوئی کہ نہ مصاحبت کسو کی بھاوے نہ مجلس خوشی کی خوش آوے۔ سودائی سا مزاج ہو گیا۔ دل اُداس اور حیران، نہ کسو کی صورت اچھی لگے، نہ بات کہنے سننے کو جی چاہے۔ میری یہ حالت دیکھ کر دائی ددا چھو چھوانگا سب کی سب متفکر ہوئیں اور قدم پر گرنے لگیں۔ یہی خواجہ سرا نمک حلال قدیم سے میرا محرم اور ہم راز ہے، اس سے کوئی بات مخفی نہیں، میری وحشت دیکھ کر بولا کہ اگر پادشاہ زادی تھوڑا سا شربت ورق الخیال کو نوش جان فرماویں تو اغلب ہے کہ طبیعت بحال ہو جاوے اور فرحت مزاج میں آوے۔ اُس کے اس طرح کے کہنے سے مجھے بھی شوق ہوا، تب میں نے فرمایا جلد حاضر کر۔
محلی باہر گیا اور ایک صراحی اسی شربت کی تکلف سے بنا کر برف میں لگا کر لڑکے کے ہاتھ لوا کر آیا۔ میں نے پیا اور جو کچھ اُس کا فائدہ بیان کیا تھا، ویسا ہی دیکھا۔ اُسی وقت اُس خدمت کے انعام میں ایک بھاری خلعت خوجے کو عنایت کی اور حکم کیا کہ ایک صراحی ہمیشہ اِسی وقت حاضر کیا کر۔ اُس دن یہ مقرر ہوا کہ خواجہ سرا صراحی اُسی چھوکرے کے ہاتھ لِوا لاوے اور بندی پی جاوے۔ جب اس کا نشہ طلوع ہوتا، تو اس کی لہر میں اُس لڑکے سے ٹھٹھا مزاح کر کر دل بہلاتی تھی۔ وہ بھی جب ڈھیٹھ ہوا تب اچھی اچھی میٹھی باتیں کرنے لگا اور اچنبھے کی نقلیں لانے، بلکہ آہ اوہی بھی بھرنے اور سسکیاں لینے، صورت تو اُس کی طرح دار لائق دیکھنے کی تھی، بے اختیار جی چاہنے لگا، میں دل کے شوق سے اور اٹھکھیلیوں کے ذوق سے ہر روز انعام بخشش دینے لگی، پر وہ کم بخت انھیں کپڑوں سے جیسے ہمیشہ پہن رہا تھا، حضور میں آتا بلکہ وہ لباس بھی میلا کچیلا ہو جاتا۔
ایک دن پوچھا کہ تجھے سرکار سے اتنا کچھ ملا، پر تُو نے اپنی صورت ویسی کی ویسی ہی پریشان بنا رکھی، کیا سبب ہے، وے رُوپے کہاں خرچ کیئے یا جمع کر رکھے؟ لڑکے نے یہ خاطر داری کی باتیں جو سنیں، اور مجھے احوال پُرساں پایا، آنسو ڈبڈبا کر کہنے لگا جو کچھ آپ نے غلام کو عنایت کیا، سب استاد نے لے لیا، مجھے ایک پیسا نہیں دیا۔ کہاں سے دوسرے کپڑے بناؤں جو پہن کر حضور میں آؤں؟ اِس میں میری تقصیر نہیں، میں لاچار ہوں۔ اِس غریبی کے کہنے اُس کے ترس آیا۔ وونھیں خواجہ سرا کو فرمایا کہ آج سے اِس لڑکے کو اپنی صحبت میں تربیت کر، اور اچھا لباس تیار کروا کر پہنا اور لونڈوں میں بے فائدہ کھیلنے کودنے نہ دے بلکہ اپنی خوشی یہ ہے کہ آداب لائق حضور کی خدمت کے سیکھے اور حاضر رہے۔ خواجہ سرا موافق فرمانے کے بجا لایا اور میری مرضی جو اُدھر دیکھ نہایت اُس کی خبرگیری کرنے لگا۔ تھوڑے دنوں میں فراغت اور خوش خوری کے سبب سے اس کا رنگ و روغن کچھ کا کچھ ہو گیا اور کینچلی سی ڈال دی۔ میں اپنے دل کو ہر چند سنبھالتی پر اُس کافر کے صورت جی میں ایسی کُھب گئی تھی، یہی جی چاہتا کہ مارے پیار کے اُسے کلیجے میں ڈال رکھوں اور اپنی آنکھوں سے ایک پل جُدا نہ کروں۔
آخر اس کو مصاحبت میں داخل کیا، اور خلعتیں طرح بہ طرح کی اور جواہر رنگ بہ رنگ کے پہنا کر دیکھا کرتی۔ بارے اُس کے نزدیک رہنے سے آنکھوں کو سُکھ کلیجے کو ٹھنڈک ہوئی۔ ہر دم اُس کی خاطر داری کرتی، آخر کو میری یہ حالت پہنچی کہ اگر ایک دم کچھ ضروری کام کو میرے سامنے سے جاتا تو چین نہ آتا۔ بعد کئی برس کے وہ بالغ ہوا۔ مسیں بھیگنے لگیں، چھب تختی درست ہوئی، تب اس کا چرچا ہونے لگا۔ دربان اور رَوَنے، میوڑے، باری دار اور یساول، چوب دار اُس کو محل کے اندر آنے جانے سے منع کرنے لگے۔ آخر اُس کا آنا موقوف ہوا، مجھے تو اس کے بغیر کل نہ پڑتی تھی، ایک دم پہاڑ تھا۔ جب یہ احوال ناامیدی کا سُنا، ایسی بدحواس ہو گئی گویا مجھ پر قیامت ٹوٹی۔ اور یہ حالت ہوئی کہ نہ کچھ کہہ سکتی ہوں، نہ اُس بِن رہ سکتی ہوں۔ کچھ بس نہیں چل سکتا، الٰہی کیا کروں! عجب طرح کا قلق ہوا، مارے بے قراری کے اُسی محلی کو (جو میرا بیدو تھا) بُلا کر کہا کہ مجھے غور اور پرداخت اس لڑکے کی منظور ہے، بالفعل صلاحِ وقت یہ ہے کہ ہزار اشرفی پونجی دے کر چوک کے چوراہے میں دکان جوہری کی کروا دو، تو تجارت کر کے اُس کے نفع سے اپنی گُزران فراغت سے کیا کرے۔ اور میرے محل کے قریب ایک حویلی اچھے نقشے کی رہنے کے لیے بنوا دو۔ لونڈی غلام نوکر چاکر جو ضرور ہوں، مول لے کر اور در ماہا مقرر کر کے اُس کے پاس رکھوا دو کہ کسو طرح بے آرام نہ ہو۔ خواجہ سرا نے اُس کی بود و باش کی اور جوہری پنے اور تجارت کی سب تیاری کر دی۔ تھوڑے عرصے میں اس کی دکان ایسی چمکی اور نمود ہوئی کہ جو خلعتیں فاخرہ اور جواہر بیش قیمت سرکار میں پادشاہ کی اور امیروں کی درکار و مطلوب ہوتے، اُسی کے یہاں بہم پہنچتے۔ آہستہ آہستہ یہ دُکان جمی کہ جو تحفہ ہر ایک مُلک کا چاہیے، وہیں ملے، سب جوہریوں کا روزگار اُس کے آگے مندا ہو گیا۔ غرض اُس شہر میں کوئی برابری اُس کی نہ کر سکتا، بلکہ کسی ملک میں ویسا کوئی نہ تھا۔
اِسی کاروبار میں اُس نے تو لاکھوں رُپی کمائے، پر جدائی اُس کی روز بروز نقصان میرے تن بدن کا کرنے لگی۔ کوئی تدبیر نہ بن آئی کہ اُس کو دیکھ کر اپنے دل کی تسلی کروں۔ندان صلاح کی خاطر اُسی واقف کار محلّی کو بُلایا اور کہا کہ کوئی ایسی صورت بن نہیں آتی کہ ذرا اس کی صورت میں دیکھوں اور اپنے دل کو صبر دوں۔ مگر یہ طرح ہے کہ ایک سرنگ اُس کی حویلی سے کھدوا کر محل میں ملوا دو۔حُکم کرتے ہی تھوڑے دنوں میں ایسی نقب تیار ہوئی کہ جب سانجھ ہوتی چپکے ہی وہ خواجہ سرا اُس جوان کو اسی راہ سے لے آتا۔ تمام شب شراب و کباب و عیش و عشرت میں کٹتی، میں اس کے ملنے سے آرام پاتی، وہ میرے دیکھنے سے خوش ہوتا۔ جب فجر کا تارا نکلتا اور مؤذن اذان دیتا، محلی اسی راہ سے اُس جوان کو اُس کے گھر پہنچا دیتا۔ ان باتوں سے سوائے اُس خوجے کے اور دو دائیوں کے(جنھوں نے مجھے دودھ پلایا اور پالا تھا) چوتھا آدمی کوئی واقف نہیں تھا۔ مدت تلک اسی طرح سے گُزری۔ ایک روز یہ اتفاق ہُوا کہ موافق معمول خواجہ سرا جو اُس کو بلانے گیا،دیکھے تو وہ جوان فکر مند سا چُپکا بیٹھا ہے۔محلّی نے پوچھا آج خیر ہے کیوں ایسے دل گیر ہو رہے ہو؟ چلو حضور میں یاد فرمایا ہے۔ اُس نے ہر گز کچھ جواب نہ دیا، زبان نہ ہلائی۔ خواجہ سرا اپنا مُنھ لے کر اکیلا پھر آیا اور احوال اُس کا عرض کیا۔ میرے تئیں شیطان جو خراب کرے، اس پر بھی محبت اُس کی دل سے نہ بھُولی، اگر یہ جانتی کہ عِشق اور چاہ ایسے نمک حرام بے وفا کی آخر بدنام اور رُسوا کرے گی اور ننگ و ناموس سب ٹھکانے لگے گا تو اُسی دم اُس کام سے باز آتی اور توبہ کرتی، پھر اس کا نام نہ لیتی نہ اپنا دل اُس بے حیا کو دیتی۔ پر ہونا تو یوں تھا اس لیے حرکتِ بے جا اُس کی خاطر میں نہ لائی۔ اور اس کے نہ آنے کو معشوقوں کا چوچلا اور ناز سمجھا۔ اُس کا نتیجہ یہ دیکھا کہ اس سرگزشت سے بغیر دیکھے بھالے تُو بھی واقف ہوا، نہیں تو میں کہاں اور تُو کہاں؟ خیر جو ہوا سو ہوا۔ اس خر دماغی پر اُس گدھے کی خیال نہ کرو۔دوبارہ خوجے کے ہاتھ پیغام بھیجا کہ اگر تُو اس وقت نہیں آوے گا تو میں کسو نہ کسو ڈھب سے وہیں آتی ہوں، لیکن میرے آنے میں بڑی قباحت ہے۔ اگر یہ راز فاش ہُوا تو تیرے حق میں بہت بُرا ہے۔ تب ایسا کام نہ کر جس سے سوائے رُسوائی کے اور کچھ پھل نہ ملے۔ بہتر یہی ہے کہ جلد چلا آ نہیں تو مجھے پہنچا جان۔ جب یہ سندیسا گیا اور اشتیاق میرا نپٹ دیکھا، بھونڈی سی صُورت بنائے ہوئے ناز نخرے سے آیا۔
جب میرے پاس بیٹھا تب میں نے اُس سے پُوچھا کہ آج رکاوٹ اور خفگی کا کیا باعث ہے؟ اتنی شوخی اور گُستاخی تُو نے کبھو نہ کی تھی، ہمیشہ بلا عذر حاضر ہوتا تھا۔ تب اُس نے کہا کہ میں گُم نام غریب حضور کی توجہ اور دامنِ دولت کے باعث اِس مقدُور کو پہنچا، بہت آرام سے زندگی کٹتی ہے، آپ کی جان و مال کی دُعا کرتا ہوں، یہ تقصیر پادشاہ زادی کے معاف کرنے کے بھروسے اس گنہگار سے سرزد ہوئی، امیدوار عفو ہوں۔ میں تو جان و دل سے اُسے چاہتی تھی، اُس کی بناوٹ کی باتوں کو مان لیا اور شرارت پر نظر نہ کی، بلکہ پھر دل داری سے پوچھا کہ کیا تجھ کو ایسی مُشکل کٹھن پیش آئی جو ایسا متفکر ہو رہا ہے؟ اس کو عرض کر، اُس کی تدبیر ہو جائے گی۔
غرض اُس نے اپنی خاکساری کی راہ سے یہی کہا کہ مجھ کو سب مُشکل ہے آپ کے رُو برُو سب ہی آسان ہے۔ آخر اس کے فحوائے کلام اور بناؤ سے یہی کھُلا کہ ایک باغ نہایت سر سبز اور عمارت عالی حوض تالاب کنویں پُختہ سمیت غلام کی حویلی کے نزدیک نافِ شہر میں بکاؤ ہے اور اُس باغ کے ساتھ ایک لونڈی بھی گائن کہ علمِ موسیقی میں خوب سلیقہ رکھتی ہے، یہ دونوں باہم بکتے ہیں نہ اکیلا باغ، جیسے اونٹ کے گلے میں بلی۔ جو کوئی وہ باغ لے وے اُس کنیز کی قیمت بھی دے وے، اور تماشا یہ ہے کہ باغ کا مول پانچ ہزار رُوپے اور اس باندی کا بہا پانچ لاکھ۔ فدوی سے اِتنے رُوپے بالفعل سر انجام نہیں ہو سکتے۔ میں نے اس کا دِل بہت بے اختیار شوق میں اُن کی خریداری کے پایا کہ اسی واسطے دل حیران اور خاطر پریشان تھا۔ باوجودے کہ رُو برو میرے بیٹھا تھا، تب بھی اُس کا چہرہ ملیّن اور جی اُداس تھا۔ مجھے تو خاطر داری اُس کی ہر گھڑی اور ہر پل منظور تھی، اُسی وقت خواجہ سرا کو حُکم کیا کہ کل صبح کو قیمت اُس باغ کی لونڈی سمیت چُکا کر قبالہ باغ کا اور خط کنیزک کا لکھوا کر اس شخص کے حوالے کرو اور مالک کو زرِ قیمت خزانۂ عامرہ سے دلوا دو۔
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.