Urdu in Translation
Search

Chapter 5 of 25

Voyage du premier derviche : les quarante jours de la mosquée

The First Darvesh: Forty Days at the Mosque

سیر پہلے درویش کی: مسجد کے چالیس دن

Mir Amman

Script
Size

اتنے میں ایک خوجے نے میرے پاس آ کر کہا، اس مسجد میں تو جا کر بیٹھ، شاید تیرا مطلب اس جگہ بر آوے اور اپنے دل کی مراد پاوے۔ فقیر فرمانے سے اُس کے وہاں سے اُٹھ کر اُسی مسجد میں جا رہا، لیکن آنکھیں دروازے کی طرف لگ رہی تھی کہ دیکھیے پردہ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟ تمام دِن جیسے روزہ دار شام ہونے کا انتظار کھینچتا ہے، میں نے بھی دو روز ویسی ہی بے قراری میں کاٹا۔ بارے جس تس طرح سے شام ہوئی اور دِن پہاڑ سا چھاتی پر سے ٹلا۔ ایک بارگی وہی خواجہ سرا (جن نے اُس پری کے مکان کا پتا بتا دیا تھا) مسجد میں آیا۔ بعد فراغت نماز مغرب کے میرے پاس آ کر اُس شفیق نے (کہ سب راز و نیاز کا محرم تھا) نہایت تسلی دے کر ہاتھ پکڑ لیا اور اپنے ساتھ لے چلا رفتہ رفتہ ایک باغیچے میں مجھے بٹھا کر کہا یہاں رہو جب تک تمہاری آرزو بر آوے، اور آپ رخصت ہو کر شاید میری حقیقت حضور میں کہنے گیا۔ میں اُس باغ کے پھولوں کی بہار اور چاندنی کا عالم اور حوض نہروں میں فوارے ساون بھادوں کے اُچھلنے کا تماشا دیکھ رہا تھا، لیکن جب پھولوں کو دیکھتا تب اُس گلبدن کا خیال آتا، جب چاند پر نظر پڑتی تب اُس مہ رو کا مکھڑا یاد کرتا، یہ سب بہار اُس کے بغیر میری آنکھوں میں خار تھی۔

بارے خدا اُس کے دل کو مہربان کیا، ایک دم کے بعد وہ پری دروازے سے جیسے چودھویں رات کا چاند بناؤ کیے گلے میں پشواز بادلے کی سنجاف کی موتیوں کا دروامن ٹکا ہوا اور سر پر اوڑھنی جس میں آنچل پلو لہر گوکھرو لگا ہوا، سر سے پانو تک موتیوں میں جڑی روش پر آ کر کھڑی ہوئی۔ اُس کے آنے سے تر و تازگی نئے سر سے اُس باغ کو فقیر کے دل کو ہو گئی۔ ایک دم اِدھر اُدھر سیر کر کر شہ نشین میں مغرق مسند پر تکیہ لگا کر بیٹھی۔ میں دوڑ کر پروانے کی طرح جیسے شمع کے گرد پھرتا ہے تصدق ہوا اور غلام کے مانند دونوں ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہوا۔ اس میں وہ خوجہ میری خاطر بہ طور سفارش کے عرض کرنے لگا۔ میں نے اس محلی سے کہا بندہ گنہ گار تقصیر وار ہے جو کچھ سزا میرے لائق ٹھہرے، سو ہو۔ وہ پری ازبس کہ ناخوش تھی، بد دماغی سے بولی کہ اب اس کے حق میں یہی بھلا ہے کہ سو توڑے اشرفی کے لیوے، اپنا اسباب درست کر کے وطن کو سدھارے۔

میں یہ بات سنتے ہی کاٹھ ہو گیا اور سوکھ گیا کہ اگر کوئی میرے بدن کو کاٹے تو ایک بوند لہو کی نہ نکلے اور تمام دنیا آنکھوں کے آگے اندھیری لگنے لگی، اور ایک آہ نامرادی کی بے اختیار جگر سے نکلی، آنسو بھی ٹپکنے لگے۔ سوائے خدا کے اس وقت کسو کی توقع نہ رہی، مایوسِ محض ہو کر اتنا بولا، بھلا ٹک اپنے دل میں غور فرمائیے، اگر مجھ کم نصیب کو دُنیا کا لالچ ہوتا تو اپنا جان و مال حضور میں نہ کھوتا۔ کیا ایک بارگی حق خدمت گزاری اور جاں نثاری کا عالم اُٹھ گیا؟ جو مجھ سے کم بخت پر اتنی بے مہری فرمائی۔ خیر اب میرے تئیں بھی زندگی سے کچھ کام نہیں، معشوقوں کی بے وفائی سے بے چارے عاشقِ نیم جاں کا تباہ نہیں ہوتا۔

یہ سُن کر تیکھی ہو تیوری چڑھا کر خفگی سے بولی، چہ خوش! آپ ہمارے عاشق ہیں؟ مینڈکی کو بھی زکام ہوا؟ اے بے وقوف! اپنے حوصلے سے زیادہ باتیں بنانی خیالِ خام ہے، چھوٹا منہ بڑی بات۔ بس چپ رہ یہ نکمی بات چیت مت کر، اگر کسی اور نے یہ حرکتِ بے معنی کی ہوتی، پروردگار کی سوں اس کی بوٹیاں کٹوا چیلوں کو بانٹتی، پر کیا کروں؟ تیری خدمت یاد آتی ہے اب اسی میں بھلائی ہے کہ اپنی راہ لے، تیری قسمت کا دانا پانی ہماری سرکار میں یہیں تلک تھا۔ پھر میں نے روتے بسورے کہا، اگر میری تقدیر میں یہی لکھا ہے کہ اپنے دل کے مقصد کو نہ پہنچوں اور جنگل پہاڑ میں سر ٹکراتا پھروں تو لاچار ہوں۔ اس بات سے بھی دِق ہو کر کہنے لگی، میرے تئیں یہ پھسپھسے چوچلے اور رمز کی باتیں پسند نہیں آتیں، اس اشارے کی گفتگو کی جو لائق ہو، اُس سے جا کر کر۔ پھر اُسی خفگی کے عالم میں اُٹھ کر اپنے دولت خانے کو چلی۔ میں نے بہتیرا سر پٹکا، متوجہ نہ ہوئی۔ لاچار میں بھی اُس مکان سے اُداس اور نا اُمید ہو کر نکلا۔

غرض چالیس دن تک یہی نوبت رہی۔ جب شہر کی کوچہ گردی سے اُکتاتا، جنگل میں نکل جاتا۔ جب وہاں سے گھبراتا، پھر شہر کی گلیوں میں دیوانہ سا آتا، نہ دن کو کھاتا نہ رات کو سوتا، جیسے دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔ زندگی انسان کی کھانے پینے سے ہے۔ آدمی اناج کا کیڑا ہے۔ طاقت بدن میں مطلق نہ رہی، اپاہج ہو کر اُسی مسجد کی دیوار کے تلے جا پڑا کہ ایک روز وہی خواجہ سرا جمعے کی نماز پڑھنے آیا، میرے پاس سے ہو کر چلا، میں یہ شعر آہستہ نا طاقتی سے پڑھ رہا تھا:

اس دردِ دل سے موت ہو یا دل کو تاب ہوقِسمت میں جو لکھا ہو الٰہی شتاب ہو

اگرچہ ظاہر میں صورت میری بالکل تبدیل ہو گئی تھی، چہرے کی یہ شکل بنی تھی کہ جن نے مجھے پہلے دیکھا تھا، وہ بھی نہ پہچان سکتا کہ یہ وہی آدمی ہے۔ لیکن وہ محلی آوازِ درد سن کر متوجہ ہوا، میرے تئیں بہ غور دیکھ کر افسوس کیا اور شفقت سے مخاطب ہوا کہ آخر یہ حالت اپنی پہنچائی۔ میں نے کہا، اب تو جو ہوا سو ہوا، مال سے بھی حاضر تھا، جان بھی تصدق کی، اس کی خوشی یوں ہی ہوئی تو کیا کروں؟

یہ سُن کر ایک خدمت گار میرے پاس چھوڑ کر مسجد میں گیا۔ نماز اور خطبے سے فراغت کر کرا جب باہر نکلا، فقیر کو ایک میانے میں ڈال کر اپنے ساتھ خدمت میں اُس پری بے پروا کی لے جا کر چق کے باہر بٹھایا۔ اگرچہ میری روہٹ کچھ باقی نہ رہی تھی پر مدت تلک شب و روز اُس پری کے پاس اتفاق رہنے کا ہوا تھا، جان بوجھ کر بے گانی ہو کر پوچھنے لگی، یہ کون ہے؟ اُس مرد آدمی نے کہا، یہ وہی کم بخت بدنصیب ہے جو حضور کی خفگی اور عتاب میں پڑا تھا۔ اُسی سبب سے اس کے یہ صورت بنی ہے۔ عشق کی آگ سے جلا جاتا ہے۔ ہر چند آنسووں کے پانی سے بجھاتا ہے پر وہ دونی بھڑکتی ہے، کچھ فائدہ نہیں ہوتا، علاوہ اپنی تقصیر کی خجالت سے موا جاتا ہے۔ پری نے ٹھٹھولی سے فرمایا، کیوں جھوٹ بکتا ہے؟ بہت دن ہوئے اُس کی خبر وطن پہنچنے کی مجھے خبرداروں نے دی ہے۔ واللہ اعلم، یہ کون ہے اور تو کس کا ذکر کرتا ہے؟ اُس دم خواجہ سرا نے ہاتھ جوڑ کر التماس کیا، اگر جان کی امان پاؤں تو عرض کروں۔ فرمایا کہ تیری جان تجھے بخشی۔ خوجا بولا، آپ کی ذات قدردان ہے، واسطے خدا کے چِلون کو درمیان سے اُٹھا کر پہچانیے اور اِس کی بے کسی کی حالت پر رحم کیجیئے۔ ناحق شناسی خوب نہیں۔ اب اِس کے احوال پر جو کچھ ترس کھائیے، بجا ہے اور جائے ثواب ہے۔ آگے حدِ ادب جو مزاج مبارک میں آوے سو ہی بہتر ہے۔

اتنے کہنے پر مُسکرا کر فرمایا، بھلا، کوئی ہو، اِسے دار الشِفا میں رکھو، جب بھلا چنگا ہو گا تب اس کے احوال کی پرسش کی جائے گی۔ خوجے نے کہا اگر اپنے دستِ خاص سے گلاب اِس پر چھڑکیے اور زبان سے کچھ فرمائیے تو اس کو اپنے جینے کا بھروسا بندھے، ناامیدی بُری چیز ہے، دنیا بہ امید قائم ہے۔ اس پر بھی اُس پری نے کچھ نہ کہا۔ یہ سوال و جواب سن کر میں بھی اپنے جی سے اُکتا رہا تھا۔ نِدھڑک بول اٹھا کہ اب اِس طور کی زندگی کو دل نہیں چاہتا۔ پانو تو گور میں لٹکا چکا ہوں، ایک روز مرنا ہے اور علاج میرا پادشاہ زادی کے ہاتھ میں ہے، کریں یا نہ کریں وہ جانیں۔ بارے مقلب القلوب نے اس سنگ دل کے دل کو نرم کیا۔ مہربان ہو کر فرمایا جلد پادشاہی حکیموں کو حاضر کرو۔ دونھیں طبیب آ کر جمع ہوئے۔ نبض قارورہ دیکھ کر بہت غور کی۔ آخرش تشخیص میں ٹھہرا کہ یہ شخص کہیں عاشق ہوا ہے، سوائے وصلِ معشوق کے اس کا کچھ علاج نہیں۔ جس وقت وہ ملے، یہ صحت پاوے۔ جب حکیموں کی بھی زبانی یہی مرض میرا ثابت ہوا، حکم کیا اس جوان کو گرمابے میں لے جاؤ، نہلا کر خاصی پوشاک پہنا کر حضور میں لے آؤ۔ دونھیں مجھے باہر لے گئے۔ حمام کروا اچھے کپڑے پہنا، خدمت میں پری کی حاضر کیا۔ تب وہ نازنین تپاک سے بولی تو نے مجھے بیٹھے بٹھائے ناحق بدنام اور رُسوا کیا، اب اور کیا کِیا چاہتا ہے؟ جو تیرے دل میں ہے صاف صاف بیان کر۔

یا فُقرا! اُس وقت یہ عالم ہو کہ شادیِ مرگ ہو جاؤں، خوشی کے مارے ایسا پھولا کہ جامے میں نہ سماتا تھا اور صورت شکل بدل گئی۔ شُکر خدا کا کیا اُس سے کہا، اِس دم ساری حکیمی آپ پر ختم ہوئی کہ مجھ سے مُردے کو ایک بات میں زندہ کیا، دیکھو تو اُس وقت سے اِس وقت تک میرے احوال میں کیا فرق ہو گیا؟ یہ کہہ کر تین بار گِرد پھرا اور سامنے آ کر کھڑا ہوا اور کہا حضور سے یوں حکم ہوتا ہے کہ جو تیرے جی میں ہو سو کہہ، بندے کو ہفت اقلیم کی سلطنت سے زیادہ یہ ہے کہ غریب نوازی کر کر اس عاجز کو قبول کیجیئے اور اپنی قدم بوسی سے سرفرازی دیجیئے۔ ایک لمحہ تو سُن کر غوطے میں گئی، پھر کن انکھیوں سے دیکھ کر کہا بیٹھو۔ تم نے خدمت اور وفا داری ایسی ہی کی ہے، جو کچھ کہو سو پھبتی ہے اور اپنے بھی دل پر نقش ہے، خیر ہم نے قبول کیا۔

اسی دن اچھی ساعت سُبھ لگن میں چپکے چپکے قاضی نے نکاح پڑھا دیا۔ بعد اتنی محنت اور آفت کے خدا نے یہ دِن دکھایا کہ میں نے اپنے دل کا مدعا پایا، لیکن جیسی دل میں آرزو اُس پری سے ہم بستر ہونے کی تھی، ویسی ہی جی میں بے کلی اُس وارداتِ عجیب کے معلوم کرنے کی تھی کہ آج تک میں نے کچھ نہ سمجھا کہ یہ پری کون ہے؟ اور وہ حبشی سانولا سجیلا جس نے ایک پُرزے کاغذ پر اتنی اشرفیوں کے بدرے میرے حوالے کیئے، کون تھا؟ اور تیاری ضیافت کی پادشاہوں کے لائق ایک پہر میں کیوں کر ہوئی؟ اور وہ دونوں بے گناہ اُس مجلس میں کس لیے مارے گئے؟ اور سبب خفگی اور بے مروتی کا (باوجود خدمت گزاری اور ناز برداری کے) مجھ پر کیا ہوا؟ اور پھر ایک بارگی عاجز کو یوں سر بلند کیا؟ غرض اسی واسطے بعد رسم رسوماتِ عقد کے آٹھ دن تلک با وصف اس اشتیاق کے قصد مباشرت کا نہ کیا۔ رات کو ساتھ سوتا، دن کو یونہی اُٹھ کھڑا ہوتا۔

ایک دن غسل کرنے کے لیے میں نے خواص کو کہا کہ تھوڑا پانی گرم کر دے تو نہاؤں۔ ملکہ مُسکرا کر بولی کس برتے پر تتا پانی؟ میں خاموش ہو رہا، لیکن وہ پری میری حرکت سے حیران ہوئی۔ بلکہ چہرے پر آثار خفگی کے نمود ہوئے، یہاں تلک کہ ایک روز بولی تم بھی عجب آدمی ہو، یا اتنے گرم یا ایسے ٹھنڈے، اِس کو کیا کہتے ہیں؟ اگر تم میں قوت نہ تھی تو کیوں ایسی کچی ہوس پکائی؟ اُس وقت میں نے بے دھڑک ہو کر کہا اے جانی! منصفی شرط ہے، آدمی کو چاہیے کہ انصاف سے نہ چوکے۔ بولی اب کیا انصاف رہ گیا ہے؟ جو کچھ ہونا تھا سو ہو چکا۔ فقیر نے کہا، واقعی بڑی آرزو اور مُراد میری یہی تھی، سو مجھے ملی، لیکن دل میرا دُبدھے میں ہے اور دو دلے آدمی کی خاطر پریشان رہتی ہے۔ اُس سے کچھ ہو نہیں سکتا، انسانیت سے خارج ہو جاتا ہے۔ میں نے اپنے دل میں یہ قول کیا تھا کہ بعد اس نکاح کے (کہ عین دل کی شادی ہے) بعضی بعض باتیں (جو خیال میں نہیں آتیں اور نہیں کھلتیں) حضور میں پوچھوں گا کہ زبان مبارک سے اُس کا بیان سُنوں تو جی کو تسکین ہو۔ اُس پری نے چیں بہ چیں ہو کر کہا کیا خوب! ابھی سے بھول گئے۔ یاد کرو بار ہا ہم نے کہا ہے کہ ہمارے کام میں ہرگز دخل نہ کیجیو، اور کسی بات کے معترض نہ ہو جیو۔ خلافِ معمول یہ بے ادبی کرنی کیا لازم ہے؟ فقیر نے ہنس کر کہا جیسی اور بے ادبیاں معاف کرنے کا حکم ہے، ایک یہ بھی سہی۔ وہ پری نظریں بدل کر تیہے میں آ کر آگ بگولا بن گئی اور بولی، اب تو، بہت سر چڑھا، جا اپنا کام کر، ان باتوں سے تجھے کیا فائدہ ہو گا؟ میں نے کہا، دنیا میں اپنے بدن کی شرم سب سے زیادہ ہوتی ہے، لیکن ایک دوسرے کا واقف کار ہوتا ہے، پس جب ایسی چیز دل پر روا رکھی تو اور کون سا بھید چھپانے کے لائق ہے؟

میری اس رمز کو وہ پری وقوف سے دریافت کر کر کہنے لگی۔ یہ بات سچ ہے پر جی میں یہ سوچ آتا ہے کہ اگر مجھ نگوڑی کا راز فاش ہو تو بڑی قیامت مچے۔ میں بولا یہ کیا مذکور ہے؟ بندے کی طرف سے یہ خیال دل میں نہ لاؤ اور خوشی سے ساری کیفیت جو بیتی ہے، فرماؤ۔ ہرگز ہر گز میں دل سے زبان تک نہ لاؤں گا، کسو کے کان پڑنا کیا امکان ہے؟ جب اس نے دیکھا کہ اب سوائے کہنے کے اس عزیز سے چھٹکارا نہیں، لاچار ہو کر بولی ان باتوں کے کہنے میں بہت سی خرابیاں ہیں، تو خواہ مخواہ در پہ ہوا۔ خیر تیری خاطر عزیز ہے، اس لیے اپنی سرگزشت بیان کرتی ہوں، تجھے بھی اُس کا پوشیدہ رکھنا ضرور ہے، خبر شرط۔

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.