Urdu in Translation
Buscar

Capítulo 4 de 25

Странствие первого дервиша: пир ювелира

The First Darvesh: The Jeweller's Feast

سیر پہلے درویش کی: جوہری کی ضیافت

Мир Амман

Escritura
Tamaño

ایک مدت اسی راز و نیاز میں کٹی، جو اس نے فرمائش کی، وونھیں میں نے لا کر حاضر کی۔ اس فقیر پاس جو کچھ جنس اور نقد اصل و نفع کا تھا، سب صرف ہوا۔ اس بیانے ملک میں کون اعتبار کرے جو قرض دام سے کام چلے؟ آخر تکلیف روزمرے کے خرچ کی ہونے لگی، اس سے دل بہت گھبرایا، فکر سے دبلا ہوتا چلا، چہرے کا رنگ کلجھواں ہو گیا، لیکن کس سے کہوں؟ جو کچھ دل پر گزری سو گزری، قہر درویش بر جانِ درویش۔ ایک دن اس پری نے اپنے شعور سے دریافت کر کے کہا۔ "اے فلانے! تیری خدمتوں کا حق ہمارے جی میں نقش کالحجر ہے۔ پر اس کا عوض بالفعل ہم سے نہیں ہو سکتا۔ اگر واسطے خرچ ضروری کے کچھ درکار ہو تو اپنے دل میں اندیشہ نہ کر، ایک ٹکڑا کاغذ اور دوات قلم حاضر کر۔ میں نے تب معلوم کیا کسی ملک کی پادشاہ زادی ہے جو اس دل و دماغ سے گفتگو کرتی ہے۔ فی الفور قلم دان آگے رکھ دیا۔ اس نازنین نے ایک شقہ دستخط خاص سے لکھ کر میرے حوالے کیا اور کہا، "قلعے کے پاس ترپولیا ہے۔ وہاں اس کوچے میں ایک حویلی بڑی سی ہے۔ اس مکان کے مالک کا نام سیدی بہار ہے۔ تو جا کر اس رقعے کو اس تلک پہنچا دے۔"

فقیر موافق فرمانے اس کے اسی نام و نشان پر منزلِ مقصود تک جا پہنچا۔ دربان کی زبانی کیفیت خط کی کہلا بھیجی۔ وونھیں سنتے ہی ایک حبشی جوان خوب صورت ایک پھینٹا طرح دار سجے ہوئے باہر نکل آیا۔ اگرچہ رنگ سانولا تھا پر گویا تمام نمک بھرا ہوا۔ میرے ہاتھ سے خط لے لیا، نہ بولا نہ کچھ پوچھا۔ انھیں قدموں پھر اندر چلا گیا۔ تھوڑی دیر میں گیارہ کشتیاں سر بہ مہر زربفت کی تو رہ پوش پڑے ہوئے غلاموں کے سر پر دھرے باہر آیا۔ کہا اس جوان کے ساتھ جا کر چو گوشے پہنچا دو۔ میں بھی سلام کر رخصت ہو اپنے مکان میں لایا آدمیوں کو دروازے کے باہر سے رخصت کیا۔ وہ کشتیاں امانت حضور میں اس پری کے گزرانیں۔ دیکھ کر فرمایا، یہ گیارہ بدرے اشرفیوں کے لے اور خرچ میں لا، خدا رزاق ہے۔ فقیر اس نقد کو لے کر ضروریات میں خرچ کرنے لگا۔ اگرچہ خاطر جمع ہوئی پر دل میں یہ خلش رہی یا الٰہی! یہ کیا صورت ہے؟ بغیر پوچھے گچھے اتنا مال نا آشنا صورت اجنبی نے ایک پرزے کاغذ پر میرے حوالے کیا، اگر اس پری سے یہ بھید پوچھوں، تو اس نے پہلے ہی منع کر رکھا تھا۔ مارے ڈر کے دم نہیں مار سکتا تھا۔

بعد آٹھ دن کے وہ معشوقہ مجھ سے مخاطب ہوئی کہ حق تعالیٰ نے آدمی کو انسانیت کا جامہ عنایت کیا ہے کہ نہ پھٹے نہ میلا ہو۔ اگر چہ پرانے کپڑے سے اس کی آدمیت میں فرق نہیں آتا، پر ظاہر میں خلق اللہ کی نظروں میں اعتبار نہیں پاتا۔ دو توڑے اشرفی کے ساتھ لے کر چوک کے چوراہے پر یوسف سوداگر کی دکان میں جا اور کچھ رقم جواہر کے بیش قیمت اور دو خلعتیں زرق برق کی مول لے آ۔ فقیر وونہیں سوار ہو کر اس کی دکان پر گیا۔ دیکھا تو ایک جوان شکیل زعفرانی جوڑا پہنے گدی پر بیٹھا ہے، اور اس کا یہ عالم ہے کہ ایک عالم دیکھنے کے لیے دکان سے بازار تک کھڑا ہے۔

فقیر کمال شوق سے نزدیک جا کر سلام علیک کر کر بیٹھا اور جو جو چیز مطلوب تھی، طلب کی۔ میری بات چیت اس شہر کے باشندوں کی سی نہ تھی۔ اس جوان نے گرم جوشی سے کہا، جو صاحب کو چاہیے موجود ہے، لیکن یہ فرمائیے کس ملک سے آنا ہوا؟ اور اس اجنبی شہر میں رہنے کا کیا باعث ہے؟ اگر اس حقیقت سے مطلع کیجئے تو مہربانی سے بعید نہیں، میرے تئیں اپنا احوال ظاہر کرنا منظور نہ تھا۔ کچھ بات بنا کر اور جواہر پوشاک لے کر اور قیمت اس کو دے کر رخصت چاہی۔ اس جوان نے روکھے پھیکے ہو کر کہا، اے صاحب! اگر تم کو ایسی ہی ناآشنائی کرنی تھی، تو پہلے دوستی اتنی گرمی سے کرنی کیا ضرور تھی؟ بھلے آدمیوں میں صاحب سلامت کا پاس بڑا ہوتا ہے۔ یہ بات اس مزے اور انداز سے کہی بے اختیار دل کو بھائی اور بے مروت ہو کر وہاں سے اٹھنا انسانیت کے مناسب نہ جانا۔ اس کی خاطر پھر بیٹھا اور بولا، تمھارا فرمانا سر آنکھوں پر، میں حاضر ہوں۔

اتنے کہنے سے بہت خوش ہوا، ہنس کر کہنے لگا، اگر آج کے دن غریب خانے پر کرم کیجئے تو تمھاری بدولت مجلس خوشی کی جما کر دو چار گھڑی دل بہلاویں۔ اور کچھ کھانے پینے کا شغل باہم بیٹھ کر کریں۔ فقیر نے اس پری کو کبھو اکیلا نہ چھوڑا تھا، اس کی تنہائی یاد کر کر چند در چند عذر کیے، پر اس جوان نے ہر گز نہ مانا۔ آخر وعدہ ان چیزوں کو پہنچا کر میرے پھر آنے کا لے کر اور قسم کھلا کر رخصت دی۔ میں دکان سے اٹھ کر جواہر اور خلعتیں اس پری کی خدمت میں لایا۔ اس نے قیمت جواہر کی اور حقیقت جوہری کی پوچھی۔ میں نے سارا احوال مول تول کا اور مہمانی کے بضد ہونے کا کہہ سُنایا۔ فرمانے لگی، آدمی کو اپنا قول قرار پورا کرنا واجب ہے، ہمیں خُدا کی نگہبانی میں چھوڑ کر اپنے وعدے کو وفا کر، ضیافت قبول کرنی سُنت رسُول کی ہے۔ تب میں نے کہا، میرا دل چاہتا نہیں کہ تمھیں اکیلا چھوڑ کر جاؤں اور حکم یوں ہوتا ہے، لاچار جاتا ہوں، جب تلک آؤں گا دل یہیں لگا رہے گا۔ یہ کہہ کر پھر اس جوہری کی دُکان پر گیا، وہ مونڈھے پر بیٹھا میرا انتظار کھینچ رہا تھا۔ دیکھتے ہی بولا "آؤ مہربان، بڑی راہ دکھائی۔"

وہیں اُٹھ کر میرا ہاتھ پکڑ لیا اور چلا، جاتے جاتے ایک باغ میں لے گیا وہ بڑی بہار کا باغ تھا، حوض اور نہروں کے فوارے چھوٹتے تھے، میوے طرح بہ طرح کے پھل رہے تھے، ہر ایک درخت مارے بوجھ کے جھوم رہا تھا۔رنگ برنگ کے جانور اُن پر بیٹھے چہچہے کر رہے تھے، اور ہر مکان عالی شان میں فرش سُتھرا بچھا تھا۔ وہاں لبِ نہر ایک بنگلے میں جا کر بیٹھا۔ ایک دم کے بعد آپ اُٹھ کر چلا گیا، پھر دوسری پوشاک معقول پہن کر آیا۔ میں نے دیکھ کر کہا" سبحان اللہ! چشمِ بد دور۔" سُن کر مُسکرایا اور بولا" مناسب یہ ہے کہ صاحب بھی اپنا لباس بدل ڈالیں۔ اُس کی خاطر میں نے بھی دوسرے کپڑے پہنے اُس جوان نے بڑی ٹیپ ٹاپ سے تیاری ضیافت کی کی، اور سامان خوشی کا جیسا چاہیے موجود کیا۔ اور فقیر سے صحبت بہت گرم کر مزے کی باتیں کرنے لگا۔ اتنے میں ساقی صراحی و پیالہ بلور لے کر حاضر ہوا اور گزک کئی قسم کی لا کے رکھی۔ نمک دان چُن دیے، دور شراب کا شروع ہُوا۔ جب دو جام کی نوبت پہنچی چار لڑکے امرد صاحبِ جمال زلفیں کھولے ہوئے مجلس میں آئے، گانے بجانے لگے۔ یہ عالم ہُوا اور ایسا سماں بندھا اگر تان سین اس گھڑی ہوتا، تو اپنی تان بھول جاتا، اور بیجو باؤرا سُن کر باؤلا ہو جاتا۔ اس مزے میں ایک بارگی وہ نوجوان آنسو بھر لایا، دو چار قطرے بے اختیار نکل پڑے اور فقیر سے بولا۔ اب ہماری تمھاری دوستی جانی ہوئی، پس دل کا بھید دوستوں سے چھُپانا کسو مذہب میں درست نہیں۔ ایک بات بے تکلف آشنائی کے بھروسے کہتا ہوں اگر حُکم کرو تو اپنی معشوقہ کو بُلوا کر اِس مجلس میں تسلی اپنے دل کی کروں۔ اُس کی جُدائی سے جی نہیں لگتا۔

یہ بات ایسے اشتیاق سے کہی کہ بغیر دیکھے بھالے فقیر کا دِل بھی مشتاق ہوا۔ میں نے کہا، مجھے تمھاری خوشی درکار ہے، اس سے کیا بہتر؟ دیر نہ کیجیے، سچ ہے معشوق بِن کچھ اچھا نہیں لگتا۔ اِس جوان نے چلون کی طرف اشارت کی، دونھیں ایک عورت کالی کلوٹی بھتنی سی جس کے دیکھنے سے انسان بے اجل مر جاوے، جوان کے پاس آن بیٹھی۔ فقیر اس کے دیکھنے سے ڈر گیا۔ دل میں کہا یہی بَلا محبوبہ ایسے جوان پری زاد کی ہے جس کی اتنی تعریف اور اشتیاق ظاہر کیا! میں لاحول پڑھ کر چُپ ہو رہا، اُسی عالم میں تین دن رات مجلس شراب اور راگ رنگ جمی رہی، چوتھی شب کو غلبہ نشے اور نیند کا ہوا۔میں خوابِ غفلت میں بے اختیار سو گیا جب صبح ہوئی اُس جوان نے جگایا، کئی پیالے خمار شکنی پلا کر اپنی معشوقہ سے کہا، اب زیادہ تکلیف مہمان کو دینی خوب نہیں۔

دونوں ہاتھ پکڑے اُٹھے، میں نے رُخصت مانگی خوشی بہ خوشی اجازت دی، تب میں نے جلد اپنے قدیمی کپڑے پہن لیے اپنے گھر کی راہ لی، اور اس پری کی خدمت میں جا حاضر ہوا۔ مگر ایسا اتفاق کبھو نہ ہوا کہ اُسے تنہا چھوڑ کر شب باش کہیں ہوا ہوں۔ اس تین دن کی غیر حاضری سے نہایت خجل ہو کر عذر کیا، اور قصہ ضیافت کا اور اُس کے نہ رخصت کرنے کا سارا عرض کیا۔ وُہ ایک دانا زمانے کی تھی، تبسم کر کے بولی، کیا مضائقہ اگر ایک دوست کی خاطر رہنا ہوا؟ ہم نے معاف کیا، تیری کیا تقصیر ہے؟ جب آدمی کسو کے گھر جاتا ہے تب اُس کی مرضی سے پھر آتا ہے، لیکن مُفت کی مہمانیاں کھا پی کر چُپکے ہو رہو گے یا اس کا بدلا بھی اُتارو گے؟ اب یہ لازم ہے کہ جا کر اُس سوداگر بچے کو اپنے ساتھ لے آؤ، اور اُس سے دو چند ضیافت کرو۔ اور اسباب کا کچھ اندیشہ نہیں، خدا کے کرم سے ایک دم میں سب لوازمہ تیار ہو جاوے گا اور بہ خوبی مجلس ضیافت کی رونق پاوے گی۔ فقیر موافق حکم کے جوہری پاس گیا اور کہا، تمھارا فرمانا تو میں سر آنکھوں سے بجا لایا، اب تُم بھی مہربانی کی راہ سے میری عرض قبول کرو۔ اُس نے کہا جان و دل سے حاضر ہوں۔

تب میں نے کہا اگر اس بندے کے گھر تشریف لے چلو، عین غریب نوازی ہے، اُس جوان نے بہت عذر اور حیلے کیے، پر میں نے پِنڈ نہ چھوڑا جب تلک وہ راضی ہوا، ساتھ ہی ساتھ اُس کو اپنے مکان پر لے چلا۔ لیکن راہ میں یہی فکر کرتا تھا کہ اگر آج اپنے تئیں مقدور ہوتا تو ایسی تواضع کرتا کہ یہ بھی خوش ہوتا۔ اب میں اسے لئے جاتا ہوں، دیکھیے کیا اتفاق ہوتا ہے۔ اِسی حیص بیص میں گھر کے نزدیک پہنچا، تو کیا دیکھتا ہوں؟ کہ دروازے پر دھوم دھام ہو رہی ہے۔ گلیارے میں جھاڑو دے کر چھڑکاؤ کیا ہے۔ یساول اور عصیٰ بردار کھڑے ہیں۔ میں حیران ہوا لیکن اپنا گھر جان کر قدم اندر رکھا۔ دیکھا تو تمام حویلی میں فرشِ مکلف لائق ہر مکان کے جا بجا بچھا ہے اور مسندیں لگی ہیں۔ پان دان، گلاب پاش، عِطر دان، پیک دان، چنگیریں، نرگس دان قرینے سے دھرے ہیں۔ طاقوں میں رنگترے، کبنولے، نارنگیاں اور گلابیاں، رنگ برنگ کی چُنی ہیں، ایک طرف رنگ آمیز ابرک کی ٹٹیوں میں چراغاں کی بہار ہے۔ ایک طرف جھاڑ اور سروکنول کے روشن ہیں، اور تمام دالان اور شہ نشینوں میں طلائی شمع دان پر کافوری شمعیں چڑھی ہیں اور جڑاؤ فانوسیں اوپر دھری ہیں۔ سب آدمی اپنے اپنے عہدوں پر مستعد ہیں، باورچی خانے میں دیگیں ٹھنٹھنا رہی ہیں، آب دار خانے کی ویسی ہی تیاری ہی، کوری کوری ٹھلیاں روپے کی گھڑونچیوں پر صافیوں سے بندھیں اور بُجھروں سے ڈھکی رکھی ہیں۔ آگے چوکی پر ڈونگے کٹورے بمع تھالی، سر پوش، دھرے برف کے آب خورے لگ رہے ہیں اور شورے کی صراحیاں ہل رہی ہیں۔

غرض سب اسباب پادشاہانہ موجود ہے، اور کنچنیاں، بھانڈ، بھگتیے، کاونت، قوال، اچھی پوشاک پہنے ساز کے سُر ملائے حاضر ہیں۔ فقیر نے اُس جوان کو لے جا کر مسند پر بٹھایا اور دل میں حیران تھا کہ یا الٰہی! اتنے عرصے میں یہ سب تیاری کیوں کر ہوئی؟ ہر طرف دیکھتا پھرتا تھا لیکن اُس پری کا نشان کہیں نہ پایا۔ اسی جستجو، میں ایک مرتبہ باورچی خانے کی طرف جا نِکلا، دیکھتا ہوں تو وہ نازنیں ایک مکان میں گلے میں کُرتی، پانو میں تہ پوشی، سر پر سفید رومالی اوڑھے ہوئے سادی خانہ زادی بِن گہنے پاتے بنی ہوئی:

نہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا نے دیکہ جیسے خوش نما لگتا ہے دیکھو چاند بِن گہنے

خبر گیری میں ضیافت کے لگ رہی ہے اور تاکید ہر ایک کھانے کی کر رہی ہے کہ خبردار با مزہ ہو اور آب و نمک بو باس درست رہے، اس محنت سے وہ گلاب سا بدن سارا پسینے پسینے ہو رہا ہے۔ میں پاس جا کر تصدق ہوا اور اس شعور و لیاقت کو سراہ کر دعائیں دینے لگا۔ یہ خوشامد سُن کر تیوری چڑھا کر بولی، آدمی سے ایسے کام ہوتے ہیں کہ فرشتے کی مجال نہیں، میں نے ایسا کیا کِیا ہے جو تو اتنا حیران ہو رہا ہے؟ بس بہت باتیں بنانی مجھے خوش نہیں آتیں۔ بھلا کیا یہ آدمیت ہے کہ مہمان کو اکیلا بٹھلا کر اِدھر اُدھر پڑے پھرے؟ وہ اپنے جی میں کیا کہتا ہو گا؟ جلد جا مجلس میں بیٹھ کر مہمان کی خاطر داری کر اور اُس کی معشوقہ کو بھی بُلوا کر اُس کے پاس بٹھلا۔ فقیر وونھیں اُس جوان کے پاس گیا اور گرم جوشی کرنے لگا۔ اتنے میں دو غلام صاحب جمال صراحی اور جام جڑاؤ ہاتھ میں لیے روبرو آئے، شراب پلانے لگے۔ اِس میں میں نے اُس جوان سے کہا، میں سب طرح مخلص اور خادم ہوں بہتر یہ ہے کہ وہ صاحبِ جمال کہ جس کی طرف دِل صاحب کا مائل ہے تشریف لاوے تو بڑی بات ہے۔ اگر فرماؤ تو آدمی بُلانے کی خاطر جاوے۔یہ سُنتے ہی خوش ہو کر بولا بہت اچھا، اِس وقت تم نے میرے دل کی بات کہی۔ میں نے ایک خوجے کو بھیجا، جب آدھی رات گئی وہ چڑیل خاصے چوڈول پر سوار ہو کر بلائے ناگہانی سی آ پہنچی۔

فقیر نے لاچار خاطر سے مہمان کی استقبال کر کر نہایت تپاک سے برابر اُس جوان کے لا بٹھایا۔ جوان اُس کے دیکھتے ہی ایسا خوش ہوا جیسے دُنیا کی نعمت ملی۔ وُہ بُھتنی بھی اُس جوان پری زاد کے گلے لپٹ گئی۔ سچ مچ یہ تماشا ہوا جیسے چودھویں رات کے چاند کو گہن لگتا ہے۔ جتنے مجلس میں آدمی تھے، اپنی اپنی اُنگلیاں دانتوں میں دابنے لگے کہ کیا کوئی بَلا اِس جوان پر مسلط ہوئی؟ سب کی نگاہ اُسی طرف تھی، تماشا مجلس کا بھول کر اُس کا تماشا دیکھنے لگے۔ ایک شخص کنارے سے بولا، یارو! عِشق اور عقل میں ضد ہے، جو کچھ عقل میں نہ آوے یہ کافر عشق کر دِکھاوے، لیلیٰ کو مجنوں کی آنکھوں سے دیکھو، سبھوں نے کہا آمنّا، یہی بات ہے۔

یہ فقیر بہ موجب حکم کے مہمان داری میں حاضر تھا، ہر چند جوان ہم پیالہ ہم نوالہ ہونے کو مجوز ہوتا تھا، پر میں ہرگز اُس پری کے خوف کے مارے اپنا دل کھانے پینے یا سیر تماشے کی طرف رجوع نہ کرتا تھا۔ اور عُذر مہمان داری کا کر کے اُس کے شامل نہ ہوتا۔ اسی کیفیت سے تین شبانہ روز گُزرے۔ چوتھی رات وہ جوان نہایت جوشش سے مجھے بُلا کر کہنے لگا، اب ہم بھی رُخصت ہوں گے، تمہاری خاطر اپنا سب کاروبار چھوڑ چھاڑ تین دن سے تمہاری خدمت میں حاضر ہیں۔ تم بھی تو ہمارے پاس ایک دم بیٹھ کر ہمارا دل خوش کرو۔ میں نے اپنے جی میں خیال کیا اگر اس وقت کہا اس کا نہیں مانتا تو آزردہ ہو گا، پس نئے دوست اور مہان کی خاطر رکھنی ضرور ہے، تب یہ کہا، صاحب کا حکم بجا لانا منظور کہ الامر فوق الادب۔ سُنتے ہی اس کو، جوان نے پیالہ تواضع کیا اور میں نے پی لیا۔ پھر تو ایسا پیہم دَور چلا کہ تھوڑی دیر میں سب آدمی مجلس کے کیفی ہو کر بے خبر ہو گئے، اور میں بھی بے ہوش ہو گیا۔

جب صبح ہوئی اور آفتاب دو نیزے بلند ہوا، تب میری آنکھ کھلی تو دیکھا میں نے نہ وہ تیاری ہے نہ وہ مجلس نہ وہ پری، فقط خالی حویلی پڑی ہے مگر ایک کونے میں کمل لپٹا ہوا دھرا ہے۔ جو اُس کو کھول کر دیکھا تو وہ جوان اور اس کی رنڈی دونوں سر کٹے پڑے ہیں۔ یہ حالت دیکھتے ہی حواس جاتے رہے، عقل کچھ کام نہیں کرتی کہ یہ کیا تھا اور کیا ہوا؟ حیرانی سے ہر طرف تک رہا تھا، اتنے میں ایک خواجہ سرا (جسے ضیافت کے کام کاج میں دیکھا تھا) نظر پڑا۔ فقیر کو اُس کے دیکھنے سے کچھ تسلی ہوئی، احوال اس واردات کا پوچھا۔ اُس نے جواب دیا تجھے اس بات کی تحقیق کرنے سے کیا حاصل جو تُو پوچھتا ہے؟ میں نے بھی اپنے دل میں غور کی کہ سچ تو کہتا ہے، پھر ایک ذرا تامل کر کے میں بولا خیر نہ کہو، بھلا یہ تو بتاؤ وہ معشوقہ کس مکان میں ہے؟ تب اُس نے کہا البتہ جو میں جانتا ہوں، سو کہہ دوں گا، لیکن تجھ سا آدمی عقل مند بے مرضی حضور کے دو دن کی دوستی پر بے محابا بے تکلف ہو کر صحبت مے نوشی کی باہم گرم کرے، یہ کیا معنی رکھتا ہے؟

فقیر اپنی حرکت اور اُس کی نصیحت سے بہت نادم ہوا۔ سوائے اِس بات کے زبان سے کچھ نہ نکلا، فی الحقیقت اب تو تقصیر ہوئی معاف کیجیئے، بارے محلی نے مہربان ہو کر اُس پری کے مکان کا نشان بتایا اور مجھے رُخصت کیا، آپ اُن دونوں زخمیوں کے گاڑنے دابنے کی فکر میں رہا۔ میں تُہمت سے اُس فساد کے الگ ہوا اور اشتیاق میں اُس پری کے ملنے کے لیے گھبرایا ہوا، گرتا پڑتا ڈھونڈھتا شام کے وقت اُس کوچے میں اسی پتے پر جا پہنچا اور نزدیک دروازے کے ایک گوشے میں ساری رات تڑپتے کٹی، کسو کی آمدورفت کی آہٹ نہ ملی۔ اور کوئی احوال پُرساں میرا نہ ہوا۔ اُسی بے کَسی کی حالت میں صبح ہو گئی، جب سورج نِکلا اُس مکان کے بالا خانے کی ایک کھڑکی سے وہ ماہ رو میری طرف دیکھنے لگی۔ اُس وقت عالم خوشی کا جو مجھ پر گُزرا، دِل ہی جانتا ہے، شکر خدا کا کیا۔

¿Qué te deja este capítulo?

Inicia sesión para reaccionar

Conversación

Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.

¿Te ha gustado este capítulo? Comparte una línea.