Urdu in Translation
بحث

الفصل 21 من 25

Странствие третьего дервиша: чёрная газель и горный старец

The Third Darvesh: The Black Deer and the Old Man of the Mountain

سیر تیسرے درویش کی: کالا ہرن اور پہاڑ کا بوڑھا

Мир Амман

الخط
الحجم

تیسرا درویش کوٹ باندھ بیٹھا اور اپنی سیر کا بیان اس طرح سے کرنے لگا

احوال اس فقیر کا اے دوستاں سنو
یعنی جو مجھ پہ بیتی ہے وہ داستاں سنو
جو کچھ کہ شاہ عشق نے مجھ سے کیا سلوک
تفصیل دار کرتا ہوں اس کا بیان سنو

یہ کمترین بادشاہ زادہ عجم کا ہے۔ میرے ولی نعمت وہاں بادشاہ تھے اور سوائے میرے کوئی فرزند نہ رکھتے تھے۔ میں جوانی کے عالم میں مصاحبوں کے ساتھ چوپڑ، گنجفہ، شطرنج، تختہ نرو کھیلا کرتا تھا۔ یا سوار ہو کر سیر و شکار میں مشغول رہتا۔

ایک دن کا ماجرا ہے کہ سواری تیار کروا کر اور سب یار آشناؤں کو لے کر میدان کی طرف نکلا۔ باز بہری، جرح، باشا، سرخاب اور تیتروں پر اڑاتا ہوا دور نکل گیا۔ عجب طرح کا ایک قطعہ بہار کا نظر آیا کہ جیدھر نگاہ جاتی تھی، کوسوں تلک سبز اور پھولوں سے لال زمین نظر آتی تھی۔ یہ سماں دیکھ کر گھوڑوں کی باگیں ڈال دیں، اور قدم قدم سیر کرتے ہوئے چلے جاتے تھے۔ ناگاہ اس صحرا میں دیکھا کہ ایک کالا ہرن اس پر زربفت کا جھول اور بھنوت کلی مرصع کی اور گھونگرو سونے کے زردوزی پٹے میں ٹکے ہوئے گلے میں پڑے، خاطر جمع سے اس میدان میں کہ، جہاں انسان کا دخل نہیں اور پرندہ پر نہیں مارتا، چرتا پھرتا ہے۔ ہمارے گھوڑوں کی سم کی آواز پا کر چوکنا ہوا اور سر اٹھا کر دیکھا اور آہستہ آہستہ چلا۔

مجھے اس کو دیکھنے سے یہ شوق ہوا کہ رفیقوں سے کہا تم یہیں کھڑے رہو۔ یہ اسے جیتا پکڑوں گا۔ خبردار تم قدم آگے نہ بڑھائیو اور میرے پیچھے نہ آئیو۔ اور گھوڑا میری رانوں تلے ایسا پرند تھا کہ بارہا ہرنوں کے اوپر دوڑا کر ان کی کرچھالوں کو بھلا کر ہاتھوں سے پکڑ لیے تھے، اس کے عقب دوڑایا۔ وہ دیکھ کر چھلانگیں بھرنے لگا اور ہوا ہوا۔ گھوڑا بھی باد سے باتیں کرتا تھا لیکن اس کی گرد کو نہ پہنچا، وہ رہوار بھی پسینے پسینے ہو گیا اور میری بھی جیبھ مارے پیاس کے کٹخنے لگی پر کچھ بس نہ چلا۔ شام ہونے لگی۔ اور میں کیا جانوں کہاں سے کہاں نکل آیا۔ لاچار ہو کر اسے بھلاوا دیا۔ اور ترکش سے تیر نکال کر اور قربان سے کمان سنبھال کر چلے میں جوڑ کر کشش کان تلک لا کر، ران کو اس کی تاک کر، اللہ اکبر کہہ کر مارا۔ بارے پہلا ہی تیر اس کے پاؤں ترازو ہوا۔ تب لنگڑاتا ہوا پہاڑ کے دامن کی سمت چلا۔ فقیر بھی گھوڑے پر سے اتر پڑا اور پا پیادہ اس کے پیچھے لگا۔ اس نے کوہ کا ارادہ کیا اور میں نے بھی اس کا ساتھ دیا۔ کئی اتار چڑھاؤ کے بعد ایک گنبد نظر آیا۔ جب پاس پہنچا ایک باغیچہ اور ایک چشمہ دیکھا۔ وہ ہرن تو نظر سے چھلاوا ہو گیا۔ میں نہایت تھکا تھا ہاتھ پاؤں دھونے لگا۔

ایک بارگی آواز رونے کی اس برج کے اندر سے میرے کان میں آئی جیسے کوئی کہتا ہے کہ اے بچے! جس نے تجھے تیر مارا، میری آہ کا تیر اس کے کلیجے میں لگیو۔ وہ اپنی جوانی سے پھل نہ پاوے اور خدا اس کو میرا سا دکھیا بنا دے میں یہ سن کر وہاں گیا۔ دیکھا تو ایک بزرگ ریش سفید اچھی پوشاک پہنے ایک مسند پر بیٹھا ہے اور ہرن آگے لیٹا ہے۔ اس کی جانگھ سے تیر کھینچتا ہے اور بددعا دیتا ہے۔

میں نے سلام کیا اور ہاتھ جوڑ کہا۔ کہ حضرت سلامت یہ تقصیر نادانستہ اس غلام سے ہوئی۔ میں یہ نہ جانتا تھا خدا کے واسطے معاف کرو۔ بولا کہ بے زبان کو تو نے ستایا ہے، اگر آن جان تجھ سے یہ حرکت ہوئی، اللہ معاف کرے گا، میں پاس جا بیٹھا، اور تیر نکالنے میں شریک ہوا۔ بڑی طاقت سے تیر کو نکالا اور زخم میں مرہم بھر کر چھوڑ دیا۔ پھر ہاتھ دھو کر اس پیر مرد نے کچھ حاضری جو اس وقت موجود تھی، مجھے کھلائی میں نے کھا پی کر ایک چارپائی پر لنبی تانی۔

ماندگی کے سبب خوب پیٹ بھر کر سویا۔ اس نیند میں آواز نوحہ و زاری کی کان میں آئی۔ آنکھیں مل کر جو دیکھتا ہوں تو اس مکان میں نہ وہ بوڑھا ہے نہ کوئی اور ہے۔ اکیلا میں پلنگ پر لیٹا ہوں اور وہ دالان خالی پڑا ہے، چاروں طرف بھیانک ہو کر دیکھنے لگا۔ ایک کونے میں پردہ پڑا نظر آیا۔ وہاں جا کر اسے اٹھایا۔ دیکھا تو ایک تخت بچھا ہے۔ اور اس پر ایک پری زادی عورت برس چودہ ایک کی، مہتاب کی صورت، اور زلفیں دونوں طرف چھوٹی ہوئیں، ہنستا چہرہ، فرنگی لباس پہنے ہوئے عجب ادا سے دیکھتی ہے اور بیٹھتی ہے اور وہ بزرگ اپنا سر اس کے پاؤں پر دھرے بے اختیار رو رہا ہے، اور ہوش حواس کھو رہا ہے۔ میں اس پیر مرد کا یہ احوال اور اس نازنین کا حسن و جمال دیکھ کر مرجھا گیا اور مردے کی طرح بے جان ہو کر گر پڑا۔ وہ مرد بزرگ میرا یہ حال دیکھ کر شیشہ گلاب کا لے آیا اور مجھ پر چھڑکنے لگا جب میں جیتا اٹھ کر اس معشوق کے مقابل جا کر سلام کیا، اس نے ہر گز نہ ہاتھ اٹھایا اور نہ ہونٹھ ہلایا میں نے کہا اے گل بدن اتنا غرور کرنا اور جواب سلام کا نہ دینا کس مذہب میں درست ہے؟

کم بولنا ادا ہے ہر چند، پر نہ اتنامند جائے چشم عاشق تو بھی وہ منہ نہ کھولے

واسطے اس خدا کے جس نے تجھے بنایا ہے کچھ تو منہ سے بول۔ ہم بھی اتفاقا یہاں آ نکلے ہیں۔ مہمان کی خاطر ضرور ہے۔ میں نے بہتیری باتیں بنائیں، لیکن کچھ کام نہ آئیں۔ وہ چپکی بت کی طرح بیٹھی سنا کی۔ تب میں نے بھی آگے بڑھ کر ہاتھ پاؤں پر چلایا۔ جب پاؤں کو چھیڑا تو سخت معلوم ہوا۔ آخر یہ دریافت کیا کہ پتھر سے اس لعل کو تراشا ہے، اور اس آذر نے اس بت کو بنایا ہے۔ تب اس پیر مرد بت پرست سے پوچھا کہ میں نے تیرے ہرن کی ٹانگ میں کھپرا مارا۔ تو نے اس عشق کے ناوک سے میرا کلیجہ چھید کر وار پار کیا۔ تیری دعا قبول ہوئی۔ اب اس کی کیفیت مفصل بیان کر کر یہ طلسم کیوں بنایا ہے۔ اور تو بستی کو چھوڑ کر جنگل پہاڑ کیوں سیتا ہے۔ تجھ پر جو کچھ بیتا ہے مجھ سے کہہ۔

جب اس کا بہت پیچھا لیا تب اس نے جواب دیا کہ اس بات نے مجھے تو خراب کیا، کیا تو بھی سن کر ہلاک ہوا چاہتا ہے؟ میں نے کہا لو اب بہت چکر کیا۔ مطلب کی بات کہو۔ نہیں تو مار ڈالوں گا۔ مجھے نہایت در پے دیکھ کر بولا۔ اے جوان حق تعالیٰ ہر ایک انسان کو عشق کی آنچ سے محفوظ رکھے۔ دیکھ تو اس عشق نے کیا کیا آفتیں برپا کی ہیں۔ عشق ہی کے مارے عورت خاوند کے ساتھ ستی ہوتی ہے اور اپنی جان کھوتی ہے۔ اور فرہاد مجنوں کا قصہ سب کو معلوم ہے۔ تو اس کے سننے سے پھل پاوے گا؟ ناحق گھر بار، دولت دنیا چھوڑ کر نکل جاوے گا، میں نے جواب دیا بس اپنی دوستی تہہ کر رکھو، اس وقت مجھے اپنا دشمن سمجھو۔ اگر جان عزیز ہے تو صاف کہو۔ لاچار ہو کر آنسو بھر لایا اور کہنے لگا کہ مجھ خانہ خراب کی یہ حقیقت ہے کہ بندے کا نام نعمان سیاح ہے، میں بڑا سوداگر تھا۔ اس سن میں تجارت کے سبب ہفت اقلیم کی سیر کی اور سب بادشاہوں کی خدمت میں رسائی ہوئی۔ ایک بار یہ خیال جی میں آیا کہ چاروں دانگ ملک تو پھرا، لیکن جزیرہ فرنگ کی طرف نہ گیا اور وہاں کے بادشاہ کو اور رعیت و سپاہ کو نہ دیکھا اور رسم و راہ وہاں کی کچھ نہ دریافت ہوئی۔ ایک دفعہ وہاں بھی چلا چاہیے۔ رفیقوں اور شفیقوں سے صلاح لے کر ارادہ مصمم کیا۔ اور تحفہ ہدایا جہاں تہاں کا جو وہاں کے لائق تھا لیا۔ اور ایک قافلہ سوداگروں کا اکٹھا کر کر جہاز پر سوار ہو کر روانہ ہوا۔ ہوا جو موافق پائی، کئی مہینوں میں اس ملک میں جا داخل ہوا۔ ہر ایک بازار و کوچے میں پختہ سڑکیں بنی ہوئیں اور چھڑکاؤ کیا ہوا۔ صفائی ایسی کہ تنکا کہیں پڑا نظر نہ آیا کوڑے کا تو کیا ذکر ہے۔ اور عمارتیں رنگ برنگ کی، اور رات کو رستوں میں دو رستہ قدم بقدم روشنی۔ اور شہر کے باہر باغات کہ جن میں عجائب گل بوٹے اور میوے نظر آئے کہ شاید سوائے بہشت کے کہیں اور نہ ہوں گے، جو وہاں کی تعریف کروں سو بجا ہے۔

غرض سوداگروں کے آنے کا چرچا ہوا۔ ایک خواجہ سرا معتبر سوار ہو کر اور کئی خدمت گار ساتھ لے کر قافلے میں آیا۔ اور بیوپاریوں سے پوچھا کہ تمہارا سردار کونسا ہے؟ سبھوں نے میری طرف اشارت کی۔ وہ محلی میرے مکان میں آیا۔ میں تعظیم بجا لایا، باہم سلام علیک ہوئی۔ اس کو سوزنی پر بٹھایا۔ تکیے کی تواضع کی۔ بعد اس کے میں نے پوچھا کہ صاحب کے تشریف لانے کا باعث ہے؟ فرمایئے۔ جواب دیا کہ شہزادی سے سنا ہے سوداگر آئے ہیں اور بہت جنس لائے ہیں، لہٰذا مجھ کو حکم دیا کہ جا کر ان کو حضور میں لے آؤ۔ پس تم جو کچھ اسباب لائق بادشاہوں کی سرکار کے ہو، ساتھ لے چلو اور سعادت آستانہ بوسی کی حاصل کرو۔

میں نے جواب دیا کہ آج تو ماندگی کے باعث قاصر ہوں۔ کل جان و مال سے حاضر ہوں گا۔ جو کچھ اس عاجز کے پاس موجود ہے، نذر گزرانوں گا۔ جو پسند آوے، مال سرکار کا ہے یہ وعدہ کر کر عطر پان دے کر خواجہ کو رخصت کیا اور سب سوداگروں کو اپنے پاس بلا کر جو جو تحفہ جس کے پاس تھا، لے لے کر جمع کیا۔ اور جو میرے گھر میں تھا وہ بھی لیا۔ اور صبح کے وقت دروازے پر بادشاہی محل کے حاضر ہوا۔

باری باری داروں نے میری خبر عرض کی۔ حکم ہوا کہ حضور میں لاؤ۔ وہی خواجہ سرا نکلا اور میرا ہاتھ ہاتھ میں لے کر دوستی کی راہ سے باتیں کرتا ہوا لے چلا۔ پہلے خواص پر سے ہو کر ایک مکان عالی شان میں لے گیا۔ اے عزیز! تو باور نہ کرے گا، یہ عالم نظر آیا گویا پر کاٹ کر پریوں کو چھوڑ دیا ہے۔ جس طرف دیکھتا تھا نگاہ گڑ جاتی۔ پاؤں زمیں سے اکھڑے جاتے تھے۔ بہ زور اپنے تئیں سنبھالتا ہوا رو برو پہنچا۔ جونہیں بادشاہ زادی پر نظر پڑی۔ غش کی نوبت ہوئی اور ہاتھ پاؤں میں رعشہ ہو گیا۔ بہر صورت سلام کیا۔ دونوں طرف دست راست اور دست چپ، صف بہ صف نازنینان پری چہرہ، دست بست کھڑی تھیں۔ میں جو کچھ قسم جواہر اور پارچہ پوشاکی اور تحفہ اپنے ساتھ لے گیا تھا، پیش کیا۔ جب کشتیاں حضور میں چنی گئیں، ازبس کہ سب جنس لائق پسند کی تھی، خوش ہو کر خانساماں کے حوالے ہوئی اور فرمایا کہ قیمت اس کی بموجب فرد کے کل دی جاوے گی۔ میں تسلیمات بجا لایا اور دل میں خوش ہوا کہ اس بہانے سے بھلا کل بھی آنا ہو گا۔ جب رخصت ہو کر باہر آیا تو سودائی کی طرح کہتا کچھ تھا اور منہ سے سدے کچھ نکلتا تھا۔ اسی طرح سرا میں آیا، لیکن حواس بجا نہ تھے۔ سب آشنا دوست پوچھنے لگے کہ تمہاری کیا حالت ہے؟ میں نے کہا اتنی آمدورفت سے گرمی دماغ پر چڑھ گئی ہے۔

غرض وہ رات تلیھے کاٹی۔ فجر کو پھر جا کر حاضر ہوا، اور اسی خواجہ کے ساتھ پھر محل میں پہنچا۔ وہی عالم جو کل دیکھا تھا۔ بادشاہ زادی نے مجھے دیکھا اور ہر ایک کو اپنے اپنے کام پر رخصت کیا۔ جب پرچھا ہوا۔ خلوت میں اٹھ گئیں اور مجھے طلب کی۔ جب میں وہاں گیا، بیٹھے کا حکم کیا۔ میں بھی آداب بجا لا کر بیٹھا۔ فرمایا کہ یہاں جو تو آتا اور یہ اسباب لایا، اس میں منافع کتنا منظور ہے۔ میں نے عرض کی کہ آپ کے قدم دیکھنے کی بڑی خواہش تھی۔ سو خدا نے میسر کی، اب میں نے سب کچھ بھر پایا۔ اور دونوں جہان کی سعادت حاصل ہوئی۔ اور قیمت کچھ فہرست میں ہے، نصف کی خرید ہے اور نصف نفع ہے۔ فرمایا نہیں جو قیمت تو نے لکھی ہے وہ عنایت ہو گی، بلکہ اور بھی انعام دیا جائے گا بشرطیکہ ایک کام تجھ سے ہو سکے تو حکم کروں۔ میں نے کہا کہ غلام کا جان و مال اگر سرکار کے کام آوے تو میں اپنے طالعوں کی خوب سمجھوں اور آنکھوں سے کروں۔ یہ سن کر قلم دان یاد فرمایا۔ ایک شقہ لکھا اور موتیوں کے درمیان میں رکھ کر ایک رومال شبنم کا اور لپیٹ کر میرے حوالے کیا اور ایک انگوٹھی نشان کے واسطے انگلی سے اتار دی اور کہا کہ اس طرف کو ایک بڑا باغ ہے۔

دل کشا اس کا نام ہے۔ وہاں تو جا کر ایک شخص کے خسرو نام داروغہ ہے، اس کے ہاتھ میں یہ انگشتری دیجئو، اور ہماری طرف سے دعا کہیو اور اس رقعہ کا جواب مانگیو۔ لیکن جلد آئیو۔ اگر کھانا وہاں کھائیو تو پانی یہاں پیئو۔ اس کام کا انعام تجھے ایسا دوں گی تو دیکھے گا۔ میں رخصت ہوا۔ اور پوچھتا پوچھتا چلا۔ قریب دو کوس کے جب گیا، وہ باغ نظر پڑا۔ جب پاس پہنچا، ایک عزیز مسلح مجھ کو پکڑ کر دروازے میں باغ کے لے گیا۔ دیکھوں تو ایک جوان شیر کی صورت، سونے کی کرسی پر زرہ داؤدی پہنے، چار آئینہ باندھے فولادی خود سر پر دھرے، نہایت شان و شوکت سے بیٹھا ہے اور پانچ سو جوان تیار ڈھال تلوار ہاتھ لئے اور ترکش کامان باندھے مستعد پرا باندھے کھڑے ہیں۔ میں نے سلام کیا، مجھے نزدیک بلایا۔ میں نے وہ خاتم دی اور خوشامد کی باتیں کر کر وہ رومال دکھایا۔ اور شقے کے بھی لانے کا احوال کہا۔ اس نے سنتے ہی انگلی دانتوں سے کاٹی اور سر دھن کر بولا کہ شاید تیری اجل تجھ کو لے کر آئی ہے۔ خیر باغ کے اندر جا، سرو کے درخت میں ایک آہنی پنجرا لٹکتا ہے اس میں ایک جوان قید ہے۔ اس کو یہ خط دے کر جواب لے کر جلدی پھرا۔ میں شتاب باغ میں گھسا۔ باغ کیا تھا، گویا جیسے جی بہشت میں گیا۔ ایک پر ایک چمن رنگ بہ رنگ کا پھول رہا تھا اور فوارے چھوٹ رہے تھے۔ جانور چہچہے مار رہے تھے میں سیدھا چلا گیا اور اس درخت میں وہ قفس دیکھا اس میں ایک حسین نظر آیا میں نے ادب سے سر نیہوڑ لیا اور سلام لیا اور وہ خریطہ سر بمہر پنجرے کی تیلیوں کی راہ سے دیا۔ وہ عزیز رقعہ کھول کر پڑھنے لگا اور مجھ سے مشتاق وار احوال ملکہ کو پوچھنے لگا۔ ابھی باتیں تمام نہ ہوئیں تھیں کہ ایک فوج زنگیوں کی نمودار ہوئی اور چاروں طرف سے مجھ پر آ ٹوٹی اور بے تحاشا برچھی و تلوار مارنے لگی ایک نہتے کی بساط کیا؟ ایک دم میں چور زخمی کر دیا۔ مجھے کچھ اپنی سدھ بدھ نہ رہی۔ پھر جو ہوش آیا اپنے تئیں چارپائی پر پایا کہ دو پیادے اٹھائے لیے جاتے ہیں اور آپس میں بتیاتے ہیں۔

ایک نے کہا اس مرد کی لوتھ کو میدان میں پھینک دو۔ کتے کوے کھا جائیں گے دوسرا بولا اگر بادشاہ تحقیق کرے اور یہ خبر پہنچے تو جیتا گڑوا دے اور باقی بچوں کو کولہو میں پڑوا دے۔ کیا ہمیں اپنی جان بھاری پڑے ہے جو ایسی نامعقول حرکت کریں۔

میں نے یہ گفتگو سن کر دونوں جاجوج ماجوج سے کہا واسطے خدا کے مجھ پر رحم کرو۔ ابھی مجھ میں ایک رمق جان باقی ہے۔ جب مر جاؤں گا جو تمہارا جی چاہے گا، سو کیجو، مردہ بدست زندہ لیکن یہ تو کہو مجھ پر یہ کیا حقیقت بیتی۔ مجھے کیوں مارا؟ اور تم کون ہو؟ بھلا اتنا تو کہہ سناؤ۔

تب انہوں نے رحم کھا کر کہا وہ جوان جو قفس میں بند ہے اس بادشاہ کا بھتیجا ہے اور پہلے اس کا باپ تخت نشین تھا۔ رحلت کے وقت یہ وصیت اپنے بھائی کو کی کہ ابھی میرا بیٹا جو وارث اس سلطنت کا ہے، لڑکا اور بے شعور ہے۔ کاروبار بادشاہت کا خیر خواہی اور ہوشیاری سے تم کیا کیجو۔ جب بالغ ہو اپنی بیٹی سے شادی اس کی کر دیجیو اور مختار تمام ملک اور خزانے کا کیجو۔

یہ کہہ کر انہوں نے وفات پائی اور سلطنت چھوٹے بھائی پر آئی۔ اس نے وصیت پر عمل نہ کیا بلکہ دیوانہ اور سودائی مشہور کر کے پنجرے میں ڈال دیا اور چوکی گاڑی چاروں طرف باغ کے رکھی ہے کہ پرندہ پر نہیں مار سکتا۔ اور کئی مرتبے زہر ہلاہل دیا ہے لیکن زندگی زبردست ہے اثر نہیں کیا۔ اب وہ شہزادی اور یہ شہزادہ دونوں عاشق و معشوق بن رہے ہیں۔ وہ گھر میں تڑپتی ہے اور یہ قفس میں تڑپتا ہے۔ تیرے ہاتھ شوق کا نامہ اس نے بھیجا۔ یہ خبر ہر کاروں نے بہ جنس بادشاہ کو پہنچائی۔ حبشیوں کا دستہ متعین ہوا، تیرا یہ احوال کیا اور اس جوان قیدی کے قتل کی وزیر سے تدبیر پوچھی۔ اس نمک حرام نے ملکہ کو راضی کیا ہے کہ اس بے گناہ کو بادشاہ کے حضور اپنے ہاتھ سے شہزادی مار ڈالے۔

میں نے کہا چلو مرتے مرتے یہ بھی تماشا دیکھ لیں۔ آ کر راضی ہو کر وہ دونوں اور میں زخمی چپکے ایک گوشے میں جا کھڑے ہوئے، دیکھا تو تخت پر بادشاہ بیٹھا ہے اور ملکہ کے ہاتھ میں ننگی تلوار ہے اور شہزادے کو پنجرے سے باہر نکال کر رو بہ رو کھڑا کیا ملکہ جلاد بن کر شمشیر برہنہ لئے ہوئے اپنے عاشق کو قتل کرنے کو آئی۔ جب نزدیک پہنچی تلوار پھینک دی اور گلے میں چمٹ گئی۔ تب وہ عاشق بولا کہ ایسے مرنے پر میں راضی ہوں۔ یہاں تیری آرزو ہے، وہاں بھی تیری تمنا رہے گی۔ ملکہ بولی کہ اس بہانے سے میں تیرے دیکھنے کو آئی تھی۔ بادشاہ یہ حرکت دیکھ کر سخت برہم ہوا اور وزیر کو ڈانٹا کہ تو یہ تماشا دکھلانے کو لایا تھا؟ محلی ملکہ کو جدا کر کے محل میں لے گئے اور وزیر نے خفا ہو کر تلوار اٹھائی اور بادشاہ زادے کے اوپر دوڑا کہ ایک ہی وار میں کام اس بیچارے کا تمام کرے۔ جوں چاہتا ہے کہ تیغا چلاوے، غیب سے ایک تیر ناگہانی سے اس کی پیشانی پر بیٹھا کہ دوسار ہو گیا اور وہ گر پڑا۔ بادشاہ یہ واردات دیکھ کر محل میں گھس گئے، جوان کو پھر قفس میں بند کر کر باغ میں لے گئے۔ میں بھی وہاں سے نکلا۔ راہ میں سے ایک آدمی مجھے بلا کر ملکہ کے حضور میں لے گیا۔ مجھے گھائل دیکھ کر ایک جراح کو بلوایا اور نہایت تاکید سے فرمایا کہ نوجوان کو چنگا کر کے غسل شفا کے دے۔ یہی تیرا مجرا ہے۔ اس کے اوپر جتنی محبت تو کرے گا ویسا ہی انعام اور سرفرازی پاوے گا۔ غرض وہ جراح بموجب ارشاد ملکہ کے تک و دو کر کے ایک چلے میں نہلا دھلا مجھے حضور میں لے گیا۔ ملکہ نے پوچھا کہ اب تو کچھ کسر باقی نہیں رہی؟ میں نے کہا کہ آپ کی توجہ سے اب ہٹا کٹا ہوں۔ تب ملکہ نے ایک خلعت اور بہت سے روپے جو فرمائے تھے، بلکہ اس سے بھی دوچند عطا کئے اور رخصت کیا۔

میں نے وہاں سے رفیق اور نوکر چاکروں کو لے کر کوچ کیا۔ جب اس مقام پر پہنچا سب کو کہا۔ تم اپنے وطن جاؤ۔ اور میں نے اس پہاڑ پر یہ مکان اور اس کی صورت بنا کر اپنا رہنا مقرر کیا۔ اور نوکروں اور غلاموں کو موافق ہر ایک کی قدر کے روپے دے کر آزاد کیا اور یہ کہہ دیا کہ جب تلک جیتا رہوں گا، میری قوت کی خبر گیری تمہیں ضرور ہے۔ آگے مختار ہو۔ اب وہی نمک حلالی سے میرے کھانے کی خبر لیتے ہیں اور میں بہ خاطر جمع اس بت کی پرستش کرتا ہوں۔ جب تلک جیتا ہوں میرا یہی کام ہے۔ یہ میری سرگزشت ہے جو تو نے سنی۔ یا فقرا! میں نے بہ مجرد سنتے اس قصے کی کفنی گلے میں ڈالی اور فقیروں کا لباس کیا اور اشتیاق میں فرنگ ملک کے دیکھنے کے لیے روانہ ہوا۔ کتنے ایک عرصہ میں جنگل پہاڑوں کی سیر کرتا ہوا مجنوں اور فرہاد کی صورت بن گیا۔

ما الذي تركه هذا الفصل فيك؟

سجّل الدخول للتفاعل

النقاش

لم يتكلم أحد بعد. قل ما حرّكه هذا الفصل فيك.

أعجبك هذا الفصل؟ شارك سطرًا منه.