Urdu in Translation
Поиск
Закладка

Глава 17 из 25

Histoire du Khwaja Sag-parast : la princesse de Sarandip

The Dog-Worshipping Merchant: The Princess of Sarandip

خواجہ سگ پرست کا قصہ: سراندیپ کی شہزادی

Mir Amman

Письмо
Размер

اے درویشو! اس خواجہ سگ پرست نے جب اپنی کیفیت اور مصیبت اس طرح سے یہاں تلک کہی، سنتے ہی مجھے بے اختیار رونا آیا۔ وہ سوداگر دیکھ کر کہنے لگا۔ قبلہ عالم! اگر بے ادبی نہ ہوتی تو برہنہ ہو کر میں اپنا سارا بدن کھول کر دکھاتا۔ تس پر بھی اپنی راستی پر گریبان مونڈھے تلک چیر کر دکھایا۔ واقعی چار انگل تن اس کا بغیر زخم کے ثابت نہ تھا۔۔ میرے حضور سر سے عمامہ اتارا۔ کھوپڑی میں ایسا بڑا گڑھا پڑا تھا کہ ایک انار سموچا اس میں سماوے۔ اراکان دولت جتنے حاضر تھے سب نے اپنی آنکھیں بند کر لیں طاقت دیکھنے کی نہ رہی۔

پھر خواجہ بولا کہ بادشاہ سلامت! جب یہ بھائی اپنی دانست میں میرا کام تمام کر کے چلے گئے ایک طرف میں اور ایک طرف یہ سگ میرے نزدیک زخمی پڑا تھا۔ لہو اتنا بدن سے گیا کہ مطلق طاقت اور ہوش کچھ باقی نہ تھا۔ کیا جانوں دم کہاں اٹک رہا تھا کہ جیتا تھا۔ جس جگہ پڑا تھا ولایت سراندیپ کی سرحد تھی اور ایک شہر بہت آباد اس کے قریب تھا۔ اس شہر میں بڑا بت خانہ تھا۔ اور وہاں کے بادشاہ کی ایک بیٹی تھی، نہایت قبول صورت اور صاحب جمال۔

اکثر بادشاہ اور شہزادے اس کے عشق میں خراب تھے۔ وہاں رسم حجاب کی نہ تھی۔ اس سے، وہ لڑکی تمام ہمجولیوں کے ساتھ شیر شکار کرتی پھرتی۔ ہم سے نزدیک ایک بادشاہی باغ تھا۔ اس روز بادشاہ سے اجازت لے کر اسی باغ میں آئی تھی۔ سیرکی خاطر اس میدان میں پھرتی پھرتی آ نکلی۔ کئی خواتین بھی ساتھ سوار تھیں، جہاں میں پڑا تھا آئیں۔ میرا کراہنا سن کر پاس کھڑی ہوئی۔ مجھے اس حالت میں دیکھ کر وہ بھاگیں اور شہزادی سے کہا کہ ایک مردوا اور ایک کتا لہو میں شور بور پڑا ہے۔ ان سے یہ سن کر آپ ملکہ میرے سر پر آئی، افسوس کھا کر کہا۔ دیکھو تو کچھ جان باقی ہے؟ دوچار دائیوں نے اتر کر دیکھا اور عرض کی۔ اب تلک تو جیتا ہے ترت فرمایا کہ آہستگی سے قالیچے پر لٹا کر باغ لے چلو۔

وہاں لے جا کر جراح سرکار کا بلا کر میرے اور میرے کتے کے علاج کی خاطر بہت تاکید اور امیدوار انعام و بخشش کا کیا۔ اس حجام نے سارا بدن میرا پونچھ پانچھ کر خاک و خون سے پاک کیا، اور شراب سے دھو دھا کر زخموں کو ٹانکے دے کر مرہم لگایا، اور بید مشک کا عرق پانی کے بدلے میرے حلق میں چوایا۔ ملکہ آپ میرے سرہانے بیٹھی رہتی اور میری خدمت کرواتی اور تمام دن رات میں دوچار بار کچھ شوربا یا شربت اپنے ہاتھ سے پلاتی۔

بارے مجھے ہوش آیا تو دیکھا کہ ملکہ نہایت افسوس سے کہتی ہے، کس ظالم خوں خوار نے تجھ پر یہ ستم کیا۔ بڑے بت سے بھی نہ ڈرا۔ بعد دس روز کے عرق اور شربت اور معجونوں کے قوت سے میں نے آنکھ کھولی۔ دیکھا تو اندر کا اکھاڑا میرے آس پاس جمع ہے اور ملکہ سرہانے کھڑی ہے۔ ایک آہ بھری اور چاہا کہ کچھ حرکت کروں۔ طاقت نہ پائی۔ بادشاہ زادی مہربانی سے بولی کہ اے عجمی خاطر جمع رکھ۔ کڑھ مت اگرچہ کسو ظالم نے تیرا یہ احوال کیا، لیکن بڑے بت نے مجھ کو مہربان کیا ہے۔ اب چنگا ہو جاوے گا۔ قسم اس خدا کی جو واحد لا شریک ہے، میں اسے دیکھ کر پھر بے ہوش ہو گیا۔ ملکہ نے بھی دریافت کیا اور گلاب پاش سے گلاب اپنے ہاتھ سے چھڑکا۔ بیس دن کے عرصے میں زخم بھر آئے اور انگور کر لائے۔ بلکہ ہمیشہ رات کو جب سب سو جاتے میرے پاس آتی اور کھلا پلا جاتی۔

غرض ایک چلے میں غسل کیا۔ بادشاہ زادی نہایت خوش ہوئی۔ حجام کو انعام بہت سا دیا۔ اور مجھ کو پوشاک پہنائی۔ خدا کے فضل سے اور خبر گیری اور سعی سے ملکہ کی خوب چاق و چوبند ہوا۔ اور بدن نہایت تیار ہوا۔ اور کتا بھی فربہ ہو گیا۔ ہر روز مجھے شراب پلاتی اور باتیں سنتی اور خوش ہوتی۔ میں بھی ایک آدھی نقل یا کہانی انوٹھی کہہ کر اس کے دل کو بہلاتا۔

ایک دن پوچھنے لگی کہ اپنا احوال تو بیان کرو کہ تم کون ہو اور یہ واردات تم پر کیونکر آئی؟ میں نے سارا ماجرا اپنا اول سے آخر تک کہہ سنایا۔ سن کر رونے لگی اور بولی کہ اب میں تجھ سے ایسا سلوک کروں گی کہ اپنی ساری مصیبت بھول جاوے گا۔ میں نے کہا خدا تمہیں سلامت رکھے۔ تم نے نئے سر سے میری جان بخشی کی ہے۔ اب میں تمہارا ہو رہا ہوں۔ واسطے خدا کے اسی طرح ہمیشہ مجھ پر اپنی مہربانی کی نظر رکھیو۔ غرض تمام رات اکیلی میرے پاس بیٹھی رہتی اور صحبت رکھتی۔ بعضے دن دائی اس کی بھی ساتھ رہتی۔ ایک طور کا مذکور سنتی اور کہتی۔ جب ملکہ اٹھ جاتی اور میں تنہا ہوتا، طہارت کر کونے میں چھپ کر نماز پڑھ لیتا۔

ایک بار ایسا اتفاق ہوا کہ ملکہ اپنے باپ کے پاس گئی تھی۔ میں خاطر جمع سے وضو کر کے نماز پڑھ رہا تھا کہ اچانک شہزادی دائی سے بولتی ہوئی کہ دیکھیں عجمی اس وقت کیا کرتا ہے۔ سوتا ہے یا جاگتا ہے، مجھے مکان پر جو نہ دیکھا تعجب میں ہوئی کہ ہائیں یہ کہاں گیا ہے؟ کسو نے کوئی لگا تو نہیں لگایا۔ کونا کٹھرا دیکھنے لگی اور تلاش کرنے لگی۔ آخر جہاں میں نماز کر رہا تھا وہاں آ نکلی۔ اس لڑکی نے کبھو نماز کاہے کو دیکھی تھی۔ چپکی کھڑی دیکھا کی۔ جب میں نماز تمام کر کے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور سجدے میں گیا، بے اختیار کھلکھلا کر ہنسی اور بولی کیا یہ آدمی سودائی ہو گیا۔ یہ کیسی کیسی حرکتیں کر رہا ہے۔ میں ہنسنے کی آواز سن کر دل میں ڈرا۔ بلکہ آگے آ کر پوچھنے لگی کہ اے عجمی! یہ تو کیا کرتا تھا میں کچھ جواب نہ دے سکا۔ اس میں دائی بولی بلا لوں تو تیرے صدقے گئی مجھے یوں معلوم ہوتا ہے، کہ یہ شخص مسلمان ہے، اور لات منات کا دشمن ہے ان دیکھے خدا کو پوجتا ہے۔

ملکہ نے یہ سنتے ہی ہاتھ پر ہاتھ مارا۔ بہت غصے ہوئی کہ میں کیا جانتی تھی کہ یہ ترک ہے اور ہمارے خداؤں کا منکر ہے۔ تب ہی ہمارے بت کے غضب میں پڑا تھا۔ میں نے ناحق اس کی پرورش کی اور اپنے گھر میں رکھا۔ یہ کہتی ہوئی چلی گئی۔ میں سنتے ہی بدحواس ہوا کہ دیکھئے اب کیا سلوک کرے۔ مارے خوف کے نیند اچاٹ ہو گئی۔ صبح تک بے اختیار رویا کیا اور آنسوؤں سے منہ دھوایا کیا۔

تین دن رات اسی خوف و رجا میں روتے گزرے، ہرگز آنکھ نہ جھپکی۔ تیسری شب ملکہ شراب کے نشے میں مخمور اور دائی ساتھ لیے میرے مکان پر آئی۔ غصے میں بھری ہوئی اور تیر کمان ہاتھ میں لیے باہر چمن کے کنارے بیٹھی دائی سے پیالا شراب کا مانگا، پی کر کہا۔ دائی! وہ عجمی ہمارے بڑے بت کے قہر میں گرفتار ہے، موا یا اب تک جیتا ہے؟ دائی نے کہا بلیا لوں کچھ دم باقی ہے۔ بولی کہ اب وہ ہماری نظروں سے گرا، لیکن کہہ کہ باہر آوے۔ دائی نے مجھے پکارا میں دوڑا۔ دیکھوں تو ملکہ کا چہرہ مارے غصے کے تمتما رہا ہے۔ اور سرخ ہو گیا ہے۔ روح قلب میں نہ رہی۔ سلام کیا اور ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوا۔ غضب کی نگاہ سے مجھے دیکھ کر دائی سے بولی۔ اگر میں اس دین کے دشمن کو تیر سے مار دوں تو میری خطا بڑا بت معاف کرے گا یا نہیں؟ یہ مجھ سے بڑا گناہ ہوا ہے کہ میں نے اسے اپنے گھر میں رکھ کر خاطر داری کی!

دائی نے کہا بادشاہ زادی کی کیا تقصیر ہے کہ کچھ دشمن جان کر نہیں رکھا تھا۔ تم نے اس پر ترس کھایا۔ تم کو نیکی کے عوض نیکی ملے گی اور یہ اپنی بدی کا ثمرہ بڑے بت سے پا رہے گا۔ یہ سن کر کہا دائی اسے بیٹھنے کو کہہ۔ دائی نے مجھے اشارت کی کہ بیٹھ جا۔ میں بیٹھ گیا۔ ملکہ نے اور جام شراب کا پیا اور دائی سے کہا کہ اس کم بخت کو بھی ایک پیالہ دے تو آسانی سے مارا جاوے۔ دائی نے جام دیا۔ میں نے بے عذر پیا اور سلام کیا۔ ہرگز میری طرف نگاہ نہ کی، مگر کن انکھیوں سے چوری چوری دیکھتی تھی۔ جب مجھے سرور ہوا کچھ شعر پڑھنے لگا۔ ازاں جملہ ایک بیت یہ بھی پڑھی:

قابو میں ہوں میں تیرے، گو اب جیا تو پھر کیاخنجر تلے کسو نے ٹک دم لیا تو پھر کیا

سن کر مسکرائی اور دائی کی طرف دیکھ کر بولی۔ کیا تجھے نیند آئی ہے۔ دائی نے مرضی پر کہا ہاں مجھ پر خواب نے غلبہ کیا ہے۔ وہ تو رخصت ہو کر جہنم واصل ہوئی۔ بعد ایک دم کے ملکہ نے پیالہ مجھ سے مانگا۔ میں جلد بھر کر رو برو لے گیا۔ ایک ادا سے میرے ہاتھ سے لے کر پی لیا۔ تب میں قدموں میں گرا۔ ملکہ نے ہاتھ مجھ پر جھاڑا اور کہنے لگی۔ اے جاہل ہماری بڑے بت میں کیا برائی دیکھی جو غائب خدا کی پرستش کرنے لگا؟ میں نے کہا انصاف شرط ہے۔ ٹک غور فرمائیے کہ بندگی کے لائق وہ خدا ہے کہ جس نے ایک قطرے پانی سے تم سا محبوب پیدا کیا اور یہ حسن و جمال دیا کہ ایک آن میں ہزاروں انسانوں کے دل کو دیوانہ کر ڈالا۔ بت کیا چیز ہے کہ کوئی اس کی پوجا کرے؟ ایک پتھر کو سنگ تراشوں نے گڑھ کر صورت بنائی اور دام احمقوں کے واسطے بچھایا۔ جن کو شیطان نے ورغلانا ہے۔ وہ مصنوع کو صانع جانتے ہیں۔ جسے اپنے ہاتھوں سے بناتے ہیں۔ اس کے آگے سر جھکاتے ہیں۔ اور ہم مسلمان ہیں۔ جس نے ہمیں بنایا، ہم اسے مانتے ہیں۔ ان کے واسطے دوزخ، ہمارے لیے بہشت بنایا ہے اگر بادشاہ زادی ایمان خدا پر لاوے تب اس کا مزہ پاوے، اور حق و باطل میں فرق کرے اور اپنے اعتقاد کو غلط سمجھے۔

بارے ایسی ایسی نصیحتیں سن کر اس سنگ دل کا دل ملائم ہوا۔ خدا کے فضل و کرم سے رونے لگی۔ اور بولی اچھا مجھے بھی اپنا دین سکھاؤ۔ میں نے کلمہ تلقین کیا۔ ان نے بصدق دل پڑھا اور توجہ استغفار کر کر مسلمان ہوئی۔ تب میں اس کے پاؤں پڑا۔ صبح تک کلمہ پڑھتی اور استغفار کرتی رہی، پھر کہنے لگی۔ بھلا میں نے تمہارا دین قبول کیا، لیکن ماں باپ کافر ہیں۔ ان کا علاج کیا ہے۔ میں نے کہا تمہاری بلا سے جو جیسا کرے ویسا پاوے گا۔ بولی کہ مجھے چچا کے بیٹے سے منسوب کیا ہے اور وہ بت پرست ہے۔ کل کو خدانخواستہ بیاہ ہو اور وہ کافر مجھ سے ملے اور اس کا نطفہ میرے پیٹ میں ٹھہر جاوے تو بڑی قباحت ہے۔ اس کی فکر ابھی سے کیا چاہیے۔ کہ اس بلا سے نجات پاؤں۔ میں نے کہا تم بات تو معقول کہتی ہو۔ جو مزاج میں آوے سو کرو۔ بولی کہ میں اب یہاں نہ رہوں گی۔ کہیں نکل جاؤں گی۔

میں نے پوچھا کس صورت سے بھاگنے پاؤں گی اور کہاں جاؤں گی؟ جواب دیا کہ پہلے تم میرے پاس سے جاؤ۔ مسلمانوں کے ساتھ سرا میں جا رہو تو سب آدمی سنیں اور تم پر گمان نہ لے جاویں۔ تم وہاں کشتیوں کی تلاش میں رہو جو جہاز عجم کی طرف چلے، مجھے خبر کیجیو۔ میں اس واسطے دائی کو تمہارے پاس اکثر بھیجا کروں گی۔ جب تم کہلا بھیجو گے، میں نکل کر آؤں گی اور کشتی پر سوار ہو کر چلی جاؤں گی۔ ان کم بخت بے دینوں کے ہاتھ سے مخلصی پاؤں گی۔

میں نے کہا۔ تمہاری جان و ایمان کے قربان ہوا۔ دائی کو کیا کرو گی؟ بولی اس کی فکر سہل ہے۔ ایک پیالے میں زہر ہلاہل پلا دوں گی۔ یہی صلاح مقرر ہوئی۔ جب دن ہوا، میں کارواں سرا میں ہو گیا۔ ایک حجرہ کرائے پر لیا اور جا رہا۔ اس جدائی میں فقط وصل کی توقع پر جیتا تھا۔ جب دو مہینے میں سوداگر روم و شام و اصفہان کے جمع ہوئے، ارادہ کوچ کا تری کی راہ سے کیا اور اپنا اسباب جہاز پر چڑھانے لگے۔ ایک جگہ رہنے سے اکثر آشنا صورت ہو گئے تھے۔ آشنا صورت مجھ سے کہنے لگے کیوں صاحب! تم بھی چلو نا۔ یہاں کفرستان میں کب تلک رہو گے؟ میں نے جواب دیا کہ میرے پاس کیا ہے جو اپنے وطن کو جاؤں؟ یہی ایک لونڈی، ایک کتا، ایک صندوق بساط میں رکھتا ہوں اگر تھوڑی سی جگہ بیٹھ رہنے کو دو اور اس کو نول مقرر کرو تو میری خاطر جمع ہو۔ میں بھی سوار ہوں۔

Что оставила в вас эта глава?

Войдите, чтобы отреагировать

Обсуждение

Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.

Понравилась глава? Поделитесь строкой из неё.