
Chapitre 3 sur 10
The Root Cause and Its Five Branches
اصلی سبب اور اس کی پانچ شاخیں
اصلی سبب اس فساد کا میں تو ایک ہی سمجھتا ہوں، باقی جس قدر اسباب ہیں وہ سب اس کی شاخیں ہیں۔ اور یہ سمجھ میری کچھ وہمی اور قیاسی ہی نہیں، بلکہ اگلے زمانہ کے بہت سے عقلمندوں کی رائے کا اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے، اور تمام مصنفین پرنسپل آف گورنمنٹ کے اس باب میں میرے طرفدار ہیں، اور تمام تاریخیں یورپ اور افریقہ کی میری رائے کی صداقت پر بہت معتمد گواہ ہیں۔
سب لوگ تسلیم کرتے چلے آئے ہیں کہ واسطے اسلوبی اور خوبی اور پائداری گورنمنٹ کے مداخلت رعایا کی حکومت ملک میں واجبات سے ہے۔ حکام کی بھلائی یا برائی تدبیر کی صرف لوگوں سے معلوم ہوتی ہے، پیشتر اس سے کہ خرابیاں اس درجہ کو پہنچیں کہ پھر جن کا علاج ممکن نہ ہو۔
سر چشمہ شاید گرفتن بہ بیلچو پر شد نشاید گذشتن بہ پیل
اور یہ بات نہیں حاصل ہوتی جب تک کہ مداخلت رعایا کی حکومت ملک میں نہ ہو، علی الخصوص ہماری گورنمنٹ کو جو غیر ملک کے رہنے والے تھے اور مذہب اور رواج اور راہ و رسم اور طبیعت و عادت بھی اس ملک سے مختلف رکھتے تھے، اس بات پر خیال رکھنا واجبات سے تھا۔ گورنمنٹ کا انتظام اور اس کی خوبی اور اسلوبی اور پائداری ملکی اطوار اور عادات کی واقفیت اور پھر اس کی رعایت پر موقوف ہے، کیونکہ اگلی تاریخوں کے دیکھنے سے، جو درحقیقت ایک روزنامچہ ہے عادات اور خیالات اور اطوار مختلفہ نوع انسان کا، معلوم ہو سکتا ہے کہ ان کی عادتیں اور خیالات اور اطوار موافق کسی عقلی قاعدہ کے حاصل نہیں ہوئی ہیں، بلکہ ہر ایک ملک اور قوم میں بحسب اتفاق ہو گئی ہیں۔ پس قواعد گورنمنٹ ان اوضاع اور اطوار پر موقوف ہیں، نہ یہ کہ وہ اوضاع و اطوار اور عادات گورنمنٹ پر، اور اسی بات میں گورنمنٹ کی پائداری اور قیام ہے، کیونکہ جب تک وہ عادتیں اور اخلاق رعایا کے دل میں مستحکم اور بمنزلۂ خاصیت انسانی کے ہو گئی ہیں، اس وقت تک ان کے برخلاف، ان کو برخلاف کرنا صریح خاصیت انسانی کے برخلاف کرنا اور سب کو رنجیدہ رکھنا ہے۔ کیا ہم بھول جاویں گے بنگالہ کی اس بے انتظامی کی حالت کو جو ۱۷۶۵ء میں بروقت تفویض ہونے دیوانی بنگالہ بہ کمپنی انگریز بہادر اسی ناواقفیت کے سبب ہوئی تھی، باوصفیکہ جان کلارک مارشمن صاحب کی تاریخ ہم کو اسے یاد دلا رہی ہے؟ اور کیا یاد نہ رہے گی ہم کو وہ خوبی جو بنگالہ میں لارڈ ہسٹنگز صاحب بہادر کی زباندانی اور ملکی راہ و رسم کی واقفیت سے حاصل ہوئی تھی؟
بلاشبہ پارلیمنٹ میں ہندوستان کی رعایا کی مداخلت نہ ممکن اور بے فائدہ محض تھی، مگر لیجسلیٹیو کونسل میں مداخلت نہ رکھنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ پس یہی ایک بات ہے جو جڑ ہے تمام ہندوستان کے فساد کی، اور جتنی باتیں جمع ہوتی گئیں وہ سب اس کی شاخیں ہیں۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ ہماری گورنمنٹ نے ملکی حالات اور اطوار دریافت کرنے میں کوشش نہیں کی، بلکہ ہم اس کے بدل مقر ہیں، اور بعض قوانین گورنمنٹ اور ہدایات بورڈ آف ریونیو اور آنریبل ٹامسن صاحب کے ہدایت نامہ مال کو اس کا گواہ سمجھتے ہیں۔ مگر اس میں کچھ شک نہیں کہ رعایا کے حالات اور عادات اور خیالات اور اوضاع اور اطوار اور طبیعت اور طینت اور لیاقت کے دریافت کرنے میں توجہ نہیں کی۔ بلاشبہ ہماری گورنمنٹ کو نہیں معلوم تھا کہ ہماری رعیت پر دن کیسا گذرتا ہے اور رات کس مصیبت کی آتی ہے، اور وہ دن بدن کس غم اور مصیبت میں پڑتے جاتے ہیں، اور کیا کیا رنج روز بروز ان کے دل میں جمتے جاتے ہیں، جو رفتہ رفتہ بہت کثرت سے جمع ہو گئے تھے اور ایک ادنیٰ تحریک سے دفعتاً پھٹ پڑے۔
لیجسلیٹیو کونسل میں ہندوستان کے شریک نہ ہونے سے صرف اتنا ہی نقصان نہیں ہوا کہ گورنمنٹ کو اصلی مضرت قوانین اور ضوابط کے جو جاری ہوئے بخوبی معلوم نہیں ہو سکے، اور اعتراض عام رعایا کو اس مضرت کے رفع کرنے اور اپنے مطالب کے پیش کرنے کی فرصت اور قدرت نہیں ملی، بلکہ بہت بڑا نقصان یہ ہوا کہ رعایا کو منشا اور اصلی مطلب اور دلی ارادہ گورنمنٹ کا معلوم نہ ہوا۔ گورنمنٹ کی ہر تجویز پر رعایا کو غلط فہمی ہوئی، جو تجویز کہ گورنمنٹ کی ہوتی تھی ہندوستانیوں کو بسبب اس کے کہ وہ لوگ اس میں شریک نہ تھے اور منشا اور لِم اس تجویز سے واقف نہ تھے، اس کی بنیاد معلوم نہ ہوئی، اور ہمیشہ یہی سمجھے کہ یہ بات بھی ہمارے اور ہمارے ہم وطنوں کے خراب اور برباد اور ذلیل اور بے دھرم کرنے کو ہے۔ اور وہ بعضی باتیں جو درحقیقت گورنمنٹ سے خلاف رواج اور مخالف طبیعت اور طینت ہندوستانیوں کے صادر ہوئی تھیں، قطع نظر اس سے کہ وہ فی نفسہ اچھی تھیں یا بری، زیادہ تر ان کے غلط خیالات کو تقویت دیتی تھیں۔ رفتہ رفتہ یہ نوبت پہنچ گئی کہ رعایا ہندوستان کی ہماری گورنمنٹ کو میٹھی زہر اور شہد کی چھری اور ٹھنڈی آنچ کی مثال دیا کرتی تھی، اور پھر اس کو اپنے دل سچ سمجھتی تھی، اور یہ جانتی تھی کہ اگر ہم آج گورنمنٹ کے ہاتھ سے بچے ہوئے ہیں تو کل نہیں، اور کل ہیں تو پرسوں نہیں، اور کوئی شخص ان کے حالات کا پوچھنے والا اور کوئی تدبیر ان کے اس غلط خیال کو دور کرنے والی نہ تھی۔ جب کہ رعایا کا گورنمنٹ کے ساتھ یہ حال ہو جو دلی دشمن کے ساتھ ہونا چاہیے، تو پھر کیا توقع ہو سکتی ہے وفاداری کی ایسی گورنمنٹ کو ایسی رعایا سے؟ اور جب کہ ہماری گورنمنٹ درحقیقت ایسی نہ تھی، تو ان غلط خیالات کا ہندوستانیوں کے دل میں جمنا اور جو رنج کہ ان کے دل پر تھا اس کا علاج نہ ہونا صرف اسی سبب سے تھا کہ لیجسلیٹیو کونسل میں ہندوستانی شریک نہ تھے۔ اگر ہوتے تو یہ سب باتیں رفع ہوتی جاتیں۔ اب اگر غور سے دیکھا جاوے تو صرف یہی ایک بات ہے جس نے اپنی بہت سی شاخیں پیدا کر کر تمام ہندوستان میں بیجا فساد کر دیا۔
یہ مت کہو کہ ہماری گورنمنٹ نے چھاپہ خانوں میں سوائے گالی اور افترا اور جن باتوں سے فتنہ یا سرکشی وقوع میں آوے اور سب امورات کے چھاپنے کی اجازت دی تھی، اور قانون جاری ہونے سے پہلے مشورہ کیا جاتا تھا اور ہر شخص کو اس پر عذرات پیش کرنے کا اختیار تھا۔ کیونکہ یہ امور ان بڑی عظیم الشان باتوں کے علاج کو جس کا ہم ذکر کرتے ہیں محض ناکافی بلکہ محض بے فائدہ تھی۔
اور ہم نہیں چاہتے کہ اس مقام پر ہم سے یہ گفتگو کی جاوے کہ ہندوستانیوں کا جو نہایت جاہل ہیں اور بے تربیت، لیجسلیٹیو کونسل میں شریک ہونا کس طرح ہوتا اور کیا قاعدہ ہندوستانیوں کی شرکت کا نکلتا، اور اگر رعایائے ہندوستان کو مثل پارلیمنٹ کے لیجسلیٹیو کونسل میں مداخلت دی جاتی تو طریقہ ان کے انتخاب کا کیا ہوتا، اور اس میں بہت سی مشکلیں پیش آتیں۔ کیونکہ اس مقام پر ہم کو صرف اتنا ثابت کرنا ہے کہ یہ بات گورنمنٹ کے لیے بہت اچھی اور پر ضرور تھی اور اسی کے نہ ہونے کے سبب یہ فساد برپا ہوئے۔ اور طریقہ مداخلت رعایا کی بابت ہماری علیحدہ رائے ہے، اس کو دیکھنا چاہیے اور جو بحث ہو وہاں کرنی چاہیے۔
یہ نقص جو ہماری گورنمنٹ میں تھا اس نے تمام ہندوستان کے حالات میں سرایت کی، اور جس قدر اسباب سرکشی کے جمع ہو گئے گو وہ اسی ایک امر پر متفرع ہیں، مگر غور کر کے سب کو احاطہ میں لایا جاوے تو پانچ اصول مبنی ہوتے ہیں۔
اول: غلط فہمی رعایا، یعنی برعکس سمجھنا تجاویز گورنمنٹ کا۔
دوم: جاری ہونا ایسے آئین اور ضوابط اور طریقہ حکومت کا جو ہندوستان کی حکومت اور ہندوستانیوں کی عادات کے مناسب نہ تھے یا مضرت رسانی کرتے تھے۔
سوم: ناواقف رہنا گورنمنٹ کا رعایا کے اصلی حالات اور اطوار اور عادات اور ان مصائب سے جو ان پر گذرتی تھیں اور جن سے رعایا کا دل گورنمنٹ سے پھٹا جاتا تھا۔
چہارم: ترک ہونا ان امور کا ہماری گورنمنٹ کی طرف سے جن کا بجا لانا ہماری گورنمنٹ پر ہندوستان کی حکومت کے لیے واجب اور لازم تھا۔
پنجم: بد انتظامی اور بے اہتمامی فوج کی۔
اب ہم ان پانچوں اصل کی تفصیل اور اس کی ہر ہر شاخ کو جدا جدا بیان کرتے ہیں، و باللہ التوفیق۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.