
Capítulo 10 de 10
Glossary
فرہنگ
فرہنگ
آنہ: روپے کا سولھواں حصہ۔
آئین اکبری: ابو الفضل کی کتاب جس میں اکبر کی سلطنت کے انتظامات، بشمول مالگذاری، بیان ہوئے ہیں۔
بیس: تجارت اور مہاجنی کرنے والی ویش ذاتیں۔
بدعتی: دین میں نئی باتیں نکالنے والا؛ ملامت کا لفظ۔
بیگہ: زمین کا ایک پیمانہ، علاقے کے لحاظ سے مختلف۔
چپراسی: دفتر یا تھانے کا ہرکارہ۔
چودھری: گاؤں یا برادری کا سربراہ۔
دربار: بادشاہ یا حاکم کی مجلس عام۔
دھرم: مذہب اور مذہبی فرض؛ ہندو کے لیے ذات کی پاکیزگی بھی۔
دیوانی: مالگذاری وصول کرنے اور دیوانی انصاف کا اختیار، جو ۱۷۶۵ء میں بنگال میں کمپنی کو ملا؛ نیز فوجداری کے مقابل دیوانی عدالت۔
فرمان: شاہی حکم نامہ۔
فتویٰ: کسی شرعی مسئلے پر عالم کا جواب۔
فقہ: اسلامی قانون کا علم۔
حدیث: رسول اللہ کے اقوال و افعال کی روایات۔
جاگیر: حاکم کی طرف سے دی ہوئی زمین یا اس کا محصول، عموماً خدمت کے عوض۔
جہاد: شرعی اصطلاح میں دین کے لیے جنگ، شریعت کی مقرر شرطوں کے ساتھ؛ سر سید کا استدلال ہے کہ ۱۸۵۷ء میں وہ شرطیں موجود نہ تھیں۔
جزیہ: مسلم حکومت میں غیر مسلموں سے لیا جانے والا محصول؛ عالمگیر نے ۱۶۷۹ء میں دوبارہ عائد کیا۔
کالا پادری: گاؤں والوں کا دیا ہوا نام، ہندوستانی مدارس کے معائنہ کاروں کے لیے۔
کتھا: ہندو مذہبی قصوں کا بیان اور تشریح۔
کایستھ: ہندو منشیوں اور اہلکاروں کی ذات۔
کرسٹان: عیسائی (عوامی تلفظ)۔
مولوی: مسلمان عالم دین۔
من: وزن کا پیمانہ، لگ بھگ سینتیس کلو۔
معافی: مالگذاری سے مستثنیٰ زمین۔
مرید: کسی پیر کا شاگرد اور معتقد۔
مستامن: شرعی اصطلاح میں وہ شخص جو غیر مسلم حکومت کی امان میں رہتا ہو اور اس سے جنگ نہ کر سکتا ہو۔
نعرۂ حیدری: حضرت علی (حیدر) کے نام کا جنگی نعرہ۔
پادری: عیسائی مذہبی پیشوا یا مبلغ۔
پرگنہ: ضلع کی مالیاتی تقسیم؛ پرگنہ وزیٹر دیہاتی مکتبوں کا معائنہ کرتا تھا۔
پولج، پڑوتی، چچر، بنجر: اکبر کے نظام مالگذاری میں زمین کی چار قسمیں: ہر سال بوئی جانے والی، کبھی کبھی چھوڑی جانے والی، تین چار برس افتادہ، اور پانچ برس سے زیادہ افتادہ۔
پردہ: عورتوں کا غیر مردوں سے پردہ۔
قزلباش: ایران کے ترکمان سپاہی، نادر شاہ کی فوج کا اصل حصہ۔
صاحب: یورپی، خصوصاً انگریز افسر۔
سیر: وزن کا پیمانہ، لگ بھگ ایک کلو۔
شرع اور شاستر: اسلام کا قانون اور ہندو مذہب کی قانونی کتابیں۔
صوبہ دار: سپاہیوں کی کمپنی کا ہندوستانی افسر۔
تعلقہ دار: کئی دیہات پر مشتمل تعلقے کا مالک اور مالگذار؛ اودھ کے بااثر زمیندار۔
تعزیہ: امام حسین کے روضے کی شبیہ جو محرم کے جلوس میں اٹھائی جاتی ہے۔
ٹھگ: وہ گروہ جو مسافروں سے دوستی کر کے انھیں گلا گھونٹ کر مارتے تھے؛ ۱۸۳۰ء کی دہائی میں ختم کیے گئے۔
تلنگا: کمپنی کی فوج کا ہندوستانی پیادہ سپاہی۔
زمیندار: زمین کا مالک جو اس کی مالگذاری کا ذمہ دار ہو۔
ظل اللہ: بادشاہ کا لقب۔
¿Qué te deja este capítulo?
Inicia sesión para reaccionar
Conversación
Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.