Urdu in Translation
Recherche

Chapitre 6 sur 8

Persian Works (continued)

تصنیفات فارسی (جاری)

Muhammad Husain Azad

Écriture
Taille

تصنیفات فارسی (جاری)

کلکتہ میں بہت سے اہل ایران اور بڑے بڑے علما و فضلا موجود تھے، مگر افسوس ہے کہ وہاں مرزا کے کمال کے لیے ایسی عظمت نہ ہوئی جیسی کہ ان کی شان کے لیے شایاں تھی۔ حقیقت میں ان کی عظمت ہونی چاہیے تھی، اور ضرور ہوتی، مگر ایک اتفاقی پیچ پڑ گیا۔ اس کی داستان یہ ہے کہ مرزا نے کسی جلسہ میں ایک فارسی کی غزل پڑھی، اس میں ایک لفظ پر بعض اشخاص نے اعتراض کیا، اور اعتراض بموجب اس قاعدہ کے تھا جو مرزا قتیل نے ایک اپنے رسالہ میں لکھا ہے۔ مرزا نے سن کر کہا کہ قتیل کون ہوتا ہے؟ اور مجھے مرزا قتیل سے کام کیا؟ ایک فریدآباد کا کھتری تھا، میں اہل زبان کے سوا کسی کو نہیں سمجھتا۔ وہ لوگ اکثر مرزا قتیل کے شاگرد تھے، اس لیے آئین مہمان نوازی سے آنکھیں بند کر لیں اور جوش و خروش خاص و عام میں پیدا ہوا۔ مرزا کو تعجب ہوا، اور اس خیال سے کہ یہ فتنہ کسی طرح فرو ہو جائے، سلامت روی کا طریقہ اختیار کر کے ایک مثنوی لکھی، اور اس میں کچھ شک نہیں کہ داد سخن وری کی دی ہے۔ معرکہ کا سارا ماجرا نہایت خوبی کے ساتھ نظم میں ادا کیا، اعتراض کو سند سے دفع کیا، اپنی طرف انکسار مناسب کے ساتھ معذرت کا حق پورا کیا۔ لیکن زیادہ تر افسوس یہ ہے کہ جب مثنوی حریفوں کے جلسہ میں پڑھی گئی تو بجائے اس کے کمال کو تسلیم کرتے یا مہمان سے اپنی زیادتیوں کا عذر کرتے، ایک نے عمداً کہا کہ اس مثنوی کا نام کیا ہے؟ معلوم ہوا کہ باد مخالف۔ دوسرے نے گلستاں کا فقرہ پڑھا: "یکے از صلحا را باد مخالف در شکم پیچید"، اور سب نے ہنس دیا۔

لطیفہ: دلی میں مشاعرہ تھا، مرزا نے اپنی فارسی غزل پڑھی، مفتی صدر الدین خاں صاحب اور مولوی امام بخش صہبائی جلسہ میں موجود تھے۔ مرزا صاحب نے جس وقت یہ مصرع پڑھا:

بوادیے کہ دراں خضر را عصا خفت است

مولوی صہبائی کی تحریک سے مفتی صاحب نے فرمایا کہ عصا خفت است میں کلام ہے۔ مرزا صاحب نے کہا کہ حضرت، میں ہندی نژاد ہوں، میرا عصا پکڑ لیا، اس شیرازی کا عصا نہ پکڑا گیا:

وے بجلۂ اول عصائے شیخ بخفت

انھوں نے کہا کہ اصل محاورہ میں کلام نہیں، کلام اس میں ہے کہ مناسب مقام ہے یا نہیں۔

لطیفہ: ایک دفعہ مرزا بہت قرض دار ہو گئے۔ قرضخواہوں نے نالش کر دی، جوابدہی میں طلب ہوئے۔ مفتی صاحب کی عدالت تھی، جس وقت پیشی میں گئے یہ شعر پڑھا:

قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاںرنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

مرزا صاحب کو ایک آفت ناگہانی کے سبب سے چند روز جیل خانہ میں اس طرح رہنا پڑا کہ جیسے حضرت یوسف کو زندان مصر میں۔ کپڑے میلے ہو گئے، جوئیں پڑ گئی تھیں۔ ایک دن بیٹھے ان میں سے جوئیں چن رہے تھے، ایک رئیس وہیں عیادت کو پہنچے۔ پوچھا: کیا حال ہے؟ آپ نے یہ شعر پڑھا:

ہم غمزدہ جس دن سے گرفتار بلا ہیںکپڑوں میں جوئیں بخیوں کے ٹانکوں سے سوا ہیں

جس دن وہاں سے نکلنے لگے اور لباس تبدیل کرنے کا موقع آیا تو وہاں کا کرتہ وہیں پھاڑ کر پھینکا اور یہ شعر پڑھا:

ہائے اس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالبجس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا

حسین علی خاں چھوٹا لڑکا ایک دن کھیلتا کھیلتا آیا کہ دادا جان، مٹھائی منگا دو۔ آپ نے فرمایا کہ پیسے نہیں۔ وہ صندوقچہ کھول کر ادھر ادھر پیسے ٹٹولنے لگا۔ آپ نے فرمایا:

درم و دام اپنے پاس کہاںچیل کے گھونسلے میں ماس کہاں

پنشن سرکار سے ماہ بماہ ملتی تھی، بغاوت دہلی کے بعد حکم ہوا کہ ششماہی ملا کرے۔ اس موقع پر ایک دوست کو لکھتے ہیں:

یکم ہے مردہ کی چھ ماہی ایکخلق کا ہے اسی چلن پہ مدار

مجھ کو دیکھو کہ ہوں بقید حیاتاور چھ ماہی ہو سال میں دو بار

مگر یہ دو شعر حقیقت میں ایک قصیدے کے ہیں، جس کی بدولت بادشاہ دہلی دربار سے ششماہی تنخواہ کے لیے ماہواری کا حکم حاصل کیا تھا۔ فارسی کے قصائد میں بھی اس قسم کے غزل و نصب انھوں نے اکثر کیے ہیں، اور یہ کچھ عجیب بات نہیں، انوری وغیرہ اکثر شعرا نے ایسا کیا ہے۔

لطیفہ: مولوی فضل حق صاحب مرزا کے بڑے دوست تھے۔ ایک دن مرزا ان کی ملاقات کو گئے۔ ان کی عادت تھی کہ جب کوئی بے تکلف دوست آیا کرتا تو خالق باری کا یہ مصرع پڑھا کرتے تھے:

"بیا برادر آؤ رے بھائی"

چنانچہ مرزا صاحب کی تعظیم کو اٹھ کھڑے ہوئے اور یہی مصرع کہہ کر بٹھایا۔ ابھی بیٹھے ہی تھے کہ مولوی صاحب کی رنڈی بھی دوسرے دالان سے اٹھ کر پاس آن بیٹھی۔ مرزا نے فرمایا: ہاں صاحب، وہ دوسرا مصرع بھی فرما دیجیے:

"بنشیں مادر بیٹھ ری مائی"

لطیفہ: مرزا کی قاطع برہان کے بہت شخصوں نے جواب لکھے ہیں، اور بہت زبان درازیاں کی ہیں۔ کسی نے کہا کہ حضرت، آپ نے فلاں شخص کی کتاب کا جواب نہ لکھا۔ فرمایا: بھائی، اگر کوئی گدھا تمھارے لات مارے تو تم اس کا کیا جواب دو گے؟

لطیفہ: بہن بیمار تھیں، آپ عیادت کو گئے۔ پوچھا: کیا حال ہے؟ وہ بولیں: مرتی ہوں، قرض کی فکر ہے کہ گردن پر لیے جاتی ہوں۔ آپ نے کہا کہ بوا، بھلا یہ کیا فکر ہے! خدا کے ہاں کیا مفتی صدر الدین خاں بیٹھے ہیں جو ڈگری کر کے پکڑوا بلائیں گے۔

لطیفہ: ایک دن مرزا کے شاگرد رشید نے آ کر کہا کہ حضرت، آج میں خسرو کی قبر پر گیا، مزار پر کھرنی کا درخت ہے، اس کی کھرنیاں میں نے خوب کھائیں۔ کھرنیوں کا کھانا تھا کہ گویا فصاحت و بلاغت کا دروازہ کھل گیا، دیکھیے تو میں کیسا فصیح ہو گیا۔ مرزا نے کہا کہ ارے میاں، تین کوس کیوں گئے؟ میرے پچھواڑے کے پیپل کی پیپلیاں کیوں نہ کھا لیں، چودہ طبق روشن ہو جاتے۔

لطیفہ[۱]: بعض شاگردوں نے مرزا سے کہا کہ آپ نے حضرت علیؑ کی مدح میں بہت قصیدے اور بڑے بڑے زور کے قصیدے کہے، صحابہ میں سے کسی کی تعریف میں کچھ نہ کہا؟ مرزا نے ذرا تامل کر کے کہا کہ ان میں کوئی ایسا دکھا دیجیے تو اس کی تعریف بھی کہہ دوں۔ مرزا صاحب کی شوخی طبع ہمیشہ انھیں اس رنگ میں شرابور رکھتی تھی، جس سے ناواقف لوگ انھیں الحاد کی تہمت لگائیں۔ اور چونکہ یہ رنگ ان کی شکل و شان پر عجیب معلوم ہوتا تھا، اس لیے ان کے دوست ایسی باتوں کو سن کر چونکتے تھے، جوں جوں وہ چونکتے تھے وہ اور بھی زیادہ چھینٹے اڑاتے تھے۔ ان کی طبیعت سرور شراب کی عادی تھی، لیکن اسے گناہ الٰہی سمجھتے تھے، اور یہ بھی عہد تھا کہ محرم میں ہرگز نہ پیتے تھے۔

لطیفہ: غدر کے چند روز بعد پنڈت موتی لال کہ ان دنوں میں مترجم گورنمنٹ پنجاب کے تھے، صاحب چیف کمشنر پنجاب کے ساتھ دلی گئے، اور حب الوطن اور محبت فن کے سبب سے مرزا صاحب سے ملاقات کی۔ ان دنوں میں پنشن بند تھی، دربار کی اجازت نہ تھی۔ مرزا بسبب دل شکستگی کے شکوہ شکایت سے لبریز ہو رہے تھے۔ اثنائے گفتگو میں کہنے لگے کہ عمر بھر ایک دن شراب نہ پی ہو تو کافر، اور ایک دفعہ بھی نماز پڑھی ہو تو مسلمان نہیں۔ پھر میں نہیں جانتا کہ مجھے سرکار نے باغی مسلمانوں میں کس طرح شامل سمجھا۔

لطیفہ: بھوپال سے ایک شخص دلی کی سیر کو آئے۔ مرزا صاحب کے بھی مشتاق ملاقات تھے، چنانچہ ایک دن ملنے کو تشریف لائے۔ وضع سے معلوم ہوتا تھا کہ نہایت پرہیزگار اور پارسا شخص ہیں۔ ان سے بکمال اخلاق پیش آئے، مگر معمولی وقت تھا، بیٹھے سرور کر رہے تھے، گلاس اور شراب کا شیشہ آگے رکھا تھا۔ ان بے چارہ کو خبر نہ تھی کہ آپ کو یہ شوق بھی ہے، انھوں نے کسی شربت کا شیشہ خیال کر کے ہاتھ میں اٹھا لیا۔ کوئی شخص پاس سے بولا کہ جناب، یہ شراب ہے۔ بھوپالی صاحب نے جھٹ شیشہ ہاتھ سے رکھ دیا اور کہا: میں نے تو شربت کے دھوکے میں اٹھایا تھا۔ مرزا نے مسکرا کر ان کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ زہے نصیب، دھوکے میں نجات ہو گئی۔

لطیفہ: ایک دفعہ رات کو انگنائی میں بیٹھے تھے، چاندنی رات تھی، تارے چھٹکے ہوئے تھے۔ آپ آسمان دیکھ کر فرمانے لگے کہ جو کام بے صلاح و مشورہ ہوتا ہے بے ڈھنگا ہوتا ہے۔ خدا نے ستارے آسمان پر کسی سے مشورہ کر کے نہیں بنائے، جبھی بکھرے ہوئے ہیں، نہ کوئی سلسلہ، نہ زنجیر، نہ بیل، نہ بوٹا۔

لطیفہ: ایک مولوی صاحب جن کا مذہب سنت جماعت تھا، رمضان کے دنوں میں ملاقات کو آئے۔ عصر کی نماز ہو چکی تھی، مرزا نے خدمتگار سے پانی مانگا۔ مولوی صاحب نے کہا: حضرت، غضب کرتے ہیں، رمضان[۲] میں روزے نہیں رکھتے؟ مرزا نے کہا: سنی مسلمان ہوں، چار گھڑی دن سے روزہ کھول لیا کرتا ہوں۔

لطیفہ: رمضان کا مہینہ تھا، آپ نواب حسین مرزا کے ہاں بیٹھے تھے، پان منگا کر کھایا۔ ایک صاحب[۳] فرشتہ سیرت نہایت متقی و پرہیزگار اس وقت حاضر تھے، انھوں نے متعجب ہو کر پوچھا کہ قبلہ، آپ روزہ نہیں رکھتے؟ مسکرا کر بولے: شیطان غالب ہے۔

یہ لطیفہ اہل ظرافت میں پہلے سے بھی مشہور ہے کہ عالمگیر کا مزاج سرمد سے مکدر تھا، اس لیے ہمیشہ اس کا خیال رکھتے تھے۔ چنانچہ قاضی قوی جو اس عہد میں قاضی شہر تھا، اس نے ایک موقع پر سرمد کو بھنگ پیتے ہوئے جا پکڑا۔ اول بہت سے لطائف و ظرائف کے ساتھ جواب سوال ہوئے، آخر جب قاضی نے کہا کہ نہیں، شرع کا حکم اسی طرح ہے، کیوں حکم الٰہی کے برخلاف باتیں بناتا ہے؟ اس نے کہا کہ کیا کروں، شیطان قوی ہے۔

لطیفہ: جاڑے کا موسم تھا، ایک دن نواب مصطفیٰ خاں صاحب مرزا کے گھر آئے۔ آپ نے ان کے آگے شراب کا گلاس بھر کر رکھ دیا، وہ ان کا منہ دیکھنے لگے۔ آپ نے فرمایا: لیجیے۔ چونکہ وہ تائب ہو چکے تھے، انھوں نے کہا کہ میں نے تو توبہ کی۔ آپ متعجب ہو کر بولے کہ ہیں، جاڑے میں بھی؟

لطیفہ: ایک صاحب نے ان کے سامنے کہا کہ شراب پینا سخت گناہ ہے۔ آپ نے ہنس کر کہا: بھلا جو پیے تو کیا ہوتا ہے؟ انھوں نے کہا کہ ادنیٰ بات یہ ہے کہ دعا نہیں قبول ہوتی۔ مرزا نے کہا کہ آپ جانتے ہیں شراب پیتا کون ہے؟ اول تو وہ کہ ایک بوتل اولڈ ٹام کی مع سامان سامنے حاضر ہو، دوسرے بے فکری، تیسرے صحت۔ آپ فرمائیے کہ جسے یہ سب کچھ حاصل ہو اسے اور چاہیے کیا، جس کے لیے دعا کرے؟

مرزا صاحب کو مرنے سے ۲۰ برس پہلے اپنی تاریخ فوت کا ایک مادہ ہاتھ آیا، وہ بہت بھایا اور اسے موزوں فرمایا:

تاریخ فوت

من کہ باشم کہ جاوداں باشمچوں نظیری نماند و طالب مرد

در بپرسند در کدامیں سالمرد غالب، بگو کہ غالب مرد

اس حساب سے [illegible] ھ میں مرنا چاہیے تھا۔ اسی سال شہر میں سخت وبا آئی، ہزاروں آدمی مر گئے۔ ان دنوں دلی کی بربادی کا غم تازہ تھا، چنانچہ میر مہدی صاحب کے جواب میں آپ فرماتے ہیں: "وبا کو کیا پوچھتے ہو، قدر انداز قضا کے ترکش میں یہی ایک تیر باقی تھا۔ قتل ایسا عام، لوٹ ایسی سخت، کال ایسا پڑا، وبا کیوں نہ ہو۔ لسان الغیب[۴] نے دس برس پہلے فرمایا ہے:

ہو چکیں غالب بلائیں سب تمام
ایک مرگ ناگہانی اور ہے میاں، ۱۲۷۷ھ کی بات غلط نہ تھی، مگر میں نے وبائے عام میں مرنا اپنے لائق نہ سمجھا۔ واقعی اس میں میری کسر شان تھی۔ بعد رفع فساد کے سمجھ لیا جائے گا۔"

حواشی

[۱] یہ لطیفہ کئی شاعروں کی طرف منسوب ہے۔

[۲] [illegible: the note for this marker is not printed in the scan]

[۳] مرزا صفدر علی صاحب مرحوم، مرزا عسکری مرحوم کے پوتے تھے، جن کا امام باڑہ ابھی تک نٹوں کے کوچہ میں کھنڈر پڑا ہے۔

[۴] اپنے تئیں لسان الغیب قرار دیا۔

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.