Urdu in Translation
Recherche

Chapitre 7 sur 8

Ghazals

غزلیں

Muhammad Husain Azad

Écriture
Taille

غزلیں

شمار سبحہ مرغوب بت مشکل پسند آیاتماشائے بیک کف بردن صد دل پسند آیا

بفیض بیدلی نومیدی جاوید آساں ہےکشائش کو ہمارا عقدۂ مشکل پسند آیا

ہوائے سیر گل آئینۂ بے مہری قاتلکہ انداز بخوں غلطیدن بسمل پسند آیا

دہر میں نقش وفا وجہ تسلی نہ ہواہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا

سبزۂ خط سے ترا کاکل سرکش نہ دبایہ زمرد بھی حریف دم افعی نہ ہوا

میں نے چاہا تھا کہ اندوہ وفا سے چھوٹوںوہ ستمگر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا

دل گزرگاہ خیال مے و ساغر ہی سہیگر نفس جادۂ سر منزل تقویٰ نہ ہوا

ہوں ترے وعدہ نہ کرنے میں بھی راضی کہ کبھیگوش منت کش گلبانگ تسلی نہ ہوا

کس سے محرومی قسمت کی شکایت کیجےہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں سو وہ بھی نہ ہوا

مر گیا صدمۂ یک جنبش لب سے غالبناتوانی سے حریف دم عیسیٰ نہ ہوا

کل کے لیے کر آج نہ خست شراب میںیہ سوئے ظن ہے ساقی کوثر کے باب میں

ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسندگستاخی فرشتہ ہماری جناب میں

جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دم سماعگر وہ صدا سمائی ہے چنگ و رباب میں

رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھیے تھمےنے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

اتنا ہی مجھ کو اپنی حقیقت سے بعد ہےجتنا کہ وہم غیر سے ہوں پیچ و تاب میں

اصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہےحیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں

ہے مشتمل نمود صور پر وجود بحریاں کیا دھرا ہے قطرہ و موج و حباب میں

شرم اک ادائے ناز ہے اپنے ہی سے سہیہیں کتنے بے حجاب کہ ہیں یوں حجاب میں

آرائش جمال سے فارغ نہیں ہنوزپیش نظر ہے آئنہ دائم نقاب میں

ہے غیب غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہودہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں

غالب ندیم دوست سے آتی ہے بوئے دوستمشغول حق ہوں بندگی بوتراب میں

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تککون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک

دام ہر موج میں ہے حلقۂ صد کام نہنگدیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک

عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تابدل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکنخاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

پرتو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیممیں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہونے تک

یک نظر بیش نہیں فرصت ہستی غافلگرمی بزم ہے اک رقص شرر ہونے تک

غم ہستی کا اسد کس سے ہو جز مرگ علاجشمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتااگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

ترے وعدہ پہ جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جاناکہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بوداکبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا

کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کویہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصحکوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا

رگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتاجسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا

کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہےمجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا

غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہےغم عشق گر نہ ہوتا غم روزگار ہوتا

ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریانہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا

اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتاجو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا

یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالبتجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا

درد منت کش دوا نہ ہوامیں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا

جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کواک تماشا ہوا گلا نہ ہوا

ہم کہاں قسمت آزمانے جائیںتو ہی جب خنجر آزما نہ ہوا

کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیبگالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا

ہے خبر گرم ان کے آنے کیآج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا

کیا وہ نمرود کی خدائی تھیبندگی میں مرا بھلا نہ ہوا

جان دی دی ہوئی اسی کی تھیحق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا

زخم گر دب گیا لہو نہ تھماکام گر رک گیا روا نہ ہوا

رہزنی ہے کہ دل ستانی ہےلے کے دل دلستاں روانہ ہوا

کچھ تو کہیے کہ لوگ کہتے ہیںآج غالب غزل سرا نہ ہوا

کوئی امید بر نہیں آتیکوئی صورت نظر نہیں آتی

موت کا ایک دن معین ہےنیند کیوں رات بھر نہیں آتی

آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسیاب کسی بات پر نہیں آتی

جانتا ہوں ثواب طاعت و زہدپر طبیعت ادھر نہیں آتی

ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوںورنہ کیا بات کر نہیں آتی

کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیںمیری آواز گر نہیں آتی

داغ دل گر نظر نہیں آتابو بھی اے چارہ گر نہیں آتی

ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھیکچھ ہماری خبر نہیں آتی

مرتے ہیں آرزو میں مرنے کیموت آتی ہے پر نہیں آتی

کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالبشرم تم کو مگر نہیں آتی

حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہےاس سے میرا مہ خورشید جمال اچھا ہے

بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہجی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے

اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیاجام جم سے یہ مرا جام سفال اچھا ہے

بے طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہےوہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچھا ہے

ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونقوہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیضاک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

ہم سخن تیشہ نے فرہاد کو شیریں سے کیاجس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچھا ہے

قطرہ دریا میں جو مل جائے تو دریا ہو جائےکام اچھا ہے وہ جس کا کہ مآل اچھا ہے

خضر سلطان کو رکھے خالق اکبر سرسبزشاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچھا ہے

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکندل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کیقسمت کھلی ترے قد و رخ کے ظہور کی

اک خونچکاں کفن میں کروڑوں بناؤ ہیںپڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حور کی

واعظ نہ تم پیو نہ کسی کو پلا سکوکیا بات ہے تمھاری شراب طہور کی

لڑتا ہے مجھ سے حشر میں قاتل کہ کیوں اٹھاگویا ابھی سنی نہیں آواز صور کی

آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنجاڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی

گو واں نہیں پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیںکعبہ سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی

کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جوابآؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہ طور کی

گرمی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدرکی جس سے بات اس نے شکایت ضرور کی

غالب گر اس سفر میں مجھے ساتھ لے چلیںحج کا ثواب نذر کروں گا حضور کی

نوید امن ہے بیداد دوست جاں کے لیےرہی نہ طرز ستم کوئی آسماں کے لیے

بلا سے گر مژۂ یار تشنۂ خوں ہےرکھوں کچھ اپنی بھی مژگان خونفشاں کے لیے

وہ مردہ ہم ہیں کہ ہیں روشناس خلق اے خضرنہ تم کہ چور بنے عمر جاوداں کے لیے

بہ ہر بلا میں بھی ہوں مبتلائے آفت رشکبلائے جاں ہے ادا تیری اک جہاں کے لیے

فلک نہ دور رکھ اس سے مجھے کہ میں ہی نہیںدراز دستی قاتل کے امتحاں کے لیے

مثال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغ اسیرکرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لیے

گدا سمجھ کے وہ چپ تھا مری جو شامت آئےاٹھا اور اٹھ کے قدم میں نے پاسباں کے لیے

بقدر شوق نہیں ظرف تنگنائے غزلکچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے

دیا ہے خلق کو بھی تا اسے نظر نہ لگےبنا ہے عیش تجمل حسین خاں کے لیے

زباں پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیاکہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لیے

نصیر دولت و دیں اور معین ملت و ملکبنا ہے چرخ بریں جس کی آستاں کے لیے

زمانہ عہد میں اس کے ہے محو آرائشبنیں گے اور ستارے اب آسماں کے لیے

ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہےسفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لیے

ادائے خاص سے غالب ہوا ہے نکتہ سراصلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.