
第 7 章,共 9 章
第六节
Sixth Stanza
چھٹا بند
کی تم نے اس دار المحن میں، جس تحمل سے بسرزیبا ہے گر کہیے تمہیں، فخرِ بنی نوعِ بشر
جو سنگ دل سفاک پیاسے تھے تمہارے خون کےان کی تو ہیں بے رحمیاں مشہور عالم میں مگر
تم نے جو چین اپنے خریداروں سے بھی پایا نہ کچھشوہر ہوں اس میں یا پدر، یا ہوں برادر یا پسر
الفت تمہاری کر گئی، گھر دل میں جس بے دید کےوہ بدگماں تم سے رہا، اے بے نصیبو! عمر بھر
گو نیک مرد اکثر تمہارے نام کے عاشق رہےپر نیک ہوں یا بد، رہے سب متفق اس رائے پر
جب تک جیو تم علم و دانش سے رہو محروم یہاںآئی تھیں جیسی بے خبر، ویسی ہی جاؤ بے خبر
تم اس طرح مجہول اور گمنام دنیا میں رہوہو تم کو دنیا کی، نہ دنیا کو تمہاری ہو خبر
جو علم مردوں کے لیے سمجھا گیا آبِ حیاتٹھہرا تمہارے حق میں وہ، زہرِ ہلاہل سر بسر
آتا ہے وقتِ انصاف کا، نزدیک ہے یوم الحسابدنیا کو دینا ہوگا واں، حق تلفیوں کا واں جواب
这一章在你心里留下了什么?
登录后参与
讨论
还没有人开口。说说这一章触动了你什么。