
الفصل 4 من 18
The Journey to Calcutta and Bad-e Mukhalif
سفر کلکتہ اور مثنوی باد مخالف
سفر کلکتہ
ظاہرا مرزا نے کوئی لمبا سفر کلکتے کے سوا نہیں کیا۔ اسی سفر کی آمد و رفت میں وہ چند ماہ لکھنؤ اور بنارس میں بھی ٹھہرے تھے۔ کلکتے جانے کا سبب یہ تھا کہ جب مرزا کے چچا نصر اللہ بیگ خاں نے وفات پائی تھی اس وقت مرزا کی عمر نو برس کی تھی اور ان کے بھائی کی عمر سات برس کی تھی۔ نصر اللہ بیگ خاں کی وفات کے بعد ان کے متعلقوں اور وارثوں کے لیے، جن میں مرزا اور ان کے بھائی بھی شریک تھے، جو پنشن گورنمنٹ نے ریاست فیروزپور جھرکہ پر محول کر دی تھی جب تک مرزا صغیر سن رہے جو کچھ وہاں سے ملتا رہا پاتے رہے۔ جب سن تمیز کو پہنچے اور شادی بھی ہو گئی، عالم شباب اور خانہ داری کی ضرورتیں بہت بڑھ گئیں اور گھر میں جو کچھ اثاثہ تھا وہ بھی چند روز میں سب خرچ ہو گیا، لاچار فکر معاش دامنگیر ہوئی۔ اول مرزا کو غلط یا صحیح یہ خیال پیدا ہوا کہ فیروزپور سے جس قدر پنشن ہمارے خاندان کے لیے گورنمنٹ نے مقرر کرائی تھی اس قدر ہم کو نہیں ملتی۔ ضرورتوں نے سخت تنگ کر رکھا تھا؛ ادھر قرضخواہوں کے تقاضے سے ناک میں دم آ گیا تھا؛ ادھر چھوٹے بھائی کو جنون ہو گیا؛ مرزا جیسے آزاد منش آدمی کے لیے یہ وقت نہایت سخت تھا؛ اس کشمکش میں ان کو اس کے سوا اور کچھ نہ سوجھا کہ کلکتے پہنچ کر سپریم گورنمنٹ میں پنشن کی بابت استغاثہ پیش کریں۔ چنانچہ مرزا اس حالت کی نسبت ایک خط میں لکھتے ہیں: "ہنگامۂ دیوانگی برادر یک طرف، و غوغای وام خواہاں یک سو؛ آشوبے پدید آمد کہ نفس راہ لب، و نگاہ روزنۂ چشم فراموش کرد؛ و گیتی بدیں روشنی روشناساں در نظر تیرہ و تار شد۔ با لبے از سخن دوختہ، و چشمے از خویش فرو بستہ، جہاں جہاں شکستگی، و عالم عالم خستگی با خود گرفتم؛ و از بیداد روزگار نالاں، و سینہ بر دم تیغ مالاں، بکلکتہ رسیدم۔"
غرضکہ مرزا کی عمر کچھ کم چالیس برس کی تھی جبکہ وہ لکھنؤ ہوتے ہوئے کلکتے پہنچے۔ کلکتے میں لوگوں نے ان کی بہت خاطر و مدارات کی اور ان کو کامیابی کی امید دلائی۔ اسٹرلنگ صاحب سکرٹری گورنمنٹ ہند نے، جن کی مدح میں مرزا کا فارسی قصیدہ ان کے کلیات میں موجود ہے، وعدہ کیا کہ تمھارا حق ضرور تم کو ملے گا۔ کول بروک صاحب جو اس وقت دلی میں رزیڈنٹ تھے انھوں نے دلی ہی میں مرزا سے عمدہ رپورٹ کرنے کا اقرار کر لیا تھا۔ ان امیدوں کے دھوکے میں وہ پورے دو برس کلکتے میں رہے؛ مگر آخرکار نتیجہ ناکامی کے سوا کچھ نہ ہوا۔ گورنمنٹ نے سر جان میلکم گورنر بمبئی سے، جو لارڈ لیک کے سکرٹری رہ چکے تھے، اور انھیں کے روبرو جاگیروں اور پنشنوں کی سندیں لوگوں کو ملی تھیں، مرزا کے معاملے کی بابت استفسار کیا۔ انھوں نے مرزا کے دعوے کو غلط بتایا اور جس طرح اور جس قدر پنشن فیروزپور سے ملنی قرار پائی تھی اس کی مفصل کیفیت، جو مرزا کے دعوے کے بالکل برخلاف تھی، گورنمنٹ میں بھیج دی۔ جب یہاں سے مرزا کو مایوسی ہوئی تو انھوں نے ولایت میں اپیل کیا، مگر وہاں بھی کچھ نہ ہوا۔
مرزا صاحب نے گورنمنٹ ہند سے پانچ درخواستیں کی تھیں: ایک تو یہی کہ ان کے خیال کے موافق جو مقدار پنشن کی سرکار نے مقرر کی ہے وہ آیندہ پوری ملا کرے۔ دوسری یہ کہ اب تک جس قدر کم پنشن ملتی رہی ہے اس کی واصلات ابتدا سے آج تک ریاست فیروزپور سے دلوائی جائے۔ چونکہ پہلی درخواست نامنظور ہوئی تھی (اس لیے دوسری درخواست کیونکر منظور ہوتی)۔ تیسری درخواست یہ تھی کہ کل پنشن میں جو حصہ میرا قرار پائے وہ اور شرکا سے علیحدہ کر دیا جائے۔ چوتھی یہ کہ پنشن فیروزپور سے خزانۂ سرکار میں منتقل ہو جائے، تاکہ رئیس فیروزپور سے مانگنی نہ پڑے۔ (یہ دونوں درخواستیں منظور ہو گئیں اور ان کے موافق اخیر تک عملدرآمد رہا)۔ پانچویں درخواست خطاب اور خلعت کی تھی۔ جہاں تک معلوم ہے کوئی خطاب گورنمنٹ سے مرزا کو نہیں ملا۔ لیکن گورنمنٹ ہند اور لوکل گورنمنٹ سے ان کو "خانصاحب بسیار مہربان دوستاں" لکھا جاتا تھا۔ اور جب کبھی دلی میں ویسرائے یا لفٹنٹ گورنر کا دربار ہوتا تھا تو ان کو بھی مثل دیگر رؤسا و عمائد شہر کے بلایا جاتا تھا، اور سات پارچے کا خلعت مع جیغہ و سرپیچ و مالائے مروارید کے ان کو برابر ملتا رہا، اور تمام لوکل حکام اور افسر ان سے رئیس زادوں کی طرح ملتے رہے۔
مجادلۂ اہل کلکتہ
کلکتے کے قیام کے زمانے میں کچھ لوگوں نے مرزا کے کلام پر اعتراض کیے تھے اور اپنے اعتراضوں پر قتیل کا قول سنداً پیش کیا تھا۔ مگر مرزا ہندوستان کے فارسی گو شاعروں میں خسرو کے سوا کسی کو نہیں مانتے تھے۔ چنانچہ وہ ایک خط میں لکھتے ہیں: "اہل ہند میں سوائے خسرو دہلوی کے کوئی مسلم الثبوت نہیں؛ میاں فیضی کی بھی کہیں کہیں ٹھیک نکل جاتی ہے۔" اسی لیے وہ قتیل و واقف وغیرہ کو کچھ چیز نہیں سمجھتے تھے۔ انھوں نے قتیل کا نام سن کر ناک بھوں چڑھائی اور کہا کہ میں دلوالی سنگھ[1] فریدآباد کے کھتری کے قول کو نہیں مانتا، اور اہل زبان کے سوا کسی کے قول کو قابل استناد نہیں سمجھتا۔ اور اپنے کلام کی سند میں اہل زبان کے اقوال پیش کیے۔ اس پر معترضین میں زیادہ جوش و خروش پیدا ہوا اور مرزا پر اعتراضوں کی بوچھاڑ پڑنے لگی۔ اگرچہ مرزا کے طرفدار بھی کلکتے میں بہت تھے، مگر چونکہ مرزا اعتراض اور مخالفت سے بہت جز بز ہوتے تھے، ان کے گھبرا دینے کو ایک معترض بھی کافی تھا۔
مثنوی باد مخالف
انھوں نے تنگ آ کر ایک مثنوی موسوم بہ "باد مخالف"، جس میں اپنی غریب الوطنی کا ذکر اور اہل کلکتہ کی نامہربانی کی شکایت اور ان کے اعتراضات اور اپنے جواب نہایت عمدگی اور صفائی اور درد انگیز طریقے سے بیان کیے ہیں، لکھی۔ یہاں اس مثنوی کے کچھ کچھ اشعار مختلف مقامات سے نقل کیے جاتے ہیں:
اے تماشائیان بزم سخنوے مسیحا دمان نادرہ فن
اے گرانمایگان عالم حرفخوش نشینان ایں بساط شگرف
اے سخن پروران کلکتہوے زباں آوران کلکتہ
ہر یکے صدر بزم بارگہےشمع خلوت سرای کارگہے
ہر یکے پیش تاز قافلۂہر یکے کتخدای مرحلۂ
اے بہ شغل وکالت آمادہداد غمخواری جہاں دادہ
اے شگرفان عالم انصافبسفارت رسیدہ از اطراف
اے سخن را طراز جاں دادہصفحہ را ساز گلستاں دادہ
عطر بر مغز گیتی افشاناںپہلوانان پہلوی داناں
اے گرامی فنان ریختہ گونغز دریاکشان عربدہ جو
اے رئیسان ایں سواد عظیموے فراہم شدہ ز ہفت اقلیم
ہمچو من آرمیدۂ ایں شہربہر کارے رسیدۂ ایں شہر
اسد اللہ بخت برگشتہدر خم و پیچ عجز سرگشتہ
گرچہ ناخواندہ میہمان شماستبے سخن ریزہ چین خوان شماست
بہ تظلم رسیدہ است اینجابامید آرمیدہ است اینجا
آرمیدن دہید روزے چارخستہ را بہ سایۂ دیوار
کار احباب ساختن ہنرستمیہماں را نواختن ہنرست
آں رہ و رسم کارسازی کوشیوۂ میہماں نوازی کو
کیستم؟ دل شکستۂ غمزدۂبیدلے خستۂ ستم زدۂ
برق بیطاقتی بجاں زدۂآتش غم بخان و ماں زدۂ
از گداز نفس بتاب و تبےدر بیابان یاس تشنہ لبے
خس طوفانی محیط بلاسر بسر گرد کاروان فنا
دردمندے جگر گداختۂاز غم دہر زہرہ باختۂ
در آگاہیے فنا زدۂہمہ بر خویش پشت پا زدۂ
چہ بلاہا کشیدہ ام آخرکہ بدینجا رسیدہ ام آخر
بہ سیہ روز غمم بینیدتیرہ شبہای وحشتم بینید
اندہ دوری وطن نگریدغم ہجران انجمن نگرید
نہ ہمیں نالہ و فغان باہممن و جاں آفریں کہ جاں بلبم
مویہ چوں موے کردہ است مراغصہ بخوے کردہ است مرا
ذوق شعر و سخن کجاست مراکے زبان سخن سراست مرا
دارم آرے ز ہرزہ لائی خویشنوحہ بر خویش و بینوائی خویش
گردش روزگار خویشتنمحیرت کار و بار خویشتنم
با من ایں خشم و کیں!! دریغ دریغمن چناں تاں چنیں!! دریغ دریغ
بر غریباں کجا رواست ستمرحم اگر نیست خود چرا است ستم
بندہ ام بندہ مہربانان رارمز فہمان و نکتہ دانان را
نہ ز آویزش بیاں ترسممن و ایمان من کز آں ترسم
کہ پس از من بسالہای درازبزباں ماند ایں حکایت باز
کہ سفیہے رسیدہ بود ایں جاچند روز آرمیدہ بود ایں جا
با بزرگاں ستیزہ پیش گرفتزحمتے داد و راہ خویش گرفت
شوخ چشمے و زشت خوئے بودبیحیائے و ہرزہ گوئے بود
ہم سفیہانہ گفتگوئے داشتہم خراباتیانہ ہوئے داشت
برگ دنیا نہ ساز دینش بودننگ دہلی و سرزمینش بود
آہ ازاں دم کہ بعد رفتن منخون دہلی بود بگردن من
تا بوم رنج دوستاں باشمبر دل انجمن گراں باشم
شاد گردند کز میاں برومآوخ از من کہ من چناں بروم
خستہ و مستمند برگردمنرم آیم نژند برگردم
بوداعم کس از شما نرسدشوق را مژدۂ وفا نرسد
دوستاں را اگر ز من گلہ استکہ "خرامت خلاف قافلہ است
می رویم از پی قتیل ہمہساختہ فرد را دلیل ہمہ
تو ازیں حلقہ چوں بدر زدۂگام بر جادۂ دگر زدۂ"
اے تماشائیان ژرف نگاہہاں بگوئید حسبۃً للہ
کہ چساں از حزیں بپیچم سر؟آں بجادو دمی پیمبر سحر
دل دہد[2] کز اسیر برگردم؟زاں نوائین صفیر برگردم
دامن از کف کنم چگونہ رہاطالب و عرفی و نظیری را
خاصہ روح و روان معنی راآں ظہوری جہان معنی را
آنکہ از سر فرازی قلمشآسماں ساست پرچم علمش
طرز اندیشہ آفریدۂ اوستدر تن لفظ جاں دمیدۂ اوست
پشت معنی قوی ز پہلویشخامہ را فربہی ز بازویش
طرز تحریر را نوی از وےصفحہ را تنگ مانوی از وے
فتنۂ گفتگوے اینانممست لای سبوے اینانم
آں کہ طے کردہ ایں مواقف راچہ شناسد قتیل و واقف را
لیک با اینہمہ کہ ایں دارمگنج معنی در آستیں دارم
دل و جانم فدای احبابستشوق وقف رضای احبابست
میشوم خویش را بہ صلح دلیلمی سرایم نوای مدح قتیل
تا نماند ز من بہ گر گلۂرسد از پیروان وے صلۂ
گفتن آئین ہوشیاری نیستلیک دانستن اختیاری نیست
گرچہ ایرانیش نخواہم گفتسعدی ثانیش نخواہم گفت
لیک از من ہزار بار بہ استاز من و ہمچو من ہزار بہ است
من کف خاک و او سپہر بلندخاک را کے رسد بچرخ کمند
وصف او حد چون منے نبودمہر در خورد روزنے نبود
مرحبا ساز خوش بیانی اوحبذا شور نکتہ دانی او
نظمش آب حیات را مانددر روانی فرات را ماند
نثر او نقش بال طاؤس ستانتخاب صراح و قاموس ست
پادشاہے کہ در قلمرو حرفکردہ ایجاد نکتہ ہاے شگرف
خامہ ہندوی پارسی دانشہندیان سر بخط فرمانش
ایں رقمہا کہ ریخت کلک خیالبود سطرے ز نامۂ اعمال
از من نارسای ہیچمداںمعذرت نامہ ایست نزد یاراں
بو کہ آید ز عذرخواہی مارحم بر ما و بیگناہی ما
آشتی نامہ وداد پیامختم شد والسلام والاکرام
حواشی
[1] مرزا قتیل نو مسلم تھے؛ اسلام لانے سے پہلے ان کا نام دلوالی سنگھ تھا، اور وہ فریدآباد ضلع دہلی کے کھتری تھے۔ مسلمان ہونے کے بعد لکھنؤ چلے گئے تھے جہاں ان کی نہایت قدر ہوئی۔
[2] یعنی آیا دل اجازت دیتا ہے کہ از اسیر برگردم۔ اہل زبان کا محاورہ ہے کہ "دل دہد" بجائے "دل دستوری دہد" کے بولتے ہیں۔
ما الذي تركه هذا الفصل فيك؟
سجّل الدخول للتفاعل
النقاش
لم يتكلم أحد بعد. قل ما حرّكه هذا الفصل فيك.