
Capítulo 3 de 18
Birth, Family and Early Life
آغاز کتاب: ولادت، خاندان اور ابتدائی زندگی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
آغاز کتاب
تاریخ ولادت
میرزا اسد اللہ خان غالب، المعروف بہ میرزا نوشہ، المخاطب بہ نجم الدولہ دبیر الملک اسد اللہ خاں بہادر نظام جنگ، المتخلص بہ غالب در فارسی و اسد در ریختہ، شب ہشتم ماہ رجب ۱۲۱۲ ہجری کو شہر آگرہ میں پیدا ہوئے۔
خاندان
مرزا کے خاندان اور اصل و گوہر کا حال، جیسا کہ انھوں نے اپنی تحریروں میں جا بجا ظاہر کیا ہے، یہ ہے کہ ان کے آبا و اجداد ایبک قوم کے ترک تھے، اور ان کا سلسلۂ نسب تور ابن فریدوں تک پہنچتا ہے۔ جب کیانی تمام ایران و توران پر مسلط ہو گئے، اور تورانیوں کا جاہ و جلال دنیا سے رخصت ہو گیا، تو ایک مدت دراز تک تور کی نسل ملک و دولت سے بے نصیب رہی، مگر تلوار کبھی ہاتھ سے نہ چھوٹی؛ کیونکہ ترکوں میں قدیم سے یہ قاعدہ چلا آتا تھا کہ باپ کے متروکہ میں سے بیٹے کو تلوار کے سوا اور کچھ نہ ملتا تھا، اور کل مال و اسباب اور گھر بار بیٹی کے حصے میں آتا تھا۔ بارے ایک مدت کے بعد اسلام کے عہد میں اسی تلوار کی بدولت ترکوں کے بخت خفتہ نے پھر کروٹ بدلی؛ اور سلجوقی خاندان میں ایک زبردست سلطنت کی بنیاد قائم ہو گئی۔ کئی سو برس وہ تمام ایران و توران و شام و روم (یعنی ایشیائے کوچک) پر حکمراں رہے۔ آخر ایک مدت کے بعد سلجوقیوں کی سلطنت کا خاتمہ ہوا، اور سلجوق کی اولاد جا بجا منتشر و پراگندہ ہو گئی۔ انھیں میں سے ترسم خاں نام ایک میرزادے نے سمرقند میں بود و باش اختیار کر لی تھی۔ مرزا کے دادا جو شاہ عالم کے زمانے میں سمرقند سے ہندوستان میں آئے وہ اسی ترسم خاں کی اولاد میں تھے۔ مرزا مہر نیمروز کے دیباچے میں لکھتے ہیں: "از واپسیان این قافلہ نیای من، کہ در قلمرو ماوراء النہر سمرقند شہر مسقط الراس وے بود، چوں سیل کہ از بالا بپستی آید از سمرقند بہند آمد۔" اور درفش کاویانی میں اس طرح لکھا ہے: "بالجملہ سلجوقیان بعد زوال دولت و برہم خوردن ہنگامۂ سلطنت در اقلیم وسیع الفضای ماوراء النہر پراگندہ شدند۔ ازاں جملہ سلطان زادہ ترسم خاں کہ ما از تخمۂ اوئیم سمرقند را بہر اقامت گزید، تا در عہد سلطنت شاہ عالم نیای من از سمرقند بہندوستان آمد۔"
مرزا کے دادا کی زبان بالکل ترکی تھی، اور ہندوستان کی زبان بہت کم سمجھتے تھے۔ اس زمانے میں ذو الفقار الدولہ مرزا نجف خاں شاہ عالم کے دربار میں دخل کلی رکھتے تھے۔ نجف خاں نے مرزا کے دادا کو سلطنت کی حیثیت کے موافق ایک عمدہ منصب دلوا دیا اور پہاسو کا پرگنہ ذات اور رسالے کی تنخواہ میں مقرر کر دیا۔ ان کے کئی بیٹے تھے جن میں سے دو کے نام معلوم ہیں: ایک مرزا کے باپ عبد اللہ بیگ خاں عرف مرزا دولہا اور دوسرے نصر اللہ بیگ خاں۔ عبد اللہ بیگ خاں کی شادی خواجہ غلام حسین خاں کمیدان کی بیٹی سے ہوئی تھی، جو کہ سرکار[1] میرٹھ کے ایک معزز فوجی افسر اور عمائد شہر آگرہ میں سے تھے۔ مرزا عبد اللہ بیگ خاں نے بطور خانہ داماد کے اپنی تمام عمر سسرال میں بسر کی، اور ان کی اولاد نے بھی وہیں پرورش پائی۔ مرزا عبد اللہ بیگ خاں کے دو بیٹے ہوئے: ایک مرزا اسد اللہ خاں، اور دوسرے مرزا یوسف خاں، جو ایام شباب میں مجنون ہو گئے تھے اور اسی حالت میں ۱۸۵۷ء میں انتقال کیا۔
مرزا کے والد عبد اللہ بیگ خاں، جیسا کہ مرزا نے خود ایک خط میں لکھا ہے، اول لکھنؤ میں جا کر نواب آصف الدولہ کے ہاں نوکر ہوئے؛ اور چند روز بعد وہاں سے حیدر آباد پہنچے، اور سرکار آصفی میں تین سو سوار کی جمعیت سے کئی برس تک ملازم رہے۔ مگر وہ نوکری ایک خانہ جنگی کے بکھیڑے میں جاتی رہی، اور وہ واپس آگرے میں چلے آئے۔ یہاں آ کر انھوں نے الور کا قصد کیا۔ راجہ بختاور سنگھ نے ابھی ان کو کوئی خاطر خواہ نوکری نہیں دی تھی کہ اتفاق سے انھیں دنوں میں ایک گڑھی کے زمیندار راج سے پھر گئے۔ جو فوج اس گڑھی پر سرکوبی کے لیے بھیجی گئی اس کے ساتھ مرزا عبد اللہ بیگ خاں کو بھی بھیجا گیا تھا۔ وہاں پہنچتے ہی ان کے گولی لگی اور وہیں ان کا انتقال ہو گیا، اور راج گڈھ[2] میں دفن ہوئے۔ راجہ بختاور سنگھ رئیس الور نے دو گانو سیر حاصل اور کسی قدر روزینہ مرزا مرحوم کے دونوں لڑکوں کی پرورش کے واسطے مقرر کر دیا، جو ایک مدت دراز تک جاری رہا۔ مرزا کے والد کی وفات کے بعد ان کے چچا نصر اللہ بیگ خاں نے ان کو پرورش کیا۔
جب سرکار انگریزی کی عملداری ہندوستان میں اچھی طرح قائم ہو گئی، اور نواب فخر الدولہ احمد بخش خاں لارڈ لیک کے لشکر میں شامل ہوئے، تو انھوں نے مرزا غالب کے چچا نصر اللہ بیگ خاں کو، جن سے نواب موصوف کی ہمشیر منسوب تھیں، سرکاری فوج میں بعہدۂ رسالداری ملازم کرا دیا۔ ان کی ذات اور رسالے کی تنخواہ میں دو پرگنے یعنی سونک اور سونسا، جو نواح آگرہ میں واقع ہیں، سرکار سے ان کے نام پر مقرر ہو گئے۔ جب تک وہ زندہ رہے دونوں پرگنے ان کے نامزد رہے؛ اور ان کی وفات کے بعد ان کے وارثوں اور متعلقوں کی پنشنیں سرکار نے فیروزپور جھرکہ کی ریاست سے مقرر کرا دیں، جس میں سے سات سو روپیہ سالانہ مرزا کو آخر اپریل ۱۸۵۷ء تک برابر ملتا رہا۔ مگر فتح دہلی کے بعد تین برس تک قلعے کے تعلقات کے سبب یہ پنشن بند رہی۔ آخر جب مرزا کی ہر طرح سے بریت ہو گئی تو پنشن پھر جاری ہو گئی؛ اور تین برس کی واصلات بھی سرکار نے عنایت کی۔ جب تک پنشن بند رہی مرزا کے دوستوں کو نہایت تعلق خاطر رہا۔
لطیفہ
اکثر لوگ پنشن کا حال دریافت کرنے کو خط بھیجتے تھے۔ ایک دفعہ میر مہدی نے اسی مضمون کا خط بھیجا تھا؛ اس کے جواب میں مرزا صاحب لکھتے ہیں: "میاں بے رزق جینے کا ڈھب مجھ کو آ گیا ہے؛ اس طرف سے خاطر جمع رکھنا۔ رمضان کا مہینہ روزے کھا کھا کر کاٹا؛ آگے خدا رزاق ہے؛ کچھ اور کھانے کو نہ ملا تو غم تو ہے۔"
مرزا نے اپنے علو خاندان پر جا بجا فارسی اشعار میں فخر کیا ہے؛ چونکہ ان میں سے بعض اشعار لطف سے خالی نہیں اس لیے اس مقام پر نقل کیے جاتے ہیں۔ قطعہ:
غالب از خاک پاک تورانیملاجرم در نسب فرہ مندیم
ترک زادیم و در نژاد ہمےبہ سترگان قوم پیوندیم
ایبکیم[3] از جماعۂ اتراکدر تمامی ز ماہ دہ چندیم
فن آبای ما کشاورزیستمرزبان زادۂ سمرقندیم
ورز معنی سخن گزاردہخود چہ گوئیم تا چہ و چندیم
فیض حق را کمینہ شاگردیمعقل کل را بہینہ فرزندیم
ہم بہ تابش بہ برق ہمنفسیمہم بہ بخشش بہ ابر مانندیم
بہ تلاشے کہ ہست فیروزیمبمعاشے کہ نیست خرسندیم
ہمہ بر خویشتن ہمے گرییمہمہ بر روزگار می خندیم
قطعہ:
ساقی! چو من پشنگی[4] و افراسیابیمدانی کہ اصل گوہرم از دودۂ جم است
میراث جم کہ مے بود اکنوں بمن سپارزاں پس رسد بہشت کہ میراث آدم است
رباعی:
غالب بہ گہر ز دودۂ زادشمم[5]زاں رو بصفای دم تیغست دمم
چوں رفت سپہبدی، زدم چنگ بشعرشد تیر شکستۂ نیاگاں قلمم
تعلیم
مرزا غالب مع اپنے چھوٹے بھائی کے سن شعور تک آگرے ہی میں رہے؛ اگرچہ سات برس کی عمر سے وہ دلی میں آنے جانے لگے تھے، لیکن شادی کے بعد تک ان کی مستقل سکونت آگرے ہی میں رہی، اور شیخ معظم جو اس زمانے میں آگرے کے نامی معلموں میں سے تھے ان سے تعلیم پاتے رہے۔ اس کے بعد ایک شخص پارسی نژاد جس کا نام آتش پرستی کے زمانے میں ہرمزد تھا اور بعد مسلمان ہونے کے عبد الصمد رکھا گیا، غالباً آگرے میں سیاحانہ وارد ہوا، جو کہ دو برس تک مرزا پاس اول آگرے میں اور پھر دلی میں مقیم رہا؛ مرزا نے اس سے فارسی زبان میں کسی قدر بصیرت پیدا کی۔ اگرچہ کبھی کبھی مرزا کی زبان سے یہ بھی سنا گیا ہے کہ "مجھ کو مبدأ فیاض کے سوا کسی سے تلمذ نہیں ہے، اور عبد الصمد محض ایک فرضی نام ہے۔ چونکہ مجھ کو لوگ بے استادا کہتے تھے، ان کا منہ بند کرنے کو میں نے ایک فرضی استاد گھڑ لیا ہے۔" مگر اس میں شک نہیں کہ عبد الصمد فی الواقع ایک پارسی نژاد آدمی تھا، اور مرزا نے اس سے کم و بیش فارسی زبان سیکھی تھی۔ چنانچہ مرزا نے جا بجا اس کے تلمذ پر اپنی تحریروں میں فخر کیا ہے، اور اس کو بلفظ "ہمتاسار" جو پارسیوں کے ہاں نہایت تعظیم کا لفظ ہے یاد کیا ہے۔ لیکن جیسا کہ مرزا نے اپنی بعض تحریروں میں تصریح کی ہے، مرزا کی چودہ برس کی عمر تھی جب عبد الصمد ان کے مکان پر وارد ہوا ہے، اور کل دو برس اس نے وہاں قیام کیا۔ پس جب یہ خیال کیا جاتا ہے کہ مرزا کو کس عمر میں اس کی صحبت میسر آئی، اور کس قدر قلیل مدت اس کی صحبت میں گزری، تو عبد الصمد اور اس کی تعلیم کا عدم و وجود برابر ہو جاتا ہے۔ اس لیے مرزا کا یہ کہنا کچھ غلط نہیں ہے کہ مجھ کو مبدأ فیاض کے سوا کسی سے تلمذ نہیں ہے۔
ایک جگہ مرزا نے مبدأ فیاض سے مستفید ہونے کا مضمون نہایت عمدگی سے باندھا ہے، اور وہ شعر یہ ہے:
آنچہ در مبدأ فیاض بود آن من استگل جدا نا شدہ از شاخ بدامان من است
ایک اور مقام پر اس سے بھی عمدہ طریقے سے یہ مطلب ادا کیا ہے؛ وہ کہتے ہیں:
باخذ فیض ز مبدأ فزودنم از اسلافکہ بودہ ام قدرے دیرتر دراں درگاہ
ظہور من بجہاں در ہزار و دویست[6]ظہور خسرو و سعدی بہ شش صد و پنجاہ
ملا عبد الصمد علاوہ فارسی زبان کے، جو اس کی مادری زبان اور اس کی قوم کی مذہبی زبان تھی، عربی زبان کا بھی، جیسا کہ مرزا نے لکھا ہے، بہت بڑا فاضل تھا۔ اگرچہ مرزا کو اس کی صحبت بہت کم میسر آئی؛ مگر مرزا جیسے جوہر قابل کو صغر سن میں ایسے شفیق، کامل اور جامع اللسانین استاد کا مل جانا ان نوادر اتفاقات میں سے تھا جو بہت کم واقع ہوتے ہیں۔ اگرچہ مرزا کو اس سے زیادہ مستفید ہونے کا موقع نہیں ملا، مگر اس کے فیض صحبت نے کم سے کم وہ ملکہ ضرور مرزا میں پیدا کر دیا تھا جس کی نسبت کہا گیا ہے کہ "اگر حاصل شود خواندہ و ناخواندہ برابر است؛ و اگر حاصل نشود ہم خواندہ و ناخواندہ برابر۔" معلوم ہوتا ہے کہ مرزا کی حسن قابلیت اور حسن استعداد نے ملا عبد الصمد کے دل پر گہرا نقش بٹھا دیا تھا کہ یہاں سے چلے جانے کے بعد بھی وہ مدت تک مرزا کو نہیں بھولا۔ نواب مصطفیٰ خاں مرحوم کہتے تھے کہ ملا کے ایک خط میں جو اس نے مرزا کو کسی دوسرے ملک سے بھیجا تھا، یہ فقرہ لکھا تھا: "اے عزیز چہ کسی؟ کہ با ایں ہمہ آزادیہا گاہ گاہ بخاطر مے گذری۔" اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ دو برس کے قلیل عرصے میں وہ مرزا کو سکھا سکتا تھا اس میں ہرگز مضایقہ نہ کیا ہوگا؛ اور جیسا کہ قاطع برہان اور درفش کاویانی کے دیکھنے سے ظاہر ہوتا ہے، اس نے تمام فارسی زبان کے مقدم اصول اور گر، اور پارسیوں کے مذہبی خیالات اور اسرار جن کو فارسی زبان کے سمجھنے میں بہت بڑا دخل ہے، اور پارسی و سنسکرت کا متحد الاصل ہونا، اور اسی قسم کی اور ضروری باتیں مرزا کے دل میں بوجہ احسن تہ نشین کر دی تھیں۔
تاہل
چونکہ مرزا کے چچا کا رشتہ نواب فخر الدولہ کے خاندان میں ہو چکا تھا اور اس لیے ان کے خاندان سے ایک نوع کا تعلق پیدا ہو گیا تھا، مرزا کی شادی نواب فخر الدولہ کے چھوٹے بھائی مرزا الٰہی بخش خاں معروف کے ہاں قرار پائی۔ اور جیسا کہ مرزا نے ایک رقعے میں اشارہ کیا ہے، تیرہ برس کی عمر میں ۷ رجب ۱۲۲۵ ہجری کو ان کا عقد ہو گیا۔ اس تقریب سے ان کی آمد و رفت دلی میں زیادہ ہو گئی، اور آخرکار یہیں سکونت اختیار کر لی، اور اخیر عمر تک دلی ہی میں رہے۔
ننھیال
مرزا کے نانا کی جاگیر میں متعدد دیہات اور آگرہ شہر میں بہت بڑی املاک تھی۔ وہ منشی شیو نرائن رئیس آگرہ کو ایک خط میں لکھتے ہیں: "میں کیا جانتا تھا کہ تم کون ہو۔ جب یہ جانا کہ تم ناظر بنسی دھر کے پوتے ہو تو معلوم ہوا کہ میرے فرزند دلبند ہو۔ اب تم کو مشفق و مکرم لکھوں تو گنہگار۔ تم کو ہمارے خاندان اور اپنے خاندان کی آمیزش کا حال کیا معلوم؟ مجھ سے سنو: تمھارے پردادا عہد نجف خاں میں میرے نانا صاحب مرحوم خواجہ غلام حسین خاں کے رفیق تھے۔ جب میرے نانا نے نوکری ترک کی اور گھر بیٹھے، تو تمھارے پردادا نے بھی کمر کھول دی اور پھر کہیں نوکری نہ کی۔ یہ باتیں میرے ہوش سے پہلے کی ہیں۔ مگر جب میں جوان ہوا تو میں نے یہ دیکھا کہ منشی بنسی دھر خاں صاحب کے ساتھ ہیں؛ اور انھوں نے جو کیتھم گانو اپنی جاگیر کا سرکار میں دعویٰ کیا ہے تو بنسی دھر اس امر کے منصرم ہیں، اور وکالت اور مختاری کرتے ہیں۔ میں اور وہ ہمعمر تھے۔ شاید منشی بنسی دھر مجھ سے ایک دو برس بڑے ہوں یا چھوٹے ہوں۔ انیس بیس برس کی میری عمر اور ایسی ہی عمر ان کی؛ باہم شطرنج اور اختلاط اور محبت؛ آدھی آدھی رات گزر جاتی تھی؛ چونکہ گھر ان کا بہت دور نہ تھا اس واسطے جب چاہتے تھے چلے جاتے۔ بس ہمارے اور ان کے مکان میں مچھیا رنڈی کا گھر اور ہمارے دو کٹڑے درمیان تھے۔ ہماری بڑی حویلی وہ ہے کہ جو اب لکھمی چند سیٹھ نے مول لے لی ہے؛ اسی کے دروازے کی سنگین بارہ دری پر میری نشست تھی۔ اور پاس اس کے ایک کھٹیا والی حویلی، اور سلیم شاہ کے تکیے کے پاس دوسری حویلی، اور کالے محل سے لگی ہوئی ایک اور حویلی، اور اس سے آگے بڑھ کر ایک کٹڑا کہ وہ گڈریوں والا مشہور تھا، اور ایک کٹڑا کہ وہ کشمیرن والا کہلاتا تھا۔ اس کٹڑے کے ایک کوٹھے پر میں پتنگ اڑاتا تھا، اور راجہ بلوان سنگھ سے پتنگ لڑا کرتے تھے۔ واصل خاں نامے ایک سپاہی تمھارے دادا کا پیشدست رہتا تھا، اور وہ کٹڑوں کا کرایہ اگاہ کر جمع کرواتا تھا۔ بھائی تم سنو تو سہی! تمھارے دادا نے بہت کچھ پیدا کر لیا۔ علاقے مول لیے تھے اور زمینداری اپنا کر لیا تھا۔ دس بارہ ہزار روپے کی سرکار کی مالگزاری کرتا تھا۔ آیا وہ سب کارخانے تمھارے ہاتھ آئے یا نہیں؟ اس کا حال از روئے تفصیل جلد مجھ کو لکھو۔" اس خط کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا کے نانا کی آگرے میں ایک خاصی سرکار تھی جس کی بدولت ان کے ملازم اور متوسلین دس دس بارہ بارہ ہزار کے مالگزار بن گئے تھے؛ اور مرزا کا بچپن اور عنفوان شباب بڑے اللے تللوں میں بسر ہوا تھا۔
صورت شکل
اہل دہلی میں سے جن لوگوں نے مرزا کو جوانی میں دیکھا تھا ان سے سنا گیا ہے کہ عنفوان شباب میں وہ شہر کے نہایت حسین و خوش رو لوگوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ اور بڑھاپے میں بھی، جبکہ راقم نے پہلی ہی بار ان کو دیکھا ہے، حسانت اور خوبصورتی کے آثار ان کے چہرے اور قد و قامت اور ڈیل ڈول سے نمایاں طور پر نظر آتے تھے۔ مگر اخیر عمر میں قلت خوراک اور امراض دائمی کے سبب وہ نہایت نحیف و زار و نزار ہو گئے تھے۔ لیکن چونکہ ہاڑ بہت چکلا، قد کشیدہ اور ہاتھ پاؤں زبردست تھے، اس حالت میں بھی وہ ایک نو وارد تورانی معلوم ہوتے تھے۔
مسکن
دلی میں ان کے قیام کا زمانہ قریب پچاس برس کے معلوم ہوتا ہے۔ اس تمام مدت میں انھوں نے غالباً یہاں کوئی مکان اپنے لیے نہیں خریدا۔ ہمیشہ کرائے کے مکانوں میں رہا کیے، یا ایک مدت تک میاں کالے صاحب کے مکان میں بغیر کرائے کے رہے تھے۔ جب ایک مکان سے جی اکتایا اسے چھوڑ کر دوسرا مکان لے لیا۔ مگر قاسم جان کی گلی یا حبش خاں کے پھاٹک یا اس کے قرب و جوار کے سوا کسی اور ضلع میں جا کر نہیں رہے۔ سب سے اخیر مکان جس میں ان کا انتقال ہوا حکیم محمود خاں مرحوم کے دیوان خانے کے متصل مسجد کے عقب میں تھا، جس کی نسبت وہ کہتے ہیں:
مسجد کے زیر سایہ اک گھر بنا لیا ہےیہ بندۂ کمینہ ہمسایۂ خدا ہے
مطالعۂ کتب
جس طرح مرزا نے تمام عمر رہنے کے لیے مکان نہیں خریدا اسی طرح مطالعے کے لیے بھی، باوجودیکہ ساری عمر تصنیف کے شغل میں گزری، کبھی کوئی کتاب نہیں خریدی، الا ماشاء اللہ۔ ایک شخص کا یہی پیشہ تھا کہ کتاب فروشوں کی دکان سے لوگوں کو کرائے کی کتابیں لا دیا کرتا تھا؛ مرزا صاحب بھی ہمیشہ اسی سے کرائے پر کتابیں منگواتے تھے اور مطالعے کے بعد واپس کر دیتے تھے۔
حواشی
[1] سرکار ملک کے اس ٹکڑے کو کہتے تھے جو صوبے کی نسبت چھوٹا اور پرگنہ و محال وغیرہ سے بہت بڑا ہوتا تھا۔
[2] مرزا نے جو قصیدہ راجہ شیودھیان سنگھ کی مدح میں لکھا ہے اس میں لکھتے ہیں:
دیر است تا شدہ ام چاکر حضور
رنگیں سخن طرازم و دیرینہ وظیفہ خوار
دارم گلو بہ حلقۂ زنجیر ہشت سال
اکنوں کہ عمر شصت و سہ سال است در شمار
باید شنید ز نزدیکان بارگاہ
باید شنفت قصہ ز پیران آں دیار
کافی بود مشاہدہ، شاہد ضرور نیست
در خاک راج گڈھ پدرم را بود مزار
[3] ایبک ترکی لفظ ہے، مرکب "آی" اور "بک" سے۔ "آی" چاند کو اور "بک" کامل اور بزرگ کو کہتے ہیں؛ پس ایبک کے معنی ماہ تمام و بزرگ کے ہیں۔ اسی لیے مرزا نے کہا ہے: "در تمامی ز ماہ دہ چندیم۔"
[4] پشنگ افراسیاب کے باپ کا نام ہے۔
[5] زادشم افراسیاب کے دادا اور پشنگ کے باپ کا نام ہے۔
[6] دویست یعنی دو صد۔ اہل زبان اکثر دو کے لفظ کے ساتھ بجائے صد کے "یست" کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔
¿Qué te deja este capítulo?
Inicia sesión para reaccionar
Conversación
Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.