
第 3 章,共 20 章
卖给哈努姆·詹
Sold to Khanum Jan
۲: خانم جان کے ہاتھ فروخت
دے پھڑکنے کی اجازت صیادشبِ اول ہے گرفتاری کی
گرفتاری کی شبِ اول کا حال تو آپ سن چکے۔ ہائے وہ بے بسی مرتے دم تک نہ بھولوں گی! مجھے خود حیرت ہے کہ میں کیوں کر زندہ بچی۔ ہے ہے، کیا سخت جان تھی کہ دم نہ نکلا۔ دلاور خاں بندے! دنیا میں تو خیر تو اپنی سزا کو پہنچا، مگر کیا اس سے میرے دل کی تسکین ہوئی؟ موئے کی بوٹیاں کاٹ کاٹ کر چیل کووں کو کھلاتی تو بھی مجھے آہ نہ آتی۔ یقین ہے کہ قبر میں تجھ پر صبح شام جہنم کے کندے پڑتے ہوں گے، اور قیامت کے دن چاہے گا تو اس سے بدتر درجہ ہوگا۔
ہائے میرے ماں باپ کا کیا حال ہوگا! کیسے تیری جان کو کلپتے ہوں گے۔ بس مرزا صاحب! اتنی آج کہی، باقی کل کہوں گی۔ اب میرا دل ہے کہ امنڈا چلا آتا ہے۔ جی چاہتا ہے خوب چیخیں مار مار کے روؤں ......
آپ میری آوارگی کی سرگزشت سن کے کیا کیجیے گا۔ بہتر ہے کہ یہیں تک رہنے دیجیے۔ میں تو یہ کہتی ہوں کاش دلاور خاں مجھ کو مار ہی ڈالتا تو اچھا تھا۔ مٹھی بھر خاک سے میری آبرو ڈھک جاتی۔ میرے ماں باپ کی عزت کو دھبا نہ لگتا۔ یہ دین و دنیا کی روسیاہی تو نہ ہوتی۔
ہاں، میں نے اپنی ماں کو ایک بار پھر دیکھا تھا۔ اس کو بھی ایک زمانہ ہوا۔ اب خدا جانے جیتی ہیں یا مر گئیں۔ سنا ہے کہ چھوٹے بھائی کے ایک لڑکا ہے، ماشاء اللہ چودہ پندرہ برس کا، دو لڑکیاں ہیں۔ میرا بے اختیار جی چاہتا ہے کہ ان سب کو دیکھوں۔ کچھ ایسا دور بھی نہیں۔ موئے ایک روپے میں تو آدمی فیض آباد پہنچ سکتا ہے، مگر کیا کروں مجبور ہوں۔ اس زمانے میں جب ریل نہ تھی، فیض آباد سے لکھنؤ چار دن کا رستہ تھا، مگر دلاور خاں اس خوف سے کہ کہیں میرا باپ پیچھا نہ کرے، نہ معلوم کن بیہڑ راستوں سے لایا کہ کوئی آٹھ دن میں لکھنؤ پہنچی۔ مجھ نگوڑی کو کیا خبر تھی کہ لکھنؤ کہاں ہے، مگر دلاور خاں اور پیر بخش کی باتوں سے میں اتنا سمجھ گئی تھی کہ یہ لوگ مجھے وہیں لیے جاتے ہیں۔ لکھنؤ کا نام گھر میں سنا کرتی تھی، کیوں کہ میرے نانا یہیں کسی محل کی ڈیوڑھی پر سپاہیوں میں نوکر تھے۔ گھر میں ان کا ذکر ہوتا رہتا تھا۔ ایک مرتبہ وہ فیض آباد بھی گئے تھے۔ میرے لیے بہت سی مٹھائی اور کھلونے لے گئے تھے۔ میں انہیں اچھی طرح پہچانتی تھی۔
لکھنؤ میں گومتی اس پار کریم کی سسرال میں مجھے لا کر اتارا۔ چھوٹا سا کچا مکان اور کریم کی ساس موئی مردے شوئی سی معلوم ہوتی تھی۔ مجھے گھر میں لے گئی۔ ایک کوٹھری میں بند کر دیا۔ صبح ہوتے لکھنؤ پہنچی تھی، دوپہر تک بند رہی۔ پھر کوٹھری کا دروازہ کھلا۔ ایک جوان سی عورت (کریم کی جورو) تین چپاتیاں اور ایک مٹی کے پیالے میں چمچہ بھر ماش کی دال اور پانی کی ایک بدھنی میرے آگے رکھ کر چلی گئی۔ مجھے اس وقت وہ بھی نعمت ہو گئی۔ آٹھ دن ہو گئے تھے گھر کا پکا کھانا نصیب نہ ہوا تھا۔ راستے میں چنے اور ستوؤں کے سوا کچھ ملا ہی نہ تھا۔ کوئی آدھی بدھنی بھر پانی پی گئی۔ اس کے بعد زمین پر پاؤں پھیلا کر سو رہی۔ خدا جانے کتنی دیر سوئی، کیوں کہ اس اندھیری کوٹھری میں دن رات کی تمیز تو ہو ہی نہ سکتی تھی۔ اس درمیان میں کئی مرتبہ آنکھ کھلی۔ چاروں طرف اندھیرا، کوئی آس نہ پاس۔ پھر اوڑھنی سے منہ ڈھانپ کر پڑ رہی۔ پھر نیند آ گئی۔ تیسری چوتھی مرتبہ جو آنکھ کھلی تو پھر نیند نہ آئی، پڑی جاگتی رہی۔ اتنے میں کریم کی ساس، ڈائن کی شکل، بکتی بڑبڑاتی اندر آئی۔ میں اٹھ گئی۔
"اونڈیا کتنا سوتی ہے۔ رات کو چیختے چیختے گلا پڑ گیا۔ جھنجھوڑ جھنجھوڑ کے اٹھایا، سانس ہی نہ لی۔ میں تو سمجھی تھی سانپ سونگھ گیا۔ اے لو، وہ پھر اٹھ بیٹھی۔"
میں چپکے سنا کی۔ جب خوب بک جھک چکی تو پوچھنے لگی: "پیالہ کہاں ہے؟" میں نے اٹھا دیا۔ وہ باہر لے کر نکلی۔ کوٹھری کا دروازہ بند ہو گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد کریم کی جورو آئی۔ اسی کوٹھری میں ایک کھڑکی لگی تھی، اسے کھول دیا۔ مجھ کو باہر نکالا۔ ایک ٹوٹا سا کھنڈر پڑا تھا۔ یہاں آ کے آسمان دیکھنا نصیب ہوا۔ تھوڑی دیر کے بعد پھر اسی کال کوٹھری میں بند کر دی گئی۔ آج ارہر کی دال اور جوار کا دلیہ کھانے کا ملا۔
اسی طرح دو دن گزرے۔ تیسرے دن ایک لڑکی مجھ سے سن میں دو ایک برس بڑی، اسی کوٹھری میں لا کے بند کی گئی۔ کریم خدا جانے کہاں سے پھسلا کے لے آیا تھا۔ بے چاری کیسی چھکو پھکو روتی رہتی۔ مجھ کو اس کا آنا غنیمت ہوگا۔ جب وہ رو دھو چکی تو چپکے چپکے باتیں ہوا کیں۔ کسی بنیے کی لڑکی تھی، رام دئی نام تھا۔ سیتا پور کے پاس کوئی گاؤں تھا، وہاں کی رہنے والی تھی۔ اندھیرے میں تو اس کی شکل دکھائی نہ دی۔ جب حسبِ معمول دوسرے دن کھڑکی کھولی گئی تو اس نے مجھ کو دیکھا، میں نے اس کو دیکھا۔ گوری گوری، بہت خوب صورت، ناک نقشہ، ڈیل ذرا چھریرا تھا۔
چوتھے دن اس کال کوٹھری سے اس کی رہائی ہوئی۔ میں وہیں رہی۔ پھر تنہائی نصیب ہوئی۔ دو دن اکیلی وہیں رہی۔ تیسرے دن رات کے وقت دلاور خاں اور پیر بخش نے آ کے مجھے نکالا، اپنے ساتھ لے کے چلے۔ چاندنی رات تھی۔ پہلے ایک میدان سا ملا، پھر ایک بازار میں سے ہو کے گزرے۔ پھر ایک پل پر آئے۔ دریا لہریں مار رہا تھا۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ میں کانپتی جاتی تھی۔ تھوڑی دور کے بعد ایک بازار پھر ملا، اس سے نکل کے ایک تنگ گلی میں بہت دور تک چلنا پڑا، پاؤں تھک گئے۔ اس کے بعد ایک اور بازار میں آئے۔ یہاں بڑی بھیڑ تھی، راستہ مشکل سے ملتا تھا۔ اب ایک مکان کے دروازے پر پہنچے۔
مرزا رسوا صاحب! آپ سمجھے یہ کون سا بازار تھا؟ یہ وہ بازار تھا جہاں میری عزت فروشی کی دکان تھی، یعنی چوک، اور یہ وہ مکان تھا جہاں سے ذلت، عزت، بدنامی، نیک نامی، زرد روئی، سرخ روئی، جو کچھ دنیا میں ملنا تھا ملا، یعنی خانم جان کا مکان۔ دروازہ کھلا ہوا تھا۔ تھوڑی دور پر زینہ تھا۔ زینے پر سے چڑھ کر اوپر گئی۔ مکان کے صحن میں سے ہو کے صدر دالان کے داہنی طرف ایک وسیع کمرے میں خانم جان کے پاس گئی۔
خانم جان کو آپ نے دیکھا ہوگا۔ اس زمانے میں ان کا سن قریب پچاس برس کے تھا۔ کیا شان دار بڑھیا تھی! رنگ تو سانولا تھا، مگر ایسی بھاری بھرکم جامہ زیب عورت دیکھی نہ سنی۔ بالوں کے آگے کی لٹیں بالکل سفید تھیں، مگر ان کے چہرے پر بھلی معلوم ہوتی تھیں۔ ململ کا سفید دوپٹا کیسا باریک چنا ہوا کہ شاید و باید۔ اودے مشروع کا پائجامہ، بڑے بڑے پائنچے۔ ہاتھوں میں موٹے موٹے سونے کے کڑے کلائیوں میں پھنسے ہوئے، کانوں میں سادی دو دو انتیاں لاکھ لاکھ بناؤ دیتی تھیں۔ بسم اللہ کی رنگت، ناک نقشہ ہو بہو انہی کا سا تھا، مگر وہ نمک کہاں۔ اس دن کی صورت خانم کی مجھے آج تک یاد ہے۔ پلنگڑی سے لگی ہوئی قالین پر بیٹھی ہیں، کنول روشن ہے۔ بڑا سا نقشی پان دان آگے کھلا ہوا رکھا ہے۔ پیچوان پی رہی ہیں۔ سامنے ایک سانولی سی لڑکی بسم اللہ جان ناچ رہی ہے۔ ہمارے جانے کے بعد ناچ موقوف ہوا۔ سب لوگ کمرے سے چلے گئے۔ معاملہ تو پہلے ہی طے ہو چکا تھا۔
خانم جان: یہی چھوکری ہے؟
دلاور خاں: جی ہاں!
مجھے پاس بلایا، چمکار کے بٹھایا، ماتھا اٹھا کے صورت دیکھی۔
خانم جان: اچھا! پھر جو ہم نے کہہ دیا ہے وہ موجود ہے، اور دوسری چھوکری کیا ہوئی؟
پیر بخش: اس کا تو معاملہ ہو گیا۔
خانم جان: کتنے پر؟
پیر بخش: دو سو پر۔
خانم جان: اچھا خیر، کہاں ہوا؟
پیر بخش: ایک بیگم صاحبہ نے اپنے صاحب زادے کے واسطے مول لیا۔
خانم جان: صورت شکل کی اچھی ہے، اس قدر ہم بھی دے نکلتے، مگر تم نے جلدی کی۔
پیر بخش: میں کیا کروں، میں نے بہت سمجھایا، میرے سالے نے نہ مانا۔
دلاور خاں: صورت تو اس کی بھی اچھی ہے، آگے آپ کی پسند۔
خانم جان: خیر، آدمی کا بچہ ہے۔
دلاور خاں: اچھا، جو کچھ ہے آپ کے سامنے ہے۔
خانم جان: اچھا، تمہاری ہی ضد سہی۔
یہ کہہ کر حسینی کو آواز دی۔ حسینی گدبدی سی سانولی ادھیڑ عورت سامنے آ کھڑی ہوئی۔
خانم جان: حسینی!
حسینی: خانم صاحب!
خانم جان: صندوقچہ لاؤ۔
حسینی گئی، صندوقچہ لے آئی۔ خانم صاحب نے صندوقچہ کھولا۔ بہت سے روپے دلاور خاں کے سامنے رکھ دیے (بعد ازاں معلوم ہوا کہ سوا سو روپے تھے)۔ ان میں سے کچھ روپے پیر بخش نے گن کے اپنے رومال میں باندھے (سنا ہے کہ پچاس روپے)، باقی دلاور خاں مردود نے اپنے ڈب میں رکھے۔ دونوں سلام کر کے رخصت ہوئے۔ اب کمرے میں خانم صاحب ہیں، بوا حسینی ہیں اور میں ہوں۔
خانم جان: (حسینی سے) حسینی! یہ چھوکری اتنے داموں کچھ مہنگی تو نہیں معلوم ہوتی؟
حسینی: مہنگی! میں کہتی ہوں سستی۔
خانم جان: سستی بھی نہیں ہے، خیر ہوگا۔ صورت تو بھولی بھالی ہے۔ خدا جانے کس کی لڑکی ہے۔ ہائے ماں باپ کا کیا حال ہوا ہوگا۔ خدا جانے کہاں سے موئے پکڑ لاتے ہیں۔ ذرا بھی خوفِ خدا نہیں۔ بوا حسینی! ہم لوگ بالکل بے قصور ہیں۔ عذاب ثواب انہی مووں کی گردن پر ہوتا ہے۔ ہم سے کیا! آخر یہاں نہ بکتی کہیں اور بکتی۔
حسینی: خانم صاحب! یہاں پھر اچھی رہے گی۔ آپ نے سنا نہیں! بیویوں میں لونڈیوں کی کیا گتیں ہوتی ہیں؟
خانم جان: سنا کیوں نہیں۔ اے ابھی اس دن کا ذکر ہے، سنا تھا سلطان جہاں بیگم نے اپنی لونڈی کو کہیں میاں سے بات کرتے دیکھ لیا تھا، سینچوں سے داغ داغ کے مار ڈالا۔
حسینی: دنیا میں جو چاہیں کر ڈالیں، قیامت کے دن ایسی بیویوں کا منہ کالا ہوگا۔
خانم جان: منہ کالا ہوگا! جہنم کے کندے پڑیں گے۔
حسینی: خوب ہوگا، موئیوں کی یہی سزا ہے۔
اس کے بعد بوا حسینی نے بڑی منت سے کہا: "بیوی، یہ چھوکری تو مجھے دے دیجیے۔ میں پالوں گی۔ مال آپ کا ہے، خدمت میں کروں گی۔"
خانم جان: تمہی پالو۔
اب تک بوا حسینی کھڑی ہوئی تھیں، اس گفتگو کے بعد میرے پاس بیٹھ گئیں، مجھ سے باتیں کرنے لگیں۔
حسینی: بچی! تو کہاں سے آئی ہے؟
میں: (رو کے) بنگلے سے۔
حسینی: (خانم سے) بنگلہ کہاں ہے؟
خانم جان: اے ہے، کیا ننھی ہو؟ فیض آباد کو بنگلہ بھی کہتے ہیں۔
حسینی: (مجھ سے) تمہارے ابا کا کیا نام ہے؟
میں: جمعدار۔
خانم جان: تم بھی غضب کرتی ہو۔ بھلا وہ نام کیا جانے، ابھی بچہ ہے۔
حسینی: اچھا، تمہارا نام کیا ہے؟
میں: امیرن۔
خانم جان: بھئی، یہ نام تو ہمیں پسند نہیں، ہم تو امراؤ کہہ کر پکاریں گے۔
حسینی: سنا بچی! امراؤ کے نام پر تم بولنا۔ جب بیوی کہیں گی "امراؤ"، تم کہنا "جی"۔
اس دن سے میرا نام امراؤ ہوگا۔ تھوڑے دنوں کے بعد جب میں رنڈیوں کے شمار میں آئی، لوگ امراؤ جان کہنے لگے۔ خانم صاحب مرتے دم تک "امراؤ" کہا کیں۔ بوا حسینی "امراؤ صاحب" کہتی تھیں۔ اس کے بعد بوا حسینی اپنی کوٹھری میں لے گئیں۔ اچھا اچھا کھانا کھلایا، مٹھائیاں کھلائیں، منہ ہاتھ دھلایا، اپنے پاس سلا رکھا۔
آج رات کو میں نے ماں باپ کو خواب میں دیکھا۔ جیسے ابا نوکری پر سے آئے ہیں، مٹھائی کا دونا ہاتھ میں ہے، چھوٹا بھائی سامنے کھیل رہا ہے، اس کو مٹھائی کی ڈلیاں نکال کر دیں۔ مجھے پوچھ رہے ہیں، جیسے میں دالان میں ہوں، اماں باورچی خانے میں ہیں۔ اتنے میں جو ابا کو دیکھا، دوڑ کے لپٹ گئی۔ رو رو کے اپنا حال کہہ رہی ہوں۔ خواب میں اتنا روئی کہ ہچکیاں بندھ گئیں۔ بوا حسینی نے ہشیار کیا۔ آنکھ جو کھلی تو کیا دیکھتی ہوں، نہ وہ گھر ہے، نہ دالان، ابا ہیں، نہ اماں۔ بوا حسینی کی گود میں پڑی رو رہی ہوں۔ بوا حسینی آنسو پونچھ رہی ہیں۔ چراغ روشن تھا، میں نے دیکھا کہ بوا حسینی کے بھی آنسو برابر جاری ہیں۔
واقعی بوا حسینی بڑی نیک ذات عورت تھی۔ اس نے مجھ پر وہ شفقت کی کہ چند ہی روز میں میں اپنے ماں باپ کو بھول گئی، اور بھولتی نہ تو کرتی کیا! اول تو مجبوری، دوسرے نئے ڈھنگ، نئے رنگ، اچھا سے اچھا کھانے کو، کھانے وہ جن کے ذائقے سے بھی میں آگاہ نہ تھی۔ کپڑے وہ جو میں نے کبھی خواب میں بھی نہ دیکھے تھے۔ تین لڑکیاں، بسم اللہ جان، خورشید جان، امیر جان، ساتھ کھیلنے کو۔ دن رات ناچ گانا، جلسے، تماشے، میلے، باغوں کی سیر، وہ کون سا ایسا عیش کا سامان تھا جو مہیا نہ تھا۔
مرزا صاحب! آپ کہیں گے کہ میں بڑے کٹر دل کی تھی کہ بہت ہی جلد اپنے ماں باپ کو بھول کر کھیل کود میں پڑ گئی۔ اگرچہ میرا سن بہت کم تھا، مگر خانم کے مکان میں آنے کے ساتھ ہی میرے دل کو آگاہی سی ہو گئی کہ اب مجھے عمر بھر یہیں تیر کرنا ہے۔
جیسے نئی دلہن اپنی سسرال جا کے سمجھ لیتی ہے کہ میں یہاں ایک دو دن کے لیے نہیں، بلکہ مرنے اور بھرنے کے لیے آئی ہوں، ٹھیک وہی میرا حال تھا۔ راستے میں ان موئے ڈکیتوں کے ہاتھ سے وہ ایذا اٹھائی تھی کہ خانم کا مکان میرے لیے بہشت تھا۔ ماں باپ کے ملنے کو میں بالکل ناممکن سمجھ چکی تھی، اور جو چیز ناممکن سمجھ لی جاتی ہے اس کی آرزو باقی نہیں رہتی۔ اگرچہ فیض آباد لکھنؤ سے صرف ۴۰ کوس ہے، مگر اس زمانے میں مجھے بے انتہا دور معلوم ہوتا تھا۔ بچپن کی سمجھ میں اور اب میں بڑا فرق ہے۔
这一章在你心里留下了什么?
登录后参与
讨论
还没有人开口。说说这一章触动了你什么。