
第 19 章,共 20 章
بخشي تالاب: نهاية دلاور خان
Bakhshi Talab: The End of Dilawar Khan
حصہ سوم ۷: بخشی تالاب اور دلاور خاں کا انجام
جھولا کن ڈارو رے امریاں
برسات کے دن ہیں۔ پانی چھما چھم برس رہا ہے۔ آموں کی فصل ہے۔ میرے کمرے میں مجمع ہے۔ بسم اللہ جان، امیر جان، بیگا جان، خورشید جان، رنڈیوں میں۔ نواب بن صاحب، نواب چھٹن صاحب، گوہر مرزا، عاشق حسین، تفضل حسین، امجد علی، اکبر علی خاں، مردوں میں۔ یہ سب صاحب موجود ہیں، گانا ہو رہا ہے۔ اتنے میں۔
بسم اللہ جان: بھئی ہوگا۔ گانا تو روز ہوا کرتا ہے۔ اس وقت تو کڑھائی چڑھاؤ۔ کچھ پکوان پکواؤ۔ دیکھو کیسا مینہ برس رہا ہے۔
میں: اونہہ۔ بازار سے جو جی چاہے منگوا لو۔
خورشید: بازار سے منگوا لو، خوب کہی۔ اپنے ہاتھ سے پکانے میں مزا ہی اور ہے۔
امیر: بہن! تمہیں ہنڈیا ٹھونکنے کا مزا ہے۔ ہم نے نہ تو کبھی پکایا ہے، نہ پکانے کی قدر جانتے ہیں۔
بیگا: تو پھر وہی بازار کی ٹھہری۔
میں: اے ہے باجی کیا بھوکی ہو؟
بیگا: میں تو بھوکی نہیں ہوں۔ بسم اللہ سے پوچھو جس نے صلاح دی تھی۔
بسم اللہ: بھئی کچھ نہ کچھ تو آج ہونا چاہیے۔
میں: میں بتاؤں! چلو بخشی تالاب چلیں۔
بسم اللہ: ہاں بھئی کیا بات کہی ہے۔
خورشید: خوب سیر ہوگی۔
بیگا: ہم بھی چلیں گے۔
میں: اچھا تو سامان کرو۔
بات کرتے تین گاڑیاں کرایہ پر آ گئیں۔ کھانے پکانے کا سامان گاڑیوں پر لدوا دیا گیا۔ دو چھولداریاں نواب بن صاحب کے گھر سے آ گئیں۔ سب گاڑیوں پر سوار ہو کے روانہ ہو گئے۔
گومتی پار پہنچ کے گانا شروع ہوا۔ اس دن بیگا جان کا گانا۔
جھولا کن ڈارو رے امریاں
کیا کیا تانیں لی ہیں۔ دل پیا جاتا تھا۔
شہر سے نکل کے جنگل کا سماں قابل دید تھا۔ جدھر نگاہ جاتی ہے سبزہ ہی سبزہ نظر آتا ہے۔ بادل چاروں طرف گھرے ہوئے ہیں۔ مینہ برس رہا ہے۔ درختوں کے پتوں سے پانی ٹپک رہا ہے۔ نالے، ندیاں، جھیلیں بھری ہوئی ہیں۔ مور ناچ رہے ہیں، کوئل کوک رہی ہے۔ بات کہتے میں تالاب پر پہنچ گئے۔ بارہ دری میں فرش کیا گیا۔ چولہے بن گئے، کڑھائیاں چڑھ گئیں۔ پوریاں تلی جانے لگیں۔ نواب چھٹن صاحب بارانی پہن کے شکار کو نکل گئے۔ گوہر مرزا آموں کی کھانچیاں چکا لائے۔ اتنی دیر میں نوکروں نے سڑک کے کنارے باغ میں چھولداریاں گاڑ دیں۔ گاؤں سے چارپائیاں آ گئیں۔ یہاں اور ہی لطف تھا۔ آم ٹپک رہے ہیں۔ ایک ایک آم پر چار چار آدمی ٹوٹے پڑتے ہیں۔ پانی میں چھپکے لگا رہے ہیں۔
کوئی ادھر دوڑا جا رہا ہے، کوئی ادھر۔ آپس میں دھینگا مشتی ہو رہی ہے۔ اب اس میں اگر کوئی گر پڑا تو کیچڑ میں لت پت، تھوڑی دیر میں پانی میں جا کے کھڑے ہو گئے۔ پھر ویسے ہی صاف۔ جن کے مزاج میں کسی قدر احتیاط تھی، جیسے باجی بیگا جان، وہ چھولداری میں بیٹھیں رہیں۔
بسم اللہ نے پیچھے سے جا کے منہ پر آم کا رس مل دیا۔ پھر ان کی چیخیں اور سب کا قہقہہ لگانا دیکھنے کا تماشا تھا۔
نہیں معلوم کہاں سے بہتی بہاتی تین نٹنیاں آ نکلیں۔ ان کو گوانا شروع کیا۔ ان کے ساتھ ڈھولکی والا غضب کی ڈھولکی بجاتا تھا۔ ان کا ناچ گانا ہم لوگوں کو کیا اچھا معلوم ہوتا۔ مگر اس موسم میں اور ویسی جگہ کچھ ایسا نامناسب نہ تھا۔ دو گھڑی دن رہے ہماری قسمت سے آسمان کھل گیا، دھوپ نکل آئی۔ ہم لوگ احتیاطاً ایک ایک جوڑا گھر سے لیتے آئے تھے۔ سب نے کپڑے بدلے۔ جنگل کی سیر کو نکلے۔
میں بھی اکیلی ایک طرف کو روانہ ہوئی۔ سامنے گنجان درخت تھے۔ سورج انہی گنجان درختوں کی آڑ میں ڈوب رہا تھا۔ سبزے پر سنہری کرنوں کے پڑنے سے عجب کیفیت تھی۔ جا بجا جنگلی پھول کھلے تھے۔ چڑیاں سبزے کی تلاش میں ادھر ادھر اڑ رہی تھیں۔ سامنے جھیل کے پانی پر آفتاب کی شعاع سے وہ عالم نظر آتا تھا جیسے پگھلا ہوا سونا تھلک رہا ہے۔ درختوں کے پتوں کی آڑ میں سورج کی کرنیں اور ہی عالم دکھا رہی تھیں۔ آسمان پر سرخ شفق پھولی ہوئی تھی۔ اس وقت کا سماں ایسا نہ تھا کہ خفقانی مزاج کی عورت، جیسی کہ میں ہوں، جلدی سے چھولداری میں چلی آتی۔ یہ تماشا دیکھتی ہوئی خدا جانے کتنی دور نکل گئی۔ آگے جا کر ایک کچی سڑک ملی۔ اس پر کچھ گنوار راستہ چل رہے تھے۔ کسی کے کندھے پر ہل تھا، کوئی بیلوں کو ہانکتا ہوا چلا آتا تھا۔ ایک چھوٹی سی لڑکی گائے بھینس لیے جاتی تھی۔ ایک لڑکا بہت سی بھیڑوں بکریوں کے پیچھے پیچھے تھا۔ یہ سب آنکھوں کے سامنے آئے اور پھر نظروں سے غائب ہو گئے۔ میں پھر اکیلی کی اکیلی ہی رہ گئی۔ نہیں معلوم کس دھن میں تھی۔ مگر اب اس سڑک پر چلنے لگی۔ اپنے نزدیک اب میں گویا تالاب کی طرف جا رہی ہوں۔ اب اندھیرا ہوتا جاتا ہے۔ سورج ڈوبنے ہی کو ہے۔ اب میرے قدم جلد جلد اٹھ رہے ہیں۔ آگے چل کر ایک فقیر کا تکیہ ملا۔ یہاں کچھ لوگ بیٹھے حقہ پی رہے تھے۔ یہاں میں نے تالاب کا راستہ پوچھا۔ معلوم ہوا کہ میں لکھنؤ کی طرف چلی جا رہی ہوں۔ تالاب دہنے کو چھٹ گیا ہے۔ یہاں سڑک چھوڑنا پڑی۔ ایک بیہڑ میں سے ہو کے راستہ تھا۔ تھوڑی دور جا کر ایک نالہ ملا۔ نالے کے اس پار تھوڑے فاصلے پر دو تین درخت تھے۔ میں نے دیکھا کہ ان درختوں کی جڑ سے اک ذرا ہٹ کے کوئی شخص میلی سی دھوتی باندھے، مرزئی پہنے، ایک میلا سا چادرہ کمر سے لپٹا ہوا، کھرپی ہاتھ میں لیے کچھ کھود رہا ہے۔ میری اس شخص کی آنکھیں چار ہوئیں۔ پہلے تو کچھ شبہ سا ہوا، پھر ایک مرتبہ غور سے دیکھا۔ اب قریب یقین تھا کہ وہی ہے۔ چاہتی تھی کہ نظر پھیر لوں مگر نگاہ کم بخت اسی طرف لڑی رہی۔ اب تو بالکل یقین ہو گیا۔ قریب تھا کہ غش کھا کے گر پڑوں، اور ضرور ہی گر پڑتی، اتنے میں دور سے اکبر علی خاں کے نوکر سلار بخش کی آواز کان میں آئی۔ مجھے ڈھونڈنے نکلا تھا۔ مجھے دیکھ کر دلاور خان نے کھرپی ہاتھ سے رکھ دی تھی۔ جس طرح میں اسے دیکھ رہی تھی، وہ بھی مجھ کو دیکھ رہا تھا۔ مگر یقیناً چاہیے مجھے اس نے نہ پہچانا ہوگا۔ میں نے اس کو اچھی طرح پہچان لیا تھا۔
سلار بخش کی آواز سن کر وہ نالے کی طرف بھاگا۔ اتنے میں سلار بخش میرے پاس پہنچ گیا۔ میں مارے خوف کے تھر تھر کانپ رہی تھی۔ آواز منہ سے نہیں نکلتی تھی۔ گھگھی بندھی ہوئی تھی۔ سلار بخش نے میرا حال دیکھ کے کہا۔ "ہائیں ڈر گئیں؟" میں نے درخت کی طرف اشارہ کیا۔ سلار بخش اس طرف دیکھنے لگا۔
سلار بخش: وہاں کیا دھرا ہے۔ ایک کھرپی پڑی ہے۔ واہ! اس سے ڈر گئیں۔ آپ سمجھیں کوئی قبر کھود رہا تھا۔
(منہ سے تو نہ بولا گیا، میں نے ہاتھ سے نالے کی طرف اشارہ کیا)
سلار بخش: چلم پینے گیا ہوگا تکیے پر۔ اچھا تو چلیے۔ نواب چھٹن صاحب بہت سی مرغابیاں شکار کر کے لائے ہیں۔ آپ کا کہیں پتہ نہیں۔ میاں ادھر ڈھونڈنے گئے ہیں، میں ادھر آیا۔ یہ کہیے آپ مل گئیں۔ نہیں تو آپ کو راستہ نہ ملتا۔ میں نے ہاں، نہ کسی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔ آخر سلار بخش بھی چپ ہو رہا۔ تھوڑی دیر میں کھیتوں میں سے ہو کے تالاب پر پہنچ گئے۔
رات کو یہیں رہنے کی ٹھہری۔ جب کھانے وانے سے فراغت ہو گئی، میں نے اکبر علی خاں سے کل واقعہ بیان کیا۔
اکبر علی خاں: تم نے اچھی طرح دیکھا۔ یہ وہی دلاور خاں تھا؟ فیض آباد کا رہنے والا تھا؟ اس کا تو حلیہ جاری ہے۔ افسوس تم نے پہلے سے نہ کہا۔ بدمعاش کو چل کے گرفتار کرتے۔ بڑا نام ہوتا۔ سرکار سے انعام ملتا۔ ایک ہزار کا اشتہار ہے۔ اور یہ کھودتا کیا تھا؟
میں: کیا معلوم، موا اپنی قبر کھودتا ہوگا۔
اکبر علی خاں: اس کے نام سے تمہارے منہ پر ہوائیاں چھوٹنے لگتی ہیں۔ اب وہ تمہارا کیا کر سکتا ہے۔
میں: (دل کو ذرا تھام کے) ضرور اس نے غدر کے زمانے میں کچھ وہاں گاڑ دیا ہوگا۔ اسے کھودنے آیا ہوگا۔
اکبر علی خاں: چلو دیکھیں۔
میں: میں تو نہ جاؤں گی۔
اکبر علی خاں: میں جاتا ہوں۔ سلار بخش کو لیے جاتا ہوں۔
میں: کہاں جاؤ گے؟ اب وہاں کچھ نہ ہوگا؟ وہ کھود کے لے بھی گیا ہوگا۔
اکبر علی خاں: میں تو ضرور جاؤں گا۔
یہ ذرا زور سے کہا۔ پاس چھٹن صاحب کی چھولداری تھی۔ وہ اور بسم اللہ دونوں جاگ رہے تھے۔
نواب: خاں صاحب! کہاں جائیے گا؟
اکبر علی خاں: نواب صاحب! ابھی آپ نے آرام نہیں کیا؟
نواب: جی نہیں۔
اکبر علی خاں: میں حاضر ہوں؟
نواب: آئیے۔
اکبر علی خاں اور میں دونوں نواب کی چھولداری میں گئے۔ کل واقعہ بیان کیا۔
نواب: (مجھ سے) اور تم اس بدمعاش کو کیا جانو؟
میں: (اپنی سرگزشت تو ان سے کیا کہتی) میں جانتی ہوں اور اچھی طرح جانتی ہوں۔ میں بھی فیض آباد کی رہنے والی ہوں۔
نواب: اخاہ! آپ بھی فیض آباد کی ہیں؟
اکبر علی خاں: مگر اس مردود کا کوئی بندوبست کرنا چاہیے۔ ایسے میں یہیں کہیں ہے۔ عجب نہیں گرفتار ہو جائے۔
یہ کہہ کر سلار بخش کو آواز دی، قلم دان منگوایا۔ تھانہ قریب تھا، تھانے دار کو رقعہ لکھا۔ تھوڑی دیر میں تھانے دار صاحب مع دس بارہ سپاہیوں کے آ موجود ہوئے۔ میں نے جو دیکھا ان سے کہہ دیا۔ گاؤں سے پاسی بلوائے گئے۔ پہلے اس موقع پر جا کے ڈھونڈا۔ تکیے پر فقیر سے کسی قدر سراغ ملا۔ ایک سپاہی کو ایک اشرفی شاہی زمانے کی ملی۔ وہ تھانے دار کے پاس لے آیا۔
تھانے دار: خدا چاہے تو مع مال گرفتار ہو۔
تھانے دار صاحب نے واقعی اچھا بندوبست کیا۔ سپاہیوں نے خوب تگ و دو کی۔ آخر تین بجے رات کو مکا گنج میں گرفتار ہوا۔ صبح ہوتے ہوتے تالاب پر پہنچ گیا۔ تلاشی میں چوبیس اشرفیاں برآمد ہوئیں۔ میں شناخت کے لیے بلائی گئی۔ میری شناخت کے علاوہ دو سپاہیوں نے پہچانا۔ دس بجے چالان لکھنؤ روانہ ہو گیا۔
رسوا: اچھا تو پھر اس کا حشر کیا ہوا۔ اس قصے کو جلدی ختم کیجیے۔
میں: ہوا کیا۔ کوئی دو مہینے کے بعد معلوم ہوا پھانسی ہو گئی۔ واصلِ جہنم ہوا۔
这一章在你心里留下了什么?
登录后参与
讨论
还没有人开口。说说这一章触动了你什么。