Urdu in Translation
Recherche
Signet

Chapitre 18 sur 20

Наваб — это Султан-сахиб

The Nawab Is Sultan Sahib

حصہ سوم ۶: نواب، سلطان صاحب

Мирза Мухаммад Хади Русва

Écriture
Taille

ہاں اے نگاہِ شوق مناسب ہے احتیاطایسا نہ ہو کہ بزم میں چرچا کرے کوئی

قریب شام محل میں نواب صاحب کی آمد آمد کا غل ہوا۔ وہ بے تکلفی کی صحبت برہم ہو گئی۔ طبلے کی جوڑی، ستار، طنبورہ، سب چیزیں ہٹا دی گئیں۔ چھپنے والیاں اٹھ اٹھ کے پردے میں جانے لگیں۔ اور سب لوگ اپنے اپنے قرینے سے ہو گئے۔ میں بھی بیگم سے الگ ہٹ کر مقطع بن کے بیٹھ گئی۔ جس دالان میں ہم لوگ بیٹھے تھے، وہاں سے دروازے کا سامنا تھا۔ پردہ پڑا ہوا تھا۔ نواب کے انتظار میں اس پردے کی طرف نگاہیں لگی ہوئی تھیں۔ میں بھی اسی طرف دیکھ رہی تھی۔ اتنے میں کسی خدمت گار نے چلا کر کہا۔ "نواب صاحب تشریف لائے ہیں۔" چند لمحے کے بعد مہری نے پردہ اٹھا کے کہا۔ "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔" نواب اندر داخل ہوئے۔

میں (صورت دیکھتے ہی دل میں) وہی تو ہیں (سلطان صاحب) ہے ہے! کس موقع پر سامنا ہوا ہے۔ نواب کی نگاہ مجھ پر پڑی۔ پہلے تو کچھ جھجکے، پھر بغور میری طرف دیکھتے ہوئے آگے بڑھے۔ میں بھی انہی کی طرف دیکھ رہی تھی۔
میں دیکھتا ہوں جو ان کی طرف تو حیرت سے
مری نگاہ کا وہ اضطراب دیکھتے ہیں
اب نواب دالان کے قریب پہنچ گئے اور میری طرف دیکھتے جاتے تھے کہ

بیگم: اوئی نواب، دیکھتے کیا ہو؟ یہ وہی ہیں امراؤ جان جو کان پور……

نواب: (انجان بن کے) میں نے تم سے انہی کا تذکرہ کیا تھا۔

اب فرش کے قریب پہنچ گئے۔ سب تعظیم کو اٹھ کھڑے ہوئے۔ نواب مسند پر بیگم کے پہلو میں اک ذرا سرک کے بیٹھ گئے۔

اب شام ہو گئی تھی۔ مہری نے دو کنول سفید روشن کر کے سامنے رکھے۔ بیگم پان بنانے لگیں۔ اس اثنا میں نواب نے آنکھ بچا کے میری طرف دیکھا۔ میں نے کنکھیوں سے انہیں دیکھا۔ اب نہ وہ کچھ کہہ سکتے ہیں، نہ میں بول سکتی ہوں۔ منہ سے بولنے کا تو موقع نہ تھا مگر اس وقت آنکھیں زبان کا کام دے رہی تھیں۔ شکوے شکایت، رمز و کنایہ، سب اشاروں میں ہوا۔

نواب: (کسی قدر اجنبیت سے) امراؤ جان صاحب! واقعی ہم تو آپ کے بہت ہی ممنون ہیں۔ واقعی کان پور میں اس شب کو تمہاری وجہ سے ہمارا گھر لٹنے سے بچ گیا۔

میں: یہ آپ کیوں مجھے کانٹوں میں گھسیٹتے ہیں۔ ایک اتفاقی امر تھا۔

نواب: خیر وہ کچھ ہو، وجہ تمہاری تھی۔ خیر اسباب تو وہاں کچھ نہ تھا مگر ایک خیریت ہو گئی۔ تمام ضروری کاغذات کوٹھی میں موجود تھے۔

میں: یہ حضور ان دنوں جنگل میں عورتوں کو چھوڑ کے کہاں گئے تھے؟

نواب: کیا کہوں، ایسی ہی مجبوری تھی۔ لکھنؤ کی جائیداد بادشاہ نے ضبط کر لی تھی۔ لاٹ صاحب کے پاس کلکتے جانا ضرور تھا۔ ایسی عجلت میں گیا تھا کہ نہ کچھ سامان گیا، نہ لیا، نہ دیا۔ صرف شمشیر خاں اور ایک آدمی اور ساتھ لے کے چلا گیا۔

میں: وہ کوٹھی ایسے جنگل میں ہے کہ جو واردات ہو تعجب ہے۔

نواب: سوائے اس واقعے کے اور کوئی واردات نہیں ہوئی۔ وجہ یہ تھی کہ غدر ہونے کو تھا۔ بدمعاشوں نے سر اٹھایا تھا۔ ملک میں اندھیر مچا ہوا تھا۔

اس کے بعد ادھر ادھر کی باتیں ہوا کیں۔ پھر دسترخوان بچھا۔ سب نے ساتھ مل کے کھانا کھایا۔ جب حقہ پان سے فراغت ہو چکی، نواب نے گانے کی فرمائش کی۔ میں نے یہ غزل شروع کی۔

مرتے مرتے نہ قضا یاد آئی
اسی کافر کی ادا یاد آئی
تم کو الفت نہ وفا یاد آئی
یاد آئی تو جفا یاد آئی
ہجر کی رات گزر ہی جاتی
کیوں تری زلف رسا یاد آئی
موت تم سے بھی سوا یاد آئی
لذتِ معصیتِ عشق نہ پوچھ
خلد میں بھی یہ بلا یاد آئی
چارہ گر زہر منگا دے تھوڑا
لے مجھے اپنی دوا یاد آئی

اور شعر یاد نہیں۔ مقطع یہ ہے۔
کیا غزل کوئی کہی ہے……
آج کیوں بادِ صبا یاد آئی

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.