Urdu in Translation
Recherche
Signet

Chapitre 14 sur 20

آبادي

Abadi

حصہ سوم ۲: آبادی

ميرزا محمد هادي رسوا

Écriture
Taille

جواں ہوتے ہی وہ تو اور ہی کچھ ہو گئے اے دل

رسوا: ہاں! وہ آپ کی نوچی کیا ہوئی؟ اے بھلا سا نام تھا۔

امراؤ: آبادی؟

رسوا: آبادی۔ صورت تو اچھی تھی۔ میں نے اس وقت دیکھا تھا جب اس کا سن دس بارہ برس کا تھا۔ جوانی میں تو اور نکھر گئی ہوگی۔

امراؤ: مرزا صاحب! آپ کو خوب یاد ہے۔

رسوا: یاد کو کیا چاہیے۔ واقعی میں بہت قطع دار عورت ہوگی۔ ہم بھی اسی نظر سے دیکھتے تھے کہ کبھی تو جوان ہوگی۔

امراؤ: تو یہ کہیے کہ آپ بھی بی آبادی کے امیدواروں میں تھے۔

رسوا: سنو، امراؤ جان! میری ایک بات یاد رکھنا۔ جہاں کوئی حسین عورت نظر پڑے، مجھے ضرور یاد کر لینا۔ اگر ممکن ہو تو امیدواروں میں نام لکھوا دینا اور جو (خدانخواستہ) میں مر جاؤں تو میرے نام پر فاتحہ دے دینا۔

امراؤ: اور اگر کوئی مرد حسین نظر آئے؟

رسوا: اپنا نام اس کے امیدواروں میں اور میرا نام اس کی بہن کے امیدواروں میں لکھوا دینا، بشرطیکہ شرعاً ممنوع نہ ہو۔

امراؤ: کیا خوب! شرع کو کہاں دخل دیا ہے۔

رسوا: شرع کا دخل کہاں نہیں ہے۔ خصوصاً ہماری شرع جس میں کوئی فروگزاشت نہیں کی گئی۔

امراؤ: سیدھی سی ایک بات کیوں نہیں کہہ دیتے۔ عشرعاً تو جانتے نہیں، عرفاً درست ہے

رسوا: یہ اور موقعوں پر کہا جاتا ہے۔ امراؤ جان! میری زندگی کا ایک اصول ہے۔ نیک بخت عورت کو میں اپنی ماں بہن کے برابر سمجھتا ہوں، خواہ وہ کسی قوم و ملت کی کیوں نہ ہو۔ اور ایسی حرکتوں سے مجھے سخت صدمہ پہنچتا ہے جو اس کی پارسائی میں خلل انداز ہوں۔ جو لوگ اس کو ورغلانے یا بدکار بنانے کی کوشش کرتے ہیں، میری رائے میں قابل گولی مار دینے کے ہیں۔ مگر فیاض عورتوں کے فیض سے مستفید ہونا میرے نزدیک کوئی گناہ نہیں ہے۔

امراؤ: سبحان اللہ!

رسوا: خیر اب اس فضولیات کو رہنے دیجیے۔ آبادی جان کا حال کہیے۔

امراؤ: مرزا صاحب! اگر آپ اس کو جوانی کے عالم میں دیکھتے تو یہ شعر ضرور آپ کی زبان پر ہوتا۔
جواں ہوتے ہی وہ تو اور ہی کچھ ہو گئے اے دل
کہاں کی پاک بازی، ہم بھی اب نیت بدلتے ہیں
جوان ہو کے اس نے وہ شکل و صورت نکالی تھی کہ سو پچاس رنڈیوں میں ایک تھی۔

رسوا: اب کیا ہوئی۔ خدا کے لیے جلدی کہیے۔ مر جائے شہر چلی گئی، مر گئی، آخر آفت ہی کیا ہوئی جو آپ ایسی مایوسی کے کلمات کہتی ہیں۔

امراؤ: ہم سے گئی جہان سے گئی۔

رسوا: آخر ہے اب کہاں؟

امراؤ: اسپتال میں ہے اور کہاں ہے۔

رسوا: یہ کہیے گلِ جوانی شگفت۔

امراؤ: جی ماشاء اللہ سے خوب پھلیں پھولیں۔ صورت بگڑ گئی، رنگت الٹا توا ہو گئی، ناک بیٹھ گئی، تمام بدن میں چھتے پڑ گئے، بال گر گئے، غرضیکہ ستر کرم ہو گئے۔ اب جان کے لالے پڑے ہیں۔

رسوا: یہ ہوا کیا تھا؟

امراؤ: اے ہے، ہوا کیا تھا۔ موئی لونڈوں گھیری، سفلی، چھچھوری۔ میں نے بہت چاہا کہ آدمی بنے مگر نہ بنی۔ میں نے کیا نہیں کیا۔ استاد کو نوکر رکھا، تعلیم دینا شروع کی، مگر اس کا دیدہ ایسی باتوں میں کب لگتا تھا۔ جب سے جوان ہوئی، میں نے کمرا علیحدہ کر دیا تھا۔ شہر کے چند ذاتِ شریف آ کے بیٹھنے لگے۔ دن رات گالم گلوچ، دھینگا مشتی، جوتم جاتا۔ ایک آفت برپا رہتی تھی۔ ناک میں دم ہو گیا تھا۔ کسی پر بند نہیں۔ جو آیا وارد۔ میں نے مارا، پیٹا، سمجھایا، مگر وہ کب سنتی تھی۔ بچپنے ہی سے اس کی نگاہ بد تھی۔ اس زمانے میں بوا حسینی کا نواسہ جمن آیا کرتا تھا۔ اس سے کھیلا کرتی تھی۔ میں نے خیال کیا بچے ہیں، کھیلنے دو۔ آخر کچھ باتیں آنکھ سے دیکھیں کہ جمن کی آمد و رفت موقوف ہوئی۔ ایک صاحب میرے پاس تشریف لایا کرتے تھے۔ ذرا خوش گلو تھے۔ میں گوایا کرتی تھی۔ ان سے چھیڑ چھاڑ شروع کی۔ وہ شریف خاندان سے تھے مگر طبیعت پاجی تھی۔ نہ میرا لحاظ کیا، نہ اپنی حیثیت دیکھی۔ ایک دن سرِ شام کیا دیکھتی ہوں، ڈیوڑھی میں بی آبادی سے باتیں ہو رہی ہیں۔

چھٹن صاحب: اری میں تو تیری صورت کا عاشق ہوں۔ ہائے آبادی کیا کروں۔ امراؤ جان سے ڈرتا ہوں۔

آبادی: ہٹو! ایسی باتیں مجھ سے نہ کیا کرو۔ ڈر کاہے کا؟

چھٹن نے آبادی کے گلے میں ہاتھ ڈال دیا "ظالم کیا پیاری پیاری صورت ہے۔"

آبادی: پھر تمہیں کیا؟

چھٹن: (ایک بوسہ لے کر) ہمیں کیا؟ جان جاتی ہے، مرتے ہیں۔

آبادی: موئے چار آنے تو دیے نہیں جاتے، مرتے ہیں! مرتے سب کو دیکھا، جنازہ کسی کا نہیں دیکھا۔

چھٹن: چار آنے؟ جان حاضر ہے۔

آبادی: نگوڑی جان کو میں لے کر کیا کروں گی؟

چھٹن: لو ہماری جان کسی کام کی ہی نہیں۔

آبادی: لے اب باتیں نہ بناؤ۔ چونی جیب میں پڑی ہو تو دیتے جاؤ۔

چھٹن: واللہ! اماں کی تنخواہ نہیں بٹی۔ پرسوں ضرور ضرور لیتا آؤں گا۔

آبادی: اچھا تو جان چھوڑو، جاؤ۔

چھٹن: اچھا تو ایک بوسہ تو اور دے دو۔

آبادی کو چھٹن نے گلے لگایا۔ آبادی نے ان کی جیب میں ہاتھ ڈالا۔ کہیں اتفاق سے تین پیسے پڑے ہوئے تھے، نکال لیے۔

چھٹن: تمہیں ہمارے سر کی قسم! یہ پیسے نہ لینا۔ باجی نے رنگ کی پڑیاں اور مسی منگائی ہے۔

آبادی: تمہارے سر کی قسم! میں تو نہ دوں گی۔

چھٹن: آخر کیا کرو گی۔ پرسوں چونی لے لینا۔

آبادی: واہ! خاگینہ لیں گے۔

چھٹن: تین پیسے کا خاگینہ! اچھا ایک پیسہ لے لو۔

آبادی: تین پیسے کا خاگینہ کچھ بہت ہوا؟ نگوڑا بہت دن سے جی چاہتا ہے۔ بیوی لینے نہیں دیتیں۔ کہتی ہیں پیٹ میں درد ہوگا۔ میں تو ایک دن چھپا کے ایک آنے کا خاگینہ کھا گئی، کچھ بھی نہیں ہوا۔

(میں نے دل میں کہا، کیوں نہ ہو۔ موئی کال کی ماری بلا نوش۔ ہم تو ذرا سا بھی کھا لیں تو بدہضمی ہو جائے۔)

رسوا: کیا اسے کال میں لیا تھا؟

امراؤ: جی ہاں! ایک روپیہ کو ماں بیچ گئی تھی۔ تین دن کے فاقے سے تھی۔ میں نے روٹی کھلائی اور ایک روپیہ دیا۔ مرزا صاحب مجھے بڑا ترس معلوم ہوا۔ میں نے تو کہا تھا، میرے پاس رہ، مگر نہ رہی۔

رسوا: کم بخت کبھی پھر بھی آئی تھی؟

امراؤ: جی! کئی دفعہ آئی۔ لڑکی کو دیکھ کے بہت خوش ہوئی۔ مجھ کو دعائیں دیتی تھی۔ سال میں ایک دو مرتبہ آ جایا کرتی تھی۔ مجھ سے بھی جو کچھ ہو سکتا تھا سلوک کرتی تھی۔ اب کئی برس سے نہیں آئی، خدا جانے جیتی ہے یا مر گئی ہے۔

رسوا: ذات کیا تھی؟

امراؤ: پاسی۔

رسوا: اچھا تو وہ قصہ تو رہ گیا۔ چھٹن نے چونی دی یا نہیں۔

امراؤ: میری جانے بلا۔ چھٹن کے جانے کے بعد میں نے منہ ہی منہ میں موئی کو خوب کچلا۔ پیسے چھین کے چوک میں اچھال دیے۔

میرے کمرے کے برابر ایک اور چھوٹا سا کمرا تھا۔ کوئی دو روپے مہینے کرائے کا۔ اس میں ایک رنڈی آ کے رہی تھی حسنا۔ ابھی جوان تھی۔ اس کی اور آبادی کی پرگت خوب ملی۔ دن بھر وہیں بیٹھی رہا کرتی تھی۔ ساری خصلتیں حسنا کی اس نے اختیار کر لیں۔ جیسی وہ رنڈی تھی ویسے ہی اس کے آشنا۔ ایک آیا، پاؤ بھر پوریاں تیل کی لیے چلا آتا ہے۔ دوسرا پچاس آم دو آنے سینکڑہ کے لیتا آیا۔ کسی سے دو گز نینوں کی فرمائش ہے۔ مخملی بوٹ کا چونگا ہے۔ میلے تماشے میں دو چار گرگے ساتھ ہیں۔ بڑے بڑے صافے بندھے ہوئے۔ کف دار کرتے یا انگرکھے کمر کے پاس سے چست۔ کوئی دھوتی باندھے ہے، کوئی چست گھٹنا ڈانٹے ہے۔ ہاتھ میں لٹھ ہے، گلے میں ہار پڑے ہوئے۔ بی حسنا ٹھمک ٹھمک ان کے ساتھ چل رہی ہیں۔ ہرن والی سرا میں جا کے ایک بوتل ٹھرے کی ٹری۔ وہاں سے چلے تو جھومتے جھامتے، لڑکھڑاتے، ناچتے، گاتے۔ بی حسنا ابھی اس کی بغل میں تھی، ابھی اس کے گلے میں ہاتھ۔ سرِ راہ گالم گلوچ، نوچم کھسوٹ، جوتم جاتا ہو رہا ہے۔ اس حالت میں دو ایک تو رستے میں گر پڑے، تین چار میلے تک پہنچے۔ وہاں چرس پر دم پڑے۔ ان میں سے جو کوئی ہوشیار ہوا اس نے بی حسنا کو گانٹھ لیا، اور یاروں کو دھتا بتائی۔ اپنے گھر لے گیا یا انہی کے کمرے پر آ کے ٹھہرا اور یار جب میلے سے پلٹ کے آئے، کمرے کے نیچے کھڑے چیخ رہے ہیں، گالیاں دے رہے ہیں، ڈھیلے مار رہے ہیں۔ بی حسنا اول تو کمرے میں نہیں اور ہیں بھی تو بولیں کیوں۔ اتنے میں کوئی برق انداز چلا آیا۔ اس نے مجمعِ خلافِ قانون کو برہم کیا، سب اپنے اپنے گھر چلے گئے۔

بس یہی انداز آبادی بھی چاہتی تھی۔ بھلا میں اس کی کب روادار ہوتی۔ آخر حسین علی (میرے پاس ایک نواب صاحب آیا کرتے تھے، ان کے خدمت گار کا نام تھا) کے ساتھ نکل گئیں۔ اس کے گھر جا کے بیٹھیں۔ وہاں اس کی جورو نے قیامت برپا کی، گھر سے نکل گئیں۔ میاں حسین علی ان پر لٹو تھے۔ بیوی کے نکل جانے کی انہیں پرواہ نہ ہوئی، مگر مشکل یہ درپیش ہوئی کہ اب کھانا کون پکاوے۔ بی آبادی کو چولہا پھونکنا پڑا۔ یہ اس کی کب عادی تھی۔ بہرطور چند روز یوں گزرے۔ یہیں ایک بچہ جنیں۔ خدا جانے حسین علی کا تھا یا کسی اور کا۔ دو مہینے کا ہو کے وہ بچہ جاتا رہا۔ ادھر حسین علی کی جورو نے روٹی کپڑے کا دعویٰ کیا۔ ڈیڑھ روپے مہینے کی ڈگری ہو گئی۔ تین روپے نواب دیتے تھے۔ ڈیڑھ روپے میں کیا ہوتا۔ اوپر کی آمدنی پر بسر تھی۔ اس میں بھی کچھ نہ چلی۔ بی آبادی کسی قدر چٹوری بھی تھیں۔ آخر میاں حسین علی کے گھر سے نکل کے محلے کے ایک لڑکے منے کے ساتھ بھاگیں۔ اس لڑکے کی ماں پٹھانی، کٹنی بڑی مشہوروں میں تھی۔ جہاں دو چار لقندریاں اور رہتی تھیں وہیں ان کا بھی ٹھکانا ہو گیا۔ بی پٹھانی کی روزی میں کسی قدر وسعت ہوئی۔ منے برائے نام رہ گئے۔ میاں منے کے ایک پیر بھائی میاں سعادت، پٹھانی کو جل دے کے انہیں وہاں سے لے اڑے۔ یہ اپنی ماں کے پاس لے گئے۔ ان کی والدہ کو مرغیوں سے شوق تھا۔ مکان کے پاس ایک تکیہ تھا۔ وہاں مرغیاں چرا کرتی تھیں۔ بی آبادی ان کی حفاظت پر متعین ہوئیں۔ میاں سعادت کسی کارخانے میں کام کرتے تھے۔ دن بھر وہاں چلے جاتے تھے۔ یہ مرغیاں ہنکایا کرتی تھیں۔ وہاں انہوں نے محمد بخش گلو کنجڑن کے بیٹے سے راہ و رسم پیدا کی۔ بلکہ سعادت کی ماں نے یہ معاملہ دیکھ بھی لیا۔ بیٹے سے کہا۔ اس نے خوب جوتے مارے۔ میاں محمد بخش کے ایک اور یار تھے میاں امیر۔ نواب امیر مرزا کے خدمت گاروں میں نوکر تھے۔ یہ فنِ تماش بینی میں طاق تھے، اڑا لے گئے۔ انہوں نے ایک مکان میں لے جا کے رکھا۔ یہاں اور یاروں کا مجمع بھی رہتا تھا۔ بی آبادی سب کی دل جوئی میں مصروف رہتیں۔ اس زمانے میں نہیں معلوم کس کی برکت سے خوب پھلیں پھولیں۔ اب میاں امیر کے کس کام کی تھیں۔ اس نے اٹھا کے اسپتال میں پھنکوا دیا۔ بالفعل وہیں تشریف رکھتی ہیں۔ اگر آپ فرمائیے تو بلوا دی جائیں۔

رسوا: مجھے معاف ہی کیجیے۔

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.