
Capítulo 6 de 7
Poems
نظمیں
نظمیں
عدل جہانگیری
قصر شاہی میں کہ ممکن نہیں غیروں کا گزرایک دن نورجہاں بام پہ تھی جلوہ فگن
کوئی شامت زدہ رہ گیر ادھر آ نکلاگرچہ تھی قصر میں ہر چار طرف سے قدغن
غیرت حسن سے بیگم نے طمنچہ ماراخاک پر ڈھیر تھا اک کشتۂ بے گور و کفن
ساتھ ہی شاہ جہانگیر کو پہنچی جو خبرغیظ سے آ گئی ابروئے عدالت پہ شکن
حکم بھیجا کہ کنیزان شبستان شہیجا کے پوچھ آئیں کہ سچ یا کہ غلط ہے یہ سخن
نخوت حسن سے بیگم نے بصد ناز کہامیری جانب سے کرو عرض بہ آئین حسن
ہاں مجھے واقعۂ قتل سے انکار نہیںمجھ سے ناموس حیا نے یہ کہا تھا کہ بزن
اس کی گستاخ نگاہی نے کیا اس کو ہلاککشور حسن میں جاری ہے یہی شرع کہن
مفتی دیں سے جہانگیر نے فتویٰ پوچھاکہ شریعت میں کسی کو نہیں کچھ جائے سخن
مفتی دین نے بے خوف و خطر صاف کہاشرع کہتی ہے کہ قاتل کی اڑا دو گردن
لوگ دربار میں اس حکم سے تھرا اٹھےپر جہانگیر کے ابرو پہ نہ بل تھا نہ شکن
ترکشوں کو یہ دیا حکم کہ اندر جا کرپہلے بیگم کو کریں بستۂ زنجیر و رسن
پھر اسی طرح اسے کھینچ کے باہر لائیںاور جلاد کو دیں حکم کہ ہاں تیغ بزن
یہ وہی نورجہاں ہے کہ حقیقت میں یہیتھی جہانگیر کے پردہ میں شہنشاہ زمن
اس کی پیشانئ نازک پہ جو پڑتی تھی گرہجا کے بن جاتی تھی اوراق حکومت پہ شکن
اب نہ وہ نورجہاں ہے نہ وہ انداز غرورنہ وہ غمزے ہیں نہ وہ عربدۂ صبر شکن
اب وہی پاؤں ہر اک گام پہ تھراتے ہیںجن کی رفتار سے پامال تھے مرغان چمن
ایک مجرم ہے کہ جس کا کوئی حامی نہ شفیعایک بیکس ہے کہ جس کا نہ کوئی گھر نہ وطن
خدمت شاہ میں بیگم نے یہ بھیجا پیغامخوں بہا بھی تو شریعت میں اک امر احسن
مفتئ شرع سے پھر شاہ نے فتویٰ پوچھابولے جائز ہے رضامند ہوں گر بچہ و زن
وارثوں کو جو دئیے لاکھ درم بیگم نےسب نے دربار میں کی عرض کہ اے شاہ زمن
ہم کو مقتول کا لینا نہیں منظور قصاصقتل کا حکم جو رک جائے تو ہے مستحسن
ہو چکا جب کہ شہنشاہ کو پورا یہ یقینکہ نہیں اس میں کوئی شائبہ حیلہ و فن
اٹھ کے دربار سے آہستہ چلا سوئے حرمتھی جہاں نورجہاں معتکف بیت خزن
دفعتاً پاؤں پہ بیگم کے گرا اور یہ کہاتو اگر کشتہ شدی آہ چہ می کردم من
عدل فاروقی کا ایک نمونہ
ایک دن حضرت فاروقؓ نے منبر پہ کہاکیا تمہیں حکم جو کچھ دوں تو کرو گے منظور
ایک نے اٹھ کے کہا یہ کہ نہ مانیں گے کبھیکہ ترے عدل میں ہم کو نظر آتا ہے فتور
چادریں مال غنیمت میں جو اب کے آئیںصحن مسجد میں وہ تقسیم ہوئیں سب کے حضور
ان میں ہر ایک کے حصہ میں فقط اک آئیتھا تمہارا بھی وہی حق کہ یہی ہے دستور
اب جو یہ جسم پہ تیرے نظر آتا ہے لباسیہ اسی لوٹ کی چادر سے بنا ہوگا ضرور
مختصر تھی وہ ردا اور ترا قد ہے درازایک چادر میں ترا جسم نہ ہوگا مستور
اپنے حصہ سے زیادہ جو لیا تو نے تو ابتو خلافت کے نہ قابل ہے نہ ہم ہیں مامور
گرچہ وہ حد مناسب سے بڑھا جاتا تھاسب کے سب مہر بہ لب تھے چہ اناث و چہ ذکور
روک دے کوئی کسی کو یہ نہ رکھتا تھا مجالنشۂ عدل و مساوات سے سب تھے مخمور
اپنے فرزند سے فاروق معظم نے کہاتم کو ہے حالت اصلی کی حقیقت پہ عبور
تمہیں دے سکتے ہو اس کا مری جانب سے جوابکہ نہ پکڑے مجھے محشر میں مرا رب غفور
بولے یہ ابن عمرؓ سب سے مخاطب ہو کراس میں کچھ والد ماجد کا نہیں جرم و قصور
ایک چادر میں جو پورا نہ ہوا ان کا لباسکر سکی اس کو گوارا نہ مری طبع غیور
اپنے حصہ کی بھی میں نے انہیں چادر دے دیواقعہ کی یہ حقیقت ہے کہ جو تھی مستور
نکتہ چیں نے یہ کہا اٹھ کے کہ ہاں اے فاروقحکم دے ہم کو کہ اب ہم اسے مانیں گے ضرور
علمائے زندانی
مساجد کی حفاظت کے لیے پولس کی حاجت ہےخدا کو آپ نے مشکور فرمایا عنایت ہے
عجب کیا ہے کہ اب ہر شاہراہ سے یہ صدا آئےمجھے بھی کم سے کم اک غسل خانہ کی ضرورت ہے
پنہائی جا رہی ہیں عالمان دیں کو زنجیریںیہ زیور سید سجاد عالی کی وراثت ہے
یہی دس بیس اگر ہیں کشتگان خنجر اندازیتو مجھ کو سستی بازوئے قاتل کی شکایت ہے
شہیدان وفا کے قطرۂ خوں کام آئیں گےعروس مسجد زیبا کو افشاں کی ضرورت ہے
عجب کیا ہے جو نوخیزوں نے سب سے پہلے جانیں دیںکہ یہ بچے ہیں ان کو جلد سو جانے کی عادت ہے
شہیدان وفا کی خاک سے آئی ہیں آوازیںکہ شبلی بمبئی میں رہ کے محروم سعادت ہے
مولویوں کا شغل تکفیر
اک مولوی صاحب سے کہا میں نے کہ کیا آپکچھ حالت یورپ سے خبردار نہیں ہیں
آمادۂ اسلام ہیں لندن میں ہزاروںہر چند ابھی مائل اظہار نہیں ہیں
تقلید کے پھندوں سے ہوئے جاتے ہیں آزادوہ لوگ بھی جو داخل اصرار نہیں ہیں
جو نام سے اسلام کے ہو جاتے ہیں برہمان میں بھی تعصب کے وہ آثار نہیں ہیں
افسوس مگر یہ ہے کہ واعظ نہیں پیدایا ہیں تو بقول آپ کے دیں دار نہیں ہیں
کیا آپ کے زمرے میں کسی کو نہیں یہ دردکیا آپ بھی اس کے لئے تیار نہیں ہیں
جھلا کے کہا یہ کہ یہ کیا سوئے ادب ہےکہتے ہو وہ باتیں جو سزاوار نہیں ہیں
کرتے ہیں شب و روز مسلمانوں کی تکفیربیٹھے ہوئے کچھ ہم بھی تو بے کار نہیں ہیں
مسلم لیگ
لوگ کہتے ہیں کہ آمادۂ اصلاح ہے لیگیہ اگر سچ ہے تو ہم کو بھی کوئی جنگ نہیں
صیغۂ راز سے کچھ کچھ یہ بھنک آتی ہےکہ ہم آہنگئ احباب سے اب ننگ نہیں
فرق اتنا تو بظاہر نظر آتا ہے ضروراب خوشامد کا ہر اک بات میں وہ رنگ نہیں
عرض مطلب میں زباں کچھ تو ہے کھلتی جاتیگرچہ اب تک بھی حریفوں سے ہم آہنگ نہیں
وہ بھی اب نقد حکومت کو پرکھتے ہیں ضرورجن کو اب تک بھی تمیز گہر و سنگ نہیں
قوم میں پھونکتے رہتے ہیں جو افسون وفاان کی افسانہ طرازی کا بھی وہ ڈھنگ نہیں
وہ بھی کہتے ہیں کہ اس جنس وفا کی قیمتجس قدر ملتی ہے ذرہ کے بھی ہم سنگ نہیں
آگے تھے حلقۂ تقلید میں جو لوگ اسیرسست رفتار تو اب بھی ہیں مگر لنگ نہیں
آپ لبرل جو نہیں ہیں تو بلا سے نہ سہییاں کسی کو طلب افسر و اورنگ نہیں
کام کرنے کے بہت سے ہیں جو کرنا چاہیںاب بھی یہ دائرۂ سعی و عمل تنگ نہیں
سال میں یہ جو تماشا سا ہوا کرتا ہےکام کرنے کا یہ انداز نہیں ڈھنگ نہیں
کچھ تو نظم و نسق ملک میں بھی دیجئے دخلشیوۂ حق طلبی ہے یہ کوئی جنگ نہیں
کچھ نہ کچھ نظم حکومت میں ہے اصلاح ضرورہم نہ مانیں گے کہ اس آئینہ میں زنگ نہیں
کم سے کم حاکم اضلاع تو ہوں اہل وطنکیا ہزاروں میں کوئی صاحب فرہنگ نہیں
¿Qué te deja este capítulo?
Inicia sesión para reaccionar
Conversación
Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.