
Chapter 7 of 8
The Wedding
بیاہ
ٹھاٹھ گسائیں مہندر گر کا
جب کنور اودے بھان اس روپ سے بیاہنے چڑھے، اور وہ بامھن جو اندھیری کوٹھری میں موندا ہوا تھا، اس کو بھی ساتھ لے لیا، اور بہت سے ہاتھ جوڑے اور کہا: "بامھن دیوتا، ہمارے کہنے سننے پر نہ جاؤ۔ تمھاری جو ریت ہوتی چلی آئی ہے، بتاتے چلو۔" ایک اڑن کھٹولے پر وہ بھی ریت بتانے کو ساتھ ہوا۔ راجہ اندر اور گسائیں مہندر گر ایراوت ہاتھی پر جھومتے جھامتے، دیکھتے بھالتے، سارا اکھاڑا لیے چلے جاتے تھے۔ راجہ سورج بھان دولہے کے گھوڑے کے ساتھ مالا جپتا ہوا پیدل تھا۔ اتنے میں ایک سناٹا ہوا، سب گھبرا گئے۔ اس سناٹے میں سے وہ جو جوگی کے نوے لاکھ اتیت بنے تھے، سب کے سب جوگی بنے ہوئے، موتیوں کی لڑیوں کی سیلی گلوں میں ڈالے، گاتیاں اسی ڈھب کی باندھے، مرگ چھالوں اور بگھمبروں پر آ ٹپکے۔ انھوں کے جیوں میں جتنی امنگیں چھا رہی تھیں، وہ چوگنی پچگنی ہو گئیں۔ سکھپال اور چنڈولوں پر اور رتھوں پر جتنی رانیاں مہارانی لچھمی باس کے پیچھے چلی آتی تھیں، سب کو گدگدیاں سی ہونے لگیں۔
اس میں کہیں بھرتری کا سانگ آیا، کہیں جوگی جے پال آ کھڑے ہوئے، کہیں مہادیو جی اور پاربتی جی دکھائی پڑے، کہیں گورکھ جاگے، کہیں مچھندر ناتھ بھاگے، کہیں مچھ، کچھ، براہ سنمکھ ہوئے، کہیں پرسرام، کہیں باون روپ، کہیں ہرناکس اور نرسنگھ، کہیں رام لچھمن سیتا سامنے آئے، کہیں راون اور لنکا کا بکھیڑا سارے کا سارا دکھائی دینے لگا، کہیں کنہیا جی کا جنم اشٹمی ہونا، اور باسدیو کا گوکل لے جانا، اور ان کا اس روپ سے بڑھ چلنا، اور گائیں چرانی، اور مورلی بجانی، اور گوپیوں سے دھومیں مچانی، اور رادھا کا رس، کبجا کا بس کر لینا، کہیں بنسی بٹ، چیر گھاٹ، بندرا بن، کریل کی کنج، بندرا بن سیوا کنج، برسانے میں رہنا، اور اس کنہیا سے جو جو کچھ ہوا تھا، سب کا سب جیوں کا تیوں آنکھوں میں آنا، اور دوارکا میں جانا، اور وہیں سونے کے گھر بنانا، اور پھر برج کو نہ آنا، اور سولہ سو گوپیوں کا تلملانا سامنے آ گیا۔ ان گوپیوں میں سے اودھو کا ہاتھ پکڑ کر ایک گوپی کے اس کہنے نے سب کو رولا دیا، جو اس ڈھب سے بول کے روندھے ہوئے جی کو کھولتی تھی:
کبت
جب چھانڑ کریل کی کنجن کوں ہری دوارکا جیو ماں جاے بسی
کلدھوت کے دھام بنائے گھنے مہراجن کے مہاراج بھئے
تج مور مکٹ اور کامریا کچھو اور ہی ناتے جوڑ لئے
دھرے روپ نئے کئے نیہہ نئے اور گیاں چرائیبو بھول گئے
اچھا پنا گھاٹوں کا
جتنے گھاٹ دونوں راج کی ندیوں میں تھے، کچی چاندی کے تھکے سے ہو کر لوگوں کو ہکا بکا کر رہے تھے۔ نوارے، بجرے، لچکے، مور پنکھی، سونا مکھی، سیام سندر، رام سندر، اور جتنی ڈھب کی ناویں تھیں، ستھرے روپ سے سجی سجائی، کسی کسائی، سو سو لچکیں کھاتیاں، آتیاں جاتیاں، لہراتیاں، پڑی پھرتیاں تھیں۔ ان سب پر یہی گویے، کنچنیاں، رام جنیاں، ڈومنیاں کھچا کھچ بھری اپنے اپنے کرتب میں ناچتی، گاتی بجاتی، کودتی پھاندتی، دھومیں مچاتیاں، انگڑائیاں جمہائیاں، انگلیاں نچاتیاں، اور ڈھلی پھرتیاں تھیں۔ اور کوئی ناو ایسی نہ تھی جو سونے روپے کے پتروں سے منڈھی ہوئی اور اساوری سے ڈھکی ہوئی نہ ہو۔ اور بہت سی ناوؤں پر ہنڈولے بھی اسی ڈھب کے، ان پر گائنیں بیٹھی جھولتی ہوئیں سوہلے، کدارے اور باگیسری کانھڑے میں گا رہیں تھیں۔ دل بادل ایسے نواڑوں کے سب جھیلوں میں بھی چھا رہے تھے۔
آ پہنچنا کنور اودے بھان کا بیاہنے کے ٹھاٹھ کے ساتھ دولہن کی ڈیوڑھی پر
اس دھوم دھام کے ساتھ کنور اودے بھان سہرا باندھے جب دولہن کے گھر تلک آن پہنچا، اور جو ریتیں ان کے گھرانے میں ہوتی چلی آتیاں تھیں ہونے لگیاں، مدن بان رانی کیتکی سے ٹھٹھولی کر کے بولی: "اب سکھ سمیٹیے، بھر بھر جھولی۔ سر نہوڑائے کیا بیٹھی ہو؟ آو نہ، ٹک ہم تم مل کے جھروکوں سے انھیں جھانکیں۔" رانی کیتکی نے کہا: "اری، ایسی نلجی باتیں ہم سے نہ کر۔ ایسی ہمیں کیا پڑی، جو اس گھڑی ایسی کڑی جھیل کر ریل پیل میں اٹھیں، اور تیل پھلیل میں بھری ہوئی ان کے جھانکنے کو جا کھڑی ہوں؟" مدن بان اس رکھائی کو اوڑن گھائی کے ٹوبھڑی کی اٹھیوں میں کر بولی، دوہے اپنی بولی میں:
دوہا
یوں تو دیکھو واچھڑے جی واچھڑےہم سے اب آنے لگی ہیں آپ یوں مہرے کڑے
چھان مارے بن کے بن تھے آپ نے جن کے لیےوہ ہرن جوبن کے مد میں ہیں بنے دولہا کھڑے
تم نہ جاو دیکھنے کو جو انھیں، کچھ بات ہےجھانکتے اس دھیان میں ہیں ان کو سب چھوٹے بڑے
ہے کہاوت "جی کو بھاوے یوں ہی پر منڈیا ہلائے"لے چلیں گے آپ کو ہم ہیں اسی دھن پر اڑے
سانس ٹھنڈی بھر کے رانی کیتکی بولی کہ سچسب تو اچھا کچھ ہوا پر اب بکھیڑے میں پڑے
واری پھیری ہونا مدن بان کا رانی کیتکی پر، اور اس کی باس کا سونگھنا، اور انیدے پن سے اونگھنا
اس گھڑی کچھ مدن بان کو رانی کیتکی کے مانجھے کا جوڑا، اور بھینا بھینا پن، اور انکھڑیوں کا لجانا، اور بکھرا بکھرا جانا بھلا لگ گیا، تو رانی کیتکی کی باس سونگھنے لگی، اور اپنی آنکھوں کو ایسا کر لیا جیسے کوئی کسی کو اونگھنی لگتی ہے۔ سر سے لگا پاؤں تک واری پھیری ہو کے تلوے سہلانے لگی۔ رانی کیتکی جھٹ سے دھیمے سے ہنس کے لچکے کے ساتھ اٹھی۔ مدن بان بولی: "میرے ہاتھ کے ٹھوکے سے وہی پانو کا چھالا دکھ گیا ہو گا جو ہرنوں کی ڈھونڈا ڈھونڈھ میں پڑ گیا تھا۔" ایسی دکھتی چٹکی کی چوٹ سے مسوس کر رانی کیتکی نے کہا: "کانٹا اڑا تو اڑا، اور چھالا پڑا تو پڑا، پر نگوڑی تو کیوں میرا پنچھالا ہوئی؟"
سراہنا رانی کیتکی کے جوبن کا
رانی کیتکی کا بھلا لگنا لکھنے پڑھنے سے باہر ہے۔ وہ دونوں بھووں کی کھچاوٹ، اور پتلیوں میں لاج کی سماوٹ، اور نکیلی پلکوں کی روندھاہٹ، اور ہنسی کی لگاوٹ، اور دنتڑیوں میں مسیوں کی اوداہٹ، اور اتنی سی رکاوٹ سے ناک اور تیوری چڑھا لینا، اور سہیلیوں کا گالیاں دینا، اور چل نکلنا، اور ہرنیوں کے روپ سے کرچھالیں مار پرے اوچھلنا، کچھ کہنے میں نہیں آتا۔
سراہنا کنور جی کے جوبن کا
کنور اودے بھان کے اچھے پن میں کچھ چل نکلنا کسی سے ہو نہ سکے۔ ہائے رے! ان کی اوبھار کے دنوں کا سہانا پن، اور چال ڈھال کا اچھن پچھن، اٹھتی ہوئی کونپل کی پھبن، اور مکھڑے کا گدرایا ہوا جوبن، جیسے بڑے تڑکے ہرے بھرے پہاڑوں کی گود سے سورج کی کرن نکل آتی ہے، یہی روپ تھا۔ ان کی بھیگتی مسوں سے رس کا ٹپکا پڑنا، اور اپنی پرچھائیں دیکھ کر اکڑنا، جہاں تہاں چھانہہ اس کا ڈول ٹھیک ٹھاک، ان کے پانوں تلے جیسے دھوپ تھی۔
دولہا اودے بھان کا سنگھاسن پر بیٹھنا
دولہا اودے بھان سنگھاسن پر بیٹھا۔ ادھر ادھر راجہ اندر اور جوگی مہندر گر جم گئے۔ دولہا کا باپ اپنے بیٹے کے پیچھے مالا لیے کچھ کچھ گنگنانے لگا، اور ناچ لگا ہونے۔ اور ادھر میں جو اڑن کھٹولے اندر کے اکھاڑے کے تھے، سب کے سب اس روپ سے چھت باندھے ہوئے تھرکا کیے۔ مہا رانیاں دونوں سمدھنیں آپس میں ملیاں جلیاں، اور دیکھنے داکھنے کو کوٹھوں پر چندن کے کواڑوں کے اڑتلوں میں آ بیٹھیاں۔ سانگ سنگیت، بھنڈ تال، رہس ہونے لگا۔ جتنے راگ اور راگنیاں تھیں: یمن کلیان، جھنجھوٹی، کانڑا، کھماج، سوہنی، پرج، بہاگ، سورٹھ، کالنگڑا، بھیرویں، کھٹ للت، بھیروں، روپ پکڑے ہوئے سچ مچ کے جیسے گانے والے ہوتے ہیں، اسی روپ سے اپنے اپنے سمے پر گانے لگے اور گانے لگیاں۔ اس ناچ کا جو بھاؤ تاؤ رچاوٹ کے ساتھ ہوا، کس کا منہ جو کہہ سکے؟
جتنے وہاں کے سکھ چین کے گھر تھے: مادھو بلاس، رس دھام، کشن نواس، مچھی بھون، چندر بھون، سب کے سب لپے سے لپٹی، اور سچے موتیوں کے جھالریں اپنی اپنی گانٹھ میں سمیٹے ہوئے، ایک پھبن کے ساتھ متوالوں کے روپ سے جھوم جھوم بیٹھنے والوں کے منہ چوم رہے تھے۔ بیچوں بیچ ان سب گھروں کے ایک آرسی دھام بنایا تھا، جس کی چھت اور کواڑ اور آنگن میں آرسی چھٹ لکڑی اینٹ پتھر کے پٹ ایک انگلی کے پورے بھر نہ تھی۔ جالی کا جوڑا پہنے ہوئے چودھویں رات جب گھڑی چھ ایک رہ گئی، تب رانی کیتکی سی دولہن کو اس آرسی بھون میں بیٹھا کر دولہا کو بلا بھیجا۔ کنور اودے بھان کنہیا بنا ہوا، سر پر مکٹ دھرے، سہرا باندھے، اسی تڑاوے اور جمگھٹ کے ساتھ چاند سا مکھڑا لیے جا پہنچا۔ جس جس ڈھب سے بامھن اور پنڈت کہتے گئے، اور جو مہاراجوں میں ریتیں چلی آتیاں تھیں، اسی ڈول سے اسی روپ سے بھونری گٹھ جوڑا سب کچھ ہو لیا۔
دوہے اپنی بولی کے
اب اودے بھان اور رانی کیتکی دونوں ملےآس کے جو پھول کمہلائے ہوئے تھے پھر کھلے
چین ہوتا ہی نہ تھا جس ایک کو اس ایک بنرہنے سہنے سو لگے آپس میں اپنے رات دن
اے کھلاڑی یہ بہت تھا کچھ نہیں تھوڑا ہواآن کر آپس میں جو دونوں کا گٹھ جوڑا ہوا
چاہ کے ڈوبے ہوئے اے میرے داتا سب تریںدن پھرے جیسے انھوں کے ایسے اپنے دن پھریں
وے اوڑن کھٹولے والیاں جو ادھر میں چھت باندھے ہوئے تھرک رہی تھیں، بھر بھر جھولیاں اور مٹھیاں ہیرے اور موتیوں سے نچھاور کرنے کے لیے اوتر آئیاں، اور اوڑن کھٹولے جوں کے توں ادھر میں چھت باندھے ہوئے کھڑے رہے۔ دولہ دولہن پر سے ساتھ ساتھ واری پھیرے ہونے میں پس پس گیاں، اور ان سبھوں کو ایک ہچکی سی لگ گئی۔
راجہ اندر نے دولہن کی منہ دکھائی میں ایک ہیرے کا اکڈال چھپر کھٹ اور ایک پیڑھی پکھراج کی دی، اور ایک پارجات کا پودھا، جس سے جو مانگیے سو ہی ملے، دولہن کے سامنے لگا دیا، اور ایک کام دھین گائے کی پٹھیا بھی اس کے نیچے باندھ دی۔ اور اکیس لونڈیاں انھیں اوڑن کھٹولے والیوں سے، جن کے اچھے سے اچھے ستھری گاتی بجاتیاں، سیتی پروتیاں، سگھڑ سے سگھڑ سونپیں، اور انھیں کہہ دیا: "رانی کیتکی چھٹ ان کے دولہ سے کچھ بات چیت نہ رکھیو، تمھارے کان پہلے سے مروڑے دیتا ہوں، نہیں تو سب کی سب پتھر کی مورتیں بن جاؤ گی اور اپنا کیا آپ پاؤ گی۔"
اور گسائیں مہندر گر جی نے باون تولے پاؤ رتی جو سنتے ہیں، اس کے اکیس مٹکے آگے رکھ کے کہا: "یہ بھی ایک کھیل ہے۔ جب چاہیے، تو بہت سا تانبا گلا کے ایک اتنی سی اس کی چھوڑ دیجیے، کنچن ہو جائے گا۔" اور جوگی نے یہ سبھوں سے کہہ دیا: "جو لوگ ان کے بیاہ میں جاگے ہیں، ان کے گھروں میں چالیس دن رات سونے کی ٹڈیوں کے روپ میں مینہ برسیں، اور جب تک جئیں کسی بات کو پھر نہ ترسیں۔" نو لاکھ ننانوے گائیں سونے روپے کی سنگھوٹیوں کی، جڑاو گہنا پہنے ہوئے، گھنگرو جھنجھناتیاں، بامھنوں کو دان ہوئیں، اور سات برس کا پیسا سارے راج کو چھوڑ دیا۔ بائیس سے ہاتھی اور چھتیس سے اونٹ لدے ہوئے روپیوں کے لٹا دیے۔ کوئی اس بھیڑ بھاڑ میں دونوں راج کا رہنے والا ایسا نہ رہا جس کو گھوڑا، جوڑا، روپیوں کا توڑا، سونے کی جڑاو کڑوں کی جوڑی نہ ملی ہو۔ اور مدن بان چھٹ دولہ دولہن پاس کسی کا ہواو نہ تھا جو بن بلائے چلی جائے۔ بن بلائے دوڑی آئے تو وہی آئے، اور ہنساوے تو وہی ہنسائے۔ رانی کیتکی کے چھیڑنے کو ان کے کنور اودے بھان کو "کنور کنور جی" کہہ کے پکارتی تھی، اور اسی بات کو سو سو روپ سے سنوارتی تھی۔
دوہے اپنی بولی کے
گھر بسا جس رات انھوں کا تب مدن بان اس گھڑیکہہ گئی دولہ دولہن کو ایسی سو باتیں کڑی
باس پا کر کیوڑے کی کیتکی کا جی کھلاسچ ہے ان دونوں جنوں کو اب کسی کی کیا پڑی
کیا نہ آئی لاج کچھ اپنے پرائے کی اجیتھی ابھی اس بات کی ایسی ابھی کیا ہڑبڑی
دولہن نے اپنے گھونگٹ سی کہا
جی میں آتا ہے ترے ہونٹوں کو مل ڈالوں ابھیبل بے اے رنڈی ترے دانتوں کی مسی کی دھڑی
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.