Urdu in Translation
Search

Chapter 5 of 13

The Conditions of Poetry: Imagination, Study of the World, Choice of Words

شاعری کی شرطیں: تخیل، مطالعۂ کائنات، تفحص الفاظ

Altaf Husain Hali

Script
Size

شاعری کے لیے کیا کیا شرطیں ضروری ہیں

امید ہے کہ ان مثالوں سے شاعر اور غیر شاعر کے کلام میں، اور نیز شعر اور مصوری میں، جو فرق ہے وہ بخوبی ظاہر ہو گیا ہوگا۔ اب ہم کو یہ بتانا ہے کہ شاعری میں کمال حاصل کرنے کے لیے کونسی شرطیں ضروری ہیں، اور شاعر میں وہ کونسی خاصیت ہے جو اس کو غیر شاعر سے تمیز دیتی ہے۔

تخیل

سب سے مقدم اور ضروری چیز جو کہ شاعر کو غیر شاعر سے تمیز دیتی ہے، قوت متخیلہ یا تخیل ہے، جس کو انگریزی میں امیجنیشن کہتے ہیں۔ یہ قوت جس قدر شاعر میں اعلیٰ درجہ کی ہوگی اسی قدر اس کی شاعری اعلیٰ درجہ کی ہوگی، اور جس قدر یہ ادنیٰ درجہ کی ہوگی اسی قدر اس کی شاعری ادنیٰ درجہ کی ہوگی۔ یہ وہ ملکہ ہے جس کو شاعر ماں کے پیٹ سے اپنے ساتھ لے کر نکلتا ہے، اور جو اکتساب سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ اگر شاعر کی ذات میں یہ ملکہ موجود ہے اور باقی شرطوں میں جو کہ کمال شاعری کے لیے ضروری ہیں کچھ کمی ہے، تو وہ اس کمی کا تدارک اس ملکہ سے کر سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ ملکہ فطری کسی میں موجود نہیں ہے تو اور ضروری شرطوں کا کتنا ہی بڑا مجموعہ اس کے قبضہ میں ہو، وہ ہرگز شاعر کہلانے کا مستحق نہیں ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جو شاعر کو وقت اور زمانہ کی قید سے آزاد کرتی ہے، اور ماضی و استقبال کو اس کے لیے زمانۂ حال میں کھینچ لاتی ہے۔ وہ آدم اور جنت کی سرگذشت اور حشر و نشر کا بیان اس طرح کرتا ہے کہ گویا اس نے تمام واقعات اپنی آنکھ سے دیکھے ہیں، اور ہر شخص اس سے ایسا ہی متاثر ہوتا ہے جیسا کہ ایک واقعی بیان سے ہونا چاہیے۔ اس میں یہ طاقت ہوتی ہے کہ وہ جن اور پری، عنقا اور آب حیواں جیسی فرضی اور معدوم چیزوں کو ایسے معقول اوصاف کے ساتھ متصف کر سکتا ہے کہ ان کی تصویر آنکھوں کے سامنے پھر جاتی ہے۔ جو نتیجے وہ نکالتا ہے گو وہ منطق کے قاعدوں پر منطبق نہیں ہوتے، لیکن جب دل اپنی معمولی حالت سے کسی قدر بلند ہو جاتا ہے تو وہ بالکل ٹھیک معلوم ہوتے ہیں۔ مثلاً فیضی کہتا ہے:

سخت ست سیاہی شب من / لختے ز شب ست کوکب من

اس پر منطقی قاعدہ سے یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ رات کی تاریکی سب کے لیے یکساں ہوتی ہے، پھر ایک خاص شخص کی رات سب سے زیادہ تاریک کیونکر ہو سکتی ہے؛ اور تمام کوکب ایسے اجرام ہیں جن کا وجود بغیر روشنی کے تصور میں نہیں آ سکتا، پھر ایک خاص کوکب ایسا مظلم اور سیاہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ اس کو کالی رات کا ایک ٹکڑا کہا جا سکے۔ مگر جس عالم میں شاعر اپنے تئیں دکھانا چاہتا ہے وہاں یہ سب ناممکن باتیں ممکن بلکہ موجود نظر آتی ہیں۔ یہی وہ ملکہ ہے جس سے بعض اوقات شاعر کا ایک لفظ جادو کی فوج سامنے کھڑی کر دیتا ہے، اور کبھی وہ ایک ایسے خیال کو جو کئی جلدوں میں بیان ہو سکے ایک لفظ میں ادا کر دیتا ہے۔

تخیل کی تعریف

تخیل یا امیجنیشن کی تعریف کرنی بھی ایسی ہی مشکل ہے جیسی کہ شعر کی تعریف، مگر من وجہ اس کی ماہیت کا خیال ان لفظوں سے دل میں پیدا ہو سکتا ہے، یعنی وہ ایک ایسی قوت ہے کہ معلومات کا ذخیرہ جو تجربہ یا مشاہدہ کے ذریعہ سے ذہن میں پہلے سے مہیا ہوتا ہے، یہ اس کو مکرر ترتیب دے کر ایک نئی صورت بخشتی ہے، اور پھر اس کو الفاظ کے ایسے دلکش پیرایہ میں جلوہ گر کرتی ہے جو معمولی پیرایوں سے بالکل یا کسی قدر الگ ہوتا ہے۔ اس تقریر سے ظاہر ہے کہ تخیل کا عمل اور تصرف جس طرح خیالات میں ہوتا ہے اسی طرح الفاظ میں بھی ہوتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات شاعر کا طریقۂ بیان ایسا نرالا اور عجیب ہوتا ہے کہ غیر شاعر کا ذہن کبھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہی ایک چیز ہے جو کبھی تصورات اور خیالات میں تصرف کرتی ہے اور کبھی الفاظ و عبارات میں۔ اگرچہ اس قوت کا ہر ایک شاعر کی ذات میں موجود ہونا نہایت ضروری ہے، لیکن ہمارے نزدیک اس کا عمل شاعر کے ہر ایک کلام میں یکساں نہیں ہوتا، بلکہ کہیں زیادہ ہوتا ہے کہیں کم ہوتا ہے، اور کہیں محض خیالات میں ہوتا ہے، کہیں محض الفاظ میں۔ یہاں چند مثالیں بیان کرنی مناسب معلوم ہوتی ہیں۔

(۱) غالب دہلوی:

اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا / جام جم سے یہ مرا جام سفال اچھا ہے

شاعر کے ذہن میں پہلے سے اپنی اپنی جگہ یہ باتیں ترتیب وار موجود تھیں کہ مٹی کا کوزہ ایک نہایت کم قیمت اور ارزاں چیز ہے جو بازار میں ہر وقت مل سکتی ہے، اور جام جمشید ایک ایسی چیز تھی جس کا بدل دنیا میں موجود نہ تھا۔ اس کو یہ بھی معلوم تھا کہ تمام عالم کے نزدیک جام سفال میں کوئی خوبی ایسی نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ جام جم جیسی چیز سے فائق اور افضل سمجھا جائے۔ نیز یہ بھی معلوم تھا کہ جام جم میں شراب پی جاتی تھی اور مٹی کے کوزہ میں بھی شراب پی جا سکتی ہے۔ اب قوت متخیلہ نے ان تمام معلومات کو ایک نئے ڈھنگ سے ترتیب دے کر ایسی صورت میں جلوہ گر کر دیا کہ جام سفال کے آگے جام جم کی کچھ حقیقت نہ رہی، اور پھر اس صورت موجودہ فی الذہن کو بیان کا ایک دلفریب پیرایہ دے کر اس قابل کر دیا کہ زبان اس کو پڑھ کر متلذذ اور کان اس کو سن کر محظوظ اور دل اس کو سمجھ کر متاثر ہو سکے۔ اس مثال میں وہ قوت جس نے شاعر کی معلومات سابقہ کو دوبارہ ترتیب دے کر ایک نئی صورت بخشی ہے، وہ تخیل یا امیجنیشن ہے؛ اور اس نئی صورت موجودہ فی الذہن نے جب الفاظ کا لباس پہن کر عالم محسوسات میں قدم رکھا ہے، اس کا نام شعر ہے۔ نیز اس مثال میں امیجنیشن کا عمل خیالات اور الفاظ دونو کے لحاظ سے بمرتبۂ غایت اعلیٰ درجہ میں واقع ہوا ہے، کہ باوجود کمال سادگی اور بے ساختگی کے نہایت بلند اور نہایت تعجب انگیز ہے۔

(۲) غالب کا اسی زمین میں دوسرا شعر یہ ہے:

ان کے آنے سے جو آ جاتی ہے رونق منہ پر / وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

شاعر کو پہلے سے یہ بات معلوم تھی کہ دوست کے ملنے سے خوشی ہوتی ہے اور بگڑی ہوئی طبیعت بحال ہو جاتی ہے۔ نیز یہ بھی معلوم تھا کہ دوست کو جب تک عاشق اپنی حالت زار اور اس کی جدائی کا صدمہ نہ جتائے، دوست عاشق کی محبت اور عشق کا پورا پورا یقین نہیں کر سکتا۔ یہ بھی معلوم تھا کہ بعضی خوشی سے دفعۃً ایسی بشاشت ہو سکتی ہے کہ رنج اور غم اور تکلیف کا مطلق اثر چہرہ پر باقی نہ رہے۔ اب امیجنیشن نے ان تمام معلومات میں اپنا تصرف کر کے ایک نئی ترتیب پیدا کر دی، یعنی یہ کہ عاشق کسی طرح اپنی جدائی کے زمانہ کی تکلیفیں معشوق پر ظاہر نہیں کر سکتا، کیونکہ جب تکلیف کا وقت ہوتا ہے اس وقت معشوق نہیں ہوتا، اور جب معشوق ہوتا ہے اس وقت تکلیف نہیں رہتی۔ اس مثال میں بھی امیجنیشن کا عمل معنیً اور لفظاً دونو طرح بدرجۂ غایت لطیف اور حیرت انگیز واقع ہوا ہے، جیسا کہ ہر صاحب ذوق سلیم پر ظاہر ہے۔

(۳) خواجہ حافظ کہتے ہیں:

صبا بلطف بگو آں غزال رعنا را / کہ سر بکوہ و بیاباں تو دادۂ ما را

اس شعر کا خلاصۂ مطلب اس سے زیادہ نہیں ہے کہ ہم صرف معشوق کی بدولت پہاڑوں اور جنگلوں میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس میں امیجنیشن کا عمل خیالات میں اگر ہو بھی تو نہایت خفیف اور مختصر ہوگا، مگر الفاظ میں اس نے وہ کرشمہ دکھایا ہے جس نے شعر کو بلاغت کے اعلیٰ درجہ پر پہنچا دیا ہے۔ اسی قسم کے کلام کی نسبت کہا گیا ہے: "عبارتے کہ بمعنی برابری دارد"۔ اول تو صبا کی طرف خطاب کرنا، جس میں یہ اشارہ ہے کہ کوئی ذریعہ دوست تک پیغام پہنچانے کا نظر نہیں آتا؛ ناچار صبا کو یہ سمجھ کر پیغامبر بنایا ہے کہ وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتی ہے، شاید دوست تک بھی اس کا گذر ہو جائے۔ گویا شوق نے ایسا ازخود رفتہ کر دیا ہے کہ جو چیز پیغامبر ہونے کی قابلیت نہیں رکھتی اس کے ہاتھ پیغام بھیجتا ہے اور جواب کا امیدوار ہے۔ پھر معشوق حقیقی کو، جس کی ذات بے نشاں ہے، بطور استعارہ کے غزال رعنا کے ساتھ تعبیر کرنا، جس سے بہتر استعارہ نہیں ہو سکتا؛ اور پھر اس کی طلب کو غزال رعنا کی مناسبت سے کوہ و بیابان میں پھرنے سے تعبیر کرنا؛ اور پھر باوجود ضمیر متصل کے، جو کہ "دادۂ" میں موجود تھی، ضمیر مخاطب منفصل یعنی لفظ "تو" اضافہ کرنا، جس سے پایا جائے کہ تیرے سوا کوئی شے ہماری اس سرگشتگی کا باعث نہیں ہے؛ اور چونکہ پیغام شکایت آمیز تھا اس لیے صبا سے یہ درخواست کرنی کہ "بلطف بگو"، یعنی نرمی اور ادب سے یہ پیغام دینا تاکہ شکایت ناگوار نہ گزرے۔ یہ تمام باتیں ایسی ہیں جنھوں نے ایک معمولی بات کو اس قدر بلند کر دیا ہے کہ اعلیٰ درجہ کے باریک خیالات بھی اس سے زیادہ بلندی پر نہیں دکھائے جا سکتے۔

دوسری شرط کائنات کا مطالعہ

اگرچہ قوت متخیلہ اس حالت میں بھی، جبکہ شاعر کی معلومات کا دائرہ نہایت تنگ اور محدود ہو، اسی معمولی ذخیرہ سے کچھ نہ کچھ نتائج نکال سکتی ہے، لیکن شاعری میں کمال حاصل کرنے کے لیے یہ بھی ضرور ہے کہ نسخۂ کائنات اور اس میں سے خاص کر نسخۂ فطرت انسانی کا مطالعہ نہایت غور سے کیا جائے۔ انسان کی مختلف حالتیں جو زندگی میں اس کو پیش آتی ہیں ان کو تعمق کی نگاہ سے دیکھنا؛ جو امور مشاہدہ میں آئیں ان کے ترتیب دینے کی عادت ڈالنی؛ کائنات میں گہری نظر سے وہ خواص اور کیفیات مشاہدہ کرنے جو عام آنکھوں سے مخفی ہوں؛ اور فکر میں مشق و مہارت سے یہ طاقت پیدا کرنی کہ وہ مختلف چیزوں سے متحد اور متحد چیزوں سے مختلف خاصیتیں فوراً اخذ کر سکے، اور اس سرمایہ کو اپنی یاد کے خزانہ میں محفوظ رکھے۔

مختلف چیزوں سے متحد خاصیت اخذ کرنے کی مثال ایسی ہے جیسے مرزا غالب کہتے ہیں:

بوئے گل، نالۂ دل، دود چراغ محفل / جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا

دوسری مثال:

بگذر ز سعادت و نحوست کہ مرا / ناہید بغمزہ کشت و مریخ بقہر

ناہید یعنی زہرہ کو سعد اور مریخ کو نحس مانا گیا ہے، پس دونو باعتبار ذات اور صفات کے مختلف ہیں؛ مگر شاعر کہتا ہے کہ ان کے سعادت و نحوست کے اختلاف کو رہنے دو، مجھ پر تو ان کا اثر یکساں ہی ہوتا ہے: مریخ قہر سے قتل کرتا ہے تو زہرہ غمزہ سے۔

اور متحد اشیا سے مختلف خاصیتیں استنباط کرنے کی مثال میر ممنون کا یہ شعر ہے:

تفاوت قامت یار و قیامت میں ہے کیا ممنوں / وہی فتنہ ہے لیکن یاں ذرا سانچے میں ڈھلتا ہے

یعنی قامت معشوق اور قیامت فتنہ ہونے میں تو دونو متحد ہیں، مگر فرق یہ ہے کہ فتنۂ قیامت سانچے میں ڈھلا ہوا نہیں ہے اور قامت معشوق سانچے میں ڈھلا ہوا ہے۔

غرضکہ یہ تمام باتیں جو اوپر ذکر کی گئیں ایسی ضروری ہیں کہ کوئی شاعر ان سے استغنا کا دعویٰ نہیں کر سکتا، کیونکہ ان کے بغیر قوت متخیلہ کو اپنی اصلی غذا، جس سے وہ نشو و نما پاتی ہے، نہیں پہنچتی، بلکہ اس کی طاقت آدھی سے بھی کم رہ جاتی ہے۔

قوت متخیلہ کوئی شے بغیر مادہ کے پیدا نہیں کر سکتی، بلکہ جو مصالح اس کو خارج سے ملتا ہے اس میں وہ اپنا تصرف کر کے ایک نئی شکل تراش لیتی ہے۔ جتنے بڑے بڑے نامور شاعر دنیا میں گذرے ہیں وہ کائنات یا فطرت انسانی کے مطالعہ میں ضرور مستغرق رہے ہیں۔ جب رفتہ رفتہ اس مطالعہ کی عادت ہو جاتی ہے تو ہر ایک چیز کو غور سے دیکھنے کا ملکہ ہو جاتا ہے، اور مشاہدوں کے خزانے گنجینۂ خیال میں خود بخود جمع ہونے لگتے ہیں۔

سر والٹر سکوٹ کی شاعری

سر والٹر سکوٹ، جو انگلستان کا ایک مشہور شاعر ہے، اس کی نسبت لکھا ہے کہ "اس کی خاص خاص نظموں میں دو خاصیتیں ایسی ہیں جن کو سب نے تسلیم کیا ہے: ایک اصلیت سے تجاوز نہ کرنا، دوسرے ایک ایک مطلب کو نئے نئے اسلوب سے ادا کرنا۔ جہاں کہیں اس نے کسی باغ یا جنگل یا پہاڑ کی فضا کا بیان کیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع کی روح میں جو خاصیتیں تھیں سر والٹر نے وہ سب انتخاب کر لی تھیں۔ سر والٹر کی نظم پڑھ کر آنکھوں کے سامنے بالکل وہی سماں بندھ جاتا ہے جو پہلے خود اس موقع کے دیکھنے سے معلوم ہوا تھا اور اب دھیان سے اتر گیا تھا۔ ظاہراً اس نے ان بیانات میں قوت متخیلہ پر ایسا بھروسا نہیں کیا کہ اصلیت کو چھوڑ کر محض تخیل ہی پر قناعت کر لیتا۔" کہتے ہیں کہ جب وہ روکبی کا قصہ لکھ رہا تھا، ایک شخص نے اس کو دیکھا کہ پاکٹ بک میں چھوٹے چھوٹے خودرو پھول پتے اور میوے جو وہاں اگ رہے تھے ان کو نوٹ کر رہا ہے۔ ایک دوست نے اس سے کہا کہ اس درد سر سے کیا فائدہ؟ کیا عام پھول کافی نہ تھے جو چھوٹے چھوٹے پھولوں کو ملاحظہ کرنے کی ضرورت پڑی؟ سر والٹر نے کہا: "تمام کائنات میں دو چیزیں بھی ایسی نہیں ہیں جو بالکل یکساں ہوں۔" پس جو شخص محض اپنے تخیل پر بھروسا کر کے مذکورۂ بالا مطالعہ سے چشم پوشی یا غفلت کرے گا، اس کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ اس کے دماغ میں چند معمولی تشبیہوں یا تمثیلوں کا ایک نہایت محدود ذخیرہ ہے جن کو برتتے برتتے خود اس کا جی اکتا جائے گا اور سامعین کو سنتے سنتے نفرت ہو جائے گی۔ جو شخص شعر کی ترتیب میں اصلیت کو ہاتھ سے نہیں دیتا اور محض ہوا پر اپنی عمارت کی بنیاد نہیں رکھتا، وہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ ایک مطلب کو جتنے اسلوبوں میں چاہے بیان کرے۔ اس کا تخیل اسی قدر وسیع ہوگا جس قدر کہ اس کا مطالعہ وسیع ہے۔

تیسری شرط تفحص الفاظ

کائنات کے مطالعہ کی عادت ڈالنے کے بعد دوسرا نہایت ضروری مطالعہ یا تفحص ان الفاظ کا ہے جن کے ذریعہ سے مخاطب کو اپنے خیالات مخاطب کے روبرو پیش کرنے ہیں۔ یہ دوسرا مطالعہ بھی ویسا ہی ضروری اور اہم ہے جیسا کہ پہلا۔ شعر کی ترتیب کے وقت اول متناسب الفاظ کا انتخاب کرنا، اور پھر ان کو ایسے طور پر ترتیب دینا کہ شعر سے معنی مقصود کے سمجھنے میں مخاطب کو کچھ تردد باقی نہ رہے، اور خیال کی تصویر ہو بہو آنکھوں کے سامنے پھر جائے، اور باوجود اس کے اس ترتیب میں ایک جادو مخفی ہو جو مخاطب کو مسخر کر لے، اس مرحلہ کا طے کرنا جس قدر دشوار ہے اسی قدر ضروری بھی ہے، کیونکہ اگر شعر میں یہ بات نہیں ہے تو اس کے کہنے سے نہ کہنا بہتر ہے۔ اگرچہ شاعر کے متخیلہ کو الفاظ کی ترتیب میں بھی ویسا ہی دخل ہے جیسا کہ خیالات کی ترتیب میں، لیکن اگر شاعر زبان کے ضروری حصہ پر حاوی نہیں ہے اور ترتیب شعر کے وقت صبر و استقلال کے ساتھ الفاظ کا تتبع اور تفحص نہیں کرتا، تو محض قوت متخیلہ کچھ کام نہیں آ سکتی۔

جن لوگوں کو یہ قدرت ہوتی ہے کہ شعر کے ذریعہ سے اپنے ہمجنسوں کے دل میں اثر پیدا کر سکتے ہیں، ان کو ایک ایک لفظ کی قدر و قیمت معلوم ہوتی ہے۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ فلاں لفظ جمہور کے جذبات پر کیا اثر رکھتا ہے، اور اس کے اختیار کرنے یا ترک کرنے سے کیا خاصیت بیان میں پیدا ہوتی ہے۔ نظم الفاظ میں اگر بال برابر بھی کمی رہ جاتی ہے تو وہ فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ ہمارے شعر میں کونسی بات کی کسر ہے۔ جس طرح ناقص سانچے میں ڈھلی ہوئی چیز فوراً چغلی کھاتی ہے، اسی طرح ان کے شعر میں اگر تاؤ بھاؤ بھی فرق رہ جاتا ہے، معاً ان کی نظر میں کھٹک جاتا ہے۔ اگرچہ وزن اور قافیہ کی قید ناقص اور کامل دونو قسم کے شاعروں کو اکثر اوقات ایسے لفظ کے استعمال پر مجبور کرتی ہے جو خیال کو بخوبی ادا کرنے سے قاصر ہے، مگر فرق صرف اس قدر ہے کہ ناقص شاعر تھوڑی سی جستجو کے بعد اسی لفظ پر قناعت کر لیتا ہے، اور کامل جب تک زبان کے تمام کوئیں نہیں جھانک لیتا تب تک اس لفظ پر قانع نہیں ہوتا۔ شاعر کو جب تک الفاظ پر کامل حکومت اور ان کی تلاش و جستجو میں نہایت صبر و استقلال حاصل نہ ہو، ممکن نہیں کہ وہ جمہور کے دلوں پر بالاستقلال حکومت کر سکے۔ ایک حکیم شاعر کا قول ہے کہ "شعر شاعر کے دماغ سے ہتھیار بند نہیں کودتا، بلکہ خیال کی ابتدائی ناہمواری سے لے کر انتہائی تنقیح و تہذیب تک بہت سے مرحلے طے کرنے ہوتے ہیں، جو کہ اب سامعین کو شاید محسوس نہ ہوں لیکن شاعر کو ضرور پیش آتے ہیں۔"

اس بحث کے متعلق چند امور ہیں جن کو فکر شعر کے وقت ضرور ملحوظ رکھنا چاہیے۔ اول خیالات کو صبر و تحمل کے ساتھ الفاظ کا لباس پہنانا، پھر ان کو جانچنا اور تولنا، اور ادائے معنی کے لحاظ سے ان میں جو قصور رہ جائے اس کو رفع کرنا۔ الفاظ کو ایسی ترتیب سے منتظم کرنا کہ صورۃً اگرچہ نثر سے متمیز ہو مگر معنی اسی قدر پورے ادا کرے جیسے کہ نثر میں ادا ہو سکتے۔ شاعر، بشرطیکہ شاعر ہو، اول تو وہ ان باتوں کا لحاظ وقت پر ضرور کرتا ہے؛ اور اگر کسی وجہ سے بالفعل اس کو زیادہ غور کرنے کا موقع نہیں ملتا، تو پھر جب کبھی وہ اپنے کلام کو اطمینان کے وقت دیکھتا ہے، اس کو ضرور کاٹ چھانٹ کرنی پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر بڑے بڑے شاعروں کا کلام مختلف نسخوں میں مختلف الفاظ کے ساتھ پایا جاتا ہے۔

آمد اور آورد میں فرق

اکثر لوگوں کی یہ رائے ہے کہ جو شعر شاعر کی زبان یا قلم سے فوراً بے ساختہ ٹپک پڑتا ہے، وہ اس شعر سے زیادہ لطیف اور بامزہ ہوتا ہے جو بہت دیر میں غور و فکر کے بعد مرتب کیا گیا ہو۔ پہلی صورت کا نام انھوں نے آمد رکھا ہے اور دوسری کا آورد۔ بعضے اس موقع پر یہ مثال دیتے ہیں کہ جو شیرہ انگور سے خود بخود ٹپکتا ہے وہ اس شیرہ سے زیادہ لطیف و بامزہ ہوتا ہے جو انگور سے نچوڑ کر نکالا جائے۔ مگر ہم اس رائے کو تسلیم نہیں کر سکتے۔ اول تو یہ مثال جو اس موقع پر دی جاتی ہے اسی سے اس رائے کے خلاف ثابت ہوتا ہے، کیونکہ جو شیرہ انگور سے خود بخود اس کے پک جانے کے بعد ٹپکتا ہے، وہ یقیناً اس شیرہ کی نسبت بہت دیر میں طیار ہوتا ہے جو کچے یا ادھ کچرے انگور سے نچوڑ کر نکالا جاتا ہے۔ مستثنیٰ حالتوں کے سوا ہمیشہ وہی شعر زیادہ مقبول، زیادہ لطیف، زیادہ بامزہ، زیادہ سنجیدہ اور زیادہ موثر ہوتا ہے جو کمال غور و فکر کے بعد مرتب کیا گیا ہو۔ یہ ممکن ہے کہ شاعر کسی موقع پر پاکیزہ خیالات، جو اس کے حافظہ میں پہلے سے ترتیب وار محفوظ ہوں، مناسب الفاظ میں جو حسن اتفاق سے فی الفور اس کے ذہن میں آ جائیں، ادا کر دے؛ لیکن اول تو ایسے اتفاقات شاذ و نادر ظہور میں آتے ہیں، والنادر کالمعدوم۔ دوسرے ان خیالات کو جو مدت سے انگور کے شیرہ کی طرح اس کے ذہن میں پک رہے تھے، کیونکر کہا جا سکتا ہے کہ وہ چھٹ پٹ بغیر غور و فکر کے سرانجام ہو گئے ہیں۔ شعر میں دو چیزیں ہوتی ہیں: ایک خیال، دوسرے الفاظ۔ خیال تو ممکن ہے کہ شاعر کے ذہن میں فوراً ترتیب پا جائے، مگر اس کے لیے الفاظ مناسب کا لباس تیار کرنے میں ضرور دیر لگے گی۔ یہ ممکن ہے کہ ایک مستری مکان کا نہایت عمدہ اور نرالا نقشہ ذہن میں فوراً تجویز کر لے، مگر یہ ممکن نہیں کہ اس نقشہ پر مکان بھی ایک چشم زدن میں تیار ہو جائے۔ وزن اور قافیہ کی اوگھٹ گھاٹی سے صحیح سلامت نکل جانا اور مناسب الفاظ کے تفحص سے عہدہ برآ ہونا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اگر ایک دن کا کام ایک گھنٹے میں کیا جائے گا تو وہ کام نہ ہوگا بلکہ بیگار ہوگی۔

روما کے مشہور شاعر ورجل کے حال میں لکھا ہے کہ صبح کو اپنے اشعار لکھواتا تھا اور دن بھر ان پر غور کرتا تھا اور ان کو چھانٹتا تھا، اور یہ کہا کرتا تھا کہ "ریچھنی بھی اسی طرح اپنے بدصورت بچوں کو چاٹ چاٹ کر خوبصورت بناتی ہے۔" ایرسٹو شاعر، جس کے کلام میں مشہور ہے کہ کمال بے ساختگی اور آمد معلوم ہوتی ہے، اس کے مسودے اب تک فیرارا علاقۂ اٹلی میں محفوظ ہیں۔ ان مسودوں کے دیکھنے والے کہتے ہیں کہ جو اشعار اس کے نہایت صاف اور سادے معلوم ہوتے ہیں وہ آٹھ آٹھ دفعہ کاٹ چھانٹ کرنے کے بعد لکھے گئے ہیں۔ ملٹن بھی اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ نہایت سخت محنت اور جانفشانی سے نظم لکھی جاتی ہے، اور نظم کی ایک ایک بیت میں اس کے سڈول ہونے سے پہلے کتنی ہی تبدیلیاں پے در پے کرنی پڑتی ہیں۔ ایک فارسی گو شاعر بھی فکر شعر کی حالت اس طرح بیان کرتا ہے:

برائے پاکی لفظے شبے بروز آرد / کہ مرغ و ماہی باشند خفتہ او بیدار

سچ یہ ہے کہ کوئی نظم جس نے کہ استقلال کے ساتھ جمہور کے دل پر اثر کیا ہو، خواہ طویل ہو خواہ مختصر، ایسی نہیں ہے جو بے تکلف لکھ کر پھینک دی گئی ہو۔ جس قدر کسی نظم میں زیادہ بے ساختگی اور آمد معلوم ہو، اسی قدر جاننا چاہیے کہ اس پر زیادہ محنت، زیادہ غور اور زیادہ حک و اصلاح کی گئی ہوگی۔

ابن رشیق اپنی کتاب عمدہ میں لکھتے ہیں کہ "جب شعر سرانجام ہو جائے تو اس پر بار بار نظر ڈالنی چاہیے، اور جہاں تک ہو سکے اس میں خوب تنقیح و تہذیب کرنی چاہیے۔ پھر بھی اگر شعر میں جودت اور خوبی پیدا نہ ہو تو اس کے دور کرنے میں پس و پیش نہ کرنا چاہیے، جیسا کہ اکثر شعرا کیا کرتے ہیں۔ انسان اپنے کلام پر اس لیے کہ وہ اس کی مجازی اولاد ہوتی ہے مفتوں اور فریفتہ ہوتا ہے؛ پس اگر اس کے دور کرنے میں مضائقہ کیا جائے گا تو ایک برے شعر کے سبب سارا کلام درجۂ بلاغت سے گر جائے گا۔"

انشا پردازی کا مدار زیادہ تر الفاظ پر ہے نہ معانی پر

ابن خلدون اسی الفاظ کی بحث کے متعلق کہتے ہیں کہ انشا پردازی کا ہنر نظم میں ہو یا نثر میں، محض الفاظ میں ہے، معانی میں ہرگز نہیں۔ معانی صرف الفاظ کے تابع ہیں اور اصل الفاظ ہیں۔ معانی ہر شخص کے ذہن میں موجود ہیں، پس ان کے لیے کسی ہنر کے اکتساب کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر ضرورت ہے تو صرف اس بات کی ہے کہ ان معانی کو کس طرح الفاظ میں ادا کیا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ الفاظ کو ایسا سمجھو جیسے پیالہ، اور معانی کو ایسا سمجھو جیسے پانی۔ پانی کو چاہو سونے کے پیالہ میں بھر لو، اور چاہو چاندی کے پیالہ میں، اور چاہو کانچ یا بلور یا سیپ کے پیالہ میں، اور چاہو مٹی کے پیالہ میں؛ پانی کی ذات میں کچھ فرق نہیں آتا۔ مگر سونے یا چاندی وغیرہ کے پیالہ میں اس کی قدر بڑھ جاتی ہے اور مٹی کے پیالہ میں کم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح معانی کی قدر ایک فصیح اور ماہر کے بیان میں زیادہ ہو جاتی ہے اور غیر فصیح کے بیان میں گھٹ جاتی ہے۔" مگر ہم ان کی جناب میں عرض کرتے ہیں کہ حضرت! اگر پانی کھاری یا گدلا یا بوجھل یا ادھن ہوگا، یا ایسی حالت میں پلایا جائے گا جبکہ اس کی پیاس مطلق نہ ہو، تو خواہ سونے یا چاندی کے پیالہ میں پلائیے، خواہ بلور اور پھٹک کے پیالہ میں، وہ ہرگز خوشگوار نہیں ہو سکتا اور ہرگز اس کی قدر نہیں بڑھ سکتی۔

ہم یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ شاعری کا مدار جس قدر الفاظ پر ہے اس قدر معانی پر نہیں۔ معنی کیسے ہی بلند اور لطیف ہوں، اگر عمدہ الفاظ میں بیان نہ کیے جائیں گے ہرگز دلوں میں گھر نہیں کر سکتے؛ اور ایک مبتذل مضمون پاکیزہ الفاظ میں ادا ہونے سے قابل تحسین ہو سکتا ہے۔ لیکن معانی سے یہ سمجھ کر کہ وہ ہر شخص کے ذہن میں موجود ہیں اور ان کے لیے کسی ہنر کے اکتساب کی ضرورت نہیں، بالکل قطع نظر کرنا ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ اگر شاعر کے ذہن میں صرف وہی چند محدود خیالات جمع ہیں جن کو اگلے شعرا باندھ گئے ہیں، یا صرف وہی معمولی باتیں اس کو بھی معلوم ہیں جیسی کہ عام لوگوں کو معلوم ہوتی ہیں، اور اس نے شاعری کی تکمیل کے لیے اپنی معلومات کو وسعت نہیں دی، اور صحیفۂ فطرت کے مطالعہ کی عادت نہیں ڈالی، اور قوت متخیلہ کے لیے زیادہ مصالح جمع نہیں کیا، گو زبان پر اس کو کیسی ہی قدرت اور الفاظ پر کیسا ہی قبضہ حاصل ہو، اس کو دو مشکلوں میں سے ایک مشکل ضرور پیش آئے گی: یا تو اس کو وہی خیالات جو اگلے شعرا باندھ چکے ہیں تھوڑے تھوڑے تغیر کے ساتھ انھیں کے اسلوب پر بار بار باندھنے پڑیں گے، یا ایک ایک مبتذل اور پامال مضمون کے لیے نئے نئے اسلوب بیان ڈھونڈھنے پڑیں گے، جن کا مقبول ہونا نہایت مشتبہ ہے اور نامقبول ہونا قرین قیاس۔

شعر میں کس قسم کی باتیں بیان کرنی چاہییں

اس کے سوا معنی کے متعلق ایک اور کمال حاصل کرنے کی ضرورت ہے جس کو الفاظ سے کچھ تعلق نہیں۔ صرف نیچر کا مطالعہ اور معلومات کا ذخیرہ جمع کر لینا ہی شاعر کا کام نہیں ہے، بلکہ ہر ایک شے کی روح میں جو خاصیتیں ہیں ان کا انتخاب کرنا اور ان کی تصویر کھینچنا شاعر کا کام ہے۔ شاعر مثلاً نباتات اور پھول اور پھل کو اس نظر سے نہیں دیکھتا جس نظر سے کہ ایک محقق علم نباتات کا دیکھتا ہے؛ یا وہ ایک واقعۂ تاریخی پر اس حیثیت سے نظر نہیں ڈالتا جس حیثیت سے کہ ایک مورخ نظر ڈالتا ہے۔ وہ ہر ایک شے میں سے صرف وہ خاصیتیں چن لیتا ہے جن پر قوت متخیلہ کا عمل چل سکے، اور جو عام نظروں سے مخفی ہوں؛ جس طرح ایک نیاریا ریت میں سے چاندی کے ذرے نکال لیتا ہے جو کسی کو نہیں سوجھتے، اسی طرح شاعر ہر ایک چیز اور ہر ایک واقعہ میں سے صرف ذوقیات لے لیتا ہے جن میں اس کے سوا کسی کا حصہ نہیں، اور باقی کو چھوڑ دیتا ہے۔ مثلاً سکندر کے مرنے کا حال اور اس کے اخیر وقت کے واقعات مورخین نے جو کچھ لکھے ہوں سو لکھے ہوں، مگر ایک مورلسٹ شاعر اس سے صرف یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ:

سکندر کہ بر عالمے حکم داشت / در آں دم کہ بگذشت و عالم گذاشتمیسر نبودش کزو عالمے / ستانند و مہلت دہندش دمے

یا فصل بہار میں بلبل ہزار داستان کے غیر معمولی چہچہے دیکھ کر ایک خواص حیوانات کا محقق اس کے جو کچھ اسباب قرار دے سو دے، مگر ایک متصوف شاعر اس کے یہ معنی بتاتا ہے:

بلبلے برگ گلے خوش رنگ در منقار داشت / و اندراں برگ و نوا خوش نالہ ہائے زار داشتگفتمش در عین وصل ایں نالہ و فریاد چیست / گفت مارا جلوۂ معشوق بر ایں کار داشت

پس یہ کہنا کہ شاعری کا کمال محض الفاظ میں ہے، معانی میں ہرگز نہیں، کسی طرح ٹھیک نہیں سمجھا جا سکتا۔

اعلیٰ طبقہ کے شعرا کا کلام یاد ہونا چاہیے

ابن رشیق کہتے ہیں کہ "شاعر کو اعلیٰ طبقہ کے شعرا کا کلام یاد ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنے شعر کی بنیاد اسی منوال پر رکھے۔ جو شخص اساتذہ کے کلام سے خالی الذہن ہوگا، اگر وہ محض طبیعت کی اپج سے کچھ لکھے بھی گا تو اس کو شعر نہیں بلکہ نظم ساقط از اعتبار یا ٹکسال باہر کہیں گے۔ پس جب اس کا حافظہ بلغا کے کلام سے پر ہو جائے اور ان کی روش ذہن کی لوح پر نقش ہو جائے، تب فکر شعر کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ اب جس قدر مشق زیادہ ہوگی اسی قدر ملکۂ شاعری مستحکم ہوگا۔"

ابن رشیق نے یہ ہدایت خاص عربی زبان کی نسبت کی ہے۔ شاید عربی زبان کے لیے یہ ہدایت مناسب ہو، کیونکہ وہاں ایک مدت دراز سے شاعری کا دور دورہ چلا آتا تھا؛ ہزار برس سے زیادہ گذر چکے تھے کہ ہر عہد اور طبقہ میں ایک سے ایک بہتر و برتر شاعر نظر آتا تھا؛ زبان میں بے انتہا وسعت پیدا ہو گئی تھی؛ ہر مطلب کے ادا کرنے کے لیے صدہا اسلوب اور پیرائے لٹریچر میں موجود تھے؛ شاید وہاں یہ بات ممکن ہو کہ ہر مطلب کے ادا کرنے کے لیے قدما کا اسلوب اختیار کیا جائے اور نئے اسلوب پیدا کرنے کی ضرورت نہ ہو۔ لیکن ایک ایسی ناتمام زبان جیسی کہ اردو ہے، جس کی شاعری ابھی تک محض طفولیت کی حالت میں ہے، جس کے لٹریچر کی عمر اگر انصاف سے دیکھا جائے تو پچاس ساٹھ برس سے زیادہ نہیں؛ جس کا لغت آج تک مدون نہیں ہوا؛ جس کی گرامر آج تک اطمینان کے قابل نہیں بنی؛ جس کے لائق مصنف اور شاعر انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں؛ ایسی زبان میں اگر اساتذہ کے تتبع ہی پر تکیہ کر لیا جائے تو جس طرح ابابیل کا گھونسلا ابتدائے آفرینش سے ایک ہی حالت پر چلا آتا ہے اور اسی حالت پر چلا جائے گا، اسی طرح اردو شاعری جس گہوارہ میں اس نے آنکھیں کھولی ہیں اسی گہوارہ میں ہمیشہ جھولتی رہے گی۔

اس کے بعد ابن رشیق کہتے ہیں کہ "بعضوں کی رائے یہ ہے کہ ایک بار اساتذہ کے کلام پر تفصیلی نظر ڈال کر اس کو صفحۂ خاطر سے محو کر دینا چاہیے، کیونکہ اس کا بعینہ ذہن میں محفوظ رہنا ویسی ترکیبوں اور اسلوبوں کے استعمال کرنے سے ہمیشہ مانع ہوگا۔ لیکن جب وہ کلام صفحۂ خاطر سے محو ہو جائے گا، تو بسبب اس رنگ کے جو کلام بلغا کی سیر کرنے سے طبیعت پر خود بخود چڑھ گیا ہے، اس میں ایک ایسا ملکہ پیدا ہو جائے گا کہ ویسی ہی ترکیبیں اور اسلوب، جیسے کہ اساتذہ کے کلام میں واقع ہوئے ہیں، دوسرے لفظوں میں خود بخود بغیر اس تصور کے کہ یہ ترکیب فلاں ترکیب پر مبنی ہے اور یہ اسلوب فلاں اسلوب کا چربہ ہے، جیسی ضرورت پڑے گی بنتا چلا جائے گا۔"

ہمارے نزدیک یہ رائے بہ نسبت پہلی رائے کے زیادہ وقعت کے قابل ہے۔ اس میں اس فائدہ کے سوا جو صاحب رائے نے بیان کیا ہے، بڑا فائدہ یہ ہے کہ اساتذہ کا کلام جب تک صفحۂ خاطر سے محو نہ ہو جائے، طبیعت انھیں اسلوبوں اور پیرایوں میں مقید اور محصور رہتی ہے جو ان کے کلام کو بار بار پڑھنے اور یاد کرنے سے بمنزلۂ طبیعت ثانی کے ہو جاتے ہیں، اور جن کے سبب سے سلسلۂ بیان میں نئے اسلوب اور نئے پیرائے ابداع کرنے کا ملکہ پیدا نہیں ہوتا، اور اس لیے فن شعر کو کچھ ترقی نہیں ہوتی۔

تخیل کو قوت ممیزہ کا محکوم رکھنا چاہیے

الغرض شاعر کی ذات میں، جیسا کہ اوپر بیان ہوا، تین صفتیں متحقق ہونی ضرور ہیں: ایک وہبی، یعنی تخیل یا امیجنیشن؛ اور دو کسبی، یعنی صحیفۂ فطرت کے مطالعہ کی عادت اور الفاظ پر قدرت۔

اب تخیل کی نسبت اتنا جان لینا اور ضرور ہے کہ اس کو جہاں تک ممکن ہو اعتدال پر رکھنا اور طبیعت پر غالب نہ ہونے دینا چاہیے، کیونکہ جب اس کا غلبہ طبیعت پر زیادہ ہو جاتا ہے اور وہ قوت ممیزہ کے قابو سے، جو کہ اس کی روک ٹوک کرنے والی ہے، باہر ہو جاتا ہے، تو اس کی حالت شاعر کے حق میں نہایت خطرناک ہے۔ قوت متخیلہ ہمیشہ خلاقی اور بلند پروازی کی طرف مائل رہتی ہے، مگر قوت ممیزہ اس کی پرواز کو محدود کرتی ہے، اس کی خلاقی کی مزاحم ہوتی ہے، اور اس کو ایک قدم بے قاعدہ نہیں چلنے دیتی۔ قوت متخیلہ کیسی ہی دلیر اور بلند پرواز ہو، جب تک کہ وہ قوت ممیزہ کی محکوم ہے شاعری کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ جس قدر اس کی پرواز بلند ہوگی اسی قدر شاعری اعلیٰ درجہ کو پہنچے گی۔ دنیا میں جتنے بڑے بڑے شاعر ہوئے ہیں ان میں قوت متخیلہ کی بلند پروازی اور قوت ممیزہ کی حکومت دونو ساتھ ساتھ پائی جاتی ہیں؛ ان کا تخیل نہ خیالات میں بے اعتدالی کرنے پاتا ہے نہ الفاظ میں کجروی۔ مگر دوسری صورت میں، جبکہ تخیل قوت ممیزہ پر غالب آ جائے، شاعر کے لیے اس کی پرواز ایسی ہی خطرناک ہے جیسے سوار کے لیے نہایت چالاک گھوڑا جس کے منہ میں لگام نہ ہو۔ ہزاروں ہونہار شاعروں کو اس قوت کی آزادی اور مطلق العنانی نے گمراہ کر دیا ہے، اور بعضے جو گمراہ ہو کر پھر راہ راست پر آئے ہیں وہ اس وقت تک نہیں آئے جب تک کہ قوت ممیزہ کو اس پر حاکم نہیں بنایا۔ قوت متخیلہ کی دلیری اور بلند پروازی زیادہ تر اس وقت بڑھتی ہے جبکہ شاعر کے ذہن میں اس کو اپنی غذا، یعنی حقائق و واقعات کا ذخیرہ جس میں وہ تصرف کر سکے، نہیں ملتا۔ جس طرح انسان بھوک کی شدت میں جب معمولی غذا نہیں پاتا تو مجبوراً گھاس پتی سے اپنا دوزخ بھر کر صحت کو خراب کر لیتا اور اکثر ہلاک ہو جاتا ہے، اسی طرح جب قوت متخیلہ کو اس کی معتاد غذا نہیں ملتی تو وہ غیر معتاد غذا پر ہاتھ ڈالتی ہے؛ خیالات دور از کار، جن میں اصلیت کا نام و نشان نہیں ہوتا، تراش کر بتکلف ان کو شعر کا لباس پہناتی ہے؛ اور قوت ممیزہ کو اپنے کام میں خلل انداز سمجھ کر اس کی اطاعت سے باہر ہو جاتی ہے؛ اور آخر کار شاعر کو "مہمل گو" اور "کوہ کندن و کاہ برآوردن" کا مصداق بنا دیتی ہے۔

شاعر کے لیے نیچر کا خزانہ ہر وقت کھلا ہوا ہے، اور قوت متخیلہ کے لیے اس کی اصلی غذا کی کچھ کمی نہیں ہے۔ پس بجائے اس کے کہ وہ گھر میں بیٹھ کر کاغذ کی پھول پنکھڑیاں بنائے، اس کو چاہیے کہ پہاڑوں اور جنگلوں میں اور خود اپنی ذات میں قدرت حق کا تماشا دیکھے، جہاں بھانت بھانت کے اصلی پھول اور پنکھڑیوں کے لازوال خزانے موجود ہیں؛ ورنہ اس کی نسبت کہا جائے گا:

جانتا قدرت کو ہے اک کھیل تو / کھیل قدرت کے تجھے دکھلائیں کیا

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.