Urdu in Translation
Search

Chapter 4 of 13

The Reform of Poetry

شاعری کی اصلاح

Altaf Husain Hali

Script
Size

شاعری کی اصلاح

جب فن شعر استحالت کو پہنچ جاتا ہے تو اس کی اصلاح قریب ناممکن کے ہو جاتی ہے۔ اول تو شعرا کو قدیم الف و عادت کے سبب اس بات کا شعور ہی نہیں ہوتا کہ جس راہ پر وہ جا رہے ہیں اس کے سوا کوئی اور بھی رستہ ہے۔ اور اگر بالفرض کسی نے قوم کا شارع عام چھوڑ کر دوسری راہ اختیار بھی کی تو اس کو دو نہایت سخت مشکلیں پیش آتی ہیں۔ اول تو طریق غیر مسلوک میں قدم رکھنا اور اس کے تمام مرحلوں سے عبور کر کے منزل مقصود تک پہنچنا ہی نہایت کٹھن اور دشوار کام ہے۔ دوسری مشکل اس سے بھی زیادہ سخت یہ ہے کہ موجودہ سوسائٹی کا مذاق چونکہ اس نئی روش سے بالکل بیگانہ ہوتا ہے، اس لیے نہ کوئی اس کی مشکلات کا اندازہ کر سکتا ہے اور نہ کہیں اس کی محنت کی داد مل سکتی ہے۔ پس کوئی شخص جب تک کہ زمانہ کی قدردانی سے بالکل دست بردار ہو کر اس دہقان کی مانند، جو اخیر عمر میں کھرنی کی پود اپنی زمین میں لگائے، محض ایک امید موہوم پر آئندہ نسلوں کی ضیافت طبع کا منصوبہ نہ باندھے، اس کوچہ میں ہرگز قدم نہیں رکھ سکتا۔

اگرچہ یہ ممکن ہے کہ نئی روش پر چلنے والا شاعر کوئی مضمون زمانہ کی ضرورت اور مقتضائے حال کے موافق شعر کے لباس میں جلوہ گر کر کے ملک کے جدت پسند لوگوں میں کچھ شہرت یا قبولیت حاصل کر لے، اور ایک خاص حیثیت سے اس کے کلام کی داد توقع سے زیادہ اس کو مل جائے، مگر شاعری کی حیثیت سے نہ تو فی الواقع وہ اس کے کلام کی داد ہوتی ہے اور نہ وہ اس کو داد سمجھتا ہے، بلکہ ایسی داد سن کر چپکے ہی چپکے اپنے دل میں یہ شعر پڑھتا ہے:

بخوں آلودہ دست و تیغ غازی ماندہ بے تحسیں / تو اول زیب اسپ و زینت برگستواں بینی

شعرائے ہمعصر کچھ تو قدیم شاعری کے تعصب سے اور زیادہ تر اجنبیت اور بیگانگی مذاق کے سبب اس کی روش کو اس جہت سے کہ وہ شارع عام سے الگ ہے تسلیم نہیں کرتے۔ اور بعضے اپنے نزدیک اس کی ہجو ملیح اس طرح فرماتے ہیں کہ فلاں شخص نے شاعری نہیں کی بلکہ مفید اور اخلاقی مضامین لکھ کر اپنے لیے زاد آخرت جمع کیا ہے۔ لیکن اگر وہ فی الواقع موجودہ نسل کی قدرشناسی سے قطع نظر کر چکا ہے تو اس کو ایسی باتوں کی کچھ پروا نہ کرنی چاہیے، بلکہ یہ امید رکھنی چاہیے کہ اگر قوم کی زمین میں کچھ آل باقی ہے تو تخم اکارت نہ جائے گا۔

گولڈسمتھ کی شاعری

گولڈسمتھ نے جب اول ہی اول اپنے ملک کے قدیم شاعروں کا مسلک، جس کی بنیاد جھوٹ اور مبالغہ اور ہوا و ہوس کے مضامین پر تھی، چھوڑ کر سچی نیچرل شاعری اختیار کی تو اس کو یہی مشکلات پیش آئی تھیں؛ چنانچہ اس نے اس حالت کو ایک نظم میں بیان کیا ہے۔ اس میں اپنی نئی روش کی نظم کی طرف خطاب کر کے کہتا ہے: "اے میری پیاری نظم! تو ان موقعوں سے پہلی بھاگنے والی نظم ہے جہاں نفسانی خواہشوں کی طغیانی ہوتی ہے۔ تو اس بے قدری کے زمانہ میں بجائے اس کے کہ دلوں کو اپنی طرف مائل اور پاک شہرت حاصل کرے، ہر جگہ ملامت کی جاتی ہے۔ تیری بدولت عام جلسوں میں مجھ کو شرمندہ ہونا پڑتا ہے، لیکن جب تنہا ہوتا ہوں تو تجھ پر فخر کرتا ہوں۔ تو کمال کے طالبوں کی رہنما ہے اور نیکی کی دایہ۔ پس خدا ہی تیرا نگہبان ہوگا۔ دنیا کے کسی حصہ میں، خواہ وہ ٹورنو [1] کی چوٹیاں ہوں یا پمبارکا [2] کی ٹیکری، اور خواہ وہ خط استوا کا نہایت گرم خطہ ہو یا قطب کا منجمد کرنے والا جاڑا، جہاں کہیں تجھ پر نکتہ چینی ہو تو وقت کا مقابلہ کیجیو اور باد مخالف کے جھکڑوں پر غالب آئیو، اور اپنے دردناک نالوں سے سچ کی مدد کیجیو، جس کو لوگ حقیر جانتے ہیں۔ تو گمراہوں کو دولت کی حقارت کرنی سکھا، اور ان کو اس بات کا یقین دلا کہ جو لوگ اپنے قدرتی ذریعوں پر بھروسا کرتے ہیں اگرچہ وہ مفلس ہوں لیکن خوشحال ہو سکتے ہیں۔ مگر جو ترقی تجارت سے ملک میں ہوتی ہے وہ بظاہر ایک زمانہ تک دھوم دھام دکھلاتی ہے، مگر بہت جلد آوے کی طرح بیٹھ جاتی ہے، جیسے کہ سمندر کی موجیں آخر اس بند کو برباد کر دیتی ہیں جو کمال محنت و مشقت سے باندھا گیا ہو۔ جو ملک اپنے قدرتی ذریعوں پر بھروسا کرتے ہیں وہ زمانہ کی سختیوں اور بربادیوں کا اس طرح مقابلہ کرتے ہیں جیسے چٹانیں سمندر کی موجوں اور طغیانیوں کا مقابلہ کرتی ہیں، اور جہاں تھیں وہیں بدستور جمی رہتی ہیں۔"

شاعری کی اصلاح کیونکر ہو سکتی ہے

نئی شاعری کی بنیاد ڈالنے کے لیے جس طرح یہ ضرور ہے کہ جہاں تک ممکن ہو اس کے عمدہ نمونے پبلک میں شائع کیے جائیں، اسی طرح یہ بھی ضرور ہے کہ شعر کی حقیقت اور شاعر بننے کے لیے جو شرطیں درکار ہیں ان کو کسی قدر تفصیل کے ساتھ بیان کیا جائے۔

اردو میں شاعر بننے کے لیے فی زماننا کس شرط کی ضرورت سمجھی جاتی ہے

ہمارے ملک میں فی زماننا شاعری کے لیے صرف ایک شرط، یعنی موزوں طبع ہونا، درکار ہے۔ جو شخص چند سیدھی سادی متعارف بحروں میں کلام موزوں کر سکتا ہے، گویا اس کے شاعر بننے کے لیے کوئی حالت منتظرہ باقی نہیں رہتی۔ معمولی مضامین، معمولی تشبیہوں اور استعاروں کا کس قدر ذخیرہ اس کے لیے موجود ہی ہے جس کو متعدد صدیوں سے لوگ دوہراتے چلے آتے ہیں، اور اتفاق سے وہ موزوں طبع بھی ہے؛ اب اس کے لیے اور کیا چاہیے۔ مگر فی الحقیقت شعر کا پایہ اس سے بمراتب بلند تر ہے۔

شعر کے لیے وزن ضروری ہے یا نہیں

شعر کے لیے وزن ایک ایسی چیز ہے جیسے راگ کے لیے بول۔ جس طرح راگ فی حد ذاتہ الفاظ کا محتاج نہیں، اسی طرح نفس شعر وزن کا محتاج نہیں۔ اس موقع پر جیسے انگریزی میں دو لفظ مستعمل ہیں، ایک پوئٹری اور دوسرا ورس، اسی طرح ہمارے ہاں بھی دو لفظ استعمال میں آتے ہیں: ایک شعر اور دوسرا نظم۔ اور جس طرح ان کے ہاں وزن کی شرط پوئٹری کے لیے نہیں بلکہ ورس کے لیے ہے، اسی طرح ہمارے ہاں بھی یہ شرط شعر میں نہیں بلکہ نظم میں معتبر ہونی چاہیے۔

عرب شعر کے کیا معنی سمجھتے تھے

قدیم عرب کے لوگ یقیناً شعر کے یہی معنی سمجھتے تھے۔ جو شخص معمولی آدمیوں سے بڑھ کر کوئی موثر اور دلکش تقریر کرتا تھا اسی کو شاعر جانتے تھے۔ جاہلیت کی قدیم شاعری میں زیادہ تر اسی قسم کے برجستہ اور دلآویز فقرے اور مثلیں پائی جاتی ہیں جو عرب کی عام بول چال سے فوقیت اور امتیاز رکھتی تھیں۔ یہی سبب تھا کہ جب قریش نے قرآن مجید کی نرالی اور عجیب عبارت سنی تو جنھوں نے اس کو کلام الٰہی نہ مانا وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شاعر کہنے لگے، حالانکہ قرآن شریف میں وزن کا مطلق التزام نہ تھا۔ محقق طوسی اساس الاقتباس میں لکھتے ہیں کہ عبری اور سریانی اور قدیم فارسی میں شعر کے لیے وزن حقیقی ضرور نہ تھا؛ سب سے پہلے وزن کا التزام عرب نے کیا ہے۔

وزن کی شعر میں کس قدر ضرورت ہے

البتہ اس میں شک نہیں کہ وزن سے شعر کی خوبی اور اس کی تاثیر دوبالا ہو جاتی ہے۔ یورپ کا ایک محقق لکھتا ہے کہ اگرچہ وزن پر شعر کا انحصار نہیں ہے، اور ابتدا میں وہ مدتوں اس زیور سے معطل رہا ہے، مگر وزن سے بلاشبہ اس کا اثر زیادہ تیز اور اس کا نشتر زیادہ کارگر ہو جاتا ہے۔

قافیہ شعر کے لیے ضروری ہے یا نہیں

قافیہ بھی ہمارے ہاں شعر کے لیے ایسا ہی ضروری سمجھا گیا ہے جیسے کہ وزن، مگر درحقیقت وہ بھی نظم ہی کے لیے ضروری ہے نہ شعر کے لیے۔ اساس میں لکھا ہے کہ یونانیوں کے ہاں قافیہ بھی مثل وزن کے ضروری نہ تھا، اور جشوئی نام ایک پارسی گو شاعر کا ذکر کیا ہے جس نے ایک کتاب میں اشعار غیر مقفیٰ جمع کیے ہیں۔ یورپ میں بھی آج کل بلینک ورس یعنی غیر مقفیٰ نظم کا بہ نسبت مقفیٰ کے زیادہ رواج ہے۔ اگرچہ قافیہ بھی وزن کی طرح شعر کا حسن بڑھا دیتا ہے، جس سے کہ اس کا سننا کانوں کو نہایت خوشگوار معلوم ہوتا ہے اور اس کے پڑھنے سے زبان زیادہ لذت پاتی ہے، مگر قافیہ اور خاص کر ایسا جیسا کہ شعرائے عجم نے اس کو نہایت سخت قیدوں سے جکڑ بند کر دیا ہے، اور پھر اس پر ردیف اضافہ فرمائی ہے، شاعر کو بلاشبہ اس کے فرائض ادا کرنے سے باز رکھتا ہے۔ جس طرح صنائع لفظی کی پابندی معنی کا خون کر دیتی ہے، اسی طرح بلکہ اس سے بہت زیادہ قافیہ کی قید ادائے مطلب میں خلل انداز ہوتی ہے۔ شاعر کو بجائے اس کے کہ اول اپنے ذہن میں ایک خیال کو ترتیب دے کر اس کے لیے الفاظ مہیا کرے، سب سے پہلے قافیہ تجویز کرنا پڑتا ہے اور پھر اس کے مناسب کوئی خیال ترتیب دے کر اس کے ادا کرنے کے لیے ایسے الفاظ مہیا کیے جاتے ہیں جن کا سب سے اخیر جزو قافیہ مجوزہ قرار پا سکے۔ کیونکہ اگر ایسا نہ کرے تو ممکن ہے کہ خیال کی ترتیب کے بعد کوئی مناسب قافیہ بہم نہ پہنچے اور اس خیال سے دست بردار ہونا پڑے۔ پس درحقیقت شاعر خود کوئی خیال نہیں باندھتا بلکہ قافیہ جس خیال کے باندھنے کی اسے اجازت دیتا ہے اس کو باندھ دیتا ہے۔ اکثر غزل اور قصیدہ میں اول اخیر مصرع جس میں قافیہ ہوتا ہے اندھا دھند کسی نہ کسی مضمون کا گھڑ لیا جاتا ہے، اور پھر اس کے مناسب پہلا مصرع اس پر لگایا جاتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ شعر کو زیادہ خوشنما بنانے کے لیے اس میں ایک ایسی قید لگائی جس سے شعر کی اصلیت باقی نہ رہے، بعینہ ایسی بات ہے کہ لباس کو زیادہ خوشنما بنانے کے لیے اس کی ایسی قطع رکھی جائے جس سے لباس کی علت غائی، یعنی آسایش اور پردہ، دونو فوت ہو جائیں۔ الغرض وزن اور قافیہ، جن پر ہماری موجودہ شاعری کا دار و مدار ہے اور جن کے سوا اس میں کوئی خصوصیت ایسی نہیں پائی جاتی جس کے سبب سے شعر پر شعر کا اطلاق کیا جا سکے، یہ دونو شعر کی ماہیت سے خارج ہیں۔ اسی لیے زمانۂ حال کے محقق شعر کا مقابل، جیسا کہ عموماً خیال کیا جاتا ہے، نثر کو نہیں ٹھہراتے بلکہ علم و حکمت کو ٹھہراتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جس طرح حکمت کا کام براہ راست یہی ہے کہ ہدایت کرے، تحقیقات میں مدد پہنچائے اور حقائق کو روشن کرے، عام اس سے کہ کوئی اس سے محظوظ یا متعجب یا متاثر ہو یا نہ ہو؛ اسی طرح شعر کا کام براہ راست یہی ہے کہ فی الفور لذت یا تعجب یا اثر پیدا کر دے، عام اس سے کہ حکمت کا کوئی مقصد اس سے حاصل ہو یا نہ ہو، اور عام اس سے کہ نظم میں ہو یا نثر میں۔

شعر کی ماہیت

شعر کی بہت سی تعریفیں کی گئی ہیں، مگر کوئی تعریف ایسی نہیں جو اس کے تمام افراد کو جامع اور دخول غیر سے مانع ہو۔ البتہ لارڈ مکالی نے جو کچھ شعر کی نسبت لکھا ہے، گو اس کو شعر کی تعریف نہیں کہا جا سکتا، لیکن جو کچھ شعر سے آج کل مراد لی جاتی ہے اس کے قریب قریب ذہن کو پہنچا دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ "شاعری، جیسا کہ دو ہزار برس پہلے کہا گیا تھا [3]، ایک قسم کی نقالی ہے جو اکثر اعتبارات سے مصوری، بت تراشی اور ناٹک سے مشابہ ہے۔ مگر مصور، بت تراش اور ناٹک کرنے والے کی نقل شاعر کی نسبت کس قدر کامل تر ہوتی ہے۔ شاعر کی کل کس چیز سے بنی ہوئی ہے؟ الفاظ کے پرزوں سے۔ اور الفاظ ایسی چیز ہیں کہ اگر ہومر اور ڈینٹی جیسے صناع بھی ان کو استعمال کریں تو بھی سامعین کے متخیلہ میں اشیائے خارجی کا ایسا صحیح اور ٹھیک نقشہ نہیں اتار سکتے جیسا موقلم اور چھینی کے کام دیکھ کر ہمارے خیال میں اترتا ہے۔ لیکن شاعری کا میدان وسیع اس قدر ہے کہ بت تراشی، مصوری اور ناٹک، یہ تینوں فن اس کی وسعت کو نہیں پہنچ سکتے۔ بت تراش فقط صورت کی نقل اتار سکتا ہے۔ مصور صورت کے ساتھ رنگ کو بھی جھلکا دیتا ہے۔ اور ناٹک کرنے والا، بالاشتراط کہ شاعر نے اس کے لیے الفاظ مہیا کر دیے ہوں، صورت اور رنگ کے ساتھ حرکت بھی پیدا کر دیتا ہے۔ مگر شاعری باوجودیکہ اشیائے خارجی کی نقل میں تینوں فنون کا کام دے سکتی ہے، اس کو تینوں سے اس بات میں فوقیت ہے کہ انسان کا بطون صرف شاعری ہی کی قلمرو ہے؛ نہ وہاں مصوری کی رسائی ہے، نہ بت تراشی کی، اور نہ ناٹک کی۔ مصوری اور ناٹک وغیرہ انسان کے خصائل یا جذبات اسی قدر ظاہر کر سکتے ہیں جس قدر کہ چہرہ یا رنگ اور حرکت سے ظاہر ہو سکتے ہیں، اور یہ بھی ہمیشہ ادھورے اور نظر فریب نمونے ان کیفیات کے ہوتے ہیں جو فی الواقع انسان کے بطون میں موجود ہیں۔ مگر نفس انسانی کی باریک، گہری اور بوقلموں کیفیات صرف الفاظ ہی کے ذریعہ سے ظاہر ہو سکتی ہیں۔ شاعری کائنات کی تمام اشیائے خارجی اور ذہنی کا نقشہ اتار سکتی ہے۔ عالم محسوسات، دولت کے انقلابات، سیرت انسانی، معاشرت نوع انسانی، تمام چیزیں جو فی الحقیقۃ موجود ہیں، اور تمام وہ چیزیں جن کا تصور مختلف اشیا کے اجزا کو ایک دوسرے سے ملا کر کیا جا سکتا ہے، سب شاعری کی سلطنت میں محصور ہیں۔ شاعری ایک سلطنت ہے جس کی قلمرو اسی قدر وسیع ہے جس قدر خیال کی قلمرو۔"

ایک اور محقق نے شعر کی تعریف اس طرح کی ہے کہ جو خیال ایک غیر معمولی اور نرالے طور پر لفظوں کے ذریعہ سے اس لیے ادا کیا جائے کہ سامع کا دل اس کو سن کر خوش یا متاثر ہو، وہ شعر ہے، خواہ نظم میں ہو اور خواہ نثر میں۔ مذکورہ بالا تقریروں کا مطلب زیادہ دلنشین کرنے کے لیے ہم اس مقام پر چند مثالیں ذکر کرنی مناسب سمجھتے ہیں۔

(۱) فردوسی کہتا ہے:

بمالید چاچی کماں را بدست / بہ چرم گوزن اندر آورد شستستوں کرد چپ را و خم کرد راست / خروش از خم چرخ چاچی بخاست

ان دونو شعروں میں رستم کی وہ حالت دکھائی ہے جبکہ وہ اشکبوس کشانی سے لڑنے کے لیے پیادہ میدان کارزار میں گیا ہے اور اس پر وار کرنے کے لیے کمان میں تیر جوڑا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان شعروں کے مضمون کو اگر ایک غیر شاعر معمولی طور پر بیان کرتا تو صرف اس قدر کہنا کافی تھا کہ رستم نے کمان کے چلہ میں تیر جوڑا؛ لیکن اس بیان میں اس حالت کی، جبکہ وہ تیر چلانے کے لیے کمان تانے کھڑا تھا، نقل مطلق نہیں پائی جاتی۔ البتہ جو اسلوب فردوسی نے اس کے بیان میں اختیار کیا ہے اس میں جہاں تک کہ الفاظ مساعدت کر سکتے تھے اس حالت کی کافی طور پر نقل اتاری گئی ہے۔ لیکن چونکہ یہ ایک ایسی حالت ہے جو آنکھ سے محسوس ہو سکتی ہے، اس لیے اس کو ایک بت تراش یا ایک مصور فردوسی کی نسبت زیادہ واضح اور زیادہ نمودار صورت میں ظاہر کر سکتا ہے۔

(۲) سعدی شیرازی:

چناں قحط سالے شد اندر دمشق / کہ یاراں فراموش کردند عشق

اس شعر میں دمشق کے کسی قحط کا وہ عالم بیان کیا ہے جو وہاں کے باشندوں پر طاری تھا۔ اس مضمون کو ایک غیر شاعر اس سے زیادہ بیان نہیں کر سکتا کہ خلقت بھوکی پیاسی مر رہی تھی، یا اناج اور پانی نایاب تھا، یا اور اسی قسم کی معمولی باتیں جو قحط کے زمانہ میں عموماً پیش آتی ہیں۔ لیکن منتہائے سختی قحط کی تصویر جن لفظوں میں کہ سعدی نے کھینچی ہے، ایسے معمولی بیانات سے ہرگز نہیں کھنچ سکتی۔ اور چونکہ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جو محسوس نہیں ہو سکتی، اس لیے شاعر کے سوا مصور اور بت تراش دونو اس کی نقل اتارنے سے عاجز ہیں۔ البتہ ایکٹر ایسا تماشا دکھانے سے کسی قدر عہدہ برآ ہو سکتا ہے، بشرطیکہ شاعر نے اس کے لیے کافی الفاظ مہیا کر دیے ہوں۔

(۳) ابن دراج اندلسی ایک قصیدہ میں اپنے شیرخوار بچہ کی وہ حالت، جبکہ وہ خود گھر والوں سے رخصت ہو کر کہیں دور جانے والا ہے اور بچہ اس کے منہ کو تک رہا ہے، بیان کرتا ہے:

عیی بمرجوع الخطاب ولحظہ / بموقع اہواء النفوس خبیر

یعنی وہ بات کا جواب دینے سے تو عاجز ہے مگر اس کی آنکھ ان اداؤں سے واقف ہے جو دلوں کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ اس شعر میں استاد نے ایک محض وجدانی کیفیت کی تصویر کھینچی ہے، جس کی محاکات زمانۂ حال کے مصور، بت تراش اور ایکٹر بھی بلاشبہ کسی قدر کر سکتے ہیں، لیکن نہ ایسی جیسی کہ شاعر نے کی ہے۔ نیز شاعر کے سوا کسی کو یہ اسلوب بیان ہرگز نہیں سوجھ سکتا، کیونکہ جس مطلب کو اس نے اس پیرائے میں بیان کیا ہے اس کا حاصل صرف اس قدر ہے کہ رخصت ہوتے وقت جو وہ میری طرف دیکھتا تھا، اس پر بے اختیار پیار آتا تھا۔ اس معمولی بات کو وہ اس طرح ادا کرتا ہے کہ وہ شیرخوار بچہ، جس کے منہ میں بول تک نہ تھا، اس کی آنکھ ایک ایسے بھید سے واقف تھی جس سے اکثر بڑے بڑے عاقل اور دانشمند واقف نہیں ہوتے، یعنی یہ کہ کس طرح اوروں کے دلوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔

(۴) نظیری نیشاپوری:

بہ زیر شاخ گل افعی گزیدہ بلبل را / نواگران نخوردہ گزند را چہ خبر

فصل بہار میں پھولوں کے کھلنے، یا ہوا میں اعتدال پیدا ہونے، یا بدن میں دوران خون کے تیز ہو جانے سے جو نشاط اور امنگ بلبل کے دل میں پیدا ہوتی ہے، اور جس کو شعرا گل و گلشن کے عشق سے تعبیر کرتے ہیں، اور جس کے جوش اور ولولہ میں وہ دن بھر چہکتا رہتا ہے، اس حالت اور کیفیت کو شاعر نے افعی کے کاٹے کی لہر سے تعبیر کیا ہے۔ گو یہ تمثیل بھی اس حالت کی اصل حقیقت ظاہر کرنے سے قاصر ہو، مگر جس قدر کہ اس حالت کا تصور ان لفظوں کے ذریعہ سے پیدا ہوتا ہے، اتنا بھی تصویر یا ناٹک کے ذریعہ سے نہیں ہو سکتا۔ گویا اس کیفیت کا ظاہر کرنا مصوری، بت تراشی اور ناٹک کی دسترس سے باہر ہے۔

حواشی

[1] ٹورنو یورپ میں روس کے شمال مغرب میں ایک پہاڑ ہے۔

[2] پمبارکا جنوبی امریکا میں شہر کیٹو دار الخلافہ ملک ایکویڈر کے پاس ایک پہاڑ ہے۔

[3] یہ ارسطو کے قول کی طرف اشارہ ہے۔

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.