Urdu in Translation
Search

Chapter 3 of 13

Poetry Flourishes in Ages That Are Not Refined

شاعری ناشائستگی کے زمانہ میں ترقی پاتی ہے

Altaf Husain Hali

Script
Size

شاعری ناشائستگی کے زمانہ میں ترقی پاتی ہے

بہرحال شعر اگر اصلیت سے بالکل تجاوز اور محض بے بنیاد باتوں پر مبنی نہ ہو تو تاثیر اور دلنشینی اس کی نیچر میں داخل ہے۔ لیکن شاعری کی نسبت جو رائیں زمانۂ حال کے اکثر محققوں نے قائم کی ہیں ان کا جھکاؤ اس طرف پایا جاتا ہے کہ سویلائزیشن کا اثر شعر پر برا ہوتا ہے۔ جس قدر کہ علم زیادہ محقق ہوتا جاتا ہے، اسی قدر تخیل، جس پر شاعری کی بنیاد ہے، گھٹتا جاتا ہے؛ اور کرید کی عادت، جو ترقیٔ علم کے ساتھ ساتھ چلتی ہے، وہ شعر کے حق میں سم قاتل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب تک سوسائٹی نیم شائستہ اور اس کا علم اور واقفیت محدود رہتی ہے اور علل و اسباب پر اطلاع کم ہوتی ہے، اس وقت تک زندگی خود ایک کہانی معلوم ہوتی ہے۔ زندگی کی سرگزشت جو کہ بالکل ایک واقعات کا سلسلہ ہوتا ہے، اگر ایک نیم شائستہ سوسائٹی میں سیدھے سادے طور پر بھی بیان کی جائے تو اس سے کہیں خوف اور کہیں تعجب اور کہیں جوش خود بخود پیدا ہو جاتا ہے، اور انھیں چیزوں پر شاعری کی بنیاد ہے۔ لیکن جب شائستگی زیادہ پھیلتی ہے تو یہ چشمے بند ہو جاتے ہیں، اور اگر کہیں بند نہیں ہوتے تو ان کو نہایت احتیاط کے ساتھ روکا جاتا ہے تاکہ ان کا مضحکہ نہ اڑے۔

اس رائے کا ایک بڑا حامی یہ کہتا ہے کہ "شعر دل پر ویسا ہی پردہ ڈالتا ہے جیسا میجک لینٹرن آنکھ پر ڈالتی ہے۔ جس طرح اس لالٹین کا تماشا بالکل اندھیرے کمرے میں پورے کمال کو پہنچتا ہے، اسی طرح شعر محض تاریک زمانہ میں اپنا پورا کرشمہ دکھاتا ہے۔ اور جس طرح روشنی کے آتے ہی میجک لینٹرن کی تمام نمائشیں نابود ہو جاتی ہیں، اسی طرح جوں جوں حقیقت کی حدود زیادہ صاف اور روشن اور احتمالات کے پردے مرتفع ہوتے جاتے ہیں، اسی قدر شاعری کے سیمیائی جلوے کافور ہوتے جاتے ہیں، کیونکہ دو متناقض چیزیں، یعنی حقیقت اور دھوکا، جمع نہیں ہو سکتیں۔"

فردوسی کی مثال

اس مطلب کے زیادہ دلنشین ہونے کے لیے ذیل کی مثال پر غور کرنی چاہیے۔ فردوسی نے اپنے ہیرو رستم کی زورمندی اور بہادری کے متعلق جو کچھ شاہنامہ میں لکھا ہے، ایک زمانہ وہ تھا کہ اس کو سن کر رستم کی غیر معمولی عظمت اور بڑائی کا یقین دل میں پیدا ہوتا تھا، اس کے زور اور شجاعت کا حال سن کر تعجب کیا جاتا تھا، سامعین کے دلوں میں خود بخود اس کے ساتھ ہمدردی اور اس کے حریفوں سے برخلافی کا خیال پیدا ہوتا تھا۔ لیکن اب جس قدر کہ علم بڑھتا جاتا ہے، روز بروز وہ طلسم ٹوٹتا جاتا ہے، اور وہ زمانہ قریب آتا ہے کہ رستم ایک معمولی آدمی سے زیادہ نہ سمجھا جائے گا۔

شاعری شائستگی میں قائم رہ سکتی ہے

اگرچہ یہ رائے جو شاعری کی نسبت اوپر بیان ہوئی کسی قدر صحیح ہے، مگر اس کو بھی بے سوچے سمجھے قبول کرنا نہیں چاہیے۔ جو لوگ اس رائے کے برخلاف ہیں وہ کہتے ہیں کہ "اگرچہ علم کی ترقی سے الفاظ کے معنی محدود اور بہت سی باتوں کی واقعیت کے خیال محو ہو گئے ہیں، مگر زبانیں پہلے کی نسبت زیادہ لچکدار اور اکثر مقاصد کے بیان کرنے کے زیادہ لائق ہوتی جاتی ہیں۔ بہت سی تشبیہیں بلاشبہ اس زمانہ میں بیکار ہو گئی ہیں، مگر ذہن نئی تشبیہیں اختراع کرنے سے عاجز نہیں ہوا۔ یہ سچ ہے کہ سائنس اور میکینکس جوشیلے خیالات کو مردہ کرنے والے ہیں، لیکن انھیں کی بدولت شاعر کے لیے نئی نئی تشبیہات اور تمثیلات کا لازوال ذخیرہ، جو پہلے موجود نہ تھا، مہیا ہو گیا ہے اور ہوتا جاتا ہے۔ وہ اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ سوسائٹی کے ترقی کرنے سے امیجنیشن یعنی تخیل کی طاقت ضعیف ہو جاتی ہے، بلکہ ان کا قول ہے کہ جب تک انسان کا یہ اعتقاد ہے کہ ابد کے ساتھ ہمارا رشتہ مضبوط ہے، جب تک بے شمار اسباب اور موانع جن کا انکار نہیں ہو سکتا چاروں طرف سے ہم کو گھیرے ہوئے ہیں، جب تک عشق انسان کے دل پر حکمراں ہے اور ہر فرد بشر کی روداد زندگی کو ایک دلچسپ قصہ بنا سکتا ہے، جب تک قوموں میں حب وطن کا جوش موجود ہے، جب تک بنی نوع انسانی ہمدردی پر متفق ہو کر شامل ہونے کے لیے حاضر ہیں، اور جب تک حوادث اور وقائع جو زندگی میں وقتاً بعد وقت حادث ہوتے ہیں خوشی یا غم کی سلسلہ جنبانی کرتے ہیں، تب تک اس بات کا خوف نہیں ہو سکتا کہ تخیل کی طاقت کم ہو جائے گی۔ اور اس سے بھی کم خوف جب تک کہ نیچر کی کان کھلی ہوئی ہے اس بات کا ہے کہ شاعر کا ذخیرہ نبڑ جائے گا۔ ہاں، مگر اس میں شک نہیں کہ نیچر کی جو نمایاں چیزیں تھیں وہ اگلے مزدوروں نے چن لیں، اور چونکہ ان کے لیے وہ پہلی تھیں اور اس لیے عجیب تھیں، اب ان کے تعجب انگیز بیان پر کوئی سبقت نہیں لے جا سکتا۔"

شاعری کا تعلق اخلاق کے ساتھ

شعر سے جس طرح نفسانی جذبات کو اشتعال ہوتی ہے، اسی طرح روحانی خوشیاں بھی زندہ ہوتی ہیں، اور انسان کی روحانی اور پاک خوشیوں کو اس کے اخلاق کے ساتھ ایسا صریح تعلق ہے جس کے بیان کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ شعر اگرچہ براہ راست علم اخلاق کی طرح تلقین اور تربیت نہیں کرتا، لیکن ازروئے انصاف اس کو علم اخلاق کا نائب مناب اور قائم مقام کہہ سکتے ہیں۔ اسی بنا پر صوفیۂ کرام کے ایک جلیل القدر سلسلہ میں سماع کو، جس کا جزو اعظم اور رکن رکین شعر ہے، وسیلۂ قرب الٰہی اور باعث تصفیۂ نفس و تزکیۂ باطن مانا گیا ہے۔

شعر کی عظمت

یورپ کا ایک محقق کہتا ہے کہ "مشاغل دنیوی میں انہماک کے سبب جو قوتیں سو جاتی ہیں شعر ان کو جگاتا ہے، اور ہمارے بچپن کے ان خالص اور پاک جذبات کو جو لوث غرض کے داغ سے منزہ اور مبرا تھے پھر تر و تازہ کرتا ہے۔ دنیوی کاموں کی مشق اور ممارست سے بیشک ذہن میں تیزی آ جاتی ہے، مگر دل بالکل مر جاتا ہے۔ جبکہ افلاس میں قوت لایموت کے لیے یا تونگری میں جاہ و منصب کے لیے کوشش کی جاتی ہے، اور دنیا میں چاروں طرف خود غرضی دیکھی جاتی ہے، جس وقت انسان کو سخت مشکلیں پیش آتیں، اگر اس کے پاس کوئی ایسا علاج نہ ہوتا جو دل کے بہلانے اور تر و تازہ کرنے میں چپکے ہی چپکے مگر نہایت قوت کے ساتھ افلاس کی صورت میں مرہم اور تونگری کی صورت میں تریاق کا کام دے سکے۔ یہ خاصیت خدا نے شعر میں ودیعت کی ہے۔ وہ ہم کو محسوسات کے دائرہ سے نکال کر گذشتہ اور آئندہ حالتوں کو ہماری موجودہ حالت پر غالب کر دیتا ہے۔ شعر کا اثر محض عقل کے ذریعہ سے نہیں بلکہ زیادہ تر ذہن اور ادراک کے ذریعہ سے اخلاق پر ہوتا ہے۔ پس ہر قوم اپنے ذہن کی جودت اور ادراک کی بلندی کے موافق شعر سے اخلاق فاضلہ اکتساب کر سکتی ہے۔ قومی افتخار، قومی عزت، عہد و پیمان کی پابندی، بے دھڑک اپنے تمام عزم پورے کرنے، استقلال کے ساتھ سختیوں کو برداشت کرنا، اور ایسے فائدوں پر نگاہ نہ کرنی جو پاک ذریعوں سے حاصل نہ ہو سکیں، اور اسی قسم کی وہ تمام خصلتیں جن کے ہونے سے ساری قوم تمام عالم کی نگاہ میں چمک اٹھتی ہے اور جن کے نہ ہونے سے بڑی سے بڑی قومی سلطنت دنیا کی نظروں میں ذلیل رہتی ہے، اگر کسی قوم میں بالکل شعر ہی کی بدولت پیدا نہیں ہو جاتیں تو بلاشبہ ان کی بنیاد تو اس میں شعر ہی کی بدولت پڑتی ہے۔ اگر افلاطون اپنے خیالی کانسٹیٹیوشن سے شاعروں کو جلاوطن کرنے میں کامیاب ہو جاتا تو وہ ہرگز اخلاق پر احسان نہ کرتا، بلکہ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ایک سرد مہر، خود غرض اور مروت سے دور ایسی سوسائٹی قائم ہو جاتی جس کا کوئی کام اور کوئی کوشش بدون توقع اور مصلحت کے محض دل کے ولولہ اور جوش سے نہ ہوتی۔ یہی سبب ہے کہ تمام دنیا شعرا کا ادب اور تعظیم کرتی ہے، جنھوں نے اس خاتم سلیمانی کی بدولت جو قوت متخیلہ نے ان کے قبضہ میں دے دی ہے، انسان میں ایسی تحریک اور برانگیختگی پیدا کی ہے جو کہ خود نیکی ہے یا نیکی کی طرف لے جانے والی۔"

شاعری سوسائٹی کی تابع ہے

مگر باوجود ان تمام باتوں کے جو کہ شعر کی تائید میں کہی گئی ہیں، ممکن ہے کہ سوسائٹی کے دباؤ یا زمانہ کے اقتضا سے شعر پر ایسی حالت طاری ہو جائے کہ وہ بجائے اس کے کہ قومی اخلاق کی اصلاح کرے، اس کے بگاڑنے اور برباد کرنے کا ایک زبردست آلہ بن جائے۔ قاعدہ ہے کہ جس قدر سوسائٹی کے خیالات، اس کی رائیں، اس کی عادتیں، اس کی رغبتیں، اس کا میلان اور مذاق بدلتا ہے، اسی قدر شعر کی حالت بدلتی رہتی ہے۔ اور یہ تبدیلی بالکل بے معلوم ہوتی ہے، کیونکہ سوسائٹی کی حالت کو دیکھ کر شاعر قصداً اپنا رنگ نہیں بدلتا بلکہ سوسائٹی کے ساتھ ساتھ وہ خود بخود بدلتا چلا جاتا ہے۔ شفائی صفاہانی کی نسبت جو کہا گیا ہے کہ اس کے علم کو شاعری نے اور شاعری کو ہجوگوئی نے برباد کیا، اس کا منشا وہی سوسائٹی کا دباؤ تھا؛ اور عبید زاکانی [1] نے جو علم و فضل سے دست بردار ہو کر ہزل گوئی اختیار کی، یہ وہی زمانہ کا اقتضا تھا۔ جس طرح خوشامد اور نذر بھینٹ کا چٹخارا رفتہ رفتہ ایک متدین اور راستباز جج کی نیت میں خلل ڈال دیتا ہے، اسی طرح دربار کی واہ وا اور صلہ کی چاٹ ایک آزاد خیال اور جذبیلے شاعر کو چپکے ہی چپکے بھٹئی، جھوٹ اور خوشامد یا ہزل و تمسخر پر اس طرح لا ڈالتی ہے کہ وہ اسی کو کمال شاعری سمجھنے لگتا ہے۔

خود مختار بادشاہ جن کا کوئی ہاتھ روکنے والا نہیں ہوتا اور تمام بیت المال جن کا جیب خرچ ہوتا ہے، ان کی بے دریغ بخشش شعرا کی آزادی کے حق میں سم قاتل ہوتی ہے۔ وہ شاعر جس کو قوم کا سرتاج اور سرمایۂ افتخار ہونا چاہیے تھا، ایک بندۂ ہوا و ہوس کے دروازہ پر دریوزہ گروں کی طرح صدا لگاتا اور شیئاً للہ کہتا ہوا پہنچتا ہے۔ اول اول مدح و ستائش میں سچ سے بالکل قطع نظر نہیں کی جاتی، کیونکہ قومی عروج کی ابتدا میں ممدوح اکثر مدح کے مستحق ہوتے ہیں، اور شاعر کی طبیعت سے آزادی کا جوہر دفعۃً زائل نہیں ہو جاتا؛ لیکن جب واقعات نبڑ جاتے ہیں اور مدح سرائی کی گز ہمیشہ کے لیے شاعر کے ذمہ لگ جاتی ہے تو اس کی شاعری کا مدار صرف جھوٹی تہمتیں باندھنے پر رہ جاتا ہے۔ پھر جب آفتاب اقبال کا دورہ، جس کی عمر طبیعی شخصی سلطنتوں میں اکثر سو برس سے زیادہ نہیں ہوتی، ختم ہونے کو ہوتا ہے، اور سلاطین و امرا میں وہ خوبیاں جن کے سبب سے جمہور انام کے شکر و سپاس، مدح و ستائش کے مستحق اور شعرا کی مداحی سے مستغنی ہوں باقی نہیں رہتیں، تو ان کو شاعروں کی بھٹئی کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں سوجھتی جس کو سن کر ان کا نفس موٹا ہو۔ لہٰذا ان کو شعرا کی زیادہ قدر کرنی پڑتی ہے۔ اس سے جھوٹی شاعری کو اور زیادہ ترقی ہوتی ہے۔ پھر بہت سے ناشاعر جب شاعروں کو گراں بہا صلے اور خلعت و انعام برابر پاتے دیکھتے ہیں تو ان کو بتکلف اپنے تئیں شاعر بنانا پڑتا ہے۔ لیکن چونکہ ان کی طبیعت میں شاعرانہ جدت و اختراع کا مادہ نہیں ہوتا، وہ اصلی شاعروں کی نہایت بھونڈی تقلید کرتے ہیں، یہاں تک کہ جس طرح بڑھاپے کی تصویر بچپن کی تصویر سے کچھ مناسبت نہیں رکھتی، اسی طرح رفتہ رفتہ شعر کی صورت گویا مسخ ہو جاتی ہے، اور شاعری کا ماحصل سوا اس کے کہ اس سے قرب سلطانی حاصل ہوتا ہے اور کچھ نہیں رہتا۔

چوتھی صدی ہجری میں شعر کی نسبت کیا خیال تھا

مرزا محمد طاہر نصرآبادی اپنے تذکرہ میں لکھتے ہیں کہ ایک روز وزارت کے وقت صاحب ابن عباد طالقانی کی مجلس میں حسب معمول فضلا اور شعرا جمع تھے۔ اثنائے سخن میں شعر کا ذکر چھڑ گیا۔ بعضے شعر کی تعریف کرتے تھے، بعضے مذمت۔ جو لوگ مذمت کرتے تھے انھوں نے کہا کہ شعر اکثر مدح یا ذم پر مشتمل ہوتا ہے، اور دونو چیزوں کی بنیاد جھوٹ پر ہے۔ اس کے بعد ابو محمد خازن نے، جو بہت بڑا صاحب علم و فضل تھا، شعر کی تائید میں یہ کہا کہ شعر میں سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ہم باوجودیکہ ہر علم و ہنر سے بہرہ مند ہیں، ان میں سے کوئی چیز ہماری کامیابی کا ذریعہ نہیں ہو سکتی؛ صرف شعر ہی ایسی چیز ہے جس کے ذریعہ سے ہم کو سلاطین و وزرا کے ہاں تقرب کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ رہی یہ بات کہ شعر میں اکثر جھوٹ اور مبالغہ زیادہ ہوتا ہے، ہاں بے شک ہوتا ہے، "لیکن جب یہ تانبا (یعنی جھوٹ) شعر کے طلا سے مطلا کیا جاتا ہے تو ہمرنگ زر خالص ہو جاتا ہے، اور شعر کا حسن جھوٹ کی برائی پر غالب آ جاتا ہے۔" اس بات کو سب نے پسند کیا اور بحث ختم ہو گئی۔

اس حکایت سے علاوہ اس بات کے کہ صاحب ابن عباد کے زمانہ یعنی چوتھی صدی ہجری میں ہماری شاعری محض ایک ذریعہ سلاطین و امرا کے تقرب کا سمجھی جاتی تھی، یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ اور مبالغہ شعر کے ذاتیات میں داخل ہو گیا تھا۔

مسلمان شعرا کی کثرت

یورپ کا ایک مورخ عربی لٹریچر کے ذکر میں لکھتا ہے کہ صرف عرب کی قوم میں اتنے شاعر ہوئے ہیں کہ تمام جہان کی قوموں کے شاعر شمار میں ان کے برابر نہیں ہو سکتے۔ بظاہر اس نے عرب کی قوم کے شعرا سے صرف عربی زبان کے شاعر مراد لیے ہیں۔ اور اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ اگر عربی کے ساتھ فارسی، ترکی، پشتو اور اردو کو بھی، جو کہ خاص مسلمانوں کی زبانیں ہیں، شامل کر لیا جائے تو مسلمان شاعروں کی تعداد کس حد تک پہنچ جائے گی۔ اور اگر بالفرض عرب کی قوم سے مطلقاً مسلمان شاعر مراد ہوں تو بھی تمام جہان کی قوموں کے شعرا سے ان کی تعداد کا زیادہ ہونا کچھ کم تعجب خیز نہیں۔

اس کثرت کا سبب

بظاہر اس کثرت کے دو سبب معلوم ہوتے ہیں: ایک مدح و ستائش پر ممدوح کی طرف سے صلہ و انعام ملنے کا رواج، جس کی وجہ سے ہر موزوں طبع کو، عام اس سے کہ وہ شاعر بننے کے لائق ہو یا نہ ہو، شاعری اختیار کرنے کا خیال ہوتا تھا۔ دوسرے ہر درجہ کے شعر پر سامعین کی طرف سے جا و بیجا تحسین و آفریں ہونے کا دستور۔ اور یہ پچھلا سبب پہلے سے بھی زیادہ شعر گوئی کی تحریک کرنے والا تھا، کیونکہ صلہ و انعام کا لالچ صرف انھیں لوگوں کو ہوتا تھا جنھیں اس کی احتیاج تھی، لیکن واہ وا سننے کی خواہش میں بادشاہ اور امیر اور غریب سب برابر تھے۔ ان دونو سببوں سے مسلمانوں کی شاعری کو دو طرف سے صدمہ پہنچا۔ جب صلہ اور انعام مستحق اور غیر مستحق دونو کو برابر ملنے لگے، اور تحسین و آفریں کی بوچھاڑ محل اور بے محل ہر درجہ کے شعر پر ہونے لگی، تو جو لوگ فی الحقیقت صلہ و تحسین کے مستحق تھے ان کے دل بجھ گئے، اور شاعری کی اعلیٰ لیاقتیں جو ان کی طبیعت میں ودیعت تھیں وہ خریداروں کی بے تمیزی کے سبب جیسی چاہیے ظاہر نہ ہونے پائیں؛ اور جو مستحق نہ تھے ان کے دل بڑھے اور ان کو قوم میں اپنی بساند پھیلانے اور شاعری پر ظلم کرنے کا موقع ملا۔

عرب میں شعرا کی قدر

شعرا کی قدر تمام دنیا میں ہمیشہ سے ہوتی آئی ہے۔ سلطنتوں نے ہمیشہ ان کی قدر کی ہے اور قوموں نے ان کے دل بڑھائے ہیں۔ عرب میں شاعر قوم کی آبرو سمجھا جاتا تھا۔ جب کسی قبیلہ میں کوئی شخص شاعری میں ممتاز ہوتا تھا تو اور قبیلوں کے لوگ اس قبیلہ کو آ کر مبارکباد دیتے تھے اور سب مل کر خوشیاں کرتے تھے۔ قبیلہ کی عورتیں اپنے بیاہ کے زیور پہن پہن کر آتی تھیں اور فخریہ اشعار گاتی تھیں کہ ہم میں ایسا شخص پیدا ہوا جو تمام قبیلہ کی ناک رکھنے والا، ان کے نسب اور زبان کی حفاظت کرنے والا، اور ان کے کارہائے نمایاں اخلاف و اعقاب تک پہنچانے والا ہے۔ شعرا کی نازبرداری یہاں تک کی جاتی تھی کہ اگر وہ کوئی محال سوال کر بیٹھتا تو بھی صراحۃً اس کو رد نہ کیا جاتا تھا۔ ایک بار اعشیٰ بہت سا مال و اسباب لیے بلاد بنی عامر میں ہو کر گذرا، اور رہزنوں کے خوف سے اثنائے راہ میں علقمہ بن علاثہ کے ہاں ٹھہر گیا۔ اور پناہ چاہی۔ اس نے بسر و چشم قبول کیا۔ اعشیٰ نے کہا: تو نے مجھے جن و انس سے پناہ دی؟ علقمہ نے کہا: ہاں۔ اعشیٰ نے کہا: اور موت سے؟ وہ بولا: یہ تو امکان سے خارج ہے۔ اعشیٰ وہاں سے ناراض ہو کر عامر بن الطفیل کے ہاں چلا گیا۔ اس نے دونو باتوں کی حامی بھر لی۔ اعشیٰ نے کہا: موت سے کیونکر پناہ دی؟ کہا: میری پناہ میں تجھے موت آ جائے گی تو تیرا خوں بہا تیرے وارثوں کو بھیج دوں گا۔ اعشیٰ بہت خوش ہوا، اور اس کی مدح میں قصیدہ کہا اور علقمہ کی ہجو لکھی۔

قومی سلطنتوں میں شعرا کی قدر مفید ہوتی ہے مگر شخصی حکومت میں مضر ہوتی ہے

عرب کے سوا اور ملکوں میں بھی شعرا کی قدردانی کا ایسا ہی حال رہا ہے۔ قومی سلطنتوں میں، جہاں بادشاہ حاکم علی الاطلاق نہیں ہوتا، ایسی قدردانیوں سے شاعری بے انتہا ترقی پاتی ہے۔ شاعر جب تک تمام قوم میں مقبول نہیں ٹھہر جاتا، سلطنت سے اس کی کچھ تقویت اور امداد نہیں ہوتی؛ اور قوم میں وہی شاعر مقبول ہو سکتا ہے جو شاعری کے فرائض بغیر امید و بیم کے نہایت آزادی کے ساتھ ادا کرتا ہے۔ نہ اس کو سلطنت کی دستگیری کی کچھ پروا ہے اور نہ بادشاہ کے مواخذہ کا کچھ خوف ہے۔ لیکن خود مختار سلطنتوں میں شاعر کو ہر حال میں دربار کی رضاجوئی کا لحاظ رکھنا اور آزادی سے دست بردار ہونا پڑتا ہے، یہاں تک کہ اس کے سچے جوش اور ولولے، جن کے بغیر شعر کو ایک قالب بے روح سمجھنا چاہیے، سب رفتہ رفتہ خاک میں مل جاتے ہیں۔ نہ وہ اپنے دل کی امنگ سے کسی کی مدح کر سکتا ہے، نہ سچے جوش سے کسی کی ہجو لکھ سکتا ہے۔ مروان بن ابی حفصہ، جو کہ خلیفہ مہدی کے زمانہ میں مشہور شاعر تھا، اس نے معن بن زائدہ کے مرثیہ میں، جس کی شجاعت اور سخاوت ضرب المثل تھی، یہ شعر لکھ دیا تھا:

وقلنا این نرحل بعد معن / وقد ذہب النوال فلا نوالا

مہدی نے اس کو دربار میں بلا کر یہ شعر اس سے پڑھوایا اور نہایت بے عزتی کے ساتھ دربار سے نکلوا دیا۔ لکھا ہے کہ جعفر برمکی کے سوا پھر کسی امیر یا خلیفہ نے اس کو صلہ نہیں دیا۔ جہاں وہ قصیدہ کہہ کر لے جاتا، وہاں سے یہ جواب ملتا کہ فیاضی تو معن کے ساتھ گئی۔ جعفر برمکی، جس کا ایک زمانہ اور خاص کر شعرا ممنون احسان تھے، اس کے مرثیے لکھنے پر بہت سے شاعر ہارون کے حکم سے قتل کیے گئے۔ رقاشی نے، اکثر شعرا کے قتل کے بعد، خفیہ ایک مرثیہ لکھا تھا؛ اس کے اخیر میں کہتا ہے:

اما واللہ لولا خوف واش / وعین للخلیفۃ لا تناملطفنا حول قبرک واستلمنا / کما للناس بالحجر استلام

ترجمہ: واللہ اگر غماز کا اور خلیفہ کی چشم بیدار کا خوف نہ ہوتا تو ہم تیری قبر کے گرد طواف کرتے اور بوسہ دیتے، جیسے کہ لوگ حجر اسود کو بوسہ دیتے ہیں۔

شخصی حکومت میں شاعر کی آزادی سے اس کو نقصان پہنچتا ہے

ایسے زمانہ میں اگر کوئی مستغنی مزاج اور آزاد طبع شاعر دربار کی رضاجوئی کا خیال نہیں کرتا تو اس کو ویسے ہی ثمرے بھگتنے پڑتے ہیں جیسے کہ فردوسی کو بھگتنے پڑے۔ فردوسی ایک آزاد منش اور قانع آدمی تھا۔ باوجودیکہ حسن میمندی وزیر سلطان محمود کو اس کے فائدہ یا ضرر پہنچانے میں بہت بڑا دخل تھا، مگر وہ اس کو بلکہ خود سلطان کو کچھ خاطر میں نہ لاتا تھا۔ جب حسن میمندی کی مخالفت کا حال اس کو معلوم ہوا تو اس نے یہ دو شعر لکھے تھے:

من بندہ کز مبادی فطرت نبودہ ام / مائل بہ مال ہرگز و طامع بہ جاہ نیزسوئے در وزیر چرا ملتفت شوم / چوں فارغم ز بارگہ پادشاہ نیز

اس کی آزادی اور راست گوئی کا نتیجہ یہ ہوا کہ سلطان کے مزاج کو اس سے متغیر کر دیا گیا۔ کبھی اس کے کلام سے اس کی دہریت پر اور کبھی اعتزال و تشیع پر استدلال کیا گیا، اور ساٹھ ہزار بیت کی مثنوی جس کا صلہ فی بیت ایک مثقال طلا قرار پایا تھا، اس کے جلدو میں سوائے محرومی و ناکامی کے اس کو کچھ نہ ملا۔ مگر فی الحقیقت جیسی کہ اس نے اپنے کلام کی داد پائی ہے، شاید ہی کسی شاعر کو ایسی داد ملی ہو۔ اس کے شاہنامہ نے تمام دنیا کے دلوں کو مسخر کر لیا، اور بڑے بڑے مسلم الثبوت استاد اس کی فصاحت کا لوہا مان گئے۔ اور اس کا سبب اور کچھ نہ تھا سوا اس کے کہ سوسائٹی یا دربار کا دباؤ اس کی آزاد طبیعت پر غالب نہیں آیا۔

صدر اسلام کی شاعری کا کیا حال تھا

صدر اسلام کی شاعری میں جب تک کہ غلامانہ تملق اور خوشامد نے انھیں راہ نہیں پائی، تمام سچے جوش اور ولولے موجود تھے۔ جو لوگ مدح کے مستحق ہوتے تھے ان کی مدح اور جو ذم کے مستحق ہوتے تھے ان کی مذمت کی جاتی تھی۔ جب کوئی منصف اور نیک خلیفہ یا وزیر مر جاتا تھا، اس کے دردناک مرثیے لکھے جاتے تھے، اور ظالموں کی مذمت ان کی زندگی میں کی جاتی تھی۔ خلفا و سلاطین کی مہمات اور فتوحات میں جو بڑے بڑے واقعات پیش آتے تھے، ان کا قصائد میں ذکر کیا جاتا تھا۔ احباب کی صحبتیں جو انقلاب روزگار سے برہم ہو جاتی تھیں، ان پر دردناک اشعار لکھے جاتے تھے۔ پارسا بیویاں شوہروں کے اور شوہر بیویوں کے فراق میں درد انگیز شعر انشا کرتے تھے۔ چراگاہوں، چشموں اور وادیوں کی گذشتہ صحبتوں اور جمگھٹوں کی ہو بہو تصویر کھینچتے تھے۔ اپنی اونٹنیوں کی جفاکشی اور تیز رفتاری، گھوڑوں کی رفاقت اور وفاداری کا بیان کرتے تھے۔ بڑھاپے کی مصیبتیں، جوانی کے عیش اور بچپن کی بے فکریاں ذکر کرتے تھے۔ اپنے بچوں کی جدائی اور ان کے دیکھنے کی آرزو حالت غربت میں لکھتے تھے۔ اہل وطن کی، دوستوں کی، اور معاصروں کی سچی تعریفیں اور ان کے مرنے پر مرثیے کہتے تھے۔ اپنی سرگذشت، واقعی تکلیفیں اور خوشیاں بیان کرتے تھے۔ اپنے خاندان اور قبیلہ کی شجاعت اور سخاوت وغیرہ پر فخر کرتے تھے۔ سفر کی محنتیں اور مشقتیں جو خود ان پر گذرتی تھیں بیان کرتے تھے۔ عالم سفر کے مقامات اور مواضع، شہر اور قریے، ندیاں اور چشمے سب نام بنام، اور جو بری یا بھلی کیفیتیں وہاں پیش آتی تھیں ان کو موثر طریقہ میں ادا کرتے تھے۔ بیوی اور بچوں یا دوستوں سے وداع ہونے کی حالت دکھاتے تھے۔ اسی طرح تمام نیچرل جذبات جو ایک جوشیلے شاعر کے دل میں پیدا ہو سکتے ہیں سب ان کے کلام میں پائے جاتے ہیں۔ لیکن رفتہ رفتہ دربار کے تعلق اور خوشامد نے وہ سرچشمے، سوتیں سب بند کر دیں، اور شعرا کے لیے عام طور پر صرف دو میدان باقی رہ گئے جنھیں وہ اپنے قلم کی جولانیاں دکھا سکتے تھے: ایک مدحیہ مضامین جن سے ممدوحین کا خوش کرنا مقصود ہوتا تھا، دوسرے عشقیہ مضامین جن سے ان کے نفسانی جذبات کو اشتعالک ہوتی تھی۔ پھر جب ایک مدت کے بعد دونو مضمونوں میں چچوڑی ہوئی ہڈی کی طرح کچھ مزا باقی نہ رہا، اور سلاطین و امرا کی مجلسیں گرم کرنے کے لیے اور ایندھن کی ضرورت ہوئی، تو مطائبات، مضحکات و اہاجی و ہزلیات کا دفتر کھلا۔ بہت سے شاعروں نے سب چھوڑ چھاڑ کر یہی کوچہ اختیار کر لیا، اور رفتہ رفتہ یہ رنگ تمام سوسائٹی پر چڑھ گیا۔ اگرچہ ابتدا سے اخیر تک ہر طبقہ اور ہر عہد کے شعرا میں کم و بیش ایسے واجب التعظیم لوگ بھی پائے جاتے ہیں جن کی شاعری پر مسلمان فخر کر سکتے ہیں، لیکن شاعر عام طور پر زیادہ تر وہی لوگ نظر آتے ہیں جو پچھلوں کے لیے شاعری کا میدان نہایت تنگ کر گئے، یا ان کے لیے بہت برے نمونے چھوڑ گئے ہیں۔

متوسط اور اخیر زمانہ میں اسلامی شاعری کا کیا حال ہو گیا

پچھلوں نے جب آنکھیں کھول کر بزرگوں کے ترکہ میں مدحیہ قصائد اور عشقیہ غزلوں اور مثنویوں اور اہاجی و ہزلیات کے سوا اور سامان بہت کم دیکھا تو انھوں نے شاعری کو انھیں چند مضمونوں میں منحصر سمجھا۔ لیکن ان مضمونوں میں بھی جبکہ چڑیاں کھیت چگ گئیں، اب کیا دھرا تھا۔ تعریف اگر سچی ہو اور عشق اصلی، تو شاعر کے لیے میٹیریل کی کچھ کمی نہیں۔ جس طرح کائنات میں دو چیزیں یکساں نہیں پائی جاتیں، اسی طرح ایک انسان کے محاسن دوسرے کے محاسن سے اور ایک کے دل کی واردات دوسرے کی واردات سے نہیں ملتی۔ لیکن جب تعریف سراسر جھوٹی اور عشق محض تقلیدی ہو تو شعرا کو ہمیشہ وہی باتیں جو اگلے لکھ گئے ہیں دوہرانی پڑتی ہیں۔

شاعری میں تقلید

اب جو پچھلوں نے اگلوں کی تقلید کرنی شروع کی تو نہ صرف مضامین میں بلکہ خیالات میں، الفاظ میں، تراکیب میں، اسالیب میں، تشبیہات میں، استعارات میں، بحر میں، قافیہ میں، ردیف میں، غرضکہ ہر ایک بات اور ہر ایک چیز میں ان کے قدم بہ قدم چلنا اختیار کیا۔ پھر جب ایک ہی لکیر پیٹتے پیٹتے اجیرن ہو گئی تو نہایت بھونڈے اختراع ہونے لگے، جن پر یہ مثل صادق آتی ہے کہ "خشکہ با گندہ بروزہ، اگرچہ گندہ لیکن ایجاد بندہ۔"

بری شاعری سے سوسائٹی کو کیا کیا نقصان پہنچے ہیں

اگرچہ شاعری کو ابتداءً سوسائٹی کا مذاق فاسد بگاڑتا ہے، مگر شاعری جب بگڑ جاتی ہے تو اس کی زہریلی ہوا سوسائٹی کو بھی نہایت سخت نقصان پہنچاتی ہے۔ جب جھوٹی شاعری کا رواج تمام قوم میں ہو جاتا ہے تو جھوٹ اور مبالغہ سے سب کے کان مانوس ہو جاتے ہیں۔ جس شعر میں زیادہ جھوٹ یا نہایت مبالغہ ہوتا ہے اس کے شاعر کو زیادہ داد ملتی ہے۔ وہ مبالغہ میں اور غلو کرتا ہے تاکہ اور زیادہ داد ملے۔ ادھر اس کی طبیعت راستی سے دور ہوتی جاتی ہے اور ادھر جھوٹی اور بے سر و پا باتیں وزن و قافیہ کے دلکش پیرایہ میں سنتے سنتے سوسائٹی کے مذاق میں زہر گھلتا جاتا ہے۔ حقائق و واقعات سے لوگوں کو روز بروز مناسبت کم ہوتی جاتی ہے۔ عجیب و غریب باتوں، سوپرنیچرل کہانیوں اور محال خیالات سے دلوں کو انشراح ہونے لگتا ہے۔ تاریخ کے سیدھے سادے وقائع سننے سے جی گھبرانے لگتے ہیں۔ جھوٹے قصے اور افسانے حقائق واقعیہ سے زیادہ دلچسپ معلوم ہوتے ہیں۔ تاریخ، جغرافیہ، ریاضی اور سائنس سے طبیعتیں بیگانہ ہو جاتی ہیں، اور چپکے ہی چپکے مگر نہایت استحکام کے ساتھ اخلاق ذمیمہ سوسائٹی میں جڑ پکڑتے جاتے ہیں۔ اور جب جھوٹ کے ساتھ ہزل و سخریت بھی شاعری کے قوام میں داخل ہو جاتی ہے تو قومی اخلاق کو بالکل گھن لگ جاتا ہے۔

بری شاعری سے لٹریچر اور زبان کو کیا صدمہ پہنچتا ہے

سب سے بڑا نقصان جو شاعری کے بگڑ جانے یا اس کے محدود ہو جانے سے ملک کو پہنچتا ہے، وہ اس کے لٹریچر اور زبان کی تباہی و بربادی ہے۔ جب جھوٹ اور مبالغہ عام شعرا کا شعار ہو جاتا ہے تو اس کا اثر مصنفوں کی تحریر اور فصحا کی تقریر اور خواص اہل ملک کے روزمرہ اور بول چال تک پہنچتا ہے، کیونکہ ہر زبان کا نمایاں اور برگزیدہ حصہ وہی الفاظ و محاورات اور ترکیبیں سمجھی جاتی ہیں جو شعر کے استعمال میں آ جاتے ہیں۔ پس جو شخص ملکی زبان کی تحریر یا تقریر یا روزمرہ میں امتیاز حاصل کرنا چاہتا ہے، اس کو بالضرور شعرا کی زبان کا اتباع کرنا پڑتا ہے۔ اور اس طرح مبالغہ لٹریچر اور زبان کی رگ و پے میں سرایت کر جاتا ہے۔ شعرا کی ہزل گوئی سے زبان میں کثرت سے نامہذب اور مخش الفاظ داخل ہو جاتے ہیں، کیونکہ لغات میں وہی الفاظ مستند اور ٹکسالی سمجھے جاتے ہیں جن کی توثیق و تصدیق شعرا کے کلام سے کی گئی ہو۔ پس جو شخص ملکی زبان کی ڈکشنری لکھنے بیٹھتا ہے اس کو سب سے پہلے شعرا کے دیوان ٹٹولنے پڑتے ہیں۔ پھر جب شاعری چند مضامین میں محدود ہو جاتی ہے اور اس کا مدار محض قوم کی تقلید پر آ رہتا ہے، تو زبان بجائے اس کے کہ اس کا دائرہ زیادہ وسیع ہو، وہ اپنی قدیم وسعت بھی کھو بیٹھتی ہے۔ زبان کا وہ قلیل حصہ جس کے ذریعہ سے شاعر اپنے چند معمولی مضامین ادا کرتا ہے، زیادہ تر وہی مانوس اور فصیح گنا جاتا ہے، اور باقی الفاظ و محاورات غریب اور وحشی خیال کیے جاتے ہیں۔ پس سوا اس کے کہ کچھ ان میں سے اہل زبان کی بول چال میں کام آئیں، بالکل لغت کی کتابوں میں بند پڑے رہیں، اور کچھ ایک مدت کے بعد متروک الاستعمال ہو جائیں، اور کسی مصرف میں نہیں آتے۔ نہ مصنفوں کو تحریر میں اور نہ فصحا کو تقریر میں ان سے کچھ مدد نہیں پہنچتی۔ قدما کی تقلید کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جن لفظوں میں بضرورت شعر انھوں نے تصرف کیا ہے ان کے سوا کسی لفظ میں کوئی تصرف نہیں کر سکتا۔ جو محاورے جس پہلو پر وہ برت گئے ہیں وہ دوسرے پہلو پر ہرگز نہیں برتے جا سکتے۔ جو تشبیہیں ان کے کلام میں پائی گئی ہیں ان سے سر مو تجاوز نہیں کیا جا سکتا۔ الغرض کسی ملک کی شاعری کو اس کے لٹریچر کے ساتھ وہی نسبت ہے جو قلب کو جسد کے ساتھ، کہ اذا صلح صلح الجسد کلہ، واذا فسد فسد الجسد کلہ۔

حواشی

[1] عبید زاکانی قزوینی ایک مشہور ہزال شاعر ہے۔ یہ شخص اقسام علوم میں ماہر تھا۔ اس نے ایک کتاب فن عربیت میں لکھی تھی اور اس کو لے کر شاہ ابو اسحاق انجو کے ہاں گذراننے کے لیے شیراز گیا تھا۔ جب بادشاہ کے دربار میں جانا چاہا تو معلوم ہوا کہ بادشاہ مسخروں میں مشغول ہے، کسی سے ملنے کی فرصت نہیں۔ عبید نے کہا کہ اگر مسخرگی سے تقرب بادشاہی حاصل ہو سکتا ہے تو علم حاصل کرنا فضول ہے۔ اسی روز سے ہزل گوئی اختیار کی اور اسی میں مشہور ہو گیا۔

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.