Urdu in Translation
Поиск
Закладка

Глава 6 из 28

Couteau et fourchette à la table de Mr Noble

Knife and Fork at Mr Noble's Table

نوبل صاحب کے ساتھ میز پر چھری کانٹے سے کھانا

Deputy Nazir Ahmad

Письмо
Размер

دربار کے مجمع میں نوبل صاحب نے اپنا وقتِ ملاقات بتا ہی دیا تھا۔ دربار کے تیسرے دن ابن الوقت ٹامس صاحب کی کوٹھی پر جا موجود ہوا۔ کوٹھی بجائے خود ایک چھاؤنی کی تھی۔ دریافت کرنے سے معلوم ہوا کہ زرد کوٹھی میں ہیں۔ بنگلے کا احاطہ الگ تھا۔ دیکھتا کیا ہے کہ احاطے کے بیرونی دروازے پر ملاقاتیوں کی سواریاں کھڑی ہیں۔ دروازے کے اندر چھوٹا سا مگر وسعتِ پیش صحن کے مناسب چمن ہے۔ خوب صورت آراستہ اور پیراستہ اور اتنے ہی سے صحن میں چار مالی کام کر رہے ہیں۔ درختوں کی شادابی، سڑکوں کی صفائی، روشوں کی درستی کہے دیتی ہے کہ مالی صرف نوکری کے ڈر سے نہیں بلکہ اپنے شوق سے بھی کام میں لگے لپٹے رہتے ہیں۔ پر ہاں کیاریوں کی قطع اور درختوں کے انتخاب سے ایک خاص سلیقہ اور مذاق ظاہر ہوتا ہے۔ جو کبھی مالی کے بس کا نہیں۔ ابن الوقت اس چمن میں سے جا بجا رک کا ٹھٹکتا برآمدے تک پہنچا تو ملاقاتیوں کا ہجوم تھا۔ بعض کرسیوں پر تھے بعض فرش پر اور بعض (شاید امیدوار ہوں) برآمدے کے دونوں طرف ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔ نوبل صاحب کے آدمی ابن الوقت کو جان پہچان تو چکے ہی تھے، آتا ہوا دیکھ کر سب نے اسے کھڑے ہو کر سلام کیا اور اتنی اس کے ساتھ خصوصیت برتی کہ الگ کمرے میں لے جا کر بٹھا دیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک چپراسی نے آ کر خبر دی کہ صاحب کو آپ کی اطلاع ہو گئی ہے۔

ابن الوقت: ''پھر صاحب نے کیا فرمایا؟''

چپراسی: ''آپ نے دیکھا کتنے آدمی آپ سے پہلے کے آئے ہوئے بیٹھے ہیں۔''

ابن الوقت: ''کیا یہ سب ہو لیں گے تب میرا نمبر آئے گا؟''

چپراسی: ''ان لوگوں کی ملاقات چار چار پانچ پانچ منٹ، بلکہ صاحب نے آپ کا آنا تو سن ہی لیا ہے لوگوں کو جلد جلد رخصت کریں گے۔ کیا کہیں صاحب۔ ہمارے صاحب کا مزاج اسی طرح کا ہے کہ کوئی آ کھڑا ہو تو اس کو جواب نہیں دیتے۔ ملنے کے تو بڑے دھنی ہیں اور اسی وجہ سے ہم لوگوں کو بھی چھٹی نہیں ملتی، ورنہ اب تک کبھی کے آپ کے سلام کو حاضر ہوئے ہوتے۔ اتوار کو ضرور شاگرد پیشہ حاضر ہوں گے۔ سب لوگ بڑی آس لگا رہے ہیں۔''

ادھر نوبل صاحب اپنی جگہ ابن الوقت کے خیال سے واقع ہی میں دو دو باتیں کر کے لوگوں کو اوپر تلے ٹال رہے تھے۔ پھر بھی ابن الوقت کو آدھ گھنٹے کے قریب انتظار کرنا ہی پڑا۔ اس کی ملاقات نوبل صاحب کے ساتھ ایسی حالت میں شروع ہوئی کہ نوبل صاحب کی اس وقت کچھ ہستی ہی نہ تھی۔ اس کے بعد سے جب نوبل صاحب ملے منصبی اور قومی تعزز ہر حال میں ان کے ساتھ تھا۔ خواجہ باقی باللہ کی سڑک پر جب کہ ابن الوقت بے گاریں پکڑا ہوا ایک گٹھر اٹھانے کو تھا، نوبل صاحب کو اس نے دیکھا کئی انگریزوں کے ساتھ عربی گھوڑے پر سوار۔ پھر دربار میں دیکھا تو دربار کا اہتمام کرتے ہوئے انگریزوں میں پیش پیش۔ پھر آج بنگلے پر کہ ملاقاتیوں کی سواریاں دروازے پر کھڑی ہیں اور شہر کے بیسیوں رئیس سلام کے منتظر حاضر۔ شاگرد پیشہ لوگوں کی یہ کثرت کہ احاطہ بجائے خود ایک چھوٹا سا محلہ معلوم ہوتا ہے۔ ہر قسم کی متعدد سواریاں احاطے کے اس سرے سے اس سرے تک بھری پڑی ہیں۔ بنگلے کے تمام کمرے، فرش، پردہ، چلمن، میز، کرسیاں، شیشہ آلات اور آرائش اور آسائش کے سامان سجے ہوئے ہیں۔ ابھی چند دن ہوئے کہ غدر کے دنوں میں اس کوٹھی کے کسی کمرے کی چھت تک باقی نہ تھی۔ یا اب دو ہی مہینے میں الحکومۃ نصف الکرامۃ نئے سرے سے مکان بھی بن گیا۔ رنگ بھی پھر گیا اور ہر طرح کا سامان بھی مہیا ہو گیا۔ باغ بھی لگ گیا۔ یعنی جہاں کچھ نہ تھا وہاں سب ہو گیا۔ چار چپراسی اور پانچواں جمعدار اتنے آدمی صاحب کے کمرے سے ایک کمرہ چھوڑ کر دروازے سے لگے بیٹھے ہیں۔ اندر سے ذرا سی آواز آئی اور دوڑے۔ نوبل صاحب کی یہ شان اگرچہ ابن الوقت کو پہلے دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا مگر اس بات کا اس کو حق الیقین تھا کہ ایک غدر نہیں ایسے ایسے ہزار غدر کیوں نہ ہوں انگریزی عمل داری جانے والی نہیں بلکہ غدر کے بعد جو تسلط بیٹھے گا پہلے سے زیادہ مستحکم اور پائدار ہو گا۔ وہ خوب سمجھے ہوئے تھا کہ اگر اس اتفاق سے کوئی انگریز بلکہ کوئی کرانی بھی نوبل صاحب کی طرح کہیں بھیگی بلی بنا ہوا بیٹھا ہے، وہ حقیقت میں شیرِ ببر ہے، فی الحال گرد و غبار ہے اور بہ اعتبارِ مآل سوار۔

مگر ابن الوقت کی خودداری ایسی بڑھی ہوئی تھی کہ نہ اس نے اس بات کا خیال کیا کہ جو لوگ عزت میں، مقدرت میں اور شاید سرکاری خیر خواہی میں بھی اس پر ہر طرح کی ترجیح رکھتے ہیں برآمدے میں بٹھائے گئے ہیں اور یہ کمرے میں۔ اور نہ اس پر نظر کی کہ جو لوگ آنے میں اس سے اقدم ہیں از روئے انصاف ان کو ملاقات میں بھی اقدم ہونا چاہیے۔ آدھے گھنٹے کے انتظار میں یہ ایسا اکتایا کہ بار بار چپراسیوں سے ترش روئی کے ساتھ پوچھتا تھا کہ ''اب کتنے آدمی اور رہیں؟ کہیں تم نے میری اطلاع میں یا صاحب نے سمجھنے میں تو غلطی نہیں کی؟'' اس کو اپنے زعم میں بٹھائے جانے سے خجالت تھی اور وہ اس خجالت کے ٹالنے کو کمرے میں ٹہلتا، کتابوں اور تصویروں اور دوسری چیزوں کو اٹھا کر جگہ سے ہٹا کر دیکھتا۔ اگرچہ اس نے کسی چیز کو بے ٹھکانے نہیں کیا۔ مگر چپراسی اس کی آزادی دیکھ کر دل میں بہت ناخوش تھے اور دور ہٹ کر چپکے چپکے آپس میں کہتے تھے: ''یہ بھی عجیب آدمی ہے کہ ایک دم اس سے نچلا نہیں بیٹھا جاتا۔ اس کو کمرے میں بٹھانا ہی نہیں تھا۔''

جمعدار: ''میاں ہوش کی بنواؤ، تمہیں خبر بھی ہے کہ یہ کون ہیں؟ غدر میں صاحب انہی کے گھر میں تھے۔ ان کو برآمدے میں بٹھا دیتا اور صاحب کی نظر پڑ جاتی تو سب کی شامت آ جاتی!''

چپراسی: ''اجی جمعدار! خیر خواہی کی تو ہماری سر آنکھوں پر، پر سرکار دربار کا کچھ ادب بھی ہے یا نہیں۔ حاکم کی ڈیوڑھی پر امیر، رئیس، راجہ، بابو، نواب، زمین دار سبھی آتے ہیں اندر جا کر چاہے صاحب کی گود میں بیٹھتے ہوں۔ پر باہر تو ہم نے سب کا ایک ہی قاعدہ دیکھا۔ ہاتھ باندھے، سر جھکائے، چپ چاپ۔ کل تم نے لوہارو والے نواب کی طرف خیال نہ کیا ہو گا۔ صاحب کو غسل خانے میں دیر لگی تو اسی کمرے میں تھے۔ کھانسی اٹھی تو آواز کی گونج کے ڈر کے مارے کھڑکی کے باہر منہ نکال کر اور رومال کو منہ پر لگا کر کھانسے اور میں نے اگال دان لانے کو پوچھا تو اشارے سے منع کر دیا۔''

جمعدار: ''کیا مضائقہ ہے۔ ان کو صاحب لوگوں سے ملنے جلنے کا اتفاق نہ پڑا ہو گا۔''

چپراسی: ''میں تو انعام لینے جاؤں گا تو ضرور اتنی بات ان کے کان میں ڈال دوں گا۔''

جمعدار: ''نہیں جی تمہیں کیا پڑی۔''

چپراسی: ''مجھے پڑی یہ کہ اب ان صاحب سے ٹھہری خصوصیت۔ ان کا روز کا نہیں تو تیسرے چوتھے دن کا پھیرا ضرور رہا کرے گا۔ اور ہمارے صاحب کے پاس باہر کے ایک دو صاحب لوگ ہمیشہ ٹھہرے ہی رہتے ہیں۔ بعضا انگریز ایسا بدمزاج ہوتا ہے کہ کالے آدمی کی صورت سے جلتا ہے۔ وہ اگر ایسی بدتمیزی دیکھ پائے تو ڈک سے یا بوٹ کی ٹھوکر سے خبر لے۔ انہیں کی نہیں بلکہ ہم لوگوں کی بھی۔''

اتنے میں نوبل صاحب کے باہر نکلنے کی آہٹ سی معلوم ہوئی۔ سارے چپراسی اور جس قدر لوگ ملاقات سے رہ گئے تھے سب کے سب ایک دم اٹھ کھڑے ہوئے۔ جو شخص صاحب کے ساتھ ساتھ باتیں کرتے ہوئے اندر سے آئے تھے وہ دروازے سے سلام کر کے رخصت ہوئے۔ باقیوں کو صاحب سلامت کے بعد صاحب نے رخصت کر دیا کہ آج بہت دیر ہو گئی اور خود ابن الوقت کے کمرے میں چلے گئے۔ پہلی بات جو صاحب نے ابن الوقت سے کہی تھی یہ تھی کہ ''میں افسوس کرتا ہوں کہ اتنی دیر انتظار کرنا پڑا۔ آپ کے شہر میں مخبری کا بازار گرم ہو رہا ہے کہ جس نے کچھ نہیں کیا وہ بھی خوف کے مارے پریشان ہے کہ دیکھیے کوئی جا کر کیا لگا دے اور حکام کی نظر سخت ہے، اس سے لوگ اور بھی ہراساں ہیں۔'' ابن الوقت کچھ کہنا چاہتا تھا کہ صاحب بول اٹھے: ''مجھ کو آپ سے بہت دیر باتیں کرنی ہیں اور کھانا بھی میز پر رکھا جا چکا ہے۔ چلیے کھاتے بھی جائیں اور باتیں بھی کرتے جائیں۔''

ابن الوقت: ''میں کچھ وقت کا ایسا پابند نہیں ہوں۔ آپ کھائیے میں گھر جا کر کھا لوں گا۔ اور ابھی کچھ ایسا ناوقت بھی نہیں ہوا۔''

نوبل صاحب: ''(مسکرا کر ابن الوقت کے ساتھ کھانے کے کمرے کی طرف کو چلتے ہوئے) کیوں کیا آپ کو میرے ساتھ کھانے میں کچھ احتراز ہے؟ میں وہی نوبل ہوں کہ میں نے اور آپ نے مہینوں ایک جگہ کھانا کھایا ہے اور آپ کو یہ بخوبی معلوم ہے کہ میں اس وقت بھی ایسا ہی عیسائی تھا جیسا غدر سے پہلے اور جیسا اب ہوں اور جیسا خدا نے چاہا اس کی مدد سے مرتے دم تک رہوں گا۔''

ابن الوقت: ''نہیں مجھ کو اپنی ذات سے تو اعتراض یا احتراز کچھ بھی نہیں مگر لوگ اس کو برا سمجھتے ہیں۔''

نوبل صاحب: ''مگر آپ بھی اس میں کچھ برائی پاتے ہیں یا نہیں؟''

ابن الوقت: ''نہیں میں تو ہرگز کسی طرح کی کوئی برائی نہیں پاتا۔''

نوبل صاحب: ''ہندوستان کو جس کمزوری نے تباہ کیا اصل میں وہ یہی کمزوری ہے۔ خدا نے جیسی ان کی طبیعتیں بودی اور محکوم بنائی تھیں ویسے ہی یہ لوگ سدا سے بودے اور محکوم رہتے چلے آئے اور جب تک یہ کمزوری ان کی طبیعتوں میں ہے آگے کو بھی ضرور بودے اور محکوم رہیں گے۔''

ابن الوقت کو پہلے ہی سے انگریزوں کی طرف رجحان تھا اور نگھتے کو ٹھیلتے کا بہانہ۔ نوبل صاحب کا اشارہ پاتے ہی مقابل کی ایک کرسی پر ڈٹ ہی تو گیا اور یہ عیسائیت کا نہیں بلکہ اس کی انگریزیت کا گویا اصطباغ تھا۔ حسنِ اتفاق سے اس وقت میز پر کوئی انگریز نہ تھا۔ یوں تو کئی صاحب ان کی کوٹھی میں ٹھہر رہے تھے۔ مگر سب کے سب مل کر شکار کھیلنے چلے گئے تھے اور بہت بہتر ہوا کہ نوبل صاحب اکیلے تھے ورنہ آج ابن الوقت کی خوب ہی ہنسی اڑی ہوتی۔ اس نے ناواقفیت کی وجہ سے کھانے میں ایسی ایسی بے تمیزیاں کیں کہ وہ تو نوبل صاحب ہی جیسا متین آدمی تھا نہ تو اس کو ہنسی آئی اور نہ اس نے کچھ برا مانا۔ ہنسنے کو کھانا کھلانے والے خدمت گار کیا کم تھے۔ مگر نوبل صاحب کے ڈر کے مارے کسی کی مجال نہ تھی کہ مسکرا بھی لیتا۔ ہنسنا تو بڑی بات ہے۔ ابن الوقت کی بے جا حرکتیں دیکھتے اور دوسرے کی طرف کن انکھیوں سے نظر کر کے رہ جاتے۔ پر اپنی جگہ جا کر تو مارے ہنسی کے ضرور لوٹ لوٹ گئے ہوں گے اس نے بے تمیزی سے بے تمیزی کی کہ داہنے ہاتھ میں کانٹا لیا اور بائیں میں چھری۔ پھر نوبل صاحب کے بتانے سے کانٹا بائیں ہاتھ میں لیا تو چھری کو اس زور سے کانٹے پر ریت دیا کہ چھری کی ساری باڑ جھڑ پڑی۔ خدمت گار نے میز پر سے دوسری چھری اٹھا کر دی۔ شاید آلو ہی تھا کہ اس کو کاٹنے لگا تو اچھل کر بڑی خیر ہو گئی کہ ٹیبل کلاتھ (دسترخوان) پر گرا۔ پھر جب کسی چیز کو کانٹے میں پرو کر منہ میں لے جانا چاہتا تھا ہمیشہ نشانہ خطا کرتا اور جب تک باری باری سے ناک اور ٹھوڑی اور کلے یعنی تمام چہرے کو داغدار نہیں کر لیتا کوئی لقمہ منہ میں نہیں لے جا سکتا۔ اس دن کھانے کے بعد کوئی اس کا منہ دیکھتا تو ضرور یہی پھبتی کہتا کہ چہرہ ہے یا دیوالی کی کلھیا ہے۔ اس نے کہا تو نہیں مگر اس کی سسکی سے کئی دفعہ ایسا بھی شبہ ہوا کہ ہونٹوں میں یا مسوڑھوں میں یا زبان میں کہیں نہ کہیں کانٹا چبھا ضرور۔ پھر اول مرتبہ خدمت گار جھوٹی رکابی سامنے سے اٹھانے لگا تو اس نے سمجھا کہ دسترخوان بڑھانا چاہتا ہے۔ کچھ کہنے ہی کو تھا۔ خدمت گار تھا سلیقہ مند سمجھ گیا اور یہ کہہ کر رکابی آگے سے کھینچ چلتا بنا کہ دوسری صاف پلیٹ لاتا ہوں۔ تمام کھانے میں کوئی چھ سات رکابیاں بدلی گئیں۔ مگر اس بندۂ خدا نے چھری کانٹا ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ جب تک خدمت گار نے منہ پھوڑ پھوڑ کر نہیں مانگا۔ جب خدمت گار پہلی قاب اس کے برابر لایا تو اس نے دونوں کنارے پکڑ کر ساری قاب اس کے ہاتھ سے چمچے سمیت اپنے آگے رکھ لی۔ خدمت گار نے کان میں جھک کر کہا کہ اس میں سے جتنا آپ کو درکار ہو چمچے سے اپنے سامنے کی رکابی میں لے لیجیے۔ پڈنگ کانٹے سے کھانے کی تھی اس کو جو لگی مزے کی، چمچے سے ہڑپ۔ اور اس پر مزہ یہ کہ ذرا سی اور دینا۔ آخر میں سب سے زیادہ بے ہودہ بے تمیزی جو کی یہ تھی کہ فنگر گلاس کا پانی اٹھا کر پی گیا۔

ابن الوقت کی بعض حرکتیں حقیقت میں سخت بے جا تھیں مگر واہ ری شرافت! نوبل صاحب شروع سے آخر تک گردن جھکائے بیٹھے رہے، گویا کچھ خبر ہی نہیں مگر نیچی نگاہوں سے سب کچھ دیکھ رہے تھے اور دل میں ضرور پشیمان ہوئے ہوں گے کہ میں نے ناحق اس کو کھانے میں شریک کیا۔ ان کی پشیمانی اس خیال سے ان کو ضرور ایذا دہ ہوئی ہو گی کہ ایسی خصوصیت پر کیونکر ہو سکتا تھا کہ عین وقت پر کھانے کی تواضع نہ کرتا۔ تواضع کا کرنا تو مناسب، بلکہ واجب تھا اور اب تواضع کی تو آگے کو ایک راستہ کھلا اور بھلے کو آج کوئی انگریز کھانے میں شریک نہ تھا اور رہتا تو ساری عمر ان کی بے تمیزیوں کی نقلیں کر کر کے مجھ کو چھیڑا کرتا۔ ضرور نوبل صاحب جب تک میز پر رہے اسی فکر میں تھے کہ انہوں نے ابن الوقت کے ساتھ مطلق کسی قسم کی بات نہیں کی ورنہ نوبل صاحب کی میز کے چٹکلے تمام چھاؤنی میں مشہور تھے۔ خیر کھانے کے بعد نوبل صاحب نے ایک خدمت گار کو اشارہ کیا کہ آپ کو غسل خانہ میں لے جا کر ہاتھ دھلواؤ۔ وہاں سامنے سنگھار میز پر قدِ آدم آئینہ لگا تھا۔ ابن الوقت نے جاتے ہی اپنا عکس دیکھا تو بے ساختہ انشاء اللہ خاں کا وہ مقولہ یاد آ گیا: ڈاڑھی کو لگا شیخ کی اب سبز قطونا اور بجھنے لگی گت۔ بارے ہاتھ منہ دھو اور آدمیوں کے جون میں آ کر پھر نوبل صاحب کے پاس آیا۔ نہ جاننا بھی عجب مزے کی چیز ہے۔ ابن الوقت اتنا بھی تو متنبہ نہ ہوا کہ معذرت کرتا۔ نوبل صاحب نے اپنے لیے تو پائپ روشن کر لیا تھا۔ ابن الوقت کی طرف کو سگریٹ کا بکس سرکا دیا کہ اس میں جو تمباکو ہے وہ روم کے علاقے میں پیدا ہوتا ہے اور چرٹ کے مقابلے میں بہت ہلکا ہے آپ بے تامل پیجیے اور جب آپ چند روز اس کی عادت کیجیے گا تو میں یقین کرتا ہوں کہ اس کے سامنے آپ حقے کو منہ بھی نہ لگائیں گے۔ میں صبح و شام اور کھانے کے وقت تو پائپ پیتا ہوں اور باقی اوقات یہی سگریٹ۔ ابن الوقت گڑ کھا چکا تھا گلگلوں سے کاہے کا پرہیز؟ دیا سلائی سلگا، لگا انجن کی طرح بھق بھق منہ سے دھواں نکالنے۔

اب نوبل صاحب نے اپنی باتوں کا سلسلہ شروع کیا کہ جس روز آپ سے خواجہ باقی باللہ میں ملاقات ہوئی اس کے بعد سے میں برابر دلی کے باہر رہا۔ اسی اثنا میں ایک بار چیف کمشنر بہادر نے کرنال میں مجھے بلوا بھیجا۔ تا بہ دیر غدر کے حالات استفسار فرماتے رہے اور اسی کے ضمن میں آپ کا بھی ذکر آیا۔ مجھ کو اس بات کے جاننے سے سخت حیرت ہوئی کہ چیف کمشنر صاحب کو آپ کے ذاتی اور خانگی حالات مجھ سے بھی زیادہ معلوم ہیں وہ آپ کے دور و نزدیک ایک ایک رشتے دار سے واقف ہیں اور جو جو حرکتیں ان لوگوں سے غدر میں سرزد ہوئی ہیں ان کے پاس تاریخ وار نام وار سب کی تحریری یادداشت موجود ہے۔ مجاہدین کا گھروں میں ٹھہرانا ان کے لیے چندے جمع کرنا روپے سے ہتھیاروں سے کھانے کپڑے سے ان کی مدد کرنا۔ مجاہدین کے ساتھ جا جا کر دمدمے بنوانا اور دھاووں میں ان کا ساتھ دینا۔ سرکاری میگزین کے ہتھیاروں اور سرکاری کالج کی کتابوں کا لوٹنا۔ انگریزی عمارتوں کا ڈھانا۔ انگریزوں کے مارے جانے کا تماشا دیکھنا۔ لوگوں کو بغاوت کی ترغیب دینا۔ نمازیں پڑھ پڑھ کر علی الاعلان انگریزی عمل داری کے غارت ہونے کی دعائیں مانگنا اور اس کے لیے وظیفے اور ختم پڑھنا اور کیا کرنا۔ سارے پتے کی باتیں (خدا جانے کس بھیدی نے ان کو بتائی ہیں) ان پر منکشف ہیں۔ جہاد کے اصل مہری فتوے، لوگوں کے خانگی خطوط اور تمام شاہی دفتر ان کے پاس ہے۔ غرض سب کے ہاتھ کٹے ہوئے ہیں۔ مجھ کو ایسا نظر آتا ہے کہ دلی کے مسلمانوں میں سے شاذ و نادر کوئی متنفس الزامِ بغاوت سے بچ جائے تو بچ جائے ورنہ روداد بہت ٹیڑھی ہے۔''

ابن الوقت: ''آپ نے کہیں میرے روزنامچے کا تو کچھ تذکرہ نہیں کیا؟''

نوبل صاحب: ''آپ نے ان سب تحریرات کو دیکھا ہوتا جو میں نے دیکھی ہیں تو آپ خود سمجھ لیتے کہ آپ کے روزنامچے کا نام لینا نہ صرف فضول و لا حاصل تھا بلکہ دلیلِ حماقت۔ اجی حضرت نہیں معلوم ایسے ایسے کتنے روزنامچے سرکار میں پیش ہیں اور نہیں معلوم کتنے آدمی روزنامچہ نویسی کے کام پر مامور تھے۔''

ابن الوقت: ''تو یہ دربار اور اشتہار اور قول و قرار سب لغو؟''

نوبل صاحب: ''نہیں نہیں۔ غدر اور بغاوت کچھ لڑکوں کا کھیل تو تھا نہیں۔ اس کا ضروری اور لازمی نتیجہ ہندوستان کے حق میں نہایت ہی زبوں تھا۔ ملکۂ معظمہ اور گورنر جنرل نے حقیقت میں بڑا ہی تحمل کیا ورنہ عام انگریز تو ابھی تک اس قدر غیظ و غضب میں بھرے ہوئے ہیں کہ اگر انگریز کے ایک قطرۂ خون کے عوض ہندوستانیوں کے خون کی ندیاں بہا دی جائیں تو بھی ان کی پیاس نہ بجھے۔ مگر کیا کریں کچھ بس نہیں چلتا شاہی حکم سے لاچار ہیں۔ نہیں تو سارے شہر کو ڈھا کر مسمار کر دیتے کہ چند روز بعد کوئی اتنا بھی نہ پہچان سکتا کہ دلی کہاں بستی تھی۔ یہ اسی اشتہار کا اثر ہے کہ جب تک شہر پناہ کے اندر لڑائی ہوتی رہی یا لڑائی کے دو تین بعد تک جو ہونا تھا سو ہو لیا۔ اب جان و مال دونوں محفوظ ہیں۔ ہے کیا کہ دلی کے مسلمان سرکار کی نظر میں عموماً مشتبہ ٹھہر چکے۔ اب براءت کا بارِ ثبوت انہیں پر ہے۔ براءت ثابت کریں اور مزے سے اپنے گھروں میں آباد ہوں۔''

ابن الوقت: ''مجھ کو دوسروں کا تو حال معلوم نہیں۔ مگر ہمارے خاندان پر بیٹھے بٹھائے تباہی آئی۔ کم بخت اچھی خاصی طرح شہر سے اپنا منہ کالا کر گئے تھے۔ میری خیر خواہی کی خبر سن کر بے بلائے پھر آ موجود ہوئے۔ دلی اور اس کے اطراف میں بڑی سختی ہے اور جو لوگ دور نکل گئے ہیں پھر بھی امن میں ہیں۔ بلا سے میں تو ان لوگوں سے کہہ دوں گا کہ پھر کہیں کو نکل جائیں۔ سرکار کو اتنا خیال نہیں کہ متوسلانِ شاہی اور عام رعایائے انگریزی کی حالت میں بڑا فرق ہے۔ متوسلانِ شاہی پر سرکارِ انگریزی کے ایسے کیا حقوق تھے کہ ان سے وفاداری اور خیر خواہی کی توقع کی جائے۔ پھر قلعہ کیا برباد ہوا قلعے کے ساتھ سارے شاہی نمک خوار بے موت مر گئے۔ یہ سزا کیا کم ہے کہ ان سے دوسرے مواخذے کیے جائیں۔''

نوبل صاحب: ''میں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ میں نے آپ کے عزیزوں کی طرف سے یہی حجت پیش کی تھی اور بڑے شکر کی جگہ ہے کہ بڑے بڑے عہدے دار سب ٹھنڈے ہیں۔ چیف صاحب نے میری باتیں سن کر بالکل میری رائے سے اتفاق کیا اور فرمانے لگے کہ گورنمنٹِ ہند کے حکم سے تحقیقاتِ بغاوت کا ایک جداگانہ محکمہ قائم کرنا منظور ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ قسمت دہلی کے لیے تم کو اس محکمے کا کمشنر مقرر کر دوں، کیونکہ تمہاری رائے بالکل گورنمنٹ کے منشاء کے مطابق ہے۔ میں کیا عذر کر سکتا تھا۔ چیف صاحب کا حکم میں نے سر آنکھوں پر رکھا اور اگلے مہینے کی پہلی تاریخ سے میں اپنا کام شروع کر دوں گا۔''

ابن الوقت: ''بس آپ نے یہ خوشی کی خبر سنائی اور دلی کے مسلمان اگر میری طرح سے آپ سے واقف ہوں تو ان کو گھروں میں گھی کے چراغ جلانے چاہئیں ورنہ گورنمنٹ کے حکم احکام دھرے ہی رہتے اور حکامِ اضلاع اپنے ذاتی غیظ و غضب سے آفت توڑ مارتے۔''

نوبل صاحب: ''عام انگریزوں کے غصے کا یہ حال ہے کہ ایک مجمع میں آپ کی خیر خواہی کا ذکر تھا۔ تو جتنے تھے سب کے سب مخاصمانہ اشتباہات کرنے لگے کہ ایک شخص جس کو تم سے بلکہ سرکارِ انگریزی سے کسی طرح کا تعلق نہیں اور جس کے خاندان میں مذہبی تعصب اس شد و مد کے ساتھ ظاہر ہو کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس نے تم کو کیوں پناہ دی۔ ایسے خاندان کا آدمی سچا خیر خواہ ہو نہیں سکتا۔ پھر ہم دیکھتے ہیں تو اس نے تمہاری پناہ دہی پر بھی سرکارِ انگریزی سے کسی طرح کا تعلق پیدا کرنا نہیں چاہا۔ آپ تو کیمپ میں کیا جاتا اس نے نہ تو کوئی عرضی بھیجی نہ کوئی اپنا آدمی روانہ کیا۔ اور تمہاری پناہ دہی کے سوائے اس نے اور کوئی کام خیر خواہی کا کیا ہی نہیں۔ پس ضرور دال میں کچھ کالا ہے۔ ہم تو سمجھتے ہیں کہ اس نے تم کو شاید اس غرض سے زندہ رکھا کہ اس کو سرکارِ انگریزی پر زیادہ دباؤ ڈالنے کا موقع ملے اور اگر دلی فتح نہ ہوتی تو وہ ضرور تم کو بے رحمی کے ساتھ مار ڈالتا۔ پس جن لوگوں کی نظر میں خیر خواہی کی یہ وقعت ہو ان کی سختی کا کیا ٹھکانا ہے اور رعایا کو ایسے حکام سے کیا فلاح کی امید ہو سکتی ہے۔''

ابن الوقت: ''یہ سچ ہے کہ میں نے سرکارِ انگریزی کی خیر خواہی کی نظر سے آپ کو ہرگز پناہ نہیں دی سوائے اس کے کہ میں نے چند سال تک سرکاری کالج میں پڑھا تھا اور کسی طرح کا تعلق مجھ کو بلکہ ہمارے خاندان میں سے کسی کو کبھی سرکارِ انگریزی سے نہیں رہا۔ ہم لوگ پشتہا پشت سے شاہِ دہلی کے نمک خوار رہے ہیں۔ میں نے اپنے پندار میں آپ کی پناہ دہی سے فرضِ انسانیت ادا کیا ہے اور بس میں نے اس خدمت کے عوض میں سرکار سے کسی صلہ یا انعام کی درخواست نہیں کی اور نہ مجھ کو اس کا استحقاق یا دعویٰ ہے۔ میں نے اگر کچھ سلوک کیا (اگرچہ سلوک کا نام لیتے ہوئے مجھ کو شرم آتی ہے) تو آپ کی ذات سے اور آپ نے اضعافاً مضاعفہ مجھ کو اس کا عوض دیا، میرا پچاس روپیہ بھی آپ پر خرچ نہ ہوا ہو گا۔ آپ نے مجھ کو ہزار کا بندھا ہوا توڑا پکڑا دیا۔ میں نے آپ کے میگزین سے لانے اور رکھنے اور بو علی شاہ کے تکیے تک پہنچانے میں ہرگز وہ بلکہ اس کی آدھی تہائی زحمت بھی نہیں اٹھائی جو آپ نے مجھ کو اور میرے خاندان کے لوگوں کو خواجہ باقی باللہ سے لانے میں۔ آپ نے ہم لوگوں کو بے گار کی بے حرمتی سے بچا لینے میں جو احسان کیا میں اپنے تمام خدمات کی اس ایک احسان کے مقابلے میں کچھ بھی حقیقت نہیں سمجھتا۔ غرض آپ نے اپنے ذاتی احسانات اس قدر مجھ پر لاد دیے ہیں کہ اگر شریف ہوں تو ساری عمر کو میری گردن آپ کے سامنے خم رہے گی۔ اور یہ زمین داری جو بے استحقاق محض مجھ کو سرکار نے دی ہے یہ بھی آپ ہی کا طفیل ہے۔''

نوبل صاحب: ''آپ میں اور مجھ میں بہت بڑا فرق ہے۔ آپ نے بے غرضانہ جوکھوں اٹھا کر مجھ کو پناہ دی مگر خیر حسابِ دوستاں در دل۔ آئیے کچھ ضروری باتیں کریں۔ کھیر پور جو آپ کو انعام میں ملا ہے میرا دیکھا ہوا ہے۔ میں گوڑگانوہ کے صاحب کلکٹر کے ساتھ کئی بار وہاں شکار کو گیا ہوں۔ گاؤں میں تھوڑا سا رمنہ اور ایک بہت بڑا تالاب ہے۔ گیہوں، چاول، نیشکر، روئی، نیل، سب طرح کی عمدہ پیداوار وہاں بکثرت ہوتی ہے۔ جب جب وہاں میرے جانے کا اتفاق ہوا نادان سنگھ جس کا یہ گاؤں ہے مجھ سے ملا۔ اچھی شان سے رہتا تھا۔ اس کے رہنے کی گڑھی بجائے خود چھوٹا سا قلعہ ہے۔ نادان سنگھ کو گھوڑیوں اور بھینسوں کا بہت شوق تھا۔ ہزار ہزار روپے کی گھوڑی اس کی سواری میں رہتی تھی۔ غرض نادان سنگھ گوڑگانوہ کے بڑے خوش حال زمین داروں میں تھا۔ یوں تو اس کے پاس اور بھی گاؤں تھے مگر اسی کا مقولہ تھا کہ بھگوان نے کھیر پور کی دھرتی بڑی اپجاؤ کی ہے اور اس نے کھیر پور کی آبادی میں اپنی پونجی اور عمر اور آسائش کو بے دریغ خرچ کیا ہے۔ اور وہ اسی گاؤں کی آمدنی سے چھوٹا سا راجہ بنا ہوا تھا۔ خیر۔ فرض کیا جائے کہ جس قدر محاصل لوگ بیان کرتے تھے اس میں مبالغہ ہو اور لوگوں کا دستور بھی ہے کہ دوسرے کی آمدنی جانچنے میں سخی بن جاتے ہیں اور خرچ کا اندازہ کرنے میں بخیل۔ مگر عموماً ضلع گوڑگانوہ کے بندوبست سے وہاں کے زمین دار اس قدر رضامند ہیں کہ جس گاؤں کی جمع سنگین ہے اس میں بھی بعد وضعِ مصارف، بقدرِ جمعِ سرکار منافع ہے۔ تو اس حساب سے بھی آپ کی اکسٹرا اسسٹنٹی کی تنخواہ کہیں نہیں گئی۔ میں نے اس گاؤں کے انتخاب میں دو باتوں کا لحاظ کیا۔ اول تو قربِ دہلی، دوم اس گاؤں کے رقبے میں سے ہو کر ریل نکلنے والی ہے اور ریل کی وجہ سے گاؤں کی حیثیت کی ضرور ترقی ہو گی۔ میں نے آپ کے لیے نوکری کے حاصل کرنے میں جان بوجھ کر خود کوشش نہیں کی۔ اس لیے کہ میں نے عزت طلب ہندوستانیوں کو اکثر انگریزوں کی مدارات کا شاکی پایا اور اگر آپ نوکری کی خواہش کریں گے تو میں ہر وقت کوشش کرنے کو موجود ہوں۔''

ابن الوقت: ''میں آپ سے بار بار عرض کر چکا ہوں کہ ہم لوگ پشتہا پشت سے شاہی سرکاروں کے متوسل ہیں۔ ان سرکاروں کی مدارات کا یہ رنگ تھا کہ چھوٹی بڑی کل خدمتیں موروثی۔ یہ کتنے بڑے اطمینان کی بات تھی کہ سارے ملازم نہ صرف اپنی بلکہ اولاد کی معاش سے بھی بے فکر تھے۔ میں واقعات کے طور پر ان سرکاروں کے دستور اور قاعدے کچھ بیان کرتا ہوں۔ آپ ان کو درست نادرست واجب ناواجب جو چاہیں سمجھیں۔ جرمانے، معطلی، موقوفی کا نام بھی سارے قلعے میں کبھی کسی نے نہیں سنا اور داد و دہش، انعام، اکرام کی کوئی حد نہ تھی۔ تیمور کی نسل نے کبھی روپے کو روپیہ سمجھا ہی نہیں۔ شاہی تنخواہیں، اولاد، اولاد کی اولاد پر تقسیم ہوتے ہوتے بعض کے حصے میں صرف پیسے رہ گئے تھے اور وہ بھی دو ڈھائی برس میں ملی تو ملی۔ ورنہ اکثر تنخواہیں محض برائے نام تبرک کی طرح صرف سرکار کی داد و دہش پر نوکروں کا گزر تھا۔ مگر وہ پیسے لوگوں کو ایسے عزیز تھے کہ مفتی صدر الدین خاں صدر الصدور دہلی کی نقل مشہور ہے کہ قلعے سے ڈھائی یا تین روپے ان کی تنخواہ کے بھی تھے۔ خواجہ محبوب علی خاں نے تخفیف کا قلم جاری کیا تو مفتی صاحب کا نام بھی زمرۂ ملازمانِ شاہی سے کاٹ دیا۔ مفتی صاحب تو مفتی صاحب ایسے تین تین روپلی کی ان کے خدمت گاروں کو پروا نہ تھی۔ مگر مفتی صاحب نے جب سنا تو دہائی دیتے ہوئے حضور تک پہنچے اور آخر اپنی تنخواہ بحال کرا کے ٹلے۔ غرض قلعے کی سرکاروں کا برتاؤ نوکروں کے ساتھ ایسا تھا جیسے ماں باپ کا اپنے بال بچوں کے ساتھ تو صاحب میں تو ایسی سرکاروں میں رہا ہوں اور میں خود اپنے تئیں انگریزی نوکری کے قابل نہیں سمجھتا۔''

Что оставила в вас эта глава?

Войдите, чтобы отреагировать

Обсуждение

Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.

Понравилась глава? Поделитесь строкой из неё.