
第 4 章,共 28 章
La caída de Delhi
The Fall of Delhi
غدر کے بعد کی مصیبتیں
یہ اور ان سے بہت زیادہ باتیں خود ابن الوقت کے گھر میں ہو رہی تھیں کہ کوئی پہر ڈیڑھ پہر رات گئے، سڑک کی طرف سے بڑے زور سے گھوڑے کی ٹاپ سنائی دی اور پھر معلوم ہوا کہ سوار مکان کے برابر ٹھہرا۔ چند لمحے کے بعد کسی نے ابن الوقت کا نام لے کر پکارا۔ سب کو حیرت ہوئی کہ ایسے اندھیرے میں کہ ہاتھ کو ہاتھ نہیں سجھائی دیتا کون آیا ہو گا۔ ابن الوقت نے دروازے کے پاس جا کر آہٹ لی تو معلوم ہوا کہ جاں نثار ہے۔ گھبرا کر پوچھا ''کیا صاحب بھی ہیں؟''
جاں نثار: ''ہوں تو میں اکیلا مگر صاحب کا بھیجا ہوا آیا ہوں۔ ان کی نوکری کوڑیا پل کے مورچے پر ہے۔ مورچہ چھوڑ کر آ نہیں سکتے۔ مجھ کو دوڑایا ہے کہ ہم سب لوگ سمجھتے تھے کہ شہر ایک دن میں فتح ہو جائے گا۔ مگر ابھی تک باغی موجود ہیں، نہیں معلوم کتنی لڑائیاں شہر پناہ کے اندر ہوں گی۔ عین لڑائی میں دوست دشمن کا امتیاز نہیں ہو سکتا۔ آپ مال و متاع کا ہرگز لالچ نہ کیجیے، فقط جانیں لے کر راتوں رات شہر کے باہر نکل جائیے۔ جب اچھی طرح تسلط بیٹھ جائے گا تو آپ ہم مل لیں گے۔ صبح ہوتے ہوتے خود تمہارے ہی محلے پر دھاوا ہے۔''
جلدی جلدی اتنا کہہ کر جاں نثار تو چلتا ہوا۔ ابن الوقت یہ پیام سن کر کھڑے کا کھڑا رہ گیا۔ پھر تھوڑی ہی دیر بعد ہوش میں آیا تو سارے گھر کو سر پر اٹھا لیا کہ چلو نکلو۔ اس وقت تک نوبل صاحب کا حال ابن الوقت نے کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیا تھا۔ اب اس کے غل مچانے پر جو لوگوں نے حجت شروع کی اور الکسائے تو اس کو بہ مجبوری ساری حقیقت بیان کرنی پڑی۔ رات کا وقت، بال بچوں کا ساتھ اور دفعتاً گھر سے نکلنا اور وہ بھی محض بے سر و سامانی سے، خیر وہ تو جان ہی کچھ ایسی پیاری تھی کہ ہچکچا کر، مچل کر، نکلے پر نکلے۔ ابھی کوئی سو قدم بھی گھر سے دور نہیں جانے پائے تھے کہ جیسا جاں نثار نے کہا تھا محلے پر اولوں کی طرح گولوں کی بارش ہونے لگی۔ دو ہفتے کامل شہر کے باہر باہر خدائی خوار خاک چھانتے پڑے پھرے۔ دن کو کوٹلے میں ہیں تو رات کو عرب سرائے میں، آج پہاڑ گنج میں ہیں تو کل قدم شریف جہاں جاتے کوئی کھڑے ہونے تک کا روادار نہیں ہوتا۔ بارے سنا کہ پٹیالے والے حکیم خواجہ باقی باللہ میں ہیں اور ان کی وجہ سے وہاں سرکاری پہرہ بیٹھا ہے اور امن ہے۔ رشتہ نہیں، قرابت نہیں مگر الغریق یتشبث بالحشیش۔ آنکھوں پر ٹھیکری رکھ کر چلے کہ شاید ہم وطنی کا پاس کریں۔ گرتے پڑتے سڑک کو بچائے ہوئے چلے جاتے تھے اور کچھ راہ گیر شہر کے جلا وطنوں میں سے سڑک پر بھی تھے۔ یکایک کیا دیکھتے ہیں کہ کچھ سوار ہیں اور سڑک پر پکڑ دھکڑ ہو رہی ہے۔ ان لوگوں نے چاہا کہ دبے پاؤں آڑ میں ہو لیں۔ سوار گھوڑا دوڑا کر سر پر آ موجود ہوا اور مضبوط مضبوط آدمیوں کو چن کر کشاں کشاں سڑک پر لے گیا۔ معلوم ہوا کہ لوٹ کے مال کے کچھ گٹھر ہیں۔ ان کو اٹھوا کر رسالے میں لے جانا چاہتے ہیں اور رسالہ وزیر آباد میں ہے۔ یہاں سے کچھ نہیں تو چار کوس اور دلی کے مرزا منشوں کے حق میں ہزار کوس۔ زبردست کا ٹھینگا سر پر۔ قریب تھا کہ ایک گٹھر ابن الوقت کو بھی سر پر لادنا پڑے۔ اتنے میں رجال الغیب کی طرح چند انگریز گھوڑوں پر سوار آ پہنچے۔ ان کو دیکھ کر لوگ لگے فریاد کرنے کہ دیکھیے خداوند ہم کو بے گاریں پکڑتے ہیں۔ اتفاق سے انگریزوں میں نوبل صاحب تھے اور بے گاروں میں ابن الوقت۔ دونوں کی آنکھیں چار ہوئیں۔ آنکھوں کا چار ہونا تھا کہ نوبل صاحب گھوڑے سے کود کر ابن الوقت کو لپٹ گئے اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ وہی صاحب ہیں جنہوں نے مجھ کو اپنے گھر میں پناہ دی تھی۔ ان انگریزوں نے بھی اتر اتر کر ابن الوقت سے بڑے تپاک کے ساتھ ہاتھ ملائے اور انگریز تو چلے گئے، نوبل صاحب وہیں ٹھہرے رہے اور سوار جو بے گار پکڑ رہے تھے انہیں میں سے ایک کو کوتوالی کے پاس دوڑایا کہ جلد گاڑی، بہلی، رتھ، جو ملے لے آؤ۔
سواریوں کے آنے اور لوگوں کے سوار کرنے اور گھر پہنچانے میں کامل تین ساڑھے تین گھنٹے لگے۔ مگر واہ رے نوبل صاحب ٹلنے کا نام ہی نہ لیا۔ ابن الوقت نے مکان پہنچ کر دیکھا کہ جنگی سپاہی باہر دروازے پر کھڑا پہرہ دے رہا ہے اور بڑے بڑے حرفوں میں اشتہار لگا ہوا ہے کہ یہ مکان خیر خواہِ سرکار کا ہے کوئی اس کی طرف نظر بھر کر نہ دیکھے۔ ہوا یوں کہ جس وقت نوبل صاحب نے جاں نثار کی زبانی ابن الوقت کو شہر سے نکل جانے کے لیے کہلا بھیجا تھا اسی وقت سے تاک میں تھے۔ قابو پاتے ہی پہرہ بٹھا دیا۔ باغیوں اور شہر والوں میں سے تو بھاگنے میں کسی کو لوٹ کھسوٹ کی سوجھتی نہ تھی۔ لوگوں کو اپنی ہی جان دوبھر تھی۔ رہ گئے سرکاری سپاہی اور فوج کے سقے، دھوبی، گراس کٹ وغیرہ انہوں نے سارے شہر کو دھڑی دھڑی کر کے لوٹا۔ اوپر کا رکھا دھرا اسباب تو کسی کا ایک تنکا نہیں بچا، گڑا دبا مال بھی کھود کھود نکال لے گئے۔ ابن الوقت کے مکان پر بھی سارے دن اور پہر رات گئے تک یہی تانتا لگا رہتا تھا کہ ایک گیا ایک آیا۔ مگر پہرہ اور اشتہار دیکھا اور کان دبا کر چلتے بنے۔ غرض خدا کے فضل سے ابن الوقت کے گھر میں سے ایک سوئی تک نہیں گئی۔ جیسا چھوڑ کر گئے تھے ویسا ہی آ دیکھا۔
这一章在你心里留下了什么?
登录后参与
讨论
还没有人开口。说说这一章触动了你什么。