Urdu in Translation
Recherche

Chapitre 3 sur 28

诺布尔先生抵达英军营地

Mr Noble Reaches the English Camp

نوبل صاحب انگریزی کیمپ میں

纳齐尔·艾哈迈德

Écriture
Taille

ہرچند، ہر بار ابن الوقت، بات کو کسی نہ کسی تدبیر سے ہنسی میں اڑا دیا کرتا تھا مگر دل میں یہ بھی سوچتا تھا کہ ایسا نہ ہو گھٹ گھٹ کر بیمار پڑ جائیں تو وہی مثل ہو کہ کھلائے پلائے کا نام نہیں، رلائے کا الٹا الزام۔ آخر یہ صلاح ٹھہری کہ نوبل صاحب حاکمِ فوجِ انگریزی کو چٹھی لکھیں اور جاں نثار اس کو چھپا کر گوڑگانوہ، رہتک، کرنال، تین ضلعوں کے دیہات میں چکر کاٹتا ہوا کسی جگہ پنجاب کے راستے میں جا ملے اور وہاں سے انگریزی کیمپ میں داخل ہو۔ جاں نثار نے اس کا بیڑا اٹھایا اور چٹھی لے کر روانہ ہوا۔ اس کا پیٹھ موڑنا تھا کہ یہاں نوبل صاحب اور ابن الوقت لگے اس کی واپسی کا حساب کرنے۔ ہرچند دونوں چپے چپے زمین کے جغرافیہ سے آگاہ تھے مگر باوجودیکہ کئی دن تک برابر رد و کد ہوتی رہی۔ جاں نثار کے واپسی کی تاریخ سے متفق نہ ہو سکے۔ وجہ کیا تھی کہ جاں نثار کو آمد و شد میں جن اتفاقات کے پیش آنے کا احتمال تھا اگرچہ کوئی شخص حتیٰ کہ جاں نثار بھی ان کو نہیں جان سکتا تھا مگر ابن الوقت پھر بھی ان کا کسی قدر ناقص، ناتمام، ادھورا، اندازہ کرتا تھا اور نوبل صاحب چونکہ خود مستعجل تھے کسی احتمالِ مخالف کو اپنے ذہن میں آنے ہی نہیں دیتے تھے۔ تاہم انہوں نے آپ ہی اپنے نزدیک یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ جاں نثار کو آج سے پندرھویں دن ضرور ضرور واپس آنا چاہیے۔ ہرچند نوبل صاحب بڑے ہی مستقل مزاج آدمی تھے مگر سچ کہتے ہیں: الانتظار اشد من الموت۔ جاں نثار کی واپسی کے انتظار میں تو ان سے بھی ضبط نہ ہو سکا۔ جاں نثار کو گئے ہوئے ایک ہی ہفتہ گزرا تھا کہ انہوں نے بار بار مڑ مڑ کر دروازے کی طرف دیکھنا شروع کیا اور دسویں دن سے تو یہ حال ہوا کہ سارے سارے دن دروازے میں کھڑے رہنے لگے۔ ہرچند ابن الوقت گھسیٹ گھسیٹ کر اندر لے جاتا تھا مگر قابو ملا اور دروازے میں، جب پندرہ دن بھی گزر گئے اور جاں نثار کا کہیں پتہ نہیں تو نوبل صاحب کی اس دن کی یاس دیکھ کر ابن الوقت بھی بدحواس ہو گیا۔ زخمی ہونے کی حالت میں پھر بھی ان کے چہرے پر ایک طرح کی رونق تھی یا دفعتاً ان کی حالت اس قدر جلد جلد متغیر ہونے لگی کہ جاں نثار کے سامنے سے آدھے بھی نہیں رہے تھے۔ بھوک بالکل بند ہو گئی۔ نیند ایسی اچاٹ ہوئی کہ ساری ساری رات کروٹیں بدل بدل کر صبح کر دیتے تھے۔ آخر جاں نثار کی روانگی سے انتیسویں دن ابن الوقت نے کہا کہ ''جاں نثار کو جو اس قدر دیر لگی آپ اس کی نسبت کیا خیال کرتے ہیں؟''

نوبل صاحب: ''کیا بتاؤں۔ جاں نثار کی وفاداری پر شبہ کرنے کی تو میں کوئی وجہ نہیں پاتا۔ اس نے اس مصیبت میں جس قدر میری رفاقت کی آپ کو معلوم ہے۔ شاید ایسا ہو کہ وہ لوگ جواب کے عوض میرے نکال لے جانے کی فکر میں ہوں اور جاں نثار کو میری نشان دہی کے لیے ٹھہرا لیا ہو۔''

ابن الوقت: ''میں آپ کی دل شکنی کے ڈر سے عرض نہیں کر سکتا۔ مگر میرا خیال تو یہ ہے کہ جاں نثار کو ابھی تک انگریزی کیمپ میں پہنچنا بھی نصیب نہ ہوا ہو تو عجب نہیں۔''

نوبل صاحب: ''کیا آپ سمجھتے ہیں کہ میری چٹھی پکڑی گئی؟ نہیں نہیں ایسا ہو نہیں سکتا۔ جاں نثار نہایت ہوشیار آدمی ہے اور اس نے چٹھی کو ضرور ایسی طرح چھپایا ہو گا کہ کوئی گمان نہ کر سکے اور خود جاں نثار کی صورت اور وضع ایسی ہے کہ اس پر جاسوسی یا مخبری کا گمان ہو نہیں سکتا۔ نہیں نہیں مجھ کو پورا اطمینان ہے کہ وہ چٹھی سمیت صحیح سلامت کیمپ میں پہنچا۔''

ابن الوقت: ''آپ کو کچھ مفصلات کی بھی خبر ہے؟ تمام دیہات میں لوٹ کھسوٹ مچی ہوئی ہے۔ راستے بند پڑے ہیں۔ اکے دکے کی مجال نہیں کہ ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں کا قصد کرے اور ایسی بے تمیزی میں ناحق ناروا کوئی کسی کو مار دے تو کیا لگتا ہے۔''

نوبل صاحب: ''اگر آپ نے یہ حال مجھ سے پہلے کہا ہوتا تو میں ہرگز جاں نثار کے بھیجنے کا ارادہ نہ کرتا۔ افسوس ہے کہ میں نے اپنے فائدے کے لیے اس کی جان کو خطر میں ڈالا۔''

ابن الوقت: ''میں نے احتمالِ عقلی کے طور پر عرض کیا ورنہ جاں نثار ان گنواروں کے بس میں آنے والی اسامی نہیں۔ اس کی جان کی تو ان شاء اللہ سب طرح خیر ہے۔ ہاں رستے میں کہیں اٹک گیا ہو تو خبر نہیں۔ مگر خدا نے چاہا تو صبح شام پہنچنے ہی والا ہے۔''

نوبل صاحب: ''آپ صرف دیر کی وجہ سے ایسا قیاس کرتے ہیں یا...''

ابن الوقت: ''(ہنس کر) نہیں ایک کوا چھجے پر بیٹھا ہوا کاؤں کاؤں کر رہا تھا۔ میں نے اپنے ملک کی رسم کے مطابق شگون لیا اور ایک کوے سے کہا کہ جاں نثار آتا ہو تو اڑ جا۔ یہ کہنا تھا کہ کوا اڑ گیا۔''

ابن الوقت اور نوبل صاحب یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ باہر کے کواڑوں میں سے کھٹکھٹانے کی آواز آئی۔ سنتے ہی ابن الوقت بول اٹھا: ''لیجیے الحمد للہ وہ جاں نثار آ پہنچا۔'' ابن الوقت نے دوڑ کر کواڑ کھولے تو سچ مچ جاں نثار تھا۔ دور سے نوبل صاحب نے پوچھا: ''کہو خیر ہے؟''

جاں نثار: (قاعدے کے مطابق سلام کر کے) ''خداوند، حضور کے اقبال سے جواب لایا۔''

نوبل صاحب نے ایسی جلدی کی کہ جوتی کے تلے سے چٹھی کا نکالنا دشوار کر دیا۔ بارے خدا خدا کر کے چٹھی نکالی۔ نوبل صاحب اس کو بغور پڑھ رہے تھے اور ان کے منہ کی طرف ابن الوقت کی ٹکٹکی بندھی ہوئی تھی۔ نوبل صاحب کے چہرے سے فکر کے سوائے اور کوئی بات ظاہر نہیں ہوتی تھی۔ چاہتے تھے کہ چٹھی کو دوبارہ پڑھیں۔ ابن الوقت نے چٹھی پر ہاتھ رکھ دیا اور کہا: ''آپ کو ہمارے انتظار کی بھی قدر کرنی ضرور رہے۔ چٹھی کہیں بھاگی نہیں جاتی۔ پہلے خلاصہ فرما دیجیے تب دوبارہ سہ بارہ جب تک جی چاہے پڑھا کیجیے گا۔''

نوبل صاحب: ''کوئی خاطر خواہ جواب نہیں آیا۔ لکھتے ہیں کہ ابھی تک ہم لوگ دشمنوں کے حملوں کو ہٹا رہے ہیں۔ قلعہ شکن توپیں منگوائی گئی ہیں۔ وہ پہنچ جائیں تب ہمارے دھاوے شروع ہوں۔ اس وقت تک جہاں ہو چپ چاپ بیٹھے رہو۔ جس وقت ہماری طرف کے گولے جامع مسجد کے پار جانے لگیں یا قلعے میں گرنے شروع ہوں تو جاننا کہ توپیں پہنچ گئیں۔ اور پھر وہ امید کرتے ہیں کہ باغیوں کے پاؤں جلد اکھڑ جائیں گے اور یہ بھی لکھا ہے کہ تمہارا آدمی سولھویں دن کیمپ میں پہنچا اور اس کے بیان سے معلوم ہوا کہ اس کو راہ میں بڑی بڑی مشکلیں پیش آئیں۔ پس تم دوبارہ اس کے بھیجنے کا قصد مت کرنا۔ شہر میں صدہا آدمی ہندو مسلمان سرکار کے خیر خواہ موجود ہیں اور شہر کی خبریں برابر چلی آتی ہیں جب موقع ہو گا کسی خیر خواہ کے ذریعے سے تم کو ایما کر دیا جائے گا اور تم نکل آنے کے لیے ہر وقت تیار رہنا اور جن صاحب کے گھر میں تم نے پناہ لی ہے ان کے تفصیلی حالات اور ان کے مکان کا پتہ سب تمہارے آدمی سے دریافت کر لیا گیا ہے۔ ان پر سرکار اور تمام سرکاری عہدہ دارانِ ملکی و فوجی کی احسان مندی کما حقہ طور پر ظاہر کر دینا۔ اور یقین ہے کہ وہ ان تمام وعدوں سے جن کا اس وقت کر لینا بہت آسان ہے، اس کی بہت زیادہ قدر کریں گے۔''

ابن الوقت: ''اس سے بہتر اور کیا جواب ہو سکتا ہے۔ اس جواب کی نسبت کافی اور شافی اور معقول اور مناسب جو جو کچھ کہا جائے سب بجا ہے۔''

نوبل صاحب: ''مگر یوں بے کار پڑے پڑے ضرور مر جاؤں گا۔''

ابن الوقت: ''آپ مرنے والے ہوتے تو مرنے کے لیے بہت سے مواقع تھے۔ اب آپ کی زندگی کا میں بیمہ لیتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کی طبیعت بے کاری سے اکتاتی ہے مگر جہاں اتنی مصیبتیں جھیلی ہیں چندے اور صبر کیجیے۔ میں سمجھتا ہوں مہینے سوا مہینے کے آپ ہمارے مہمان اور رہیں۔''

نوبل صاحب: ''اف وہ! مہینے سوا مہینے۔''

ابن الوقت: ''اس مدت کے لیے کیا اچھا مشغلہ اس وقت خیال میں آیا ہے۔''

نوبل صاحب: ''وہ کیا؟''

ابن الوقت: ''حالاتِ غدر کی یادداشت۔''

نوبل صاحب: ''واہ واہ۔ بہت ہی اچھی صلاح ہے۔ مگر بہت سی باتیں اب مجھ کو اچھی طرح سے یاد بھی نہیں رہیں۔''

ابن الوقت: ''جہاں تک آپ کو یاد ہے اپنی یادداشت سے لکھیے اور زیادہ درکار ہو تو میرے پاس ہر روز کے واقعات کی تفصیل کیفیت لکھی ہوئی تیار ہے۔ آپ چاہیں تو اس سے لے سکتے ہیں۔ میرے اور آپ کے درمیان میں یہ قول رہا کہ اس یادداشت سے کسی کو ضرر نہ پہنچے۔''

نوبل صاحب: ''میں نہیں جانتا کہ غدر کے بارے میں گورنمنٹ کی کیا رائے ہو گی مگر باوجودیکہ غدر سے مجھ کو بڑی بڑی تکلیفیں پہنچی ہیں۔ میں ولایت جانے سے رہا، میرے اعزہ و احباب نے مجھ کو مرا ہوا فرض کر کے خدا جانے اپنا کیا حال کیا ہو گا۔ میں زخمی ہوا۔ میری زندگی معرضِ تلف میں رہی۔ میری گیارہ برس کی کمائی سب برباد ہوئی۔ تین مہینے ہونے آئے کہ میں بے کار محض پڑا اسٹرتا ہوں۔ اور ابھی نہیں معلوم کہ کب تک یوں ہی پڑا اسٹروں گا۔ مجھ کو اپنے یگانوں اور دوستوں کے مرنے جینے کی مطلق خبر نہیں اور یہ بھی خبر نہیں کہ اس ہنگامے کے فرو ہونے تک کیا کیا ایذائیں اور مصیبتیں پیش آنے والی ہیں۔ باوجود ان تمام صدمات کے میں اس ملک کے لوگوں کو سب کو نہیں تو اکثر کو کسی قدر معذور بھی سمجھتا ہوں۔ میرے نزدیک غدر ایک شورشِ جاہلانہ ہے۔ ہندوستانی فوج نے سرکاری قوت کے اندازہ کرنے میں غلطی کی۔ انہوں نے سمجھا کہ یہ ملک کمپنی بہادر نے ہماری مدد سے سر کیا ہے اور ہماری ہی مدد سے اس ملک پر قابض ہے۔ لوگوں کو کیا رعایا، کیا فوج، سرکاری ضوابط اور قواعد سے بھی کسی قدر نارضامندی ضرور تھی اور سرکاری عہدے داروں نے اس نارضامندی کی مطلق پروا نہیں کی۔ اور ہزار باتوں کی ایک بات تو یہ ہے کہ سرکار نے صرف بزورِ شمشیر اپنی حکومتِ قاہرہ کو بٹھانا چاہا۔ اور سلطنتِ مطمئنہ کی شرطِ ضروری خوشنودیِ رعایا افسوس ہے کہ تمام تر نہیں تو اس کا بڑا حصہ فوت ہوا۔ اور گورنمنٹ کا منشا پا کر عہدے دارانِ سرکار نے بھی استمالتِ قلوبِ خلائق کی طرف ذرا توجہ نہ کی۔ اس صورت میں کمپنی بے شک ہندوستان کی بادشاہ ہے مگر اسی طرح کی بادشاہ جیسے جنگل میں شیر۔ میری ہرگز یہ رائے نہیں ہے کہ غدر کی کھچڑی مدت سے پک رہی تھی یا سوچ بچار کر صلاح و مشورے سے یہ فساد ہوا۔ پس اگر میری رائے پر عمل ہوا اور وہ رائے اس حیثیت سے کہ میری رائے ہے ہرگز قابلِ وقعت نہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ گورنر جنرل جیسا مدبر اور منتظم اور صائب الرائے ضرور تمام اطراف و جوانب پر نظر کر کے حلم اور درگزر کے اصول پر عمل کرے گا اور تب ہی یہ آگ بجھے گی بھی۔ انتقام کا لینا تو ابقائے رعب اور سیاست کے لیے ضرور ہو گا۔ مگر تعمیم کے ساتھ نہیں۔ جن لوگوں نے کھلم کھلا بغاوت کی اور بغاوت کو پھیلایا اور مسلح ہو کر سرکار کے مقابلے میں معرکہ آرا ہوئے اور جنہوں نے حکومتِ انگریزی کے استیصال کی تدبیریں کیں اور جنہوں نے انگریزوں یا ان کے بی بی بچوں کو صرف اس وجہ سے کہ انگریز ہیں ناحق ناروا قتل کیا۔ ایسے اور صرف ایسے ہی لوگوں کو سخت سزا دینی چاہیے۔''

ابن الوقت: ''اب مجھ کو پورا اطمینان ہے کہ میرا روزنامچہ مجھ سے بہتر محفوظ ہاتھ میں رہے گا۔ لیجیے کتاب حاضر ہے۔''

نوبل صاحب کے کئی ہفتے اس روزنامچہ کی بدولت آسانی سے کٹ گئے اور یوں ان کی حالتِ منتظرہ جو تھی سو تھی ہی مگر روزنامچہ کا مشغلہ نہ مل گیا ہوتا تو نوبل صاحب شاید اکتا کر اور بولا کر باہر نکل کھڑے ہوتے۔ نوبل صاحب کا روزنامچہ ابھی پورا نہیں ہوا تھا کہ غدر کے کوئی دو مہینے اور بیس یا بائیس دن بعد عشا کی اذانیں ہو رہی تھیں کہ پہلا گولا قلعے کے دیوانِ عام میں گر کر پھٹا۔ سارے شہر میں ایک تہلکہ مچ گیا۔ اس وقت نوبل صاحب اور ابن الوقت دونوں ایک ہی جگہ تھے۔ جوں گولے کا دھماکہ ہوا کہ ابن الوقت چونک پڑا اور یہ کہہ کر اٹھا کہ ''لیجیے جناب دلی کی فتح اور آپ کا ان شاء اللہ مع الخیر و العافیہ کیمپ انگریزی میں داخل ہونا مبارک، مبارک، مبارک! یہ ضرور قلعے کی آواز ہے۔ جاؤں ذرا اپنی سرکار کی خبر لوں۔ بیگم صاحب تو شہر کی توپوں کی آواز سن سن کر کانپ کانپ اٹھتی تھیں۔ خدا جانے یہ گولا کس مقام پر گرا۔ الٰہی خیر ہو۔''

نوبل صاحب: ''شاید قلعے سے توپ چلی ہو۔''

ابن الوقت: ''نہیں جناب جب قلعے پر توپیں چڑھائی گئیں تو بہت سی بیگمات بلکہ مرشد زادے حضورِ والا میں فریاد لے کر آئے تھے کہ ہم کو ڈر لگتا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ کہیں ان توپوں کے چھوڑنے کا حکم ہو تو خانہ زاد آواز کے سنتے ہی دہل کر مر جائیں۔ جہاں پناہ نے اسی وقت حکم دے دیا کہ قلعے کی توپوں کے گولہ انداز شہر کی فصیل کے مورچوں پر رہیں۔''

اس وقت کا گیا گیا ابن الوقت پانچویں دن نواب معشوق محل بیگم صاحب کے پھول کر کے آیا تو نوبل صاحب کو دیکھ کر آنکھوں میں آنسو بھر لایا۔ نوبل صاحب کو معلوم تو ہو ہی گیا تھا، فرمانے لگے کہ ''بیگم صاحب کے انتقال کا مجھ کو سخت ملال ہے اور آپ سے جس قدر میں نے ان کی مدح سنی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑی نیک دل ملکہ تھیں۔ مگر ایسے وقت کا مرنا ہی ان کی خوش نصیبی کی دلیل سمجھتا ہوں۔ کیونکہ آپ کے جہاں پناہ نے اپنے ساتھ نسلِ تیمور اور تمام خاندانِ شاہی بلکہ شہر کے برباد اور تباہ کر دینے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ انہوں نے ملک گیری کی ہوس کی جب کہ ان کو اور ان کے اعوان و انصار کو ملک داری تو کجا، خانہ داری کی لیاقت بھی نہ تھی انہوں نے گورنمنٹ انگریزی کے نزدیک اپنے تئیں محسن کش، ناشکر گزار، غدار ثابت کر دیا۔ انہوں نے ہزارہا خون جو غدر کی وجہ سے ہوئے اور ہو رہے ہیں اور خدا جانے کتنے اور ہوں گے، اپنی گردن پر لیے۔''

ابن الوقت: ''ہرچند میں سمجھتا ہوں کہ بیگم صاحب کا ایسے وقت میں انتقال فرمانا ان کے حق میں بہت ہی بہتر ہوا، مگر وہ ہماری آج کی نہیں، قدیم کی سرکار تھیں۔ ہمارے سارے خاندان پر ان کے اور ان کے بزرگوں کے احسانات کے انبار ہیں۔''

نوبل صاحب: ''بے شک اپنے محسن اور مربی اور سرپرست اور آقا کی یاد کا تازہ رکھنا شرطِ مروت اور شیوۂ وفاداری ہے۔ مگر میں امید کرتا ہوں کہ ہماری سرکار بھی آپ پر اتنا تو ضرور ثابت کر دے گی کہ وہ بھی قدر دانی اور حق شناسی میں قلعے کی کسی سرکار سے کم نہیں۔''

جس دن قلعۂ شاہی پر گولے برسنے شروع ہوئے فوجِ باغی کا ضعف اور اہلِ شہر کا ہراس کھل پڑا۔ لوگ لگے مال و متاع گھر بار چھوڑ چھوڑ کر بھاگنے اور گولوں نے یہ غضب ڈھانا شروع کیا کہ کلکتے دروازے سے لے کر لاہوری دروازے تک شہر کے شمالی حصے میں شاذ و نادر کوئی مکان ان کے صدمے سے بچا ہو تو بچا ہو، ورنہ سارے دن اور ساری رات ہر طرف سے یہی آواز چلی آتی تھی۔ بھٹ اڑا، اڑا دھوں۔ رفتہ رفتہ ابن الوقت کے محلے میں سے بھی لوگ کھسکنے شروع ہوئے۔ تب تو ابن الوقت کو سخت تردد ہوا کہ ایسا نہ ہو ہماری عورتوں کے کان میں بھی بھنک پڑ جائے اور شہر سے چلے جانے کا ارادہ کریں۔ چنانچہ ابن الوقت نے ایک دن اس خدشے کو نوبل صاحب سے بھی بیان کیا تو انہوں نے فرمایا جو لوگ شہر کے جنوبی حصے میں رہتے ہیں ان کو گولوں کے ڈر سے بھاگنے کی کوئی وجہ نہیں۔ یہ گولہ باری صرف فوجِ باغی کے ڈرانے کی غرض سے ہو رہی ہے اور وہ حاصل ہو چکی کیونکہ سب کے پاؤں اکھڑ گئے ہیں اب سرکار کو جانوں اور عمارتوں کا نقصان کرنے سے کیا فائدہ ہو گا۔ نہیں نہیں آپ بخوبی اطمینان رکھیے۔ ہم لوگ گولوں کے گزند سے محفوظ ہیں۔ لیکن ہاں اگر ایسا ہوا کہ شہر کے فتح ہونے سے پہلے میرا جانا ٹھہر گیا تو اتنی احتیاط ضرور کرنا کہ مکان میں ہفتے عشرے کا سامان رکھ کر مضبوطی کے ساتھ اندر ہو بیٹھنا۔ فتح مند فوج کا دشمن کے شہر میں داخل ہونا گویا ایک عذاب کا داخل ہونا ہے۔ سامنے پڑا ہوا آدمی بچ نہیں سکتا اور میں امید کرتا ہوں کہ شہر کے فتح ہونے سے پہلے میں آپ کی حفاظت کا انتظام کر سکوں گا۔

اگلے دن ہو ابن الوقت قلعے گیا تو دیکھا کہ خود جہاں پناہ بھی بھاگنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ سمجھا کہ بس اب صبح و شام انگریز داخل ہونے والے ہیں۔ وہاں کے کام کاج سے فراغت پا کر گھر کو واپس آ رہا تھا کہ بادشاہ کے خاص الخاص خدمت گار یاقوت نے پیچھے سے آواز دی اور برابر آ کر کہنے لگا: ''بھلا ہو کہ میں نے آپ کو جاتے دیکھ لیا۔ ورنہ آپ کے گھر جانا پڑتا۔ جو انگریز آپ کے گھر میں چھپا ہوا ہے یہ چٹھی اس کے نام کی ہے اس کو دے دیجیے گا۔'' یہ کہہ کر یاقوت الٹے پاؤں لوٹ گیا۔ ابن الوقت اپنے دل میں کہتا چلا آتا تھا کہ کس برتے پر تتا پانی۔ مردانگی کا یہ حال کہ ایک دن بھول کر قلعے سے باہر قدم نہ رکھا۔ بیدار مغزی اس درجے کی کہ اپنے خاص الخاص خدمت گار انگریزوں سے ملے ہوئے، تو بغاوت کرنی کیا ضرور تھی۔ گھر آ کر نوبل صاحب کو چٹھی دی۔ لکھا تھا کہ کل کا دن بیچ پرسوں دو بجے رات سے شہر پر دھاوا ہے۔ آج رات کے آٹھ بجے سے آدھی رات تک ایک لفٹنٹ کچھ گورے لے کر کابلی دروازے کے باہر بو علی شاہ کے تکیے میں تمہارا منتظر رہے گا۔ دیکھو موقع ہاتھ سے جانے نہ پائے۔

غدر سے بہت دنوں بعد تک شہر کے دروازوں پر پہرے چوکی کا ایسا سخت انتظام رہا کہ بے تلاشی کوئی گزرنے نہیں پاتا تھا۔ لوگوں میں تو یہ مشہور تھا کہ اس سے مخبری کا انسداد منظور ہے۔ مگر فی الواقع مردم آزاری کے سوائے کوئی بات نہ تھی۔ یا اب یہ حال ہو گیا تھا کہ کلکتے دروازے سے لے کر کابلی دروازے تک شہر کے دروازے تو بالکل بند تھے۔ لاہوری کھلا ہوا تھا مگر برائے نام۔ کیونکہ گولے کے ڈر کے مارے کسی کو اس دروازے کے باہر بھی قدم رکھنے کی جرات نہ ہوتی تھی۔ آمد و شد کی بڑی بھرمار پہلے سے بھی دلی دروازے اور ترکمان دروازے پر تھی۔ جب سے بھاگڑ شروع ہوئی یہ حال ہو گیا تھا کہ سارا شہر انہی دروازوں کی راہ امڈا ہوا نکلا چلا جاتا تھا۔ صلاح یہ ٹھہری کہ اچھی طرح جھٹپٹا ہو لے تو ترکمان دروازے سے نکل لیں اور باہر باہر گھوم کر تکیے میں جا داخل ہوں۔ نوبل صاحب جب تک ابن الوقت کے گھر رہے ہندوستانی لباس پہنا کیے اور وہ ایسے جامہ زیب آدمی تھے کہ ہندوستانی کپڑوں میں بہت ہی بھلے معلوم ہوتے۔ جو کپڑے پہنے بیٹھے تھے اسی طرح ابن الوقت اور اس کے دو رازدار ملازم اور جاں نثار کو ساتھ لے کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ نوبل صاحب نے صرف اتنی ہی احتیاط کی کہ چادر سے اپنا منہ چھپا لیا۔ جیسے کسی کی آنکھیں دکھتی ہوں۔ ابن الوقت ان کا ہاتھ پکڑے ہوئے آگے آگے تھا۔ وہ ایسا نفسا نفسی کا عالم تھا کہ کوئی کسی کے حال سے معترض نہ ہوتا تھا۔ نہ کسی نے روکا نہ ٹوکا اچھی خاصی طرح دندناتے ہوئے دروازے کے باہر جا موجود ہوئے۔ پھر آگے اجمیری دروازے کے برابر بھی گنتی کے چند آدمی نظر آئے جن کو اپنی دھن میں کسی کی کچھ سدھ نہ تھی۔ وہاں سے آگے بڑھے تو مطلع صاف تھا۔ جنگل سے زیادہ ویران، بیابان سے بڑھ کر وحشت ناک۔ تکیہ ابھی صاف طور پر نظر بھی نہیں آیا تھا کہ دور سے ''ہو کمز دیر'' کی آواز آئی۔ معلوم ہوا کہ نوبل صاحب کے لینے کو لوگ پہنچ گئے ہیں۔ نوبل صاحب نے پکار کر ''فرینڈز'' کہا، تو لفٹنٹ بریو آگے بڑھے۔ ادھر نوبل صاحب جھپک کر الگ ہوئے۔ دونوں نے ہاتھ ملائے۔ ساتھ کے گوروں نے ہرا کے ساتھ نوبل صاحب کو نجات کی مبارک باد دی۔ پھر نوبل صاحب نے وہیں کھڑے کھڑے بریو صاحب سے ابن الوقت کی تقریب کی۔ وہ بے چارہ مطلق اردو نہیں بول سکتا تھا مگر نوبل صاحب ان کی طرف سے ترجمان ہوئے کہ ''لفٹنٹ صاحب آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ بھی کیمپ کو چلیں۔'' ابن الوقت نے اہل و عیال کی تنہائی کا عذر کیا تو لفٹنٹ بریو نے کہا کہ خدا نے چاہا کل نہیں تو پرسوں اس سے بہت پہلے ہم آپ سے مل چکیں گے اور سب سے پہلا سپاہی جو آپ کی حفاظت کے لیے آپ کے گھر ہو گا شاید وہ میں ہوں گا۔ یہ کہہ کر لفٹنٹ بریو نے جیب سے دو چرٹ نکالے، ایک تو نوبل صاحب کو دیا اور دوسرا ابن الوقت کو اور دیا سلائی بھی سلگا کر ابن الوقت کے آگے کر دی۔ ابن الوقت نے لفٹنٹ صاحب کا بہت شکریہ ادا کیا اور یہ کہہ کر اپنا چرٹ نوبل صاحب کو دے دیا کہ آپ جانتے ہیں کہ مجھ کو اس کی عادت نہیں۔ ابن الوقت نے یہ کہا تو سہی مگر اس کو معلوم نہ تھا کہ انگریزوں کی صحبت میں خدا جانے کیا کیا پینا کھانا اس کی قسمت میں لکھا ہے۔ نوبل صاحب نے بھی ابن الوقت کو نہایت درجے کی احسان مندی کے ساتھ رخصت کیا۔

جاں نثار تو نوبل صاحب کے ساتھ ہو لیا اور ابن الوقت اپنے دونوں نوکروں کے ساتھ پاس کے پاس فراشخانے کی کھڑکی سے داخل ہو کر شہر کے اندر اندر خوش و خرم گھر پہنچا۔

ان دنوں دلی کے رہنے والوں میں سے بہت ہی تھوڑے دل مطمئن تھے اور جو قدرے قلیل معدودے چند مطمئن تھے ان میں ایک ابن الوقت بھی تھا۔ نوبل صاحب اور لفٹنٹ بریو نے تھوڑی دیر پہلے اس کے ساتھ اس قسم کی مدارات کی کہ سینکڑوں ہزاروں امیدیں اس کے دل میں امنڈنے لگیں۔ پس اگلا دن غدر کے دوسرے دنوں کی طرح خیریت سے گزرا۔ آدھی رات کا ڈھلنا تھا کہ دلی کے حصے کی قیامت آ گئی۔ یعنی انگریزوں نے دو طرف سے شہر پر حملہ کیا۔ تھوڑی دیر تو توپیں چلیں اس تسلسل کے ساتھ کہ جیسے کبھی زور کی مہاوٹ میں بجلی ہے کہ برابر کوند رہی ہے اور گرج ہے کہ ایک لمحے کو نہیں تھمتی اور پھر بندوقیں چلنی شروع ہوئیں۔ ابن الوقت کو دور سے بس ایسا سن پڑتا تھا کہ بھاڑ میں گویا چنوں کے گھان بھن رہے ہیں۔ پہر سوا پہر دن چڑھتے چڑھتے بارے وہ شدت تو کم ہوئی، مگر بندوقوں کی آواز پھر بھی پھٹ پھاٹ ادھر سے ادھر چلی ہی آتی تھی۔ پھر ایسا سن پڑا کہ انگریز جا بجا مکانوں میں گھس بیٹھے ہیں اور باغی ہیں کہ بولائے بولائے پڑے پھرتے ہیں۔ اصل حال نہیں کھلتا کہ جیت کس کی رہی۔ غرض جوں توں شام ہوئی اور سچ پوچھو تو شہر کے تمام جنوبی حصے میں دن بھی رات ہی کی طرح اداس تھا۔ بوڑھے سے بوڑھے آدمیوں کی ساری عمر امن میں گزری۔ ایسی لڑائیاں کسی کے خواب و خیال میں بھی نہ تھیں۔ مار کٹائی میں اگر کسی کے خون نکل آیا تو سارے شہر میں کئی کئی دن اس کا چرچا رہتا تھا۔ اب ہر شخص اپنی جگہ ایک رائے لگاتا تھا، جتنے منہ اتنی باتیں۔ کوئی کہتا تھا بس جو کچھ ہونا تھا ہو چکا رات کو رہے سہے باغی بھی اپنا منہ کالا کر جائیں گے، شکر ہے مدتوں میں نیند بھر کر سونا تو نصیب ہو گا۔ دوسرا پیشین گوئی کرتا کہ لڑائی کا پچھا ہی بھاری ہوتا ہے۔ انگریز اس قدر غضب ناک ہو رہے ہیں کہ شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں تو سہی۔ تیسرا بول پڑتا کہ نہیں جی ایسا نہیں ہو سکتا۔ شہر کو مسمار کر دیں گے تو حکومت کا ہے پر کریں گے؟ ڈلوں پر، پتھروں پر؟ چوتھا یہ صلاح دیتا کہ دو چار دن گھر سے باہر نکلنا ٹھیک نہیں۔ آدمی سامنے پڑا اور ٹھائیں سے اڑا دیا۔

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.