Urdu in Translation
搜索

第 28 章,共 28 章

第三次会面:政治、改革与宗教

The Third Meeting: Politics, Reform and Religion

ابن الوقت شہر میں پھوپی کے گھر جا کر حجۃ الاسلام سے تیسری بار ملا اور دونوں میں پولیٹکل اور پھر مذہبی گفتگو

纳齐尔·艾哈迈德

文字
字号

صاحب کلکٹر کے ساتھ صفائی کا ہونا تھا کہ ابن الوقت کا بازار گرم ہو چلا۔ نوبل صاحب کے بعد سے ابن الوقت اس کا بنگلہ، اس کی کچہری، اس کے عملے، اس کے ذاتی ملازم سبھی چیزیں گویا کوارنٹین میں تھیں کہ لوگ ان سے مٹھ بھیڑ کرتے ہوئے ڈرتے تھے یا کام پر مسلط ہونے کی خبر کے مشتہر ہوتے ہی بعضے تو بے غیرتی کا جامہ پہن پہن اسی شام آ دھمکے لیکن ابن الوقت کو ایسا جھکولا نہیں لگا تھا کہ اس قدر جلد بھول جاتا۔ اور حجۃ الاسلام کی نصیحت اس کے کانوں میں گونج رہی تھی سو الگ، غرض انگریزیت کے ولولے ابن الوقت کے دل سے سلب تو نہیں ہوئے تھے پر ٹھنڈے ضرور پڑ گئے تھے۔ وہ لوگوں سے ملا مگر کچھ لمبے چوڑے تپاک سے نہیں اس پر بھی جن کو ابن الوقت کی دعوتوں کی چاٹیں پڑی ہوئی تھیں بے صلاح دیے باز نہ رہے کہ مسٹر شارپ کو بڑا بھاری ڈنر دیا جائے اور اسٹیشن کے تمام انگریزوں کو مدعو کیا جائے۔ حجۃ الاسلام نے ابن الوقت سے ملنے کا وعدہ کیا ہی تھا اور ہفتے کے اندر ہی اندر ملتے پر ملتے۔ لیکن ابن الوقت کو صبر کہاں تھا۔ ادھر لوگ اس کو ڈنر کے لیے الگ اکسا رہے تھے۔ حجۃ الاسلام تو اس طرح کے سیدھے سادے بے تکلف آدمی تھے کہ اگر ابن الوقت جھوٹوں بھی کہلا بھیجتے تو پیچوں دوڑے چلے آئیں مگر اس کے بلوانے کی ہمت نہ پڑی۔ کچھ رشتے یا عمر کی بڑائی کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کی باتوں نے ان کی بڑی وقعت اس کے ذہن میں جما دی تھی۔ آخر تیسرے دن کوئی چار چھ گھڑی رات گئے کبھی کے پڑے ہوئے ہندوستانی کپڑے یاد آئے، جلدی سے بدل، سوار ہو، جا موجود ہوا۔ تبدیلِ وضع کے بعد یہ اس کا پہلا پھیرا تھا۔ کنبے کے لوگوں کو رشتے داروں کو اور خاص کر اس کی پھوپی کو جس قدر خوشی ہوئی وہ بیان سے باہر ہے۔ سب نے ریجھ ریجھ کر اس سے باتیں کیں۔ ہر چند ان باتوں کا لکھنا خالی از لطف نہ تھا۔ مگر یہ مذکور ہمارے مطلب سے خارج ہے۔ اس نے حجۃ الاسلام سے کہا کہ حضرت لوگوں نے میری جان کھا رکھی ہے کہ صاحب کلکٹر کو ڈنر دو، ڈنر دو۔

حجۃ الاسلام۔ "اس وضع سے اگر تم صاحب کلکٹر سے ملنا چاہو تو چلو میں اب ملوا لاؤں۔ مگر انھوں نے مجھ سے کھل کر کہہ دیا ہے کہ میں کسی ہندوستانی کو انگریزی لباس پہنے نہیں دیکھنا چاہتا۔ تم ناحق کیوں ان کے سر ہوتے ہو؟"

ابن الوقت۔ "پھر صفائی کیا خاک ہوئی؟"

حجۃ الاسلام۔ "نہیں ہوئی نہ سہی۔ جو تم سے بن پڑے سو کرو۔ تم بھی عجیب طرح کے ناشکر آدمی ہو۔ تمہارا کام تم کو پھر ملا۔ صاحب کلکٹر نے سچ پوچھو تو ایک طرح پر معذرت کی۔ کیوں کہ غلطی کا اقرار کرنا بھی معذرت ہے۔ لوگوں کی نظر میں جو تمہاری بے وقری ہو رہی تھی بالکل دھل گئی۔ جہاں تک تم کو صاحب کلکٹر کے ساتھ سرکاری تعلق ہے بس پوری پوری صفائی ہو گئی۔ رہ گئی یہ بات کہ وہ تمہاری انگریزی وضع کو ناپسند کرتے ہیں یہ ان کا ذاتی خیال ہے اور انھیں کا نہیں بلکہ تمام انگریزوں کا۔ کسی کی آنکھ میں مروت زیادہ ہوئی اس نے منہ سے نہ کہا مگر دل میں وہ بھی ضرور بُرا مانتا ہوگا۔"

ابن الوقت۔ "میں نہیں سمجھتا کہ صاحب کلکٹر یا کسی یورپین کو اگرچہ وہ وائسرائے ہی کیوں نہ ہو ہمارے لباس اور طرزِ تمدن میں دخل دینے کا انصافاً کیا استحقاق ہے اور آج کو تو لباس ہے کل کو رعایا کے مذہب میں مداخلت شروع کریں گے۔ یہ بالکل برٹش گورنمنٹ کے اصول کے خلاف ہے اور دیکھیے گا کہ آخرکار شارپ صاحب اس معاملے میں بڑی زک اٹھائیں گے۔"

حجۃ الاسلام۔ "اگر انگریزوں کو اس ملک پر حکمرانی کا استحقاق ہے تو ضرور اس بات کا بھی استحقاق ہے کہ جو چیزیں ضعفِ حکومت کی طرف منجر ہوں ان کا انسداد کریں اور تمہارا طرزِ لباس اور طرزِ تمدن ان چیزوں میں ہے جن سے ضعف کا اندیشہ ہے۔ کوئی ہندوستانی جو اپنی مانوس قدیمی قومی وضع کو چھوڑ کر تمہاری انگریزی وضع اختیار کرے گا اس کی غرض سوائے اس کے اور کیا ہوگی کہ وہ حکامِ وقت کے ساتھ برابری کا دعویٰ رکھتا ہے۔ اور حاکم و محکوم میں مساوات کا ہونا ضعفِ حکومت نہیں تو کیا ہے؟"

ابن الوقت۔ "تو آپ کے نزدیک رعایا کی آزادی جس پر برٹش گورنمنٹ کو بڑا فخر اور ناز ہے صرف دھوکا ہے۔"

حجۃ الاسلام۔ "رعایا کی آزادی کے یہ معنی نہیں ہیں کہ انگریز حکومت سے دست کش ہو جائیں اور نہ کوئی معقول پسند آدمی انگریزوں سے اس طرح کی توقع رکھ سکتا ہے۔"

ابن الوقت۔ "یہ آپ ان لوگوں کے خیالات بیان کر رہے ہیں جو ہندوستان میں برسرِ حکومت ہیں۔ مگر ولایت والوں کا یہ حال نہیں ہے وہ ہندوستان اور انگلستان کی رعایا میں سرِمو فرق نہیں کرتے۔ آپ شاید یہ سمجھتے ہوں گے کہ یہیں کے انگریز جو چاہتے ہیں سو کرتے ہیں۔ وہ زمانہ گیا۔ شارپ صاحب کیا میری ایک متنفس کی وضع کے پیچھے پڑے ہیں۔ ابھی تو ان کو بہت کچھ خلافِ مزاج دیکھنا اور سننا ہوگا۔ وہ وقت قریب آ لگا ہے کہ اس ملک میں سول سروس کا امتحان ہوا کرے گا۔ کسی ملکی خدمت کے لیے انگریزوں کی تخصیص باقی نہ رہے گی جیسی کہ اب ہے۔ وائسرائے کی کونسل میں برابر کے ہندوستانی ہوں گے اور کوئی قانون بدون ان کے صلاح و مشورے کے جاری نہ ہو سکے گا۔ غرض انتظامِ ملک میں ہندوستانی ویسے ہی دخیل ہوں گے جیسے انگلستان میں وہاں کی رعایا اور جب بادشاہ ایک ہے کوئی سبب معلوم نہیں ہوتا کہ دونوں ملکوں کی رعیت کے ساتھ ایک طرح کا برتاؤ نہ کیا جائے۔"

حجۃ الاسلام۔ "اللہ اللہ۔ اس خبط کا کیا ٹھکانا! کہیں تم نے متوالی کو دوں تو نہیں کھالی۔ ایاز قدرِ خود بشناس۔ انگلستان کی رعایا کی سی قابلیت بہم پہنچائی ہوتی۔ ملکہ پر اپنا اعتبار ثابت کیا ہوتا تو ایسی بلند پروازیاں تم کو پھبتیں بھی۔ حلوا خوردن را روئے باید۔ نالیاقتی کا تو یہ حال ہے کہ نہ ہمت ہے نہ جرأت ہے، نہ اتفاق ہے نہ تہذیب ہے، نہ شائستگی ہے نہ سچائی کی تلاش ہے۔ نہ معلومات ہے نہ معلومات بہم پہنچانے کا شوق ہے۔ نہ ہنر ہے نہ تجارت، نہ دولت ہے نہ ایجاد ہے نہ صناعت ہے غرض صلاحیت تو اگر سچ پوچھو خانہ داری کی بھی نہیں اور حوصلے دیکھو ملک گیری کے اور ہندوستانیوں پر کیا موقوف ہے میں تو سمجھتا ہوں کہ تمام ایشیا کی آب و ہوا میں کچھ اس طرح رداءت آ گئی ہے کہ اس سرزمین میں کوئی شخص جس کو ضابط اور منتظم سمجھا جائے پیدا ہوتا ہی نہیں بلکہ میں جب حج سے واپس آ کر بمبئی میں اترا اور یہاں کے غدر کے حالاتِ تفصیلی سنے تو بے ساختہ میرے منہ سے نکلا کہ ناحق انگریزوں نے اتنی زحمت اٹھائی۔ جیسے لوگوں نے بغاوت کی تھی زیادہ نہیں تو ایک ہی ضلع تھوڑے دنوں کے لیے بالکل چھوڑ بیٹھے ہوتے کہ ہماری عملداری سے ناخوش ہو تو خود کر کے دکھا دو۔ تیقن ہے کہ ایک برس بھی پورا نہ گزرنے پاتا کہ لوگ بدعملی سے عاجز آ کر بہ منت انگریزوں کو منانے جاتے اور پھر کبھی بھول کر بغاوت کا نام نہ لیتے۔ میں خیال کرتا ہوں تو انگریزی عملداری تمہاری ہی نہیں بلکہ ہم لوگوں کی بھی شرطِ زندگی ہو گئی ہے۔ چاقو، مقراض، سوئی، تاگا، دیاسلائی، انواع و اقسام کے کپڑے، غرض ضرورت اور آسائش کی اکثر چیزیں انگریزی ہی انگریزی دکھائی دیتی ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ انگریزوں سے محض بے تعلقی ہو جائے تو ہمارا کیا حال ہو۔ بھلا خیر فرض کیا کہ خدا کے فضل سے گورنری تک کے لیے بھی بہت سے بنگالی یا دوسرے انگریزی خواں ملیں گے بلکہ دور کیوں جائیں تم ہی ماشاءاللہ کس بات میں کم ہو۔ مگر یہ تو فرماؤ ضرورت کی چیزوں کا بنانے، بہم پہنچانے والا بھی کوئی ہے؟ انگریزی تعلیم کے فیضان سے گورنر، کونسلر، لفٹنٹ گورنر، بورڈ کے ممبر، کمشنر، کلکٹر، جسٹس، مجسٹریٹ اس قسم کے لوگ تو ہمارے بنگالے میں بہتیرے نکل پڑے اور امن کے پندرہ بیس برس گزرنے دو یہاں بھی بہتیرے نکل پڑیں گے مگر کوئی ایسا بھی ہوا کہ انگریزوں کی طرح کلیں نکالتا اور زیادہ نہ سہی تو ان ہی کے کیل پرزوں کو جما بٹھا کر ان سے کام لیتا۔ غیرت ہو تو چلو بھر پانی لے کر ڈوب مریں کہ ہمارے ملک کی پیداوار ولایت جائے اور وہاں سے بن سنور کر پھر آئے اور پھر ہمارے ہی ہاتھوں چوگنے پچگنے داموں پر بکے۔ ہندوستان خطۂ معدنیات، نباتات، حیوانات غرض جملہ اعتبارات سے تمام روئے زمین کا لبِ لباب ہے مگر ہم کو ان چیزوں سے فائدہ اٹھانے کا سلیقہ نہیں تو ہماری طرف سے ہو تو بلا سے، اور نہ ہو تو بلا سے، سب کچھ کھو کھوا کر معاش کے دو ذریعے رہ گئے تھے۔ کاشتکاری اور تجارت۔ سو کاشتکاری کی برکتیں روز بروز سلب ہوتی چلی جاتی ہیں۔ زمین کو مہلت تو ملتی نہیں۔ اس کی قوت گئی گھٹ۔ ہم کو اس کا بھید معلوم نہیں کہ زمین میں سے کیا چیز نکل گئی ہے اور کیوں کر اس کی تلافی کی جاتی ہے۔ پس اگلے وقتوں کے سے الٹے تلٹے کی پیداوار ہوں تو کہاں سے ہوں۔ تمہاری دلّی ہی کے سواد میں رائے پتھورا کا اب سے دو سوا دو ہزار برس پہلے کا بنا ہوا محل کھڑا ہے۔ پتھروں پر ان وقتوں کے ہل، ان وقتوں کے چھکڑے بنے ہیں۔ مدت ہوئی جب میں نے اس کو اوّل بار دیکھا تو خیال آیا اللہ اکبر زمانے میں اتنے انقلاب ہوئے، کتنی عملداریاں بدل گئیں، قومیں بدل گئیں، غرض دنیا بدل گئی اور نہ بدلے تو ہل اور چھکڑے کہ جیسے تب تھے بجنسہٖ ویسے ہی اب بھی موجود ہیں۔ کاشتکاری ایسا تو ضروری پیشہ کہ سب کا مدارِ رزق اور ہمہ وقت لاکھوں آدمی اس میں مصروف۔ یہ خدا کا حکم نہیں تو اور کیا ہے کہ کسی کا ذہن اس طرف منتقل نہیں ہوتا کہ لاؤ اس میں کوئی کام کی بات نکالیں۔ ایک کاشتکار ولایت کے ہیں کہ مرضی کے مطابق نہ آب و ہوا ہے، نہ موسم ہے نہ زمین ہے، مگر کاشتکاری میں اس قدر ترقی کی ہے کہ ہمارے یہاں رو جھینک کر بیگھے میں پیداوار ہو دس سیر تو ان کے یہاں پیدا ہوں من بھر۔ بات تھی بکار آمد۔ ایسے پیچھے لپٹے ایسے پیچھے لپٹے کہ آخرکار سوچتے سوچتے گویا پیداوار کو اپنے بس میں کر لیا۔ سینکڑوں تو کلیں بنا ڈالیں کہ کھیتی کے جتنے کام ہیں انھیں کلوں سے پڑے ہو رہے ہیں۔ وقت بچا، ہاتھ پاؤں کی محنت بچی، اور کام دیکھو تو دوگنا چوگنا بھی نہیں ہزار گنا، اور اس افراط پر بہتر سے بہتر۔ دوسری باتوں کا کیا مذکور ہے۔ پیداوار کی ذات اور جانوروں کی نسلیں تک پلٹ گئیں۔ معاش کا دوسرا ذریعہ تجارت ہے سو اس کا واقعی حال یہ ہے کہ گودا تو اہلِ یورپ چٹ کرتے ہیں رہ گئیں خالی ہڈیاں ان کو چاہے میمن اور بوہرے پڑے چچوڑا کریں، یا پنجابی یا مارواڑی یا میں چاہوں تو میں اور تم چاہو تو تم۔ خلاصہ یہ ہے کہ عقلِ معاش کے اعتبار سے اہلِ یورپ کے مقابلے میں ہمارے ملک کے لوگ ایسے ہی کودن، اور کندۂ ناتراش ہیں جیسے ہمارے مقابلے میں ایک بھیل یا کوئی اور جنگلی وحشی آدمی۔ ہم میں اور اہلِ انگلستان میں بڑی وجہ فارق تو یہ ہے اس کے علاوہ ہم انگریزوں کے ہم قوم نہیں، ہم مذہب نہیں، ہم وطن نہیں، انھوں نے ہم کو تلوار کے زور سے مطیع کیا ہے جیسے کبھی ہمارے بزرگوں نے ہندوؤں پر اپنی سلطنت بٹھائی تھی۔ انگریز ہماری طرف سے کبھی مطمئن ہو نہیں سکتے اور احتیاط بھی اسی کی مقتضی ہے۔ الحزم سوء الظن۔ تم کو تو کسی زمانے میں تاریخ دانی کا بڑا دعویٰ تھا۔ خیال کرو کہ ہم لوگوں نے ہندوؤں پر کس قدر اعتبار کیا تھا۔ کہیں سینکڑوں برس کی سلطنت کے بعد وہ بھی اس وقت کہ بدقسمتی جو سر پر سوار ہوئی تو ہمارے بزرگ یہیں رہ پڑے اور ہندوؤں سے اختلاط کر کے انھیں کی طرح آرام طلب اور کاہل اور مبتلائے اوہام ہو گئے اور آخرکار سلطنت کھو بیٹھے۔ غرض کہیں سینکڑوں برس سلطنت کے بعد ہندوؤں کو یہ بات نصیب ہوئی تھی کہ مسلمان بادشاہوں کے دربار تک پہنچے اور اعتبار کی خدمتوں پر مامور ہونے لگے تھے۔ انگریزوں کو اس ملک میں سلطنت کرتے ہوئے ابھی کے دن ہوئے اور جو کچھ ذرا ادھورا اعتبار پیدا ہو چلا تھا وہ اس کم بخت ۱۸۵۷ء کے غدر نے ملیامیٹ کر دیا، اب کم سے کم سو برس اطمینان کے اور گزریں تب بات سو بات۔ لیکن ایک بغاوت تو خدا خدا کر کے فرو ہوئی تم نے ابھی سے دوسری بغاوت کی چھیڑ چھاڑ شروع کر دی۔"

ابن الوقت۔ "یک نہ شد دو شد۔ گورنمنٹ سے اپنے حقوق کا مطالبہ بھی آپ کے نزدیک داخلِ بغاوت ہے۔ بس غنیمت ہوا کہ میری طرح آپ بغاوت کے محکمے کے افسر نہیں ہوئے۔"

حجۃ الاسلام۔ "قومِ مفتوح کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں؟"

ابن الوقت۔ "حقوق کیوں نہیں ہوتے، یہ بات دوسری ہے کہ کوئی وحشی اور ظالم گورنمنٹ ان کو تسلیم نہ کرے۔ لیکن برٹش گورنمنٹ تو بڑی مہذب اور عادل گورنمنٹ ہے۔ اس سے ہر ایک کا دعویٰ ہے۔"

حجۃ الاسلام۔ "اچھا اگر دعویٰ ہے تو اس کا فیصلہ کون کرے گا؟"

ابن الوقت۔ "وہی گورنمنٹ اور اس کے انصاف پر تو ساری لڑائی ہے۔"

حجۃ الاسلام۔ "بس بس یہی تو میں کہتا ہوں کہ گورنمنٹ کے انصاف پر اعتماد کرتے ہو اور اس کو عادل مانتے ہو تو اس پر پورا پورا اعتماد کرو۔ عادل گورنمنٹ رعایا کی حاجتوں اور ضرورتوں سے غافل ہو نہیں سکتی۔ گورنمنٹ کے تمام عہدے دار گورنر جنرل سے لے کر ایک اسسٹنٹ تک علیٰ قدرِ مراتب سب رعایا کی خوشنودی رعایا کی آسائش کے فکروں میں لگے ہیں۔"

ابن الوقت۔ "تو اگر ہم نے اپنی ضرورتوں کو ظاہر کر دیا تو کیا غضب ہو گیا؟ یہ من وجہ سرکار کی اعانت ہوئی یا بغاوت؟"

حجۃ الاسلام۔ "ظاہر کر دیا! ذرا بنگالے کے دیسی اخباروں کو دیکھو تو معلوم ہو کہ رعیت ہونے کی حیثیت سے اپنی ضرورتوں کو گورنمنٹ پر ظاہر کر رہے ہیں یا بے ہودگی اور بے تمیزی کے ساتھ گورنمنٹ سے بھٹیاروں کی سی لڑائی لڑتے ہیں۔ سنو صاحب بات صاف تو یہ ہے کہ رعایائے انگلستان کے سے حقوق ہم کو مل سکتے نہیں۔ اوّل تو ہم کو کسی حق کی طلب گاری کی ضرورت نہیں طلب گاری تو ہم اس صورت میں کریں کہ گورنمنٹ کو غافل اور بے انصاف سمجھیں اور اھل الغرض مجنون۔ ایسی ہی بے صبری ہے تو بیٹا بن کر سب کوئی کھاتا ہے باپ بن کر کسی نے نہیں کھایا۔ یہ سچ ہے کہ حکامِ انگریزی خود گورنمنٹ نہیں ہیں بلکہ گورنمنٹ کے ملازم ہیں مگر گورنمنٹ انھی کی آنکھوں سے دیکھتی اور انھی کے کانوں سے سنتی ہے، ان کے دلوں میں ہماری طرف سے کسی محاسدے سوءِ ظن کا پیدا ہونا ہمارے حق میں نہایت مضر ہے۔ لوگ فی زعمہم ملک کے مفاد میں کوشش کرتے ہیں اور میرے نزدیک چلتی گاڑی میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔ ؏
بن مانگے موتی ملیں اور مانگے ملے نہ بھیک
میں جدھر خیال دوڑاتا ہوں تقدیر سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔ ہم میں سے بعض آدمی جو زمانۂ حال کی ضرورتوں کے مطابق تعلیم پا کر کچھ لیاقت پیدا کرتے ہیں۔ وقلیل ما ھم۔ ان کی مت یوں ماری جاتی ہے کہ مدرسے سے نکلے اور ان کو نوکری نہ ملی، وہی گورنمنٹ سے ناراض منہ پھلائے ہوئے روٹھا ہوا بڑبڑاتا پھرتا ہے اور ایک عذاب ہے اپنے حق میں، سوسائٹی کے حق میں اور گورنمنٹ کے حق میں۔ ان ہی کو خدا اگر توفیق دے اور تعلیم سے فراغت حاصل کرنے کے بعد معاش کے لیے گورنمنٹ کے آگے ہاتھ نہ پھیلائیں۔ امیدوار دھکے نہ کھائیں اور نوکری کے علاوہ دوسرے ذریعوں سے متوکلین علی اللہ۔ معاش کی کوشش کریں تو معاش کے لیے کتنے تو نئے ذریعے پیدا ہو جائیں اور جو ذریعے بالفعل مروج ہیں ان کی لیاقتوں کے انضمام سے ان میں بہت کچھ رونق ہو۔ باتیں جتنی چاہو بناؤ، جس کے جی میں آئے رفارمر بن لے۔ قومی خیر خواہی کا مدعی ہو۔ ملکی ہمدردی کا حیلہ کرے۔ اصل مطلب ہے نوکری، اور فرض کیا کہ سرکار نے اس شور و غل کے فرو کرنے کے لیے نوکری کو بھی عام کر دیا۔ دہنِ سگ بہ لقمہ دوختہ بہ، مگر اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ یہی نہ ہزار دو ہزار یا مثلاً دس ہزار آدمیوں کی روٹی کا سہارا نکل آیا۔ لیکن کیا اتنی بات سے ملک میں فلاح ہوتی پڑی ہے۔ استغفراللہ۔ اونٹ کے منہ میں زیرا۔ اگر فی الواقع تمہارے دل میں قوم کی سچی خیر خواہی ہے تو سرکار کا ناحق پیچھا لیا ہے۔ قوم ہی کو کیوں درست نہیں کرتے۔ یورپ میں جو آج تمام روئے زمین کی دولت پھٹ پڑی ہے کہ طوفانِ نوح کی طرح اوپر سے بھی برس رہی ہے اور زمین سے بھی ابل رہی ہے۔ نوکری تو نوکری سلطنت کو بھی اس میں دخل نہیں، ماشاءاللہ چشمِ بد دور ایسے ایسے ہزاروں سوداگر ہیں جو تموّل کے اعتبار سے ایسی ویسی سلطنتوں کو بھی کچھ مال نہیں سمجھتے۔ خیال کرنے کی بات ہے مثلاً یہی ایک ہمارے ملک کی ریل ہے کہ روئے زمین پر کوئی سلطنت ایسی نہیں دکھائی دیتی جو اتنے بڑے مصارف کی متحمل ہو سکے اور یہ انگلستان کی رعایا کا ادنیٰ سا کام ہے۔ پس اگر حقیقت میں ملک کی بہبود مدِنظر ہے تو اس کا یہ رستہ نہیں ہے جو تم نے یا اس زمانے کے تعلیم یافتہ لوگوں نے اختیار کیا ہے، کیں راہ کہ تو مے روی بہ ترکستان است۔ اس کا راستہ اگر ہے تو میرے نزدیک یہی ہے کہ پہلے قوم کے خیالات کی اصلاح کرو۔ یہ بات کسی طرح ان کے ذہن میں بیٹھ جانی چاہیے کہ ہماری سرزمین سونے کی سرزمین ہے۔ مگر ہم میں سے کسی کو کیمیا کا وہ لٹکا معلوم نہیں جس سے مٹی کو سونا بنایا جاتا ہے۔ وہ لٹکا خدا نے اہلِ یورپ کو بتا دیا ہے آؤ ہم بھی ان سے سیکھیں اور ہمالیہ اور بندھیاچل اور اراولی پربت اور گھاٹ جتنے پہاڑ ہیں سب کو سونے کا بنا لیں۔ ہم بھی اہلِ یورپ کی طرح کے مخلوق ہیں۔ جن تدبیروں سے انھوں نے اپنی حالت کو درست کر لیا ہے انھی کی دیکھا دیکھی ویسی ہی تدبیریں عمل میں لا کر ہم بھی کرارے ہو جائیں کیوں گورنمنٹ کے دست نگر ہوں؟ کس لیے سرکار کی خوشامد کریں؟ کاہے کو حکام کے پاس حاجت لے جائیں۔ کرنے پر آئیں تو ہم بھی سب کچھ کر سکتے ہیں۔ اہلِ یورپ خدا کی رحمتوں اور زمین کی برکتوں کے ٹھیکے دار نہیں مگر یوں کہو کہ ہم سے کچھ نہیں ہو سکتا۔ ہاں گورنمنٹ میں ہزاروں کیڑے ڈالنے کو موجود۔ وہ گورنمنٹ ہی کچھ ایسی متحمل مزاج مل گئی ہے کہ جلی کٹی ایک کان سنی اور دوسرے کان نکال دی۔ جیسے ایک پہاڑ کہ آندھیاں چل رہی ہیں اور وہ جس شان سے کھڑا تھا اسی شان سے کھڑا ہے۔ ۱۸۵۷ء کا غدر کیا کچھ ہلکی بات تھی مگر بڑے لوگوں کے بڑے ظرف۔ پہلے تو بہ تقاضائے سیاست باغیوں کا خوب ہی سر کچلا دیکھا کہ بغاوت مستاصل ہو چکی امنِ عالم کی منادی پھیر دی۔ جزاک اللہ۔ ؎
ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند
بر عفو و انتقام تو صد آفریں کنند

تعلیم، ڈاک و ریل، تار، قاعدے قانون، پولیس، ایک چیز ہو تو اس کا نام بھی لیا جائے میں تو جس جس پہلو سے دیکھتا ہوں انگریزی عملداری رحمتِ الٰہی معلوم ہوتی ہے اور جب سے فارس اور روم کے انتظام کے نمونے دیکھ کر آیا ہوں میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ انگریزی عملداری کو دنیا کی بہشت سمجھتا ہوں۔ روم اور فارس کی عملداری تو خیر دور ہے اسی ہندوستان میں کسی مسلمان نواب یا ہندو راجہ کی عملداری میں جا کر رہو تو قدرِ عافیت معلوم ہو اور پھر بھی ان ریاستوں میں انگریزوں کی نگرانی اور سرپرستی کی وجہ سے بڑا امن ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ انگریزی انتظام میں نقص نہیں ہیں اور ہونے چاہئیں کیوں کہ انگریز بھی بشر ہیں اور ؏
'کہ ہیچ نفسِ بشر خالی از خطا نبود'
پھر سلطنت کے انتظام اور سلطنت بھی ہندوستان کی سلطنت بڑے پیچیدہ اور نازک کام ہیں ملک کی وسعت کو دیکھو پھر اس بات پر بھی نظر کرو کہ کیسے کیسے مختلف الطبائع، مختلف العقائد، مختلف الحالات لوگ اس ملک میں بستے ہیں اور اس پر اجنبی محض لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنا ہے۔ ایسی صورت میں انتظام میں نقص کیا نقصانات کا ہونا کچھ تعجب کی بات ہے؟ مگر میں دیکھتا ہوں تو حکامِ وقت کی نیت بخیر ہے۔ ہمہ تن اصلاحِ حالِ رعایا میں مصروف ہیں۔ ہم جو چلتے ہوئے بیل کے آر مارتے ہیں تو اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دولتی کھانے کو جی چاہا ہے۔"

ابن الوقت۔ "آپ نے تو میرے سارے منصوبے ہی غلط کر دیے۔"

حجۃ الاسلام۔ "میں نے غلط کر دیے یا وہ تھے ہی غلط؟ میں خوب جانتا ہوں کہ نیت تمہاری بھی خدانخواستہ کچھ بُری نہ تھی۔ تم نے خیال کیا اور ٹھیک خیال کیا اور جس کو خدا نے ذرا سی بھی عقل دی خیال کر سکتا ہے کہ انگریزی عملداری میں ہم مسلمانوں کے ساتھ ہر چند کسی خاص طرح کی رعایت نہیں کی جاتی (یہ بات دوسری ہے کہ ہماری حالت خاص رعایت کی مستحق ہے بھی یا نہیں) مگر سرکار ہمارے ساتھ کسی طرح کی ضد اور مخالفت بھی تو نہیں کرتی۔ جو حال اور رعایا کا وہ ہمارا۔ مگر مسلمانوں میں خستہ حالی، مفلسی اور نکبت یوماً فیوماً بڑھتی چلی جاتی ہے۔ پھر تم نے خیال اور ٹھیک خیال کیا کہ مسلمان اکثر بلکہ قریب کل نوکری پیشہ ہیں۔ کچھ آج سے نہیں بلکہ جب گھر کی سلطنت تھی تب بھی ان کا یہی حال تھا۔ اب نوکری سے بھی ان کو دوسری قوموں نے گویا بے دخل کر دیا۔ الا ماشاءاللہ تم نے سب کی تفتیش کی اور سمجھا اور ٹھیک سمجھا کہ نوکریوں میں سرکار انگریزی کی قید لگاتی چلی جاتی ہے اور اگرچہ مسلمانوں کو انگریزوں سے مذہباً مغایرت نہیں ہونی چاہیے کیوں کہ انگریز بھی اہلِ کتاب ہیں اور ان کے ساتھ مناکحت اور مواکلت کی صاف اجازت قرآن میں موجود ہے۔ وطعام الذین اوتوا الکتٰب حل لکم وطعامکم حل لھم والمحصنٰت من المؤمنٰت والمحصنٰت من الذین اوتوا الکتٰب من قبلکم اذا آتیتموھن اجورھن محصنین غیر مسٰفحین ولا متخذی اخدان۔ لیکن از بسکہ انگریز اجنبی محض ہیں اور ان کے ساتھ ہند کے مسلمانوں کو کبھی اختلاط نہیں رہا اور پشتہا پشت سے ہندوؤں میں رہ کر وہمی سے بھی ہو گئے ہیں۔ غرض کچھ اجنبیت اور کچھ واہمہ لگے انگریزی لباس، انگریزی طرزِ تمدن یعنی انگریزی کی تمام چیزوں سے حتیٰ کہ زبانِ انگریزی سے بھی پرہیز کرنے، معاش کے لیے وہی ایک نوکری کا دروازہ تھا۔ سو تیغہ ہو کر اس میں ایک ذرا سا موکھا رہ گیا۔ یہاں تک مجھ کو تمہارے ساتھ بالکل اتفاق ہے اس کے بعد تمہاری ساری کارروائی غلط ہے۔ اوّل تو سرکار کے انتظام ایسی خبرگیری اور کفایت شعاری کے ساتھ ہیں کہ جہاں ایک روپیہ کا خرچ ہے وہاں آٹھ ہی آنے میں کام نکالنا چاہتی ہے وہ بھی بڑے مضائقہ کے ساتھ۔ اس کا ضروری نتیجہ ہے کہ نوکریاں کم اور تنخواہیں تھوڑی اور اس پر ایک دنیا ہے کہ ستو باندھ کر نوکریوں کے پیچھے پڑی ہے۔ بنیے، بقال، ٹھٹھیرے، کسیرے، کنجڑے، بھٹیارے، انگریزوں کے شاگرد پیشہ یہاں تک کہ سائیس، گراس کٹ، جن کی ہفتاد پشت میں کوئی اہلِ قلم ہوا ہی نہیں نوکری کی دھن میں سب کے سب مدرسوں میں پڑھ رہے ہیں۔ پس نوکریوں سے کیا فلاح ہونی ہے؟ پھر دوسری غلطی تم سے یہ ہوئی کہ مسلمانوں اور انگریزوں میں اختلاط پیدا کرنے کے لیے تم نے انگریزی وضع اختیار کی اور تمہاری دیکھا دیکھی اور بہتیروں نے، اور تمہاری غرض بھی یہی تھی۔ سمجھے کچھ اور ہو گیا کچھ۔ ہندوستانیوں میں جیسی کچھ تمہاری رسوائی ہوئی سو ہوئی بڑی مشکل یہ پیش آئی کہ انگریز رہے سہے سے اکھڑ گئے۔ گئے تھے نماز معاف کرانے الٹے روزے گلے پڑے۔ ازیں سو راندہ وزاں سو درماندہ۔ یہ تو چند دنیاوی قباحتیں ہیں جو تمہاری تدبیر پر متفرع ہوئیں، رہا دین، اس کا تم نے اور تمہارے اتباع نے مل کر ایسا استخفاف کیا کہ بازیچۂ اطفال سے بھی بدتر ہو گیا دین کا اب کچھ بھی حقیقت باقی نہ رہی۔ ایک ایک لونڈا جس کو دین سے مس نہیں، مناسبت نہیں، دین کی اس کے ذہن میں قدر نہیں، وقعت نہیں، دین کی باتوں میں غور کرنے کی اس کی عمر نہیں، حالت نہیں، دین کی اس کو طلب نہیں، تلاش نہیں، ناواقف، بے خبر، بر خود غلط، چلا اسلام کا مجدد اور رفارمر بننے اور لگا اصول میں رائے زنی کرنے۔ امورِ دین میں مساہلت تو سبھی سے ہوتی ہے لیکن جو دین کا ادب رکھتے ہیں اپنے مساہلے پر نادم اور قصور کے معترف ہوتے ہیں ؎
بندہ ہماں بہ کہ ز تقصیرِ خویش
عذر بدرگاہِ خدا آورد
ورنہ سزاوارِ خداوندیش
کس نتواند کہ بجا آورد

لیکن اب زمانے میں لوگوں کے خیالات دین کی طرف سے کچھ ایسے برگشتہ ہوئے ہیں کہ دینیات میں مساہلت کرتے ہیں ہیکڑی کے ساتھ، چوری اور سرزوری اور آپ کرتے ہیں سو کرتے ہیں قومی خیر خواہ اور رفارمر بن کر دوسروں کی باٹ مارتے ہیں سو الگ اور اتنا نہیں سمجھتے کہ جب قوم کا مذہب نہ رہا، لباس نہ رہا، طرزِ تمدن نہ رہا، علم نہ رہا، زبان نہ رہی، تو امتیازِ قومی بھی گیا گزرا ہوا۔ پھر کیسے رفارم اور کس کی خیر خواہی؟ اگر ہم ایک گھر کی رفارم کرنا چاہیں تو اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اس کو جڑ بنیاد سے کھود کر پھینک دیں اور از سرِ نو دوسرا مکان بنا کر کھڑا کریں۔ اسی طرح مسلمانوں کی رفارم کو تو اسی وقت رفارم کہا جائے گا کہ مسلمان مسلمان رہیں، یعنی باپ دادا کے مذہب کے وضع کے پابند ہوں، دور سے الگ پہچان پڑیں کہ مسلمان ہیں۔ اور پھر ان کے دلوں میں زمانۂ حال کے مطابق ترقی کی گدگدی پیدا کی جائے۔"

ابن الوقت۔ "آخر آپ کے نزدیک اس کی اور کیا تدبیر ہے؟"

حجۃ الاسلام۔ "اس کی جو تدبیر ہے، خود بخود ہو رہی ہے۔ الدھر احسن المؤدبین۔ اب مسلمانوں میں اگلی سی وحشت کا کہیں پتہ بھی نہیں۔"

ابن الوقت۔ "یہ ہماری ہی کوششوں کا نتیجہ ہے۔"

حجۃ الاسلام۔ "خیر تم تو یوں ہی سمجھو لیکن اگر ایک طرف تم نے مسلمانوں کی وحشت کو دور کیا تو دوسری طرف ان کو بے دین بنایا۔ یہ کیا چیند بازی ہے کہ دفعِ وحشت کی داد چاہو اور بے دینی کا الزام اپنے اوپر نہ آنے دو۔ میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑوا تھو تھو۔"

ابن الوقت۔ "اجی حضرت! وہ بھولے بھالے زمانے گئے کہ لوگ جلدی سے مذہبی ڈھکوسلوں کا یقین کر لیا کرتے تھے۔ اب عقل کا دور دورہ ہے۔ شاید آپ کو بھی اس سے انکار نہ ہوگا کہ آج کل کے لڑکے اگلے وقتوں کے بڈھوں کو چٹکیوں میں اڑاتے ہیں اور عقل کے آگے تو مذہب کی دال کا گلنا ذرا مشکل ہی ہے۔ فلاسفۂ یونان جن کی عقل کا لوہا ساری دنیا نے مانا سب کے سب لامذہب علیٰ ہذا القیاس یورپ کے شاید سو میں بمشکل پانچ ایسے نکلیں گے جو دل سے مذہب کے معتقد ہوں۔"

حجۃ الاسلام۔ "مجھ کو تو تمہاری یہ بات تسلیم نہیں۔ میرے نزدیک ہر زمانے اور ہر ملک میں مذہب کے ماننے والے بہت زیادہ رہے ہیں بہ نسبت نہ ماننے والوں کے اور جہاں تک میں خیال کرتا ہوں دنیا کا اب بھی یہی رنگ ہے۔ تم کو لامذہبوں کی شہرت سے دھوکا ہوا ہوگا۔ سو ایسے لوگوں کی شہرت نہ کثرت کی وجہ سے بلکہ صرف اس سبب سے کہ انھوں نے دنیا سے نرالی انوکھی بات اختیار کی نکو اور انگشت نما ہو گئے۔ پھر تمہاری ہی نظر میں ان لامذہبوں کی عقل کی کچھ قدر اور وقعت ہوگی میں تو ان کو سیانے کوے سے بڑھ کر نہیں سمجھتا۔ ضرور نہیں کہ جس کی عقل دنیا میں تیز ہو دین بھی اس کا فہم رسا ہو، خاص خاص عقلیں خاص خاص چیزوں سے زیادہ مناسب ہوتی ہیں۔ ایک شخص شطرنج خوب کھیلتا ہے مگر حساب کا ادنیٰ سوال نہیں کر سکتا۔ عقل فی حد ذاتہ ممدوح ہے لیکن وہیں تک کہ درجۂ اعتدال میں ہو۔ خیر الامور اوسطھا۔ ورنہ افراط گربزی ہے اور تفریط حمق۔ اور دونوں مذموم۔ اور یہی حال ہے فضائل کا بلکہ خدا کی تمام نعمتوں اور رحمتوں کا۔ ؎
لطفِ حق با تو مواساہا کند
چونکہ از حد بگذرد رسوا کند

اور فرض کیا کہ مذہب سے انکار کرنے والے بڑے عاقل سہی۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہم اپنی عقل سے جو مدارِ تکلیف ہے کام نہ لیں اور خود نہ سوچیں میں نے پچھلی ملاقات میں مفصلاً اور مشروحاً بیان کیا تھا کہ کہاں تک مذہب میں عقل کو دخل دینا چاہیے۔ مگر شاید تمہارے خیال سے اتر گیا یا تم نے میرے ساتھ یہ بھی ایک طرح کی چھیڑ خانی نکالی ہے۔ تو مشغلے کے لیے اور بہت سی باتیں ہیں۔ میں پسند نہیں کرتا کہ مذہب کے ساتھ تمسخر اور استہزا کیا جائے۔"

ابن الوقت۔ "کیا آپ بُرا مان گئے؟"

حجۃ الاسلام۔ "اگر تحقیقِ حق کے طور پر بحث کرو تو میں خوشی سے تمہارے اعتراضات کے سننے اور جہاں تک مجھ سے ہو سکتا ہے تمہاری تشفی کرنے کو موجود ہوں۔ مگر مخاصمانہ گفتگو کرنے سے کچھ فائدہ نہیں۔ تم بچے نہیں اور مذہب دوا نہیں کہ پچھاڑ کر تمہارے گلے میں اتار دی جائے۔ طلبِ صادق پیدا کرو تب مذہبی مناظرے کا نام لو۔ یاد ہے میں تم سے کہہ چکا ہوں فکر اور تدبر انسان کو مذہب کے اختیار کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔"

ابن الوقت۔ "اس کا تو میں آپ کو ہر طرح سے یقین دلا سکتا ہوں کہ استہزا کا تو خیال کبھی میرے دل میں نہیں آیا ہاں مخاصمانہ کوئی بات میرے منہ سے نکلی ہو تو آپ معاف کیجیے۔ غور کرنے کا موقع نہیں ملا۔ مگر کروں گا۔ پرسوں یا اترسوں ذرا کی ذرا سوچنا چاہا تو ذہن اس بات کی طرف منتقل ہو گیا کہ اگر مذہب امرِ ناگزیر ہو اور فرض کیا جائے کہ اسلام کے سوائے سب مذہب باطل ہیں تو ساری دنیا میں مسلمان اور پھر ان میں بھی سچے مسلمان کتنے ہیں کسی طرح عقل قبول نہیں کرتی کہ معدودے چند مقبول ہوں اور باقی تمام جمِ غفیر مردود۔"

حجۃ الاسلام۔ "تم تو پرواز کرتے ہی خدائی کی سرحد میں جا پہنچے۔ اوّل دنیا کی پہیلی کو تو بوجھ چکو تبھی آخرت کی چیستاں میں عقل آزمائی کرنا۔ یہ بھی منجملہ انھی اسرار کے ہے جن کے ادراک سے عقلِ بشر عاجز ہے۔ اگر واقع میں تم کو دین کی طلب گاری ہے تو سیدھا راستہ کیوں نہیں اختیار کرتے کہ دنیا کی ہستی اور اس کا انتظام اس بات کا مقتضی ہے کہ کوئی اس کا خالق اور صانع ضرور ہے۔ موجوداتِ عالم پر نظر کرتے ہیں تو انسان کو اشرف المخلوقات پاتے ہیں۔ کیوں کہ وہ صاحبِ عقل و ادراک ہے کہ اس صفت میں کوئی اس کا مشارک نہیں۔ بااین ہمہ وہ ایک عاجز و ناچیز مخلوق ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو نہ ہم دیکھ سکتے ہیں اور نہ عقل کے زور سے اس کی ذات و صفات کو پورے طور پر دریافت کر سکتے ہیں مگر جس طرح مخلوقات سے خالق کو پہچانتے ہیں اسی طرح اپنی مخلوقات سے اتنی باتیں اور سمجھ میں آتی ہیں کہ جس نے ان کو بنایا اور پیدا کیا ہے تمام صفاتِ کمالیہ کے ساتھ متصف ہے۔ بس یہ تو اصلِ دین ہے باقی اس کے فروع اور متممات ہیں۔ میں تم کو بتاؤں کہ دین کے دو حصے کرو۔ اوّلاً نفسِ اسلام۔ پھر اسلام کے فرقوں میں کوئی ایک فرقۂ خاص جس کے معتقدات تم کو پسند ہوں، میں امید کرتا ہوں کہ مذہب کے متعلق جو کچھ میں نے اب تک تم سے کہا پہلے حصے یعنی نفسِ اسلام کی نسبت تمہاری تشفی کر سکتا ہے۔ بشرطیکہ تم کو تشفی درکار ہو اور جب اسلام کی اصلی اور حقیقی عمدگی تمہارے ذہن میں اچھی طرح بیٹھ جائے گی جس کی شناخت یہ ہے کہ اعمال اضطراراً سرزد ہونے لگیں تو میری یہ بات لکھ رکھو کہ انگریزی وضع خود تم ہی کو بہ تقاضائے مذہب وبال معلوم ہونے لگے گی۔ رہا دوسرا حصہ یعنی اسلام کے فرقوں میں کسی فرقۂ خاص کی تعیین اس کو کسی دوسرے وقت پر رکھو۔"

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。