
Chapter 27 of 28
The Second Debate: Destiny, God and the Hereafter
حجۃ الاسلام اور ابن الوقت کی دوسری ملاقات اور پھر مذہبی بحث
اگلے دن تو صبح ہی سے حجۃ الاسلام کا انتظار تھا مگر یہ گھر سے کھانا دانا کھا پی کر چلے تو کوٹھی پہنچتے پہنچتے ساڑھے دس بج گئے تھے۔ دور سے دیکھتے ہی ابن الوقت نے کہا۔ "آپ حقیقت میں بڑے خوش تقدیر ہیں کہ شہر میں جاتے ہی اسی رات پانی برسا اور خوب برسا۔ لو تو اب بالکل گئی ٹٹیاں دو چار دن کی مہمان اور ہیں۔"
حجۃ الاسلام۔ "الحمدللہ، ثم الحمدللہ!"
ابن الوقت۔ "ثم الحمدللہ کیسا؟"
حجۃ الاسلام۔ "تم ایک ہی ثم لیے پھرتے ہو۔ خداوندِ کریم کے تمام بندوں پر ہمہ وقت اتنے وافر احسانات ہیں کہ ایسے ایسے لاکھوں کروڑوں ثم بھی ان کی تلافی نہیں کر سکتے۔ مگر میں نے پہلا الحمدللہ اپنی خوش تقدیری پر کہا اور دوسرا اس بات پر کہ بھلا تم نے تقدیر کو تو مانا۔"
ابن الوقت۔ "یہ لفظ تو بے خیالی میں عادت کے مطابق میرے منہ سے نکل گیا ورنہ میں تقدیر کا بالکل قائل نہیں اور میرے نزدیک اس طرح کے لغو معتقدات نے مسلمانوں کو کاہل اور نالائق بنا کر اس درجے کو پہنچایا ہے کہ روئے زمین پر ان سے زیادہ مفلس اور تباہ حال کوئی قوم نہیں۔"
حجۃ الاسلام۔ "تم کیوں اس قدر مسلمانوں کے پیچھے پڑے ہو؟ کیا رفارمر بننے کے لیے اس کی بھی ضرورت ہے کہ زبردستی کوئی نہ کوئی الزام کسی کے پلے باندھ کر اپنے تئیں سرخ رو اور دوسرے کو انگشت نما کیجیے۔ مسلمانوں کی کیا تخصیص ہے جو شخص خدا کو مانتا ہے، کسی مذہب کا ہو وہ ضرور خدا کا بھی قائل ہوگا۔ پہلے سمجھو تو سہی کہ تقدیر ہے کیا چیز؟ تقدیر کے لغوی معنی ہیں اندازہ ٹھہرانا۔ دنیا میں کوئی چیز نہیں جس کا اندازہ نہ ہو۔ انا کل شیء خلقناہ بقدر۔ پس اگر دنیا ہے تو اس کے ساتھ تقدیر بھی ہے یا دوسرے طور پر سمجھو۔ مثلاً تم جانور یا درخت نہیں بنائے گئے بلکہ آدمی، یہ تقدیر ہے۔ مرد بنائے گئے عورت نہیں، یہ تقدیر ہے۔ ہندوستان میں اور ہندوستان میں سے خاص دلّی میں پیدا ہوئے۔ یورپ، افریقہ یا امریکہ کی کسی دوسری جگہ نہیں۔ یہ تقدیر ہے۔ تیرھویں صدی کے خاص حصے میں تمہاری ہستی ہوئی۔ اس سے پہلے یا پیچھے نہیں، یہ تقدیر ہے ایک خاص مسلمان کے گھر پیدا ہوئے، ہندو یا عیسائی یا کسی دوسری قوم یا کسی دوسرے شخص کے یہاں نہیں، یہ تقدیر ہے۔ ایک خاص حالت میں پرورش پائی، بڑے ہوئے، پڑھے لیاقت پیدا ہوئی، نواب معشوق محل بیگم کی سرکار کے مختار ہوئے یہ تقدیر ہے۔ غدر کے وقت اسی شہر میں موجود تھے۔ عین اسی زمانے میں نوبل صاحب ولایت جاتے ہوئے دلّی میں ٹھہرے۔ باغیوں نے ان کو پکڑا اور اپنے پندار میں مار ڈالا۔ تم جا پہنچے اور نیم جان کو اٹھا کر گھر لے گئے مرہم پٹی کی اچھے ہوئے۔ تمہارے گھر ان کا رہنا کسی طرح پر ظاہر نہ ہوا۔ آخرکار صحیح سلامت انگریزوں میں جا ملے۔ یہ سب تقدیر ہے تم کو دفعتاً بھرا بھتولا گھر چھوڑ کر شہر سے نکل جانا پڑا۔ بے سر و سامان باہر پڑے پھرتے تھے اور قریب تھا کہ فوجِ فتح مند کے سوار بیگار میں پکڑ کر تم سے مزدوری کا کام لیں کہ اتنے میں نوبل صاحب رجال الغیب کی طرح آ موجود ہوئے اور تم کو عزت و آبرو سے لے جا کر گھر میں بسایا۔ جاگیر اور نوکری دلوائی۔ یہ سب تقدیر ہے۔ اس اثنا میں تم کو انگریز بننے کے خبط نے آ گھیرا۔ خوب خوب ڈنر دیے اور بڑی بڑی پارٹیاں بلائیں۔ ہندوستانیوں کے روٹھنے چھوٹنے کی تو تمہیں کیوں پروا ہونے لگی تھی، انگریز بھی بجائے خود چڑے بگڑے، لیکن گھٹیا چائے اور کافی اور سوڈا واٹر اور برف کے اور سگرٹ کے لالچ سے اور بڑھیا انگریز کچھ تو نوبل صاحب کی مروت سے اور کچھ تمہاری خیر خواہی اور تعززِ منصبی کے لحاظ سے طوعاً و کرہاً تم سے ملنے لگے۔ تم نے سمجھا انگریزوں نے مجھ کو اپنی سوسائٹی میں لے لیا۔ یہ سب تقدیر ہے۔ خدا نے ایک دم پانسو روپے ماہوار کی آمدنی کر دی تھی۔ ہندوستانی بھلے آدمی بن کر رہتے تو آج کو امیر ہوتے اور کچھ نہیں تو دس بارہ ہزار روپیہ تمہارے پلے ہوتا۔ سو تم نے ایک خبط کے پیچھے ساری آمدنی پر پانی پھیر دیا۔ دس بارہ ہزار الٹا قرض گیا۔ اب بزرگوں کی پیدا کی ہوئی جائیداد کے بیچنے کی نوبت پہنچی۔ یہ سب تقدیر ہے۔ اچانک نوبل صاحب کو ولایت جانا پڑا۔ ان کا منہ موڑنا تھا کہ تمہارے خوابِ پریشاں کی تعبیر سامنے آنے لگی۔ یہ سب تقدیر ہے۔ تم اپنی عادت کے موافق ہوا خوری کو گئے، دریا گنج کے نکڑ پر صاحب کلکٹر مل گئے وہ پیادہ پا اور تم سوار۔ تم نے اپنے نزدیک اچھا کیا اور ہو گیا بُرا۔ انھوں نے تم سے گستاخی کا جواب طلب کیا۔ تمام کام چھین کر کہہ دیا کہ کچہری میں بیٹھے مکھیاں مارا کرو۔ یہ سب تقدیر ہے۔ دو برس سے اماں جان مجھ کو بلا رہی تھیں اور میرا آنا نہیں ہوتا تھا۔ اب صاحب کلکٹر کی خفگی اور بارہ دری کی فروخت کا حال معلوم ہوا ضبط نہ ہو سکا۔ رخصت لی۔ وکٹر صاحب سے ملنے گیا۔ تمہارے شارپ صاحب نکلے ان کے رشتے کے بہنوئی انھوں نے از خود چٹھی دی شارپ صاحب سے ملاقات ہوئی، تمہارا تذکرہ آیا۔ خدا نے کیا صفائی ہو گئی۔ یہ سب تقدیر ہے۔ کیوں ہے یا نہیں؟"
ابن الوقت۔ "توبہ تقدیر کیا ہے شیطان کی انتڑی ہے کہیں پھر میری زبان نہ پکڑیے گا۔ شیطان طوفان کو بھی میں مانتا وانتا خاک نہیں۔"
حجۃ الاسلام۔ "تمہارے ماننے نہ ماننے سے کیا ہوتا ہے؟ جو واقعات حقہ اور نفس الامری ہیں، اگر سارا جہان ان سے انکار کرے تو بھی واقعات کا بطلان نہیں ہو سکتا۔"
ابن الوقت۔ "تو کیا آپ کے نزدیک شیطان بھی کوئی چیز ہے موجود فی الخارج؟"
حجۃ الاسلام۔ "جی ہاں، شے ہے موجود فی الخارج۔"
ابن الوقت۔ "پھر دوسری اشیائے موجود فی الخارج کی طرح ہم کو نظر کیوں نہیں آتا؟"
حجۃ الاسلام۔ "ہوا اور پانی میں جو بے شمار بھنگے ہیں اور جن کو بے مدد خوردبین نہیں دیکھ سکتے یا مکھی کی لاکھ آنکھیں ہیں، یا چاند میں سمندر اور پہاڑ ہیں اور بڑے پلے کی دوربین سے صاف دکھائی دیتے ہیں۔ آخر یہ چیزیں تو خارج میں موجود ہیں اور ہم کو نظر نہیں آتیں؟"
ابن الوقت۔ "آنکھ سے دیکھا تو دیکھا اور خوردبین کی مدد سے دیکھا تو دیکھا۔ غرض کسی نہ کسی طرح دیکھا تو سہی۔"
حجۃ الاسلام۔ "لیکن جس زمانے میں خوردبین ایجاد نہیں ہوئی تھی لوگ ان چیزوں کو موجود فی الخارج مانتے یا نہ مانتے یا اب لاکھوں کروڑوں بندگانِ خدا ہیں جو خوردبین، دوربین کے نام سے بھی آگاہ نہیں وہ ان چیزوں کو موجود فی الخارج مانیں گے یا نہیں مانیں گے؟"
ابن الوقت۔ "نہ مانتے اور نہیں مانیں گے۔"
حجۃ الاسلام۔ "ہاں مگر ان کے نہ ماننے سے یہ لازم آ جائے گا کہ مکھی کی لاکھ آنکھیں نہیں؟ اسی طرح اگر کوئی شخص مثلِ تمہارے وجودِ شیطان سے انکار کرے صرف اس وجہ سے کہ وہ دیکھ نہیں سکتا۔ تو اس کا انکار کیوں مستند ہونے لگا؟"
ابن الوقت۔ "ہم نے خوردبین سے مکھی کی آنکھوں اور دوربین سے چاند کے پہاڑوں کے ہونے کا یقین کیا۔ اسی طرح آپ کوئی ذریعہ بیان کیجیے جس سے شیطان کے ہونے کا یقین کیا جائے۔"
حجۃ الاسلام۔ "وہ ذریعہ ہے خدا اور خدا کے رسول کا ارشاد۔"
ابن الوقت۔ "بدیہیات میں سے تو نہ ہوا۔"
حجۃ الاسلام۔ "جن کی چشمِ بصیرت نورِ ایمان سے منور ہے ان کے نزدیک بدیہی بھی نہیں، بلکہ اجلی البدیہیات۔ فانھا لا تعمی الابصار ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور۔"
ابن الوقت۔ "اگر شیطان موجودِ منفرد مانا جائے تو خدا کو ظالم اور انسان کو مجبورِ مطلق ماننا پڑے گا۔ کیا انصاف ہے کہ آدمی پر ایک دشمنِ پنہاں مسلط ہے۔"
حجۃ الاسلام۔ "تو تمہارا یہ مطلب ہے کہ سرے سے انسان کا پیدا کرنا ہی خلافِ انصاف ہے۔ کیوں کہ شیطان موجودِ منفرد ہو تو اور انسانی قوت ہو تو دونوں کا مآل واحد ہے۔"
ابن الوقت۔ "خیر آپ کی عقل ایسے ڈھکوسلوں کو قبول کرتی ہوگی۔ کہیے تو آپ کی خاطر جھوٹ بول دوں ورنہ میں تو نہیں سمجھتا کہ جب تک مسلمان تقدیر اور شیطان اور اسی طرح دوسری لغویات کے معتقد رہیں گے ان کو کبھی فلاح ہو۔"
حجۃ الاسلام۔ "ملاحی گالیوں کی سہی نہیں۔ خلطِ مبحث مت کرو۔ مقرر کر کے ایک ایک بات کہو تو جواب دیا جائے۔"
ابن الوقت۔ "آپ ہی انصاف سے کہیے کہ تقدیر کے عقیدے نے مسلمانوں کو کاہل اور قاصر الہمت نہیں کیا۔ سب سے بڑے دیندار، ورثۃ الانبیاء، دین کے محافظ، دین کے حامی، دین کے رواج دینے والے، مولوی مشائخ اور یہ تو تمہارے گھر کا کام ہے ساری حقیقت آپ کو بھی معلوم ہے۔ مجھ کو بھی معلوم ہے۔ مرد و زن ملا کر ڈیڑھ سو پونے دو سو آدمیوں کی گزر کس چیز پر تھی؟ خیر خیرات پر۔ جس کو دیکھو تن بہ تقدیر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہے۔"
حجۃ الاسلام۔ "شخصیات سے بحث کرنے میں تو غیبت ہوتی ہے اور کسی کی نیت کا حال کیا معلوم؟ مگر تمہارا یہ خیال بالکل غلط ہے کہ تقدیر کے عقیدے نے مسلمانوں کو کاہل اور قاصر الہمت کر دیا۔ دنیا میں مسلمانوں نے کیا نہیں کیا؟ ملک گیریاں کیں، ملک داریاں کیں، خشکی اور تری کے سفر کیے اور اب بھی زمینداری، کاشتکاری، دستکاری، تھوڑی بہت تجارت بُرا بھلا پڑھنا لکھنا، نوکری چاکری سبھی کچھ کرتے ہیں اور کرتے نہیں تو کھاتے پیتے کہاں سے ہیں؟ یہ بات دوسری ہے، جو چاہیے نہیں کرتے یا کرنے میں کمی کرتے ہیں۔ مگر ان کے اسباب دوسرے ہیں۔ نہ یہ کہ عقیدۂ تقدیر نے ان کو کاہل کر دیا ہے۔ ہندو، عیسائی، یہودی کون ہے جو تقدیر کا قائل نہیں تو اگر مجرد تقدیر پر عقیدہ رکھنا کاہلی کا باعث ہوتا تو یہ سب بھی کاہل ہوتے حالاں کہ تم بالتخصیص مسلمانوں ہی کو ملزم ٹھہراتے ہو اور جوں کہ تقدیر کا حال کسی کو معلوم نہیں تقدیر پر عقیدہ رکھنا کاہلی کا سبب کیوں ہونے لگا۔ بلکہ وافر مثالیں موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ تقدیر پر بھروسہ رکھنے کی وجہ سے لوگوں نے ثابت قدمی اور استقلال مزاجی کے ساتھ کوشش کی اور آخرکار کامیاب ہوئے۔ اس کی ایک مثال تو جالوت طالوت کا قصہ ہے کہ جب فوجِ طالوت لشکرِ جالوت کے مقابل ہوئی تو طالوت کی فوج تھوڑی تھی۔ لوگ کہنے لگے ہم میں جالوت اور اس کے لشکر کی مقاومت کی طاقت نہیں۔ یہ سن کر وہ لوگ جن کو خیال تھا کہ مرے پیچھے ہم کو خدا کے پاس جانا ہے۔ کہنے لگے کہ اکثر ایسا ہوا ہے کہ تھوڑے لوگوں نے بہتوں کو ہرایا ہے اور خدا صبر کرنے والوں کا ساتھ دیتا ہے۔ اس کے بعد جو طالوت والوں نے کچکچا کر دھاوا کیا تو جالوت والوں کو مار ہٹایا اور جالوت مارا گیا۔ یہ قصہ قرآن میں مذکور ہے اگر تم کو خیال ہو اس کو پرانی کہانی مت سمجھنا ایسی باتیں اکثر اب بھی واقع ہوتی ہیں کہ صرف تقدیر کے بھروسے پر لوگ ہمت کر بیٹھتے ہیں اور مشکلات پر غالب آتے ہیں۔ ؎
مرد باید کہ ہراساں نہ شود
مشکلے نیست کہ آساں نہ شود"
ابن الوقت۔ "آپ تو فرماتے تھے کہ تقدیر کا حال کسی کو معلوم نہیں۔ پھر جو لوگ تقدیر پر بھروسہ کر کے کسی کام کی ایک ہمت کر بیٹھتے ہیں ان کو کہاں سے خبر ہو جاتی ہے کہ تقدیر موافق اور مساعد ہے؟"
حجۃ الاسلام۔ "یہ بھروسہ کرنے والوں کے دلوں سے پوچھنا چاہیے۔ مثلاً طرف دارانِ طالوت نے واللہ مع الصابرین سے مساعدتِ تقدیر کا اذعان کر لیا اور اس کا اذعان سچ نکلا۔ ایک زمیندار کا حال تو مجھ کو معلوم ہے وہ کچھ بسوے ہار گیا تھا سنا کہ بارہ برس سے اسی دھن میں پھرتا ہے۔ کہیں سنوائی نہیں ہوتی۔ آدمی تھا نمازی ایک دن مسجد میں ملا: میں نے اس کو سمجھایا کیوں پریشان ہوتے ہو۔ صبر کرو۔ کہنے لگا ناخدا ترس وکیلوں نے میرے مقدمے کو خراب کیا۔ مگر الحق یعلو۔ میرا حق کبھی نہ کبھی ضرور ملے گا۔ پھر سنا کہ ڈسٹرکٹ جج کو جنگل میں اس نے اکیلا پا کر سارا حال بیان کیا اور ان کو اپنی صداقت سے مطمئن کر دیا۔ جج نے کوئی تدبیر کر کے اس کے بسوے نکال دیے۔ یہ تو میں نے تم کو مسئلۂ تقدیر کا ایک پہلو دکھایا ہے۔ یعنی انجامِ کار فوز اور کامیابی ہو تو اذعانِ تقدیر سے انسان کو کس قدر تقویت پہنچتی ہے۔ وہ تقدیر کے بھروسے پر جان توڑ کر محنت اور خوش دلی سے برداشت کرتا ہے۔ رہی ناکامی اس کی جراحت کا تو اذعانِ تقدیر سے بہتر کوئی مرہم نہیں۔ معتقدِ تقدیر حرماں کو من جانب اللہ سمجھ کر اپنے دل کو تسلی دے لیتا ہے کہ اسی میں کوئی حکمت مضمر ہوگی۔ غرض کہ تقدیر کا ایسا عمدہ مسئلہ اور تم اس پر معترض! ایسا صحیح خیال اور تم اس سے منکر!"
ابن الوقت۔ "اگر دنیا میں اونچ نیچ، خوشی اور رنج، یعنی اختلافِ حالات تقدیری ہے تو خدا کو دانش مند اور منصف اور رحیم ماننا مشکل ہے۔"
حجۃ الاسلام۔ "تم کو سرے سے خدا ہی کا ماننا مشکل ہو رہا ہے۔ اس مشکل کو خدا آسان کرے تو پھر دین کی ساری باتیں تم کو سہل اور سلیس معلوم ہوں اور آسانی سے سمجھ میں آئیں۔ بھائی جان! دینیات میں غور کرنے کا یہ طریقہ نہیں جو تم نے اختیار کیا ہے۔ مولانائے رومؒ فرماتے ہیں۔ ؎
گر بہ استدلال کارِ دیں بُدے
فخرِ رازی رازدارِ دیں بُدے
تمہاری باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ تم کو حاجت مندانہ دین کی طلب اور تلاش نہیں بلکہ تم دین کی باتوں سے اس طرح مخاصمانہ پیش آتے ہو جیسے کوئی عیار وکیل فریقِ مقابل کے گواہ سے، یوں تو دین کی نعمت نہ ملی ہے نہ ملے گی۔ ایک تدبیر تم کو بتاتا ہوں کہ جس وقت تمہاری طبیعت افکارِ دنیا سے بالکل فارغ اور مطمئن ہوا کرے تنہائی میں خصوصاً رات کے وقت کبھی کبھی سوچا کرو کہ دنیا ہے کیا چیز؟ دنیا کا ایک بڑا بھاری عظیم الشان کارخانہ ہے۔ کہنے کو محدود ہے مگر کسی نے اس کی انتہا نہ پائی۔ اس کارخانے کے مقابلے میں زمین کی بااین وسعت اتنی بھی تو حقیقت نہیں جیسے ذرے کی۔ کیا علمِ ہیئت کی باتیں خیال سے اتر گئیں؟ تم تو سب سے زیادہ ان کی طرف داری کیا کرتے تھے۔ اگر وہ سب باتیں سچی ہیں اور حسبِ مشاہدات اور اصولِ ہندسہ پر مبنی ہیں تو ان کو غلط ہی کون کہہ سکتا ہے تو چار و ناچار انسان کو اپنی درماندگی اور نارسائی اور بے حقیقتی کا اقرار کرنا پڑتا ہے۔ ہزار دس ہزار، بیس ہزار، پچاس ہزار، لاکھ کوس تک کا بھی خیر یوں ہی سا کچھ اندازہ کر سکتے ہیں۔ مہاسنکھ در مہاسنکھ کوسوں کے سمجھنے کو کس کی اٹکل لائیں؟ بھلا کچھ ٹھکانا ہے ان دوریوں کا زمین پر سے گولہ چھوٹے اور شبانہ روز متصل ایک رفتار سے سیدھا چلا جائے تو انیس بیس برس میں جا کر آفتاب تک پہنچے! اللہ اکبر جل شانہ! بڑے سے بڑے پلے کی دوربینیں ایجاد ہوئیں مگر ہم نے اجرامِ فلکی کا کیا دیکھا؟ ایک جھلک وہ بھی ان معدودے چند کی جو زمین سے بہ نسبت دوسرے بے شمار اجرام کے قریب ہیں۔ کبھی آسمان خوب صاف ہوتا ہے تو اندھیری رات میں کس کثرت سے ستارے دکھائی دیتے ہیں گویا گہری افشاں چھڑکی ہوئی ہے اور اگر کسی طرح اونچے سے اونچے ستارے پر پہنچنا ممکن ہوتا تو وہاں سے بھی جہاں تک اور آگے کو نظر کام کرتی یہی کیفیت دکھائی دیتی۔ وھلم جرا۔ پھر خدا جانے کتنے کالے کوسوں کی مسافت ہے کہ ستارے ہم کو ننھے ننھے نقطے دکھائی دیتے ہیں ورنہ جس طرح اس کا یقین ہے کہ دو اور دو چار ہوتے ہیں اسی طرح جاننے والوں کو اور خاص کر تم کو اس کا اذعان ہونا چاہیے کہ ایک ایک لفظ بجائے خود جہان ہے۔ اور جہان بھی کیسا کہ اگر اس کو بڑا مٹکا فرض کرو تو زمین اس کے سامنے خشخاش کا نہ سہی تو رائی کا دانہ ہو تارے زمین سے زیادہ پاس ہیں یعنی ان کی دوری لاکھوں کوس کے پیٹے کے اندر ہی اندر رہے۔ دوربین کی مدد سے ان کے حالات کس قدر دریافت ہوئے ہیں اور پاس پڑوس کی آخر تھوڑی بہت خبر ہونی ہی چاہیے۔ سمندر، جھیلیں، پہاڑ، دھوپ چھاؤں، ہوا، بادل یہ سب چیزیں ان تاروں میں صاف دیکھ پڑتی ہیں اس سے اور دوسرے بہت سے قرائن سے علمائے ہیئیات قیاس کرتے ہیں اور بجا قیاس کرتے ہیں کہ زمین کی طرح ان جہانوں میں بھی جان دار آباد ہیں۔ یہاں عقلِ انسانی کے اوسان اور بھی گم ہیں۔ بھلا اتنے بے شمار جہانوں کی کل مخلوقات کا تو ہم کیا اندازہ کر سکتے ہیں جب کہ ایک زمین کی مخلوقات کی گنتی تو درکنار تمام اقسام تک منضبط نہیں۔ وما من دابۃ فی الارض ولا طائر یطیر بجناحیہ الا امم امثالکم۔ کسی کتاب میں نظر سے گزرا کہ زمانۂ حال کا کوئی فلسفی خوردبین میں پانی کی ایک بوند دیکھ رہا تھا۔ سو سے زیادہ طرح کے جاندار تو وہ اس ایک بوند میں بہ مشکل شمار کر سکا۔ آخر تھک کر بیٹھ رہا۔ ایک بوند میں اتنی مخلوقات ہو تو تمام کرۂ آب میں جو تین چوتھائی زمین کو ڈھانکے ہوئے ہے کتنی مخلوقات ہوگی خدا ہی کو خبر ہے۔ وما یعلم جنود ربک الا ھو۔ پھر زمین کے گردا گرد ۴۵ میل کے دل کا ہوا کا کرہ ہے اور اس میں بھی جانداروں کی ایسی ہی یا اس سے زیادہ کثرت ہے۔ ہر چند کارخانۂ قدرتِ الٰہی کی عظمت اور شان فہمِ بشر سے خارج ہے مگر جس طریق پر میں نے اجمالاً بیان کیا اگر کوئی آدمی متواتر اور متصل مدتوں تک غور کرتا رہے تو ضرور اس کے دل میں اپنی بے حقیقتی اور درماندگی اور بے وقعتی کا تیقن پیدا ہوگا جس کو میں دینداری کی بنیاد یا تمہید سمجھتا ہوں۔ اس کے بعد ذہن کو اس طرف متوجہ کرنا چاہیے کہ اتنا بڑا کارخانہ بااین عظمت کیسی عمدگی اور کیسے انضباط کے ساتھ چل رہا ہے کہ عقل دنگ ہوتی ہے۔ اجرامِ فلکی کے اتنے بڑے بے شمار گولے کہ خدا کی پناہ اور خود زمین سب چکر میں ہیں۔ خدا جانے کب سے کیوں اور کب تک اور نہ آپس میں ٹکراتے ہیں اور نہ بال برابر اپنی رفتار بدلتے ہیں۔ اب جو آدمیوں کو قاعدہ معلوم ہو گیا ہے تو سینکڑوں، ہزاروں برس پہلے سے پیشین گوئی ہو سکتی ہے کہ فلاں ستارہ فلاں وقت فلاں مقام پر ہوگا اور وہیں ہوتا ہے حساب میں اگر غلطی نہ ہو تو منٹ اور سیکنڈ کیسا سیکنڈ کے ہزارویں حصے کی قدر بھی آگا پیچھا نہیں ہو سکتا۔ والشمس تجری لمستقر لھا ذٰلک تقدیر العزیز العلیم۔ والقمر قدرناہ منازل حتیٰ عاد کالعرجون القدیم۔ لا الشمس ینبغی لھا ان تدرک القمر ولا اللیل سابق النھار وکل فی فلک یسبحون۔ یہاں روئے زمین پر ایک بھنگے، ایک دانے، ایک پھل، ایک پنکھڑی، گھاس کے ڈنٹھل، چھوٹی سے چھوٹی اور ادنیٰ سے ادنیٰ چیز کو بھی نظرِ غور سے دیکھو تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز کی کچھ نہ کچھ غرض و غایت ہے، جس کی تکمیل کا پورا سامان اس چیز میں موجود ہے۔ مثلاً ریگستانی علاقوں میں اونٹ پیدا کیا گیا ہے تو اس کے پاؤں کے تلوے چوڑے اور اسفنج کی طرح پولے ہوتے ہیں کہ ریت میں نہ دھنسیں۔ اس کی گردن بہت لمبی ہے تاکہ اونچے درختوں کے پتے چر سکے۔ اس کو ایک خاص طرح کا خانے دار معدہ دیا گیا ہے جس میں کئی کئی ہفتوں کے لیے کھانا پانی بھر لیتا ہے کیوں کہ جیسے ملک میں وہ پیدا کیا گیا ہے وہاں کئی کئی دن تک متواتر پانی چارے کا نہ ملنا کچھ تعجب نہیں۔ اس کے علاوہ اس کے پاس کوہان کا گودام ہے۔ اگر اس کو ایک عرصۂ خاص تک کھانا پینا کچھ بھی نہ ملے تو کوہان کی چربی بارِل ماتحلل کا کام دے۔ ہرن وغیرہ جنگلی جانوروں کی ٹانگیں پتلی پتلی ہیں تاکہ شکاری جانوروں سے بچنے کے لیے پھرتی کے ساتھ بھاگ سکیں۔ ہاتھی کے ایک سونڈ لٹک رہی ہے جس سے وہ ہاتھ کا کام لیتا ہے۔ پرندوں کے جثے سبک ہیں تاکہ ہوا میں اڑ سکیں۔ دریائی جانوروں کے پنجے کھال سے جڑے ہوئے ہیں، گویا ہر ایک کے پاس قدرتی چپو ہیں۔ گوشت خور جانوروں کے پنجے اور دانت ان کی غذا کے مناسب ہیں۔ نباتات میں پھل پھول کی حفاظت کے واسطے کانٹے ہیں پوست ہیں خول ہیں۔ سرد ملک کے جانوروں کی اون بڑی بڑی اور گھنی ہے کہ جاڑا نہ کھائیں۔ جتنے جاندار معرضِ تلف میں ہیں ان میں توالد و تناسل کی کثرت ہے تاکہ نسل معدوم نہ ہو۔ مثلاً ایک ایک مچھلی لاکھ لاکھ سے زیادہ انڈے دیتی ہے۔ آدمی چوں کہ ابقائے حیات کا سامان عقل کی مدد سے بہم پہنچا سکتا ہے سینگ اور پنجے اور اون اس قسم کے قدرتی سامان اس کو نہیں دیے گئے جس ملک میں نباتات کی کثرت ہے وہیں برسات بھی زیادہ ہوتی ہے کیوں کہ وہ ملک پانی کا محتاج ہے۔ انسان اگر اپنی ہی بناوٹ میں غور کرے تو اس کا ایک ایک رواں صانعِ قدرت کی کمالِ دانشمندی اور عنایت پر گواہی دے رہا ہے۔ ؎
بر ہر بنِ مو کہ می نہم گوش
فوارۂ فیضِ اوست در جوش
اس کے جسم میں ایک چھوٹا اور آسان سا پرزہ ہاتھ ہے کہ دنیا میں جس قدر انسان کے تصرفات ہیں اور انسان کی بساط پر خیال کرو تو ان تصرفات کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ سب اسی پرزے کے ہیں۔ اہلِ یورپ نے عقل کے زور سے بڑی بڑی عمدہ کلیں بنائی ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ان کلوں سے عقلِ انسانی کی قوت بڑی شد و مد کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے مگر مجھ کو بھی دو چار کلوں کے دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے ایک بکھیڑا ہے کہ بیگھوں زمین پر پھیلا ہوا ہے۔ سینکڑوں پرزے، ہزارہا پیچ، بیلن، پہیے، چرخیاں، کمانیاں خدا جانے دنیا بھر کے کیا کیا سامان جمع کیے ہیں۔ تب کہیں جا کر وہ ایک مطلب حاصل ہوتا ہے جس کے لیے کل بنائی گئی ہے۔ یہ آدمی کی بنائی ہوئی کلوں کا حال ہے اور ایک ادنیٰ سی کل خدا کی بنائی ہوئی ہے۔ یہی آدمی کا ہاتھ کہ ہزارہا قسم کے کام اس سے نکلتے ہیں اور ترکیب دیکھو تو ایسی سلیس اور مختصر کہ ایک کفِ دست ہے اور تین تین جوڑ کی پانچ انگلیاں! اللہ اللہ خیر صلّا۔ انسان کے بدن میں ایک اور ذرے بھر کی چیز آنکھ ہے۔ اس کی ساخت میں جو اندرونی حکمتیں ہیں ان سے بالاستیعاب ایک کتاب بن سکتی ہے مگر خارج کی احتیاطوں کو تو دیکھو کہ پہلے گویا ہڈیوں کا کاواک ہے جس میں نگینے کی طرح آنکھ کی تعبیہ ہوئی ہے اور پھر بھوؤں کا چھجے دار سائبان، سامنے پپوٹوں کا پردہ، پردے میں پلکوں کی جھالر، پھر پپوٹوں کے اندر منافذ ہیں جن میں سے آئینۂ چشم کے صاف رکھنے کو ہمیشہ ایک خاص طرح کی رطوبت رستی رہتی ہے۔ یہ وہی رطوبت ہے جو زیادہ ہو کر آنسو بن جاتی ہے۔ جتنی دفعہ انسان پلک جھپکاتا ہے گویا اتنی ہی دفعہ آئینے پر پچارا پھرتا ہے۔ گرد اور دھوئیں اور کنک کی صورت میں بے اختیار آنسو بہنے لگتے ہیں جس کے یہ معنی ہیں کہ پچارا کافی نہیں بلکہ آئینے کو دھونے کی ضرورت ہے۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین۔ میرا تو کیا منہ ہے موجوداتِ عالم میں جو اسرارِ حکمت مضمر ہیں ان کا ایک شمہ بھی بیان کر سکوں۔ ولو انّ ما فی الارض من شجرۃ اقلام والبحر یمدّہ من بعدہ سبعۃ ابحر ما نفدت کلمٰت اللہ ان اللہ عزیز حکیم۔ مگر میری غرض اسی قدر ہے کہ دنیا کے کارخانوں کو اس نظر سے دیکھنا چاہیے۔ کل میں نے آیۃ اللہ (ابن الوقت کے چھوٹے بھتیجے کا نام ہے) کا سبق سنا۔ وہ عجائبِ قدرت پڑھتا ہے کسی شخص نے نیچرل فلاسفی میں سے بعض مضامین چھانٹ کر اردو میں ترجمہ کر دیے ہیں اسی میں لکھا تھا کہ مچھر کے منہ کے آگے جو ایک پتلی سونڈ سی ہوتی ہے وہ حقیقت میں ایک نلوا ہے۔ اس نلوے میں تین اوزار، ایک تو سوئی جس کو مچھر مسام میں داخل کرتا ہے، ایک آری کہ مسام کو چوڑا کرنے کی ضرورت ہو تو اس سے کام لے اور ایک سینگی جس کی راہ خون چوستا ہے اس میں اتنی بات اور بھی تھی کہ اس شکلِ خاص میں مچھر کی حیات کی مدت صرف تین دن کی ہے ایک مقام پر تھا تیتری کے ایک پر میں کھپروں کی طرح تیس ہزار دیولیاں ہیں۔ اس طرح کی باتوں کو اگر انسان سرسری طور پر نہ سنے جیسی کہ اس کی عادت ہے تو ہر ہر ذرہ اس بات کی گواہی دے گا کہ اس کو کسی بڑے قدرت والے دانش مند ہمہ داں حاضر و ناظر سمیع و بصیر نے کسی مصلحت سے جان بوجھ کر بنایا ہے۔ ممکن نہیں کہ انسان صمیمِ قلب سے موجوداتِ عالم میں غور اور خوض کرے اور اس کا دل اندر سے نہ بولنے لگے کہ یہ اتنا بڑا کارخانہ بہ ایں عمدگی و انضباط خود بخود یا اتفاقیہ طور پر تو نہیں ہو گیا کیوں کہ واقعاتِ اتفاقی کی شان ہی دوسری ہوتی ہے ان میں قاعدے کا کہاں پتہ؟ اور انضباط کا کیا مذکور؟ اور قاعدہ اور انضباط بھی کیسا کہ دنیا کی ابتدا سے لے کر آج کی گھڑی تک تو ان میں رتی برابر فرق پڑا نہیں ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا ولن تجد لسنۃ اللہ تحویلا۔ جس غور کی طرف میں تم کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں اس میں یہ بھی داخل ہے کہ وقت کیا چیز ہے جس کی نہ ابتدا ہے نہ انتہا۔ اگرچہ وقت کی وسعت کا اندازہ بھی فہمِ بشر سے خارج ہے مگر خیر جہاں تک تم سے اجرامِ فلکی کے فاصلوں کا اندازہ کرتے بن پڑے لاکھ دو لاکھ چار لاکھ برس کا ایک محدود وقت لے کر اسی کی وسعت کو سوچو اور تمثیلاً یوں تصور کرو کہ وقت ایک بڑا المباخط ہے اس میں سے تمہاری ہستی اگرچہ تمہارے معتقدات کے مطابق طبِ انگریزی پر پورا عمل کرنے سے حدِ طبعی سے بھی کتنی ہی متجاوز کیوں نہ ہو جائے تاہم اس کو وقتِ معروض کے ساتھ کیا نسبت ہوگی؟ شاید جیسی محیطِ زمین کے مقابلے میں ایک انچ گویا اس سے بھی کم یہ انسان کی ہستی ہے اور اس پر خدا سے انکار اور اپنی عقل پر ناز بے جا۔ انسان سے دنیا میں ہزاروں طرح کی بے ہودگیاں سرزد ہوتی ہیں مگر یہ سب بے ہودگیوں پر فوق لے گئی ہے کہ خدا ہی کا منکر ہو۔ بڑے افسوس کی بات ہے اور پرلے درجے کی بدقسمتی کہ عقل جو انسان کو اسی غرض سے دی گئی ہے کہ مخلوقات سے خالق کو پہچانے۔ ورنہ دنیا کی چند روزہ زندگی تو جانور بھی بسر کر لیتے ہیں جن کو بہت سا کھانا اور پانی درکار رہتا ہے اور مزہ یہ ہے کہ حاجتیں کثیر اور عقل کم اور پھر انسان سے کہیں زیادہ خوش حال۔ تغدو خماصاً وتروح بطاناً۔ غرض بڑے افسوس کی بات ہے کہ وہی عقل انسان کو ایسا گمراہ کرے کہ خدا کا قائل نہ ہونے دے۔ حقیقت میں میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کوئی آدمی کس منہ سے کہہ سکتا ہے خدا نہیں۔ تم مجھ کو اتنا تو سمجھاؤ کہ تم نے اپنے تئیں سمجھا ہے کیا؟ چندیں ہزار عالم کے مقابلے میں تمہاری کیا حقیقت ہے؟ اور چندیں ہزار عالم بھی نہ سہی ان کی مخلوقات بھی نہ سہی ایک روئے زمین پر ابتدا سے اب تک تم جیسے اور تم سے بہتر سے بہتر بہتیرے کروڑہا آدمی پیدا ہوئے ہیں اور اپنی زندگی میں انھوں نے کیا کچھ نہیں کیا۔ خدا کے ایسے ایسے بھی بے شمار بندے ہوئے ہیں جنھوں نے حکومتیں کیں، سلطنتیں کیں، اپنے زمانے میں نامی نامور ہوئے اور پھر ایسے مٹے گویا پیدا ہی نہیں ہوئے تھے۔ نہ ان کا نام ہے نہ نشان ہے۔ تم یہ بتاؤ کہ تم کوئی انوکھے آدمی ہو تم بھی اپنے ارادے سے پیدا نہیں ہوئے اور قسم ہے اس ذاتِ پاک کی کہ جس کے ہاتھ میں میری اور تمہاری دونوں کی اور سب جانداروں کی جان ہے۔ اپنے ارادے سے مرو گے بھی نہیں اور مرے بعد مہینے دو مہینے پیچھے نہ سہی، پچاس، سو، دو سو، ہزار برس بعد روئے زمین پر اتنا جاننے والا بھی تو نہ ہوگا کہ ابن الوقت بھی کوئی تھے بندۂ خدا ذرا تو سوچ کر کہو کہ خدا بھی ہے یا تم ہی تم ہو۔"
ابن الوقت۔ "آپ نے تو ناحق ڈپٹی کلکٹری کی آپ کو تو سلطان الواعظین ہونا چاہیے تھا۔ لیکن گستاخی معاف جتنی باتیں آپ نے کہیں اساطیر الاولین ہیں مجھ کو بھی معلوم ہیں۔ آپ کی تمام تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ نے لاعلمی کا نام خدا رکھ چھوڑا ہے دریافتِ سبب سے عاجز ہوئے خدا ماننے لگے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ مثلاً آدمی پانی نہیں برسا سکتا تو کہتے ہیں خدا برساتا ہے لیکن فرض کیجیے کہ کسی وقت پانی کو ہم اپنے بس میں کر لیں اور جب چاہیں برسا لیا کریں اور جب ہم کو یہاں تک پتہ لگ گیا ہے کہ ہوا بسیط نہیں جیسا کہ متقدمین فلاسفہ خیال کرتے ہیں بلکہ آکسیجن، ہائیڈروجن، نائٹروجن تین قسم کی ہواؤں سے مرکب اور ہوا میں اس درجے تک ہائیڈروجن غالب ہو تو ہوا پانی بن جاتی ہے۔ کیا تعجب ہے کہ کسی نہ کسی دن ہم پانی برسانے پر قادر ہو جائیں۔ جب سے یورپ میں علومِ جدیدہ شائع ہونے شروع ہوئے ثابت ہوتا گیا کہ انسان کی طاقت محدود نہیں۔ کون کہہ سکتا ہے کہ انسان نے ریل چلائی، تار دوڑایا اور ہزارہا نئی نئی چیزیں دریافت کیں آئندہ کچھ نہیں کرے گا۔"
حجۃ الاسلام۔ "میں واقعات پیش کرتا ہوں اور تم مفروضات کا حوالہ دیتے ہو۔ یہ سچ ہے کہ اس زمانے میں انسان نے اپنی قوت کو بہت بڑھا لیا ہے مگر تانت باجی راگ پایا۔ معلوم ہے کہ انسان کہاں تک ترقی کر سکتا ہے۔ اس کی ساری ہیری اتنی بات پر ختم ہے کہ وہ چیزوں میں، سو بھی سب میں نہیں کسی قدر تصرف کر سکتا ہے اور بس مثلاً ریل میں سوائے اس کے اور کیا دھرا ہے کہ خدا نے کسی کے ذہن کو اس طرف منتقل کر دیا کہ بھاپ میں بڑی طاقت ہے پھر لوگ لگے اس طاقت سے کام لینے کی تدبیر کرنے رفتہ رفتہ ریل چل کھڑی ہوئی مگر یہ تو فرماؤ ریل کی ایجاد میں انسان نے سب کچھ تو کیا لیکن پانی، آگ، بھاپ، لوہا، لکڑی جو جو چیز ریل میں کام آتی ہیں ان میں سے کوئی چیز یا کسی چیز کی کوئی خاصیت خلق بھی کی یاد رکھو۔ دریافت کرنے اور خلق کرنے میں بہت بڑا فرق ہے مجھ کو بھی یاد ہے میں نے مدرسے میں ٹرشیم صاحب کو یہ تماشہ کرتے ہوئے دیکھا تھا کہ ایک شفاف بوتل میں ہوا بھر لی۔ تھوڑی دیر میں بوتل کے اندر پانی کی بوندیں بن جاتیں۔ اسی پر تم کو خیال ہوا ہوگا کہ آدمی پانی برسانے پر قادر ہو جائے تو تعجب نہیں۔ تم کو تو شروع سے انگریزوں کے ساتھ عقیدہ ہے۔ اس تماشے کی تم ہی نے کچھ عظمت کی ہوگی۔ میں تو کئی بار بولنے کو ہوا تھا کہ اس میں آپ نے کمال ہی کیا کیا؟ ہم تو ہر روز اپنے گھروں میں دیگچی کی چپنی سے بوندیں جھڑتی ہوئی دیکھتے ہیں، لیکن صرف اتنی بات ہے کہ آدمی نے تھوڑی سی جگہ میں کسی تدبیر سے اس قدر ہائیڈروجن جمع کر دی جتنی ہوا کے پانی بن جانے کے لیے ضروری ہے۔ نہ خدا سے انکار کر سکتا اور نہ خدا سے مستغنی ہو سکتا اور نہ خود دعوائے خدائی کر سکتا اور جب آدمی ہی بہ ایں عقل و دانش خدا نہ ہو سکا تو چاند سورج عناصر وغیرہ کسی میں بھی خدا ہونے کی لیاقت نہیں کیوں کہ ان میں تو عقل و ارادے کی بھی کمی ہے اور مجبورِ محض اور لایعقل محض معلوم ہوتے ہیں۔ کالجماد اور حضرت ابراہیم علیٰ نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو چاند سورج اور تاروں کو دیکھ کر فرمایا تھا۔ لا احب الآفلین کہ میں چھپ جانے والوں کو نہیں چاہتا۔ ان کا بھی یہی مطلب تھا۔"
ابن الوقت۔ "بات یہ ہے کہ دنیا کی پہیلی کا کسی نے اتا پتا تو پایا نہیں جو جس کی سمجھ میں آتا ہے کہتا ہے۔ اس سے بہتر یہ ہے کہ ناحق کیوں سر دکھایا جائے، جس طرح دنیا چلی جائے اس کو چلنے دیا جائے۔ میں تو حافظ کے اس شعر کو بہت پسند کرتا ہوں۔ ؎
سخن از مطرب و مے گو و رازِ دہر کمتر جو
کہ کس نکشود و نکشاید بہ حکمت ایں معما را"
حجۃ الاسلام۔ "اوّل تو شاعروں کے معقولات معاملاتِ مذہبی میں قابلِ استشہاد نہیں اور پھر آپ اس کو اپنے مطلب پر بھی خوب ڈھال لے گئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جس راز کی جستجو کو حافظ منع کرتا ہے وہ اسرار ہیں جن کو خدا نے آدمی سے مخفی رکھنا چاہا ہے مثلاً ان اللہ عندہ علم الساعۃ وینزل الغیث ویعلم ما فی الارحام وما تدری نفس ماذا تکسب غداً وما تدری نفس بای ارض تموت ان اللہ علیم خبیر۔ یا مثلاً وہی بات جس میں تم کو شک واقع ہوا اور ابھی تھوڑی دیر ہوئی اس کی نسبت تم نے کہا کہ اگر دنیا میں اونچ نیچ اور خوشی اور رنج یعنی اختلافاتِ حالات اور تقدیری ہے تو خدا کو دانش مند اور منصف اور رحیم ماننا مشکل یا جیسے کوئی انسان خلقِ عالم کی غرض و غایت کی تفتیش کرنا چاہے اور ہر واقعہ اور ہر موجود کے بارے میں پوچھنے لگے کہ یوں کیوں ہوا۔ یا مثلاً معلوم کرنا چاہے کہ روح کیا چیز ہے اور جسم سے کس طرح کا تعلق رکھتی ہے یا علت و معلول میں کیسا علاقہ ہے۔ اس قسم کی ہزاروں باتیں ہیں کہ اس ہستی میں انسان پر منکشف ہونے والی نہیں۔ ان چیزوں کی جستجو انسان کو کرنی ضرور نہیں بلکہ جو کچھ ہو رہا ہے نظرِ استحسان سے دیکھ خاموش ہو رہے اور کسی بات کو نہ سمجھ سکے تو اعتراض نہ کرے بلکہ قصورِ فہم کا معترف ہو۔ علاوہ بریں تم کو البتہ اختیار ہے کہ اس قسم کے خیالات کو دل میں جگہ نہ دو لیکن اس کی ایسی مثال ہوگی کہ نصف النہار کے وقت آفتاب بڑی آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے اور چمگادڑ اسی کو نہیں دیکھنا چاہتی، نہ دیکھے، مگر آفتاب کا اس میں کیا زیاں ہے؟ ؎
گر نہ بیند بروز شپرہ چشم
چشمۂ آفتاب را چہ گناہ
چمگادڑ کا یہیں تک بس چل سکتا ہے کہ نہ دیکھے۔ نہ یہ کہ دوسروں کو نہ دیکھنے دے یا آفتاب کو تیرہ و تار کر دے۔ یا اس کے معمول کے مطابق نہ نکلنے دے۔ لیکن ایک دن پرسش ہونی ہے کہ آنکھیں تھیں کیوں نہیں دیکھا؟ کان تھے کس لیے نہیں سنا؟ عقل تھی کس واسطے نہیں سمجھا؟"
ابن الوقت۔ "ابھی ایک بحث طے نہیں ہوئی کہ آپ نے قیامت اور اس کی بازخواست کی دوسری بات نکال کھڑی کی۔"
حجۃ الاسلام۔ "بحث مت کہو میں تو مذہب کے بارے میں مناظرے اور مباحثے کا سخت مخالف ہوں اور میں نے شروع میں ہی تم سے کہہ دیا تھا کہ دین حجت اور تکرار سے حاصل ہونے والی چیز نہیں۔ دین دوا ہے بیماری کی، تسلی ہے بے قراری کی، متاع ہے خریدار کی، بشارت ہے امیدوار کی، نجات ہے گنہگار کی، یعنی عنایت ہے پروردگار کی۔ جو کچھ میں نے تم سے کہا ہرگز ازراہِ بحث نہیں کہا بلکہ بہ تقاضائے محبت تم کو اپنی سمجھ کے مطابق ایک تدبیر بتائی کہ اگر دل میں صدقِ نیت کے ساتھ غور کرو تو عجب نہیں خلجان باقی نہ رہے اور قیامت اور بازخواستِ قیامت کی بات کے نکالنے کی جو تم نے کہی تو یہ تمام زحمتیں اسی دن کے لیے ہیں۔ اگر قیامت اور قیامت کی بازخواست نہ ہوتی تو کیوں دین ڈھونڈتے اور کس لیے مذہب کی تلاش کرتے؟ بڑی مشکل تو یہی ہے کہ مرنے سے بھی آدمی کا پنڈ نہیں چھوٹتا۔ یہ زندگیِ دنیا تو چند روزہ ہے۔ بھلی بھی گزر جائے گی اور بُری بھی گزر جائے گی۔ پہاڑ سی زندگی تو وہ ہے جو مرنے سے شروع ہوگی۔ گویا از سرِ نو پیدا ہوئے اور جس کی فلاح دین کا مقصودِ اصلی ہے۔"
ابن الوقت۔ "خدا کے ہونے پر تو بھلا آپ نے ایک دلیل قائم کی بھی ہر چند میرے دل کو اس سے تسلی نہ ہوئی اور میں اس وقت تک یہی سمجھتا ہوں کہ لوگ ہو رہے ہیں اسباب کے خوگر، جدھر آنکھ اٹھا کر دیکھتے ہیں سبب ہی سبب نظر آ رہے ہیں۔ اسی وجہ سے انھوں نے ذہن میں تعلیم کر لی ہے کہ ہر واقعہ کے لیے سبب کا ہونا ضروری ہے اور سبب نہیں پاتے تو جھٹ سے خدا کے قائل ہو جاتے ہیں۔ مگر میں سننا چاہتا ہوں کہ قیامت اور بازخواستِ قیامت کا آپ کے پاس کیا ثبوت ہے؟"
حجۃ الاسلام۔ "میں نہیں جانتا کہ خدا کے لیے تم کس طرح کا ثبوت چاہتے ہو۔ اگر یہ مطلب ہے کہ آنکھ سے دیکھوں یا ہاتھ سے ٹٹولوں تو میں کیا کوئی بھی دعویٰ نہیں کر سکتا کہ تم کو خدا کا دیدار دکھا دے گا مگر یہ تو فرماؤ کہ ثبوت دلیل سارے اذعان حاصل کرنے کے ذریعے ہیں۔ اذعان مرئیات اور ملموسات ہی پر منحصر ہے ہرگز نہیں۔ ہر شخص اپنے وجدانیات کا اذعان کرتا ہے حالاں کہ امورِ وجدانی نہ مرئی ہیں نہ ملموس۔ اور تعمیم پر جو تم نے اعتراض کیا کیوں کر میں سمجھوں کہ حقیقت میں تم کو شک ہے جب کہ میں دیکھتا ہوں کہ تم کہتے کچھ ہو اور کرتے کچھ ہو۔"
ابن الوقت۔ "یہ آپ نے کیا بات فرمائی؟"
حجۃ الاسلام۔ "میرے کہنے کا یہ مطلب ہے کہ تم لوگوں پر تو اعتراض کرتے ہو کہ کثرت سے اسباب دیکھتے دیکھتے انھوں نے تعمیم کر لی ہے کہ ہر واقعے کے لیے سبب کا ہونا ضروری ہے یعنی تعمیم تمہارے نزدیک لوگوں کی غلطی ہے مگر میں پوچھتا ہوں کہ اگر تمہاری میز پر ایک پنسل جگہ سے بے جگہ ہو جائے تو تم کو ضرور یقین ہوگا کہ کسی نے میری میز کو چھیڑا اور بے شک تم نوکروں پر خفا ہو گے کہ کیوں میری چیزوں کو ہٹاتے سرکاتے ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو اور لوگ کرتے ہیں وہی تم بھی دن میں ہزاروں بار کرتے ہو۔ تمہارا نوکروں پر خفا ہونا نتیجہ ہے اس تعمیم کا جو پہلے سے تمہارے ذہن میں مرتکز ہے کہ کوئی شے از قسمِ جماد اپنے ارادے سے حرکت نہیں کر سکتی۔ تاوقتیکہ کوئی محرک اس کو نہ ہلائے۔ یا مثلاً تم کو اس کا تو اذعان ہے کہ جس نے بشریت کا جامہ پہنا ہے ایک نہ ایک دن ضرور مرے گا۔ لیکن تم نے کتنے آدمیوں کو مرتے دیکھا یا سنا؟ اور تم کو محدود معلومات پر گو وہ فی حد ذاتہا کتنی ہی وافر اور وسیع کیوں نہ ہو، کلیہ قاعدہ قرار دے لینے کا کیا منصب ہے؟ بلکہ تمہارے اعتراض کا ماحصل تو حقیقت میں یہ ہے کہ کلیہ ٹھہرانا ہی غلطی ہے۔ حالاں کہ ساری دنیا کا اجماع ہے کہ قوائے عقلی میں سے ایک قوتِ تعمیم ہے اور دنیا کے کاروبار کا مدار اسی پر ہے اور قیامت اور بازخواستِ قیامت کا ثبوت پوچھو تو میں اسی کے لیے نہیں بلکہ کل دینیات کے لیے وہی ایک ہدایت کرتا ہوں کہ پہلے دنیا کے حالات میں غور کرنے کی عادت ڈالو اور خدا کو منظور ہے تو (میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ کتنے دن میں مگر مخاصمانہ طور پر نہ ہو تو امید ہے کہ جلد) سب سے پہلے دل میں انکساری کی سی کیفیت پیدا ہوگی یعنی تم پر یہ ثابت ہو جائے گا کہ میں اس عظیم الشان کارخانے میں محض ایک ذرۂ ناچیز ہوں اور میری ہستی خواب و خیال سے بھی زیادہ بے ثبات ہے۔ تب میں یقین کرتا ہوں کہ تمہارے شکوک خود بخود رفع ہو جائیں گے اور بے دلیل اور بلا ثبوت تمہارا دل اندر سے گواہی دینے لگے گا کہ لاریب دنیا اور ما فیہا سب کا خالق خدا ہے۔ اس کی قدرت کی حد پایاں نہیں۔ کسی بشر کا مقدور نہیں کہ اس کی صفات کماحقہ پر احاطہ کر سکے۔ وہ ہمارا مالک ہے اور اس کو ہر طرح کا استحقاق ہے اور ہم پر جس طرح چاہے حکمرانی کرے۔ اس وقت تم کو قیامت اور بازخواستِ قیامت اور دین کی سبھی باتیں مستبعد معلوم ہوتی ہوں گی لیکن اسی غور سے تمہارا سارا استبعاد جاتا رہے گا کیوں کہ دین بے جوڑ باتوں کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ اصول و فروع سب ایک دوسرے سے ملتے ہوئے ہیں ممکن نہیں کہ آدمی خدا کا اذعان کرے۔ کما ھو حقہ اذعانہ اور پھر دین کی کسی بات میں ذرا بھی چون و چرا کر سکے۔ کلا لو تعلمون علم الیقین۔ ہم تو بھائی سیدھے مسلمان ہیں خدا کو مانتے ہیں اور اس کو شرطِ انسانیت سمجھتے ہیں۔ دنیا کے حالات پر نظر کرتے ہیں تو عاقبت کا ہونا ایک امرِ ضروری معلوم ہوتا ہے۔ دل ہی کچھ اس طرح کا بنایا ہے کہ نیکی اور بدی میں امتیاز کرتا ہے اور خدا جانے کیوں کر بیٹھ گئی ہے کسی طرح یہ بات ذہن سے نہیں نکلتی کہ اس دنیا میں تو نہیں، ہو نہ ہو مرے بعد اس کا نتیجہ نکلے گا پر نکلے گا۔"
ابن الوقت۔ "ہمارے دل میں تو ایک لمحہ کو بھی ایسے خیالات نہیں آتے۔"
حجۃ الاسلام۔ "آتے نہیں یا آنے نہیں دیتے؟ اور آتے کیوں نہ ہوں گے مگر یوں کہو کہ تم ایسے خیالات کو دل میں ٹھہرنے نہیں دیتے اور سچ ہے دنیا ہے بھی ایسی ہی جگہ اس میں کثرت سے وجوہِ صارف موجود ہیں۔ اس کا فضل دست گیری کرے تو انسان مشاغلِ دنیوی پر غالب آ سکتا ہے۔ اس جہان میں اور اس جہان میں نقد و نسیہ موجود و موعود عاجل و آجل، شاہد و غائب، ظاہر و باطن، مجاز و حقیقت کا فرق ہے واقع میں ادھر سے ٹوٹنا چھوٹنا آسان کام نہیں مگر تاہم ما لا یدرک کلہ لا یترک کلہ۔ آدمی اپنی طرف سے کوشش کرے اور اس کی عنایت کا امیدوار رہے۔ میں تم سے کہہ چکا ہوں کہ دین و مذہب کا اصل اصول طبیعت میں انکسار پیدا کرنا ہے۔ جس ڈھب سے ہو یوں سمجھو کہ آدمی بیمار ہے، اور دین اعتدالِ مزاج ہم کو دین کی ویسی ہی قدر ہونی چاہیے جیسی کہ ایک شخص کو جو مرضِ مہلک میں مبتلا ہے تن درستی کی ہوتی ہے۔ جو شخص بیماری سے آگاہ ہے کبھی اپنا علاج آپ کرتا ہے مگر رای العلیل علیل اکثر طبیب ہی کی طرف رجوع لاتے ہیں۔ وہ نبض سے، قارورے سے، مریض کے بیان سے، مرض اور اسبابِ مرض کو تشخیص کر کے دوا اور پرہیز دونوں بتاتا ہے اور خدا کو منظور ہوتا ہے تو مریض اس تدبیرِ ظاہر پر عمل کرنے سے آخرکار جانبر ہو جاتا ہے۔ دین کے اعتبار سے ہم تم دونوں بیمار ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ تم اپنے تئیں بیمار نہیں جانتے، تمہاری بیماری درجۂ روارت کو پہنچ گئی ہے اور تم کو خبر نہیں، تم نے علاج کی طرف بالکل توجہ نہیں کی۔ میں بیماری کو سمجھتا ہوں مگر افسوس ہے کہ طبیب نہیں۔ لیکن جس طرح دائم المرض اپنا علاج کرتے کرتے بعض دواؤں کی خاصیتیں جاننے پہچاننے لگتا ہے۔ اتنا کہہ سکتا ہوں کہ تم کو طبیعت میں انکسار پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور یہ ساز و سامان اور تزک و احتشام اور امارت اور حکومت یعنی لوازمِ رعونت سب سخت درجے کی بدپرہیزیاں ہیں جن کے رہتے طبیعت میں انکسار کا پیدا ہونا محال نہیں تو مشکل ہونے میں کچھ شک بھی نہیں۔ وہ غور جو میں نے بتایا ہے عمدہ دوا ہے اور مجھ کو بھی تلاش ہے مگر میسر نہیں۔ تم سمجھے طبیب سے میری کیا مراد ہے؟ پیرِ طریقت، طبیعت میں انکسار پیدا کرنے کے لیے یہ لوگ بہت سی تدبیریں کرتے ہیں۔ بعض ریاضات اور مجاہدات سے بعض اسفار و سیاحات سے اور کوئی کوئی صرف غور و فکر یعنی مراقبات سے۔ یہ طبیعتوں کے اختلافِ حالات پر موقوف ہے کہ کون سی تدبیر سود مند واقع ہوگی اور اس کی تعیین قابلِ اطمینان طبیب یعنی پیرِ طریقت ہی کر سکتا ہے۔ نزولِ مصائب کو طبائع کے رام کرنے میں اکثر سریع الاثر دیکھا ہے۔ ھو الذی یسیرکم فی البر والبحر حتیٰ اذا کنتم فی الفلک وجرین بھم بریح طیبۃ وفرحوا بھا جاءتھا ریح عاصف وجاءھم الموج من کل مکان وظنوا انھم احیط بھم دعوا اللہ مخلصین لہ الدین لئن انجیتنا من ھٰذہ لنکونن من الشاکرین۔ فلما انجاھم اذا ھم یبغون فی الارض بغیر الحق یا ایھا الناس انما بغیکم علیٰ انفسکم متاع الحیوۃ الدنیا ثم الینا مرجعکم فننبئکم بما کنتم تعملون۔ انما مثل الحیوۃ الدنیا کماء انزلناہ من السماء فاختلط بہ نبات الارض مما یاکل الناس والانعام حتیٰ اذا اخذت الارض زخرفھا وازینت وظن اھلھا انھم قادرون علیھا اتاھا امرنا لیلاً او نھاراً فجعلناھا حصیداً کان لم تغن بالامس کذٰلک نفصل الآیات لقوم یتفکرون۔ اللہ اللہ کیا بیان کیا ہے۔ آدمی اگر آنکھوں پر ٹھیکریاں نہ رکھے، کانوں میں روئی نہ ٹھونس لے، جان بوجھ کر نگرانہ بنے تو اس کو دیندار کرنے کے لیے اتنا کافی ہے مگر ؎
نسیمِ غفلت کی چل رہی ہے امنڈ رہی ہیں بلا کی نیندیں
کچھ ایسے سوئے ہیں سونے والے کہ جاگنا حشر تک قسم ہے
غرض مصیبت بھی دیندار کے حق میں بڑی نعمت ہے اور یہی وجہ ہے کہ بزرگانِ دین مصیبت کو عزیز رکھتے تھے۔ بعض قلوب خلقۃً رقیق ہوتے ہیں اور دوسرے کو مبتلائے مصیبت دیکھ کر پگھل جاتے ہیں۔ پیغمبر صاحب نے علیہ من الصلوٰۃ اکملھا۔ شروع شروع میں انسدادِ بت پرستی کے لیے زیارتِ قبور سے منع فرمایا تھا پھر ارشاد ہوا۔ کنت نھیتکم عن زیارۃ القبور الا فزوروھا فانھا الین للقلوب۔ خشک سالی اور وبا اور آفاتِ ارضی و سماوی مثلاً شدید زلزلہ یا سخت آندھی یا بارشِ مفرط یا ژالہ زدگی وغیرہ ایسے مواقع پر بھی لوگوں کو انابت الی اللہ ہوتی ہے۔ اور بعض نفوسِ قدسی ایسے بھی ہیں کہ رہٹ چلتے دیکھا اور انقلابِ دنیا کے خیال سے ان کی حالت متغیر ہوتی ہے۔ ؎
کیا وہ دنیا جس میں ہو کوشش نہ دیں کے واسطے
واسطے واں کے بھی کچھ یا سب یہیں کے واسطے"
ابن الوقت۔ "آپ تو مجھ کو راہب بنانا چاہتے ہیں۔ آپ کی یہ تعلیم خاص کر آپ کے مذہب اسلام کے بالکل خلاف ہے۔ مرنا مسلّم ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اسی مختصر زندگی میں ہم خوش بھی رہ سکتے ہیں۔ خوشی کے بہت سے سامان ہیں اور ہم کو خوشی اور رنج دونوں کا احساس بھی ہے۔ ہمارے احساس اور سامانِ خوشی دونوں کے جمع ہونے سے اس کے سوائے اور کیا نتیجہ نکل سکتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ہم کو یہ زندگی خوشی میں بسر کرنی چاہیے اور اگر ہم موت کے خوف سے جوگیوں کی طرح بھوکے اور ننگے رہ کر مر جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دنیا لغو اور لاحاصل ہے۔ کیا حال ہوگا دنیا کا اگر سب لوگ اسی خیال کے ہو جائیں۔"
حجۃ الاسلام۔ "میں تم کو دیکھتا ہوں دنیا میں اس درجے منہمک ہو کہ تم کو دین سے کچھ لگاؤ ہی نہیں۔ اگر اسلام کی بہت سی سہولتوں میں توبہ نہ ہوتی تو میں تم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح کفارۂ خودکشی کی صلاح دیتا۔ تمہیں تو کیا یاد ہوگا مگر سورۂ بقر میں ہے۔ واذ قال موسیٰ لقومہ یا قوم انکم ظلمتم انفسکم باتخاذکم العجل فتوبوا الیٰ بارئکم فاقتلوا انفسکم ذٰلکم خیر لکم عند بارئکم۔ فرماؤ میری کس بات سے تم نے سمجھا کہ میں رہبانیت کی تعلیم کرتا ہوں اس سے کہ دنیا کے حالات میں غور کرو یا اس سے خدا کی عظمت کو اپنے ذہن میں بٹھاؤ یا اس سے کہ طبیعت میں انکسار پیدا کرو؟"
ابن الوقت۔ "کیا ایسے خیالات رکھ کر آدمی دنیا میں خوش بھی رہ سکتا ہے پھر وہ رہبانیت ہوئی یا کیا ہوئی؟"
حجۃ الاسلام۔ "اگر مذاقِ عقل صحیح ہو تو دین سے بڑھ کر کسی چیز میں خوشی ہو نہیں سکتی دنیا کی فانی، عارضی، چند روزہ، بے ثبات خوشیوں کو خوشی سمجھنا غلطی ہے جیسے ایک لڑکا کھیل میں اپنا وقت ضائع کرنے سے یا ایک جواری جوا کھیلنے سے یا ایک افیونی افیون کے عمل سے یا ایک نادان بیمار بدپرہیزی سے خوش ہوتا ہے اصلی اور پاکیزہ اور ابدی خوشی تو وہ تھی جس کے لیے پیغمبر صاحب صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اوپر اس قدر زحمت اٹھاتے کہ راتوں کو نماز میں کھڑے رہنے سے پاؤں سوج سوج جاتے۔ ساری عمر بے چھنے جو کی روکھی روٹی کبھی پیٹ بھر کر کھائی ہی نہیں۔ گرسنگی کی ایذا کو دبانے کے لیے ہمیشہ بطنِ مبارک پر پتھر باندھے رہتے تھے۔ اکثر راتیں اہلِ بیتِ نبوی پر گزر جاتیں کہ چراغ تک نہیں جلتا تھا۔ کھجور کے کھرّے بوریے پر لیٹنے سے پہلوؤں میں اور پیٹھ میں بدھیاں پڑ پڑ جاتی تھیں اور حدیث وقرۃ عینی فی الصلوٰۃ۔ میں تو آپ نے فرما بھی دیا کہ میرا جی تو نماز ہی میں خوش ہوتا ہے۔"
ابن الوقت۔ "یہ تو آپ وہی عاقبت کی خوشیوں کو پھرے دوڑے۔ میرا اعتراض تو یہ ہے کہ دین کے خیالات دنیا کی خوشی کو منغص کر دیتے ہیں۔"
حجۃ الاسلام۔ "تمہارا یہ خیال بالکل غلط ہے۔ دنیا کی خوشی اور دنیا کا رنج دونوں کا مدار اکثر انسان کا اپنا خیال ہے جس قدر دنیا اور دنیا کے تعلقات کی تم قدر و منزلت کرتے ہو اسی قدر تم دنیاوی خوشی اور رنج سے متاثر ہو سکتے ہو۔ دین جس کی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا اور دنیا کے تعلقات سب ہیچ ہیں۔ دنیاوی خوشیوں کو منغص نہیں بلکہ دنیا کی رنج اور خوشی دونوں کو انسان کی نظر میں حقیر اور ناچیز کر دیتا ہے۔ جو شخص غصے کو پی جائے، انتقام نہ لے، جھوٹ نہ بولے، غیبت نہ کرے، حریص و طماع نہ ہو، جابر و سخت گیر نہ ہو، ممسک و بخیل نہ ہو، مغرور و متکبر نہ ہو، نہ کسی سے لڑے نہ جھگڑے، نہ کسی کا حسد کرے، نہ کسی کو دیکھ کر جلے، عافیت میں شاکر مصیبت میں صابر، حسنِ خلق، بردبار، متحمل، متواضع، منکسر، مستغنی، نفس پر ضابط، قانع، سیر چشم، متوکل، ثوابِ عاقبت کا امیدوار یعنی خلاصہ یہ ہے کہ دیندار ہو۔ میں نہیں سمجھتا کہ دنیا میں اس سے بڑھ کر کسی اور کو بھی خوشی ہو سکتی ہے۔ اگرچہ وہ ہفت اقلیم کا بادشاہ ہی کیوں نہ ہو۔ ایسا شخص آپ بھی خوش اور اس سے عزیز قریب دوست آشنا بھی خوش۔ رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ۔ دنیادار آدمی تب ہی خوش رہ سکتا ہے کہ جس جس چیز کو اس کا جی چاہتا جائے فی الوقت مہیا و میسر ہوتی چلی جائے۔ مگر کسی کو ابتدائے دنیا سے آج تک یہ بات نصیب ہوئی ہے؟ یا آئندہ تا بقائے دنیا کسی کو اس بات کے نصیب ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے؟ کسی کو بھی نہیں۔ پس معلوم ہوا کہ دنیا میں کامل خوشی تو نہ ہوئی ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔ دوسرا طریقہ خوشی کے حاصل کرنے کا یہ ہے کہ طبیعت کو روکا، خواہشوں کو دبایا، حاجتوں کو کم کیا جائے۔ اور یہی ہے خلاصہ دین کی تعلیم کا جہاں تک اس کو اصلاحِ معاش سے تعلق ہے۔"
ابن الوقت۔ "ایسے بھی کوئی ہوں گے جن کی دنیا بوجہ دینداری آرام سے گزرتی ہوگی۔ مجھے تو دین فی حد ذاتہ مصیبت کا ایک پہاڑ دکھائی دیتا ہے۔ دنیا میں سینکڑوں تو مذہب ہیں اور ہر مذہب میں ایک سے ایک عقیل، ایک سے ایک خدا پرست، ایک سے ایک نیک، ایک سے ایک حق پسند، ایک سے ایک راست باز اور پھر اہلِ مذاہب میں اس طرح کا محاسدہ ہے کہ ایک دوسرے کو دیکھ نہیں سکتا۔ جس کو دیکھو اپنے ہی تئیں برسرِ حق جانتا ہے اور تمام دنیا کو گمراہ۔ نہیں معلوم آپ نے مذہب کی طرف کیوں کر اطمینان کر لیا ہے۔ میرا خیال تو یہ ہے کہ ہر شخص تقلیدی مذہب رکھتا ہے۔ ایک مسلمان اس واسطے مسلمان ہے کہ وہ اتفاق سے مسلمان کے گھر پیدا ہوا ہے۔"
حجۃ الاسلام۔ "دین کے لحاظ سے دیکھا جاتا ہے تو ہم سب کی الا ماشاءاللہ بڑی تباہ حالت ہے۔ ایسا کون سا بندہ بشر ہے جو مبتلائے گناہ نہیں۔ ہماری ہمت اس طرح کی ضعیف واقع ہوئی ہے کہ ہم اس دام میں بے پھنسے رہ نہیں سکتے۔ ہماری مجال نہیں کہ دنیاوی حکومتوں کے آگے ذرا بھی سر اٹھائیں مگر خدائے برحق، قادرِ مطلق، شاہنشاہِ دو جہاں کی حکومت کے استخفاف کو ہم نے کھیل سمجھ رکھا ہے۔ ؏
کرم ہائے تو مارا کرد گستاخ
غرض یوں تو ہر فرد و بشر سے دن رات میں ہزارہا نالائقیاں سرزد ہوتی ہیں مگر یہ سب سے بڑی نالائقی ہے کہ وہ دین کے پیرائے میں اپنی طبیعت کے پاجی پن کو ظاہر کرے۔ دوسروں کو کیا الزام دے سکتا ہوں کہ میں آپ سب سے بدتر نکھتر ہوں لیکن ان مذہبی مباحثات کو تو میں نہایت ہی حقارت کی نظر سے دیکھتا ہوں شاید میری رائے غلط ہو مجھ کو تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام کشاکش، آپس کی ضد اور تعلّی اور سخن پروری بے جا تعصب کی وجہ سے ہے۔ خیر۔ اوّل تو شامتِ نفس میں دینیات میں بہت ہی تھوڑا وقت صرف کر سکتا ہوں اور جس قدر کر سکتا ہوں وہ میرے ہی نفس کے احتساب کو کافی نہیں۔ میں مذہبی مباحثات کو ذہن میں آنے ہی نہیں دیتا۔ اگر کبھی ایسا خیال ہوا تو میں یہ کہہ کر ٹال دیا کرتا ہوں۔ ؏
تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو
اور یہی مضمون ایک جگہ قرآن مجید میں ہے۔ یا ایھا الذین آمنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم الی اللہ مرجعکم جمیعاً فینبئکم بما کنتم تعملون۔ دوسروں پر حملہ کرنے کی مصیبت سے تو یوں بچے کہ اپنی کرنی اپنی بھرنی۔ وہ جانیں ان کا کام جانے نہ میں کسی کا محتسب نہ دین کا ٹھیکے دار نہ منصبِ ہدایت پر مامور، مجھ کو کیا پڑی کہ دوسروں کے معاملات میں دخل دیتا پھروں۔ لا تزر وازرۃ وزر اخریٰ۔ رہ گئی اپنے معتقدات کی حمایت۔ سو میرے معتقدات میرے دل کو تسلی کے لیے کافی ہیں، دوسروں کو ان سے تسلی نہ ہو، نہ ہو، الغرض میری سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگوں میں مذہبی لڑائی کیوں ہوتی ہے اور کیا اس سے مفاد ہے۔ اگر تم میری صلاح مانو تو علمِ کلام کی کتاب کو تو بھول کر بھی آنکھ اٹھا کر مت دیکھنا۔ ایک بڑا نقصان جو طالب گارِ دین کو اس فن کی کتابوں سے پہنچتا ہے یہ ہے کہ اس کی طبیعت دینیات میں متشکّی ہو جاتی ہے جس ترتیب کے ساتھ میں نے تم کو دینیات میں غور کرنے کو بتایا اس کا لحاظ بھی حیرتِ اختلاف سے بچنے کے لیے مفید ہے۔ جب انسان اس بات کو نصب العین کرے گا کہ میں فانی اور بے حقیقت مخلوق ہوں اور نہیں معلوم کہ بعدِ مرگ کیا پیش آئے۔ میں نہیں سمجھتا کہ ایسا آدمی ان جھگڑوں کی طرف متوجہ ہونے کے لیے اپنی طبیعت کو حاضر پائے۔ بعض باتوں سے تو وہ بہ ایں خیال اعراض کرے گا کہ میں ان سے زیادہ اہم کام میں مصروف ہوں۔ ؎
کیا جانیں ہم زمانے کو حادث ہے یا قدیم
کچھ ہو بلا سے اپنی کہ ہیں فانیوں میں ہم
اور بعض کی نسبت شاید وہ یہ خیال کرے گا کہ اگر میری سمجھ میں نہیں بھی آتا تو میری ہی فہم کا قصور ہے۔ میں نے مناظرے اور مباحثے کی نظر سے تو کبھی کسی مذہب کی تفتیش و تلاش کی نہیں مگر ہاں یوں ہندو، عیسائی، پارسی، یہودی جو مذاہب ہمارے ملک میں مروج ہیں ان کے معتقدات کا حال معلوم ہے۔ غایت ما فی الباب یہ کہ بالتفصیل نہ سہی۔ سو جن دلائل سے مجھ کو اس بات کا اذعان ہے کہ خدا ہے۔ انھیں دلیلوں سے اس کا تیقن ہے کہ کوئی اس کا شریک نہیں۔ ہندوؤں اور پارسیوں سے تو یوں سستے چھوٹے۔ رہ گئے عیسائی اور یہودی، اس میں شک نہیں کہ ہیں اہلِ کتاب، دین بھی ہمارا ان کا ایک، اختلاف اگر ہے تو شرائع کا ہے مگر وحدانیت کو انھوں نے بھی ڈگمگا رکھا ہے۔ پس ہم کو تو اسلام کے سوائے اپنا ٹھکانا کہیں نظر نہیں آتا جس بات نے مجھ کو زیادہ تر مذہبِ اسلام کا گرویدہ کیا ہے یہ ہے کہ اسلام میں تصنع نہیں۔ پیغمبرِ اسلام نے حدِ بشریت سے بڑھ چڑھ کر اپنے لیے کسی تقدس یا کسی استحقاق کا دعویٰ کیا ہی نہیں۔ آپ پکارے کہتے تھے انما انا بشر مثلکم وما ادری ما یفعل بی ولا بکم لا املک لنفسی نفعاً ولا ضراً الا ما شاء اللہ ولو کنت اعلم الغیب لاستکثرت من الخیر وما مسنی السوء۔ جب جب آپ سے لوگوں نے معجزات دکھانے کو کہا تو آپ نے صاف انکار کیا کہ یہ میرے اختیار کی بات نہیں۔ وقالوا لولا انزل علیہ آیۃ من ربہ قل انما الآیات عند اللہ۔ وقالوا لن نؤمن لک حتیٰ تفجر لنا من الارض ینبوعاً او تکون لک جنۃ من نخیل وعنب فتفجر الانھار خلالھا تفجیراً او تسقط السماء کما زعمت علینا کسفاً او تاتی باللہ والملٰئکۃ قبیلاً او یکون لک بیت من زخرف او ترقیٰ فی السماء ولن نؤمن لرقیک حتیٰ تنزل علینا کتاباً نقرؤہ قل سبحان ربی ھل کنت الا بشراً رسولاً۔ اکثر لوگوں کا یہی خیال ہے کہ پیغمبر کو معجزات دکھانا ضرور ہے تاکہ لوگ اس کا پیغمبر ہونا تسلیم کریں لیکن میں تم سے سچ کہتا ہوں میری نظر میں معجزات کی کچھ بھی وقعت نہیں۔ میرے نزدیک پیغمبر آپ ہی سب سے بڑا معجزہ ہے۔ ؏
آفتاب آمد دلیلِ آفتاب
مثلاً یوسف علیہ السلام کا وہ مقولہ معاذ اللہ انہ ربی احسن مثوای۔ میرے قلب پر اس قدر اثر کرتا ہے کہ اگر یوسف میری آنکھوں کے سامنے مُردے کو جلا کر کھڑا کرے۔ تاہم مجھ کو ان کی خدمت میں ایسی عقیدت نہ ہوتی۔ اسی طرح اسلام کی ساری باتیں ایسی آسانی کے ساتھ سمجھ میں آتی ہیں کہ خود بخود دل ان کو قبول کر لیتا ہے۔ مثلاً توبہ۔ ظاہر بات ہے کہ اگر ہم سے کوئی قصور عمداً یا خطاءً سرزد ہو جائے سوائے افسوس اور ندامت کے ہم اس کی کچھ تلافی کر ہی نہیں سکتے توبہ کو عیسائیوں کے کفارے کے ساتھ مقابلہ کر کے دیکھو تو تم کو اس کی خوبی معلوم ہو پھر اسلام میں یہ کتنی بڑی عمدہ بات ہے کہ تکلیف مالا یطاق نہیں۔ یہود اور عیسائیوں کے احکامِ عشرہ میں یہ باتیں بھی ہیں کہ کل کے واسطے ذخیرہ مت کرو۔ اگر تمہارے داہنے کلّے پر کوئی تھپڑ کھینچ مارے بایاں کلّہ بھی اس کے سامنے کر دو کہ لے اور مار۔ اپنے جانی دشمن کے لیے اس طرح دعا کرو جس طرح اپنے اکلوتے بیٹے کے حق میں کرتے ہو۔ اس طرح کی ان ہونی باتوں کی جگہ اسلام تعلیم کرتا ہے۔ وکلوا واشربوا ولا تسرفوا انہ لا یحب المسرفین۔ قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ والطیبٰت من الرزق قل ھی للذین آمنوا فی الحیوۃ الدنیا خالصۃ یوم القیٰمۃ۔ وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ انہ لا یحب الظٰلمین۔ اب تم اپنے دل میں انصاف کر لو کہ دونوں طریقوں میں کون سا ممکن التعمیل ہے اور کون ناممکن التعمیل۔ مباحثہ اور مناظرہ تو مجھ کو پسند نہیں جیسا کہ میں نے تم سے بار بار کہا مگر یوں اپنے طور پر میں نے مذہب کے بارے میں برسوں غور کیا ہے اور اب بھی اکثر غور کرتا رہتا ہوں۔ اور جن وجوہ سے میں نے اسلام کو حق سمجھا اور جن دلائل سے میرے دل کو تسلی ہوئی ان کو میں نے اپنے بچوں کے گوش زد کرنے کی غرض سے ایک کتاب میں جمع کر رکھا ہے۔ اگر تم دیکھنا چاہو تو میں بہت خوشی سے تم کو دوں گا۔ یہ مباحثے دو چار دس پندرہ ملاقاتوں میں طے ہونے کے نہیں۔ یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ تمہاری یا دوسروں کی بھی تشفی کر سکتا ہوں۔ تشفی بدون تائیدِ الٰہی ہو ہی نہیں سکتی۔ فمن یرد اللہ ان یھدیہ یشرح صدرہ للاسلام ومن یرد ان یضلہ یجعل صدرہ ضیقاً حرجاً کانما یصعد فی السماء۔ اور میں پھر ایک بار تم سے کہتا ہوں کہ طلب گارِ دین کو عموماً اور تم کو خصوصاً نہ کسی کتاب کے دیکھنے کی ضرورت ہے اور نہ کسی سے پوچھنے کی حاجت۔ دنیا میں جدھر آنکھ اٹھا کر دیکھو دین کے دفتر کھلے پڑے ہیں بشرطیکہ چشمِ بصیرت وا ہو۔ تم ہی میں سب کچھ ہے مگر سوجھتا نہیں۔ وفی انفسکم افلا تبصرون۔ ایک بات کہنے کی اور ضرورت باقی ہے کہ اگر تمہارا نفس دین کی کسی بات سے مطمئن ہو جائے تو مجرد اس سے کہ تمہارے دل کو اس بات میں کسی طرح کا خلجان نہیں نفس کے فریب میں مت آ جانا۔ کامل کی شناخت یہ ہے کہ اعمال میں، افعال میں، اقوال میں اس کا اثر ظاہر ہو۔ دنیا میں کسی ملک کسی مذہب کا ایک متنفس بھی نہ ہے نہ ہوگا جس کو مرنے کا اذعان نہ ہو۔ مگر کتنے ہیں جن کے برتاؤ سے اس اذعان کا ثبوت ہوتا ہو پکی پکی حویلیاں بن رہی ہیں باغ نصب ہو رہے ہیں معاملات میں ڈیوڑھی ڈیوڑھی اور دونی دونی عمرِ طبعی کے وعدے کیے جا رہے ہیں۔ روزمرہ کے استعمال کی جتنی چیزیں ہیں یہاں تک کہ جوتی اس میں بھی تو پائیداری پر نظر ہے غرض توقعات کی کچھ حد و غایت نہیں اور منہ سے کہنے کو ؎
کیا بھروسا ہے زندگانی کا
آدمی بلبلا ہے پانی کا
ہم تو ایسے اذعان کے قائل ہیں نہیں۔ قولاً اقرار، عملاً انکار۔ ہاں اذعان ہے ریل کے مسافر کا جس کو ایک مقام پر اترنا ہے اوّل تو وہ سرے سے اسباب کو ضرورت سے زیادہ کھولتا پھیلاتا ہی نہیں اور جو بہ مجبوری نکالا ہے تو دو دو تین تین اسٹیشن پہلے سے گری پڑی چیز کو جمع کرتا ہے۔ شاید آخیر شب ہے اور نیند کے جھونکے چلے آتے ہیں مگر نہیں سوتا ٹکٹ معلوم ہے کہ ہے مگر بہ نظرِ مزید احتیاط پھر اس کو دیکھ کر سنبھال کر جیب میں رکھتا ہے کہ وقت پر ڈھونڈنا نہ پڑے۔ ابھی ریل کی رفتار مدھم نہیں ہوئی اور بیگ ہاتھ میں لیے مسافروں سے کود پھاند کر کھڑکی سے آ لگا۔ صریحاً دیکھ رہا ہے کہ اس سرے سے کھڑکیاں کھلتی چلی آ رہی ہیں لیکن مستعجل ہے اور پکار رہا ہے کہ صاحب ہم بھی اسٹیشن پر اتریں گے۔ کسی ایک غریب مصیبت مند آدمی کی نسبت بھی تم ایسا خیال کر سکتے ہو کہ دفعتاً تو بھلا خیر، اب سے شام تک اس کو مہلت دی جائے کہ نمازِ مغرب کے بعد تم کو مثلاً ضرور امریکہ چلنا ہوگا۔ اور وہاں تمہارے لیے ہر طرح کی آسائش کا سامان مہیا ہے اور وہ وقت پر چل کھڑا ہو۔ بھلا پھر سفرِ موت تو دوسری ہی طرح کا سفر ہے۔ جس کے لیے تو ہم میں سے کوئی بھی طیار نہیں نہ آج نہ کل نہ برس بعد نہ دس برس بعد۔"
ابن الوقت۔ "بس وہی رہبانیت تو آپ کے کلام کا ترجیع بند ہے کہ دو چار باتیں کہیں اور پھر ؏
'ما مقیمانِ کوئے دلداریم'"
حجۃ الاسلام۔ "میں ڈپٹی کلکٹر سمجھ کر تم سے ملنے نہیں آیا، نہ ڈپٹی کلکٹر سمجھ کر تم سے باتیں کر رہا ہوں۔ ساتھ کھیلا ہوں، ساتھ پڑھا ہوں، عمر میں رشتے میں تم سے بڑا ہوں، بُرا نہ ماننا، ارے احمق اتنا تو سمجھ کہ میں نے ایک بات نہیں کہی جس کا حوالہ قرآن سے نہ دیا ہو، اور نہ دیا ہو تو اب دینے کو موجود ہوں اور دین کا یہ حال ہے۔ خیر القرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم۔ اگر قرآن کی تعلیم کا نتیجہ رہبانیت ہوتا تو پیغمبر صاحب علیہ الصلوٰۃ والسلام اور صحابۂ کرام اس قدر تھوڑے عرصے میں جس کی نظیر کسی ملک کی تاریخ میں پائی نہیں جاتی اسلام کی اتنی بڑی وسیع اور زبردست سلطنت قائم نہ کر سکتے اور اس وقت کے اہلِ اسلام نہ صرف سلطنت کی وجہ سے اقوامِ روزگار میں ممتاز تھے بلکہ ان کے زمانے میں جتنے ہنرمند تھے سب میں اپنے اقران پر سبقت لے گئے تھے۔ پس اگر تعلیمِ قرآن کا نتیجہ رہبانیت ہوتا تو بزرگانِ دین دنیا کو اور دنیا بھی ایسی دنیا اس خوبی اور عمدگی اور شائستگی کے ساتھ سنبھال نہ سکتے۔"
ابن الوقت۔ "صاحب آپ بُرا مانیے یا بھلا مانیے، میری سمجھ میں تو آپ کی دو رخی بات بالکل نہیں آتی۔ ایک طرف تو آپ دنیا سے نفرت دلاتے ہیں اور دوسری طرف رہبانیت کے نام سے بھناتے ہیں۔ جن کو آپ بزرگانِ دین کہتے ہیں ان کے دنیاوی عروج کی نسبت تو کوئی کلام کر نہیں سکتا۔ ان کی ملک گیریاں، ان کی فتوحات، ان کے انتظام، ان کے ارادے، ان کی شجاعتیں چار دانگِ عالم میں مشہور رہیں مگر جس طرح کی دینداری کی آپ مجھ کو تعلیم کرتے ہیں کوئی شخص اپنی ارادت سے جو چاہے فرض کرے مگر تاوقتیکہ ان کے ظاہر حالات میں اس کے شواہد موجود نہ ہوں، دوسرا آدمی کیوں ماننے لگا؟"
حجۃ الاسلام۔ "ان کے ظاہر حالات ہی میں ان کی اسی طرح کی دینداری کے شواہد موجود تھے اور بہ افراط موجود تھے۔ جنابِ رسالت مآب کے زہد کا حال تو مشتے نمونہ از خروارے میں تم سے خوشی کے بیان میں کہہ چکا ہوں۔ قریب قریب یہی حال اکثر اصحاب کا تھا۔ عقل پر کیا پتھر پڑ گئے۔ واقعاتِ تاریخی بھی سب بھلا ڈالے۔ یاد مانِ طالب علمی میں تاریخ دانی کا وہ زور شور تھا کہ سارا کالج لوہا مانتا تھا۔ ان سے بڑھ کر کوئی کیا زہد کرے گا جنھوں نے پیغمبر کی رفاقت میں وطن چھوڑا، گھر بار چھوڑا، مال و متاع چھوڑا، عزیز و اقارب چھوڑے اور پردیس میں پرائی روٹیوں پر اور وہ بھی غیر مقرر قناعت اختیار کی۔ ان سے بڑھ کر کوئی کیا زہد کرے گا جو ہمہ وقت پیغمبر صاحب کے ساتھ جان دینے کو موجود اور صرف موجود ہی نہیں بلکہ خدا کی راہ میں جان قربان کر دینے کو فوزِ عظیم سمجھتے تھے ان سے بڑھ کر کوئی کیا زہد کرے گا۔ جن پر پیغمبر صاحب نے تجہیزِ جیش کی ضرورت ظاہر کی اور کسی نے سارا اور کسی نے آدھا مال بے تامل لا حاضر کیا۔ ان سے بڑھ کر کوئی کیا زہد کرے گا جنھوں نے وقت کے امیر المومنین کہلا کر اپنے ہاتھوں اینٹیں پاتھیں، پیوند لگے ہوئے کپڑے پہنے، نمود و نمائش کے موقعے پر پیدل چلے، خچروں پر سوار ہوئے۔ ان سے بڑھ کر کوئی کیا زہد کرے گا جنھوں نے احتساباً اپنی حاجتوں پر دوسروں کی حاجتوں کو مقدم رکھا۔ آپ بھوکے رہے دوسروں کو کھلایا۔ آپ ادھار لیے دوسروں کو غنی بنایا؟ کہیں تم تجاہلِ عارفانہ تو نہیں کرتے ورنہ سیر کی کتابوں میں اس قسم کی ہزاروں باتیں ضرور تمہاری نظر سے گزری ہوں گی۔"
ابن الوقت۔ "اتنا میں بھی سمجھتا ہوں کہ دنیا میں کوئی مذہب اختیار کرنے کے قابل ہے تو وہ اسلام ہے، اب تو آپ خوش ہوئے۔"
حجۃ الاسلام۔ "قل لا تمنوا علیّ اسلامکم بل اللہ یمن علیکم ان ھداکم للایمان ان کنتم صٰدقین۔"
ابن الوقت۔ "خیر اب دنیا کی باتیں کیجیے۔ ہمارے کلکٹر صاحب تک آپ کیوں کر پہنچے؟ کیا کیا باتیں ہوئیں؟"
حجۃ الاسلام۔ "ایسی لایعنی باتیں کرنے کی مجھے فرصت نہیں اب دوسری ملاقات میں۔"
ابن الوقت۔ "مجھ کو آپ سے بہت سی ضروری باتوں میں مشورہ لینا ہے۔"
حجۃ الاسلام۔ "ایک بار کہہ تو دیا کہ دوسری ملاقات میں۔"
ابن الوقت۔ "کب؟"
حجۃ الاسلام۔ "دیکھو ان شاءاللہ اسی ہفتے کے اندر اندر جب موقع ملے۔"
ابن الوقت۔ "بھلا یہ تو فرمائیے کہ کلکٹر صاحب سے میرے ملنے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟"
حجۃ الاسلام۔ "ان سے تو ملنے کا نام ہی نہ لینا۔ یہ بھی خدا جانے کیا اتفاق تھا کہ وہ اتنے بھی رو بہ راہ ہوئے بلکہ میں تو تم کو یہی صلاح دوں گا کہ یہ وضع تم کو کیا کسی کو بھی سازگار نہیں۔ اس کو قطعاً ترک کرو اور ابھی کچھ اور خمیازہ بھگتنا باقی ہو تو اختیار ہے۔"
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.