
Chapitre 26 sur 28
Hujjat-ul-Islam visita al señor Sharp
Hujjat-ul-Islam Calls on Mr Sharp
حجۃ الاسلام نے صاحب کلکٹر مسٹر شارپ سے ابن الوقت کی صفائی کرا دی
حجۃ الاسلام جب اپنے ضلع سے چلنے لگا تو اس کو اس بات کا خیال آیا تھا کہ ایسے وقت میرے جانے سے خواہی نہ خواہی لوگ سمجھیں گے کہ بھائی کی مدد کو آئے ہیں مگر میں کس قابل ہوں اور ان کی کیا مدد کر سکوں گا۔ بارہ دری کے لیے انھوں نے لکھا ہے۔ سو نہ اس کے خریدنے کا مجھے مقدور ہے اور نہ میں اتنے بڑے مکان میں رہ سکتا ہوں۔ اس مکان میں رہنے کو چاہئیں امیری ٹھاٹ، ساری عمر رہا پردیس، ادھر کے حکام میں کسی سے معرفت نہیں، ملاقات نہیں۔ جاتا ہوں تو میرے جانے سے ان کا کچھ مطلب نہیں نکلتا اور نہیں جاتا تو مروت تقاضا نہیں کرتی۔ خیر خدا ہی آبرو رکھنے والا ہے۔ وہ بڑا مسبب الاسباب ہے۔ عجب نہیں کہ غیب سے کوئی سامان ہو اور خدا مجھ کو بھائی ابن الوقت کی کاربرآری کا ذریعہ ٹھہرائے۔ اپنے صاحب کلکٹر سے رخصت ہونے گیا تو انھوں نے پوچھا "آپ ساری رخصت دلّی میں صرف کریں گے یا کہیں اور بھی جانے کا ارادہ ہے؟"
حجۃ الاسلام۔ "آپ کو معلوم ہے کہ میں حج کے بعد بمبئی سے کلکتہ ہو کر یہیں چلا آیا تھا۔ اس وقت دلّی جانا نہیں ہوا۔ اب تو سیدھا دلّی جاؤں گا اور غالب ہے کہ رخصت بھر وہیں رہنا ہوگا۔ ان شاءاللہ دسویں پندرھویں عریضہ خدمت میں بھیجتا رہوں گا۔"
صاحب کلکٹر۔ "نہیں معلوم ان دنوں دلّی میں حاکمِ ضلع کون ہے؟"
حجۃ الاسلام۔ "شارپ صاحب نامی کوئی صاحب ہیں۔"
صاحب کلکٹر۔ "ولیم تھیوڈور شارپ؟"
حجۃ الاسلام۔ "ڈبلیو ٹی تو ان کے نام کے ساتھ لکھا جاتا ہے۔ وہی ہوں گے۔"
صاحب کلکٹر۔ "وہ تو ڈیرہ اسماعیل خاں کی طرف تھے۔"
حجۃ الاسلام۔ "کہیں اسی طرف سے بدل کر آئے بھی ہیں۔"
صاحب کلکٹر۔ "اگر ولیم تھیوڈور شارپ صاحب ہیں تو میرے رشتے دار ہیں۔ میری خالہ زاد بہن ان کو بیاہی ہے۔ مگر میم صاحب ان دنوں ولایت میں ہیں۔ اگر آپ صاحب سے ملنا چاہیں تو میں ان کے نام چٹھی لکھ دوں۔"
حجۃ الاسلام۔ "میں صاحب کی خدمت میں ضرور حاضر ہوں گا۔ اوّل تو ہمارے شہر کے حاکم دوسرے آپ کے رشتے دار۔"
صاحب کلکٹر نے شارپ صاحب کے نام کی چٹھی اور اپنی ایک تصویر حجۃ الاسلام کو دی کہ چٹھی کے ساتھ یہ تصویر بھی صاحب کو دیجیے گا۔ چٹھی میں حجۃ الاسلام کے متعلق یہ مضمون تھا کہ میں اس علاقے کے تمام ڈپٹی کلکٹروں میں ان کو دل سے پسند کرتا ہوں۔ اس طرف تمام سرکاری محکموں میں جھڑا بنگالی بابو ہیں۔ گویا سرکاری خدمتوں کے ٹھیکے دار ہیں۔ مجھ کو اس قوم سے دلی نفرت ہے۔ انگریزی پڑھ کر یہ لوگ ایسے زبان دراز اور گستاخ اور بے ادب اور شوخ ہو گئے ہیں کہ سرکاری انتظام پر سختی کے ساتھ نکتہ چینیاں کرتے ہیں۔ اگر کہیں ان لوگوں میں ہندوستان کے بلند حصے کے باشندوں کی طرح دلی جرأت اور دلیری بھی ہوتی تو انھوں نے انگریزی حکومت کا جوا اپنی گردن سے کبھی کا اتار کر پھینک دیا ہوتا۔ مگر شکر ہے کہ ان کی ساری بہادری زبانی ہے، تاہم ان کا بڑبڑانا سخت ناگوار ہوتا ہے اور میں ہمیشہ افسوس کیا کرتا ہوں کہ میں نے ایسے خودسر نااحسان مند اور بار دل علاقے کو کیوں اختیار کیا تھا۔ حجۃ الاسلام کی وضع کے آدمی یہاں بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔ یہ اپنی پرانی وضع کو بہت مضبوطی کے ساتھ پکڑے ہوئے ہیں اور اس کو دل سے پسند کرتے ہیں اور بندر کی طرح نقل کرنے کو ذلیل کام جانتے ہیں اور میں ان کو اس رائے کی وجہ سے بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ غدر کے دنوں میں یہ عرب میں تھے لیکن نہایت بے باکی کے ساتھ جو ہر ایک سچے مسلمان میں ہوتی ہے، غدر کی نسبت اپنی رائے ظاہر کیا کرتے ہیں کہ گورنمنٹ انگریزی نے مسلمانوں کی بڑی دل شکنی کی۔ اس نے ہندو مسلمانوں کو ایک نگاہ سے دیکھا اور دونوں قوموں کی حالت کے اختلاف پر نظر نہ کی۔ وہ کیا عمدہ ایک مثال دیتے ہیں کہ حکومت یعنی سلطنت بمنزلہ ماں کے دودھ کے ہے مسلمان بجائے اس کے بچے کے ہیں جس کا دودھ حال میں چھڑایا گیا۔ اس کو دودھ کا مزا بخوبی یاد ہے اور وہ اس کے لیے پھڑکتا ہے۔ مسلمانوں کے مقابلے میں ہندو ایسے ہیں جیسے دو ڈھائی برس کے بچے کے آگے سو برس کا بڈھا۔ اس نے بھی کئی قرن گزرے ماں کا دودھ پیا تھا۔ مگر اب کیا مدت ہائے دراز سے اس کو یہ بھی خبر نہیں کہ پھیکا تھا یا میٹھا۔ کیا اگر ایک دودھ چھٹا ہوا بچہ کھچڑی کھانے میں منہ بناتا ہے تو اس پر سختی کی جائے گی کہ تو بڑے آدمیوں کی طرح چاؤ سے کیوں نہیں کھاتا؟ سینکڑوں برس سے ہندوؤں کے پاس نہ لٹریچر ہے اور نہ علم۔ ان کو انگریزی کا اختیار کر لینا کیا مشکل تھا۔ جیسے ایک برہنہ آدمی ایک لنگوٹی کی بھی بڑی قدر کرتا ہے۔ لیکن مسلمان اپنی کلاسیکل لینگوج (ام الالسنہ) عربی پر واجب فخر کرتے ہیں جس کے بدون اردو فارسی زبانیں بالکل پھیکی معلوم ہوتی ہیں۔ لاکھوں مسلمان قرآن کی بلاغت پر سر دھنتے اور اس کو زبانی یاد رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کا لٹریچر زندہ لٹریچر ہے۔ نہ سنسکرت اور لیٹن کی طرح کتابوں میں مدفون۔ ان کے علوم زمانے کے انقلاب کی وجہ سے مرجھا گئے ہیں۔ مگر مرے نہیں۔ پس اگر مسلمان انگریزی سے کنارہ کشی کرتے رہے تو ان کے پاس کنارہ کشی کرنے کی وجہ تھی۔ حجۃ الاسلام اس بات پر بڑا زور دیتے ہیں کہ ظاہر میں انصاف اسی کا متقاضی ہے کہ ہندو مسلمانوں کے جملہ حقوق برابر سمجھے جائیں۔ لیکن نظرِ غور سے دیکھا جاتا ہے تو یہ انصاف اس راجہ کے انصاف سے زیادہ تعریف کا مستحق نہیں جس نے اپنے علاقے میں تمام دھان پانچ پنسیری کے حساب سے بکوائے تھے۔ مسلمان اس ملک کے اصل باشندے نہیں۔ وہ ملک کو فتح کرنے آئے اور رہ پڑے۔ انھوں نے زمینداریوں پر قبضہ کرنے کا ایک لمحہ کے لیے بھی خیال نہیں کیا اور نہ ان کو خیال کرنے کی ضرورت تھی۔ ذرائعِ معاش میں سے ان دنوں نوکری زیادہ معزز سمجھی جاتی تھی اور وہ ان کی مٹھی میں تھی۔ زوالِ سلطنت سے معاش کا وہ ایک ذریعہ بھی ان کے ہاتھ سے جاتا رہا۔ جب کہ ہندو دوسرے تمام ذرائع پر بدستور قابض ہیں اور پھر نوکری میں آدھے کے دعوے دار۔ وہ بھی کہنے کو۔ کیوں کہ نفس الامر میں ہندو تین چوتھائی سے زیادہ نوکریوں پر مسلط ہیں۔
یہ جو کچھ میں نے لکھا کہ میں نے سمجھنے میں غلطی نہ کی ہو۔ حجۃ الاسلام صاحب کی شخصی رائے ہے۔ مجھ کو ان سے کسی کسی بات میں اختلاف بھی ہے لیکن اگر آپ ان کو بات کرنے کا موقع دیں گے تو آپ کوئی مضمون ایسا نہ پائیں گے کہ اس میں وہ معقول رائے نہ دے سکیں۔ وہ بڑے خوش تقریر آدمی ہیں اور سننے والے کو بہت جلد اپنی طرف متوجہ کر لیتے ہیں۔ ایک بات حجۃ الاسلام صاحب نے اسی قسم کی مجھ سے اور بھی کہی تھی اور وہ بھی دل کو لگتی ہوئی سی ہے وہ ہندوؤں پر اپنی قوم کو اس وجہ سے بھی ترجیح دیتے ہیں کہ مذہبِ اسلام سلف ریسپکٹ سکھاتا ہے یعنی انسان کو اس کی نظر میں معزز کرتا ہے مسلمان اس میں انسانیت کی توہین سمجھتا ہے کہ اگر کوئی ایک شخص اس کے کلّے پر طمانچہ مارے تو عیسائی کی طرح وہ دوسرا کلّہ بھی اس کے سامنے کر دے کہ لے اور مار۔ اسلام نے خدا کی توحید کو بالکل نکھار دیا ہے اور کسی طرح کا شائبہ اس میں باقی نہیں رکھا۔ مسلمان سوائے ایک خدا کے جس کو انسان دیکھ نہیں سکتا موجوداتِ عالم میں سے ارضی ہوں یا سماوی کسی چیز کی عبادت یعنی اعلیٰ درجے کی تعظیم نہیں کرتا۔ حجۃ الاسلام کے بیان کے مطابق اسلام خودداری اور بے تکلفی اور سادگی اور توکل اور صبر کا مجموعہ ہے۔ لیکن ہندو بندر اور سانپ اور گائے اور پیپل اور تلسی اور آگ اور پانی اور پتھر اور چاند اور سورج ہر چیز کے آگے ماتھا ٹیکنے کو تیار ہے۔ جس کے معنی دوسرے لفظوں میں یہ ہیں کہ آدمی سب میں ادنیٰ درجے کا مخلوق ہے اور اس کو دنیا میں ادنیٰ بن کر رہنا چاہیے۔
حجۃ الاسلام صاحب اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ مسلمان کارفرمائی اور حکومت کے لیے بنایا گیا ہے۔ جس طرح ہندو کارکنی اور اطاعت کے لیے۔ وہ کہتے ہیں خوشامد ابتذال اور دناءت کی باتیں مسلمان سے ہو نہیں سکتیں اور اگر کوئی مسلمان کرتا ہو تو جان لینا کہ مذہب میں پکا نہیں اور سرکاری خدمتوں میں مسلمانوں کی کمی کا ان کے نزدیک سبب یہ بھی ہے۔ میں تو ان کو ایسی باتوں میں اکثر چھیڑا کرتا ہوں اس غرض سے کہ یہ کچھ کہیں تو ایک دم گرم ہو کے بولے مسلمان چاہیں مٹ ہی کیوں نہ جائیں مگر ان کے دل پر سے یہ بات تو نہیں مٹے گی کہ انھوں نے چھ سو برس اس ملک میں حکمرانی کی ہے۔ بااین ہمہ حجۃ الاسلام صاحب کے خیالات گورنمنٹ انگریزی کے ساتھ نہایت درجے خیرخواہانہ ہیں اور مجھ کو کامل تیقن ہے کہ اگر وہ ۱۸۵۷ء کے غدر میں ان اضلاع کی طرف ہوتے تو اپنے بھائی ابن الوقت کے برابر یا ان سے بھی بڑھ کر سرکاری خیر خواہی کا کوئی کارِ نمایاں کرتے۔ انھوں نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے عرب میں اسلامی سلطنت کا نمونہ دیکھا ہے۔ ملک نہایت تباہی کی حالت میں ہے اور افسوس ہے کہ جس جگہ مسلمانوں کی قوم پیدا ہوئی اور جہاں ان کی سلطنت کی بنیاد پڑی اس کا یہ حال ہو کہ باوجودیکہ ہر سال بلاناغہ لاکھوں مسلمان جاتے ہیں نہ امن ہے نہ آسائش صرف دوسرے ملکوں کے صدقات پر وہاں کے لوگوں کی گزران ہے۔ وہ لوگ تنزل کے ایسے درجے پر پہنچ گئے ہیں کہ نہ صرف بدترین نمونے مسلمانوں کے ہیں بلکہ بدترین نمونے انسانوں کے۔
یہ چٹھی مسٹر شارپ کے پاس جمعے کی شام کو پہنچی۔ انھوں نے سمجھا کہ خود حجۃ الاسلام لے کر آئے ہیں اور اسی خیال میں پڑھتے کے ساتھ باہر نکل آئے مگر معلوم ہوا کہ ملاقات کے لیے وقتِ فرصت دریافت کیا ہے۔ جواب میں کہلا بھیجا کہ اوقاتِ کچہری کے علاوہ جس وقت جی چاہے۔
اگلے دن ایسے کوئی پونے سات بجے ہوں گے حجۃ الاسلام پالکی میں سے اترتے ہی تھے کہ شارپ صاحب ہوا خوری سے واپس آئے۔ دونوں نے ایک دوسرے کو اٹکل سے جان لیا۔ یوں تو شارپ صاحب کا معمول تھا کہ ہوا خوری سے آئے پیچھے کامل ایک گھنٹے بعد ملاقاتیوں کی نوبت پہنچتی تھی یا گھوڑے سے اترتے کے ساتھ ہی اردلی کو حکم دیا کہ جو صاحب پالکی میں آئے ہیں ان کو اندر بھیج دو۔ صاحب سلامت ہوئی۔ غور سے دیکھا، مہربانی سے بٹھایا اور کہا کہ "وکٹر صاحب نے چٹھی میں آپ کے ایسے تفصیلی حالات لکھے ہیں کہ میں آپ سے اجنبی محض ہو کر نہیں ملتا۔ صاحب کی رائے آپ کی نسبت بڑی عمدہ ہے اور آپ اس کے مستحق ہیں۔"
حجۃ الاسلام۔ "ان کی قدردانی اور آپ کی بندہ نوازی ہے۔ وکٹر صاحب جتنی میری قدر کرتے ہیں میں ان کی خوشنودی کی اس سے بہت زیادہ قدر کرتا ہوں۔"
شارپ۔ "ڈپٹی ابن الوقت آپ کے کیسے بھائی ہیں؟"
حجۃ الاسلام۔ "میرے تو وہ کسی طرح کے بھی بھائی نہیں مگر ہاں میری بی بی ان کی پھوپی زاد بہن ہے اس رشتے سے چاہے مجھ کو بھی ان کا بھائی سمجھ لیجیے۔"
شارپ۔ "وہی تو کہوں۔ نہ تو آپ کی ان کی صورت ملتی ہے اور ان کی وضع تو بالکل صاحب لوگوں کی سی ہے۔ آپ ٹھہرے تو ابن الوقت صاحب کے پاس ہی ہوں گے؟"
حجۃ الاسلام۔ "نہیں میں تو شہر میں ٹھہرا ہوں۔"
شارپ۔ "کیوں صاحب آپ کو تو سب خبر ہوگی ابن الوقت صاحب نے اس وضع کے اختیار کرنے میں کیا مفاد سمجھا؟"
حجۃ الاسلام۔ "بات یہ ہے کہ جن دنوں ابن الوقت کالج میں پڑھتے تھے تب ہی سے ان کو انگریزیت کی طرف میلان سا تھا بلکہ ہم لوگ ان کو چھیڑا بھی کرتے تھے مگر ان کی کیفیت تھی کہ ہر بات میں ادبدا کر انگریزی کی جانب داری کیا کرتے تھے۔ ان دنوں مجھ کو خوب یاد ہے۔ نیچرل فلاسفی، ایسٹرانومی کی کتابیں انگریزی سے ترجمہ ہو کر اورینٹل کلاسوں میں نئی نئی جاری ہوئی تھیں تو زمین کی کرویت اس کی گردش، کششِ ثقل، نظامِ شمسی وغیرہ مسائل سے ہم سب کو شروع میں اچنبھا سا ہوتا تھا اور اکثر ابن الوقت کو ہم لڑکے باتوں میں بند کر دیتے مگر یہ شخص قائل نہ ہوتا اور ہار کر کہتا کہ اگرچہ میں ان کو سمجھا نہیں سکتا لیکن انگریزی اصول غلط ہو ہی نہیں سکتے۔ الغرض طفولیت سے اس شخص کے مزاج کی افتاد اسی طرح کی واقع ہوئی ہے۔ اب غدر میں اور اس کے بعد نوبل صاحب سے اختلاط ہوا زیادہ، میرے نزدیک تو اونگھتے کو ٹھیلتے کا بہانہ ہو گیا۔ مفاد و مطلب پر نہ پہلے نظر تھی نہ اب ہے۔"
شارپ۔ "آپ کی رائے بالکل صحیح معلوم ہوتی ہے اور بدھ بھی ملتی ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ بڑائی کے مارے اس وضع کو اختیار کیا ہے۔"
حجۃ الاسلام۔ "بڑائی تو خدا کی ہے۔ مگر خدا نے آپ لوگوں کو دنیاوی بڑائی دی ہے تو آپ کی چیزوں میں بھی بڑائی کی شان دی ہے، یہاں تک کہ لباس میں، تو بلاشبہہ جو اس لباس کو پہنے گا لوگوں کی نظر میں بڑا دکھائی دے گا مگر میں نہایت وثوق کے ساتھ آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ شیخی، غرور، تکبر، خود پسندی یہ باتیں تو بھائی ابن الوقت کو چھو نہیں گئیں۔ جس نے کہا جھک مارا۔ میں ان کے ساتھ بچپن سے کھیلا ہوں، پڑھا ہوں، رہا ہوں، مجھ سے بہتر کوئی ان کی خصلت اور عادت کو نہیں جان سکتا۔ غدر سے ان کے مزاج میں کچھ شیخی سما گئی ہو تو خبر نہیں ورنہ غدر سے پہلے تک تو ان میں کہیں شیخی کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ اگر یہ خیال کیا جائے کہ نوکری اور زمینداری کے برتے پر شیخی میں آ گئے تو غدر سے پہلے بھی وہ گرے پڑے نہ تھے۔ نواب معشوق محل بیگم کی سرکار میں تمام سیاہ و سفید کے مختارِ کل تھے اور خاندانی تعزز اور مقدرت دونوں کے لحاظ سے اس وقت بھی عمائدِ شہر میں سمجھے جاتے تھے۔ کیا ان کے پاس متعدد نوکر نہ تھے؟ متعدد سواریاں نہ تھیں؟ متعدد حویلیاں نہ تھیں؟ چار یا پانچ بنگلوں کا مول تو ان کی بارہ دری ہی کھڑی ہے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ تنخواہ بھاری نہ تھی۔ سو بادشاہی سرکاروں میں ان کی کیا تخصیص ہے سبھی کی تنخواہیں تھوڑی تھیں مگر انعام و اکرام ملا کر دس روپے کا نوکر ایسی اچھی شان سے رہتا تھا کہ ہمارے یہاں سو کے تنخواہ دار کو بھی وہ بات نصیب نہیں۔ غرض شیخی کا الزام تو نرا ڈھکوسلا ہے۔ خودداری کہیے تو ایک بات بھی ہے لیکن خودداری میرے نزدیک لازمۂ شرافت ہے۔ آدمی آدمی سب برابر تاہم انتظامِ الٰہی اس کا مقتضی ہے کہ ان میں مراتب تفرقہ ہو۔ کوئی باپ ہے، کوئی بیٹا ہے۔ کوئی حاکم ہے کوئی محکوم، کوئی آقا ہے کوئی نوکر، کوئی امیر ہے کوئی غریب۔ اگر خودداری نہ ہو تو دنیا کا انتظام درہم برہم ہو جائے۔ خودداری کے معنی یہ ہیں کہ آدمی جس درجے کا ہو اپنے تئیں اس درجے کے مناسب رکھے۔ کسی کو خدا نے سواری کا مقدور دیا ہے تو ضرور ہے کہ وہ ضرورت کے وقت سواری سے کام لے۔ پھر ایک بات اور ہے کہ انگریز اور ہندوستانی دونوں قسم کے حاکم ہیں۔ مگر آپ لوگوں کی اور ہماری حکومت میں بڑا فرق ہے۔ آپ لوگ ساری عمر ہندوستان میں رہیں پھر بھی اجنبی کے اجنبی۔ برخلاف ہم لوگوں کے کہ ہم ٹھہرے اس ملک کے باشندے، رشتے داری، قرابت داری، دوستی، قوم، مذہب اور راہ و رسم طرح طرح کے تعلقات ہمارے رعایا کے ساتھ ہیں۔ پس کام کرنے میں جو آزادی آپ لوگوں کو حاصل ہے ہم کو خواب میں بھی میسر نہیں۔ ہم لوگوں کی حالت بڑی نازک ہے اور بھائی ابن الوقت پر ایک سختی اور ہے کہ اپنے ہی شہر میں ان کو کام کرنا پڑا اور کام بھی تحقیقاتِ بغاوت کا کہ بہ حسابے کوئی متنفس اس سے بری نہیں۔ انھوں نے اپنی صفائی کی حفاظت کے لیے یا خودداری کے طور پر ملنے جلنے میں کمی کی ہوگی اس کو لوگوں نے شیخی سے تعبیر کر لیا مگر یہ تو فرمائیے آپ نے بھی ان کی کوئی شیخی دیکھی؟"
شارپ صاحب نے دریا گنج کا قصہ بیان کیا۔
حجۃ الاسلام۔ "ہر چند وکٹر صاحب میرے حال پر مہربانی فرماتے ہیں اور میں ان کا ادب بھی کرتا ہوں اور نہ صرف ان کا بلکہ کل حکامِ انگریزی کا۔ کیوں کہ میں نے سمجھ لیا ہے کہ یہ برتری ان کو خدا نے دی ہے اور خدا کے کلامِ پاک میں حاکمِ وقت کی اطاعت کا حکمِ صریح موجود ہے لیکن گستاخی معاف اگر دریا گنج کے نکڑ پر بھائی ابن الوقت کی جگہ پر آپ یا وکٹر صاحب مجھ کو اچانک مل گئے ہوتے تو میں بھی وہی کرتا جو بھائی ابن الوقت نے کیا اور میں یقین کرتا ہوں کہ وکٹر صاحب کے ذہن میں ایک لمحہ کے لیے بھی شبہ نہ گزرتا کہ میں نے گستاخی کی۔"
شارپ۔ "ہم بھی آپ کی نسبت ایسا شبہ نہ کرتے کیوں کہ آپ ہندوستانی ہیں اور ہندوستانی وضع رکھتے ہیں۔ لیکن آپ کے بھائی ہندوستانی ہو کر صاحب لوگ بننا چاہتے ہیں اور چاہے گستاخی کے ارادے سے نہ ہو مگر ہم لوگوں کو ان کی تمام باتوں پر گستاخی کا احتمال ہوتا ہے ان کی وجہ سے ہم کو دوسرے ہندوستانیوں سے ملنے میں بڑی مشکل پیش آتی ہے۔ یہ لباس ہمارا قومی شعار ہے اور اگر کوئی ہندوستانی ہمارے جیسے کپڑے پہنے تو ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری نقل کرتا ہے یا ہم کو چھیڑتا ہے اور چڑاتا ہے۔ کوئی ہندوستانی ہمارے لباس کو جس میں اس کو کسی طرح کی آسائش نہیں بے وجہ اختیار کرے گا اور سوائے اس کے کہ اس کے دل میں ہمارے ساتھ برابری کا داعیہ ہو اور کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ یہ ساری تدبیر انگریزوں کو ذلیل اور ان کی حکومت کو ضعیف اور ان کے رعب کو بے قدر کرنے کی ہے، آپ لوگ بھی اپنے سے کم درجے والے کو برابری کی حالت میں نہیں دیکھنا چاہتے تو ہم اپنی رعیت کو جسے ہم نے بزورِ شمشیر زیر کیا ہے کیوں اپنی برابری کرنے دیں گے؟ آج کو تو ابن الوقت صاحب ہیں کل کو ایک محرر پھر ایک چپراسی پھر ایک قلی سب ہماری نقل کریں گے، اس کے یہ معنی کہ ہم سلطنت سے دست بردار ہو کر ولایت کا راستہ لیں۔ نہیں نہیں ایسا ہوا ہے نہ ہوگا اور چونکہ میں حاکمِ ضلع ہوں میرا فرض ہے کہ حکومتِ انگریزی کے مقابلے میں کسی کو سر نہ اٹھانے دوں۔ صدر والے اندھے ہیں۔ ان کو لوگوں سے واسطہ نہیں لیکن ان کو سمجھایا جائے گا۔ صرف نوبل صاحب کے خیال سے میں نے اب تک درگزر کی لیکن اب میں دیکھتا ہوں تو سخت رپورٹ کرنے کی ضرورت ہے آپ اگر اپنے بھائی کو سمجھا سکیں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا۔"
حجۃ الاسلام۔ "میں آپ سے سچ عرض کرتا ہوں کہ اس گھڑی تک مجھ سے اور بھائی ابن الوقت سے تبدیلِ وضع کے بارے میں تحریراً تقریراً کوئی بات نہیں ہوئی جب اوّل اوّل انھوں نے اپنی وضع بدلی میرے پاس دلّی سے خط پر خط آنے شروع ہوئے مگر مجھ کو ابن الوقت کی طبیعت کا ابتدا سے حال معلوم تھا اور میں خوب جانتا تھا کہ یہ شخص کسی کے سمجھائے سے سمجھنے والا نہیں۔ میں نے ایک کان تو کیا بہرا اور دوسرا کیا گونگا اور خبر نہ لی کس کو بلاتے ہیں۔ تبدیلِ وضع کے پیچھے ساری دنیا نے تو اس شخص کو ملامت کی کرسٹان کہا، بے دین کہا اور اب تک کہے جاتے ہیں۔ برادری سے نکال دیا، کوئی اس کے ہاتھ کا چھوا پانی تھوڑا ہی پیتا ہے، کنبہ چھوٹا، رشتے دار چھوٹے، دوست آشنا چھوٹے، غرض رسوائی اور فضیحت کا کوئی درجہ باقی نہیں رہا لیکن یہ عزیز نہ سمجھا پر نہ سمجھا۔ اب فرمائیے کہ کہنے کا کیا محل اور سمجھانے کا کون سا موقع ہے۔ وہ تو وہ، لوگ تو ہم لوگوں کے ساتھ ملنے میں بھی مضائقہ کرتے ہیں۔ میرے لڑکے کی نسبت کا ایک جگہ پیام تھا۔ بہت دنوں بات لگی رہی۔ طرفِ ثانی کو بھی دل سے منظور تھا۔ مگر آخر جواب دیا کہ ہمارے یہاں چار لڑکیاں بیاہنے کو بیٹھی ہیں۔ چاروں کی تمہارے یہاں کھپت ہو سکتی تو مضائقہ نہ تھا۔ ایک کی تمہارے یہاں کر کے ہم کو سارے شہر میں نکو بننا پڑے گا۔ اس سے آپ قیاس کر سکتے ہیں کہ ہندوستانیوں کی سوسائٹی میں ہم لوگوں کی کس قدر بے عزتی ہو رہی ہے مگر کیا کریں کچھ اپنے اختیار کی بات نہیں۔ میں تو اسی غصے کے مارے دلّی نہ آتا تھا لیکن بھائی ابن الوقت کی طرح وطن اور رشتے داروں کو چھوڑا نہیں جاتا۔ بھائی ابن الوقت کی والدہ تو ان کو چھوٹا سا چھوڑ کر مر گئی تھیں، ان کی پھوپی نے یعنی میری ساس نے پالا۔ ان کی تبدیلِ وضع سے پھوپی کے دل پر جو صدمہ ہوا ہے بس عرض کرنے کے قابل نہیں۔ دو برس سے وہ مجھ کو بلا رہی تھیں پر میں نے آنے کی حامی نہ بھری اب جو سنا کہ بھائی ابن الوقت پر قرض خواہوں کا نرغہ ہے اور بارہ دری بیچنے کو ہیں تو میں نے زیادہ بے رخی کرنا خلافِ شیوۂ انسانیت سمجھا، چلا آیا۔"
شارپ۔ "ابن الوقت صاحب اور قرض دار۔"
حجۃ الاسلام۔ "قرض دار بھی ہزار دو ہزار کے نہیں۔ دس ہزار سے کچھ زیادہ ہی زیادہ تو گڑ والوں کا ہے۔"
شارپ۔ "ہم تو سنتے تھے کہ ابن الوقت صاحب کے پاس بڑا سرمایہ ہے ساری دولت تو انھوں نے بیگم صاحبہ کی سمیٹی اور تحقیقاتِ بغاوت میں بھی بہت کچھ پیدا کیا۔"
حجۃ الاسلام۔ "بھلا آپ کی عقل قبول کرتی ہے کہ انسان کے پاس سرمایہ ہو اور وہ مہاجنوں کا بیاج بھرے اور ایسے مکان کو بیچنا چاہے جو اس کے بزرگوں کی حشمت اور ثروت کی یادگار ہے اور نوکری میں کچھ پیدا کیا ہوتا تو آپ کی ناخوشی اعلیٰ ادنیٰ سب کو معلوم ہے دینے والے کبھی کے امنڈ پڑے ہوتے۔ غرض بھائی ابن الوقت کے بارے میں آپ کو جتنی خبریں پہنچیں ان میں رتی برابر تو سچ نہیں۔ شیخی باز کہہ دیا، بالکل بے جوڑ، مالدار بنا دیا سر تا سر غلط، مرتشی بنا دیا، تمام تر بہتان، بھلا اور زیادہ نہیں تو گڑ والوں کا بہی کھاتا منگوا کر ایک نظر دیکھیے۔ جھوٹ سچ سب آپ پر منکشف ہو جائے گا۔"
شارپ۔ "بھلا پھر ابن الوقت صاحب اس قدر بدنام کیوں ہیں؟ ہم نے تو کسی کے منہ سے ان کی بھلائی نہ سنی۔"
حجۃ الاسلام۔ "آپ کو ہندوستانیوں کے خصائلِ مزاجی سے بخوبی آگاہی نہیں۔ ہم لوگوں میں اس طرح کا حسد ہے کہ ایک کو ایک کھائے جاتا ہے۔ اور قاعدہ ہے کہ جب کسی قوم میں ادبار آتا ہے تو حالت بگڑنے سے پہلے قوم کی طبائع بگڑ جاتے ہیں۔ بھائی ابن الوقت کی حالت محسود ہونے کی ہے۔ غدر لوگوں کے حق میں عذاب تھا۔ اور ان کے حق میں رحمت اوروں کے لیے مصیبت تھا ان کے لیے موجبِ فلاح و برکت۔ ہندوستانیوں کے نزدیک اس سے بڑھ کر اور کیا تصور ہوگا کہ ان میں کا ایک شخص غدر کی تمام آفتوں سے محفوظ رہا۔ سرکار نے اس کی خیر خواہی کی قدر کی۔ بڑی سے بڑی خدمت دی، جاگیر دی اور حکام لگے اس کی خاطر مدارات کرنے۔"
شارپ۔ "خیر کچھ ہی ہو میں تو اس کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ کوئی ہندوستانی انگریزوں کی نقل کرے۔"
حجۃ الاسلام۔ "مجھ کو بھی بہت ہی زبوں معلوم ہوتا ہے۔ بھلا ہوا کہ آپ ادھر بنگالے کی طرف نہ ہوئے وہاں کے لوگ تو نقل کے علاوہ چھیڑتے بلکہ چڑاتے بھی ہیں۔"
شارپ۔ "وکٹر صاحب بھی وہاں سے بہت ناراض ہیں اور وہاں کے لوگوں کی بہت شکایت لکھتے ہیں۔"
حجۃ الاسلام۔ "انگریزی پڑھ پڑھ کر وہ لوگ ایسے بے باک ہو گئے ہیں کہ کسی حاکم کی کچھ حقیقت نہیں سمجھتے۔ کتنا ہی پھونک پھونک کر پاؤں رکھیے مگر وہ بدون گرفت کیے نہیں رہتے۔ قانون کی تو پوری پوری اطاعت کرتے ہیں لیکن کوئی حاکم چاہے کہ بے ضابطہ کوئی کارروائی کرے کیا مجال۔ ولایت تک اس کے دھوئیں بکھیر کر بس نہ کریں۔ ان اضلاع میں دیسی اخبار ایسے پھیل پڑے ہیں جن کا شمار نہیں جس کے اخبار کو کھول کر دیکھیے شروع سے آخر تک گورنمنٹ کی مذمت، حکام کی ہجو اور اس پر بھی بند نہیں ناولوں کے ذریعے سے فضیحت کریں۔ تھیٹروں میں نقلیں نکالیں۔ سوانگ بنا بنا کر سرِ بازار پھرائیں۔ یہاں تو کل ہی جامع مسجد سے نماز پڑھ کر آ رہا تھا، دیکھتا کیا ہوں کہ ایک انگریز گھوڑے پر سوار چلا جا رہا ہے اور لوگ ہیں کہ دو طرفہ کھڑے ہو ہو کر سلام کرتے جاتے ہیں۔ میرے ساتھ اسی طرف کا ایک خدمت گار ہے وہ میرے پیچھے تھا۔ یہ کیفیت دیکھ کر اس کو سخت حیرت ہوئی اور کسی سے پوچھا کیوں جی یہ کون صاحب ہیں جن کو لوگ اس طرح پر سلام کر رہے ہیں اور جب اس نے سنا کہ یہ سڑک کا کوئی ٹھیکے دار ہے تو اس کو اور بھی تعجب ہوا۔ مگر پھر لوگوں نے اس کو سمجھا دیا کہ اس طرف انگریزوں کی حکومت کا یہی رنگ ہے۔ کوئی انگریز ہو اس کو سلام کرنا چاہیے اور نہ کرو تو بعضے تو ٹوک دیتے ہیں اور بعضے ٹھوک بھی دیتے ہیں۔"
شارپ۔ "پھر ان اضلاع میں حکومت کس چیز کا نام ہے؟"
حجۃ الاسلام۔ "ہمارے یہاں صرف قانونی اختیارات کے عمل میں لانے کا نام حکومت ہے۔ اس میں بھی اس قدر پتے کو مارنا پڑتا ہے کہ بس جو کرتا ہے اسی کا جی جانتا ہے۔ آپ گھبرائیے نہیں اب انگریزی کا چرچا ان اطراف میں بھی ہو چلا ہے کوئی دن کو یہ بھی بنگالہ ہوا جاتا ہے۔"
شارپ۔ "کچھ پروا کی بات نہیں اس وقت تک ہماری سروس کی میعاد تو ہو چکے گی مگر یہ تو کہیے آپ کو انجام کیا معلوم ہوتا ہے؟"
حجۃ الاسلام۔ "انجام کی خبر تو خدا ہی کو ہے۔ یہ باتیں بڑے لوگوں کے سوچنے کی ہیں۔ کیا میں اور کیا میری رائے۔"
شارپ۔ "بھلا پھر بھی کیا ہوا۔ ہر ایک انسان رائے تو رکھتا ہے صحیح ہو یا غلط۔"
حجۃ الاسلام۔ "خیر آپ پوچھتے ہیں تو میں عرض کرتا ہوں کہ میرے نزدیک انگریزی تعلیم کا یہ نتیجہ تو ایک نہ ایک دن ضرور ہونا ہے کہ گورنمنٹ کا گنگا جمنی رنگ کہ کسی قدر انگریزی ہے اور کسی قدر ایشیائی اور جس کے لیے یوریشین کا لفظ نہایت مناسب ہے اور ہم اپنی زبان میں ایسا لفظ بنانا چاہیں تو مغلئی اور انگریزی کو ملا کر مغریزی کہہ سکتے ہیں۔ غرض گورنمنٹ کا یہ دوغلا پن تو باقی رہتا نظر نہیں آتا۔ ہندوستان اور ولایت میں جو پرلے درجے کی مغائرت اور اجنبیت تھی یوماً فیوماً کم ہوتی چلی جاتی ہے اور اس کے چند در چند اسباب ہیں۔ انگریزی تعلیم۔ انگریزی اور دیسی اخباروں کی کثرت، ڈاک، ریل، تار، سفرِ ولایت کی سہولت، ہندوستانیوں اور انگریزوں دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے جاننے اور پہچاننے کا شوق۔ غرض جس قدر ہندوستانیوں کی آنکھیں کھلتی جاتی ہیں اسی قدر ان کے حوصلے بڑھتے جاتے ہیں۔ انجام کار ہندوستانی ضرور خواہش کریں گے کہ ہوم گورنمنٹ اور انڈین گورنمنٹ دونوں کا ایک رنگ ہو اور ولایت میں جو حقوق رعایائے سلطانی ہونے کی حیثیت سے آپ لوگوں کے تسلیم کیے گئے ہیں اور جو اختیارات آپ لوگوں کو دیے گئے ہیں وہی حقوق اس ملک میں ہندوستانیوں کے تسلیم کیے جائیں اور وہی اختیار ان کو ملیں۔"
شارپ۔ "درخواست تو معقول ہے کیوں کہ ۱۸۵۷ء کے غدر سے ہندوستانیوں نے اپنی وفاداری کا بڑا عمدہ ثبوت دیا ہے۔"
حجۃ الاسلام۔ "غدر میں رعیت کو آپ ناحق سانتے ہیں۔ غدر سے اور رعیت سے کیا تعلق؟ غدر کیا آپ کی فوج نے، رعیت کیوں فوج کی ذمے دار ہونے لگی؟ رعیت عبارت ہے رئیسانِ بااقتدار سے بہ حیثیتِ مجموعی تجارت پیشوں سے بہ حیثیتِ مجموعی، اہلِ حرفہ سے بہ حیثیتِ مجموعی، تمام رعایا کو بھلا باغی کون ٹھہرا سکتا ہے؟ آپ کسی ایک گروہ کا نام لیجیے کہ اس نے بہ حیثیتِ مجموعی تمام ملک میں بغاوت کی ہے۔ جناب بہ حیثیتِ مجموعی تو آپ کی فوج نے بھی بغاوت نہیں کی۔ بغاوت ایک جاہلانہ شورش تھی خاص خاص لوگوں کی، خاص خاص وجوہ سے، خاص خاص مقامات میں، اور ایسی شورشیں ولایت میں بھی اکثر ہوتی رہتی ہیں۔ اور اگر خدانخواستہ رعایا نے بہ حیثیتِ مجموعی بغاوت کی ہوتی تو معاذاللہ وہ طوفان کسی کے روکے رکتا بھی؟"
شارپ۔ "خیر جی وہ غدر تو گیا گزرا ہوا اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کا ہونا انگریزی گورنمنٹ کے حق میں مفید ہوا کیوں کہ ہندوستانیوں کے دل میں یہ بھی اک ارمان تھا سو نکل گیا۔ ہم لوگ ہمیشہ بلوے اور ہنگامے کے نام سے ڈرتے تھے اب معلوم ہوا کہ اس ملک میں بلوہ اور ہنگامہ بچوں کی بیچا ہے۔ سارے ملک سے ہتھیار رکھوا لیے گئے ہیں اور گورنمنٹ پہلے سے بہت زیادہ قوی اور مطمئن ہے مگر آپ کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ بغاوت کا مادہ دلوں میں موجود ہے اور یہ ضرور پھر ایک نہ ایک دن اپنا رنگ لائے گا۔ کس طرح کے لوگ ہیں کہ غدر کی وجہ سے اتنی آفتیں نازل ہوئیں اور پھر باز نہ آئے۔ ان کے لیے تو حقیقت میں خالص ایشیائی حکومت چاہیے۔ اسی کے یہ ہمیشہ خوگر ہیں اور اسی سے یہ ٹھیک بھی رہتے ہیں۔"
حجۃ الاسلام۔ "محالِ عقل ہے کہ برٹش گورنمنٹ ایسی اجلی اور مہذب اور شائستہ گورنمنٹ ہو کر وحشی اور بے ہودہ اور نالائق گورنمنٹوں کا طریقہ اختیار کرے۔"
شارپ۔ "پھر آپ لوگ برٹش گورنمنٹ کی جیسی چاہیے قدر کیوں نہیں کرتے؟"
حجۃ الاسلام۔ "تمام ہندوستان میں کسی مذہب کسی قوم کا ایک متنفس بھی ایسا نہیں جو برٹش گورنمنٹ کو تہِ دل سے عزیز نہ رکھتا ہو۔ ہم لوگ نیم وحشی جاہل نامذہب جو کچھ ہیں سو ہیں مگر باؤلے نہیں کہ اپنے نفع و نقصان میں امتیاز نہ کر سکیں۔ امن اور آسائش اور آزادی اور انصاف اور جان اور مال اور مذہب یعنی تمام حقوق کی حفاظت اور فلاح اور بہبود جو انگریزی عملداری میں ہے ہم سب سمجھتے ہیں اور سب کے لیے پہلے خدا کے اور خدا کے بعد گورنمنٹ کے بہت بہت شکر گزار ہیں۔ ہم نے ایشیائی گورنمنٹ کی مصیبت نہیں جھیلی تو بھی اس کی حقیقت سے ہم ناواقف نہیں۔ ہم نے بزرگوں سے بہت سے دردناک افسانے سنے ہیں اور ایشیائی گورنمنٹ کا نمونہ اگرچہ برٹش گورنمنٹ کے طفیل پورے پورے نہیں مگر ناقص اور ادھورے جا بجا دیسی ریاستوں میں اب بھی موجود ہیں اور ہم میں کے بہت لوگوں کو دوسرے ملکوں میں جانے اور رہنے کا اتفاق ہوتا ہے۔ غرض پردے میں بیٹھنے والی عورتیں تک جانتی ہیں کہ انگریزی عمل داری کے برابر روئے زمین پر کہیں آرام نہیں۔"
شارپ۔ "آپ ہی یہ بھی کہتے ہیں اور آپ ہی کے بیان سے یہ بھی مستنبط ہوا کہ لوگ انگریزی عمل داری سے خوش نہیں۔"
حجۃ الاسلام۔ "میری زبان سے ایسے الفاظ شاید نکلے ہوں مگر خیر مطلب ایک ہی ہے۔ بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں گنتی کے چند آدمی پولیٹیکل باتوں کے سوچنے سمجھنے کی لیاقت رکھتے ہیں اور وہ چند آدمی بھی اکثر بلکہ سب سرکار کے بنائے تیار کیے ہوئے ہیں جنھوں نے سرکاری کالجوں میں تعلیم پائی اور ان کی دو سے چار آنکھیں ہوئیں۔ غرض پولیٹیکل خیالات اس زمانے کی جدید تعلیم کے نتیجے ہیں۔ جوں جوں تعلیم کا رواج ہوتا جاتا ہے پولیٹیکل خیالات کی کثرت ہوتی جاتی ہے۔ قومی اتفاق جس کو آپ نیشنلٹی کہتے ہیں، نہ ہندوستان میں اب ہے اور نہ آئندہ اس کے قائم ہونے کی امید۔ نہ سارے ہندوستان کا کبھی ایک مذہب ہوگا اور نہ کبھی یہاں کے باشندے ایک نیشن بنیں گے۔ پس ناراض و ناخوش جو کچھ سمجھیے نئے تعلیم یافتہ کہ یہی لوگ اخباروں میں لیکچروں میں اکثر جلی کٹی کہتے رہتے ہیں۔ سو ان کی ناراضامندی اور ناخوشی اور بھی ہرگز مخالفانہ اور باغیانہ نہیں ہے۔ بلکہ اسی قسم کی جیسے آپ کے عملوں میں سے کوئی شخص اپنے تئیں ترقی کا مستحق سمجھتا ہے اور اس کو اس کی خواہش کے مطابق نہیں ملتی۔ آپ فرماتے ہیں کہ غدر کے بعد بھی لوگ باز نہ آئے۔ سو جناب من غدر کے بعد سے تو ہندوستانی اور بھی شیخی میں آ گئے۔ ان کی توقعات کی کچھ حد نہ رہی۔ کہتے ہیں غدر میں ٹٹے گھسٹے برباد ہوئے مگر خدا نے کمپنی سے پیچھا چھڑایا۔ سوداگر لکھ پتی کروڑپتی سہی مگر آخر ہے تو سوداگر جس نے ہر پیسے میں سے کچھ کوڑیاں بچا بچا کر دولت جمع کی ہے۔ اس میں بادشاہ کی سی سیر چشمی اور فیاضی کہاں؟ اور پھر سوداگر کے علاوہ ملک کے ٹھیکے دار اور ٹھیکہ بھی میعادی۔ ان کو بادشاہ کی طرح رعیت کی پرداخت کا خیال کیوں ہونے لگا تھا غرض کچھ ملے یا نہ ملے (اور کیوں نہ ملے، ملے گا ہی) لوگ تو بڑی بڑی امیدیں لگا رہے ہیں۔ ملکہ کو دیکھا بھالا نہیں اور دیکھنے کی امید بھی نہیں مگر خدا جانے کیا بات ہے کوئی دل نہیں جس میں ملکہ کے نام کے ساتھ جوش نہ پیدا ہوتا ہو۔"
شارپ۔ "اگر یہ صرف بنگالی بابوؤں کا غل ہے تو کچھ ہونا ہوانا نہیں۔ ان کے دماغ میں یہ خبط سمایا ہے کہ صرف ٹوٹی پھوٹی انگریزی پڑھ لینے سے ہم بھی یورپینز کی طرح کے آدمی ہیں اور ہمارے ساتھ یورپینز کی سی مدارات ہونی چاہیے۔ سو سرے سے یہ یورپینز کی طرح کے آدمی ہی نہیں، یورپینز کی طرح ان میں نیشنلٹی نہیں، پبلک اوپینین نہیں، آزادی نہیں، روشن ضمیری نہیں، جفاکشی نہیں، استقلال نہیں، جرأت نہیں، سچائی نہیں، سچ کی تلاش نہیں، یک دلی نہیں، اتفاق نہیں۔"
حجۃ الاسلام۔ "یہ آپ کا فرمانا بالکل درست ہے۔ مگر لوگوں میں انگریزیت آتی چلی ہے اور گورنمنٹ بھی آہستہ آہستہ ہندوستانیوں کو اختیارات دیتی جاتی ہے ابھی غدر کو کے دن ہوئے گورنمنٹ کی شان ہی دوسری ہو گئی ہے۔"
اس کے بعد شارپ صاحب نے سامنے میز پر ٹائم پیس کو دیکھا تو حجۃ الاسلام نے کہا کہ "میں آپ سے معافی چاہتا ہوں کہ آج میں نے آپ کا بہت سا قیمتی وقت صرف کرا دیا۔"
شارپ۔ "مجھ کو آپ کی ملاقات سے بڑی خوشی ہوئی اور جیسا کہ وکٹر صاحب نے لکھا ہے آپ بڑی معلومات اور عمدہ رائے کے آدمی ہیں اور مجھ کو ہمیشہ آپ کی ملاقات سے خوشی ہوگی۔ میں وکٹر صاحب کو بڑی شکرگزاری لکھوں گا اور میں آپ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے اپنے بھائی ابن الوقت صاحب کے بارے میں بالکل سچی سچی خبر دی۔ ورنہ مجھ کو لوگوں نے ان سے بہت ہی بدظن کر دیا تھا۔"
حجۃ الاسلام۔ "آپ کی اس قدر عنایت دیکھ کر مجھ سے بھی صبر نہیں ہو سکتا اور میں بہ منت آپ سے التماس کرتا ہوں کہ آپ بھائی ابن الوقت کی طرف سے دل صاف کر لیجیے۔"
شارپ۔ "میں نے تمام غلط خیال کو دل سے نکال ڈالا اور میں افسوس کرتا ہوں کہ مجھ سے ان کے بارے میں غلطی ہوئی جو باتیں لوگوں نے مجھ سے کہیں ان کے ظاہر حال سے ان کی تصدیق ہوتی تھی۔ میں نے ان سے سب کام نکال لیا تھا اور ہر چند جنٹ صاحب کمشنر نے لکھا ہے کہ بغاوت کا محکمہ رازداری کا محکمہ ہے اور اس کے فیصلے عام قوانین کے تابع نہیں۔ محکمۂ بغاوت کی مثلیں دوسرے عملوں کو مت دیکھنے دو اور جن مقدمات میں ابن الوقت کارروائی کر چکے ہوں انھیں سے فیصلہ کراؤ۔ مگر میرا ارادہ ابن الوقت کو کام دینے کا نہ تھا اور امروز و فردا میں رپورٹ کرتا۔ مگر آپ نے جو حالات بیان کیے ان سے میری رائے بالکل بدل گئی۔ آج ہی ڈپٹی صاحب کو ان کے کام پر مسلط کر دوں گا۔"
حجۃ الاسلام۔ "کام نکال لیے جانے کی تو ان کو مطلق شکایت نہیں۔ ان کو اگر شکایت ہے تو اس بات کی ہے کہ آپ نے ان کو صفائی پیش کرنے کا موقع نہیں دیا ورنہ یہاں تک نوبت ہی نہ پہنچتی۔"
شارپ۔ "شکر ہے کہ میرے ہاتھ سے ان کو کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچا۔"
حجۃ الاسلام۔ "یہ تو نہ فرمائیے۔ سوسائٹی میں ان کی بڑی بے وقعتی ہوئی۔"
شارپ۔ (ذرا تامل کر کے) "میں سوچ کر اس کی تلافی کر دوں گا۔ مگر انھوں نے وضع ایسی اختیار کی ہے کہ کوئی انگریز ان کے ساتھ دوستانہ برتاؤ نہیں کر سکتا۔"
حجۃ الاسلام۔ "آپ کو ان سے خانگی طور پر ملنے نہ ملنے کا اختیار ہے مگر میں ان کے تعززِ منصبی کی حفاظت کے لیے عرض کرتا ہوں۔"
شارپ۔ "میں ضرور اس کا خیال کر دوں گا۔"
چنانچہ اسی دن شارپ صاحب نے تحقیقاتِ بغاوت کے تمام مقدمات کامل و ناکامل سب ابن الوقت کے محکمے میں واپس کر دیے۔ روبکار میں استمالت کے الفاظ جن سے ایک طرح کی معذرت بھی مترشح ہوتی تھی لکھوا دیے اور ابن الوقت کے نام ایک چٹھی الگ لکھی کہ آپ کے بھائی حجۃ الاسلام سے جو میں نے آپ کے حالات سنے میرے سارے شکوک رفع ہو گئے اور میں آپ سے غلطی کی معافی چاہتا ہوں اور اگر آپ اپنے بھائی حجۃ الاسلام کی سی وضع اختیار کریں جو آپ کی قومی وضع ہے اور جس میں آپ نے بھی اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ بسر کیا ہے اور جو ہر ہندوستانی شریف کے لیے زیبا اور راحت بخش ہے تو مجھ میں اور آپ میں ایسی دوستی قائم ہوگی جس کو میں ساری عمر نباہوں گا۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.