Urdu in Translation
Поиск
Закладка

Глава 21 из 28

Mandan llamar a Hujjat-ul-Islam

Hujjat-ul-Islam Is Sent For

ابن الوقت کی پھوپی زاد بہن کے شوہر حجۃ الاسلام کی آمد

Deputy Nazir Ahmad

Письмо
Размер

۱۸۵۷ء کے غدر سے پہلے حجۃ الاسلام حج کو گئے ہوئے تھے۔ غدر کی اڑتی سی خبریں انھوں نے عرب میں سنیں۔ دلّی کو فتح ہوئے ایسے کوئی بیس بائیس دن ہوں گے کہ یہ واپس بمبئی پہنچے جہاں غدر کے تفصیلی حالات معلوم ہوئے۔ رخصت میں اتنی گنجائش تھی کہ چاہتے تو دلّی ہو کر بلکہ فراغت سے مہینے سوا مہینے رہ کر اپنے کام پر جاتے، مگر معلوم ہوا کہ ابھی جا بجا شورش ہے اور خاص کر دلّی کے مسلمانوں پر ایک طرح کا تشدد ہو رہا ہے۔ یہ صلاح ٹھہری کہ سمندر سمندر مدراس ہوتے ہوئے کلکتہ جائیں اور وہاں سے اپنے ضلع میں جا داخل ہوں۔ غرض ابن الوقت کے حالات میں جو تبدل واقع ہوا حجۃ الاسلام کی غیبت میں ہوا۔ دونوں میں رسمِ مراسلت بھی ختم ہی تھی کہ کبھی اوپر تلے کئی کئی خط آتے جاتے اور کبھی مہینوں ندارد۔ یوں تو ابن الوقت نے بڑے تپاک کے ساتھ حج سے مع الخیر واپس آنے کی مبارک باد کا خط لکھا۔ ادھر سے انعامِ خیر خواہی اور نوکری کی لمبی چوڑی تہنیت آئی۔ مگر تبدیلِ وضع کے بارے میں ابن الوقت کی طرف سے تو کیا ابتدا ہوتی حجۃ الاسلام نے بھی ایسی خاموشی اختیار کی کہ گویا خبر ہی نہیں۔

ابن الوقت کی پھوپی نے کئی بار داماد کو لکھوا لکھوا بھیجا کہ لوگوں کے طعنوں مہنوں نے زندگی دشوار کر دی ہے اب محلے میں رہنے کا ذرا بھر رک نہیں۔ تم جس طرح ہو سکے تھوڑے ہی دن کے لیے آؤ اور ہم لوگوں کا کہیں ٹھکانا کرو۔ مگر حجۃ الاسلام لطائف الحیل سے ٹالتا رہا۔ اپنوں میں اور غیروں میں اتنا ہی فرق ہوتا ہے کہ ابن الوقت کی تبدیلِ وضع سے جس کو لوگ اپنے پندار میں تبدیلِ مذہب سمجھتے تھے۔ خویش و بیگانے سبھی ناراض تھے۔ لیکن اب جو مشہور ہوا کہ صاحب کلکٹر صاحب بھی پیچھے پڑے ہیں تو غیر اکثر لگے شماتت کرنے اور اپنوں نے سنا تو سب کے سب گھبرا کر ابن الوقت کی پھوپی کے پاس دوڑے آئے کیوں کہ گھر میں سب سے بڑی بوڑھی وہی تھیں۔

رشتے ناتے کے علاوہ ابن الوقت کی خیر خواہی سے تھوڑے بہت فائدے بھی ان سب کو پہنچے تھے۔ غدر کے بعد کا وقت مسلمانوں پر ایسی سختی کا گزر گیا کہ تو ڈر نہ تو خدا کے غضب سے ڈر۔ ہزارہا ناکردہ گناہ بغاوت کے لپیٹ میں آ گئے۔ الّا ابن الوقت کے رشتے دار اگر کسی نے جھوٹوں بھی ابن الوقت کا نام لے دیا تو کم سے کم اتنا تو ہوتا تھا کہ کوئی مخبر اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھ سکتا تھا۔ ابن الوقت اپنی ذات سے روکھا تھا، کھرا تھا پھر بھی لوگوں کو اس سے بڑی تقویت تھی۔ وہ کسی کا مقولہ بہت درست ہے۔ عِندَ المَصائِبِ تَذھَبُ الأحقاد۔ اب کسی کو اس کا مطلق خیال نہ تھا کہ ابن الوقت نے ترکِ اسلام کیا ہے یا وہ انگریزوں کے ساتھ کھاتا پیتا ہے یا قوم برادری اور گھر بار کو چھوڑ کر انگریزوں کے ساتھ جا ملا ہے یا اس نے بزرگوں کے نام کو بٹا لگایا ہے یا اس نے خاندان کی آبرو کو ملیامیٹ کر دیا ہے۔ سارے رنج و شکوے بھول بسر کر سب کو اسی کی پڑی تھی کہ کسی طرح ابن الوقت کو اس بلا سے نجات ہو۔۔۔ اس کی پھوپی تو اس طرح بین کر کر کے روتی تھیں جیسے کوئی مُردے کو روتا ہے مگر ملا کی دوڑ مسجد۔۔۔ سب نے مل کر منتوں اور چلوں۔۔۔ اور عملوں اور دعاؤں کی بھرمار کر دی اور ختمِ خواجگان اور لا الٰہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین اور امن یجیب المضطر اذا دعاہ ویکشف السوء اور فلم تقتلوھم ولکن اللہ قتلھم وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی اور اللھم انا نجعلک فی نحورھم ونعوذ بک من شرورھم۔ حزب البحر اور دلائل الخیرات اور یٰسین شریف اور صلوٰۃ الحاجۃ اور اعمالِ حصر اللسان کے حربے صاحب کلکٹر پر چلنے شروع ہوئے۔

دنیاوی تدبیروں میں سے تو اور کوئی تدبیر بن نہ پڑی مگر اس مرتبہ ابن الوقت کی ساس نے داماد کو نہیں بلکہ بیٹی کو لکھوا دیا کہ دو مہینے پورے ہو کر یہ تیسرا لگا کہ دلّی کا سب سے بڑا انگریز ناحق ناروا تمہارے بھائی ابن الوقت کے پیچھے پڑا ہے۔ تم کو معلوم ہے کنبے میں کوئی اس جوگا نہیں کہ اس مصیبت میں ان کا ساتھ دے میں تمہارے میاں کو لکھتے لکھتے تھک گئی۔ آنے کی حامی نہیں بھرتے۔ خدا کے لیے تم ان کو سمجھا کر ساتھ لاؤ۔ کھانا وہاں کھاؤ تو پانی یہاں آ کر پیو۔ وقت نکل جائے گا اور بات رہ جائے گی۔ بھلا رشتے ناتے کا پاس نہ کرو تو اتنا ہی سمجھو کہ اگر خدانخواستہ اس کے دشمنوں پر ایسی ویسی بن گئی تو ہم کو دلّی میں کون چین سے بیٹھنے دے گا۔ ہم کو تو اسی کے دم کا سہارا ہے۔ خدا اس کو جیتا رکھے اور نیک ہدایت دے اور الٰہی سدا اس کا بول بالا رہے۔ سارے کنبے کے لوگ عذر خواہی کو آئے اور تمہارے میاں کے نہ آنے پر سبھی نے اچنبھا کیا۔ میں نے ہر ایک سے یہی کہہ دیا کہ نوکری کا معاملہ ہے صبح شام آنے ہی والے ہیں۔ غرض جس طرح بن پڑے اپنے سو کام حرج کرو اور بہت جلد آؤ۔ تھوڑے لکھے پر بہت سا عمل کرو۔

خط پر خط تو پہلے ہی سے جا رہے تھے اب ایک تو ادھر سے یہ تقاضا پہنچا اور ادھر ابن الوقت نے بارہ دری کے بیچنے کی فوری ضرورت ظاہر کی۔ حجۃ الاسلام نے سمجھا کہ ابن الوقت کے سنبھالے کچھ سنبھلتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ اب دیر کرنی کچھ ٹھیک سی بات نہیں۔ ابن الوقت کو لکھا کہ اپنی کوٹھی میں میرے ٹھہرنے کا ٹھکانا کر دو اور مجھ کو پہنچا ہوا سمجھو۔ اس اثنا میں جاں نثار بھی نوبل صاحب کو بمبئی پہنچا کر آ گیا۔ بلکہ وہ صاحب سے پوچھ کر دس دن اپنے گھر بھی رہ آیا۔ اس نے یہاں آ کر سنا کہ اتنے ہی دن میں کیا سے کیا ہو گیا۔ چھوٹتے ہی ابن الوقت سے جا شکایت کی "آپ نے یہ کیا غضب کیا اگر صاحب کو ذرا معلوم ہو تو جہاز پر سوار ہونے کا نام نہ لیں۔"

ابن الوقت۔ "یہ کیا مناسب تھا کہ میں اس طرح کی علالت میں اور اس پر سفر کی پریشانی صاحب کو تکلیف دیتا اور ہر چند سرتاسر کلکٹر کی زیادتی ہے مگر جو لوگ حقیقتِ حال سے واقف نہیں مجھی کو قصوروار ٹھہرائیں گے۔ اس کے بارے میں کسی سے اس کا مذکور بھی نہیں کرتا۔"

جاں نثار۔ "جناب وہ تو کچھ صاحب کا دانا پانی ہی زور کر رہا تھا کہ بمبئی پہنچتے پہنچتے صاحب اچھے خاصے تندرست تھے۔"

پھر بنگلے کے چھوٹنے اور صاحب کلکٹر کے بگاڑ پڑنے اور نام بنام صاحب لوگوں کے کھنچنے کی مفصل کیفیت سن کر کہنے لگا کہ "جناب میں تو شروع سے لوگوں کے تیور بدلے ہوئے دیکھتا تھا۔ وہ خدا جانے صاحب کی ایسی کیا مروت تھی اور نری مروت بھی نہیں بلکہ دباؤ کہ کسی نے کان تک نہیں ہلایا۔ میری بھی ساری عمر انگریزوں ہی میں گزری ہے ایک ہمارے صاحب تو اپنی ذات سے فرشتہ آدمی ہیں۔ ایسا بشر بھی ہونا مشکل ہے اور دلّی کا اتنا بڑا کمپو ہے بس دو چار ہی اس طرح کے نیک مزاج لوگ اور ہوں گے زیادہ نہیں۔ ورنہ جناب بھلا کہیں یہ لوگ ہندوستانی کو بتیاتے ہیں۔ میں نے خود صاحب کے منہ سے سنا ہے کہ اب اشراف انگریز ولایت سے بہت کم اترتے ہیں۔ کوئی ذات کا بھٹیارہ ہوتا ہے کوئی موچی، کوئی درزی، کوئی بوچڑ، کوئی نائی تو وہ ذاتی اصالت کہاں جائے۔ بڑے رنج کا مقام ہے کہ آپ نے ہزارہا روپیہ ہمارے ہی ہاتھوں ان لوگوں کو چٹا دیا اور وقت پر یہ لوگ طوطے کی طرح آنکھیں پھیر بیٹھے۔ گدھے کا کھایا پاپ نہ پُن۔ صاحب کلکٹر کو تو ساری خلقت پکارے کہتی ہے کہ کانوں کے کچے ہیں۔ وہ آپ کو بُری نظروں سے پہلے ہی دیکھتے تھے۔ ایسا ہوا ہے کہ ہمارے بھائی بندوں میں سے کسی نے موقع پا کر کچھ پھونک دیا ہے اور میں اب آیا ہوں تو اس کی ٹوہ لگاتا ہوں۔ مگر یہ تو فرمائیے آپ نے اس کے توڑ کی کیا تدبیر کی؟"

ابن الوقت۔ "میں نے تو کچھ بھی تدبیر نہیں کی اور کر بھی کیا سکتا تھا۔ شروع شروع میں تو صاحب کلکٹر سے ملنا چاہا۔ انھوں نے انکار کیا۔ چپ ہو رہا۔"

جاں نثار۔ "آپ نے کسی کو بیچ میں ڈالا ہوتا۔"

ابن الوقت۔ "(ذرا تیز ہو کر) کیا تمہارا یہ مطلب ہے کہ میں جا کر کسی کی خوشامد کروں کہ صاحب کلکٹر سے میری خطا معاف کرا دو۔ یہ تو مجھ سے ہونی نہیں۔ زیادتی صاحب کلکٹر کی ہے اور ان کو معذرت کرنی چاہیے نہ کہ الٹی مجھ کو۔"

جاں نثار۔ "اس سے تو یہ بہتر تھا کہ آپ رخصت لے کر بیٹھ رہے ہوتے۔"

ابن الوقت۔ "تم کیسی نادانوں کی سی باتیں کرتے ہو۔ ایسے وقت اگر رخصت کی درخواست کرتا تو لوگ یہ سمجھتے کہ ضرور دال میں کچھ کالا تھا۔ دشمنوں کو موقع ملتا۔ صاحب کلکٹر کو حجت ہاتھ آتی اور یقیناً بھانجی مارتے اور رخصت کو منظور نہ ہونے دیتے۔ خیر اب یہ بتاؤ کہ بھائی حجۃ الاسلام صاحب تشریف لا رہے ہیں اور ہمارے ہی پاس ٹھہریں گے۔ ان کے لیے کیا انتظام کیا جائے؟ بنگلے میں بالکل گنجائش نہیں۔"

جاں نثار۔ "یہ آپ نے بڑی خوش خبری سنائی۔ اب خدا نے چاہا سب کام سدھ ہو جائیں گے اور گنجائش کی نسبت جو آپ نے فرمایا تو وہ مولوی آدمی ہیں ان کو ایک کمرہ بھی ہوا تو بس ہے۔ ایک کمرے کا خالی کر دینا ایسا کیا مشکل ہے۔ میں اسباب کو ٹھکانے لگا دوں گا۔"

ابن الوقت۔ "میں نہیں سمجھتا کہ میں ایک کمرہ بھی ان کو دے سکوں گا۔ اس وقت اس بنگلے میں آٹھ کمرے ہیں مگر اصل میں چھ تھے۔ دو کمروں میں پارٹیشن وال کھڑی کر کے دو کمرے اور پیدا کیے۔ ڈریسنگ روم بالکل نہ تھا۔ باتھ روم میں سے نکالنا پڑا۔ مگر ایک کمرے کے جو دو کیے گئے دونوں تنگ۔ نہیں معلوم اس بنگلے کو کیسا ڈیزائن کیا گیا تھا کہ ایک متنفس کی بھی تو اس میں بافراغت گزر نہیں ہو سکتی۔ لکھنے پڑھنے کے لیے کوئی جگہ ہی سمجھ میں نہیں آتی۔ ناچار اترو والے لمبے کمرے کو لائبریری بنا کر اسی کے ایک حصے کو ریڈنگ روم کر لیا۔ غرض اب تک ایک باتھ روم ہے، اس کی بغل میں ڈریسنگ روم، اس کے پہلو میں بیڈ روم، سرے پر ریڈنگ روم، اس کے برابر لائبریری سے ملا ہوا بلیرڈ روم، دکن کے سرے والے کمرے میں پیانو اگرچہ بے موقع ہے مگر کیا کیا جائے۔ اس پر بھی اسموکنگ روم کا کہیں ٹھکانا نہیں۔ اسباب ہے کہ برآمدے میں اور کچھ شاگرد پیشہ کے مکانات میں بھرا پڑا ہے۔ سجانے کا تو کیا مذکور ہے، رکھنے تک کی جگہ نہیں۔ ہندوستان میں کیا بُرا دستور ہے۔ نہ مجھ سے پوچھا نہ گچھا۔ ایک دم سے پتھر سا کھینچ مارا کہ ہم تمہارے پاس ٹھہریں گے۔ جس وقت سے خط آیا ہے میں حیران ہوں کیا کروں کیا نہ کروں۔"

جاں نثار۔ "آپ کیوں اتنا تردد فرماتے ہیں؟ ان کو آنے دیجیے اور انھی کی رائے پر رکھیے۔ یوں تو صاحب کا بنگلہ خالی ہے مگر یہاں سے ذرا دور ہے۔"

Что оставила в вас эта глава?

Войдите, чтобы отреагировать

Обсуждение

Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.

Понравилась глава? Поделитесь строкой из неё.