Urdu in Translation
Recherche
Signet

Chapitre 18 sur 28

Le sheristadar empoisonne l'esprit du Collecteur

The Sheristadar Poisons the Collector

سررشتہ دار کے بہکانے سے صاحب کلکٹر ابن الوقت سے بدگمان ہوئے

Deputy Nazir Ahmad

Écriture
Taille

ابن الوقت کو حقیقت میں محسوس نہیں ہوتا تھا کہ اس کو نوبل صاحب سے کس قدر تائید پہنچ رہی ہے۔ ان کا پیٹھ موڑنا تھا کہ ہر طرف سے مصیبتوں نے آ گھیرا۔ یوں بھی نوبل صاحب تنخواہ میں، عزت میں کسی طرح کلکٹر سے کم نہ تھے اور پھر کیا انگریز کیا ہندوستانی سب کو اس بات کا کامل اذعان تھا کہ بغاوت کا محکمہ عارضی ہے یہ کام ختم ہوا اور نوبل صاحب ضرور کہیں نہ کہیں کے اور بیس بسوے تو قسمت دہلی کے کمشنر ہوں گے ورنہ کمشنر کے سیکرٹری ہو جائیں تو عجب نہیں۔ کیوں کہ چیف صاحب ان کی طرف بہت ملتفت معلوم ہوتے ہیں۔ اس خیال سے لوگوں کے دلوں میں نوبل صاحب کی بڑی ہیبت تھی اور انھیں کی وجہ سے سارا عملہ ابن الوقت کے نام سے تھراتا تھا۔ اب جو میدان پایا خالی ایک دم سے سب کے سب پھر بیٹھے۔

سپردگیِ چارج کاروبار جاری ہونا تھا کہ عملے لگے آپس میں اشارے کنائے کرنے سب سے پہلے کلکٹری کے چپراسی جمع ہو کر سلام کو آئے۔ ابن الوقت اپنے کام میں مصروف تھا۔ جمعدار نے چند قدم آگے بڑھ کر کہا "کلکٹری کے چپراسی سلام کو حاضر ہیں۔"

ابن الوقت۔ (سر اٹھا کر) "یہ کیسا سلام ہے؟"

جمعدار۔ "حضور مال کے حاکم ہوئے۔ خدا حضور کو لاٹ کرے۔"

اتنے میں ایک محرر روبکار اطلاع یابی لکھوانے کے لیے دوڑا ہوا آیا۔ گویا بڑی خوش خبری لایا۔ عملے کے تیور تو بدلے ہوئے تھے سو تھے۔ چوں کہ ابن الوقت میں پانی مرتا تھا اس کا یہ حال ہو گیا تھا کہ ان کی بات بات کو چھیڑ خانی سمجھتا تھا۔ عجب مشکل آ پڑی تھی کہ اگر کوئی اس کا ادب نہ کرتا تو گستاخ اور کرتا تو وہ سمجھتا کہ ہم کو بناتا ہے۔

جائزے کے کوئی شاید چوتھے یا پانچویں دن سررشتہ دار نجِ رپورٹ خوانی کو گیا تو صاحب کلکٹر نے فرمایا کہ چیف کمشنر صاحب محکمۂ بغاوت کی تحقیقات کے لیے بہت مستعجل ہیں اور نوبل صاحب بھی ہم سے چلتے چلتے کہہ گئے ہیں۔ "دیکھو اس کام پر خاص نگرانی رکھنا۔"

سررشتہ دار۔ "جہاں تک فدوی کو معلوم ہے ڈیڑھ دو برس کا کام باقی ہے۔"

صاحب کلکٹر۔ "ڈیڑھ دو برس! ہم سے نوبل صاحب نے کہا اگر وہ ولایت جانے پر مجبور نہ ہوتے تو آخر سال تک بہمہ وجوہ طے کر دیتے۔"

سررشتہ دار۔ "بے شک صاحب بہادر رہتے تو ایسا ہی ہوتا۔"

صاحب کلکٹر۔ "نوبل صاحب نے ہم سے کہا کہ بہت تھوڑے مقدمے فیصلہ کرنے کو ہیں اور ابن الوقت صاحب ان میں کارروائی کر رہے ہیں اور ان کے تصفیے میں زیادہ دیر نہیں ہوگی۔ بڑا کام مثلوں کو مرتب کر کے داخلِ دفتر کرنا ہے۔ اسی لحاظ سے ہم نے ایک محرر کی تخفیف کا بھی حکم نہیں دیا۔ اگر عملے یہ سمجھ کر کہ نوبل صاحب نہیں ہیں کام میں غفلت یا کاہلی کریں گے تو ہم ان کو سخت سزا کرنے کو موجود ہیں۔ مگر یہ کام ضرور آخر سال تک تمام کرنا ہوگا۔"

سررشتہ دار۔ "عملوں میں تو کسی کی مجال نہیں کہ سرِمو حکم کے خلاف کر سکے۔ بلکہ اگر حضور کا ارشاد ہوگا تو صبح سے شام تک ان سے محنت لی جائے گی۔"

صاحب کلکٹر۔ "بس تو مثلوں کی ترتیب عملے کا کام ہے۔"

سررشتہ دار۔ "بغاوت کا عملہ فدوی ہی کا رکھوایا ہے جب یہ محکمہ قائم ہونے لگا تو عملے ڈھونڈے نہیں ملتے تھے جنابِ نوبل صاحب بہادر نے فدوی کو حکم دیا تو فدوی نے چن چن کر اچھے ہوشیار عملے جمع کر دیے اور فدوی کو بخوبی معلوم ہے کہ عملوں میں سے کسی کا کام پس ماندہ نہیں۔ مثلوں میں بڑی فروگذاشت دستخط کی ہے حضور خیال فرمائیں کہ تاوقتیکہ حاکم متوجہ نہ ہو دستخط کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔"

صاحب کلکٹر۔ "عملوں نے وقتاً فوقتاً احکام پر دستخط کیوں نہ کرائے؟ یہ ان کا قصور ہے اچھا ان سے جواب لے کر پیش کرو ہم تمام عملۂ بغاوت کی سزا کریں گے۔"

سررشتہ دار۔ "حضور مالک اور خداوند ہیں فدوی کو جب اس کا علم ہوا تو فدوی نے عملے کو بہت دھمکایا تھا۔ حقیقتِ حال کا عرض نہ کرنا بھی نمک حرامی ہے۔ کہنے لگے کہ کیا جان غضب میں ہے کہیں تو ماما ری جائے نہیں باپ کتا کھائے۔ سررشتہ دار صاحب ہمارے ڈپٹی صاحب (ابن الوقت) سے کام پڑے تو معلوم ہو ان کے آنے کا ٹھکانا نہ بیٹھنے کا ٹھکانا، نہ کچہری برخاست کرنے کا ٹھکانا۔ دستخط کرانا تو بڑی بات ہے سلام کے لیے سامنے جانے کے لیے بھی بڑا حوصلہ چاہیے۔"

صاحب کلکٹر۔ "کیا بات ہے؟ آخر ہندوستانی عملے صاحب لوگوں کی پیشی میں بھی کام کرتے ہیں یا نہیں۔"

سررشتہ دار صاحب۔ "لوگ اگر اس طرح قہر کی نظر رکھیں تو ایک دن کام نہ چلے کام کے لیے کسی وقت ناخوش بھی ہوتے ہیں اور پھر دیا بھی کرتے ہیں۔"

صاحب کلکٹر۔ "تم کبھی ابن الوقت صاحب کی ملاقات کو گئے ہو؟"

سررشتہ دار۔ "میں بے چارہ محرر۔ میری کیا اوقات۔ راہ میں آمنا سامنا ہوا سلام کر لیا۔"

صاحب کلکٹر۔ "تم کبھی ابن الوقت صاحب کے بنگلے پر نہیں گئے؟"

سررشتہ دار۔ "دو چار بار دل میں آیا پر سنا کہ اوّل تو اپنی وضع کے لوگوں کے سوائے کسی ہندوستانی سے نہیں ملتے اگر ملتے بھی ہیں تو گھنٹوں انتظار کراتے ہیں۔ کچہری کے دنوں میں تو کہیں آنا جانا ہو ہی نہیں سکتا رہا اتوار ایک دن اور اسی میں اپنا اور گھر کا سارا کام کاج۔"

صاحب کلکٹر۔ "او ہو۔ ابن الوقت صاحب نے اس قدر اپنی شان بڑھا رکھی ہے۔"

سررشتہ دار۔ "ان کے شاہانہ خرچ میں ہندوستانیوں کا تو کیا مقدور ہے صاحب لوگ بھی اس طرح بے دریغ نہیں خرچ کر سکتے۔ ایک ہمارے جنٹ صاحب ہیں۔ ڈپٹی صاحب سے چوگنی تنخواہ پاتے ہیں دو گھوڑوں سے زیادہ نہیں رکھ سکتے۔ ایک گھوڑا میم صاحب کی سواری میں رہتا ہے۔ ان کی اپنی سواری کا گھوڑا کچھ بیمار ہو گیا تھا تو اس گرمی میں پیدل کچہری آتے تھے۔"

صاحب کلکٹر۔ "کیا ابن الوقت صاحب گھر کے بڑے امیر ہیں؟"

سررشتہ دار۔ "ان کا خاندان تو مسلمانوں کے پادریوں کا خاندان ہے۔ یہ اپنی ذات سے ایک بیگم کے مختار تھے۔ بیگم صاحب قلعے کے باہر کشمیری دروازے میں رہتی تھیں۔ غدر ہوا تو حکم دیا کہ تمام مال و اسباب قلعے پہنچوا دو۔ اہتمام کرنے والے ہمارے ڈپٹی صاحب۔ سنا ہے کچھ کاٹ کباڑ قلعے تو پہنچا۔ باقی انھوں نے سب اپنے یہاں ڈھلوا منگایا۔ اتنے میں بیگم صاحبہ مر گئیں سارا اثاثہ جہاں کا تہاں رہ گیا۔"

کلکٹر صاحب۔ "اگر ایسا ہوا تو بڑی نمک حرامی کی بات ہے اور میں کبھی خیال نہیں کر سکتا کہ ایسے شخص نے سچے دل سے نوبل صاحب کی جان بچائی ہوگی۔"

سررشتہ دار۔ "صاحب بہادر کی قسمت اچھی تھی کہ سرکار کی طرف کی کوئی لڑائی نہیں بگڑی ورنہ مسلمان کسی دوسرے مذہب کے آدمی کو دیکھ نہیں سکتے۔ انگریز تو خیر بھلا نئے آئے ہوئے ہیں ہم ہندوؤں کو ان کے ساتھ رہتے ہوئے سینکڑوں برس ہو گئے اور اب ان کا بس چلے تو ایک ہندو کو جیتا نہ چھوڑیں۔"

صاحب کلکٹر۔ "اگر واقع میں نوبل صاحب کی جان کو نیک ارادے سے بچایا تو اس کا صلہ کچھ کم نہیں تھا کہ سرکار نے ان کی اور ان کے تمام خاندان کی جان بخشی کی اور ان کے گھروں کو لوٹنے نہیں دیا۔ یا خیر زمینداری تک بھی مضائقہ نہیں لیکن ایسے شخص کو ایک حکومت کا عہدہ دینا میرے نزدیک شاید بالکل خلافِ مصلحت ہو۔ کیوں سررشتہ دار لوگ کیا خیال کرتے ہیں؟"

سررشتہ دار۔ "ڈپٹی کلکٹری تو ان سے ایک دن نہ چلتی۔ مگر نوبل صاحب بہادر کی پرورش سے سب کام سدھ ہوتے گئے۔ اب ذرا مشکل پڑے گی، عملہ ناراض، اہلِ معاملہ شاکی۔"

صاحب کلکٹر۔ "لوگوں کی ناراضامندی کا اصل سبب کیا ہے؟"

سررشتہ دار۔ "عملے تو سخت گیری اور بدزبانی سے ناراض ہیں اور کام بھی وقت پر نہیں نکلتا۔ اہلِ معاملہ دیر کی وجہ سے نالاں ہیں۔ مہینوں لوگ پڑے جھولتے ہیں تب بہ مشکل چھٹکارا ملتا ہے۔"

صاحب کلکٹر۔ "معلوم ہوتا ہے کہ ابن الوقت صاحب کھیل تماشے میں بہت لگے رہتے ہیں۔"

سررشتہ دار۔ "یہ بھی ہے اور لوگ کچھ اور بھی کہتے ہیں۔ یہاں سے جو کبھی کوئی کاغذ طلب کیا گیا تو اکثر یہی جواب آیا کہ ڈپٹی صاحب کے نج پر ہے۔ ابھی حکم اخیر شاملِ مثل نہیں ہوا۔"

صاحب کلکٹر۔ "اب ڈپٹی صاحب کے شاہانہ خرچ کے لیے کسی آمدنی کا تلاش کرنا ضروری نہیں۔ انھوں نے بہت کچھ کما لیا ہوگا۔"

سررشتہ دار۔ "اگر کمایا ہے تو پھر اتنا کمایا ہے کہ اس سے چہار چند خرچ بھی رکھیں تو ان کو کسی طرح کمی نہیں۔"

صاحب کلکٹر۔ "تعجب ہے کہ کوئی نالش کیوں نہیں دائر ہوئی؟"

سررشتہ دار۔ "نوبل صاحب کے ڈر سے کسی نے دم نہیں مارا۔ اب دیکھنا چاہیے۔ ڈپٹی صاحب بھی متردد تو معلوم ہوتے ہیں۔"

صاحب کلکٹر۔ "خیر اب کام کا کیا انتظام کرنا ہوگا؟"

سررشتہ دار۔ "فدوی کے نزدیک تو مناسب یہ ہے کہ ڈپٹی صاحب کو تو صرف مثلوں کی تکمیل پر چھوڑ دیا جائے کیوں کہ یہ بھی بڑا بھاری کام ہے اور باقی ماندہ مقدمات کو حضور اپنے اجلاس میں منتقل فرما لیں یا کسی ماتحت حاکم کو دے دیں منشی سیوک رام کے اجلاس میں بھی کام کی کمی ہے۔ حضور کو معلوم ہے کہ ہمارے منشی صاحب کیسے زبردست کام کرنے والے ہیں۔ ان کا اہلمد کہتا تھا کہ ہمارے منشی صاحب جی فیصلہ نہیں کرتے پھانکتے ہیں۔ بغاوت کے مقدمات بہت ہوں گے ہزار ہوں گے منشی صاحب کی تو تین چار مہینے کی چٹنی ہے۔"

صاحب کلکٹر۔ "اچھا ایک روبکار لکھ دو۔"

سررشتہ دار نے وہیں کھڑے کھڑے دو سطری روبکاری لکھ کر دستخط کرا چپراسی کے ہاتھ سررشتے میں بھجوا دیا۔ صاحب کلکٹر نے روبکار پر دستخط کرتے وقت پھر فرمایا کہ "تم محکمۂ بغاوت کی خوب نگرانی رکھنا۔"

سررشتہ دار۔ "فدوی بخوبی نگرانی رکھے گا اور کارگزاری کا ہفت روزہ حضور کے ملاحظے میں گزرانا کرے گا۔ لیکن حضور عند الملاقات ڈپٹی صاحب کو ذرا سا ایما فرما دیں گے تو ان کو بھی خیال ہو جائے گا۔"

صاحب کلکٹر۔ "سرکاری کام کے لیے ہم کو زبانی کہنا کیا ضرور ہے تحریری حکم دینا چاہیے۔"

صاحب کلکٹر تو کہیں ایک بجے ڈیڑھ بجے کچہری آتے تھے۔ سررشتہ دار رپورٹ خوانی کر کے کوئی گیارہ بجتے بجتے کچہری پہنچا۔ یا تو ایک دن لکھنؤ کے بیلی گارڈ میں جنرل اوٹرم کا استقبال ہوا تھا یا آج سررشتہ دار کی بہلی دور سے آتے دیکھ کر کلکٹری فوجداری کا سارا عملہ باہر نکل پڑا۔ سررشتہ دار جو اپنی لٹو دار پگڑی سنبھالتے ہوئے اترے دیکھا کہ ساری ذریات موجود ہے۔ بہت بگڑے کہ "آج کل کے لونڈوں کو جو ذرا بدھ چھو گئی ہو۔ کیا بندر بندریا کا ناچ ہے۔ نام بنام کیفیت پیش کر کے ایک ایک پر جرمانہ کراؤں تو سہی۔"

ابن الوقت کی ہوا تو روبکارِ جائزہ ہی سے اکھڑ گئی تھی۔ آج مقدمات متدائرہ کے چھن جانے سے لوگوں کی نظر میں اس کی بات اور بھی دو کوڑی کی ہو گئی۔ روبکار میں لکھا تھا کہ مقدمات متدائرہ بلاکارروائیِ مزید برآ اجلاس ہذا کیے جائیں۔ ابن الوقت نے اس پر اتنا تو لکھوا دیا کہ صاحب کلکٹر بہادر کے حکم کی تعمیل کی جائے اور پھر اس سے اجلاس پر نہ بیٹھا گیا۔ اپنے پرائیوٹ روم میں جا کر چاہا کہ اخبار سے جی بہلائے مگر طبیعت کو حاضر نہ پایا۔

نوبل صاحب کے وقت میں گھر کی حکومت تھی اس نے جانا ہی نہیں کہ نوکری کیا چیز ہے اور ماتحتی کس کو کہتے ہیں۔ اب جو خلافِ مزاج باتیں پیش آنی شروع ہوئیں تو اس کو حیرت تھی کہ کلکٹر صاحب برسرِ پرخاش ہیں یا عجلت کی غرض سے محکمۂ بغاوت میں اپنی کارگزاری ثابت کرنے کے لیے مقدمات کو اپنے اجلاس میں منتقل کرا لیا ہے۔ جہاں تک خیال کرتا تھا صاحب کلکٹر کی خصومت کی کوئی وجہ اس کی سمجھ میں نہ آتی تھی اور کیوں کر آتی؟ اس معاملے میں اس کی سمجھ بھی اوندھی تھی۔ ہر چند اس کا عہدہ ڈپٹی کلکٹری کا تھا مگر اس نے ابتدائے تقرر سے محکمۂ بغاوت میں نوبل صاحب کے نیچے کام کیا اور اس کو من حیث الخدمت حکامِ مال سے کسی طرح کا سروکار نہ تھا۔ ان کا کام الگ اس کا الگ غرض کچھ تو بے تعلقی اور کچھ پاسِ وضع (جدید) وہ ان سب سے رہتا تھا بیگانہ وار۔ یہ خبر نہ تھی کہ تقدیر یوں دفعتاً پلٹا کھا جائے گی۔ خلاصہ یہ کہ اس نے کلکٹر یا جنٹ یا اسسٹنٹ کسی سے راہ و رسم پیدا کرنے یا بڑھانے کا مطلق اہتمام نہیں کیا اور نہ کبھی اس کے ذہن میں گزرا کہ حکامِ وقت سے کسی صیغے کے کیوں نہ ہوں معرفت رکھنا معناً داخلِ فرائضِ منصبی ہے۔ ہندوستانی کے لیے ڈپٹی کلکٹری اور صدر الصدوری دو ہی جلیل خدمتیں ہیں۔ ہم نے تو جتنے سربر آوردہ ڈپٹی کلکٹر یا صدر الصدور دیکھے سب کا یہی دستور دیکھا کہ کلکٹر، پادری اور ڈاکٹر اور سپرنٹنڈنٹ پولیس اور انسپکٹر مدارس اور پوسٹ ماسٹر اور مہتمم خزانہ غرض کوئی انگریز ہو بڑا یا چھوٹا، متعہد یا غیر متعہد اور ملاقات ہو یا نہ ہو۔ بالالتزام مہینے میں دو بار چار بار اس کے بنگلے پر حاضری دے آنا ضرور۔

ابن الوقت کو صاحب کلکٹر کی خصومت کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ سو ایک بڑی وجہ تو یہ بیگانگی ہی تھی نہ صرف صاحب کلکٹر سے بلکہ نوبل صاحب کے سوائے گویا تمام حکامِ ضلع سے، یہاں تک کہ اس وقت حکامِ مال میں کوئی متنفس اس کا اتنا بھی رفیق نہ تھا کہ صاحب کلکٹر سے ذکر آ جائے تو اس کے حق میں کلمۃ الخیر کہہ گزرے۔ جو شخص انگریزوں سے دل میں اکڑ رکھتا ہو۔ ہندوستانیوں کو وہ کیا مال موجود سمجھ سکتا ہے۔ ابن الوقت نے ان کی استمالت کی ذرا بھی تو پروا نہ کی۔ ساری کلکٹری فوجداری ایک طرف تھی اور اکیلا ابن الوقت ایک طرف۔ کسی سے کچھ چھینا نہیں کسی کا کچھ بگاڑا نہیں، تبدیلِ وضع کی وجہ سے سب کے ساتھ خدا واسطے کا بیر۔ غرض ابن الوقت نے جوں توں پرائیوٹ روم میں اکیلے پڑے پڑے وہ دن تو تیر کیا۔ اس نے کئی بار عملے سے پچھوایا بھی کہ اگر ہمارے کرنے کا کچھ کام ہو تو ہم اجلاس پر آئیں۔ عملے نے یہی جواب دیا کہ "سررشتہ دار صاحب مقدمات متدائرہ کے لیے بہت جلدی پچار رہے ہیں۔ ہم سب کے سب انھیں مثلوں کے چھانٹنے میں مصروف ہیں اور سرکار کے کرنے کا کام اب رہ بھی کیا گیا ہے۔ یہ مثلیں کلکٹر صاحب کے اجلاس میں جائیں گی تب دفتر کے داخلے کے لیے مثلوں کی ترتیب ہوگی۔ اس وقت اگر احکامِ ترتیبی پر کہیں دستخط رہ گئے ہوں گے ایسے کاغذات علیحدہ رکھتے جائیں گے۔ بہت سے کاغذ جمع ہو گئے دستخط کرا لیے گئے۔"

ابن الوقت کی خودداری نے اس کے حق میں ایک خرابی یہ اور کر رکھی تھی کہ وہ ہندوستانیوں کے ساتھ ملنے میں مضائقہ تو کرتا ہی تھا۔ اس سے ہر شخص اس کے پاس جاتا ہوا جھجکتا تھا اور آج کل جو کارروائیاں درپردہ اس کے خلاف ہو رہی تھیں وہ ان سے مطلقاً بے خبر تھا۔ نوبل صاحب کے چلے جانے کا ایک اثر یہ تو ضرور اس پر بھی منکشف ہوا کہ جو لوگ اس سے ملتے جلتے رہتے (اور وہ تھے ہی کتنے) پہلے ہی دن سے ملاقات میں کمی سی کرنے لگے اور اب جو یہ خبر منتشر ہوئی کہ تمام مقدمات متدائرہ صاحب کلکٹر نے اٹھوا منگائے لوگوں نے اس خیال سے کہ مبادا صاحب کلکٹر دیکھ پائیں یا ان تک خبر پہنچ جائے اس کی کچہری کا آنا جانا تک بالکل ترک کر دیا۔ ابن الوقت کے جی میں آیا بھی کہ چلوں صاحب کلکٹر سے زبانی کہوں، چٹھی لکھوں پھر سوچا اور ٹھیک سوچا کہ ابھی تک مجھ کو شکایت کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ مقدمات منگوا لیے دردِ سر کم تر۔ کچھ میری تنخواہ تو نہیں گھٹا دی جاگیر تو ضبط نہیں کر لی۔ رہا لوگوں کا خیال سو انھوں نے تبدیلِ وضع پر مجھ کو کیا کچھ نہیں کہا اور اب تک کیا کچھ نہیں کہتے، میرا ذاتی تعزز جو ہے سو ہے۔

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.