
Chapter 17 of 28
Noble zarpa hacia Inglaterra; se pierde el bungalow
Noble Sails for England; the Bungalow Is Lost
نوبل صاحب کا دفعتاً ولایت جانا ہوا اور ابن الوقت کو بنگلہ چھوڑنا پڑا
اس حکم کے آتے ہی صاحب کمشنر نے کھڑے کھڑے صاحب کلکٹر کو جائزہ دلوا نوبل صاحب کو تیسرے دن ولایت چلتا کیا۔ صاحب کے روانہ ہونے سے ہفتہ عشرہ پہلے ڈاکٹر نے ملاقات کی ممانعت کر دی تھی۔ پس اس اثنا میں ابن الوقت کے ساتھ بھی صاحب کی کوئی تفصیلی ملاقات نہ ہونے پائی۔ غرض صاحب روانہ ہوئے تو ابن الوقت ہکا بکا رہ گیا۔ نہ اپنی کہی نہ ان کی سنی۔ اس کو صاحب کے جانے کا سب سے زیادہ ملال تھا۔ مگر ذاتی محبت کی وجہ سے ایک لمحہ کے لیے بھی اس کے ذہن میں یہ بات نہیں آئی کہ صاحب کے جانے سے اس کو تبدیلیِ وضع کے بُرے نتیجے اس قدر دق کریں گے۔
نوبل صاحب کے جاتے جاتے برسات کی آمد آمد اور گرمی کی اشتداد کی ہوائیں رداءت کے آثار پیدا ہو چلے تھے۔ شہر میں تو بیماری کا زور تھا۔ چھاؤنی میں بھی کہیں کہیں شکایت سنی جاتی تھی۔ نوبل صاحب کو روانہ ہوئے چوتھا یا پانچواں دن تھا کہ کمانڈنگ افسر نے حکمِ عام جاری کیا کہ انگریزوں کے شاگرد پیشہ کے سوائے کوئی نیٹو چھاؤنی کی حدود میں نہ رہے شہر کا کوئی آدمی چھاؤنی میں نہ آنے پائے اور انگریزوں کے شاگرد پیشوں میں بھی بنگلے پیچھے ایک آدمی ضرورت کی چیزیں لینے کو ایک بار شہر میں جائے اور دن کے سات بجے کے اندر اندر واپس آ جائے اور تاریخِ حکم سے ایک ہفتہ بعد اس کی پوری تعمیل ہو۔ سالِ گزشتہ میں بھی ایسا ہی اتفاق پیش آیا تھا تو نوبل صاحب نے سمجھا دیا تھا کہ مسٹر ابن الوقت نیٹو تو ہیں مگر ان کا طرزِ ماند و بود بالکل ہم لوگوں کا سا ہے اور ان کے احاطے میں صفائی کے قواعد کی تعمیل پوری پوری ہوتی ہے چنانچہ فوجی عہدے داروں نے ابن الوقت کے حالات سے کچھ تعرض نہ کیا۔
اب کی بار دو مشکلیں جمع ہو گئیں۔ نوبل صاحب تو تشریف لے گئے اور کمانڈنگ افسر صاحب نئے ہوئے تھے۔ ابن الوقت سے صاحب سلامت تو تھی مگر کھان پان کی نوبت نہیں آئی تھی۔ جنرل آرڈر کو دیکھ کر ابن الوقت کو بڑا تردد پیدا ہوا اور حقیقت میں بڑے تردد کا مقام تھا کیوں کہ اس نے صدہا روپیہ خرچ کر کے احاطے کو مدتوں کی محنت سے اپنی مرضی کے موافق درست کرایا تھا۔ بڑی تلاش سے کمروں کی وسعت اور ان کے مواقع کے لحاظ سے فرنیچر جمع کیا تھا۔ خانہ باغ کی درستی میں بہت کچھ محنت کرنی پڑی تھی۔ ابن الوقت تمام اسٹیشن کے بنگلوں اور کوٹھیوں سے واقف تھا۔ ہر طرف نظر دوڑائی کوئی بنگلہ ڈھب کا نظر نہ آیا اور جو دو چار تھے سو مشغول تھے اور اگر مشغول نہ بھی ہوتے تاہم یہاں کا اکثر فرنیچر وہاں کے لیے بے جوڑ اور پھر خانہ باغ تو کسی طرح اٹھائے جانے کی چیز نہیں۔
سمجھنے والے کو ابن الوقت کی یہ حالت تازیانۂ عبرت تھی۔ اسی طرح انسان ساری عمر بہ کمالِ اطمینان دنیا کی درستی میں لگا رہتا ہے اور اس دنیا کے ساتھ دل بستگی ہوتی ہے دفعتاً اس کو دنیا چھوڑنی پڑتی ہے اور چوں کہ وہ دنیا سے مانوس تھا۔ اس کو دنیا کی ابدی مفارقت کا سخت صدمہ ہوتا ہے۔ وہ ساز و سامانِ دنیا میں سے کوئی چیز ساتھ نہیں لے جا سکتا اور جو ساتھ لے جا سکتا ہے یعنی اعمال، وہ عاقبت میں شاید اس سے زیادہ بہ کار آمد نہ ہوں جیسے ایک گھر کا فرنیچر دوسرے گھر میں۔ وہ عاقبت میں اپنے لیے آسائش کی جگہ نہیں پاتا، اور جگہ پاتا بھی ہے تو وہاں کے مناسب فرنیچر نہیں رکھتا۔ خدا اپنے فضل سے ہم کو توفیق دے کہ گرویدۂ دنیائے چند روزہ نہ ہوں اور عاقبت کے لیے جہاں ہم کو سدا رہنا ہے سامان کرتے رہیں۔ آمین۔
ابن الوقت اگر چاہتا تو منت سے خوشامد سے شاید کار برآری کر لیتا مگر وہ تھا مغرور بر خود غلط نہ کسی سے پوچھا نہ گچھا۔ ایک چٹھی کمانڈنگ افسر کے نام دھر گھسیٹی کہ ہم بالکل انگریزی طور پر رہتے ہیں اور اس وجہ سے پارسال بھی ہم کو مستثنیٰ کر دیا گیا تھا۔ امسال بھی ہمارے ساتھ اسی قاعدے کا برتاؤ ہونا چاہیے۔ کمانڈنگ افسر نے فوراً اس کے جواب میں لکھ بھیجا کہ چھاؤنی میں لوگوں کا بہت ازدحام ہو گیا ہے اور سپاہیوں کی تندرستی کے لیے بھیڑ کا کم کرنا ضرور ہے۔ یہ پہلا انتظام ہے کہ جو لوگ فوج سے علاقہ نہیں رکھتے چھاؤنی کے اندر نہ رہیں۔ اس جواب کے بعد تدبیر کے سب راستے بند ہو گئے اور چار و ناچار بنگلہ خالی کر دینا پڑا۔ ایک ذرا سی بات میں بے چارہ ابن الوقت بیٹھے بٹھائے ہزار بارہ سو کے پھیر میں آ گیا اور کرکری ہوئی سو الگ۔ وقت پر موقع کا بنگلہ نہ ملا اور خیر یوں ہی سا ملا بھی تو اپنی غرض کو ڈیوڑھا دونا کرایہ دینا پڑا نقل و حرکت میں اسباب خراب ہوا اور زیرباری کا تو کچھ پوچھنا ہی نہیں۔
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.