Urdu in Translation
Поиск
Закладка

Глава 16 из 28

Las cargas de la vida inglesa

The Burdens of English Life

ابن الوقت کا انگریزی طرز سے متاذی ہونا

Deputy Nazir Ahmad

Письмо
Размер

الغرض ابن الوقت کی نسبت لوگوں کے اس قسم کے خیالات تھے۔ ہندوستانی سوسائٹی میں بہ استثنائے معدودے چند جنھوں نے اس کی وضع کی تقلید کر لی تھی کوئی اس کو پسند نہ کرتا تھا۔ انگریزوں میں اعلیٰ درجے کے انگریز، وہ بھی سب نہیں البتہ اس کے خیالات کی قدر و وقعت کرتے تھے۔ بہرکیف اس کے مخالف بہت تھے اور یہ بات خود ابن الوقت کو بھی معلوم تھی اور یہ خیال اکثر اس کو رنجیدہ رکھتا تھا۔ اس کے اپنے بی بی بچے تو سب غدر سے پہلے مر کھپ چکے تھے اور یہ بے تعلقی اگر باعث نہیں ہوئی تو اس کی آزادی میں مؤید تو ضرور ہوئی۔ تاہم وہ بھائی بھتیجوں اور دوسرے رشتے داروں کی مفارقت کے خیال سے بھی متاذی ہوتا تھا۔ رشتے دار تو رشتے دار اس کو ہندوستانی سوسائٹی کے چھوٹ جانے کا بھی افسوس تھا۔

اور ہم نے تحقیق کی ہے کہ اس نے بارہا اپنے رازداروں سے کہا کہ میرے یہاں کے کھانے کی ساری چھاؤنی میں تعریف ہے۔ مگر میرا یہ حال ہے کہ انگریزی کھانا کھاتے ہوئے اتنی مدت ہوئی۔ سچ تو یہ ہے کہ ایک دن مجھے سیری نہیں ہوئی اور میں اکثر خواب میں اپنے تئیں ہندوستانی کھانا کھاتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ ابن الوقت کے خاص خدمت گار کی زبانی معتبر روایت ہے کہ ایک بار اس کو سخت تپ لاحق ہوئی اور عادت کے موافق لگا بہکنے۔ تو وہ ہندوستانی کھانوں کے نام لے لے کر روتا تھا اور کھانے بھی پلاؤ، زردہ، متنجن، بریانی نہیں بلکہ مونگ کی دال کا بھرتا، دھوئی ماش کی پھریری دال، قلمی بڑے، کباب، امرود کے کچالو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ چٹپٹی چیزوں کو ترس گیا تھا۔

معلوم ہے کہ ابن الوقت ابتدائے تبدیلِ وضع سے گھر بار چھوڑ کر باہر چھاؤنی میں جا رہا تھا۔ اس کے پاس اتنے نوکر چاکر تھے کہ اس کی کوٹھی کا احاطہ بجائے خود ایک چھوٹا سا محلہ تھا۔ لیکن اس کی زندگی ویسی ہی اداس زندگی تھی۔ جیسی ایک بیچلر کی ہوتی ہے۔ وہ نوکروں کے حق میں بڑا سیر چشم تھا۔ اس کے یہاں نوکروں کی ایسی بھاری تنخواہیں تھیں کہ دلّی کی اتنی بڑی چھاؤنی میں بس دو چار جگہ اور رہی ہوں گی۔ اس لیے کہ تمام نوکر سلیقہ مند اور مستعد تھے اور درحقیقت بات یہ ہے کہ انھی نوکروں نے انگریزی سوسائٹی میں اس کی اتنی بات بھی بنا رکھی تھی۔ مگر نوکر کیسے ہی ہوشیار کیوں نہ ہوں پھر بھی مالک کی تائید کی ضرورت باقی رہتی ہے۔ انگریزی زندگی ایسی بکھیڑے کی زندگی تھی کہ ابن الوقت کا جتنا وقت کچہری اور ملاقات سے بچتا تھا صفائی کی نگرانی اور ہر چیز کی خبرگیری کے لیے بہ مشکل وفا کرتا تھا۔ یہ ضرور ہے کہ اس کے نوکر انگریزی مذاق سے خوب واقف تھے۔ مگر ابن الوقت سے خود صبر نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ اپنی طرف سے ایسی خراش تراش ایجاد کرنے لگا تھا کہ خواہی نہ خواہی اس کو دیکھنا پڑتا تھا۔

دعوت ایسے مزے کی چیز ہے کہ کھلانے والا اور کھانے والا دونوں ہی خوش ہوتے ہیں۔ مگر ابن الوقت کے یہاں کی دعوت اس کے حق میں ایک مصیبت ہوتی تھی۔ کھانا تو کہیں جا کر رات کے نو دس بجے نصیب ہوتا۔ اور اہتمام کی آندھی صبح سویرے سے چلنی شروع ہو جاتی تھی۔ ہم کو تو کوئی دعوت ایسی یاد نہیں کہ ابن الوقت تکان کی وجہ سے اس کے بعد علیل نہ ہوا ہو۔ پھر چھٹے چھ ماہے دعوت ہو تو خیر، یہاں ہر مہینے کچھ نہ ہو تو بڑے کھانے دو تین بلکہ بعض اوقات تو ابن الوقت بھی گھبرا کر بول اٹھتا تھا کہ میں نے کہاں کا کھٹراگ اپنے پیچھے لگا لیا ہے۔ یہ تو میزبانی کی لذتیں تھیں۔

مہمانی کے ذائقے ان سے بھی زیادہ تلخ۔ اگر اسٹیشن میں کسی انگریز کے ہاں کھانا ہے اور اس نے ابن الوقت کی دعوت نہ کی اور اکثر ایسا ہوتا رہتا تھا تو اس کے دل پر ایک صدمہ گزر جاتا تھا اور وہ اس کو اپنی تذلیل سمجھتا تھا۔ نہ صرف انگریزی سوسائٹی میں بلکہ جی ہی جی میں اپنے نوکروں تک سے کئی کئی دن شرمندہ رہتا تھا اور اگر اس کا بھی بلاوا ہوا تو صاحب خانہ کے گھر میں قدم رکھتے ہی اس کو ان فکروں نے آ گھیرا کہ کس کی کیسی آؤ بھگت ہوئی، کون لیڈی کس صاحب کے پاس بیٹھی اور اگر یہ پھٹیل رہ گیا یا کوئی چیز اپنے یہاں سے بہتر نظر پڑ گئی تو وہ دعوت اس کے لیے عداوت ہو جاتی تھی۔ الغرض انگریزی سوسائٹی میں داخل ہونے کے خبط نے اس کو ایسا بے چین کر رکھا تھا کہ دن رات میں دو چار منٹ کے لیے وہ بھی شاید اس کو خوشی ہوتی ہو تو ہوتی ہو۔ ورنہ جب دیکھو منقبض۔ جب سنو آزردہ۔

ذرا سوچنے اور خیال کرنے کی بات ہے کہ جو شخص دنیا میں اس قدر منہمک ہو اس کو دینداری سے کیا سروکار۔ سچی دین داری کی بڑی شناخت ہے زہد، جتنا جس سے ہو سکے۔ اور کجا زہد اور کجا یہ فضول و لایعنی بکھیڑے۔ سو بھی ہم نے ابھی تک سب نہیں بلکہ نمونے کے طور پر بعض چھوٹی چھوٹی باتوں کا تذکرہ کیا ہے۔ ابن الوقت بے چارے مصیبت کے مارے کو ایک سے ایک سخت مشکل درپیش تھی کہ وہ تو وہی ہٹ کا پورا تھا کہ ان آفتوں کو بری طرح جھیلتا رہا۔ دوسرا تو کبھی کا بھاگ کھڑا ہوتا اور پھر ساری عمر انگریزی سوسائٹی کا نام نہ لیتا۔ ہاتھیوں کے ساتھ گنے کھانا کچھ لڑکوں کا کھیل ہے؟

ابن الوقت غدر سے پہلے بھی اچھا خاصا خوش حال تھا قلعے کی تنخواہیں تو تھوڑی تھیں مگر اوپر سے انعام و اکرام وغیرہ ملا کر بہت کچھ پڑ رہتا تھا۔ ہمارے اندازے میں ابن الوقت کی آمدنی پچاس روپے ماہوار سے ہرگز کم نہ تھی اور غدر کے بعد سے تو کچھ پوچھنا ہی نہیں، نہ سو نہ سوا سو، ماشاءاللہ ایک دم سے پانسو۔۔۔ اس آمدنی پر اچھے سے اچھا کھاتا، اچھے سے اچھا پہنتا، غرض امیرانہ خرچ رکھتا مگر ہندوستانیوں کا سا، تو چند سال کے عرصے میں اس کے پاس معتدبہ سرمایہ ہو جاتا۔ لیکن اس نے کرنی چاہی انگریزوں کی ریس۔ پورا برس بھی خیریت سے گزرنے نہیں پایا کہ لگا ادھار کھانے۔

جس وقت اس کو جاں نثار نے نہلا دھلا کر پہلے پہل انگریزی کپڑے پہنائے تو کوٹھی کا ساز و سامان اور اپنی شان دیکھ کر اس کو اس قدر خوشی ہوئی تھی کہ اپنے آپے میں نہیں سماتا تھا اور ابھی اس خوشی کا اثر طبیعت پر باقی تھا کہ ایک چپراسی بڑا لمبا چوڑا لفافہ لیے ہوئے برآمدے تک آیا۔ قاعدے کے مطابق بیرا (بیرر) نے لفافہ کشتی میں رکھ کر نئے صاحب کے حضور میں پیش کیا۔ کھولا تو جنرل سپلائر کا بل تھا۔ کتنے کا؟ کچھ اوپر پانچ ہزار کا۔ پانچ ہزار کی رقم دیکھ کر قریب تھا کہ حواس مختل ہو جائیں۔ مگر سنگ آمد و سخت آمد۔ چون و چرا کرنے کا موقع نہیں۔ قہرِ درویش برجانِ درویش۔ دینا ہی پڑا۔ مگر کیوں کر؟ ہزار کا توڑا نوبل صاحب کا دیا ہوا سربند رکھا ہوا تھا وہ لیا اور بہ ہزار مشکل دو ہزار گھر میں سے فراہم کیے۔ پھر بھی سوا دو ہزار اور ہوں تو پنڈ چھوٹے۔ بارے غدر سے پہلے نواب معشوق محل بیگم صاحب کی سرکار میں ابن الوقت کی معرفت گڑ والوں کا لین دین تھا۔ ڈرتے ڈرتے ان کو رقعہ لکھا۔ آسامی تھی کھری اور جان دار انھوں نے بے تامل روپیہ حوالے کیا۔ یوں جنرل سپلائر کا پوت پورا ہوا ؏ رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گزشت۔

لیکن ابن الوقت نے خرچ کا ڈربا کھول دیا تھا۔ جس نسبت سے اس کی آمد بڑھی تھی اگر اسی نسبت سے خرچ بھی بڑھتا تو چنداں حرج کی بات نہ تھی پھر اس نے لیٹتے کے ساتھ چادر کے باہر پاؤں پھیلا دیے اوّل سرے گھر کے تہرے چوہرے مکان ہوتے ساتے چالیس روپے مہینے کا بنگلہ، پھر فٹن، ٹمٹم، (ٹینڈم) بروم، پالکی، گاڑی، چار قسم کی بگھیاں اور چار کے چار گھوڑے اور ایک زین سواری کا پانچ، دھوبی، سقہ، چوکیدار، فراش، مشعلچی، باورچی، میٹ، سائیس، گراس کٹ، مہتر، مالی، بیرا، دو ڈھائی درجن کے قریب شاگرد پیشہ ان کی تنخواہیں اور تنخواہوں کے علاوہ وردی۔ اسی مناسبت سے دوسرے مصارف باستثنائے میز کہ اس کا کچھ اندازہ ہو ہی نہیں سکتا۔ مہینے میں اچھے جیّد دو کھانے بھی ہو گئے تو ساری تنخواہ پر پانی پھر جانا کچھ بات نہیں۔ ابن الوقت نے شروع شروع میں شاید تین چار تنخواہیں وقت پر لی ہوں گی۔ اس کے بعد تو خزانچی کے ساتھ معاملہ ہو گیا۔ ایک چھوڑ دو دو مہاجن دینے والے۔ جب ضرورت ہوئی جس سے جتنا چاہا منگوا لیا۔ تنخواہ تو اوپر سے خزانچی لے لیا کرتا تھا۔ اور زمیندار کا محاصل گڑ والوں کی کوٹھی میں چلا جاتا تھا۔

ان بچہ کو انگریز بننے کی دھن میں اتنی خبر نہ تھی کہ سر پر کتنا قرضہ لدتا چلا جا رہا ہے۔ یہ تو اپنے ان خیالات میں مست تھا کہ صاحب کمشنر مجھ کو مائی ڈیئر ابن الوقت اور اپنے تئیں یور سنسیئرلی لکھتے ہیں۔ چیف کمشنر نے سالانہ رپورٹ میں میری کارگزاری کا شکریہ ادا کیا ہے۔ جوڈیشل کمشنر نے ایک فیصلے میں میری نسبت یہ لکھا ہے کہ اس کی طبیعت کو قانون سے فطری مناسبت ہے۔ فائنانشل کمشنر نے فلاں سرکلر کا مسودہ مجھ سے طلب کیا تھا۔ ان کی چٹھی موجود ہے اب جو چھپ کر آیا تو میں دیکھتا ہوں کہ ایک لفظ کا ردّ و بدل نہیں کیا قانونِ شہادت کی فلاں دفعہ میرے اصرار سے بڑھائی گئی۔ لیجس لیٹو کونسل کے لیگل ممبر نے مجھ کو چٹھی میں اطلاع دی مگر معلوم نہیں اپنی اسپیچ میں میرا تذکرہ کیوں نہیں کیا۔ یا تو رپورٹر کی فروگذاشت ہے یا ممبر صاحب کو اس وقت خیال نہ رہا ہوگا۔ فلاں صاحب نے ولایت سے میرا فوٹوگراف منگوایا ہے اور لکھتے ہیں کہ میم صاحب متقاضی ہیں۔ او ہو مس جوزف ہمارے ڈرائنگ روم کی تصویروں کو بہت پسند کرتی تھی اور ہمارے کتوں سے کھیلا کرتی تھی۔ ابھی ولایت کی ڈاک میں اس کی چٹھی آئی ہے۔ ایک بڑے سوداگر کے ساتھ اس کی شادی ہونے والی ہے۔ میجر صاحب نے آئس کریم (ملائی کی برف) جمانے کے لیے ہمارے آدمی کو بلا بھیجا ہے۔ یہاں سے برف ہی جما کر نہ بھیج دی جائے۔ کرنل صاحب کا اسباب نیلام ہوگا تو دو گھوڑے ہم ضرور لیں گے۔ کیوں کہ ہم نے خوب خیال کر کے دیکھا تو ہمارے دو گھوڑے ہمیشہ صاحب لوگوں کی سواری میں رہتے ہیں اور چڑیوں اور پھولوں کے گملوں کو تو ہم ان سے زبانی کہہ چکے ہیں۔ پرسوں کیا اتفاق ہوا کہ میں ٹھنڈی سڑک پر جا رہا تھا۔ کپتان صاحب اور ان کی میم آتے ہوئے ملے۔ بڑے تپاک سے صاحب سلامت ہوئی۔ میم صاحب کے ہاتھ میں ایک پھول تھا۔ انھوں نے میری طرف پھینک دیا۔ کپتان صاحب بولے "مسٹر ابن الوقت میرے پاس کوئی پھول نہیں کہ میں تم کو دیتا۔" تو میں نے کہا۔ "آپ کے پاس تو نہایت خوب صورت گلدستہ ہے۔" میم صاحب نے اس کا بڑا شکریہ ادا کیا اور دونوں میاں بیوی ہنستے ہوئے برابر سے نکل گئے۔ فرینڈ آف انڈیا نے ایک آرٹیکل میں مجھ کو مسلمانوں کا مشہور رفارمر لکھا ہے۔

غرض جس طرح ایک آدمی کو کسی بات کی زٹ نہیں لگ جاتی۔ بس ابن الوقت کو انگریز بننے کی زٹ تھی۔ شروع شروع میں تو اس کو مسلمانوں کے حال پر ایک طرح کی نظر تھی۔ لیکن چند روز کے بعد اس کی ساری رفارم اسی پر منحصر ہو گئی تھی کہ انگریزی اوضاع و اطوار میں سے کوئی وضع اور کوئی طور چھوٹنے نہ پائے۔ کم بخت آپ بھی برباد ہو رہا تھا اور اس کی دیکھا دیکھی کچھ ایسی ہوا چلی کہ مسلمانوں کے نوجوان لڑکے خصوصاً جنھوں نے ذرا سی انگریزی پڑھ لی تھی یا جو گھر سے کسی قدر آسودہ تھے تباہی کے لچھن سیکھتے چلے جاتے تھے۔ اس کے اندرونی حالات کی تو کسی کو خبر نہ تھی۔ ظاہر میں دیکھتے تھے کہ انگریزوں سے ملتا جلتا ہے۔ جو بات کسی ہندوستانی عہدے دار کو نصیب نہیں اس کو حاصل ہے اور لوگوں کی نظر میں انگریزی وضع خدا کے فضل سے جو کسی ایک کو پھلی ہو۔ سبھی نے تو اپنی اپنی جگہ تھوڑا بہت نقصان اٹھایا اور شاید نقصان نہ بھی اٹھایا ہو تو کسی کو کسی قسم کا فائدہ تو ہوا نہیں۔

کسی جگہ شروع کتاب میں لکھا جا چکا ہے کہ نوبل صاحب کو ہلکا ہلکا درد سر ہر وقت رہتا تھا اور اسی کے علاج کے لیے رخصت لے کر ولایت جا رہے تھے کہ غدر کی وجہ سے دلّی میں گھر گئے۔ کیا خدا کی شان ہے کہ تو وانہ درمن سارے غدر اور غدر کے بعد بھی مدتوں تک آپ ہی آپ اس درد کا کہیں پتہ نہ تھا۔ ہر چند اپنے عزیزوں سے ملنے کے لیے ان کا جی ولایت جانے کو چاہتا تھا مگر دیکھتے تھے کہ سلطنت متزلزل ہو رہی ہے۔ کام کی ہر جگہ کثرت ہے۔ ایسے وقت اگر صاحب ولایت بھی ہوتے تو ان سے ایک دن وہاں نہ ٹھہرا جاتا۔ کیسے ہو سکتا تھا کہ اس حالت میں چلے جائیں۔ چنانچہ انھوں نے اپنے گھر لکھ بھیجا تھا کہ جب تک تمام ملک میں انتظام سابق دستور نہ ہو جائے میں قصد نہیں کر سکتا۔ جوں جوں بغاوت فرد ہوتی گئی اس درد کی کسک ابھرتی چلی۔ ایک بار انھوں نے ولایت جانے کا ارادہ ظاہر کیا تو چیف کمشنر صاحب نے فرمایا کہ تم جا سکتے ہو مگر میں چاہتا تھا کہ تحقیقاتِ بغاوت کا کام تمہارے ہاتھ سے اختتام پاتا۔ خیر۔ یہ پھر چپ ہو رہے۔

لیکن درد سر روز بروز زور پکڑتا جاتا تھا یہاں تک کہ ۱۸۵۹ء کی گرمیوں میں تو یہ حال ہو گیا کہ جس روز گرمی کا اشتداد ہوتا، سارے سارے دن ان سے اٹھا نہیں جاتا تھا اور ڈاکٹر تو مدتوں سے کہہ رہا تھا اب اس نے بھی سختی کی۔ "اگر تم برسات میں ٹھہرو گے تو یقیناً ہلاک ہو جاؤ گے۔ میں نے تمہارے درد کی نسبت بہ خوبی تشخیص کر لی ہے کہ سمندر کی ہوا کے سوائے اس کی اور کوئی دوا نہیں۔" مگر صاحب کا ارادہ تھا کہ آخری رپورٹ روانہ کر دوں تب جاؤں۔ کام بھی بہت سمٹ آیا تھا۔ لیکن قاعدہ ہے کہ کام کا پچھا ہی بھاری ہوتا ہے۔ برسات چلی آ رہی تھی اور ابھی رپورٹ کا لکھنا بھی شروع نہیں ہوا تھا۔ مگر کیا استقلال ہے اور کس قدر کام کا درد ہے کہ ڈاکٹر بھی متقاضی تھا اور درد سر بھی برسرِ ترقی تھا۔ نوبل صاحب کا یہ حال تھا کہ درد سر نے بہت ستایا پڑ رہے، پھر ذرا طبیعت سنبھلی اٹھ بیٹھے کام کرنے لگے۔ غرض اس بندۂ خدا نے رخصت کا نام ہی لینا چھوڑ دیا۔ صاحب کمشنر نے اپنے طور پر اس کی اطلاع چیف صاحب کو دی۔ وہاں سے حکم آیا کہ باقی ماندہ کام صاحب کلکٹر کو دے دو اور تم رپورٹ کا مواد لے کر فوراً ولایت کو روانہ ہو جاؤ۔ چیف صاحب یقین کرتے ہیں کہ جہاز میں تمہاری طبیعت ٹھیک ہو جائے گی اور تم ولایت جا کر رپورٹ تیار کرنا۔ اور تمہارے سفر اور قیامِ ولایت کا زمانہ سروس میں شمار کیا جائے گا اور تم کو پوری تنخواہ دی جائے گی۔

Что оставила в вас эта глава?

Войдите, чтобы отреагировать

Обсуждение

Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.

Понравилась глава? Поделитесь строкой из неё.