Urdu in Translation
搜索

第 15 章,共 28 章

众怒

The General Displeasure

ابن الوقت سے لوگوں کی عام ناراضامندی

纳齐尔·艾哈迈德

文字
字号

ہم پھر یہی کہیں گے کہ اگرچہ لوگوں نے ابتدا کی تھی مگر ابن الوقت کو مذہبی چھیڑ چھاڑ کرنی مناسب نہ تھی۔ اس چھیڑ چھاڑ نے اس کی رفارم میں بڑی ہی کھنڈت کی۔ اختلافِ معتقدات کی وجہ سے یوماً فیوماً مسلمان اس سے متنفر ہوتے گئے اور سچ پوچھو تو ابن الوقت نہ رفارمر رہا نہ مجدد بلکہ مسلمانوں میں ایک نئے عقیدے کا موجد سمجھا جانے لگا اور ظاہر ہے کہ ایسی حالت میں وہ زیادہ فائدہ نہیں پہنچا سکتا تھا۔ کیوں کہ وہ کہتا تھا صبح، تو مسلمان کہتے تھے شام اور اس کی طرف سے مسلمانوں کے دل میں کچھ ایسی بدگمانی بیٹھ گئی تھی کہ اس کی ساری تدبیریں خود غرضی پر محمول کی جاتی تھیں۔ کچھ رفارمر پر موقوف نہیں۔ ہر نئی بات کا قاعدہ ہے کہ شروع شروع میں اگر چل نکلی تو چل نکلی ورنہ اکھڑے پیچھے ہوا کا بندھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

ابن الوقت کو شروع سے آخر تک موافق و ناموافق دونوں طرح کے اتفاقات پیش آتے رہے۔ بلکہ ناموافق زیادہ۔ تاہم اس کے شروع کے دو برس بڑی کامیابی کے برس تھے کیوں کہ نوبل صاحب اس کے حامی و سرپرست اس کے پاس موجود تھے۔ ان کی مہربانی، اس کے حال پر یوماً فیوماً زیادہ ہوتی جاتی تھی اور ان کی مربیانہ مدارات دیکھ کر کیا انگریز کیا ہندوستانی کسی کو ابن الوقت کے ساتھ پرخاش کرنے کی جرأت نہ ہوتی تھی۔ غدر کے بارے میں ابن الوقت اور نوبل صاحب دونوں کے خیالات پہلے ہی منصفانہ تھے اور اس وقت انصاف ہی کو بڑا رحم سمجھتے تھے۔ غرض بغاوت کی تحقیقات میں بھی ابن الوقت کی اچھی نیک نامی ہوئی اور چوں کہ نوبل صاحب کو برداخت منظور تھی ابن الوقت کی لیاقت اور کارگزاری نے خاصی نمود پکڑی اور حکامِ بالادست اس کو صاحب الرائے، کثیر المعلومات، بے تعصب، منصف مزاج سمجھنے لگے۔ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ نوبل صاحب سے کسی بارے میں رائے طلب ہوتی تو اس میں ایما کیا جاتا کہ اپنے اسسٹنٹ ابن الوقت سے پوچھو کہ وہ کیا کہتے ہیں۔ یہاں نوبل صاحب کا یہ حال تھا کہ بات بات میں ابن الوقت کی رائے سے استشہاد کرتے تھے۔ ان کی ہر چٹھی میں یہ فقرہ ضرور ہوتا تھا کہ میرے اسسٹنٹ ابن الوقت بھی اس رائے سے متفق ہیں یا ان کو اختلاف ہے اور ان کی تحریر کو لحاظ مناسب کے لیے منسلک کرتا ہوں۔

یہ سب کچھ ہو رہا تھا لیکن حسد کی آگ بھی دلوں میں بھڑک رہی تھی اور لوگ وقت کے منتظر تھے۔ یوں اپنی جگہ تو ہر شخص جو جس کے منہ میں آیا بک جھک لیتا تھا، ابن الوقت نے کبھی کسی کے کہنے کی پروا نہیں کی۔ مگر حاکموں کے روبرو جو لوگ جا کر الٹی سیدھی باتیں بنا آتے تھے ان سے ابن الوقت کو اور اس کے منصوبوں کو بہت بڑا نقصان پہنچتا تھا۔ غدر کے مدتوں بعد تک سرکاری کچہریوں میں کام کی یہ کثرت رہی کہ باوجودیکہ تحقیقاتِ بغاوت کا محکمہ علیحدہ تھا اس پر بھی مسلمانوں کا تو اس وقت کہاں پتہ، کیوں کہ یہ تھے معتوب، ہندو بنگالی بابو اور یوریشین ملا کر ایک دم سے پانچ ڈپٹی کلکٹر تھے۔ اوّل تو ان دنوں کی قہرمانی حکومت، بغاوت کی تحقیقات درپیش، ہتھیاروں کی تنگ طلبی، مخبری کا بازار گرم۔ دوسرے جتنے ہندوستانی حکام پہلے کے تھے کوئی روپوش کوئی ماخوذ غرض سب کے سب یک قلم موقوف، نہ لیاقت دیکھی نہ وجاہت۔ سفارشی ٹٹوؤں کو آنکھیں بند کر کے بھرتی کر لیا گیا تھا۔ ان میں ہمت کہاں؟ جرأت کا کیا مذکور؟ ابن الوقت بہتیرا ٹھیل ٹھیل کر ان کو اپنی راہ پر لے چلنا چاہتا تھا مگر یہ پینڈی کے بل بیٹھے چلے جاتے تھے۔ ان کو اگر کوئی مجبور کرتا کہ جیتے ہوئے سانپ کو پکڑ لو تو شاید کر بھی گزرتے مگر کسی طرح ممکن نہ تھا کہ انگریز کے ساتھ ہاتھ ملا سکیں۔ ابن الوقت کے بہت سمجھانے پر ایک بابو ڈپٹی صاحب نے یہ جواب دیا "ہم شب سمجھتا پر شاب لوگ کا شامنا ہم باش میں رہنا نہیں شکتا۔" کچھ ضعفِ طبیعت کچھ خوشامد اور کچھ ابن الوقت کے ساتھ خدا واسطے کا حسد۔ بعض تو اس طرح کے موذی تھے کہ حکام کو ابن الوقت کی طرف سے بدظن کرنے کے لیے معمول اور ضرورت سے زیادہ حاکموں کے سامنے جھکنے لگے تھے۔

ناچار ابن الوقت کو اپنے آپ کو اپنے ہی گروہ سے الگ رکھنا پڑتا تھا مگر کہاں تک۔ انگریزوں کے ساتھ اختلاط پیدا کرنے کے لیے تو یہ ساری مصیبت مول لی تھی۔ ان سے ملنا اور کثرت سے ملنا تو ابن الوقت کے سب کاموں پر مقدم تھا بس یہ تدبیر کیا کرتا تھا کہ انگریزوں سے ملتا تھا مگر ہندوستانیوں کا اور خاص کر اپنے اقران و امثال کا وقت بچا کر۔ اس کو انگریزوں سے ملنے کے بہتیرے مواقع تھے۔ بعض کو یہ کھانے پر بلاتا تھا اور سارے اسٹیشن میں ملکی، فوجی ملا کر گنتی کے چار یا پانچ ایسے بھی تھے جو اس کو کبھی کبھی کھانے پر بلا بھیجتے تھے۔ نوبل صاحب نے بڑی سینہ زوری سے اس کو کلب میں داخل کرا دیا تھا۔ بہتوں کے ساتھ وہاں ملاقات ہو جاتی تھی۔ پھر ہوا خوری، کرکٹ، ٹنس، شکار، کون سی پارٹی تھی جس میں ابن الوقت کسی نہ کسی طرح اپنے تئیں نہیں گھستا تھا۔ بات یہ ہے کہ سارے کھیل روپے کے ہیں اور ابن الوقت انگریزوں کے مقابلے میں خرچ کی پروا مطلق نہ کرتا تھا۔ سب سے بڑے دشمن ہندو مسلمان سب کے اور خاص کر ابن الوقت کے یوریشین تھے اور یہی لوگ شراب اور سوڈا اور لیمنیڈ اور چرٹ وغیرہ کی چاٹ کے مارے اس کو ہر وقت گھیرے بھی رہتے تھے۔

تبدیلِ وضع کی نسبت تو خیر جو چاہو سو کہہ لو یوں ابن الوقت بڑا متین آدمی تھا وہ کہیں مدتوں میں جا کر کھلتا تھا۔ سو بھی ہر ایک سے نہیں۔ اس کے سینکڑوں ملاقاتیوں میں گنتی کے چند آدمی تھے جن کے ساتھ ہمہ وقت نہیں بلکہ خاص خاص اوقات میں وہ کسی قدر بے تکلفی کرتا تھا۔ ایسے مزاج کے آدمی کا قاعدہ ہوتا ہے کہ کوئی چاہے نہ چاہے مگر وہ مخالف اور موافق سب سے اپنا ادب کرا ہی لیتا ہے پس ابن الوقت کے منہ پر تو کوئی نہیں رکھتا تھا اور نہ رکھ سکتا تھا مگر لوگوں کے بطون اس کی طرف سے صاف نہ تھے۔ چنانچہ ایک موقع پر سب ہی نے تو اپنا اپنا زہر اگلا۔

امریکہ کے مشن کی طرف سے ایک اسکول جاری تھا۔ اس میں پڑھنے لکھنے کے علاوہ لڑکوں کو دستکاری بھی سکھائی جاتی تھی اور چوں کہ ایسے مدرسے کی بہت ضرورت تھی لڑکے ایسے گرتے تھے جیسے شہد پر مکھیاں۔ پادری صاحب بڑے ہی ملنسار آدمی تھے۔ اسکول میں برس کے برس جلسہ کرتے اور اس میں شہر کے سارے رودار آدمیوں کو بلاتے اور ان کے خوش کرنے کے لیے بجلی اور مقناطیس کے عجیب عجیب کرتب دکھاتے تھے۔ جلسے کے دن قریب تھے تو انھوں نے پہلے سے ابن الوقت سے کہہ رکھا تھا کہ آپ کو ضرور آنا ہوگا اور مہربانی فرما کر لیکچر بھی دینا ہوگا۔ انھی دنوں ابن الوقت کے چند دوست انگریز متقاضی ہوئے کہ ہم کو اپنے علاقے کھیر کالپور میں لے جا کر شکار کھلاؤ۔ ابن الوقت کو پادری صاحب کا جلسہ یاد تھا مگر ان دوستوں کو بھی ٹال نہیں سکتا تھا۔ ناچار گیا۔ مگر ایسے انتظام کے ساتھ کہ جلسہ ناغہ نہ ہو۔ وہاں شکار میں اتفاق سے کوئی انگریز گھوڑے پر سے گرا اور اس کی تیمارداری نے ابن الوقت کو فرصت نہ دی ناچار اس نے پادری کو عین وقت پر معذرت لکھ بھیجی۔ پادری نے بڑا افسوس کیا اور ہر چند چاہا کہ کوئی ہندوستانی لیکچر دے، کسی نے حامی نہ بھری۔ غرض اور سب ہوا مگر پادری صاحب کو لیکچر کی بڑی خوشی تھی وہ نہ ہو سکا۔ خیر جب تماشے وغیرہ ہو چکے تو سب لوگ آپس میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ پادری صاحب بولے "افسوس ہے کہ مسٹر ابن الوقت کے نہ ہونے سے آج ہماری خوشی ادھوری رہ گئی۔ وہ ہوتے تو مجھ کو یقین ہے کہ بڑا عمدہ لیکچر دیتے اور اس سے سامعین خوش اور طالب علم مستفید ہوتے۔"

ایک انگریز جج۔ "بے شک مسٹر ابن الوقت بڑے گویا اور روشن خیال آدمی ہیں اور میں نے ایسا بے تکان بولنے والا ہندوستانی نہیں دیکھا۔ مسٹر نوبل کے ڈنر میں جو انھوں نے پہلی اسپیچ دی تھی آج تک میرے کانوں میں گونج رہی ہے اور ہر چند آپ کے کرتب بڑے دل چسپ ہیں اور ان کے دیکھنے سے علمی مفاد بھی بہت کچھ حاصل ہوتا ہے مگر مسٹر ابن الوقت اپنی اسپیچ سے ان کرتبوں کو اور زیادہ شاندار اور بارونق کر سکتے تھے۔"

ایک یوریشین ڈپٹی کلکٹر ایک کائستھ ڈپٹی کلکٹر سے ذرا پیچھے جھک کر۔ "آپ کو معلوم ہے ابن الوقت صاحب کیوں غیر حاضر ہے؟"

کائستھ ڈپٹی کلکٹر۔ "میں نے ابھی تھوڑی دیر ہوئی یہیں آ کر سنا کہ ایک ہفتہ ہوا صاحب لوگوں کے ساتھ شکار کو گئے ہیں۔ ہاں صاحب ان کو سب شوق زیبا ہیں ؏ مربی بسیار و مربی بخور۔ ایک قسمت کے بیٹے ہیں، اسی تنخواہ اور انھی اقتدارات کے ڈپٹی ہم ہیں۔ لالہ جی بیکنٹھ باشی ہوئے۔ موسی مری۔ خاوندوں کا رخ نہ پایا۔ رخصت کو منہ سے نہ نکال سکے بندگی و بے چارگی۔"

یوریشین۔ "کلکٹر صاحب کبھی چھٹی دینا نہیں مانگتا۔ میم صاحب اور مس بابا پہاڑ جانے لگا۔ ہم صاحب سے بولا۔ صاحب نے صاف کہا 'نو'۔ ہم سنتا نوبل صاحب بہت جلد ولایت جانا چاہتا ہے۔"

جنٹ مجسٹریٹ۔ "نہیں نہیں۔ انھوں نے درخواست کی تھی۔ صاحب کمشنر نے روک دیا کہ تااختتامِ تحقیقاتِ بغاوت درخواست کرنی مناسب نہیں۔"

یوریشین۔ "اگر نوبل صاحب گیا تو ابن الوقت کیا کرے گا۔ شاید وہ بھی صاحب کے ساتھ ولایت جائے گا۔"

جنٹ۔ "عجب نہیں۔ دیکھیں اس وقت کلکٹری کا چارج کس کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔"

کائستھ۔ "بھگوان کی دیا سے حضور والا کے دستِ مبارک میں ہوگا۔ مدت سے ہم نمک خوار دعائیں مانگ رہے ہیں۔"

یوریشین۔ "میں آپ کو کلکٹر دیکھ کر بہت خوش ہوں گا۔"

جنٹ۔ "کیا ابن الوقت صاحب میری کوٹھی میں بھی جوتی پہن کر ٹوپی اوڑھے ہوئے جانے کا ارادہ کریں گے؟ وہ ہندوستانی ہیں اور میں ان کو سکھاؤں گا کہ ہندوستانی کو اپنے افسروں کا ادب کس طرح کرنا چاہیے۔ مجھ کو نوبل صاحب کے ساتھ ابن الوقت کے بارے میں ہرگز اتفاق نہیں۔ میں ابن الوقت صاحب کو نوکری اور جاگیر دونوں کا مستحق سمجھتا ہوں لیکن صاحب لوگوں کو بے عزت کرنے کا ان کو کوئی حق نہیں۔"

یوریشین۔ "میں آپ کی دانشمندانہ پالیسی کو بہت پسند کرتا ہوں۔ آخر یہ (کائستھ کی طرف اشارہ کر کے) بھی تو ڈپٹی ہیں۔ ایسے گستاخانہ خیالات ان کے دماغ میں کیوں نہیں آتے؟"

کائستھ۔ "ہم جتنے ہندو ہیں ہمارا دھرم یہی ہے کہ حاکم اور بھگوان برابر۔"

جنٹ۔ "ہم نہیں سمجھتا کہ اس خیال اور مزاج کا آدمی غدر میں باغی کیوں نہیں ہوا۔"

یوریشین۔ "اس کا دل باغی ہے اور میں کبھی یقین نہیں کرتا کہ اس نے نوبل صاحب کو سچے دل سے بچایا ہوگا۔"

جنٹ۔ "مجھ کو مسٹر۔ تمہاری اس رائے سے اتفاق نہیں۔ اس کے بہتر جج نوبل صاحب ہیں جو غدر میں اس کے ساتھ رہے ہیں۔ صاحب کو پورا بھروسہ ہے کہ وہ دل سے سرکار کا خیر خواہ ہے۔"

یوریشین۔ "میں آپ سے معافی مانگتا ہوں۔ حقیقت میں یہ بات سمجھ میں آنی مشکل ہے کہ ایسے خیالات اور خیر خواہی دو چیزیں ایک سر میں کیوں کر جمع ہو سکتی ہیں۔ ان میں ایک اصلی ہوگی اور دوسری بناوٹ۔"

ایک مسلمان رئیس۔ "جس طرح آپ لوگوں کو ابن الوقت صاحب کی خیر خواہی میں حیرت ہے اس سے زیادہ سارے مسلمانوں کو ان کے اسلام میں ہے۔"

پادری صاحب۔ "آخر مسلمان ابن الوقت کے مذہب کی نسبت کیا خیال کرتے ہیں؟"

"مسلمان عموماً عیسائی سمجھتے ہیں۔"

پادری صاحب (قہقہہ لگا کر) "وہ ہرگز عیسائی نہیں اور انھوں نے ہر موقع پر اس بات کو ظاہر کیا ہے۔ اور مجھ سے ان سے اکثر ملاقات ہوتی ہے۔ مجھ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ خداوند عیسیٰ مسیح کو خدا اور خدا کا بیٹا نہیں مانتے بلکہ عام مسلمانوں کی طرح صرف ایک پیغمبر، لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ اگر ابن الوقت دل سے عیسائی ہوتے تو بلاشبہہ علانیہ اقرار کرتے۔ وہ اپنی رائے کو چھپانے والے آدمی نہیں۔ مگر ہمارا سارا کانگریگیشن خاص کر ان کے حق میں دعا کرتا ہے خداوند عیسیٰ مسیح قبول کرے۔"

مسلمان۔ "اگر ابن الوقت عیسائی نہیں ہیں۔ جیسا کہ آپ فرماتے ہیں تو آپ اپنے ساتھ کھانا کیوں کھلاتے ہیں؟" (اس پر جنٹ اور یوریشین ڈپٹی کلکٹر اور دوسرے انگریز سب ہنس پڑے۔)

پادری صاحب۔ "ہمارے مذہب میں جسمانی پاکی محض بے حقیقت چیز ہے۔ اگر ایک آدمی اپنے تئیں صاف ستھرا رکھتا ہے وہ اپنی سوسائٹی کی تندرستی کے لیے مناسب تدبیر کرتا ہے لیکن اس سے اس کی روح (ہندوؤں کی طرف مخاطب ہو کر) آتما مقدس کی نظر میں پاک نہیں ہو سکتی۔ آدمی کا جسم چند روزہ اور ناپائدار ہے۔ وہ ایک قاعدے کے مطابق پرورش پاتا اور آخر کو فنا ہو جائے گا۔ غرض روح اور جسم کا تعلق عارضی ہے جس طرح جسم نجاست اور غلاظت سے ناپاک ہوتا ہے اسی طرح روح غصے اور لالچ اور حسد اور جھوٹ اور تکبر اور ظلم اور کتنی اور خراب باتوں سے ناپاک ہوتی ہے۔ جسمانی ناپاکی بہت آسانی سے دور ہو سکتی ہے مگر روحی ناپاکی بدون اس کے آدمی خداوند عیسیٰ مسیح کے نام سے اصطباغ لے زائل نہیں ہو سکتی، سب آدمی خدا کے نزدیک یکساں اور سب ناپاک ہیں اور جو شخص اپنے تئیں پاکیزہ گردانتا ہے وہ دل کی ناپاکی کو ظاہر کرتا ہے۔ ہم نے ابن الوقت صاحب کو اپنے ساتھ کھانا کھلایا کیوں کہ وہ ہماری طرح کے آدمی ہیں اور ہم ہر شخص کو اپنے ساتھ کھلانے کو تیار ہیں اور سب سے پہلے آپ کو اگر آپ پسند کریں گے۔" (اس جملے پر سب ہنس پڑے۔)

مسلمان۔ "اگر ہم کو یقین ہو کہ آپ ان چیزوں سے جو مذہبِ اسلام میں بہ تقاضائے مصالح چند در چند حرام کی گئی ہیں محترز ہیں تو ہم کو آپ کے ساتھ کھانے میں انکار نہیں۔ ہاں تو اگر ابن الوقت صاحب عیسائی نہیں اور مسلمان تو یقیناً نہیں۔ پھر کیا ہیں؟"

پادری صاحب۔ "وہ اپنے تئیں صاف مسلمان کہتے ہیں اور بے شک مسلمان ہیں۔"

مسلمان۔ "اگر ابن الوقت صاحب مسلمان ہیں تو پھر دنیا میں کوئی کافر نہیں۔ اسی طرح ہمارے ان ڈپٹی صاحب (کائستھ کی طرف اشارہ کر کے) کو بھی اختیار ہے کہ بت پرستی کرتے جائیں اور عیسائی یا مسلمان ہونے کا دعویٰ کریں۔"

کائستھ۔ "بھگوان نہ کرے میں عیسائی یا مسلمان کیوں ہونے لگا۔ سب میں اُتّم اور پراچین ہمارا ہی دھرم ہے جو ہزارہا برس سے چلا آتا ہے اور ہر چند مسلمانوں نے بڑے بڑے جتن کیے کہ ہندو دھرم مٹ جائے۔ بھگوان کا ایسا کرنا ہوا کہ آپ ہی مٹ گئے۔"

جنٹ۔ "اچھا اگر کوئی ابن الوقت صاحب کو اپنے مذہب میں لینا نہیں چاہتا تو ان کو بھی کسی مذہب کی پروا نہیں وہ صرف ایک بلند نظر آدمی ہے اور دنیا میں اس قسم کے اور بہت آدمی ہوئے ہیں وہ فقط اپنی نمود چاہتا ہے۔"

اس کی مسلمان اور کائستھ اور یوریشین سب نے تصدیق کی۔

پادری صاحب۔ "میں سمجھتا ہوں کہ ان کو مسلمانوں کی رفارم کا بھی بہت خیال ہے۔"

مسلمان۔ "بس جناب یہ ان کے دکھانے کے دانت ہیں۔"

پادری صاحب۔ "انھوں نے ہمیشہ انگلش سوسائٹی میں مسلمانوں کی حالت پر افسوس ظاہر کیا ہے۔ وہ دل سے مسلمانوں کا خیر خواہ ہے اور اس کے دل میں اپنی قوم کی بڑی ہمدردی ہے اور جب بھی اس کو موقع ملتا ہے مسلمانوں کے فائدے میں کوشش کرتا ہے۔"

مسلمان۔ "خدا جانے اس میں کیا مصلحت ہوگی۔ ورنہ میرے دیکھنے میں تو اس شخص نے اسلام کی تفضیح میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا مسلمانوں کے ساتھ مدارات کا یہ حال ہے کہ آپ لوگ غیر مذہب حاکمِ وقت ہو کر تو سیدھی طرح بات بھی کر لیتے ہیں اور ان کو مسلمانوں کی شکل سے نفرت ہے۔ غیر تو درکنار وہ شخص اپنے رشتے داروں سے ملنے تک کا روادار نہیں۔ سبحان اللہ کیا حبِ قومی ہے!"

جنٹ صاحب۔ یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ "مائی فرینڈز۔ مسٹر ابن الوقت کی تھاہ میرے سوائے کسی نے نہیں پائی۔ جلسہ برخاست!"

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。