Urdu in Translation
Search

Chapter 14 of 28

宗教与理性

Religion and Reason

مذہب اور عقل

纳齐尔·艾哈迈德

Script
Size

ہم کو تو اس کتاب میں ان لوگوں کے ساتھ مناظرہ کرنا منظور نہیں۔ مگر تاہم اتنا تو خواہی نہ خواہی کہنا ہی پڑتا ہے کہ بلاشبہ مبداءِ فیاض نے انسان کو ظاہری باطنی جتنی قوتیں دی ہیں سب میں عقل بڑی زبردست ہے اور وہی مدارِ تکلیفِ شرع بھی ہے۔ لیکن بیش بریں نیست کہ عقل بھی ایک قوت ہے اور جس طرح انسان کی دوسری قوتیں محدود اور ناقص ہیں مثلاً آنکھ کہ ایک خاص فاصلے پر دیکھ سکتی ہے اس سے باہر نہیں۔ پھر بے روشنی کے کام نہیں دیتی۔ اجسامِ کثیف میں نفوذ نہیں کرتی۔ اگر دیکھنے والا خود متحرک ہو مثلاً فرض کرو کہ کشتی یا ریل میں ہو تو وہ الٹا ٹھہری ہوئی چیزوں کو متحرک دیکھتا ہے اور اپنے تئیں ٹھہرا ہوا۔ تیز حرکت متشکل معلوم ہوتی ہے جیسے لڑکے لکٹی سے کھیلتے ہیں پیالہ میں تھوڑا سا پانی بھر کر لکڑی کھڑی کر دیں تو لچکی ہوئی دکھائی دے گی۔ شفاف پانی کی تہ کی چیزیں اوپر کو ابھری ہوئی نظر آتی ہیں اور اسی طرح کی اور بہت سی غلطیاں نظر سے ہوتی ہیں جن کی تفصیل علمِ مناظر میں موجود ہے غرض جس طرح مثلاً ہماری قوتِ باصرہ محدود اور ناقص ہے اسی طرح عقل کی رسائی کی بھی ایک حد ہے۔ وہ بھی نقصان سے بری نہیں اور اس سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں۔ غلطی کے لیے تو اختلافِ رائے کی دلیل کافی ہے۔ ہندسے کے علاوہ جس کے اصول بدیہیات پر مبنی ہیں اور اسی وجہ سے اس میں اختلاف ہو نہیں سکتا۔ ڈاکٹر، فلسفی، جج، ایسٹرانومرز (ہیئت دان) پالیٹیشنز (مدبرانِ ملک)، اہلِ مذاہب وغیرہ وغیرہ سبھی کو دیکھتے ہیں کہ ایک دوسرے سے لڑتے مرتے ہیں۔ منطق کے قاعدے منضبط ہوئے۔ مناظرے کے اصول ٹھہرائے گئے مگر اختلاف کم نہ ہوا اور نہ تا قیامت کم ہو۔ "ولا یزالون مختلفین الا من رحم ربک ولذلک خلقہم۔"

جب ہست و نیست کا اختلاف ہو تو ضرور ایک برسرِ غلط ہے اگرچہ عقلِ انسانی کا نقصان اختلافِ رائے سے بھی مستنبط ہو سکتا ہے مگر ہم ذرا اس کو تفصیل کے ساتھ بیان کرنا چاہتے ہیں۔ دو ڈھائی سو برس کے عرصے میں اہلِ یورپ کو سینکڑوں باتیں ایسی دریافت ہوئیں کہ کسی کو کیمیا کا حکمی نسخہ مل گیا ہوتا اور وہ اس کو عام بھی کر دیتا تو اتنا فائدہ نہ پہنچتا جتنا کہ ان ماڈرن ڈسکوریز یعنی زمانۂ حال کی دریافتوں سے ہوا۔ اور جن اقبال مندوں کو خدا نے واقعات اور موجوداتِ نفس الامری میں غور و خوض کرنے کی دھن لگا دی ہے۔ خدا ان کی کوششوں کو مشکور و کامیاب کرتا ہے۔ بحرِ بے پایاں موجودات میں غوطے لگا رہے ہیں اور معلوماتِ جدید کے بے بہا موتی ہیں کہ برابر نکلے چلے آتے ہیں۔ وان من شیء الا عندنا خزائنہ وما ننزلہ الا بقدر معلوم۔ ان ماڈرن ڈسکوریز میں سے زیادہ نہیں صرف ایک چیز عام فہم لو جس سے انگریزوں کے طفیل میں ہم بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں "ریل"۔

اب ہم پوچھتے ہیں کہ دنیا میں گھر گھر آگ تھی۔ گھر گھر ہنڈیاں پکتی تھیں۔ ہر ہر متنفس بھاپ سے بخوبی واقف تھا۔ سینکڑوں ہزاروں برس پہلے اسٹیم (بھاپ) کی طاقت کیوں معلوم نہیں ہوئی۔ اور یہی سوال ہر ڈسکوری کی بابت ہو سکتا ہے جو اب تک ہوئی اور آئندہ کسی وقت میں ہو۔ سر اسحٰق نیوٹن جس کو سب سے پہلے مسئلۂ کشش کا الہام ہوا کہتا تھا کہ خدا کی بے انتہا قدرت کے سمندر میں بے شمار موتی بھرے پڑے ہیں اور میں تو ابھی کنارے پر بیٹھا ہوا بچوں کی طرح سیپیاں اور گھونگے جمع کر رہا ہوں۔ یہ مقولہ تھا اس شخص کا جس نے زمین و آسمان کے قلابے ملا کر نظامِ بطلیموس کی جگہ اپنا نظام قائم کیا اور آج سارا یورپ اس کے نام پر فخر کرتا ہے جن کو خدا نے عقل دی ہے وہ تو یوں اپنی نارسائی کا اعتراف کرتے ہیں اور ایک ہمارے زمانے کے انگریزی خواں ہیں کہ سیدھی سی اقلیدس کی نئی شکل پوچھو تو بغلیں جھانکنے لگیں اور لن ترانیاں یہ کہ ہمچو ما دیگرے نیست۔

بس جوں جوں زمانہ ترقی کرتا جاتا ہے عقلِ انسانی کا قصور ہے کہ کھلتا چلا جاتا ہے اب سے زیادہ نہیں صرف ڈیڑھ سو برس پہلے کسی کی عقل میں یہ بات آ سکتی تھی کہ مہینوں کی مسافت ہم گھنٹوں میں طے کر سکیں گے یا ہزار کوس کا حال چند لمحے میں معلوم کر لیا کریں گے یا آگ سے برف جمائیں گے یا کپڑے کی کل میں کپاس بھر کر اچھے خاصے دھلے دھلائے تہ کیے ہوئے تھان نکال لیا کریں گے اور ابھی کیا معلوم کہ ہم کیا کیا کر سکیں گے۔ مگر پھر بھی رہیں گے آدمی، عاجز، ناچیز، بے حقیقت۔

بھلا آدمی کیا عقل پر ناز کرے گا جب کہ اس کو پاس کے پاس اتنا تو معلوم ہی نہیں کہ روح کیا چیز ہے اور اس کو جسم کے ساتھ کس طرح کا تعلق ہے۔ وقت کے ازلی، ابدی ہونے پر خیال کرتے ہیں تو انسان کی ہستی ایسی بے ثبات دکھائی دیتی ہے جیسے دن رات میں ایک طرفۃ العین بلکہ اس سے بھی کم اور اس ہستی پر انسان کے یہ ارادے اور یہ حوصلے کہ گویا زمین اور آسمان میں سمانا نہیں چاہتا پھر کیسے کیسے لوگ ہو گزرے ہیں کہ اس سرے سے اس سرے تک ساری زمین کو ہلا مارا اور مر گئے تو کچھ بھی نہیں۔ ایک تودۂ خاک۔ آخر وہ کیا چیز تھی جو ان میں سے نکل گئی؟ حیوانات، نباتات لاکھوں قسم کی مخلوقات کا ایک چکر سا بندھا ہوا معلوم ہوتا ہے کہ زمین سے پیدا ہوتے اور پھر اسی میں فنا ہو جاتے ہیں۔ کسی کی عقل کام کرتی ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور کس غرض سے ہو رہا ہے؟ جان تو ایک قسم کی نباتات میں بھی ہے مگر جانوروں کے بہت سے افعال انسان سے ملتے ہوئے ہیں بلکہ بعض حیوانات بعض باتوں میں انسان پر بھی شرف رکھتے ہیں مگر ہم دیکھتے ہیں تو ان کے کمالات وہبی اور فطری ہیں۔ پھر وہ کون سی تکمیل ہے جس کے لیے ان کو یہ ہستی دی گئی ہے؟ انگریزوں نے تحقیقات کا کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا مگر شروع سے اب تک کسی ایک جگہ یا کسی ایک چیز یا کسی ایک بات کا مسلسل پتہ نہ چل سکا۔ زمانۂ حال سے جس قدر پیچھے کو دور ہوتے جاتے ہیں منظرِ تاریخ دھندلا ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اب سے چار یا پانچ ہزار برس پہلے کا کسی کو کچھ حال معلوم نہیں کہ دنیا کا کیا رنگ تھا؟

عقلِ انسانی کی نارسائی اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگی کہ آج تک کسی پر کسی چیز کی ماہیت ہی منکشف نہیں ہوئی۔ جانا تو کیا جانا اعراض وہ بھی شاید فی صد دو۔ مثلاً پانی کہ ہم اس کا اتنا ہی حال جانتے ہیں کہ سیال ہے۔ سہل الانقیاد ہے یعنی جو شکل چاہو آسانی سے قبول کر لیتا ہے۔ آمیزش سے پاک ہو تو شفاف ہے نشیب کی طرف بہتا ہے وزنِ مخصوص کے قاعدے سے تینتیس فٹ سے زیادہ ہوا میں بلند نہیں ہو سکتا۔ حرارت کے اثر سے ہوا بن جاتا ہے یا اگر علمِ طبعی کے کسی ماہر سے پوچھو تو شاید دو چار خواص اور بیان کر سکے گا۔ مگر یہ سب آثار ہیں نہ ماہیت۔ ماہیت کا نام آیا اور عقل گم ہوئی۔

اگرچہ ابن الوقت یا ہمارے زمانے کے بڑے بڑے انگریزی خواں ہی کیوں نہ ہوں بات کیا ہے کہ دنیا ہے عالمِ اسباب۔ یہاں واقعات کا ایک سلسلہ ہے کہ ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا واقعہ ہوتا رہتا ہے۔ ہم واقعۂ متقدم کو سبب اور علت کہتے ہیں اور واقعۂ متاخر کو مسبّب معلول نتیجہ اگرچہ سبب کے قرار دینے میں اکثر چند در چند غلطیاں ہوتی ہیں مگر فرض کرو کہ ہم سبب کے قرار دینے میں غلطی نہ بھی کریں، تاہم سبب اور مسبّب میں جو علاقہ ہے آج تک اس کا راز کسی پر نہیں کھلا۔ مثلاً جلانا آگ کا خاصہ ہے، مقناطیس لوہے کو کھینچتا ہے مگر کوئی نہیں بتا سکتا کیوں؟ ذرا آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھو تو روئے زمین کے ریگستانوں میں اتنے ذرّے نہ ہوں گے جتنے ستارے آسمان میں بھرے پڑے ہیں۔ پھر یہ ستارے دیکھنے میں چھوٹے چھوٹے نقطے سے نظر آتے ہیں اور درحقیقت ایک ایک بجائے خود ایک جہان ہے کہ ہماری زمین کی اس کے سامنے کچھ بھی حقیقت نہیں۔ سوچنے سمجھنے والے کو دنیا سر تا سر طلسمِ حیرت ہے۔ جب دنیاوی امور میں عقلِ انسانی کی نارسائی کا یہ حال ہو کہ کسی بات کی کنہ کو نہیں پہنچ سکتی تو دین میں وہ کیا ہماری رہبری کرے گی۔
تو کارِ زمیں را نکو ساختی
کہ با آسماں نیز پرداختی

یہ دنیا تو پھر بھی عالمِ شہود ہے کہ ہم اس میں موجود ہیں اور اسے دیکھتے اور تھوڑا یا بہت اس میں تصرف بھی کر سکتے اور کرتے ہیں، دین خبر دیتا ہے کہ اس دنیا کے سوا ایک جہان اور بھی ہے۔ یہ ظاہر ہے وہ غائب، یہ فانی ہے، وہ باقی، یہ مجاز ہے وہ حقیقت، یہ تمہید ہے وہ نفسِ مطلب، یہ امتحان ہے وہ نتیجہ، یہ سفر ہے وہ منزلِ مقصود، یہ خواب ہے وہ تعبیر، یہ افسانہ ہے وہ حق۔ اور ظاہر ہے کہ عقلِ انسانی کو اس جہان کے متعلق کچھ بھی نہیں جاننا چاہیے کیوں کہ وہ اس کی منتہائے رسائی سے بہت دور ہے۔ لیکن خدا کی بے انتہا مہربانی سے بعید تھا کہ انسان جو اس کی مخلوقات میں سب سے افضل ہے اس جہان سے بالکل بے خبر ہے اور جس طرح اس نے اور چیزوں کو دوسرے خواص بخشے ہیں عقلِ انسانی کو نیک و بد کی تمیز عطا فرمائی۔ جاہل سے جاہل، وحشی سے وحشی بھی بھلائی کی طرف راغب ہے نہ کسی مفاد کی طمع سے اور برائی سے ہارب ہے اور نہ کسی دنیاوی نقصان کے خوف سے بالکل گویا انسان کا دل مقناطیسی سوئی ہے اور نیکی شمال کی سمت۔

پس اس جہان کے متعلق رسائی، معلومات، واقفیت جو کچھ سمجھو یہ انسانی فطرت ہے کہ آدمی بالطبع نیکی کو پسند اور بدی کو ناپسند کرتا ہے پھر انسان کی عقل اپنی طرف سے کچھ کمی نہیں کرتی بہتیرا زور مارتی ہے کہ وہاں کی حقیقت دریافت کر دوں۔ مگر کچھ پتہ نہیں چلتا ہے ؎
حالِ عدم کا نہ کچھ کھلا گزرے ہے رفتگاں پہ کیا
کوئی حقیقت آن کر کہتا نہیں بُری بھلی

نیکی و بدی کے امتیاز کے ساتھ اس کو اتنی بات اور سوجھتی ہے کہ انسان کے ہر فعل کو ایک نتیجہ لازم ہے اگرچہ بسا اوقات افعال کے نتائج اسی دنیا میں واقع ہو جاتے ہیں مگر بعض کے نہیں بھی ہوتے اور ہم دیکھتے ہیں کہ دنیاوی نتائج کے علاوہ طبیعتیں کسی اور نتیجے کی منتظر رہتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک جہاں اور بھی ہونا چاہیے اور اس کی ضرورت ہے اور نہیں معلوم کیا سبب ہے کہ دل خود بخود اندر سے گواہی دیتا ہے کہ مرنے سے تو ہمارا پیچھا چھوٹتا ہوا نظر نہیں آتا۔ مرے پیچھے ہم کسی حالت میں رہیں، مگر رہیں گے ضرور۔ بس یہاں تک عقل کی پرواز تمام ہوئی ؎
اگر یک سرِ موئے برتر پرم
فروغِ تجلی بسوزد پرم
مگر اس سے تو کچھ بھی کشودِ کار نہ ہوا۔ دل جو اس جہان کے تفصیلی حالات کے مشتاق تھے بدستور جویا رہے۔ اب دین کی سرحد میں آگے بڑھنا چاہتے ہو تو چراغِ عقل کو گُل کرو اور آفتابِ جہاں تابِ وحی کو اپنا ہادی اور رہنما قرار دو۔

اس بیان سے اگرچہ مختصر ہے معلوم ہو جائے گا کہ امورِ دین میں عقلِ انسانی کو کہاں تک مدخل ہو سکتا ہے۔ ابن الوقت نے کچھ یہ تھوڑی غلطی نہیں کی کہ مذہب کو محکومِ عقل بنانا چاہا بس اس کے مذہبی رفارم کی بسم اللہ ہی غلط تھی اور اس کو نہ صرف اسلام سے اختلاف تھا بلکہ دنیا کے تمام مذاہب سے، یہ سچ ہے کہ انسان اپنی تمام قوتوں کے استعمال میں مجبور ہے اور نہیں ہو سکتا کہ وہ عقل رکھتا ہو اور اس سے کام نہ لے۔ مگر ہمارا مطلب یہ ہے کہ جسمانی یا عقلی جتنی قوتیں ہیں سب کے استعمال میں اعتدال شرط ہے اور علمِ اخلاق کا ماحصل بھی یہی ہے اگر کوئی شخص عقل کو مذہب کی کسوٹی بنانا چاہتا ہے تو اس کو اس ارادے میں ویسی ہی کامیابی کی توقع رکھنی چاہیے جیسی کہ وہ شخص رکھ سکتا ہے جو باصرہ سے سامعہ کا یا شامہ سے ذائقہ کا کام لینے کا قصد کرے۔

دین کی دولت طبیعت کی چالاکی، عقل کی تیزی اور ذہن کی رسائی سے ہاتھ آنے والی چیز نہیں۔ اس کے مستحق ہیں بھولے بھالے سیدھے سادے اکثر اہل الجنۃ البلہ (جنتی لوگ بھولے بھالے ہیں) منکسر، منقاد، افسردہ، متواضع، خاکسار، ایک بڑا خطرہ یہ ہے کہ جو شخص دین کی باتوں میں عقل کو بہت دخل دیا کرتا ہے شروع کرتا ہے جزئیات سے فروع سے، متشابہات سے اور آخر کو جا پہنچتا ہے کلیات میں۔ اصول میں، محکمات میں جیسا کہ ابن الوقت کو پیش آیا۔ پس جس شخص کی افتادِ مزاج اس طرح کی ہو اس کو شروع سے احتیاط کرنی ضروری ہے۔ چاہیے کہ ایسے خدشات کو دور کر کے خدائے تعالیٰ جل شانہ کی عظمت، اس کی قدرت، اس کے جلال دنیا کے انتظام اس کے انقلابات اور کون و فساد میں فکر کیا کرے امید ہے کہ اس کی طبیعت سنبھل جائے گی۔

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.