
Chapter 13 of 28
L'islam en habit anglais
Islam in English Dress
انگریزی وضع کے ساتھ اسلام کا نبھنا مشکل ہے
مذہب نام ہے انسان کے خاص طرح کے دلی خیالات کا اور اس لفافے کو خدا نے ایسی مضبوطی کے ساتھ بند کیا ہے کہ ایک کے ضمائر پر دوسرا شخص کسی ڈھب سے مطلع ہو ہی نہیں سکتا علاوہ ازیں مذہب ایک معاملہ ہے بندے میں اور خدا میں اور کسی شخص کو یہ حق نہیں اور ضرورت بھی نہیں کہ دوسروں کے مذہبی معاملات میں دخل دے۔ ان اصول کی بنا پر ہم کو ابن الوقت کے مذہب سے معترض ہونے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ مگر از بس کہ وہ مسلمانوں کی دنیا و دین دونوں کی اصلاح کا مدعی تھا۔ ہم کو چار و ناچار دیکھنا پڑا کہ اس کے مذہبی خیالات کیا تھے۔
ہم ان لوگوں سے سنی ہوئی کہتے ہیں جن کو ابن الوقت کے ساتھ رات دن کی نشست برخاست ہمسائیگی اور قرابتِ قریبہ کے تعلقات تھے کہ اٹھارہ بیس برس کی عمر تک ابن الوقت کا یہ رنگ رہا کہ جیسے بڑے بڑے عابد متشرع مسلمان ہوتے ہیں وہ نوافل اور مستحبات کا اس قدر اہتمام رکھتا تھا کہ ایسا اہتمام فرض و واجب کا خدا ہم کو نصیب کرے۔ پانچوں وقت جامع مسجد کی اوّل جماعت کی تکبیرِ تحریمہ ناغہ نہیں ہونے پاتی تھی اور تہجد اور اشراق کے علاوہ تحیۃ المسجد، صلوٰۃ التسبیح، منزل، دلائل الخیرات، حزب البحر اور خدا جانے اور کتنے اوراد و وظائف۔ جمعہ کے دن کبھی اس کے گھر جانے کا اتفاق ہوا ہے تو پہر دن چڑھے سے نمازِ جمعہ کی تیاری ہو رہی ہے۔ ایامِ بیض کے روزے داخلِ معمولات تھے۔ پھر مدت تک ترکِ حیوانات اور چلّہ کشی وغیرہ مذہبی ریاضتوں کی زحمت اٹھاتا رہا۔ انھی دنوں لوگ خیال کرتے تھے کہ شاید وہ شاہ حقانی صاحب سے بیعت کرنے والا ہے۔ پھر ایک زمانے میں اس کو ہندو جوگیوں اور سنیاسیوں کی طرف میلان رہا۔ پھر جو سنبھلا تو اہلِ حدیث میں جا شامل ہوا جن کو لوگ تعنتاً وہابی کہتے ہیں۔ غدر سے چند روز پہلے وہ پادریوں کا ایسا گرویدہ رہا کہ بس کچھ پوچھو ہی نہیں۔ نوبل صاحب کی صحبت میں اس کے مذہبی خیالات نے دوسرا رنگ پکڑا۔ یہاں تک کہ وہ انگریزوں میں جا ملا۔
اس سے تو انکار ہو ہی نہیں سکتا کہ اس کے مذہبی خیالات میں ایک طرح کا تزلزل ضرور تھا۔ مگر تبدیلِ وضع تک ضروریاتِ دین میں اس سے کمی سرزد نہیں ہوئی بلکہ تبدیلِ وضع کے بعد بھی لوگوں نے اس کو مسجد میں جماعت سے تو نہیں بارہا اکیلے نماز پڑھتے دیکھا۔ یہاں تک کہ شروع شروع میں جن دنوں اس کو نماز روزے کی بہت پرچول تھی کچہری کے عملے ہندو مسلمان سب قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ کیسے ہی کام میں مصروف ہوں اور سویر کی تو کہی نہیں جاتی مگر نماز ابھی تک تو چھوڑی نہیں۔ ہم تو ہر روز پرائیوٹ روم میں ظہر کی بلکہ جس دن دیر تک کچہری رہتی ہے عصر کی بھی نماز پڑھتے دیکھتے ہیں۔
لیکن انگریزی وضع کے ساتھ نماز روزے کا نبھنا ذرا مشکل تھا۔ کوٹ تو خیر اُتار الگ کھونٹی پر لٹکا دیا۔ کم بخت پتلون کی بڑی مصیبت تھی کہ کسی طرح بیٹھنے کا حکم ہی نہیں۔ اُتارنا اور پھر پہننا بھی دقت سے خالی نہ تھا۔ اس سے کہیں زیادہ دقت طہارت کی تھی جو نماز کی شرطِ ضروری ہے۔ پھر اکثر اتفاق پیش آ جاتا تھا کہ ابن الوقت اپنے پرائیوٹ روم میں نماز پڑھ رہا ہے اور کوئی صاحب اس کی کچہری میں آ نکلا اور اجلاس خالی دیکھ کر واپس چلے گئے۔ یا نماز کا وقت ہے اور انگریزوں نے آ گھیرا ہے ان کو چھوڑ کر جا نہیں سکتے۔ یا کوئی صاحب کچہری برخاست کر کے جانے لگا تو ابن الوقت کے پاس سے ہو کر نکلا۔ کیوں مسٹر ابن الوقت ہوا خوری کو چلتے ہو۔ یا چلو ذرا ٹنس کھیلیں۔ یہ اور اس طرح کے اتفاقات ہر روز پیش آتے تھے اور نماز کا التزام ممکن نہ تھا کہ باقی رہ سکے۔ ایک بڑی قباحت یہ تھی کہ اکثر انگریز مطلق پابندیِ مذہب کو حمق اور سخافت سمجھتے تھے۔ غرض نماز پر تو انگریزی سوسائٹی کا اثر یہ دیکھا کہ پہلے وقت سے بے وقت ہوئی پھر نوافل پھر سنن جا کر نرے فرض رہے وہ بھی پانچوں وقت پہلی رکعت میں سورۂ عصر تو دوسری میں سورۂ کوثر۔ پھر جمع بین العصرین والمغربین شروع ہوا۔ پھر قضائے فائتہ پھر بالکل چٹ۔
کھانے پینے میں احتیاط کے باقی رہنے کا کوئی محل ہی نہ تھا۔ ابن الوقت کو انگریزوں کے پرچانے کی پڑی تھی اور وہ بے شراب کے پرچ نہیں سکتے تھے۔ ابن الوقت نے کون سی بات اٹھا رکھی تھی کہ وہ شراب خواری کے الزام سے ڈرتا۔ مگر ہم کو تحقیق معلوم ہے کہ وہ شراب سے نہ بہ پاسِ مذہبِ اسلام محترز تھا بلکہ اس وجہ سے کہ ڈاکٹر نے اس کو ڈرایا تھا کہ اگر تم شراب پیو گے تو کوڑھی ہو جاؤ گے۔ اس پر بہت سے انگریزی کھانے ہیں کہ شراب ان کے مصالحے میں داخل ہے۔ بہتیری دوائیں ہیں کہ بدون شراب کے نہیں بن سکتیں بلکہ ان لوگوں کی طب میں شراب خود دوا ہے کثیر الاستعمال، انگریزی تمدن اختیار کرنا اور شراب سے پرہیز رکھنا ایسا ہے کہ کوئی شخص کلالوں کی دکان میں رہے اور منہ کالا نہ کرے۔ رہے انگریزی سوسائٹی کے بڑے معزز ممبر کتے۔ کیوں کر ممکن تھا کہ جاں نثار جو ابن الوقت کی تبدیلِ وضع میں مشاطہ کا کام دے رہا تھا۔ انگریزیت کی شرطِ ضروری کو بھول جاتا۔ اس نے پہلے ہی سے ابن الوقت کے لیے کئی قسم کے کتے بہم پہنچا رکھے تھے۔ ان میں بعض ایسے بھی تھے کہ ہر وقت ہمزاد کی طرح ابن الوقت کے ساتھ لگے رہتے تھے۔
غرض تبدیلِ وضع سے ایک ہی مہینے کے اندر اندر ظاہرا اسلام کا کوئی اثر ابن الوقت اور اس کے متعلقات میں باقی نہ تھا اگر کوئی انجان آدمی ابن الوقت کی کوٹھی میں جا کھڑا ہوتا ہرگز پہچان نہ سکتا کہ اس میں کوئی انگریز رہتا ہے یا ہندوستانی۔
بھلا آدمی جس کو انگریزی کے خبط نے گھر سے، خاندان سے، ابنائے جنس سے۔ شہر سے چھڑا کر تن تنہا جنگل میں لا کر ڈال دیا ہے۔ کسی انسان سے کسی طرح کی غلطی ہونا کچھ تعجب کی بات نہیں۔ مگر یہ کہ خدا نے اس کو معصوم پیدا کیا ہو۔ ابن الوقت سے بھی ایک غلطی ہوئی کہ اس نے تبدیلِ وضع کو مفید سمجھا۔ یہاں تک اس کی غلطی سے اس کے یا کسی دوسرے کے حق میں کوئی بڑی قباحت پیدا نہیں ہو سکتی تھی مگر آدمی تھا ذہین کم بخت لگا اپنے افعال کے جواز و استحسان کی تاویلیں گھڑنے۔ اوّل تو اصرار خلقتہً اس کے مزاج میں داخل تھا دوسرے مسلمانوں نے جو اس کی تمام حرکات و سکنات کو ارتداد کہنا شروع کیا اس سے اس کی ضد اور بھی بڑھتی گئی اور مسلمانوں کو تو خیر اس سے کوئی فائدہ پہنچا ہو یا نہ۔ مگر بابِ تاویل مفتوح کر کے اس نے مذہبِ اسلام میں تو بڑا بھاری رخنہ ڈال دیا۔ انگریزی تعلیم کی گھوس عمارتِ مذہب کے پیچھے ایسے پنجے جھاڑ کے پڑی کہ کھود کھود کر سارے مذہبوں کی جڑیں کھوکھلی کر دیں۔ حتیٰ کہ عیسائیت کی بھی۔ اسلام کے حصے کی یہ دیمک اور نکل پڑی۔ قیدِ مذہب سے طبیعتیں تھیں ملول۔ اونگھتے کو ٹھیلتے کا بہانہ ملا۔ کیا کریں دل تو ہمارا بھی للچاتا ہے کہ چلیں ابن الوقت کے ہاتھ پر بیعت کر لیں اور امر و نواہی کی کشمکش سے نجات ملے مگر کانشنس بھی چین لینے دے۔ ابن الوقت اور اس کے سارے اتباع یا یوں کہو کہ جو اس کے ہم خیال تھے عقل کے کھونٹے کے بل پر کودتے تھے۔ اور یہی وجہ تھی کہ انگریزی خوان جو نری ٹوٹی پھوٹی انگریزی پڑھ لینے سے اپنے تئیں بڑا دانش مند سمجھنے لگے تھے جلد اس کے مغالطے میں آ جاتے تھے۔
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.