
第 15 章,共 56 章
Medicine
طب
(۱۴)
یہ ہم بتا چکے ہیں کہ شیعہ خاندان اجتہاد اور فرنگی محل کے علمائے اہل سنت کی برکت سے اس آخری دربار کے عہد میں علم و فضل نے لکھنؤ میں کیسا عروج حاصل کیا اور اپنی سواد میں کیسی علمی کشش اور مرجعیت پیدا کرا دی۔ لیکن ابھی ہمیں طب یونانی سے بحث کرنا باقی ہے۔
یہ شریف ترین فن جس کو عالم انسانی کے محفوظ رکھنے اور نسل انسانی کو ترقی دینے سے واسطہ ہے، گو کہ اس کا ظہور ہر قدیم ملک میں خود رو طریقے اور جزئی تجربات سے ہوا ہے، مگر قدیم الایام میں مغرب کی طرف اہل یونان نے اس فن میں بہت ہی نمایاں ترقی کی تھی، اور مشرق میں ہندوؤں کے ناموران سلف نے اسے اعلیٰ درجۂ کمال پر پہنچا دیا تھا۔ مسلمانوں میں جب دربار خلافت قائم ہوا تو یہ فن دونوں جگہ سے آیا، اور دونوں سرزمینوں کے حاذق اطبا دربار بغداد کے طبیب تھے۔ ابتداءً دو ایک صدیوں تک تمام مستند اطبائے دربار عباسی ہندو تھے، عیسائی تھے، یہودی تھے، مگر مسلمان نہ تھے۔ مگر اس دور کے اطبائے باکمال چاہے کسی مذہب کے پیرو ہوں آغوش اسلام کے پروردہ اور عالم اسلامی کے ممتاز نامور تھے، اور انھیں کے ہاتھوں سے فن طب ایک نئی شان اور نئے عنوان سے مدون و منضبط ہونا شروع ہوا، جس میں تھوڑی اصلاح اور رد و بدل کے بعد اصولی ترتیب تو یونانیوں کی برقرار رکھی گئی مگر تجربات ہر ملک اور ہر قوم کے یکساں طور پر لیے گئے۔
اس کے چند روز بعد مسلمان اطبائے نامور پیدا ہونا شروع ہوئے، اور انھوں نے فن طب کو اپنے اجتہادوں اور اپنے تجربات سے اپنا بنانا شروع کیا، یہاں تک کہ ابن سینا نے قانون کی سی بے نظیر و لاجواب کتاب لکھ کے دنیا کے ہاتھ میں دے دی، اور اس کے آگے مشرق و مغرب کی تمام قوموں نے سر جھکا دیا۔ ادھر دربار اندلس نے کلیات و تجربات میں مشرق سے بھی زیادہ ترقی کی، اور فن طب مسلمانوں کا خاص فن بن گیا جس کے مرجع و ماویٰ ہر جگہ وہی تھے۔ ہر قوم اسے انھیں سے حاصل کر رہی تھی، اور اسی پر یورپ کی موجودہ ڈاکٹری کی عمارت قائم ہوئی جس کو زیادہ تعلق اندلس کے اسلامی طبی اسکول سے تھا۔
لیکن ادھر آخری صدیوں میں جب مسلمانوں کا زوال شروع ہوا تو اس کا اثر سب سے پہلے ان کے علوم و فنون میں اور سب سے زیادہ فن طب میں نمایاں ہوا، اور اکثر ممالک میں اس کی وہی حالت ہو گئی جو عروج یونان کے آغاز میں تھی، یعنی معمولی قابلیت کے لوگ بغیر اس کے کہ فن کی اعلیٰ ترین کتابوں پر ان کی نظر پڑی ہو اپنے جزئی تجربوں سے لوگوں کا علاج کرتے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ چند ہی روز میں مصر و عرب، شام و عراق فن جاننے والے طبیبوں سے خالی ہو گئے۔ صرف ایران اور ہندوستان میں یہ فن باقی تھا۔ لیکن اس پچھلی صدی میں ایران بھی طبیبوں سے خالی ہو گیا۔ اور تمام ممالک اسلام میں اپنے اس فن قدیم کے متعلق ایسی جہالت تھی کہ جب یورپ کے فرانسیسی اور انگریز ڈاکٹر نمودار ہوئے تو عوام و خواص سب کو ایک نعمت الٰہی نظر آئے، اور کسی کو اس کی حس نہ تھی کہ یہ اصلی فن ہمارا ہی تھا، اور ہمارے یہاں بھی کبھی اطبا ہوتے تھے۔
مسلمانوں کی طب کو اگر فنا ہونے سے بچایا تو صرف ہندوستان نے، جہاں آج تک اطبائے یونانی یورپ کی جدید اصناف طب کا مقابلہ کامیابی کے ساتھ کر رہے ہیں، اور باوجودیکہ خیراتی ہسپتال گاؤں گاؤں موجود ہیں مگر پھر بھی لوگوں کو جو اعتبار یونانی اطبا کے علاج پر ہے ڈاکٹروں پر نہیں۔
دہلی میں اگلے دنوں اس فن کے بہت سے باکمال گزرے جن میں حکیم ارزانی، حکیم شفائی خان، حکیم علوی خان، حکیم محمد شریف خان بہت اعلیٰ شہرت و کمال کے اطبا گزرے ہیں۔ لکھنؤ میں برہان الملک کے زمانے سے دہلی کے حاذق اطبا سرزمین اودھ میں آنا شروع ہو گئے۔ خصوصاً شجاع الدولہ کے عہد میں تو دہلی کے دو ایک طبیبوں کے سوا جتنے تھے سب یہیں چلے آئے۔ فیض آباد کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں جتنی سرکاریں تھیں ان میں سے ہر ایک سے کوئی یونانی طبیب ضرور وابستہ تھا، جن کا بہت کچھ ادب اور پاس و لحاظ کیا جاتا، اور ماہوار تنخواہ کے علاوہ روزانہ انعام و اکرام سے سرفراز ہوتے رہتے۔
آصف الدولہ کے زمانے سے جب لکھنؤ کمالوں کی قدردانی کا مرکز قرار پایا تو دہلی کے بہت سے خاندانی اطبا نے یہیں توطن اختیار کر لیا، اور چند روز کے بعد زبان اور شاعری کی طرح فن طب بھی خاص یہیں کا فن بن گیا۔ چنانچہ لکھنؤ نے حکیم مسیح الدولہ، حکیم شفاء الدولہ، حکیم مرزا محمد علی، حکیم سید محمد مرتعش، حکیم مرزا کوچک، حکیم بابا، حکیم مرزا محمد جعفر کے ایسے عالی پایہ و گرانقدر طبیب پیدا کیے جو سچ یہ ہے کہ اپنے فنون کے مجتہد تھے، اور سلف کے سارے سرمایۂ علمی پر ان کی نظریں تھیں۔ ہوتے ہوتے فن طب کو یہاں تک ترقی ہوئی کہ لکھنؤ کا شاذ و نادر ہی کوئی محلہ ہو گا جس میں کوئی نامور خاندان اطبا نہ موجود ہو۔ خاص شہر کے صدہا محلوں کے علاوہ گرد و نواح کے گاؤں اور قصبوں میں بھی ہزاروں مطب جاری تھے، اور ہندوستان کے جن درباروں اور شہروں میں مشہور و نامور طبیب تھے سب لکھنؤ اور اطراف لکھنؤ کے تھے۔ چنانچہ قصبۂ موہان کے ایک طبیب کو دربار گیکواڑ بڑودہ میں وہ عزت حاصل ہوئی جو بہت کم اطبا کو حاصل ہو سکی ہو گی۔ غرض ایسے نامور طبیب خاک لکھنؤ نے پیدا کیے جن کی مسیحا نفسی کے کارنامے آج تک بچے بچے کی زبان پر ہیں۔
دربار اودھ کے آخر عہد میں سید محمد مرتعش کے ایک شاگرد رشید حکیم محمد یعقوب نے اپنا مطب جاری کر کے ایسی مرجعیت عامہ حاصل کی کہ ان کی ذات سے ایک بہت بڑے نامور طبی خاندان کی بنیاد پڑ گئی، جو آج بلا مبالغہ دنیا بھر میں جواب نہیں رکھتا۔ اسی خاندان کے مرحوم ناموروں میں حکیم محمد ابراہیم، حکیم حافظ محمد عبد العلی، حکیم محمد اسمٰعیل، حکیم محمد مسیح، حکیم محمد عبد العزیز، حکیم حافظ محمد عبد الولی تھے، اور حکیم عبد الحفیظ صاحب، حکیم عبد الرشید صاحب، اور حکیم عبد المعید صاحب اس وقت اپنی مسیحائی کے کمالات دکھا رہے ہیں۔ کاش یہ اپنے خاندانی فن کو چھوڑ کے دوسری ہوسوں میں نہ پڑتے۔
دہلی میں حکیم محمد شریف خان کا خاندان اس وقت تک موجود ہے، جس میں حکیم محمود خان اور حکیم عبد المجید خان کے ایسے باکمال گزر چکے، اور حاذق الملک حکیم محمد اجمل خان صاحب بزرگوں کے نام کو اپنے ذاتی کمالات سے آج تک تازہ کر رہے ہیں۔ دہلی میں حکیم محمد اجمل خان صاحب نے ایک مدرسۂ طبیہ بھی جاری کر دیا ہے، اور طبی ویدک کانفرنس قائم کر کے اپنے فن کو بہت عروج دے رہے ہیں۔ ان کے مقابل لکھنؤ میں حکیم عبد العزیز صاحب نے مدرسۂ تکمیل الطب قائم کیا جس سے ہر سال بیسیوں اطبا تیار ہو کے اقطار ارض میں پھیلتے اور لکھنؤ کی طبی مرجعیت کا ثبوت دیتے ہیں۔
بہر تقدیر مسلمانوں کا برائے نام یونانی فن طب آج اگر دنیا بھر میں کہیں زندہ ہے تو ہندوستان میں، اور ہندوستان میں اس کے مرکز دو ہی شہر ہیں: دہلی اور لکھنؤ۔ مگر دہلی میں صرف ایک حکیم محمود خان کا خاندان ہے، اور لکھنؤ میں ایسے بیسیوں خاندان پڑے ہیں۔ دہلی میں بعض اور اطبا بھی مطب کرتے نظر آتے ہیں مگر وہ اسی زمانے کے جدید طبیب ہیں جنھوں نے اپنے مطب جما لیے ہیں۔ لکھنؤ میں گو کہ بہت سے نئے طبیب ہیں، لیکن ایسے بہت سے خاندان بھی ہیں جن میں صدیوں سے فن طب کو ترقی رہی۔
لکھنؤ اور دہلی کے اطبا میں ایک اور فرق بھی ہے۔ طب کا موجودہ نصاب تعلیم ہمیں نہیں معلوم اطبائے دہلی کا مرتب کیا ہوا ہے یا اطبائے لکھنؤ کا، لیکن اس پر پورا پورا عمل جیسا اطبائے لکھنؤ نے کیا اطبائے دہلی نہیں کرتے۔ پڑھائی وہاں بھی یہی کتابیں جاتی ہیں، مگر دہلی میں طبیبوں کا مطب ایک بڑی حد تک ان کی مدونہ طب سے الگ ہو جاتا ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے ویدک کی دواؤں کے اختیار کر لینے میں اسی قدر نہیں کیا کہ ان نئے اجزا کو اپنے مطب میں داخل کر لیا، بلکہ یہ بے احتیاطی بھی کی کہ ان کے داخل کرنے میں اپنے قدیم مدونہ و مسلمہ اصول خصوصاً مزاج کے مباحث سے چشم پوشی کر لی، اور ان اجزا کو استعمال کرا دیتے ہیں جن کے مزاج اور افعال و خواص سے وہ پوری طرح واقف نہیں ہیں۔ وہاں فی الحال سب سے بڑی شکایت یہ سنی جاتی ہے کہ مدرسۂ طبیہ دہلی کے نصاب میں تشریح کے علاوہ ڈاکٹری کے دیگر اصول بھی اس کثرت اور بے احتیاطی سے اختیار کر لیے گئے ہیں کہ اصلی فن طب بجائے ترقی کرنے کے بالکل مٹا جاتا ہے۔ یہی بے احتیاطی انھوں نے پہلے اصول ویدک کے اختیار کرنے میں کی تھی، اور یہی اب اصول ڈاکٹری کے لینے میں ہو رہی ہے۔ ایسی حالت میں دہلی میں ہمارے قدیم فن طب کا جو انجام ہوتا نظر آتا ہے نہایت خطرناک ہے۔
برخلاف اس کے لکھنؤ کے تمام طبی خاندانوں خصوصاً حکیم یعقوب مرحوم کے خاندان اور تکمیل الطب میں اصلی اصول طبی کے قائم رکھنے اور ان کو انھیں کے دائرے میں رکھ کے ترقی دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کے مطب اس وقت تک اپنے فن اور اپنی کتابوں سے ذرا بھی جدا نہیں ہیں، اور ایسی سلامت روی کے راستے پر جا رہے ہیں جس سے امید ہو سکتی ہے کہ شاید اسلامی طب دست برد زمانہ سے بچ جائے۔ اگرچہ اصلی خدمت فن سے یہ لوگ بھی ہنوز بہت دور ہیں۔ طب کی روح علم دوا سازی ہے جو ہمارے قدیم علم کیمیا کا ایک شعبہ ہے۔ اسی فن پر یورپ کے موجودہ معجز نما فن کیمسٹری کی بنیاد قائم ہوئی ہے۔ اس فن میں مسلمان مصنفین سلف کی کتابیں ابھی کلیتہً نہیں مٹیں بلکہ بہت سی باقی رہ گئی ہیں۔ اساتذۂ طب کا کام ہے کہ بار بار ان کا مطالعہ کر کے ان کو سمجھیں، ان کو غور و خوض کر کے حل کریں، اور انھیں نصاب تعلیم میں داخل کریں، پھر ان کے اصول و ضوابط میں جدید تجربات سے فائدہ اٹھا کے مجتہدانہ تصرف کریں، اور اپنے دوا سازی کے فن کو باضابطہ بنا لیں، جس کے بغیر طب کے تمام کمالات اکثر اوقات بے نتیجہ اور غیر سودمند ثابت ہو جاتے ہیں۔
مگر اس کمی کے ساتھ بھی لکھنؤ نے طب کو جیسی ترقی دی اور مضبوط بنایا دہلی سے بہت زیادہ ہے، اور دنیا کے اور کسی حصے میں نہیں ہے۔
这一章在你心里留下了什么?
登录后参与
讨论
还没有人开口。说说这一章触动了你什么。