
الفصل 6 من 7
In Search of the Ruby, Sections 5–7
لعل کی تلاش: حصہ ۵ تا ۷
(٥)
ایک لق و دق میدان میں بندھیاچل پہاڑ کھڑا آسمان سے باتیں کر رہا ہے۔ رات دو حصہ ختم کر چکی۔ گھٹا چھائی ہوئی ہے اور بادل زور شور سے کڑک رہا ہے۔ آبشار بلندی سے گر رہے ہیں اور ہوا کے ٹھنڈے ٹھنڈے جھونکے بنگالی چڑیوں کو تھپک تھپک کر سلا رہے ہیں۔ شیروں کی دہاڑ اور ہاتھیوں کے چنگھاڑ نے جنگل سر پر اٹھا رکھا ہے۔ اس وحشت ناک مقام پر جہاں کوسوں انسان کا پتہ نہ تھا، پہاڑ کی چوٹی سے یہ آواز آ رہی ہے:
اس دل کی لگی نے کیا جوگن، گھر بار چھٹا تیرے کارن
نیناں ترسیں دکھلا درشن، چھتیں لگ جا آ جا احسن
دن رات ہوئے عمریں بیتیں، کھل کھل کر پھول ہوئیں کلیاں
پر دل کی کلی میری نہ کھلی، جنگل دیکھے، ڈھونڈھیں گلیاں
چلتی ہے ہوا پھولوں میں بسی، کہسار میں جب دن ہوتا ہے
آتی نہیں بو تیری لیکن، دل خون کے آنسو روتا ہے
بچوں سے چھٹا دن بھر کا فلک، جب گود میں تارے لیتا ہے
اس وقت دلِ مجروح مرا اندر سے صدا یوں دیتا ہے
کہہ دیجیو اتنا باد صبا احسن کی طرف گر ہو جانا
چھتین لگ جا یوں ہی احسن، ماں کیسی بونڈی شعبانہ
پہاڑ کی چوٹی، جنگل بیابان، رات کا وقت، غمزدہ شعبانہ اور مصیبت بھرا دل۔ غرض کچھ عجیب سماں تھا۔ مدت خاک اڑاتے ہو گئی۔ گرمی کا سورج، جاڑوں کی راتیں، آندھی اور طوفان سر پر بیتے مگر دل کی لگی نہ بجھنی تھی اور نہ بجھی۔ جن آنکھوں نے کبھی گیدڑ کی صورت نہ دیکھی تھی اب ان کے آگے سے گینڈے اور چیتے گذرتے، کجلی بن کی خطرناک منزل میں بڑے بڑے اژدہے برابر سے نکل جاتے۔ پہاڑوں میں دن گذرے، جنگلوں میں راتیں آئیں، چشمہ کا پانی، جنگل کے پھل، کھایا پیا اور چل کھڑی ہوئی۔
نا امید ہوتی، دل ٹوٹ جاتا اور ارادہ کرتی کہ مر جاؤں۔ پہاڑ سے گروں۔ دریا میں ڈوبوں، شیر کھائے، چیتا پھاڑے پھر خیال آتا کہ نہیں خدا کی قدرت بڑی ہے۔ دلوں کا حال جاننے والا، مظلوموں کی فریاد سننے والا، وقت پر کام آنے والا، وہ زبردست بادشاہ جس کی حکومت کے گیت درختوں کے پتے، پودوں کی کوپلیں، جنگل کے جانور، بستی کے آدمی سب گا رہے ہیں۔ جس نے یعقوب کو یوسف، رحمہ کو موسیٰ دیا، مجھ سے بھی احسن کو ملا دے گا۔ یہ تاروں بھری رات اور پھولوں بسی ہوا کبھی تو کام آئے گی۔ سیوا کرے سو میوہ پائے۔ چھ اور چھ بارہ پورا ایک جگ ہو گیا۔ بارہ برس بعد تو کوڑی کے بھی دن پھرتے ہیں۔ مصیبت کے دن نکل گئے، اب تو فقط آنکھوں کی سوئیاں رہ گئی ہیں۔ کچھ عجیب زندگی بسر کر رہی تھی، کبھی تو امید کی جھلک احسن کے ملنے کا یقین دلاتی، کبھی نا امیدی زندگی کو وبال بنا دیتی۔ وحشت خیز مقام جہاں انسان کا گذر نہ تھا آنکھ کے سامنے ہوتے اور رات بسر کر دیتی۔ محبت کا دریا لہریں لیتا۔ مامتا کا جوش بے چین کرتا، دیوانوں کی سی حالت ہوتی، چیختی چلاتی، روتی گاتی۔ آخر شعر ختم کر چکی تو خیال آیا، کوشش فضول، تلاش بے کار، احسن کہاں اور میں کہاں۔ آنکھیں اس کے تکتے تکتے بند ہونے کو آئیں اور پاؤں اس تک پہنچتے پہنچتے جواب دینے کو ہو گئے۔ دنیا اور دنیا کی چیزیں سب بدستور ہیں، ہاں میرا دل مر گیا جب دل ہی مر گیا تو میں زندہ رہ کر کیا کروں گی۔ بس ڈھونڈھ لیا جتنا ڈھونڈھنا تھا اور دیکھ چکی جتنا دیکھنا تھا۔ اس پہاڑ کی چوٹی سے گر کر ختم ہوں۔ لے میاں احسن خدا حافظ۔ اتنا کہا اور چاہتی تھی کہ نیچے گرے، دفعتاً یہ آواز کان میں آئی:
“او پاپن! تین دن تین رین خاک چھانتے بیت گئے۔ ان جل سب چھوڑ دیا۔ بابا جی کی آنکھ بچا چمپت ہوئی”۔
بجلی چمکی اور شعبانہ نے منہ موڑ کر دیکھا تو ایک جوگی لنگوٹی باندھے بھبھوت ملے لال لال آنکھیں، بڑی بڑی جٹیں ہاتھ پکڑے گھسیٹتا اور دھکے دیتا ایک طرف لے جا رہا ہے۔
(٦)
رات کا گریبان چاک ہو چکا۔ کالے کالے بادل، گھٹا ٹوپ اندھیرا، جھوکے اور جھکڑ سب ہوا ہوئے۔ پو پھٹ رہی ہے اور دریائے گنگا خموشی کے ساتھ لہریں لے رہا ہے۔ درختوں کے جھنڈ کنارے پر چھائے ہوئے ہیں اور رنگ برنگ کے پرند خدا کی تسبیح کر رہے ہیں۔ ایک منڈھیا میں بڈھا پھونس جوگی مرگ چھالا بچھائے آلتی پالتی مارے بیٹھا ہے اور چار چیلے نیچی نگاہ کیے کھڑے ہیں۔ شعبانہ بد نصیب اس الزام میں کھڑی ہے کہ ایک جوگی کو کھانے میں زہر دیا اور چمپت ہوئی۔
جوگی: اے سائن استری، ہم رام رام جپنے والے مانس دنیا کو چھوڑ چھاڑ اپنے مالک کا دھیان لگائے بیٹھے ہیں۔ سالگ نے تیرا کیا بگاڑا تھا؟
شعبانہ: جوگی مہاراج! میں مامتا کی ماری اپنے لال کی تلاش میں چار کھونٹ پھر رہی ہوں۔ نیا دانہ، نیا پانی، میں اس سے پہلے ادھر نہیں آئی۔ میرا دل آپ ہی کلپ رہا ہے۔ میں کہاں اور آپ کا چیلا کہاں؟
جوگی: اچھا اس استری کو دیوی کی بھینٹ چڑھا دو۔
(٧)
بندھیا چل کی چوٹی پر ایک خوش نما عمارت میں جو دیوی کا مندر ہے، بیسیوں پجاری اچھلتے کودتے پھر رہے ہیں۔ مندر طرح طرح کے پھولوں سے سجایا گیا ہے، مورتی کے گلے میں پنج رنگے ہار، برابر میں ننگی تلوار، جوگی مہاراج مضطرب و بے قرار شکار کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ منڈھیا سے دس بارہ آدمیوں کا ایک گروہ سنکھ بجاتا اور کچھ پڑھتا شعبانہ کو لیے نکلا۔ اس وقت شعبانہ کی حالت اور صورت دونوں دیکھنے کے قابل تھیں۔ سپید اجلی ساڑھی بندھی ہوئی تھی، ماتھے پر چندن کا تلک، ہاتھ میں پھولوں کی تھالی، آنسوؤں کی لڑیاں بہ رہیں، چہرے پر ہوائیاں اڑ رہیں، ٹھنڈے سانس بھرتی، آہستہ آہستہ قدم دھرتی چلی جاتی تھی۔
سوچتی تھی اور سوچتی کیا جانتی تھی کہ ایک آدھ گھڑی کی اور مہمان ہوں۔ خیر اسی بہانے تکلیفوں کا خاتمہ ہوا، مگر اے کم بخت تقدیر! اس آخر وقت بھی ساتھ نہ دیا۔ جان چلی اور نامراد چلی، آنکھیں ایک دفعہ اس لال کی صورت دیکھ لیتیں اور ہمیشہ کو بند ہو جاتیں۔ عمر تھوڑی دیر کو اسے ملا دیتی اور ختم ہو جاتی۔ رخصت کا وقت آ پہنچا اور اے احسن اس وقت تک خبر نہ لی۔ دنیا تیرے فراق نے دوزخ بنا دی۔ حال سے بے حال، صورت سے بے صورت، پھول سے پتھر، آدمی سے جانور، جو کچھ کہ ہونا تھا سب کچھ ہو گئی۔ پردہ ٹوٹا، عزیز چھوٹے، گھر کے بدلے جنگل ملا، تکیوں کے بدلے پتھر ملے، مگر نہ ملنا تھا تو احسن جس کے کارن جوگ لیا۔ کیا خبر تھی کہ تقدیر ان بے دردوں کے پھندے میں پھنسا دے گی اور مجھ بے گناہ کو دیوی کے بھینٹ چڑھا دیں گے۔ “اے خدا کے بندو! مجھ دکھیاری پر رحم کرو، یہ دل جو آج تمھارے ہاتھوں بجھتا ہے، بڑے بڑے ارمانوں سے لبریز ہے۔ میں مامتا کی ماری اس لال سے چھوٹی ہوں، جو چار ساڑھے چار برس میرے سینہ پر لوٹا ہے۔ میری بپتا سنو اور مجھ کو چھوڑ دو، شاید کہیں صورت دیکھ لوں”۔
ابھی جوگی کچھ جواب دینے نہ پائے تھے کہ برابر سے ایک شخص نکلا اور ٹکٹکی باندھ کر شعبانہ کو دیکھا۔ مظلوم کی گریہ و زاری پر غریب کا دل پسیجا۔ ٹھٹکا اور ٹھٹک کر قریب آیا۔ ایک سکتہ کی حالت تھی۔ قریب پہنچ کر تصویر کی طرح کھڑا ہوگیا۔ نگاہ شعبانہ کے چہرے پر جمی ہوئی تھی اور پاؤں زمین پر گڑے ہوئے۔ کچھ دیر تک اسی عالم میں کھڑا رہا اور پھر اس طرح پوچھا:
“کیا ہوا مائی کیا ہوا؟ کہاں سے آئی؟ کدھر چلی؟ کیا بپتا پڑی؟”
حسرت بھری نگاہیں سنتے ہی اوپر اٹھیں اور اس شخص کے چہرہ پر جا پڑیں۔ ایک موثر سماں تھا کہ شعبانہ دیکھتے ہی جھپٹی اور چیخ مار کر دوڑی، لپٹی اور یہ کہہ کر بے ہوش ہو گئی:
“اے لال!”
جوگیوں کے یہ دیکھ کر اوسان جاتے رہے، ایسے بھاگے کہ پلٹ کر نہ دیکھا۔ کہیں ڈیڑھ گھنٹہ کے بعد جا کر شعبانہ کو ہوش آیا تو کیا دیکھتی ہے کہ بچے کی گود میں سر ہے اور بارہ برس کا بچھڑا ہوا لال گوہر مقصود جوگن ماں کی حالت دیکھ دیکھ کر آنسو بہا رہا ہے۔ بے اختیار ہو کر کلیجے سے لگایا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اٹھنا چاہتی تھی مگر نہ اٹھ سکی۔ فرط محبت اور مامتا کا جوش دیوانہ بنا رہا تھا۔ آنکھ سے زار قطار آنسو بہ رہے تھے کلیجے پر سر رکھا اور پھر بے ہوش ہوگئی۔ پھر سوا پہر تک یہی حالت رہی، ہوش آجاتا، صورت دیکھتی، پیار کرتی، بلائیں لیتی اور پھر نڈھال ہو کر گر پڑتی۔ دوپہر کے وقت اٹھ کر بیٹھی اور تمام رام کہانی سنائی۔ احسن کا دل تو ماں کی صورت دیکھتے ہی بگڑ گیا تھا۔ حال سن کر تو اور بھی بے اختیار ہو گیا۔ ہاتھ چومے، پاؤں چومے اور شروع سے سارا حال کہہ سنایا۔ چار پانچ برس کا بچہ جدائی کا وقت خواب سا یاد ہوتا۔ مگر اس نے تو حرف بہ حرف تمام کتاب پڑھ ڈالی۔ فیروزہ بالکل بے گناہ تھی۔ دروازے پر آیا تھا فقیر، بچہ کو دیکھا پہنے اوڑھے، بہانہ سے لے سیدھا ہو لیا اور بنگال کے جنگلوں میں چھوڑ رخصت ہوا۔ وہ دن اور آج کا دن، ادھر شعبانہ ادھر احسن دونوں ماں بیٹے مچھلی کی طرح تڑپتے تھے۔ شعبانہ تو خیر مامتا کی ماری تھی، مگر احسن مُردوں سے بدتر تھا۔ بہتیرا سوچتا تھا، نہ شہر یاد آتا تھا نہ رستہ، ایک اس ماں کی صورت البتہ یاد تھی، جس کی گود میں چار پانچ برس پلا اور بڑھا۔
ختم شد
ما الذي تركه هذا الفصل فيك؟
سجّل الدخول للتفاعل
النقاش
لم يتكلم أحد بعد. قل ما حرّكه هذا الفصل فيك.