
Глава 11 из 12
The Secret Revealed (II)
افشائے راز (۲)
اس کے بعد حسین دیر تک دل ہی دل میں اپنی حالت پر افسوس کرتا رہا اور پھر ایک دفعہ چونک کے بولا ’’زمرد!‘‘ افسوس بڑا دھوکا ہوا؛ تو نے مجھے اسی وقت کیوں نہ بتا دیا جب میں تیرے پاس لایا گیا تھا۔ اس وقت تو تو بھی مجھے یقین دلا رہی تھی کہ یہ سب ملاء اعلیٰ کی چیزیں ہیں۔"
یہ سن کے زمرد آب دیدہ ہو گئی اور ایک درد کی آواز میں بولی: "میری قسمت ہی میں یہ لکھا تھا کہ تمھیں دھوکا دوں گی۔" زمرد کو آب دیدہ اور ملول دیکھ کے حسین کے دل پر ایک چوٹ سی لگی اور بے اختیاری کے ساتھ با وفا معشوقہ کے آنسو پونچھ کے کہنے لگا: " زمرد مجھے یہ خیال نہ تھا کہ اس سوال سے سے تیرے دل کو صدمہ پہنچے گا۔اچھا جانے دے ،وعدہ کرتا ہوں کہ پھر ایسی باتیں نہ پوچھوں گا۔"
زمرد: تم زخم پر اور نمک چھڑکتے ہو۔ اس وقت تک تم نے سب کچھ پوچھا مگر یہ نہ پوچھا کہ تم سے چھوٹ کے مجھ کم بخت کے سر پر کیا گزری۔ تم تو آزاد تھے ،دنیا میں پھر رہے تھے مگر آہ میں قید تھی،اور کیا کہوں کہ کس عذاب میں مبتلا تھی۔یہ بات میرے اختیار میں نہ تھی کہ کسی راز کا ایک ذرا سے اشارہ بھی دے سکوں۔" اتنا کہہ کے زمرد زار و قطار رونے لگی۔
حسین: (گلے لگا کر اور آنسو پونچھ کے ) بے شک مجھ سے غلطی ہوئی کہ ان باتوں کا پوچھنا بھول گیا مگر سچ کہتا ہوں کہ میں نے اس وقت تک کوئی بات سوچ سمجھ کے نہیں پوچھی۔ یہ جو کچھ پوچھا ہے ،میں نے نہیں پوچھا بلکہ حیرت و بے خودی پچھوا رہی تھی۔ایسی از خود رفتگی کی حالت میں کوئی فرو گزاشت ہوئی ہو تو معاف کر۔
زمرد: خیر اب تم نے یہ داستان چھیڑی ہے تو لو سنو۔یہ باغ فدائیوں اور باطنیوں کے اعتقاد میں تو جنت الفردوس اور ملاء اعلیٰ یا سرمدی عشرت کدہ ہے مگر سچ پوچھو تو شاہان التمونت کی عشرت سرا یا حرم سرا کی حیثیت رکھتا ہے۔ڈیڑھ سو برس کی متواتر کوششیں روز بروز اس کی رونق بڑھاتی رہیں،اور چوں کہ اس سے مذہبی کام لیا جاتا تھا لہٰذا ہر چیز کے بنانے میں بھی کوشش کی گئی کہ اس کی خوش نمائی اور دل فریبی انسان کے حوصلے سے زیادہ اور اس کے محو حیرت کر دیےے کے لیے کافی ہو۔یہ محل جو دیکھتے ہو کہ سونے چاندی اور مونگے موتی کے نظر آتے ہیں،صرف نقرئی طلائی اور ان کے جواہرات کے رنگ میں رنگ دیے گئے ہیں،ورنہ وہی اینٹ اور چونا ہے جس سے ہر جگہ مکان بنائے جاتے ہیں۔نہروں کو جاری کرنے میں البتہ بڑی محنت سے کام لیا گیا۔ مگر یہاں قدرتی طور پر پہاڑوں سے آبشار اور نہریں جاری کرنے کا سامان موجود تھا۔یہ بڑی نہر جواس باغ کے درمیان میں بھی ہے اور جس پر ایک سنہرا پل قائم ہے ،وہی نہر ویرنجان ہے جس کے کنارے تم نے مدتوں آہ و زاری کی ہے۔
حسین: (حیرت سے ) یہ وہی نہر ہے ؟
زمرد: " وہی! یہ نہر خاص شاہی قصر سے بہتی ہوئی یہاں آئی ہے اور یہاں سے چند ایسی گھاٹیوں میں ہوکے جن میں گزرنا غیر ممکن ہے ،اس فرحت بخش وادی میں پہنچ گئی ہے۔"
حسین: اور زمرد وہ روشنی کیسی تھی جسے تو نے نور یزدانی بتایا تھا؟
زمرد: وہ روشنی صرف یہ تھی کہ گرد کی پہاٹیوں پر رات کو بہت تیز روشنی اور پوری قوت کی مہتابیں چھوڑی جاتی تھیں جن کا عکس یہاں کے آئینوں اور شیشوں پر لے کے قوی اور تیز کیا جاتا تھا۔ اس روشنی کا سامان صرف اس زمانے میں کیا جاتا ہے جب یہاں کوئی شخص معتقد بنانے کے لیے لیا گیا ہو۔ اس وقت سب کو حکم رہتا ہے کہ جب وہ روشنی تیزی سے چمکے تو چلا کے کہیں "ھٰذا الذی ما وعدنی ربی"۔اور وہ دودھ اور شراب کے حوض بھی اسی ضرورت کے موقع پر لبریز کیے جاتے ہیں۔ لوگوں کا تختوں پر بیٹھنا،غلمانوں کا شراب پلانا اور ان کی بے فکری و خالص مسرت کے تماشے بھی اسی موقع پر دکھائے جاتے ہیں۔
حسین: اور یہ طیور کا نغمہ اور ان کا پھل توڑ توڑ کے لانا؟
زمرد: یہ کون بڑی بات ہے۔ چند سدھائے ہوئی طیور چھوڑ دیے گئے ہیں جن کو پھلوں کے توڑ لانے اور بغیر بھڑکے ہوئے لوگوں کے سامنے رکھ کے اڑ جانے کی مشق کرا دی گئی ہے۔ اسی طرح یہاں کے طیور کو قرآن پاک یہ یہ آیت بھی "سلام علیکم طبتم فادخلوھا خالدین" یاد کرا دی گئی ہے جس کو ہر وقت رٹا کرتے ہیں۔
حسین: بڑا گہرا فریب ہے ! بھلا کوئی کیوں کر سمجھ سکتا ہے۔ اور ہاں! زمرد جنت کے راز بتانے میں تو اپنی سرگزشت کہنا تو بھول ہی گئی؟
زمرد: میری مصیبت کیا پوچھتے ہو! میں ہی تھی جو ان سب آفتوں کو جھیل گئی۔کوئی اور ہوتا تو اب تک خاک میں مل چکا ہوتا۔
حسین: نہیں پیاری زمرد! ایسی باتیں زبان سے نہ نکال،میرے دل کو صدمہ ہوتا ہے۔ خدا کا ہزار ہزار شکر ہے کہ وہ سب مصیبتیں کٹ گئیں اور ہم اب پھر سے ایک دوسے کے آغوش میں ہیں۔
زمرد: اصل میں میں یہاں صرف ایک حور بنائے جانے کے لیے لائی گئی تھی۔ خور شاہ،اس کے ہم راز اہل دربار اور یہاں کی تمام حوروں کو ہمیشہ کسی خوب صورت عورت کی جستجو رہتی ہے تاکہ اس کے حسن و جمال سے جنت میں زیادہ سے زیادہ دل چسپی پیدا کریں۔ جب میں خور شاہ کے سامنے پیش کی گئی تو بد نصیبی سے اس کی نظر میں معمول سے زیادہ اور جنت کی تمام حوروں سے بڑھ کے خوبصورت ثابت ہوئی۔ اس نے ارادہ کیا کہ مجھے خالص اپنے لیے مخصوص کر لے۔ میں یہ خبر سن کے انتہا سے زیادہ پریشان ہوئی اور آخر دل میں فیصلہ کر لیا کہ چاہے مار ڈالی جاؤں مگر اس بے عزتی کو نہ گوارا کروں گی۔ابتدا میں مجھے طرح طرح کے لالچ دیے گئے۔ بتایا گیا کہ اس کی بی بی ہونے کے بعد تاج میرے سر پر رکھا جائے گا اور ایک عالی مرتبہ ملکہ بنوں گی،مگر میں نے کسی طرح نہ منظور کیا،اور جب اسے میری رضامندی سے مایوسی ہو گئی تو وہ ظلم پر آمادہ ہوا اور طرح طرح کی تکلیفیں دی جانے لگیں۔ دو ڈھائی مہینے اسی حال میں گزر گئے کہ میں ہر وقت موت کا انتظار کرتی تھی۔
معشوقۂ باوفا کی یہ مصیبت و وفا کیشی سن کے آنکھوں میں انسو بھر آئے اور ٹھنڈا سانس لے کے کہنے لگا" " زمرد! میرے لیے تو نے بڑی بڑی مصیبتیں اٹھائیں۔"
زمرد: یہ مصیبت نہ تھی بلکہ اسے میں راحت سمجھتی تھی،اس لیے کہ ابے عزتی اور آبروریزی سے بچی ہوئی تھی۔اب خور شاہ ناکامی کے غصے سے میرے قلح پر آمادہ ہو گیا تھا،لیکن اتفاقاً کسی دوست نے رائے دی کہ ایسے کام جو کہ کسی کے دل میں محبت پیدا کرنے سے تعلق ہو،ظلم و جور و زبردستوں سے نہیں نکلتے ؛ بہتر یہ ہو گا کہ چند روز کے لیے زمرد کو جنت کے ایک محل میں چھوڑ دیجیے ؛ وہاں جب ایک عرصے تک راحت و عیش میں رہے گی تو اپنے رنج و غم کو بھول جائے گیا اور آخر جوانی کے جذبات غالب آ کے اسے خود ہی آپ کی معشوقہ بننے پر آمادہ کر دیں گے۔ یہ رائے اسے پسند آ گئی اور میں اس کے محل سے لا کے اس جنت اور اسی قصر دری میں رکھ دی گئی۔ یہ ایسا محفوظ مقام ہے کہ خور شاہ کے خیال میں بھی نہ تھا کہ یہاں کبھی پرندہ پر مار سکے گا۔ باہر کا کوئی شخص یہاں آنہ سکتا تھا اور جو معتقد بنانے کے لیے لائے بھی جاتے تھے تو ان کی ہر وقت نگرانی ہوتی تھی اور کوشش کی جاتی تھی کہ سوا ایک آدھ بات کر لیے کے میں ان سے زیادہ مل بھی نہ سکوں۔ اوروں پر کیا منحصر ہے ،جب میں تم سے ملی ہوں،اس وقت بھی ان امور کی پوری نگرانی کی جاتی تھی اور مجال نہ تھی کہ سوا تمھارے بہلانے اور بہکانے کے میں تم سے ذرا بھی بے تکلف ہو سکوں۔یہاں مجھے ہر بات کا آرام تھا۔رات دن عیش و عشرت میں گزرتی تھی،اور خور شاہ کے اشارے پر یہاں کی تمام حوریں میری لونڈیاں بنی رہتیں اور ہر وقت میرا دل بہلانے کی کوشش کرتیں۔ حسین یہ سب سامان مسرت موجود تھا مگر میرے دل کو کسی طرح چین نہ آتا۔ تمھاری صورت ہر گھڑی آنکھوں کے سامنے رہی اور طرح طرح کی تدبیریں سوچا کرتی کہ کسی طرح یہاں سے نکلا بھاگوں ۔ انھیں دنوں تمھارے قتل کے بارے میں بھی مشورے ہوتے اور روز میرا لہو خشک ہوا کرتا۔ایک رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے ایک لق و دق میدان میں کھڑی ہوں؛ ناگہاں سامنے سے تم نظر آئے اور مجھ سے ملنے کو بے تحاشا دوڑے۔یکایک کسی شخص نے ایک درخت کی آڑ سے نکل کے تمھارے سینے میں ایک چھری ماری۔ تم وہ زخم کھاتے ہی سینہ پکڑ کے کھڑے ہو گےد اور میں بے اختیار روتی اور چیخیں مارتی تمھاری طرف دوڑی۔ بس اسی حال میں چیختے چیختے میری آنکھ کھل گئی۔اب کہاں چین پڑ سکتا تھا،باقی رات میں نے روکے بسر کی،اور صبح کو حیران و پریشان بیٹھی تھی کہ مرجان نام کی یہاں کی ایک حور جو مجھ سے کسی قدر مانوس ہو گئی تھی اور جس سے میں کبھی کبھی دو ایک باتیں کر لیا کرتی تھی،میرے پاس آئی اور ادھر اُدھر کی باتوں کے بعد بولی: " زمرد! تم نے کچھ اور بھی سنا؟ وہ نوجوان حسین جو تمھارے ساتھ تھا اب تک اسی وادی میں تمھاری قبر سے لپٹا بیٹھ ہے۔"اس موقع پر مجھے ضبط سے کام لینا چاہیے تھا مگر نہ رہا گیا؛ بے اختیار ایک ٹھنڈی سانس لے کے بول اٹھی: " حسین ابھی تک وہیں ہیں؟"
مرجان: ہاں۔ مگر اب یقین ہے کہ دو ہی ایک روز میں وہ مقام ان سے خالی ہو جائے گا۔
میں نے گھبرا کے پوچھا : "کیوں؟"
مرجان: وہ مقام ہم لوگوں کی سیر گاہ ہے اور اسی سبب سے خور شاہ چاہتے ہیں کہ وہاں کوئی ایسا شخص نہ رہے جو ہمارا راز نہ جانتا ہو۔ تمھارے ساتھی نوجوان کی نسبت پہلے تو یہ خیال تھا کہ جب بالکل مایوسی ہو جائے گی تو چلا جائے گا،اور اسی غرض سے تمھاری قبر بنادی گئی ہے ،پتھر پر تمھارا نام کندہ کر دیا گیا کہ تمھارے مرنے کا اسے یقین ہو جائے اور واپس جا کے اور لوگوں کو بھی ادھر آنے سے روکے ،مگر یہ تدبیر بے کار گئی۔لہٰذا مجبور ہوکے اب یہ تجویز قرار پائی ہے کہ جس طرح بنے اس کا کام تمام کر دیا جائے۔" حسین! میں نہیں کہہ سکتی کہ یہ جملہ سنتے ہی میرے دل کی کیا حالت ہوئی۔گھبرا کے اور بالکل بے اختیاری کے ساتھ کہہ اٹھی: " تو پھر مجھے بھی مار ڈالو"۔ میری بدحواسی دیکھ کے مرجان بولی: " اگر اس کو بچانا چاہتی ہو تو ایک کام کرو؛ خور شاہ کے سامنے چل کے خود اپنی زبان سے سفارش کرو۔" یہ ایسی بات تھی کہ جس کو میں ہرگز نہ مانتی مگر فقط اتنے خیال سے کہ تمھاری جان بچتی ہے طوعاً و کرہاً گئی۔ اور جب اس نے مسکرا کے مجھ سے کچھ بات کرنے کا ارادہ کیا تو میں نے آہ و زاری سے کہا "خدا کے لیے اس نوجوان کی جان نہ لیجیے جو میری یاد میں پڑا رو رہا ہے۔"میری درخواست سنتے ہی اس نے نہایت متین صوت بنائی مجھے بہت گھور کے اور غصے کی نگاہ سے دیکھا،اس لیے کہ میرے تمھارے تعلقات نے اس کے دل کو بڑا صدمہ پہنچایا اور نہایت ہی برہمی کی آواز سے پوچھنے لگا: " وہ تمھارا کون ہے ؟"
میں : وہ میرا عزیز ہے۔اسی کے ساتھ کھیل کود کے اور اسی کے ساتھ پڑھ لکھ کے میں بڑی ہوئی ہوں اور اسی سے میری شادی ہونے والی ہے۔اس سبب سے اکیلا وہی میری جان و مال کا مالک ہے۔
خور شاہ: تمھاری شادی ابھی اس کے ساتھ نہیں ہوئی؟
میں نے نظر نیچی کر کے جواب دیا: "نہیں!"
یہ جواب سن کے خور شاہ نے مجھے بدگمانی کی متجسس نگاہوں سے دیکھا اور پوچھا: "مگر شادی سے پہلے ہی تمھارے اس کے ایسے تعلقات ہو گےک کہ گھر بار چھوڑ کے ساتھ نکل کھڑی ہوئی تو یہ سمجھنا چاہیے کہ تمھاری عفت میں داغ لگ گیا؟"
اس کا جواب دیتے وقت مجھے بے انتہا شرم معلوم ہوئی۔ کسی طرح کوئی لفظ میری زبان سے نہ نکلتا تھا مگر صرف اپنی اور تمھاری جان بچانے کی غرض سے میں نے دل کڑا کر کے اور بے حیائی گوارا کر کے جواب دیا: " میں ایک توا اپنے بھائی کی قبر پر فاتحہ پڑھنے کو اور دوسرے حج کے لیے گھر سے نکلی تھی،مگر ہاں یہ البتہ ارادہ تھا کہ قزوین پہنچ کے عقد کرلوں گی۔"
خور شاہ: نکاح کی رسم تو خیر قزوین میں ادا ہوتی مگر غالباً تم میں اس میں میاں بی بی والے تعلقات پہلے ہی قائم ہو چکے تھے ؟
اس سوال پر میں اس قدر شرمائی کہ سارا جسم پسینے پسینے ہو گیا اور نظر نیچی کر کے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ شرم کے مارے آنکھیں بند کر کے جواب دیا: " نہیں میری عصمت میں کوئی فرق نہیں آیا۔"
اتنا سنتے ہی خور شاہ ایک بے اختیاری کے جوش سے یہ کہتا ہوا میری طرف دوڑا : " شکر ہے میری نازنین کے پاک جسم کو ابھی کسی کا ہاتھ نہیں لگا!" قریب تھا کہ وہ مےھ گلے لگا لے مگر میں نے دونوں ہاتھوں سے الگ ہی روکا اور اس کے ہاتھ سے بچنے کے لیے پاؤں کے پاس زمین پر گر کے کہنے لگی: " اس نوجوان کی جان نہ لیجیے ورنہ میں بے موت مر جاؤں گی۔" خور شاہ دیر تک سوچتا رہا۔پھر مجھے اٹھا کے بولا: " زمرد! یہ بہت ضروری ہے کہ وہ وادی اس ضدی شخص سے خالی کی جائے۔"
میں : آہ! میں نے اسے وصیت کر دی تھی کہ مرجاؤں تو گھر جا کے عزیزوں کو میری عفت و پاک دامنی کا یقین دلاؤ۔مگر افسوس اس نے نہ مانا!"
یہ سنتے ہی خور شاہ چونک پڑ ا اور بولا: " کیا تم نے اسے گھر جانے کی وصیت کی تھی؟"
میں : جی ہاں ۔وصیت کیسی،بہت تاکید اور اصرار سے کہا تھا۔
خور شاہ: تو خیر کوئی مضائقہ نہیں۔ایک نہایت عمدہ تدبیر ہے۔وہ وادی بھی اس سے خالی ہو جائے گی اور اسے کسی قسم کا ضرر بھی نہ پہنچے گا۔ مگر زمرد! یہ صرف تمھاری نظر محبت کی امید پر منحصر ہے۔
اس کے جواب میں کچھ کہنا مجھے بالکل بے موقع معلوم ہوا۔خاموش کھڑی رہی۔اور خور شاہ نے قلم دوات منگوا کے ایک خط کا مسودہ لکھا اور اسے میری طرف بڑھا کے کہا: "اسے تم اپنے ہاتھ سے صاف کر دو۔" میں نے اسے وہیں اس کے سامنے زمین پر بیٹھ کے صاف کر دیا اور واپس نہیں آنے پائی تھی کہ ایک دودھ لانے والے دہقانی کو بلوا کے خور شاہ نے وہ خط اس کے حوالے کیا اور حکم دیا کہ تمھاری غفلت میں قبرپر رکھوا دیا جائے۔یہ میرا پہلا خط تھا۔ میں اسی کا حال پہلے بھی بیان کر چکی ہوں۔ مگر پھر کہتی ہوں کہ کیسے کیسے مظالم ہوئے ہیں اور کیسی کیسی مجبوریاں پیش آئیں ہیں جب میں نے تم کو وہ خط لکھا ہے۔ اس خط کے روانہ ہو چکےم کے بعد جب میں جنت میں واپس آئی تو انتہا سے زیادہ حیران تھی۔ مجھے یقین ہو گیا تھا کہ اب مجھ سے مایوس ہوکے تم گھر چلے جاؤ گے۔روز اسی ادھیڑ بن میں رہتی تھی کہ تمھاری زبان سے میری موت کا قصہ سن کے اماں اور ابا کے دل پر کیا گزری ہو گی۔کئی ہفتے اسی حالت میں گزر گئے۔ وہ حور جس کا نام مرجان تھا،روز میرے پاس آتی اور ہمیشہ ہمدردی ظاہر کرتی،مگر مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ وہ خور شاہ کی سکھائی پڑھائی تھی اور اس سے روز جا جا کے کہہ دیا کرتی تھی کہ میں تمھارے لیے کس قدر حیران رہتی ہوں۔ایک دن اس نے باتوں باتوں میں پوچھا: " زمرد! تمھارا مکان آمل میں ہے ؟" میں چونک کے بولی: "ہاں !کیوں؟"
مرجان: وہیں ایک زبردست عالم، جو فی الحال نیشا پور میں رہتے ہیں، لوگوں کو ہمارے خلاف بہکا رہے ہیں اور اس جنت کو فریب بتاتے ہیں۔
میں : کون؟امام نجم الدین نیشا پوری تو نہیں؟
مرجان: ہاں ہاں وہی۔ ان کے قتل کی تجویز ہو رہی ہے۔
میں : (چونک کر)ہائے یہ تو بڑا ظلم ہو گا! وہ بڑے با خدا عالم ہیں ۔حسین کے استاد ہیں اور انھیں کے وہ مرید بھی ہیں۔
مرجان: (تعجب کر کے ) حسین ان کے شاگرد اور مرید ہیں؟
میں: اتنا ہی نہیں،ان کے بھےیجا بھی ہیں وہ۔
اس کے بعد میں دل میں افسوس کرتی رہی کہ یہ ظالم ناحق ایک با خدا شخص کی جان لیتے ہیں۔اور انھیں خیالات کی وجہ سے رات کو کئی پریشان اور مہیب خواب دیکھے۔دوسرے دن اٹھ کے بیٹھی ہی تھی،اور آفتاب اچھی طرح بلند نںخی ہونے پایا تھا کہ مرجان آئی اور کہےر لگی: "چلو زمرد! تمہیں خور شاہ نے بلایا ہے۔"
میں : ( پریشانی کی صورت بنا کے ) کیوں؟
مرجان: یہ میں کیا جانوں،مگر اسی وقت چلو۔ مجبوراً میں اس کے ساتھ گئی۔ وہاں جا کے دیکھا تو ایک خوب صورت لڑکی کے ہاتھ سے لے لے کے جام شراب پی رہا تھا۔میری صورت دیکھتے ہی بولا: "زمرد! تم کسی طرح حسین کے خیال کو نہیں چھوڑتیں۔اگر میری آرزو پوری کرے کا اقرار کرو تو تمھیں حسین سے ملانے کا وعدہ بھی کرتا ہوں۔" یہ الفاظ سنتے ہی میرے دل میں ایک خفیف سی مسرت پیدا ہوئی مگر اس کی شرط بالکل ایسے تھی جیسے شربت کے جام میں زہر ملا ہو۔تاہم میں نے اور کسی خیال کو دل ہی دل میں دبا کے کہا: " اگر آپ کے رحم نے مجھے ان سے ملا دیا تو زندگی بھر لونڈی رہوں گی۔" میرے اس جواب سے وہ خوش ہوا اور فوراً ایک دوسے خط کا مسودہ دے کر کہا: "اس کو اپنے قلم سے صاف کر دو۔: میں نے مسودہ ہاتھ میں لے کے قبل اس کے کہ پڑھا ہو خور شاہ کی طرف دیکھ کو پوچھا: " اب تو حسین اس وادی سے چلے گئے ہوں گے ؟"
خور شاہ: نہیں،اس نے تمھارے پہلے خط کی ذرا بھی پرواہ نہیں کی۔اسی طرح قبر کا مجاور بنا بیٹھا ہے۔تم اسے اپنا باوفا اور سچا عاشق سمجھتی تھیں مگر وہ تمھاری پروا بھی نہیں کرتا۔اس دل کش وادی میں اس کا ایسا دل لگا کہ اب تھارے حکم کو بھی نہیں مانتا۔
میں: نہیں۔ وہ ایسے ہی با وفا ہیں جیسا کہ میں سمجھتی ہوں۔ جس طرح میری جدائی نہ گوارا کی تھی،اسی طرح اب انھیں میری قبر کی مفارقت بھی گوارا نہ ہو گی۔
حسین: ( جوش میں آکر) بے شک زمرد! صرف اسی خیال سے میں نے تیرا پہلا حکم نہیں مانا۔
زمرد: خیر، میری زبان سے یہ باتیں سن کے اس نے ایک حیرت کے ساتھ مجھے گھور کے دیکھا اور کسی قدر پست آواز میں بولا: " یہ مسودہ جلدی صاف کر دو کہ وہ تم سے ملنے کا سامان کرے۔" مجھے اس مسودے کے پڑھتے ہی حیرت ہو گئی۔ پڑھتی جاتی تھی اور دل میں کہتی جاتی کہ کہ یہ لوگ کس قدر مکار اور فریبی ہیں۔بہرحال میں نے خط صاف کر کے دیا ور چلی آئی۔ دوسے دن مجھے مرجان کی زبانی معلوم ہوا کہ وہ خط تمھارے پاس بھیج دیا گیا۔ اور اس سے غرض یہ تی کہ تمھیں شیخ علی وجودی کا معتقد بنا کے انھیں کے ذریعے تمھارے ہاتھ سے امام نجم الدین نیشاپوری تمھارے ہاتھ سے قتل کرائے جائیں اس کے صلے میں تم جنت کی سیر کرو اور مجھے تم سے ملنے کا موقع ملے۔حسین! کیا کہوں کہ یہ حال معلوم ہوتے ہی میں نے اپنے اوپر کتنی لعنت و ملامت کی ہے۔ میں دل میں ڈرتی تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میری وجہ سے ان کے خون میں اپنے ہاتھ رنگ لو دعا کرتی تھی کہ خد کرے پہلے خط کی طرح تم اس خط پر بھی عمل نہ کرو۔ مگر جب معلوم ہوا کہ یہاں کے بھیجے ہوئے گدھے پر سوار ہوکے تم روانہ ہو گےت ہو تو دل میں اور ڈری اور دعا کرنے لگی کہ خداوندا! حسین کو اس گناہ سے بچا! مگر مدت کے بعد جب معلوم ہوا کہ اب دو ہی تین دن میں تم جنت میں آیا چاہتے ہو تو مجھے یقین ہو گیا کہ تم ان ظالموں کے پھندے میں پھنس گئے۔ جب تم اس وادی کو چھوڑ کے چلے گئے تو یہاں کی حوریں پھر اکثر اوقات سیر و تفریح کے لیے وہاں جانے لگیں۔ جن کے ساتھ خور شاہ کی اجازت سے کبھی کبھار میں بھی چلی جاتی تھی،اور اپنی قبر کو دیکھ کے تمھارے خیال سے اکثر دل ہی دل میں روتی۔ جب تم جنت میں آئے ہو اس سے پہلے ہی مجھے بتا دیا گیا تھا کہ تم سے کیوں کر ملوں ،کس قسم کی باتیں کروں اورتمھارے اعتقاد کو کس طرح بڑحاؤں۔تاکید تھی کہ اگر ا س کے ذرا بھی خلاف ہوا اور ذرا سا بھی راز تم پر ظاہر ہو گیا تو پہلے تم مار ڈالے جاؤ گے اور پھر میں۔ہر وقت یہاں میری اور تمھاری نگرانی ہوتی رہتی تھی اور مجھے تم سے ایک لفظ کہنے کا موقع بھی نہ ملتا تھا۔ اس کے علاوہ مجھے تمھاری یہ حالت نظر آئی کہ جیسے تم پر کوئی سخت جادو چلا ہوا تھا اور اپنے ہر نیک و بد سے بے خبر تھے۔ایسی حالت میں اس کی بھی امید نہ تھی کہ تم سے کچھ کہوں گی تو تم اسے ضبط کر کے چھپا سکو گے۔اسی خیال سے میں نے کچھ نہ کہا۔ تاہم موقع پا کر اتنا بتا دیا کہ نا امیدی کی حالت میں مری قبر پر آنا،اور آخر اسی تدبیر سے خدا نے کامیاب کیا۔ مگر حسین! میں نے تمھارے لیے خور شاہ کے ہاتھ سے بڑ بڑے ظلم اٹھائے۔برائے نام جنت تھی۔ تمھارے جانے کے بعد اور زیادہ سختیاں ہوئیں اور اب خور شاہ کو خیال ہو چلا تھا کہ میں کبھی اس کے موافق نہ ہوں گی،مگر لوگوں کے کہنے سننے اور اس کے دلی میلان کا نتیجہ تھا کہ اس وقت زندہ ہوں۔
حسین: (زمرد کو گلے لگا کے ) غنیمت ہے کہ اتنی مصیبتوں کے بعد ہم پھر مل گئے۔مگر اب مجھے ضرور ہے کہ ان ظالموں سے ان باتوں کا انتقام بھی لوں۔جب تک انتقام نہ لوں گا کبھی آرام سے بیٹھنا نہ نصیب ہو گا۔ میرے گناہوں کا کفارہ یہی ہے کہ دنیا کو خور شاہ،علی وجودی اور طور معنی کی نجاست سے پاک کروں ۔جس طرح ابھی تک ان لوگوں کا فدائی تھا، اب دین کا سچا فدائی بنوں گا۔ہر ایک مستقر پر جاؤں گا اور اسی طرح فریب و مکر سے ان لوگوں کو جنت کے بہانے دوزخ میں بھیجوں گا۔
زمرد: تمھیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں ، فی الحال عید قائم قیامت ہے ؛ یہ سب لوگ یہیں آئے ہوئے ہیں،اسی قلعے میں موجود ہیں،اور ان کی سزا دہی کا بھی پورا انتظام ہو گیا ہے۔آج ہی شام تک تمھیں موقع مل جائے گا کہ شاہ زادی بلغان خاتون کے ساتھ خور شاہ کے محل اور قلعے میں گھس کے ایک ہی وقت میں تینوں شخصوں کا کام تمام کر دو۔
حسین: زمرد! تجھے یہاں کے سب حالات کیوں کر معلوم ہو گےل ؟
زمرد: حوروں اور جنت والوں سے کوئی راز چھپا تھوڑی ہی ہے۔ مرجان کی طرح یہاں کی بعض حوریں خور شاہ کے محل میں جاتی ہیں اور ان میں سے ایک ہر وقت اس کی صحبت میں موجود رہتی ہے۔یہ حوریں جب واپس آتی ہیں تو جو دیکھتی سنتی ہیں دوسروں سے کہہ دیتی ہیں۔ اس طرح تھوڑی ہی دیر میں ہر بات سب میں مشہور ہوا جاتی تھی،اور کسی نہ کسی ذریعے سے میں بھی سن لیتی تھی۔اور ہاں حسین! یہ تو بتاؤ کہ شاہزادی کے ساتھ کتنی فوج ہے ؟
حسین: فوج! تھوڑے سے جوان ہونگے۔
ناگہاں ایک شور و ہنگامے کی آواز بلند ہوئی۔ دونوں گھبرا کے محل سے باہر نکل آئے اور ہزارہا سپاہیوں کا عظیم الشان لشکر دیکھ کے اس محل کی طرف دوڑے جس میں شہزادی بلغان خاتون آرام کر رہی تھی۔
Что оставила в вас эта глава?
Войдите, чтобы отреагировать
Обсуждение
Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.