Urdu in Translation
Recherche

Chapitre 10 sur 12

The Secret Revealed (I)

افشائے راز (۱)

Abdul Halim Sharar

Écriture
Taille

حیرت زدہ و حواس باختہ نوجوان حسین کو زمرد شاہ زادی کی تجویز کے مطابق قصر دری میں چھوڑ کے واپس گئی تو وہ گھبرا کے ایک ایک چیز کو دیکھتا اور اپنے دل سے پوچھتا تھا کہ کیا حقیقت میں یہ وہی مقام ہے جہاں میں امام قائم قیامت کی مدد سے آیا تھا؟ مگر وہ تو ملاء اعلی پر تھا اور یہ زمین ہی پر ہے ! لیکن کیوں کر شک کیا جائے !خود زمرد بھی تو موجود ہے۔ اگر یہ کوئی دنیاوی باغ ہے تو وہ کیوں کر چلی آئی؟ خود اسی نے لکھا تھا کہ جنت میں ہوں اور فردوس بریں کی سیر کر رہی ہوں۔آخر اسے جھوٹ بولنے سے فائدہ؟ اس کے بعد وہ محل کے برآمدے پر آ کے کھڑا ہوا ور ایک ایک عمارت،ایک ایک چمن کو غور سے اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے دیکھنے لگا۔ ہر چیز وہی اور ویسی ہی تھی جیسی کہ پہلے نظر سے گزری تھی۔ قصروں کے روکار پر اسی طرح جواہرات جڑے ہوئے تھے۔ ان کی وضع بھی ویسی ہی تھی جیسی کہ پہلے نظر سے گزری تھی۔چمنوں کا بھی وہی رنگ اور نقشہ تھا۔سڑکیں اور روشیں بھی اسی طرح رنگ برنگ اور نظر فریب تھیں۔سونے چاندی کے تخت آج بھی اسی پہلی شان سے بچھے تھے۔ نہریں بھی اسی طرح مستانہ روی سے بہ رہی تھیں۔ ہاں صرف ایک چیز کی کمی تھی کہ وجد میں لانے والا گانا نہ تھا۔ مگر جب طیور کی زبان سے وہی قرآنی ترانہ خیرمقدم سن لیا تو ادھر سے بھی شک جاتا رہا۔ وہ اسی پس و پیش میں تھا ایک طائر نے ایک تازہ و شاداب سیب اپنی چونچ میں لا کے اس کے سامنے ڈال دیا ور وہ چونک کے بول اُٹھا: " یہ بھی خاص فردوس بریں کی علامت ہے۔"

حسین کے خیالات میں ایک عجیب قسم کا تردد و اضرناب تھا اور یہ معما کسی طرح حل ہونے کو نہ آتا تھا کہ سامنے سے زمرد آتی نظر آئی جو شاہزادی سے رخصت ہوکے اس کے پاس آ رہی تھی۔اس کی دل ربا اور ناز آفرین صورت دیکھتے ہی وفور جوش سے حسین کا دل دھڑکنے لگا اور عشق کے جذبات نے یک بہ یک ایسی بے اختیاری کی حالت طاری کی کہ برآمدے سے اتر کے استقبال کو دوڑا اور دونوں ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔

حسین: پیاری زمرد! للہ بتا کہ میں کس عالم میں ہوں؟ اور یہ کیا دیکھ رہا ہوں؟

زمرد؛ (مسکرا کے )وہی دیکھ رہے ہو جو ایک دفعہ دیکھ چکے ہو۔

حسین: وہی! یعنی ملاء اعلیٰ پر ہوں۔

زمرد؛ واقعی جو ساز و سامان نظر آ رہا ہے وہ اس کے لحاظ سے اس جگہ کو ملاء اعلیٰ ہی کہنا چاہیے۔

حسین: کہنا چاہیے ؟ تو کیا اصل میں نہیں ہے ؟

زمرد: تم ہی اپنے دل سے پوچھو۔تم نے اس مقام کو زمین پر پایا یا آسمان پر؟

حسین: آیا تو زمین کے راستے سے ہی ہوں ۔

زمرد: تو زمین پر ہی سمجھو۔

حسین: مگر کیوں کر سمجھوں؟ تمھاری قبر، تمھارے وہ خطوط، یہاں تک آنے کے وہ گزشتہ ذریعے ، ان تمام باتوں میں سے جس چیز کا خیال کرتا ہوں اسی امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ کوئی اور عالم ہے اور یہاں کی مسرتیں دنیاوی مسرتوں سے بالا ہیں۔

یہ باتیں کرتے ہوئی دونوں قصر میں داخل ہوئے اور زمرد نے کہا: " یہاں کی مسرتیں تو بے شک دنیا کی عام مسرتوں سے بالا ہیں مگر یہ نہ سمجھو کہ تم دنیا سے نکل کے کسی اور جگہ آ گئے ہو۔"

حسین: پھر وہ سب واقعات جو گزر چکے ہیں ان کی نسبت کیا خیال کروں؟

زمرد: وہ سب میری مجبوری،میری بے دست و پائی اور تمھاری سادہ لوحی کا نتیجہ تھے۔

حسین: میں اس کا مطلب نہیں سمجھا؟

زمرد: گھبراؤ نہیں، سب سمجھ جاؤ گے۔ مگر افسوس جس قدر زیادہ سمجھو گے اسی قدر زیادہ پریشان ہو گے اور اپنے کیے پر پچھتاؤ گے۔

حسین: زمرد! اب مجھے تیری صورت پر بھی شبہ ہوتا ہے۔ تو وہی زمرد ہے جو میرے ساتھ آمل سے آئی تھی؟

حسین کی زبان سے یہ سادگی کا یہ سوال سن کے زمرد کو ہنسی آ گئی مگر ضبط کیا،اور ایک عجیب دل فریب ادا کے ساتھ پُر معنی اور شوخ چتونوں سے دیکھ کے بولی: "نہیں،دوسری ہوں۔"

اس جواب کو حسین نے سنا ہی نہیں۔اس نے زمرد کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور غور سے دیکھ کے بولا:" یہ وہی نورانی جسم ہے یا میرے جسم کا سا مادی پتلا؟"

زمرد: " ہوش کی باتیں کرو۔ تم بالکل از خود رفتہ ہوئے جاتے ہو۔اور تمھاری آنکھوں کے سامنے سے ایک بڑا طلسم ٹوٹا ہے۔ جس کے اثر سے تمھارے حواس نہں ٹھکانے رہے۔ذرا ہوش میں آؤ اور حواس کی باتیں کرو کہ سارا راز اور تمام سرگزشت بیان کروں۔

حسین: پیاری زمرد! جلدی بیان کر۔ اس لاعلمی اور ناواقفی نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے۔

زمرد: سنو! اس وادی میں ہم دونوں نے جن پریوں کو دیکھا تھا وہ پریاں نہ تھیں بلکہ اسی مصنوعی جنت کی حوریں۔۔۔۔

حسین: (حیرت سے بات کاٹ کے ) مصنوعی جنت؟ تو یہ وہ جنت نہیں ہے جس کا مومنین سے وعدہ کیا گیا ہے ؟

زمرد: ذرا صبر کرو۔ خیر تم تو وہاں بے ہوش ہو گےے اور مجھے وہ یہاں پکڑ لائیں۔ نہ میں ماری گئی اور نہ شہید ہوئی، مگر صرف اس لیے کہ تم کو میرے مرنے کا یقین آ جائے ،انھوں نے واپسی سے پہلے بھائی کی قبر میں ذرا تغیر پیدا کیا اور اسی وقت رات کو مجھ سے پوچھ کے بھائی کے نام کے برابر میں میرا نام بھی کندہ کر دیا۔ اس غرض سے کہ تم مجھ سے مایوس اور میرے خیال سے دست بردار ہوکے چلے جاؤ؛ اس وادی کی خطرناک حالت ہر ملنے والے سے بیان کرو اور یہاں کی پریوں کی ہیبت ہر شخص کے دل میں بٹھا دو۔

حسین: تو تم زندہ ہو؟ اور یہ کہہ کے زمرد کو سر سے پاؤں تک گھور گھور کے دیکھنے لگا۔

زمرد: (جھنجھلا کے ) نہیں چڑیل ہو گئی ہوں۔ حسین نے اس کا کچھ جواب نہیں دیا ور زمرد نے ایک لمحہ توقف کے بعد پھر سلسلہ کلام شروع کیا: " تو تم کو یہ دھوکا دیا گیا اور میں یہاں لائے جانے کے بعد انھِیں عورتوں میں شامل کر دی گئی جو یہاں حوریں کہلاتی ہیں۔چند روز بعد دریافت کرنے سے معلوم ہوا کہ تم اسی طرح میری قبر کے مجاور بنے بیٹے ہو اور جانے کا نام ہی نہیں لیتے۔ آخر یہاں غور کیا گیا کہ وہ وادی تم سے کیوں کر خالی کروائی جائے۔اکثروں کی رائے تھی کہ قتل کر ڈالنا چاہیے مگر اتفاق سے میری ایک تدبیر کارگر ہو گئی اور تجویز قرار پائی کہ کسی ایسے طریقے سے تمھیں وطن واپس جانے کی ہدایت کی جائے کہ کسی کا لگاؤ ثابت نہ ہو، اور تم بغیر اس کے کہ کسی قسم کی بدگمانی کرو وہ وادی چھوڑ دو۔ اسی تجویز کا نتیجہ میرا پہلا خط تھا جس میں تم سے میری وصیت پوری کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔وہ خط میرے ہی ہاتھ سے لکھوایا گیا اور مجھ (ہی)سے حالات دریافت کر کے اس کے مضمون کا مسودہ تیار کیا گیا۔مگر حسین! وہ خط صاف کرتے وقت میں چپکے چپکے بہت روئی تھی،اس لیے کہ جانتی تھی خود اپنے ہاتھوں دائمی مفارقت کا سامان کر رہی ہوں۔ خیر وہ خط تمھارے پاس گیا اور یقین تھا کہ تم چلے جاؤ گے مگر تین چار روز بعد جب دریافت کیا گیا معلوم ہوا کہ تم اب بھی وہیں اسی طرح بیٹھے ہو۔اور گویا تما رے ارادے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔"

حسین: بے شک نہیں ہوئی تھی۔ زمرد! میں مرجاتا ور وہاں سے نہ ہٹتا۔

زمرد: " جب یہ معلوم ہوا تو لوگوں کو پھر فکر پیدا ہوئی،اب کیا کیا جائے ؟ اب کوئی تدبیر میرے ذہن میں نہ آتی تھی اور دل می ڈر رہی تھی کہ کہیں یہ غضب نہ ہو کہ لوگ تمھارے مار ڈالنے پر آمادہ ہو جائی۔اتفاقاً انھیں دنوں میں خبر آئی کہ امام نجم الدین نیشا پوری باطنین کے خلاف زورو شور سے وعظ کر رہے ہیں، اور تدبیریں کی جا رہی تھی کہ کسی فدائی کے ہاتھوں وہ قتل کرا دیے جائیں۔کمبختی یا شامت اعمال میری زبان سے نکل گیا کہ وہ تمھارے چچا اور تمھارے استاد و مرشد ہیں۔ یہ خبر جیسے ہی یہاں کے باد شاہ خور شاہ کے کان میں پہنچی اس نے خیال کیا کہ وہ امام عالی مقام تمھارے ہاتھ سے قتل ہوں تو زیادہ مناسب ہو گا۔اس طرح زمانے بھر کو معلوم ہو جائے گا کہ مذہب باطنیہ دلوں پر کس قدر گہرا اثر ڈالتا ہے کہ انسان اپنے عزیزو اقارب،استادو مرشد تک کی پروا نہیں کرتا۔تمھارے خنجر سے ان کا قتل ہو ان ایک ساتھ اتنی باتوں کا ثبوت دے سکتا تھا کہ بھتیجے نے چچا کو،شاگرد نے استاد کو،مرید نے مرشد کو بلا تامل ثواب سمجھ کے قتل کر ڈالا۔

زمرد نے یہیں تک کہا تھا کہ حسین نے بے اختیار ایک ٹھنڈی سانس لی اور آب دیدہ ہوکے بولا: " افسوس! میں نے کتنا بڑا ظلم اور گناہ کیا۔ آہ! ایسے معصوم امام،شفیق بزرگ اور خدا شناس مرشد کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے ،زمرد! یہ تیرے ہی شوق میں اور تیری ہی ہدایت کی وجہ سے تھا،ورنہ میں اتنے بڑے ظلم کی جرات ہرگز نہ کرتا۔"

زمرد: حسین! میں نے پہلے بھی کہا تھا ور اب بھی کہتی ہوں کہ اس گناہ میں مجھے نہ شریک کرو۔۔ مجھے جب اس کا خیال آ جاتا ہے کانپ اٹھتی ہوں مگر خیر اب یہ ذکر جانے ہی دو۔ایک ہونے والی بات تھی جس کو کوئی نہ روک سکتا تھا۔ میں نے اگر تمھیں اس کام کے لیے تیار کیا تو اپنے بس میں نہ تھی،اور تم اگر آمادہ ہو گےھ تو اپنے ہوش میں نہ تھے۔

حسین: ( زور سے سینہ پیٹ کر) مگر افسوس، زمرد! یہ عذر خدا کے سامنے نہ سنے جائیں گے۔ میں نہ مجنون تھا، نہ بے ہوش؛ صاف نظر آ رہا تھا کہ ایک گناہ عظیم کر رہا ہوں میگر تیرا شوق بار بار دل کو ابھار کے آمادہ۔۔۔۔۔

زمرد: ( بے تابی سے بات کاٹ کے ) ہائے پھر میرا نام۔۔۔۔۔!خدا کے لیے حسین! مجھے اپنے ساتھ نہ گنو ( روکے اور آنسو بہا کے ) میں نے جو کچھ کیا ہے مجبوری اور بے بسی سے۔افسوس! خود اپنے دل سے تو لعنت کی آواز سن رہی تھی، اب تمھاری زبان سے بھی وہی سنتی ہوں۔"

یہ کہہ کے زمرد زار و قطار رونے لگی۔حسین نے بے اختیاری کی جلدی سے اس کے آنسو پونچھے اور کہا: "زمرد! بے شک تو بے خطا ہے۔ اگر میں نے تیرا دل دکھایا تو معاف کر اور آگے بتا کہ پھر کیا ہو؟"

زمرد: ( رومال سے آنسو پونچھ کر) پھر تم کو دوسرا خط ملا جس میں تمھیں کوہ جودی کے غار اور شہر خلیل کے تہ خانے میں چلہ کشی کرنے اور پھر حلب میں جا کے شیخ علی وجودی سے ملنے کی ہدایت کی گئی تھی۔وہ خط بھی اسی طرح بھیجا گیا کہ اس کا مسودہ لکھ کے مجھے دیا گیا اور جب میں نے اپنے ہاتھ سے صاف کر دیا تو میری قبر پر رکھوا دیا گیا۔

حسین: لیکن اگر اتنا ہی کام تھا کہ امام نجم الدین نیشا پوری قتل کر ڈالے جائیں تو مجھے اتےد چکر کیوں دیے گئے اور میرے راستے میں یہ بے کار کی دشواریاں کیوں پیدا کی گئیں؟

زمرد: اس لیے کہ تمھارے شوق میں ہیجان اور بے صبری پیدا ہو۔ اگر بغیر اتنے چلے کھنچوائے اور بغیر علی وجودی کے پاس ایک سال تک انتظار کرائے کہہ دیا جاتا تو تم اتنے بڑے گناہ کے ارتکاب پر ہرگز آمادہ نہ ہوتے۔

حسین: زمرد! تیرا شوق میرے دل میں اس قدر تھا کہ جس کام کو کہا جاتا اسی وقت پورا کرنے کو تیار ہو جاتا۔

زمرد: (ہنس کے ) خیر تو ان کو نہیں معلوم تھا کہ تم اتنے بوہقوف ہو اور تمھارے اخلاق اس قدر کمزور ہیں۔

حسین: مگر کیوں کر کہوں؟ زمرد! مجھے تیری باتوں کا یقین نہیں آتا۔ان آنکھوں سے ایسی ایسی کرامتیں اور عقل انسانی سے اس قدر بالا باتیں دیکھ چکا ہوں کہ ان لوگوں کی خدا شناسی سے ان کار کرنے کی کسی طرح جرات نہیں ہوتی۔ جن گدھوں پر ہم دونوں سوار ہوکے آئے تھے وہ تو مر چکے تھے ،مگر مجھے ایک نیا تازہ دم گدھا اسی درخت میں بندھا ملا۔ اور ایسا خوب صورت،توانا تندرست اور تیز رو کہ اس وقت تک میں یہی سمجھتا ہوں کہ میری سواری کے لیے خاص خدا کے پاس سے آیا تھا۔

زمرد: وہ گدھا یہیں س بھیجا گیا تھا۔ جس وقت تمھارے نام کا خط قبر پر رکھوایا گیا ہے ،اسی وقت وہ گدھا ایک دوسرے راستے سے بھیج کے اس درخت میں بندھوا دیا گیا تھا۔

حسین نے اس جواب کو حیرت سے سنا اور بولا: "عجب! مگر پھر بھی میرے شبہات دور نہیں ہوتے۔ آخر شیخ علی وجودی کو میرے سب حالات کیوں کر معلوم ہو گےن ،وہ یہاں سے ہزارہا کوس کے فاصلے پر ہیں؟"

زمرد: تمھارے روانہ ہونے کے ساتھ ہی ان کو تمام واقعات کی خبر کر دی گئی تھی۔ ان کو لکھ بھیجا گیا تھا کہ تم امام نجم الدین کے بھتیجے ،شاگرد اور مرید ہو۔ انھیں کے قتل کا تم سے کام لینا ہے ،اوروہاں پہنچنے سے پہلے تم کوہ جودی کے غار اور خلیل کے تہ خانے میں چلہ کھینچو گے۔ یہ سب باتیں ان کو دوسے ذریعوں سے معلوم ہو چکی تھیں،مگر انھوں نے غیب دانی اور کرامت کی شان سے بیان کر کے تمھیں اپنا فریفتہ بنایا۔

حسین اب نہایت ہی متعجب تھا،وہ حیرت کے دریا میں غرق تھا اور کسی طرح تھاہ نہ ملتی تھی۔ زمرد اپنی بات پوری کر کے خاموش ہوئی اور وہ سوچ میں پڑا تھا۔ آخر اس نے سخت حیرت زدگی کی شان سے آنکھیں اٹھا کے کہا: "زمرد سچ بتا،یہ سب باتیں تو سچ کہہ رہی ہے یا مجھے دھوکا دے رہی ہے ؟ مجھے تو اپنی تمام گزشتہ زندگی ایک خواب کی سی معلوم ہوتی ہے۔متردد ہوں کہ تیری اس ملاقات اور ان سب باتوں کو خواب سمجھوں یا ان تمام واقعات کو جو تجھ سے جدا ہونے کے بعد پیش آئے ،کیا حقیقت میں میں اتنا بڑا بے وقوف ہوں کہ ایسے عظیم الشان فریب اور جعل میں مبتلاہو گیا؟لیکن زمرد! اگر یہ سب سکھائی پڑھائی باتیں تھیں تو علی وجودی کو اسی قدر معلوم ہوتا جس قدر کہ یہاں سے بتایا گیا تھا؛ انھیں یہ کیوں کر معلوم ہو گیا کہ میں شہر خلیل کے مجاوروں کے ہاتھ میں گرفتارہو گیا تھا اور باطنین کے ناگہاں آپڑنے سے چھوٹ کے بھاگا؟"

زمرد: حسین! تم حقیقت میں بڑے سادہ لوح ہو۔اس کا سبب میں بغیر جانے سمجھ گئی اور تم نہیں سمجھ سکتے ؟ لیکن حقیقت میں تم مجبور ہو۔تمھارے دل و دماغ پر ہر طرف سے اتنا اثر ڈال گیا کہ اب بمشکل تم ان باتوں کو اپنے دماغ سے نکال سکتے ہو۔کیا تم کو نہیں معلوم کہ باطنین دنیا کے ہر کونے میں پھیلے ہوئے ہیں اور ان کی سازشوں کا جال ہر گاؤں اور چھوٹے سے چھوٹے قریے تک پر پڑا ہوا ہے ؟علی وجودی کے پاس تم پورے ایک سال رہے ،ممکن نہیں کہ اس کا حال تمھیں نہ معلوم ہو گیا ہو۔

حسین: ہاں ! میں نے البتہ یہ دیکھا کہ ان کے معتقد تمام اطراف عالم میں پھیلے ہوئے ہیں اور ہر سال میں ایک دفعہ ان کی زیارت کو بھی آتے ہیں۔ اور مجھے یہ بھی نظر آیا کہ وہ لوگ پوشیدہ طور پر اور صرف رات کو مل کے چلے جاتے ہیں۔

زمرد: اسی سے سمجھ سکتے ہو کہ ان کے ہاتھ میں خبریں پہنچے کے کتنے بڑے ذریعے موجود ہیں۔ تم نے جس وقت اس وادی کو چھوڑا تھا اس وقت سے آخر ورود حلب تک ہر منزل اور ہر مقام پر تمھاری نگرانی ہوتی ہو گی اور تمھاری روز روز کی خبر علی وجودی کو پہنچتی ہو گی۔ کچھ تم ہی پر منحصر نہیں،ان باطنین کے پنجے میں جو شخص پڑتا ہے اسی طرح نظروں میں رکھا جاتا ہے۔پھر کون تعجب کی بات تھی کہ اگر تمھاری خلیل کی گرفتاری کا حال ان کو معلوم ہو گیا؟

حسین: مجھے اس پر حیرت نہیں؛ حیرت تو یہ بات ہے کہ شیخ کہتے تھے کہ انھیں کے اشارے سے باطنین نے حملہ کر کے مجھے قید سے آزاد کرایا۔

زمرد: کوئی تعجب کی بات نہیں۔ بے شک علی وجودی نے تمھارے چھڑانے کے لیے اپنے معتقدوں کو حملہ کرنے کا حکم دے دیا ہو گا۔

حسین: مگر کیوں کر حکم دے دیا ہو گا؟ میری گرفتاری کی خبر پہنچنے اوروہاں سے حملے کا حکم آنے میں بھی تو آخر کچھ زمانہ لگتا؟وہاں تو یہ واقعہ پیش آیا کہ جس رات کومیں نکلنے والا تھا اور میرے باہر آنے سے پیش تر ہی خلیل کا حاکم باطنین کے ہاتھ سے قتل ہوا،اور پھر میں گرفتار ہوا تو اس کو بھی پورا ایک دل نہیں گزرنے پایا تھا کہ ان کا ایک بڑا گروہ شہر پر آ پڑا۔ان تمام باتوں کی تکمیل اتنی جلدی کیوں کرہو سکتی تھی؟

زمرد: (ذرا تامل کر کے ) یہ کون مشکل ہے ؟ باطنین کو معلوم ہو گا کہ تم کس روز تہ خانے میں اترے تھے اور کس روز نکلو گے ،اور یہ بھی سمجھتے ہوں گے کہ جس روز نکلو گے یہ مشکلات ضرور پیش آئیں گی۔ بس اس زمانے میں انھوں نے شیخ علی وجودی کو خبر کر کے مدد کا اشارہ پایا ہو گا۔اسی کے مطابق دن گنتے رہے اور ٹھیک چالیسویں دن،جس دن تم نکلنے والے تھے ،انھوں نے رئیس شہر کو قتل کر ڈالا کہ لوگ دوسری فکر میں رہیں اورتم چپکے سے نکل کے بھاگ جاؤ۔ مگر جب انھیں خبر پہنچی کہ اس رئیس کے قتل سے بھی کچھ فائدہ نہ ہوا اور تم مجاوروں کا ہاتھ سے گرفتار ہو گےہ تو انھوں نے یکایک حملہ کر کے شہر میں کھلبلی ڈال دی اور تمھیں چھوٹ کے بھاگ جانے کا موقع مل گیا۔

حسین: ( زور سے آہ سرد بھر کے ) تو زمرد افسوس! یہ سب جھوٹ تھا؟ شیخ علی وجودی کا سا شخص اور اتنا بڑا مکار کیوں کر کہوں؟ زمرد! ان کرامتوں اور اس غیب دانی کے علاوہ ان کا علم و فصل اس پائے کا ہے اور ان کے ہر ہر لفظ سے ایسی خدا شناسی اور آشنائے رموز وحدت ہونے کی بو آتی ہے کہ چاہتا ہوں، مگر ان پر بدگمانی کرنے کی جرات نہیں ہوتی۔اتنا بڑا عالم و فاضل،ایسا نکتہ سنج اور دقیقہ رس اور اتنا بڑا فریبی! میں امام نجم الدین کی صحبت میں رہ چکا تھا،مگر پیاری زمرد! سچ کہتا ہوں کہ جو بات مجھے شیخ علی وجودی میں نظر آئی اور جس آسانی سے وہ دل کے شکوک رفع کر دیے، ہیں امام نجم الدین میں اس کا عشر عشیر بھی نہ تھا۔

زمرد: بے شک ایسا ہی ہو گا! مگر بات یہ تھی کہ امام نجم الدین کے دل میں جو آتا ہو گا سادگی اور بے تکلفی سے کہہ گزرتے ہونگے۔انھوں نے اپنا بنانے اور اپنا اثر ڈالنے کے لیے کبھی کوئی کوشش نہ کی ہو گی۔اور شیخ علی وجودی کا ہر لفظ بنا ہوا اور دل پر اثر ڈالنے کے لیے ہوتا ہے۔اس کے ہر فقرے میں پوری ریاکاری ہوتی ہے۔ جھوٹ اور سچ میں یہی فرق ہے۔ اور اسی سبب سے ہمیشہ قاعدہ ہے کہ کیا دو فریبی کی باتیں ایک راست باز اور سادہ مزاج شخص کی باتوں سے زیادہ دل چسپ اور زیادہ دل نشین ہوا کرتی ہیں۔یقین ہے کہ شیخ علی وجودی سے مل کے تم کو خدا شناسی کا بہت عمدہ سبق مل گیا ہو گا۔

حسین: ( زور سے سینے پر ہاتھ مار کے ) ہاں! خوب سبق ملا،مگر خبر اس وقت ہوئی ہے جب کہ پورا جادو اثر کر چکا،اور میں ساری دنیا سے زیادہ ظالم،سیہ کار،بے دین اور بے وقوف بن چکا،افسوس! تمام عمر پھچتاؤں گا اور نہ پچھتا چکوں گا،مگر زمرد! کیا کہوں، اب بھی یہ سب باتیں خواب معلوم ہوتی ہیں۔طور معنی اور اس کے نورانی قصر کی صورت اس وقت تک میری آنکھوں کے سامنے پھر رہی ہے۔

زمرد: ہاں وہ بھی اس مذہب کا ایک بڑا رکن ہے۔اس وقت تک صرف دوہی شخص شاہ التمونت کو ملے ہیں جن سے اچھا نقیب و داعی اس مذہب باطنیہ کو نہیں نصیب ہو سکا۔طور معنی اور علی وجودی،جو یہاں وادیِ ایمن کے نام سے یاد کیے جاتے ہے۔ان دونوں نے اپنی گہری سازشوں سے صدہا امرا،وزرا اور علما و فضلا قتل کرا ڈالے۔ اور چوں کہ اس جنت اور ملاء اعلیٰ کی اصلیت کو اچھی طرح جانتے ہیں لہٰذا ان پر سارا فریب کھلا ہوا ہے ا ور وہ لوگوں کو جان بوجھ کر گمراہ کرتے ہیں۔طور معنی بھی لوگوں سے کم ملتا ہے مگر وادیِ ایمن نے لوگوں کو بہت خراب کیا۔دین کو جتنا بڑا ضرر اس شخص کے ہاتھوں پہنچا شاید کبھی کسی کے ہاتھ سے نہ پہنچا ہو گا۔

حسین: تو کیا وہ طور معنی کا وہ زمین دوز قصر بھی کوئی قدرتی کرشمہ نہیں؛ اسی جنت کی طرح وہ بھی لوگوں کے فریب دینے کے لیے بنا دیا گیا ہے ؟

زمرد: ( مسکرا کے ) کیا تمھیں اب بھی شک ہے ؟

حسین: شک نہیں؛ پیاری زمرد! تیری باتوں کا یقین ہے مگر کیا بتاؤں ان آنکھوں کے سامنے کیسی کیسی کیفیتیں گزر چکی ہیں اور ان کانوں نے کیسے کیسے روشن اور دل فریب الفاظ سنے ہیں! خیر یہ بھی نہ سہی۔مگر طور معنی کا قصر تو اصفہان میں ہے ،وہاں کے غار سے میں یہاں کیوں کر پہنچ گیا؟

زمرد: التمونت کا نام چوں کہ کسی قدر مشہور ہو گیا ہے اور بعض لوگ بھڑک گےھ ہیں لہٰذا جن لوگوں کی نسبت ایسا خیال ہوتا ہے ،وہ اصفہان اور طور معنی ہی کے ذریعے سے یہاں لائے جاتے ہیں۔اور سارا راز مخفی رکھنے کے لیے یہ تدبیر عمل میں آتی ہے کہ طور معنی انھیں بے ہوش کر کے اونٹوں کی محملوں پر سوار کراتا ہے جو راز دار اور معتبر ساربانوں کے ذریعے سے التمونت پہنچا دیے جاتے ہیں ۔ہر منزل پر رات کو کسی جگہ ان لوگوں کو ہوش میں لا کے کچھ کھلا پلا دیتے ہیں اور پھر بے ہوش کر کے آگے روانہ ہوتے ہیں۔

حسین: (چونک کر) تو میں جو اپنے آپ کو کبھی جنگل میں پاتا تھا اور کبھی پہاڑوں میں وہ یہی تھا کہ اصفہان سے روانہ ہوکے التمونت کے منازل قطع کر رہا تھا؟

زمرد: اور کیا؟

حسین: ( حیرت سے ) اور یہ لوگ انسان کو بے ہوش کیونکر کرتے ہیں؟

زمرد: ایک پتی ہے حشیش (بھنگ) اسے کے ذریعے۔کبھی ا س کا شربت پلا کے اور کبھی اسے غذاؤں اور مٹھائیوں میں ملا کے۔

حسین: (بے صبری سے )تو طور معنی نے جو جام شراب پلایا وہ اسی حشیش کا جام تھا؟

زمرد: بے شک!

حسین: افسوس! مجھے مسکرات بھی پلائے گئے ؟ آہ! کوئی گناہ نہیں جو اٹھ رہا ہو۔ زمرد! تو ناراض نہ ہو،کیوں کہ صرف تیرے وصال کی آرزو نے اندھا کر دیا تھا،ورنہ میں اتنا مجنون و فاترالعقل نہ تھا۔ تیری محبت کی کہ حالت ہے کہ دیکھ تیرے بوسے کا یہ نشان جو میری پیشانی پر موجود ہے ، مجھے جان و دل سے زیادہ عزیز ہے۔چاہتا تھا،کہ اس نشان کے بوسے لے لے کے اپنے دل کی تسلی کروں مگر یہ مشتاق ہونٹ کسی طرح وہاں تک نہ پہنچ سکے۔

حسین کی ان باتوں پر زمرد کچھ ایسی شرما گئی تھی کہ ا س کے خاموش ہو جانے کے بعد بھی دیر تک آنکھیں نیچی کیے رہی اور کئی منٹ کے بعد جذبات شرم کو دبا کے بولی: " حسین! نہ بوسہ لینے سے کسی شخص کے جسم پر داغ بن جاتا ہے اور نہ میں اتنی بے حیا ہوں۔"

حسیں: (بات کاٹ کے ) اچھا،تمھارے سوا اور کسی نے میرا بوسہ لیا ہو گا؟ میں نے کسی کو منہ تک تو لگایا نہیں!

زمرد: (اسی طرح نظریں جھکائے جھکائے ) اب مجھ سے بے شرمی کی باتیں نہ کہلواؤ۔یہ تم کو فریب دیا گیا ہے۔ نہ یہ بوسے کا نشان ہے اور نہ عشق بازی کی پہچان،بلکہ یہ ایک علامت ہے جو پر شخص کی پیشانی پر لوہے سے داغ کے بنا دی جاتی ہے جو اس جنت میں لایا جاتا ہے۔

حسین: داغ ہوتا تو مجھے یاد نہ ہوتا؟

زمرد: یہ داغ بے ہوش کر کے بنایا جاتا ہے۔ اور تم جب التمونت سے اصفہان کو جا رہے ہو گے اسی وقت بنایا گیا ہو گا۔

حسین: ( زور سے سینہ کوٹ کے ) افسوس! گل لینے گئے تھے داغ لائے !

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.