Urdu in Translation
بحث

الفصل 3 من 8

Hafiz Ji's House; the Coquette's Cruelty; Love in Full Bloom

حافظ جی کا مکان؛ مہ پارۂ عابد فریب؛ سبزانِ چمن کا جوبن

Ratan Nath Sarshar

الخط
الحجم

حافظ جی کا مکان مینو سواد، اور شکر لبان خور نژاد

ایں چہ بزم ست کہ لب بر لب جام ست اینجابادہ خورشید و قدح ماہ تمام ست اینجا

حافظ جی کا مکان: خوش ہوا، روکش بہشت شداد تھا۔ اور نور بخش چشم نابینا ہے اور ہر در و دیوار پر نور برستا تھا۔ صحن و بام سے سرور موفور۔ اب بزم طرب کا حال نہ پوچھیے۔ جدھر دیکھو خوش وقتی جدھر دیکھو عیش، ایک ایک کم سن کا جوڑا معرکۂ عشق کا مقدمۃ الجیش ادھر سفید پوشوں کی قطار ادھر سبزان سبز بخت۔ جوبن کی بہار ادھر نظارہ بازی ادھر شوخی و طناز ادھر رندان عالم سوز، ادھر نور عالم افروز، ادھر شوق وصال، ادھر غرور حسن و جمال، ادھر آنکھیں اشکبار، ادھر بناوٹ سجاوٹ نکھار، ادھر چشم خونچکاں، ادھر لب لعل شکر خا پر سرخی پان۔ ادھر عشق جنوں خیز۔ ادھر زلف عنبر بیز، ادھر صدائے بریز بریز ادھر خندہ شکر آمیز، ادھر دل دردا باغ۔ ادھر ساق بلوریں جگر خون کن، گوہر شب چراغ ادھر جنوں کی گرم جوشی، ادھر چشم خوں بر داز کو تعلیم ناز فروشی، ادھر شمع رویوں کی لو دل سے لگی تھی۔ ادھر چہل پہل، دل لگی تھی ادھر عشاق خستہ جاں کا نیاز، ادھر حسن پر آشوب کا استغنا و ناز۔ نازک تن چار بتان شکر لب مل کر مبارک باد گاتی ہیں، گم کردگان بادیۂ عشق کو راہ پر لاتی ہیں:

شکر لب مطربان نغمہ پردازبرنگ خوش کردہ آواز

مغنی چنگ عشرت ساز کردہنوائے خرمی آغاز کردہ

رباب از تار غم جاں را امان دہبرآوردہ کمانچہ نغمۂ زہ

یہی معلوم ہوتا تھا کہ راگ اور راگنی ہاتھ باندھے کھڑی ہیں۔ اسے دیکھ کر گردن ہلاتا ہے، سازندہ حاضرین جلسہ کو وجد میں لاتا ہے۔ پازیب کی چھم چھم دل کو پامال کرتی ہے کوئی انا برق کہتی ہوئی چمک جاتی ہے کوئی اونچے سروں میں تان لگاتی ہے۔ کوئی سینۂ حنائی پر دست حنائی دیکھ کر گہری گہری ندیا بتاتی ہے، کوئی چشم مخمور کے اشارے سے رتیاں پہلے کی چھپٹ کھاتی ہے۔ دھما چوکڑی مچی ہوئی ہے، چھمی جان نے ایک ناطورۂ نظر فریب سے فرمائش کی کہ میدان خوش بیانی کے یکہ تاز لسان الغیب حافظ شیرازی کی اس غزل کو گائیں:

بر زمینی کہ نشان کف پائے تو بودسالہا سجدہ صاحب نظراں خواہد بود

سوہنی کی دھن میں اس غزل نے وہ لطف دکھایا اور ایسا رنگ جمایا، کہ ہمارے حبیب لبیب تک اہو، ہو، کہہ اٹھتے تھے۔ اس کے بعد ایک شاہد زاہد فریب نے ایک حقانی غزل گائی۔ جس کا مقطع یہ ہے:

چو خود کردند سر خویشتن فاشعراقی را چرا بدنام کردند

اس مقطع پر جلسہ میں کہرام مچ گیا۔ اول تو غزل حقانی، دوسرے اس رنگین ادا کا طرز غزل خوانی، تیسرے اس کی نازک آوازی، اور شیریں بیانی۔ حاضرین جلسہ اس درجہ سرخوش بادہ وحدانیت ہوئے کہ جلسہ رقص و سرود پر عرس کا دھوکا ہوتا تھا۔ حق حق کی آواز ہر طرف گونج رہی تھی۔ اور اسی حالت وجد میں ہر فرد بشر کی زبان پر یہ شعر تھا:

چو خود کردند سر خویشتن فاشعراقی را چرا بدنام کردند

اب سب کو شک کی جگہ یقین ہو گیا، کہ اس کے بعد کسی خوش گو کا رنگ نہ جمے گا۔ ہر طرف سے حقانی غزلوں کی فرمائش ہے شوق کی افزائش ہے۔ دوسرے پد کا خیال، نہ ٹپے کی فکر، بھیرویں کی دھن نہ پنجے گانے کا ذکر۔ فارسی ہی کی غزلیں دلکش اور فاخرہ گائی جاتی ہیں۔ معرفت میں ڈوبی ہوئیں

قلق از سوزش پروانہ داریز سوز عاشقاں پروانہ داری

دلم فرمان ایں مژگان و ابروعجب تیر و کماں ترکانہ داری

اب دل لگی دیکھیے، کہ پیر فرتوت، اور نوجوانان نو عمر، اور کمسن لڑکے، سب کے سب دھڑک اس مشتری خصائل، زہرہ شمائل، کو گھور رہے ہیں۔ کوئی اس جادو نگاہ سے آنکھیں لڑاتا ہے۔ کوئی اس شوخ و شنگ کے طرۂ شب رنگ، دلیلۃ المعراج گیسو کی سیر کر رہا ہے۔ کوئی سر دھنتا ہے۔ کوئی آہ سرد کھینچتا ہے۔ کسی کے دل میں تیر عشق کی خلش، کسی کو بیٹھے بٹھائے مفت گی ذوا دوش، دو چار بیباک، مدعیان تہذیب نے طوائفوں کو بلا کر، بڑے شوق سے قریب بٹھایا۔ نوک جھونک، ہنسی مذاق، چہل دل لگی، دھول دھپا، ہونے لگا۔ حافظ جی بھی داروغہ ارباب نشاط بنے ہوئے، مزے سے چومکھی لڑ رہے ہیں۔ اردگرد گل رخان سیم تن کا غنچہ ہے۔ نوجوان بھی تعلیم نظری سے استفادہ حاصل کرتے ہیں، اب مہ جبینوں اور بڈھوں اور نوجوانوں کا مکالمہ سنیے۔

پیر فرتوت: آج کل کے لڑکوں کو بھی ہوا لگی ہے۔

نو عمر: اجی قبلہ اب تو ہوا ہی ایسی چلی ہے، کہ جوان تو جوان، بڈھوں تک کو بڑ بھس لگا ہے، سو برس کا سن، تابوت پر لدنے کے دن، مگر جوانی ہی کا دم بھرتے ہیں:

پیری کہ دم عشق زنند بس غنیمت ستاز شاخ کہنہ میوہ نورس غنیمت ست

پیر فرتوت: میاں صاحبزادے ہم تو دنیا بھر کے نیاریے ہیں۔ ہمیں کوئی چنگ پر کیا چڑھا گی۔ اور رنگ پر کیا لائے گی۔ مگر تم ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن کی پیدائش، ایسا نہ ہو ان کے پھیر میں آ جاؤ۔ پھر دین و دنیا دونوں کو رو بیٹھو۔

نوجوان: واہ قبلہ آپ کے فیضان صحبت سے ہم بھی پختہ مغز ہو گئے ہیں۔ ایسے کچے نہیں، کہ ہم پر کسی کا داؤ پیچ چلے۔

پیر فرتوت: توڑ پھوڑ، کچے پکے کے بھروسے نہ رہیے گا۔ ان بتوں کا بڑے بڑے زہاد نے سجدہ کیا ہے، تم کس کھیت کی مولی ہو۔

نوجوان: ان بتوں کو ہم فقیروں سے بھلا کیا کام ہےیہ تو طالب زر کے ہیں اور یاں خدا کا نام ہے

مہ جبین: ان بڑے میاں سے کوئی اتنا تو پوچھو، کہ بال بال گل کے برف سا سفید ہو گیا مگر اب تک سیاہ کاری نہ چھوڑی۔ یہ سمجھاتے کس منھ سے ہیں۔ ان کی سنتا کون ہے۔ ذرا شیخ جی بہت بڑھ بڑھ کر باتیں نہ بنایا کیجیے۔ شاہ چھڑے والی گلی، روز بیس بیس چکر ہوتے ہیں۔ اے تم تھکتے بھی نہیں۔

حافظ جی: شیخ جی جہاں بیٹھتے ہیں، جھگڑا ضرور خریدتے ہیں۔ غم نداری کے آپ ہیں کون، آئے وہاں سے بڑے ناصح بن کے۔

پیر فرتوت: نہ قاضیم نہ مشائخ نہ محتسب نہ فقیہمرا چہ سود کہ منع شراب خوارہ کنم

اچھا بابی صاحب اپنا کلام سنائیے، مگر شرط یہ ہے کہ جب ہم تعریف کریں تو سلام کیجیے۔

مہ جبین: آپ ہیں تو اسی لائق، کہ دور ہی سے جھک کر سلام کرے اور سلام کے تو آپ بیشک مستحق ہیں، مگر بھولیں تو ٹوکیے گا ضرور۔

نو عمر: قبلہ و کعبہ! گستاخی معاف، آپ پر اس وقت اچھا فقرہ چست ہوا۔ انھوں نے آپ کو اپنا استاد جی بنایا۔ مگر واللہ آپ سمجھے خاک نہیں۔

مہ جبین: یہ بال انھوں نے سفید کیے ہیں، یا شاید نزلے نے ان کو جوانی ہی میں قبل از پیری، و صد عیب کر دیا ہو، بے پر کی اڑانا خوب جانتے ہیں۔ جواب نہیں سوجھتا۔ منھ کے آگے ناک سوجھے کیا خاک۔

ادھر تو یہ گفتگو ہو رہی تھی ادھر دوسری ٹکڑی میں فحش اور پھکڑ کا چرچا چلتا تھا۔ تیسرے غول بیابانی میں دھول دھپا ہوتا تھا۔ کم سن اطفال اور جوانان مطلق العنان اور رنگین خیال پیران نو دسال، چہل کی تعلیم پاتے تھے۔ اتنے میں دو پہر کی توپ دغی۔ دھننا نا۔ جلسہ برخاست۔ ناچ رنگ بند۔ چہل پہل موقوف۔ طبلیوں نے بوریا بندھنا اٹھایا۔ حضار جلسہ نے بقچہ سنبھالا۔ مہوشان زہرہ جبیں، و نازنین، بصد ناز و کرشمہ ڈولیوں میں جلوہ گر ہوئیں، چلے سناٹا ہو گیا:

یا شب کو دیکھتے تھے کہ ہر گوشۂ بساطدامان باغبان و کف گل فروش ہے

لطف خرام ساقی و ذوق صدائے چنگیہ خلد نگاہ ہے تو وہ فردوس گوش ہے

یا دو پہر کو جا کے جو دیکھا تو بزم میںنے وہ سرور و سوز نہ جوش و خروش ہے

داغ فراق صحبت شب کی جلی ہوئیاک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے (غالب)

مہ پارۂ عابد فریب کی ستم کوشی اور جنوں کی گرم جوشی

خیر مقدم اے جنون نیک فالاے توام شیرستان خیال

اے تو برق خرمن بیم و امیدقفل وسواس ہو سہار اگلید

اے بہار عاشقی را رنگ و بواز تو ہر فریاد مجنوں کام جو

شہر دانش تنگ بر جولان توپہن دشت بیخودی میدان تو

جلسے کا غل، چراغ رقص و سرود کا گل، ہونا تھا کہ ایک نیا گل کھلا۔ میاں آزاد نے جامۂ شیخوخیت تہہ کر رکھا اور عشق خانۂ خراب کے ہاتھ بک گئے۔ اب ہر دم آہ و زاری ہے۔ بیتابی و بے قراری ہے۔ دیدۂ، سینۂ مجروح۔ آہ سرد دل پر درد، عقل دنگ، سینہ پر سنگ، پائے خرد لنگ، عشق مہوشان شوخ و شنگ، جنون کی امنگ، ایک دفعہ ہی یہ اشعار حسرت بار زبان پر لائے:

شاہنشہ بے نبرد عشق ستسلطان خرابہ گرد عشق ست

پر کوہ سہ غم کند عماریبر مرکب خوں کند سواری

اب تو میاں آزاد چکر میں آئے، مگر چھمی جان تجربہ کار اور مزاج داں عشاق زار تھے چتونوں سے تاڑ گئے، کہ کسی ترک زریں کمر کے تیر نگاہ نے گھائل کر دیا۔ پھر کیا تھا۔ بوئے نیارنگ لائی گلہری، کہیے لکچر سننے چلیے گا:

ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیاآگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا (غالب)

آزاد: اب تو یہی دھن ہے کہ سینے کو چمن بنائیں۔ لالہ رو کے داغ حسرت میں گل کھلائیں! ہائے وہ خال عنبریں، وہ گیسوئے مشکیں، وہ لعل نگاریں، وہ چشم سرمگیں، وہ سنگار، وہ نکھار، ہے ہے! میں تو جیتے جی مر مٹا۔ یار، کوئی تدبیر ایسی بتاؤ کہ وصال نصیب ہو۔ باغ ہو جام ہو، میں ہوں، اور وہ حبیب ہو۔

چھمی جان: ابھی نام خدا عنفوان شباب ہے۔ پختہ مغز جنوں نہیں۔ میدان عشق کی پہلی ہی منزل ہے۔ عشق کا وار کوئی سر میدان روک تو لے، بڑے جیوٹ کے آدمیوں کا جی چھوٹ جاتا ہے۔ کلیجہ منھ کو آتا ہے۔ عشق کے صدمے اٹھانے کو جگر بھی چاہیے۔

آزاد: دل می رود ز دستم صاحب دلاں خدا رادردا کہ راز پنہاں خواہد شد آشکارا

حبیب لبیب: خدا ہر بھلے مانس کو بری صحبت سے بچائے، یہ تمھیں سوجھی کیا، کہ اس جلسے میں آئے:

بائد نشین و باش بیگانہ اودر وام افتی اگر خوری دانہ او

تیر از سر راستی کماں را چہ دیدجگر کہ چگونہ جست از خانہ او

مگر یہ عشق سب ڈھکو سلا ہے، ڈھکو سلا ہے۔ بندہ تو قائل نہیں۔ یہاں تو دل میں ٹھن گئی کہ انھیں سودا ہو گیا۔ کسی طبیب حاذق کو بلا لاؤ۔ ذرا ان کی نبض تو دیکھے۔

آزاد: ؏ ہم کو سودا بھی ہوا، تو میرزایانہ ہوا، سودا ہو یا جنون سحر ہو، یا فسوں، اب تو جان پر بن گئی ہے۔ کچھ چوٹ کھائی ہے۔ طبیب بیچارہ نبض کیا دیکھے گا۔ ہماری نبض ہمارے مزاج داں جانیں اور آپ طبیب کو بلا کر دل کا ارمان نکال لیں لیکن:

بیمار عشق کا جو نہ تجھ سے ہوا علاجکہہ اے طبیب تو ہی کہہ تیرا کیا علاج

چھمی جان: اس فن کا قانون شناس تو بو علی سینا بھی نہ تھا۔ طبیب تو کیا کھا کر مریض عشق کو چنگا کرے گا۔ ہاں مجنوں کی تربت پر پھولوں کی چادر چڑھاؤ تو شاید غنچۂ مقصود شگفتہ ہو جائے۔ ورنہ مسیحا کی مسیحائی بھی کارگر نہ ہوگی:

آگاہ نہ تپ دردوں رانشتر بہ زنی رگ جنوں را

معشوقۂ نازنیں طلب کنعتاب لبش بہ کار تب کن

اب تو بے کشود کار اطمینان دل معلوم۔ سہل چھٹکارا یہ ہے کہ عاشق و معشوق، دونوں کا وصل ہو۔ ورنہ حسن و عشق کا جھگڑا پاک ہو چکا۔

آزاد: تیر ایسا کاری لگا کہ بلبلا اٹھا۔ اب ہم ہیں، اور گرداب بلا۔ دل ہے، اور موج خون خیز دیکھیں بحر عشق کے تھپیڑے کدھر بہائے جاتے ہیں، اور دل کے داغ کیا سبز باغ دکھاتے ہیں:

دریا و کوہ در رہ و من خستہ و ضعیفاے خضر پے خجستہ مدد دہ بہ ہمتم

مگر بیڑا پار ہوتا نظر نہیں آتا۔ چاہ زنخداں میں دل ڈانواں ڈول ہے۔

اب شہر بھر میں دھوم مچ گئی۔ کہ ایک نئے بگڑے۔ جہاں جاؤ یہی چرچا میاں آزاد کے لنگوٹیے یاروں نے لاکھ فکر کی کہ ان کو راہ راست پر لائیں، مگر عشق صادق سے ایک کی پیش نہ گئی۔ قصر مراد تک کمند تدبیر نہ پہنچی۔ میاں آزاد کی حالت اس درجہ ردی ہو گئی کہ دن کو آہ و زاری۔ شب کو اختر شماری۔ کھانا پینا چھوڑا۔ عیش و آرام سے منھ موڑا۔ رنج و محن سے ناتا جوڑا۔ شیشۂ دل پر سنگ فراق کی ایسی ٹھیس لگی، کہ چکنا چور ہو گیا۔ حبیب لبیب نے چھمی جان کو اپنے طور پر سمجھایا، کہ واسطے خدا کے، ان کے سامنے ایسی باتیں نہ کرو، کہ سمند جنوں پر تازیانے کا کام کریں۔ عشق کی مذمت، اور جنون کی ہجو کرنی چاہیے، نہ کہ تعریف۔ چھمی جان کو اتنا اشارہ کافی تھا۔

آزاد: وہ لبوں کی سرخی، دانتوں پر پان کی تحریر، وہ رخسار تاباں، وہ مستانہ چال، نہ بھولوں گا۔ نہ بھولوں گا۔ اس گلابی دوپٹے نے گل رخسار کے جوبن کو اور بھی دو بالا کر دیا۔

چھمی جان: ہم تو لکھنؤ کے رنگریزوں کی خیر مناتے ہیں۔ واللہ مکے کے شب آبی ہیں۔ دوپٹے ایسا رنگ دیں۔ کہ انسان گھنٹوں اسی کو گھورا کرے۔ کیسی ہی بد قطع کریہہ منظر کیوں نہ ہو، دھانی دلائی اوڑھی اور دلھن معلوم ہونے لگی لیکن:

بس قامت خوش کہ زیر چادر باشدچوں باز کنی مادر مادر باشد

حبیب لبیب: یہ جن پر ہمارے رنگیلے جوان کا دل آیا ہے، کچھ ایسی آفت کا پرکالہ نہیں ایسی تو گلی کوچوں میں ماری ماری پھرتی ہیں۔ ٹکے کو کوئی نہیں پوچھتا۔ مگر ان کا عشق بھی عجب طرح کا ہے۔ سچ ہے، جیسی روح ویسے فرشتے۔ ہمیں تو ہنسی آتی ہے کہ میاں کا دل بھی آیا تو کس پر، فریفتہ ہوئے تو اس پر شکل چڑیلوں کی، ناز پریوں کا۔

چھمی جان: قسم حسین کی، ایسی ایسی زہرہ جبین، رشک لیلیٰ غیرت شیریں، نظر سے گزری ہیں، کہ صل و جل مگر دل ایک کو نہ دیا۔

آخر کار احباب کی یہ صلاح ہوئی کہ کسی باغ نزہت افزا اور چمنستان پر فضا میں میاں آزاد رہیں شاید وحشت دل دور اور مرض جنون کافور ہو جائے۔

ما الذي تركه هذا الفصل فيك؟

سجّل الدخول للتفاعل

النقاش

لم يتكلم أحد بعد. قل ما حرّكه هذا الفصل فيك.

أعجبك هذا الفصل؟ شارك سطرًا منه.