
Chapter 4 of 9
Tercera estrofa
Third Stanza
تیسرا بند
شادی کے بعد ایک ایک کو، تھی آرزو اولاد کیتم پھنس گئیں جنجال میں، خالق نے جب اولاد دی
دردوں کے دکھ تم نے سہے، جلاپے کی جھیلیں سختیاںجب موت کا چکھا مزا، تب تم کو یہ دولت ملی
میکے میں اور سسرال میں، سب کے ہوئے دل باغ باغگھر میں اجالا تو ہوا، پر تم پہ بپتا پڑ گئی
کھانا، پہننا، اوڑھنا، اپنا گئیں سب بھول تمبچوں کے دھندے ہیں تمہیں، اپنی نہ کچھ سدھ بدھ رہی
تب تک بھی سمجھو خیر تھی، جب تک بھلے چنگے تھے سبپر سامنا آفت کا تھا، گر ہو گیا ماندا کوئی
سولی پہ دن کٹنے لگے، راتوں کی نیندیں اڑ گئیںاک اک برس کی ہو گئی، ایک ایک پل ایک اک گھڑی
بچوں کی سیوا میں تمہیں، گزرے ہیں جیسے دس برسقدر اس کی جانے گا وہی، دم پر ہو جس کے بنی
کی ہے مہم جو تم نے سر، مردوں کو کیا اس کی خبرجانے پرائی پیڑ وہ، جس کی بوائی ہو پھٹی
تھا پالنا اولاد کا، مردوں کے بوتے سے سواآخر یہ اے دکھیاریو! خدمت تمہارے سر پڑی
پیدا اگر ہوتیں نہ تم، بیڑا نہ ہوتا پار یہچیخ اٹھتے دو دن میں اگر، مردوں پہ پڑتا بار یہ
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.