
Chapter 3 of 9
Second Stanza
دوسرا بند
میکے میں سارے گھر کی تھیں، گو مالک و مختار تمپر سارے کنبے کی رہیں، بچپن سے خدمتگار تم
ماں باپ کے حکموں پہ تتلی کی طرح پھرتی رہیںغمخوار باپوں کی رہیں، ماؤں کی تابعدار تم
دن بھر پکانا، پیسنا، سینا، پرونا، ٹانکنابیٹھیں نہ گھر پر باپ کے، خالی کبھی زنہار تم
راتوں کو چھوٹے بھائی بہنوں کی خبر اٹھ اٹھ کے لیبچہ کوئی سوتے میں رویا، اور ہوئیں بیدار تم
سسرال میں پہنچیں تو واں اک دوسرا دیکھا جہاںجا اتریں گویا دیس سے، پردیس میں اک بار تم
واں فکر تھی ہر دم یہی، ناخوش نہ ہو تم سے کوئیاپنے سے رنجش کے کبھی، پاؤ نہ واں آثار تم
بدلے نہ شوہر کی نظر، سسرے کا دل میلا نہ ہوآنکھوں میں ساس اور نند کی، کھٹکو نہ مثلِ خار تم
پالا بروں سے گر پڑے، بدخوہوں سب چھوٹے بڑےچتون پہ میل آنے نہ دو، گو دل میں ہو بیزار تم
غم کو غلط کرتی رہو، سسرال میں ہنس بول کرشربت کے گھونٹوں کی طرح، پیتی رہو خونِ جگر
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.