
Chapitre 16 sur 22
A Long Story about the Superstitions of Women
عورتوں کے توہمات کی ایک حکایت طولانی
عورتوں کے توہمات کی ایک حکایت طولانی
دیہات والوں کے خیالات میں بے دینی بہت ہے۔ سبب کیا ہے؟ علم کی کمی، عقل کی کوتاہی۔ ہمارے دور کے رشتے کی ایک نانی تھیں؛ کوئی چار پانچ برس ہوئے، پورے سو برس کی ہو کر مریں۔ ان کے خیالات سنو تو نہایت تعجب کرو۔ ایک تو اگلے وقتوں کی آدمی، دوسرے مدتوں رہیں باہر؛ دیہات والیوں کی خو بو ان میں اتنا اثر کر گئی تھی کہ بس وہم کا پتلا بن گئی تھیں۔ مگر بے چاری رہیں سدا غم زدہ: میاں، بھائی، جوان جوان بیٹے، جوان جوان بیٹیاں ایک ایک کر کے ان کے روبرو مرے۔ اب اپنی مرنوں کو شہر میں آ کر رہیں تو صرف ایک بھتیجا ساتھ تھا۔ بھرے کنبے میں ایک بچہ بچا تھا؛ یوں ہی اس کی اللہ آمین تھی، اور اس پر (اللہ جنت نصیب کرے) نانی کی احتیاط؛ میں نہیں کہہ سکتی کہ کس آفت میں وہ لڑکا مبتلا رہتا تھا۔ کوئی دکھ ہو، دوا تو اس بے چارے نے جانی ہی نہیں کہ کس کو کہتے ہیں؛ بس ٹونے ٹوٹکوں پر ہی اس کی زندگی تھی۔ جب نانی اس کو لے کر شہر میں آئیں تو کوئی چار مہینے کا بچہ تھا۔ لڑکا نگوڑا سوکھ کر کانٹا ہو گیا؛ تیلیوں جیسے ہاتھ پاؤں؛ رنگت جیسے کسی نے منہ پر ہلدی مل دی ہو؛ کلوں پر، آنکھوں پر، ہاتھ پاؤں پر اچھا خاصا ورم موجود؛ تلی اتنی بڑھی ہوئی کہ پیٹ میں سانس مشکل سے سمائے؛ اور اس کے ساتھ کھانسی بھی کیسی کھانسی کہ رات دن دم نہ لینے دے۔ یہ تو حال تھا، مگر ادھی کی دوا نہیں ملتی تھی۔ خدا نہ کرے کچھ پیسے کا لالچ نہیں؛ اس لڑکے کے لیے نانی کو اپنی جان تک دریغ نہ تھی، اور سوائے اس کے ان کا اور تھا کون؟ آپ گور میں پاؤں لٹکائے بیٹھی تھیں؛ مال و متاع جو کچھ تھا، اسی لڑکے کا تو تھا۔ جوں ہی پالکی سے اس نیم جان[۱] لڑکے کو لے کر اتریں، ہم سب تو اس کی صورت دیکھ کر ڈر گئے۔
میں: "اچھی نانی، اس لڑکے کا کیا حال ہے، اور کب سے یہ بیمار ہے؟"
نانی: "تیزی کا چاند دیکھ کر جو پڑا ہے تو اب تک نہیں سنبھلا۔ مرت بیاہی[۲] کے بچوں کی یہی تو خرابی ہے: بات بات میں ہٹ، بات بات میں ضد۔ اس کی ضد نے اس حد کو پہنچایا؛ اور میں تو اس کی بیماری میں مردے سے بدتر ہو رہی ہوں؛ کھانے کی مجھ کو ہوش نہیں، اپنے تن بدن کی مجھ کو خبر نہیں؛ دھڑکوں میں جان جاتی ہے۔"
میں: "اچھی، پھر اس شہر میں کوئی حکیم، کوئی ڈاکٹر نہ تھا؟"
نانی: "بہتیرے حکیم، بہتیرے ڈاکٹر؛ مگر جب یہ کسی کے بس کے ہوں۔"
میں: "کیا یہ دوا نہیں پیتا؟ پرہیز نہیں کرتا؟"
نانی: "نہیں، دوا تو پی لیتا ہے، اور پرہیز کو تو اب پانچواں مہینہ ہے؛ ابالی کھچڑی کے سوائے دوسری چیز زبان پر لگی ہو تو حرام۔"
میں: "پھر کیا علاج نے فائدہ نہیں دیا؟" نانی: "حکیموں کا علاج تو کیا ہی نہیں۔"
میں: "اچھی، حکیم کسی اور دن کے واسطے ہیں؟ یہ تو حال لڑکے کا ہو گیا، اور ابھی تک دوا مطلق نہیں کی! یہاں شہر میں ایک سے ایک بڑھ چڑھ کے حکیم ہیں، دوا بھی عمدہ سے عمدہ ملتی ہے؛ بسم اللہ کر کے کل ہی سے علاج شروع کر دیجیے۔"
نانی: "حکیم کا علاج کرنے تو میں یہاں نہیں آئی؛ البتہ کچھ منتیں ہیں، ان کو اتارنا ہے۔"
میں: "حکیم کی دوا کرنے میں تامل کی کیا وجہ ہے؟"
نانی: "یہ مرض تو حکیموں کے قابل نہیں ہیں۔ اس لڑکے کی ماں کو کوکھ کا خلل تھا؛ پانچواں برس بچے کو لگا اور رخصت ہوا۔ یہ لڑکا دسویں جگہ ہے۔ نہیں معلوم کہاں کہاں کی خاک چھانی[۳]، اور اس لڑکے کے پیچھے میں نے اپنا لہو اور پسینہ ایک کیا[۴]۔ اس دکھ کا دستور ہے کہ بارہ برس تک اس کا زور رہتا ہے؛ ایک چار مہینے مصیبت کے اور ہیں، یہ ٹل جائیں تو خاطر جمع ہو۔"
میں: "اس طرح کے دکھ لوگوں سے تو میں بھی سنتی ہوں، مگر کچھ دل سے میں اس کی قائل نہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ دکھ ہو ماں کو اور بچوں پر بارہ برس تک اس کا اثر رہے۔ اور کوئی دکھ ہو، اس کی کچھ دوا ہے؛ یہ کیسا لاعلاج دکھ ہے کہ طبیب اس کے قائل نہیں، وید[۵] اس کو تسلیم نہیں کرتے، ڈاکٹر اس کو نہیں مانتے، اور نہ کچھ اس کی کیفیت معلوم ہوتی ہے کہ ہے کیا بلا؟"
نانی: "ہاں، اس تیرھویں صدی میں یہ نئی حکمت ایجاد ہوئی؛ ورنہ ہمارے خسر کیسے بڑے مولوی تھے کہ دنیا جہان میں ان کا فتویٰ چلتا تھا؛ خود اس کے عامل تھے۔ اب برکت والے، علم والے لوگ اٹھ گئے؛ کٹھ ملا[۶] رہ گئے ہیں جن کو نماز کی نیت تک نہیں آتی؛ نئے نئے مسئلے نکالے ہیں۔ پیر پیغمبر کے درود فاتحہ کو حرام بتائیں، سہرے کنگنے کو منع کریں؛ شادی بیاہ میں نوبت نقارہ سب بند؛ تیج تہوار جو پیغمبروں سے چلے آتے ہیں، سب موقوف؛ محرم کا شربت حرام، شب برات کا مانڈا حلوا حرام، عید کی سویاں حرام۔ مرد تو بگڑے ہی تھے، انھوں نے عورتوں کو بھی اپنے ساتھ خراب کیا۔ وہی کہاوت ہے، مصرع:
میں تو ڈوبا ہوں، مگر تجھ کو بھی لے ڈوبوں گا
اب سہاگنیں رانڈوں سے بدتر: نہ کپڑوں میں رنگ، نہ منہ میں مسّی، نہ ناک میں نتھ، نہ ہاتھوں میں چوڑیاں۔"
میں: "یہ سب کچھ ہے، مگر اس سے کوئی خرابی تو پیدا نہیں ہوئی، بلکہ سردست[۷] ایک فائدہ ہوا کہ رسموں کی پابندی میں جو تکلیف ہوتی، اس سے محفوظ رہے۔"
نانی: "جب سے رسمیں اٹھ گئیں، دنیا سے رونق، برکت، محبت سب ہی کچھ تو اٹھ گیا، رہا کیا ہے؟ میاں بیوی میں وہ اگلے وقتوں کے سے اخلاص[۸] نہ رہے۔ بھائی بہنوں میں پہلی سی محبتیں نہ رہیں۔ نہ وہ سستے سمے ہیں، نہ وہ فراغتیں ہیں؛ اب تو گھر گھر روٹیوں کے لالے[۹] پڑے ہیں۔"
میں: "نانی، نمود اور تکلف کی چیزیں نئی نئی بہت چل پڑی ہیں؛ اس سے سب کے خرچ بڑھ گئے ہیں۔ اور ملک میں ہر طرف امن ہونے سے ایک جگہ کا پیداوار تمام ملک میں پھیل جاتا ہے۔ دو سال اس طرف خشکی رہی، کلکتہ تک سے غلہ کھنچا چلا آتا تھا۔ دوسرے، آدمیوں کا شمار بہت بڑھ گیا ہے؛ اناج سستا ہو تو کیوں کر ہو؟"
نانی: "اے چل لڑکی! میں ایسے ڈھکوسلے نہیں سمجھتی۔ میرے گھر آپ کھیتی ہوتی ہے؛ بیگھے میں دس من ہوتا تھا تو اب دو من نہیں ہوتا۔"
میں: "نانی، میں نے کھیتی نہیں کی، لیکن اس فن میں دو ایک کتابیں دیکھی ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ اگلے زمانے کی نسبت ان دنوں زمین کی پیداوار گھٹ گئی ہے؛ سو اس کا سبب یہ ہے کہ اگلے زمانے میں عملداری کا انتظام خراب تھا؛ لوٹ کھسوٹ کے ڈر سے کھیتی کم ہوتی تھی اور بہت زمین پڑی رہا کرتی تھی، اور پڑے رہنے سے اس کی طاقت بڑھتی تھی؛ جب بوئی جاتی تو بڑے اناج ہوتے۔ اب کسی سال زمین پڑی نہیں رہتی؛ پیداوار گھٹا ہی چاہیے۔"
نانی: "بیٹی، وہ پہلے کی سی برسات ہی نہیں ہوتی۔ اتنی عمر ہونے آئی؛ ایک چالیسے کے کال کے سوائے ہم نے تو قحط کا نام نہیں سنا تھا۔ اب تو قحط ایک معمولی بات ہو گئی، اور جس کو تم سا کہتی ہو، یہی اگلے وقتوں کے قحط ہیں؛ چورانوے میں بھی یہی آٹھ سیر دس سیر بکتا تھا۔"
میں: "نانی، میں تو جانتی ہوں، برساتیں جیسی سدا سے ہوتی آئی ہیں ویسی ہی اب بھی ہوتی ہیں؛ بلکہ نہروں کے جاری ہونے سے جابجا پانی کی افراط ہو گئی ہے۔ مگر اگلے وقتوں میں ہم کو اور شہروں کا حال معلوم نہیں ہوتا تھا؛ اب ایک جگہ ذرا سی خرابی ہوتی ہے تو تمام ملک میں ڈھنڈورا پٹ جاتا ہے۔"
نانی: "ایک برسات، کچھ ایسا لیل و نہار (زمانہ) بدلا ہے کہ نہ گرمی میں گرمی رہی، نہ جاڑے میں جاڑا۔"
میں: "عجب کیا ہے! ہزاروں کوس کے جنگل کٹ کر آباد ہو گئے؛ جابجا نہر جاری ہے؛ آبادی ڈیوڑھی ہو گئی؛ ان باتوں نے آب و ہوا پر ضرور اثر کیا ہو گا۔"
نانی: "اثر کیسا! جن بیماریوں کا نام نہیں سنا تھا، برس میں دو بار ان کا دورہ ہوتا ہے؛ کوئی سال تو ہیضے اور چیچک سے خالی نہیں جاتا۔"
میں: "نانی، کیا ہیضہ اور چیچک پہلے نہیں تھے؟"
نانی: "ہیضہ ہوتا تھا، مگر وہی گرانی اور بدہضمی کے ہیضے ہوتے تھے، سو بھی شاذ و نادر۔ اب تو عالمگیر وبا ہوتی ہے۔ چیچک البتہ پہلے سے چلی آتی ہے؛ جو آدمی کے جنے میں آیا ہے، چیچک سے نہیں بچا؛ قبر کے اندر تک تو نکلتی ہے۔"
میں: "نانی، اس کا تو انگریزوں نے ٹیکا وہ حکمی علاج نکالا ہے کہ کبھی خطا ہی نہیں کرتا۔"
نانی: "اے ہے، آگ لگے اس ٹیکے کو! میں پانچ مہینے سے وہی دکھڑا جھیل رہی ہوں۔ اس لڑکے کو اور روگ کیا ہے؟ اس گے باولے نے میرے بے پوچھے ٹیکا لگوا دیا؛ آج تک مصیبت سے پناہ نہیں۔"
میں: "دانہ اٹھا تھا؟" نانی: "اٹھنا کیسا، ساری بانہہ مہینوں پکا کی۔"
میں: "پھر چیچک تو نہ نکلی ہو گی؟" نانی: "بڑی ذات کی تو نکلی نہیں؛ اور بڑی نکلی ہوتی تو بھلے ہی دن نہ ہوتے۔"
میں: "کھسرا بھی تو وہ کچھ ایسی خطرناک نہیں ہوتی۔"
نانی: "اوپر والوں کی بے تدبیری نے بگاڑ دیا۔ اول تو ٹیکا لگوایا؛ دوسرے، ان[۱۰] کے نکلنے میں جو پرہیز ہوتے ہیں وہ نہ کیے۔"
میں: "کھسرا میں کچھ پرہیز بھی ہوتا ہے؟"
نانی: "کیوں نہیں؟ گھر میں بگھار نہ لگے؛ دھوبی کے گھر کے دھوئے ہوئے سفید کپڑے گھر میں کوئی نہ پہنے؛ باہر سے اول تو کوئی آنے نہ پاوے، اور جو ایسی ہی ضرورت ہو تو تھم کر اور دم لے کر؛ خوشبو کسی قسم کی پاس نہ آئے؛ دوا تو اس بیماری میں کرنی ہی نہیں چاہیے؛ گرج کی آواز بچے کے کان میں نہ پڑے۔ اسی طرح کے بہتیرے پرہیز ہیں، مگر کرنے والے کو۔ سو ان کے باوا انھی بگڑے ہوئے مولویوں میں ہیں؛ ان کے یہاں نہ کچھ پرہیز ہے نہ احتیاط، بلکہ اس کو شرک اور کفر بتاتے ہیں۔ اس لڑکے کو کھسرا نکلی تو ضد کر کے بدپرہیزیاں کیں۔ کھسرا مرے پر آنکھیں دکھنے آئیں تو کحال کا علاج ہوا۔ میں ہر چند کہتی رہی کہ کھسرا کی آنکھیں ہیں، دوا مت کرو؛ ایک نہ مانی۔ کھسرا کی آنکھوں کی دوا یہی ہوتی ہے: چنے کی دال اتار رکھی، سات پھول اتار کر رکھ چھوڑے؛ آنکھیں اچھی ہوئیں، نہر میں بہا دیے۔ خیر، انھوں نے آنکھیں تو اچھی کر ڈالیں، مگر آنکھوں کا اچھا ہونا تھا کہ بخار آنے لگا۔ تب تو میں نے کہا کہ بلا سے شرک کرتے ہیں تو ہم کرتے ہیں؛ تم ہماری بات میں دخل مت دو۔ اس کے باوا تو اسی بات پر لڑ کر علاقے پر چلے گئے؛ تب سے انھوں نے یہ نہیں پوچھا کہ لڑکا مرتا ہے یا جیتا۔ میں اسی کے پیچھے دیوانی بن رہی ہوں؛ دنیا بھر کی تدبیریں کر چکی، بخار ہے کہ ایک دن کو پیچھا نہیں چھوڑتا۔"
میں: "اچھی نانی، تم کہتی ہو کہ حکیم کا علاج نہیں کیا؛ پھر وہ دنیا بھر کی تدبیریں کیا تھیں جو تم کر چکیں؟"
نانی: "مہینوں تو شربت کی کلھیاں اتار کر چوراہے میں رکھوائیں؛ تمباکو کا ہاتھی بنا کر رات کو بلا ناغہ سرہانے رکھا؛ رتھ کے پھندنے اس کے گلے میں لٹکائے؛ سینکڑوں دفعہ پانی اور انگارے اس پر سے اتارے۔"
میں: "نانی، انگارے کیوں کر اتارتے ہیں؟"
نانی: "پانی اور سات انگارے سر کی طرف سے پاؤں تک اتارے، اور گھر کی موری کے پاس لے جا کر ٹھنڈے کر دیے، اور ٹھنڈا کرتے وقت منہ سے کہہ دیا کہ بھوکا ہے تو آگ کھا، اور پیاسا ہے تو پانی پی۔"
میں: "اچھی، پھر یہ سب کچھ تو کر چکیں اور کچھ فائدہ نہیں ہوا؛ روز بروز لڑکے کی حالت ردی ہوتی گئی؛ تو اب حکیم کا علاج بھی کر دیکھو۔"
نانی: "یہ سب بگاڑ علاج ہی سے تو پڑے ہیں؛ اب پھر علاج کروں تو لڑکے سے ہاتھ دھو بیٹھوں۔"
میں: "معلوم ہوتا ہے کہ کھسرا کی گرمی اندر بھر گئی ہے؛ اس کو ٹھنڈائی نہیں پہنچی۔"
نانی: "اس لڑکے کی افتاد تو ماں کے پیٹ سے بگڑی ہوئی ہے۔ آج کل کی لڑکیاں بڑے بوڑھوں کو تمہاری طرح احمق تو سمجھتی ہی ہیں؛ اس نے بھی میرے کہنے پر کبھی خیال نہ کیا؛ اچھوتی کوکھ کو بیٹھے بٹھائے روگ لگا لیا۔"
میں: "کیا کچھ کھانے پینے میں بے احتیاطی کی؟"
نانی: "نہیں، اس روگ کی روک ان سے نہ ہو سکی۔"
میں: "اچھی نانی، مجھ کو تو بتاؤ، کس کس بات سے اس کی روک ہوتی ہے؟"
نانی: "آٹا چھاننے میں جو آٹے کا گھیرا زمین پر بن جاتا ہے، اس کو لانگھنے سے یہ دکھ ہو جاتا ہے؛ دونوں وقت ملے جا ضرور جانے سے؛ کسی کے ساتھ برابر کھڑے ہو کر گلے لگنے سے؛ دوپٹے کا پلہ زمین پر لٹکنے سے؛ چراغ کا ہاتھ پیٹ کو چھو جانے سے؛ درخت تلے نہانے سے؛ دکھ والی کے نہانے کا پانی لانگھنے سے۔"
میں: "معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی بدنی بیماری نہیں۔"
نانی: "توبہ توبہ! ایک طرح کا آسیب ہے، اور آدمی سے آدمی کو اڑ کر لگ جاتا ہے۔"
نانی: "خدا کی پناہ، لڑکی! تو تو بلا کی جھکّی ہے۔ میں نے کہا نہیں کہ از خود بھی یہ روگ پیدا ہو جاتا ہے۔"
میں: "نانی، تم تو خفا ہوتی ہو؛ اب تم سے نہ پوچھیں تو کس سے پوچھیں؟"
نانی: "اے چل مکارہ! میں خوب سمجھتی ہوں، تو مجھ کو باتوں میں بناتی ہے۔"
میں: "اے ہے نانی! میں اور تم کو بناؤں گی؟"
نانی: "بالکل تیری ہی سی طبیعت اس لڑکے کی ماں کی تھی؛ وہ بھی بات بات میں ناحق کی حجتیں نکالا کرتی تھی؛ اور چندرے[۱۱] ماں باپ کے اختیار میں رہنا، تو توبہ توبہ، کیا یہ جینا! وہ تو جس دن سے یہ روح پڑی[۱۲]، مجھی سر کی تھی کہ ہر طرح کی خبرگیری کرتی رہی؛ گنڈے اور توشے اور منتیں اور چڑھاوے، کوئی بات تو میں نے اٹھا نہیں رکھی۔"
میں: "نانی، بہت ہی برا عقیدہ تمہارا ہے؛ توبہ کرو، توبہ! اب مرنے کے دن قریب آئے، خدا کو کیا جواب دو گی؟ سوائے خدا کے مرنا جینا بھی کسی کے اختیار میں ہے؟ یہی شرک ہے۔"
نانی: "خدا برحق، اور اس کی قدرت برحق؛ یہ باتیں بھی اسی نے بنائی ہیں۔ دکھا تو، کون سے قرآن میں لکھا ہے کہ بچہ پیٹ میں ہو، اور دوہرے دوہرے گہن[۱۳] پڑیں، اور بچے والی آنگن میں چلے پھرے اور کام کرے؟ یا تو کون سی حدیث میں آیا ہے کہ بچوں کو مکان میں اکیلا چھوڑ دیا کرو، اور اولتیوں کے تلے، درختوں کے نیچے بے تامل دودھ پلایا کرو؟"
میں: "قرآن اور حدیث میں سینکڑوں جگہ لکھا ہے کہ موت و حیات صرف خدا کے اختیار میں ہے، اور بندہ عاجز ہے۔ شعر:
نہیں اس کے سوا طاقت کسی میںکہ کام آوے کسی کی بے کسی میں
نانی: "بھلا آگ کا کام جلانا ہے یا نہیں؟" میں: "ہے، اور خدا نے یہ تاثیر آگ میں رکھ دی ہے۔"
نانی: "بس، نظر اور پرچھائیں میں بھی خدا ہی نے یہ تاثیر رکھی ہے۔"
میں: "تم نے زبردستی یہ ناحق کی تاثیریں مان رکھی ہیں؛ کہیں سے اس کی اصل نہیں پائی جاتی۔"
نانی: "اے لڑکی، نظر کی تاثیر میں بھی کلام ہے؟ نظر تو مشہور ہے، پتھر کو توڑ دیتی ہے؛ آدمی، جانور کی نظر لگ جاتی ہے۔"
میں: "کس جانور کی؟" نانی: "کتے کی، چھپکلی کی۔"
میں: "در و دیوار کی نظر لگنے لگی تو غضب ہے؛ کہاں زمین کے پردوں میں جا کر کھائیے؟"
نانی: "زمین کے پردوں میں نہ جائے، تو آدمی ایسی بے احتیاطی بھی نہ کرے کہ ہر کس و ناکس کے سامنے کھانے لگے۔ تم علاج علاج بہت پکارتی ہو؛ دیکھو، ایک نظر ہی ہے؛ لاکھ علاج کرو، جب تک وہ چیز نظر والے کو نہ پہنچ جائے گی، کوئی علاج تو فائدہ کرنے ہی کا نہیں۔"
میں: "آخر نظر کا کچھ دفعیہ بھی ہے؟"
نانی: "نظر والے کے پاؤں تلے کی مٹی، یا لہسن، پیاز، مرچ، نمک چولھے میں جلائے؛ یا وہی کھانا چوراہے میں رکھوا دیتے، یا نظر والے کو کھلا دیتے، یا نظر رسیدہ کے ہاتھ سے گوشت چھوا کر چیلوں کو دے دیتے ہیں۔ بعض لوگ کھانے سے پہلے حق نظر نکال کر رکھ چھوڑتے ہیں۔ کچھ کرو، ہے صدقہ؛ اور صدقہ دیا رد بلا؛ ثواب کا ثواب، اور علاج کا علاج۔"
میں: "نہ ثواب، نہ علاج۔ ثواب تو جب ہو کہ صرف خدا واسطے کو دیا جائے؛ ایسا دینا تو ایک طرح کی بھینٹ ہوئی؛ اور علاج سے تو کچھ علاقہ ہی نہیں۔"
نانی: "جو کچھ سمجھو؛ مگر نظر کے زہر کے اتار کا منتر اگر ہے تو یہ ہے۔"
میں: "نانی، تم اتنی تو احتیاط کرتی ہو، مگر اس کا اثر تو خاک نظر نہیں آتا۔ ہم نے تم کو سدا روتے ہی دیکھا۔ تم سے ہزار درجہ تو وہ لوگ خوش ہیں جو ان باتوں کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرتے۔"
نانی: "بیٹی، میرے رونے کی کچھ نہ پوچھو؛ جب سے آنکھ کے نیچے یہ مسّا اٹھا، آنسو نہیں تھما۔"
میں: "پھر اس بے چارے لڑکے کو اسی طرح جھلائے گا، یا کچھ تدبیر بھی کیجیے گا؟"
نانی: "اس کو کھانسی اور بخار دو روگ؛ سو کھانسی کو تو ابھی چار دن اور میں نہیں چھیڑتی۔"
میں: "کیوں؟" نانی: "اس کی کھانسی کالی کھانسی ہے، اور اس کی بڑی عمدہ دوا یہ ہے کہ کالے گھوڑے کے سوار سے پوچھے، جو کہے سو کرے۔ سو گیارہ دن ہوئے، ایک شخص کالے ٹٹو پر چڑھا چلا جاتا تھا؛ اس سے پوچھا تو اس نے کہا، دو ہفتے میں آپ اچھی ہو جائے گی۔ رہا بخار، سو اس کی منتیں اتارنی مقدم ہیں۔ دیکھتی ہو، چار چار چوٹیاں سر پر ہیں؛ گردن میں ہنسلیوں اور چاندوں کا ڈھیر ہو گیا ہے؛ کہیں کی چادر دینی ہے، کہیں کا بکرا مانا ہوا ہے۔ یہ منتیں اتریں اور تم بخار کو اترا سمجھو۔ تکلیف اس کو ہی میں جانتی ہوں، مگر میری خاطر جمع ہے؛ میں اس کو خواب میں مردہ دیکھ چکی ہوں، اور جس کو مردہ دیکھو، اس کی زندگی دراز ہوتی ہے۔"
غرض کہ ہزار ہزار تدبیریں کیں کہ علاج ہوا، نہ ہوا۔ آب و ہوا کی تبدیل سے خود بخود لڑکے کی طبیعت بہت کچھ سنبھل گئی تھی؛ یکایک سنا کہ نانی کل جا رہی ہیں۔
میں: "اچھی نانی، ایسی جلدی؟" نانی: "ہاں بوا، مکان اچھا نہیں؛ کیا کروں؟"
میں: "ہاں، کچھ بند بند سا ہے؛ ہوا کم لگتی ہو گی۔ رات کو بالا خانے پر سو رہا کرو۔"
نانی: "آگ لگے اس گھر کو اور اس کے بالا خانے کو! کوئی آدمیوں کے رہنے کا ہے؟"
میں: "نانی، ایسا بہت چھوٹا تو نہیں ہے، اور بالا خانہ تو خوب ہی ہوادار ہے؛ نیچے کا صحن البتہ ذرا بھچا بھچا ہے۔"
نانی: "تم ہوا ہی کو پیٹتی ہو؛ رات بھر بچہ اچھل اچھل پڑتا ہے، اور کچھ ایسا بھیانک بھیانک ہے، خود مجھ ہی کو ڈر لگتا ہے؛ تمام رات برے برے خواب نظر آتے ہیں۔"
میں: "کبھی کچھ آنکھوں سے بھی دیکھا ہے؟" نانی: "جھوٹ کیوں کر کہہ دوں؛ دیکھا بھالا تو کچھ نہیں، خدا نہ دکھائے؛ مگر نہیں بوا، مکان ہی برا ہے۔" میں: "اچھی، کیا برائی ہے؟"
نانی: "تمام رات تو کمبخت بلیاں روتی ہیں؛ پچھواڑے بڑ کا درخت ہے، اس پر الو رہتا ہے؛ رات کو جب آنکھ کھلے گی، گلی میں کتوں کو روتے سنو۔ کوٹھا سب سے زیادہ خراب ہے۔"
میں: "دو برس تک ایک کرایہ دار بال بچوں سمیت اسی کوٹھے پر رہا؛ ہم نے تو کچھ شکایت سنی نہیں۔"
نانی: "اس کے اٹھ جانے پر خراب ہو گیا ہو گا۔" میں: "اچھی، ایسا بھی ہوتا ہے؟"
نانی: "کیوں، اچھے گھر میں چالیس دن چراغ نہ جلے تو اس میں دخل کر لیتے ہیں۔"
میں: "ناحق! شہر کی ہوا لڑکے کو خوب راس آئی ہے؛ دیکھو تو، پہلے کی نسبت ماشاء اللہ کتنا فرق ہے؛ مہینہ سوا مہینہ اور رہ جاؤ تو یہ لڑکا بالکل اچھا ہو جائے۔"
نانی: "اجی، ان کا تو وہی منتوں کا تقاضا تھا، سو میں کر چکی؛ اب کچھ ڈر کی بات نہیں۔ اصل خیر سے اس کی سالگرہ ہو جائے تو پھر مجھ کو کسی طرح کھٹکا نہیں۔ میں آپ باہر سے گھبرا اٹھی ہوں؛ اس کی سالگرہ ہوئی اور میں سب کو ساتھ لے کر آئی۔"
غرض ایسا وہم دل میں سمایا کہ ٹھہریں پر نہ ٹھہریں۔ دیکھو، ان ہماری نانی کے کیسے خیالات تھے، جن کو دین اور عقل سے کچھ واسطہ نہ تھا؛ اور یہ سب دیہات کے رہنے کا اثر تھا۔ سب سے بڑا عیب تو دیہات میں یہ ہے، دوسری عورتوں پر کچھ اس طرح کی سختی اور قید ہے کہ بیان نہیں ہو سکتا۔ آٹھ آٹھ دس دس برس کی بیاہی ہوئیں، اور تین تین چار چار بچوں کی مائیں، مگر گھونگھٹ کا تو بڑا چڑھا ہوا ہے؛ بات چیت سے معذور، گفت و شنود سے محروم۔ غرض کہ شرعی پردہ داری کے ساتھ جو آزادی عورتوں کو حاصل ہونی چاہیے، دیہات میں میسر نہیں؛ غلامی کی حالت میں بے چاریوں کی زندگی بسر ہوتی ہے۔"
ازبسکہ حسن آرا کی سنگنی جھجر میں ہوئی تھی، اس بات کو سن کر ایسے سناٹے میں گئی کہ پھر بولی ہی نہیں۔ جب شام ہونے آئی، استانی جی نے کہا: "لڑکیو، کیا تم کو خدا کی سنوار ہے! مسیح الملک کی کہانی کو کچھ ایسی گھڑی کاٹا کیا ہے کہ پھر اس کا نام تک نہیں لیا۔ کوئی معمول ہو، ایک روز بھی ناغہ ہو جاتا ہے تو چالیس دن کی برکت اڑ جاتی ہے۔ تم کو کہانیوں میں کھیل سوجھتا ہے، اور میں سبق سے بڑھ کر ان کو ضروری سمجھتی ہوں۔ جاؤ، کتاب نکال لاؤ۔"
حواشی
[۱] ادھ موا۔
[۲] جس بچے سے پہلے کوئی بچہ ہو کر مر گیا ہو، وہ مرت بیاہی کا کہلاتا ہے۔
[۳] [illegible: footnote cut off at foot of scan]
[۴] یعنی بہت محنت کی [illegible]
[۵] [illegible]
[۶] [illegible]
[۷] بالفعل۔
[۸] خالص دوستی۔
[۹] یعنی روٹی کی مشکل پڑی ہے۔
[۱۰] بوڑھی عورت چیچک کے ادب کے مارے اس جگہ کو "ان" کہتی ہے۔
[۱۱] یعنی چند روزہ [illegible]
[۱۲] یعنی جب سے ماں کے پیٹ میں تھا۔
[۱۳] دوہرے گہن سے مراد یعنی چاند گہن اور سورج گہن دونوں۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.