
Chapitre 10 sur 22
Giving Charity and Then Expecting Gratitude for It
خیرات دے کر احسان جتانا
خیرات دے کر احسان جتانا
حسن آرا: "شاید کیا؟ میں اس کو پہچانتی ہوں۔ رمضان کے رمضان ہمارے یہاں لنگر[۱] سے برابر کھانا لینے جایا کرتی تھی۔ اب چار دن سے آپ کے یہاں نوکر ہے تو اس کے مغز[۲] چل گئے ہیں؛ وہ دن بھول گئی۔"
محمودہ: "لنگر آپ کے یہاں کیوں تقسیم ہوا کرتا ہے؟" حسن آرا: "نام خدا تقسیم ہوا کرتا ہے۔"
محمودہ: "نام خدا اسی کا نام ہے کہ جو کوئی اس میں سے لے، وہ عمر بھر آپ کا غلام بنا رہے، اور جس طرح اور تنخواہ دار نوکر آپ کا ادب آپ کی تعظیم کرتے ہیں، وہ بھی کیا کرے؟ ایسے لنگر کا خاک[۳] ثواب ہوگا!"
حسن آرا: "تعظیم نہ کرے تو ہم کو جوتیاں مار لیا کرے؟" محمودہ: "توبہ توبہ، جوتیوں کا یہاں کیا مذکور ہے؟"
حسن آرا: "بوا، ایسے کم حیثیت لوگوں کا ایسی بے باکی سے بول اٹھنا بھی جوتیاں ہی مارنا ہے۔"
محمودہ: "جب لنگر خدا کے نام کا ہوا تو پھر آپ کا کچھ احسان نہیں۔ ایک خیرات کے دو دو بدلے تو ہو نہیں سکتے، کہ عاقبت کا ثواب بھی لو اور دنیا میں بھی ادب اور تعظیم کی خواہاں رہو۔ پس خیرات دے کر یہ امید پیدا کرنا کہ یہ ہمارا ادب کرے، توقع بے جا ہے؛ اور اس کو دل میں جگہ نہ دو تو آدمی آدمی سب برابر؛ جیسی آپ ویسی ہیں، ویسی ماما۔"
حسن آرا: "آپ کو اپنے تئیں ماما کے برابر سمجھنے کا اختیار ہے، مگر میں تو خدا کے فضل سے خاصی امیر زادی ہوں، اور ایسی ایسی اب بھی دس بیس تو ہمارے گھر نوکر ہوں گی۔"
حسن آرا نے ماما سے معافی مانگی
محمودہ: "یہ نری زبردستی ہے کہ آپ امیر ہیں تو دنیا میں جو ہے آپ کا ادب کرے، اور نری ہٹ دھرمی ہے کہ آپ امیر ہیں تو جس کو جی میں آئے گالیاں دے لیا کیجیے۔"
حسن آرا: "میں نے تو کوئی گالی نہیں دی۔"
محمودہ: "گالی کے سر سینگ[۴] ہوتے ہیں؟ آپ نے جھوٹی کہا، نامراد کہا، مردار کہا، دیدے پھوٹی کہا، اور یہ کہا کہ چیلوں کے مارے فرش کر دیتی۔"
حسن آرا: "یہی گالی ہے تو خدا حافظ! اب کیا میں ان کو جناب کہتی، خداوند بناتی؟"
محمودہ: "کیا ضرور ہے کہ کہیے تو جناب اور خداوند کہیے، یا ایک دم سے جھوٹی نامراد دیدوں پھوٹی بنائیے؟ یہی لفظ، برا نہ مانیے گا، اگر کوئی آپ کو کہے تو کیسا برا لگے؟"
حسن آرا: "مجھ کو برا لگے تو لگے، لیکن یہ لوگ اسی اوقات[۵] کے ہیں؛ ان کو برا ماننے کی کوئی وجہ نہیں۔"
محمودہ: "ہاں، بس یہی غلطی ہے۔ یہ ماما اس اوقات کی نہیں ہے؛ غریب تو ہے، مگر عزت دار ہے۔"
حسن آرا: "یہ آپ ہی فرمائیے کہ غریب ہو کر عزت دار ہے!" محمودہ: "بے شک، آپ کے نزدیک دولت ہی عزت ہے، اور میرے نزدیک، بلکہ خدا و رسول کے نزدیک، دنیا کے عقلمندوں کے نزدیک، نیکی بڑی عزت ہے۔"
حسن آرا: "بھلا میں بھی دیانت بیگم[۶] کی نیکیاں سنوں۔ کون سا لنگر تقسیم کرتی ہیں؟ کوئی سرائے مسافروں کے آرام دینے کو بنوا دی ہے؟ جنگل میں پیاسوں کے واسطے کوئی کنواں کھدوا دیا ہے؟ کسی بیوہ کی تنخواہ کر رکھی ہے؟ مسجد کے مسافروں کا کھانا مقرر ہے؟"
محمودہ: "کیا بس یہی نیکیاں ہیں؟ یہ وہ نیکیاں ہیں جو دولتمندوں کے حصے میں ہیں۔ اب میں دیانت کی نیکیاں گنواؤں۔ دیکھیے، اس قدر تو غریب ہے اور ماما گری کرتی ہے، مگر اتنی بڑی ایمان دار ہے کہ لاکھ کو خاک سمجھتی ہے۔ چھ چپاتیاں صبح، چھ شام، اس کو یہاں سے ملتی ہیں؛ پانچ کبھی چار آپ کھاتی، اور ڈیڑھ ایک ضرور خدا کے نام مسجد میں دے آتی ہے۔ اس کی یہ ایک چپاتی آپ کے لنگر سے کہیں زیادہ ہے۔ دیکھیے، یہ عمر ہے کہ ناکا[۷] تک نہیں سوجھتا؛ آپ جانتی ہیں کہ اب یہ بقچہ[۸] کھول کر کیوں بیٹھی ہیں؟ ہمسائی کے بچوں کے کپڑوں میں پیوند لگائیں گی۔ دونوں وقت مفت میں چھ سات گھروں کا سودا لا دیا کرتی ہے۔ ہمسایوں میں کوئی بیمار ہو، خدا واسطے کو اپنے ہاتھوں قارورہ حکیم کے یہاں لے جانا، عطار کی دکان سے نسخہ بندھوانا، چھان بنا کر پلانا، اور دن میں دس دس مرتبہ جا کر پوچھنا۔ جھوٹ کبھی نہیں بولتی؛ چغلی کسی کی نہیں کھاتی؛ پیٹھ پیچھے کسی کو برا نہیں کہتی؛ کسی کے کام میں عذر نہیں؛ سب کو نیک صلاح، نیک نصیحت۔ آپ اس کو بے عزت سمجھیں؛ آپ کے بڑے حکیم صاحب جب تشریف لائے اور یہاں ملنے کو آئے، ہمیشہ اس دیانت کو پوچھا اور بہت التفات (توجہ) کے ساتھ دیر تک باتیں کرتے رہے۔"
حسن آرا: "آہا، تو دیانت بڑی نیک آدمی ہے۔"
محمودہ: "بے شک فرشتہ آدمی ہے۔ استانی جی ماما کا اتنا ادب کرتی ہیں کہ کوئی ماں کا بھی نہ کرتا ہوگا۔"
حسن آرا: "کیا سچ مچ دیانت کو میری بات بری لگی ہوگی؟"
محمودہ: "بات تو بری لگنے ہی کی تھی؛ شاید اس نے اپنی نیک مزاجی کی وجہ سے برا نہ مانا ہو۔" حسن آرا: "بھلا پھر کیا ہوگا؟"
محمودہ: "ہونا کیا تھا؟ کچھ اس بیچاری کے پاس لشکر ہے کہ آپ سے بدلہ لے گی؟"
حسن آرا: "اچھا، اور کیا کرے گی؟ بہت کرے گی، اماں جان سے جا کہے گی؛ سو میں اماں جان سے کچھ ڈرتی ڈراتی نہیں۔"
محمودہ: "اس سے آپ اطمینان رکھیے کہ آپ کی اماں جان کیا، ماما کسی سے اس کا مذکور تک تو کرنے ہی کی نہیں؛ بڑے ضبط کی آدمی ہے۔"
حسن آرا: "پھر کیا خوف ہے؟ کہہ دیا، کہہ دیا۔"
محمودہ: "اے ہے، یہی تو بڑا غضب ہے۔ اگر اس کا دل دکھا ہے تو ایسا نہ ہو، کہیں خدا کو برا لگا ہو۔ اس کی مار بلا کی مار ہے؛ اس کی لاٹھی میں آواز نہیں؛ دم کے دم میں جو چاہے کر گزرے؛ اچھے بھلے کو اندھا کوڑھی کر دے؛ بادشاہ سے بھیک منگوا دے۔ حسن آرا: "اچھی، تو خدا کے لیے دیانت سے میرا قصور معاف کرا دو۔"
محمودہ: "میں خطا میں شریک نہ تھی، تو اب معافی میں بھی شریک نہیں ہوں گی۔ آپ ہی نے ناحق اس کو برا کہا، آپ ہی اس سے خطا معاف کرائیے۔"
حسن آرا: "اچھا، ذرا دیانت الگ ہو تو کہوں گی۔"
محمودہ: "الگ ہونے کی کیا ضرورت ہے؟"
حسن آرا: "ہاں، اب سب کے سامنے میں امیر زادی ہو کر ماما کے آگے ہاتھ جوڑوں!"
محمودہ: "انصاف تو یہی ہے کہ سب کے سامنے اس کو ذلیل کیا تو سب کے سامنے ہی اس کو خوش بھی کیجیے۔ امیری آپ کے مغز میں ایسی سما رہی ہے کہ نہیں معلوم آپ اپنے تئیں کیا سمجھتی ہیں۔ جب آپ کے منہ سے غرور کی بات میں سنتی ہوں، لرز اٹھتی ہوں کہ دیکھیے، خدا خیر کرے۔"
یہ سن کر حسن آرا دوڑی دوڑی جا دیانت سے لپٹ گئی اور رونے لگی۔ دیانت کی آنکھوں میں بھی آنسو ڈبڈبا آئے، اور جھٹ اس نے حسن آرا کو اٹھا گلے سے لگا لیا اور ہزاروں دعائیں دیں۔ حسن آرا خطا معاف کرا کے پھر محمودہ کے پاس گئی: "لیجیے حضرت، میں نے دیانت کو راضی کر لیا۔"
محمودہ: "بیگم صاحب، سچ کہنا، اب تمہارے دل کی کیا کیفیت ہے؟"
حسن آرا: "میں دیکھتی ہوں کہ خطا کا اقرار کرنا کچھ بھی بے عزتی کا موجب نہیں۔ میں نہ جاتی تو سدا کو دیانت سے آنکھ جھینپی ہی رہتی۔ آپ کے کہنے سے ایک کھٹکا سا ہو گیا تھا؛ اب تو دل میں ایک عجیب طرح کی خوشی پاتی ہوں کہ بیان نہیں کر سکتی۔" محمودہ: "اس میں شک نہیں کہ بڑے حوصلے اور بڑی ریاست کی بات آپ نے کی۔ جو سنے گا خوش ہوگا اور تعریف کرے گا؛ اور خدا کی درگاہ میں تو اس کا اجر اتنا بڑا ہے کہ دنیا کی کوئی نعمت اس کی برابری نہیں کر سکتی۔ جتنی کتابیں آج تک میں نے پڑھی ہیں، سب میں یہی لکھا ہے کہ دل آزاری سے بڑھ کر دنیا میں کوئی گناہ نہیں، اور دلجوئی سے بڑھ کر کوئی نیکی نہیں۔" محمودہ اور حسن آرا میں یہ باتیں بھی ہوا کیں اور کام بھی ہوتا رہا۔ ادھر یہ گفتگو ختم ہوئی، ادھر کڑھائی اتری۔ ہر ہر چیز میں سے تھوڑا تھوڑا لے، بھرا چنگیر تو اللہ کے نام مسجد میں گیا؛ جو باقی رہا، پہلے استانی جی کے آگے رکھا۔ مگر استانی جی روزے سے تھیں؛ لڑکیوں سے کہا، "تم لوگ شوق سے کھاؤ پیو۔" غرض سب نے مل کر خوب کھایا۔
نیکی اور سچی خیرات
سب کے برابر ایک حصہ دیانت کو بھی ملا تھا۔ دیانت پکوان گود میں لے، دبے پاؤں باہر نکلی، اور محمودہ نے دیکھ لیا، اور چپکے چپکے حسن آرا سے کہا، "بیگم صاحب، لیجیے، آئیے، میں اپنے کہے کی تصدیق کرا دوں۔" اور حسن آرا کا ہاتھ پکڑ، کھڑکی کی آڑ میں لے جا کر کھڑا کر دیا۔ اتنے میں دیانت بھی ہمسائی کے گھر جا پہنچی۔ نام لے لے کر ان کے سب بچوں کو پیار سے بلایا، اپنے پاس بٹھایا، اور وہ پکوان جو یہاں ملا تھا، ان کو اپنے ہاتھ سے کھلا دیا۔ جب کھا چکے تو سب کا ہاتھ منہ دھلا، آپ چلنے کے ارادے سے اٹھیں، اور چلتے چلتے سب پر تاکید کر آئیں کہ "خبردار، چکنائی پر کوئی پانی مت پی لینا، کھانسی ہو جائے گی۔" دیانت گھر آئی تو محمودہ نے پوچھا، "کیوں بی بی ماما، پکوان کیسا تھا؟"
ماما: "سبحان اللہ[۹]! بڑے مزے کا؛ مجھ کو تو بہت ہی بھایا۔" یہ سن کر محمودہ نے حسن آرا سے کہا، "دیکھا آپ نے، کس درجے کی یہ عورت نیک ہے؟ کیسا ہی کوئی گیا گزرا ہو، پھر بھی کڑھائی ہوئی، نئی چیز ہوئی، جی للچا ہی اٹھتا ہے؛ خصوصاً بڈھوں کو تو کھانے کا غضب کا ہوکا[۱۰] ہے۔ لیکن دیکھیے، دیانت نے کتنا اپنے جی کو مارا ہے، اور اس غریبی پر کیا استغنا[۱۱] ہے کہ آپ پکوان چکھا تک نہیں۔"
حسن آرا: "کیا دیانت اور ہمسائی سے کچھ رشتہ ناتا ہے؟"
محمودہ: "ہرگز نہیں۔ دیانت سیدانی ہے اور ہمسائی پٹھانی؛ اور یہ ہمسائی تو پانی پت کرنال کی طرف کی رہنے والی ہے، اکیلی آپ ہے اور یہاں کسی سے بھی رشتہ ناتا نہیں۔ رشتے ناتے پر سلوک تو سبھی کوئی کرتا ہے؛ یہی دیانت ہی کا حوصلہ ہے کہ جان نہ پہچان، اور دل و جان قربان۔ اور ذرا اس خیر خواہی کو دیکھیے کہ خبردار، کوئی پانی نہ پی لینا؛ اور اس اخفا[۱۲] پر نظر کیجیے کہ کیسے دبے پاؤں گئی؛ اور میں نے پوچھا تو پکوان کی کیسی تعریف کی کہ گویا آپ ہی کھایا ہے[۱۳]۔ سچی خیرات اس کو کہتے ہیں؛ نہ یہ کہ دیں تو خدا کے نام، اور اپنا نام و نمود[۱۴] چاہیں۔ بھلا لنگر بانٹنا اور ڈھول بجا کر دینا کیا ضرور ہے؟ دینا وہی ٹھیک ہے کہ کانوں کان خبر نہ ہو۔"
اتنے میں دیانت نے محمودہ سے کہا، "صاحبزادی، کڑھائی تو تل تلا چکیں؛ وہ روپیہ جو تم نے مجھ کو دیا تھا، اس میں کے کچھ پیسے بچے ہوئے میرے پلے میں بندھے ہیں، کہیں کھل کھلا پڑیں گے؛ اس کا حساب کر لو تو بہتر ہے۔"
محمودہ: "یاد ہے کیا کیا چیز لائی ہو؟"
ماما: "چھ آنے کا گھی، دو پیسے کے تل، ڈیڑھ آنے کا بیسن، تین آنے کی کھانڈ، ایک آنے کا دہی، دو آنے کا میدہ؛ بس یہی چیزیں تو اس روپے میں آئی ہیں۔"
محمودہ: "بوا کنیز فاطمہ، دیکھو تو ماما کے پلے میں آٹھ پیسے بندھے ہیں؛ کھول لاؤ۔" کنیز فاطمہ نے پیسے لا محمودہ کے ہاتھ دیے۔
حسن آرا: "دیکھوں کے پیسے ہیں۔" گنے تو آٹھ تھے۔ تب تو حیران ہو کر محمودہ سے پوچھا، "اچھی، تم نے بے گنے کیوں کر جان لیا تھا کہ آٹھ ہیں؟"
محمودہ: "حساب سے۔" حسن آرا: "حساب کیا؟"
محمودہ: "حساب یہ کہ روپے کے سولہ آنے، اور آنے کے چار پیسے۔ جتنا خرچ ماما نے بتایا، اس کو میں نے جوڑا تو چودہ آنے ہوئے؛ دو آنے باقی رہے، جن کے چار دونی آٹھ پیسے ہوئے۔"
حسن آرا: "یہ تو عجیب چیز ہے! میں نے اپنے گھر میں تو ایسی بات کبھی نہیں سنی۔"
محمودہ: "عجیب اور بڑے کام کی چیز ہے۔ دنیا بھر کا لین دین، اچاپت[۱۵]، بیوپار، سب حساب پر موقوف ہے۔ ممکن نہیں کہ آپ کے گھر حساب نہ ہوتا ہو؛ آپ کا گھر تو بڑا امیر گھر ہے، غریب سے غریب گھر میں بھی تھوڑا بہت حساب ضرور ہوتا ہے۔"
حسن آرا: "کیا یہ بھی کوئی پڑھنے کی چیز ہے؟"
محمودہ: "دنیا میں کوئی چیز ایسی بھی ہے جو پڑھنے میں نہ ہو؟ مگر چھوٹا موٹا حساب لوگ زبانی بھی سیکھ لیتے ہیں۔ بنیے، بقال، حلوائی وغیرہ سب بقدر ضرورت حساب سے واقف ہوتے ہیں۔"
حسن آرا: "مکتب کی یہ لڑکیاں بھی حساب جانتی ہیں؟"
محمودہ: "بعض تو ان میں سے بہت جانتی ہیں؛ مشکل مشکل باتیں نکال لیتی ہیں جن کو ان پڑھ آدمی مہینوں کے سوچ بچار سے بھی نہ نکال سکے۔ اور بعض جو مبتدی ہیں، وہ بھی بازار والوں سے کہیں زیادہ جانتی ہیں۔ اگر فرمائیے تو میں آپ کے روبرو ان سے کچھ حساب کے سوالات پوچھوں؛ دیکھیے، کیسے تڑ تڑ[۱۶] جواب دیتی ہیں۔"
حسن آرا: "بہت خوب۔"
حواشی
[۱] خیرات کے طور پر جو غلہ یا کھانا تقسیم کیا جاتا ہے۔
[۲] یعنی شیخی میں آ گئی ہے۔
[۳] یہ محاورہ ہے، یعنی کچھ بھی ثواب نہ ہوگا۔
[۴] یعنی گالی کیا کسی جانور کا نام ہے جس کے سر میں سینگ ہوں۔
[۵] حیثیت۔
[۶] ماما دیانت کو دیانت بیگم کہنا حسن آرا کی چھیڑ ہے۔
[۷] سوئی کا سوراخ۔
[۸] چھوٹی سی گٹھڑی جس میں عورتیں سینے پرونے کا سامان رکھا کرتی ہیں۔
[۹] اللہ پاک ہے؛ یہ جملہ تعریف کے محل پر بولا جاتا ہے۔
[۱۰] شدت کی حرص کو کہتے ہیں۔
[۱۱] بے پروائی۔
[۱۲] چھپانا۔
[۱۳] شکر، باوجود اس کے دیانت نے کوئی بات جھوٹ بھی نہیں کہی۔
[۱۴] دکھاوا۔
[۱۵] بنیے سے آٹا وغیرہ ادھار منگوانے کو اچاپت کہتے ہیں۔
[۱۶] جلد جلد۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.