
الفصل 5 من 8
Persian Works
تصنیفات فارسی
تصنیفات فارسی
فارسی کی تصنیفات کی حقیقت حال کا لکھنا اور ان پر رائے لکھنی اردو کے تذکرہ نویس کا کام نہیں ہے، اس لیے فقط فہرست لکھتا ہوں۔
قصائد: حمد، نعت، آئمہ معصومین کی مدح میں، بادشاہ دہلی، شاہ اودھ، گورنروں اور بعض صاحبان عالیشان کی تعریف میں ہیں۔
غزلوں کا دیوان مع دیوان قصائد کے ۱۸۳۴ و ۳۵ء میں مرتب ہو کر نقلوں کے ذریعہ اہل ذوق میں پھیلا، اور اب تک کئی دفعہ چھپ چکا ہے۔
پنج آہنگ: اس میں پانچ آہنگ کے پانچ باب فارسی کے انشا پردازوں کے لیے جو کہ ان کے انداز میں لکھنا چاہیں، ایک عمدہ تصنیف ہے۔
۱۸۶۲ء میں قاطع برہان چھپی، بعد کچھ تبدیلی کے اسی کو پھر چھپوایا اور درفش کاویانی نام رکھا۔ برہان قاطع کی غلطیاں نکالی ہیں، مگر اس پر فارسی کے دعویداروں نے سخت حملوں کے ساتھ مخالفت کی۔
نامۂ غالب: قاطع برہان کے کئی شخصوں نے جواب لکھے ہیں۔ چنانچہ میرٹھ میں حافظ عبد الرحیم نام ایک معلم نابینا تھے، انھوں نے اس کا جواب ساطع برہان لکھا۔ مرزا صاحب نے خط کے عنوان میں حافظ صاحب موصوف کو بطور جواب کے چند ورق لکھے اور ان کا نام نامۂ غالب رکھا۔
مہر نیمروز: حکیم احسن اللہ خاں طبیب خاص بادشاہ کے تھے، انھیں تاریخ کا شوق تھا، اور اہل کمال کے ساتھ عموماً تعلق خاطر رکھتے تھے۔ مرزا نے ان کے ایما سے اول کتاب مذکور کا ایک حصہ لکھا۔ اسی کے ذریعہ سے ۱۸۵۰ء میں باریاب حضور ہو کر خدمت تاریخ نویسی پر مامور ہوئے اور نجم الدولہ دبیر الملک مرزا اسد اللہ خاں غالب بہادر نظام جنگ خطاب ہوا۔ چنانچہ پہلی جلد میں امیر تیمور سے ہمایوں تک کا حال بیان کر کے مہر نیمروز نام رکھا۔ ارادہ تھا کہ اکبر سے لے کر بہادر شاہ تک کا حال لکھیں اور ماہ نیم ماہ نام رکھیں کہ غدر ہو گیا۔
دستنبو: ۱۱ مئی ۱۸۵۷ء سے یکم جولائی ۱۸۵۸ء تک حال بغاوت، روداد تباہی شہر، اپنی سرگزشت، غرض کل ۱۵ مہینے کا حال لکھا۔
سبد چیں: دو تین قصیدے، چند قطعے، چند خطوط فارسی کے اس میں ہیں کہ دیوان میں درج نہ ہوئے تھے۔
اور آخر عمر میں اپنا کلام اپنے پاس نہ رکھتے تھے۔ اردو کی تصنیفات نواب حسین مرزا صاحب کے پاس رہتی تھیں اور ترتیب کرتے جاتے تھے، فارسی نواب ضیاء الدین احمد صاحب کو بھیج دیتے تھے کہ انھیں نیر رخشاں تخلص کر کے اپنا شاگرد رشید اور خلیفۂ اول قرار دیا تھا۔ خلیفۂ دوم نواب علاء الدین خاں صاحب تھے۔
ان کے خطوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی انشا پردازی کے شوق کو بڑی کاوش اور عرق ریزی سے نباہتے تھے، اسی واسطے مرنے سے ۱۰، ۱۵ برس پہلے ان کی تحریریں اردو میں ہوتی تھیں۔ چنانچہ ایک دوست کے خط میں خود فرماتے ہیں: "بندہ نواز، زبان فارسی میں خطوں کا لکھنا پہلے سے متروک ہے۔ پیرانہ سری اور ضعف کے صدموں سے محنت پژوہی اور جگر کاوی کی قوت مجھ میں نہیں رہی۔ حرارت غریزی کو زوال ہے، اور یہ حال ہے کہ:
مضمحل ہو گئے قویٰ غالبوہ عناصر میں اعتدال کہاں
کچھ آپ ہی کی تخصیص نہیں، سب دوستوں کو جن سے کتابت رہتی ہے، اردو ہی میں نیاز نامے لکھا کرتا ہوں۔ جن جن صاحبوں کی خدمت میں آگے میں نے فارسی زبان میں خطوط لکھے اور بھیجے تھے، ان میں سے الی الآن موجود ہیں، ان سے بھی عند الضرورت اسی زبان مروج میں مکاتیب و مراسلت کا اتفاق ہوا کرتا ہے۔"
اردوئے معلی میں مرزا حاتم علی مہر کو تحریر فرماتے ہیں: "میرا ایک قطعہ ہے کہ وہ میں نے کلکتہ میں کہا تھا۔ تقریب یہ کہ مولوی کرم حسین ایک میرے دوست تھے، انھوں نے ایک مجلس میں چکنی ڈلی بہت پاکیزہ اور بے ریشہ اپنے کف دست پر رکھ کر مجھ سے کہا کہ اس کی تشبیہات نظم کیجیے۔ میں نے بیٹھے بیٹھے نو، دس شعر کا قطعہ لکھ کر ان کو دیا اور صلہ میں وہ ڈلی ان سے لی۔
قطعہ
ہے جو صاحب کے کف دست پہ یہ چکنی ڈلیزیب دیتا ہے اسے جس قدر اچھا کہیے
خامہ انگشت بدنداں کہ اسے کیا لکھیےناطقہ سر بگریباں کہ اسے کیا کہیے
اختر سوختۂ قیس سے نسبت دیجےخال مشکین رخ دلکش لیلیٰ کہیے
حجر الاسود دیوار حرم کیجے فرضنافہ آہوئے بیابان ختن کا کہیے
صومعہ میں اسے ٹھہرائیے گر مہر نمازمیکدہ میں اسے خشت خم صہبا کہیے
مسی آلودہ سر انگشت حسیناں لکھیےسر پستان پریزاد سے مانا کہیے
اپنے حضرت کے کف دست کو دل کیجے فرضاور اس چکنی سپاری کو سویدا کہیے
غرض کہ میں بائیس پھبتیاں ہیں، اشعار سب کب یاد آتے ہیں، بھول گیا[۱]۔"
نواب زینت محل کو بادشاہ کے مزاج میں بہت دخل تھا۔ مرزا جواں بخت ان کے بیٹے تھے، اور باوجودیکہ بہت مرشد زادوں سے چھوٹے تھے، مگر بادشاہ انھی کی ولیعہدی کے لیے کوشش کر رہے تھے۔ جب ان کی شادی کا موقع آیا تو بڑی دھوم کے سامان ہوئے۔ مرزا نے یہ سہرا کہہ کر حضور میں گزرانا۔
سہرا
خوش ہو اے بخت کہ ہے آج ترے سر سہراباندھ شہزادہ جواں بخت کے سر پر سہرا
کیا ہی اس چاند سے مکھڑے پہ بھلا لگتا ہےہے ترے حسن دل افروز کا زیور سہرا
سر پہ چڑھنا تجھے پھبتا ہے پر اے طرف کلاہمجھ کو ڈر ہے کہ نہ چھینے ترا لمبر سہرا
ناؤ بھر کر ہی پروئے گئے ہوں گے موتیورنہ کیوں لائے ہیں کشتی میں لگا کر سہرا
سات دریا کے فراہم کیے ہوں گے موتیتب بنا ہو گا اس انداز کا گز بھر سہرا
رخ پہ دولہا کے جو گرمی سے پسینہ ٹپکاہے رگ ابر گہر بار سراسر سہرا
یہ بھی اک بے ادبی تھی کہ قبا سے بڑھ جائےرہ گیا آن کے دامن کے برابر سہرا
جی میں اترائیں نہ موتی کہ ہمیں ہیں اک چیزچاہیے پھولوں کا بھی ایک مقرر سہرا
جبکہ اپنے میں سماویں نہ خوشی کے مارےگوندھے پھولوں کا بھلا پھر کوئی کیونکر سہرا
رخ روشن کی دمک گوہر غلطاں کی چمککیوں نہ دکھلائے فروغ مہ و اختر سہرا
تار ریشم کا نہیں ہے یہ رگ ابر بہارلائے گا تاب گراں باری گوہر سہرا
ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرفدار نہیںدیکھیں اس سہرے سے کہہ دے کوئی بہتر سہرا
مقطع کو سن کر حضور کو خیال ہوا کہ اس میں ہم پر چشمک ہے، گویا اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس کے سہرے کے برابر کوئی سہرا کہنے والا نہیں، ہم نے شیخ ابراہیم ذوق کو استاد اور ملک الشعرا بنایا ہے، یہ سخن فہمی سے بعید ہے بلکہ طرفداری ہے۔ چنانچہ اسی دن استاد مرحوم جو حسب معمول حضور میں گئے تو بادشاہ نے وہ سہرا دکھایا کہ استاد، دیکھیے۔ انھوں نے پڑھا اور بموجب عادت کے عرض کی: پیر و مرشد، درست۔ بادشاہ نے کہا کہ استاد، تم بھی ایک سہرا کہہ دو۔ عرض کی: بہت خوب۔ پھر فرمایا کہ ابھی لکھ دو، اور ذرا مقطع پر بھی نظر رکھنا۔ استاد مرحوم وہیں بیٹھ گئے اور عرض کیا:
سہرا
اے جواں بخت مبارک تجھے سر پر سہراآج ہے یمن و سعادت کا ترے سر سہرا
آج وہ دن ہے کہ لائے در انجم سے فلککشتی زر میں مہ نو کی لگا کر سہرا
تجھ کو یہ کہے صل علیٰ، وہ کہے سبحان اللہدیکھے مکھڑے پہ جو تیرے مہ و اختر سہرا
تا بنی اور بنے میں رہے اخلاص بہمگوندھیے سورۂ اخلاص کو پڑھ کر سہرا
دھوم ہے گلشن آفاق میں اس سہرے کیگائیں مرغان نوا سنج نہ کیونکر سہرا
روئے فرخ پہ جو ہیں تیرے برستے انوارتار بارش سے بنا ایک سراسر سہرا
تابش حسن سے مانند شعاع خورشیدرخ پر نور پہ ہے تیرے منور سہرا
ایک کو ایک پہ تزئیں ہے دم آرائشسر پہ دستار ہے دستار کے اوپر سہرا
اک گہر بھی نہیں صدکان گہر میں چھوڑاتیرا بنوایا ہے لے لے کے جو گوہر سہرا
پھرتی خوشبو سے ہے اتراتی ہوئی باد بہاراللہ اللہ رے پھولوں کا معطر سہرا
سر پہ طرہ ہے مزین تو گلے میں بدھیکنگنا ہاتھ میں زیبا ہے تو منہ پر سہرا
رونمائی میں تجھے دے مہ خورشید فلککھول دے رخ کو جو تو منہ سے اٹھا کر سہرا
کثرت تار نظر سے ہے تماشائیوں کےدم نظارہ ترے روئے نکو پر سہرا
در خوش آب مضامیں سے بنا کر لایاواسطے تیرے ترا ذوق ثنا گر سہرا
جس کو دعوے ہے سخن کا یہ سنا دے اس کودیکھ اس طرح سے کہتے ہیں سخنور سہرا
ارباب نشاط حضور میں ملازم تھیں، اسی وقت انھیں ملا، شام تک شہر کی گلی گلی کوچہ کوچہ میں پھیل گیا، دوسرے ہی دن اخباروں میں مشتہر ہو گیا۔ مرزا بھی بڑے مزاج شناس اور سخن فہم تھے، سمجھے تھے کچھ اور، ہو گیا کچھ اور۔ یہ قطعہ حضور میں گزرانا:
قطعہ در معذرت
منظور ہے گزارش احوال واقعیاپنا بیان حسن طبیعت نہیں مجھے
سو پشت[۲] سے ہے پیشۂ آبا سپہ گریکچھ شاعری ذریعۂ عزت نہیں مجھے
آزادہ رو ہوں اور مرا مسلک ہے صلح کلہرگز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے
کیا کم ہے یہ شرف کہ ظفر کا غلام ہوںمانا کہ جاہ و منصب و ثروت نہیں مجھے
استاد شہ سے ہو مجھے پرخاش کا خیالیہ تاب یہ مجال یہ طاقت نہیں مجھے
جام جہاں نما ہے شہنشاہ کا ضمیرسوگند اور گواہ کی حاجت نہیں مجھے
میں کون اور ریختہ، ہاں اس سے مدعاجز انبساط خاطر حضرت نہیں مجھے
سہرا لکھا گیا ز رہ امتثال امردیکھا کہ چارہ غیر اطاعت نہیں مجھے
مقطع میں آ پڑی ہے سخن گسترانہ باتمقصود اس سے قطع محبت نہیں مجھے
روئے سخن کسی کی طرف ہو تو روسیاہسودا نہیں، جنوں نہیں، وحشت نہیں مجھے
قسمت بری سہی پہ طبیعت بری نہیںہے شکر کی جگہ کہ شکایت نہیں مجھے
صادق ہوں اپنے قول کا غالب خدا گواہکہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے
حواشی
[۱] [illegible: the note for this marker is not printed in the scan]
[۲] [illegible: the note for this marker is not printed in the scan]
ما الذي تركه هذا الفصل فيك؟
سجّل الدخول للتفاعل
النقاش
لم يتكلم أحد بعد. قل ما حرّكه هذا الفصل فيك.