
Chapitre 4 sur 8
Mirza Sahib's Life and Natural Habits (continued)
مرزا صاحب کے حالات اور طبعی عادات (جاری)
مرزا صاحب کے حالات اور طبعی عادات (جاری)
"میر مہدی، تم میری عادات کو بھول گئے؟ ماہ مبارک رمضان میں کبھی مسجد جامع کی تراویح ناغہ ہوئی ہے؟ میں اس مہینہ میں رام پور کیونکر رہتا۔ نواب صاحب مانع رہے اور بہت منع کرتے رہے، برسات کے آموں کا لالچ دیتے رہے، مگر بھائی میں ایسے انداز سے چلا کہ چاند رات کے دن یہاں آ پہنچا۔ یکشنبہ کو غرہ ماہ مقدس ہوا۔ اسی دن سے ہر صبح کو حامد علی خاں کی مسجد میں جا کر جناب مولوی جعفر علی صاحب سے قرآن سنتا ہوں، شب کو جامع مسجد میں جا کر تراویح پڑھتا ہوں۔ کبھی جو جی میں آتی ہے تو وقت صوم مہتاب باغ میں جا کر روزہ کھولتا ہوں اور سرد پانی پیتا ہوں۔ واہ واہ، کیا اچھی عمر بسر ہوتی ہے[۱]۔ اب اصل حقیقت سنو۔ لڑکوں کو ساتھ لے گیا تھا، وہاں انھوں نے میرا ناک میں دم کر دیا۔ تنہا بھیج دینے میں وہم آیا کہ خدا جانے اگر کوئی امر حادث ہو تو بدنامی عمر بھر رہے، اس سبب سے جلد چلا آیا، ورنہ گرمی برسات وہیں کاٹتا۔ اب بشرط حیات جریدہ بعد برسات جاؤں گا اور بہت دنوں تک یہاں نہ آؤں گا۔ قرارداد یہ ہے کہ نواب صاحب جولائی ۱۸۵۹ء سے کہ جس کو یہ دسواں مہینہ ہے، سو روپے مجھے ماہ بماہ بھیجتے ہیں۔ اب میں جو وہاں گیا تو سو روپیہ مہینہ بنام دعوت اور دیا، یعنی رام پور رہوں تو دو سو روپیہ پاؤں اور دلی رہوں تو سو روپے۔ بھائی، سو دو سو میں کلام نہیں، کلام اس میں ہے کہ نواب صاحب دوستانہ و شاگردانہ دیتے ہیں، مجھے نوکر نہیں سمجھتے ہیں۔ ملاقات بھی دوستانہ رہی، معانقہ و تعظیم جس طرح احباب میں رسم ہے، وہ صورت ملاقات کی ہے۔ لڑکوں سے میں نے نذر دلوائی تھی، بس۔ بہرحال غنیمت ہے، رزق کے اچھی طرح ملنے کا شکر چاہیے، کمی کا شکوہ کیا؟ انگریزی کی سرکار سے دس ہزار روپیہ سال ٹھہرے، اس میں مجھ کو ملے ساڑھے سات سو روپیہ سال۔ ایک صاحب نے نہ دیے مگر تین ہزار روپیہ سال۔ عزت میں وہ پایہ جو رئیس زادوں کے واسطے ہوتا ہے، بنا رہا۔ خاں صاحب بسیار مہربان دوستان القاب، خلعت سات پارچہ اور جیغہ و سرپیچ و مالائے مروارید۔ بادشاہ اپنے فرزندوں کے برابر پیار کرتے تھے۔ بخشی، ناظر، حکیم، کسی سے توقیر کم نہیں، مگر فائدہ وہی قلیل۔ سو میری جان، یہاں بھی وہی نقشہ ہے۔ کوٹھڑی میں بیٹھا ہوں، ٹٹی لگی ہوئی ہے، ہوا آ رہی ہے، پانی کا جھجر دھرا ہوا ہے، حقہ پی رہا ہوں، یہ خط لکھ رہا ہوں، تم سے باتیں کرنے کو جی چاہا، یہ باتیں کر لیں۔"
خط بنام منشی ہرگوپال تفتہ: "بس اب تم سکندرآباد میں رہے، کہیں اور کیوں جاؤ گے۔ بنک گھر کا روپیہ اٹھا چکے ہو، اب کہاں سے کھاؤ گے؟ میاں، نہ میرے سمجھانے کو دخل ہے، نہ تمھارے سمجھنے کی جگہ ہے۔ ایک چرخ ہے کہ وہ چلا جاتا ہے، جو ہونا ہے وہ ہوا جاتا ہے۔ اختیار ہو تو کچھ کیا جائے، کہنے کی بات ہو تو کہا جائے۔ مرزا عبد القادر بیدل کہتا ہے:
رغبت جاہ چہ و نفرت اسباب کدامزیں ہوسہا بگذر یا مگذر میگذرد
مجھ کو دیکھو کہ نہ آزاد ہوں نہ مقید، نہ رنجور ہوں نہ تندرست، نہ خوش ہوں نہ ناخوش، نہ مردہ ہوں نہ زندہ، جیے جاتا ہوں، باتیں کیے جاتا ہوں، روٹی روز کھاتا ہوں، شراب گاہ بگاہ پیے جاتا ہوں۔ جب موت آئے گی مر بھی رہوں گا۔ نہ شکر ہے نہ شکایت ہے، جو تقریر ہے بہ سبیل حکایت ہے۔"
مرزا کے تمام خاندان کا اور بزرگوں کا مذہب سنت و جماعت تھا، مگر اہل راز اور تصنیفات سے بھی ثابت ہے کہ ان کا مذہب شیعہ تھا، اور لطف یہ تھا کہ ظہور اس کا جوش محبت میں تھا، نہ کہ تبرا اور تکرار میں۔ چنانچہ اکثر لوگ انھیں نصیری کہتے تھے، اور وہ سن کر خوش ہوتے تھے۔ ایک اور جگہ کہتے ہیں:
منصور فرقۂ علی اللّٰہیاں منمآوازۂ انا اسد اللہ برافگنم
تمام اقربا اور حقیقی دوست سنت و جماعت تھے، لیکن ان کی اپنایت میں کسی طرح کی دوئی نہ معلوم ہوتی تھی۔ مولانا فخر الدین کے خاندان کے مرید بھی تھے۔ دربار اور اہل دربار میں کبھی اس معاملہ کو نہیں کھولتے تھے، اور یہ طریقہ دلی کے اکثر خاندانوں کا تھا۔ تصنیفات اردو میں ۱۸۰۰ شعر کا ایک دیوان انتخابی ہے کہ ۱۸۴۹ء میں مرتب ہو کر چھپا۔ اس میں کچھ تمام اور کچھ ناتمام غزلیں ہیں، اور کچھ متفرق اشعار ہیں۔ غزلوں کے تخمیناً ۱۵۰۰ شعر، قصیدوں کے ۶۲ شعر، مثنوی ۳۳ شعر، متفرقات قطعوں کے ۱۱۱ شعر، رباعیاں ۱۶، دو تاریخیں جن کے ۴ شعر۔ جس قدر عالم میں مرزا کا نام بلند ہے، اس سے ہزار درجہ معنی میں کلام بلند ہے، بلکہ اکثر شعر ایسے اعلیٰ درجۂ رفعت پر واقع ہوئے ہیں کہ ہمارے نارسا ذہن وہاں تک نہیں پہنچ سکتے۔ جب ان شکایتوں کے چرچے زیادہ ہوئے تو اس ملک بے نیازی کے بادشاہ نے کہ اقلیم سخن کا بھی بادشاہ تھا، اپنی غزل کے ایک شعر سے سب کو جواب دے دیا:
نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروانہ سہی گر مرے اشعار میں معنی نہ سہی
ایک اور رباعی بھی کہی:
مشکل ہے زبس کلام میرا اے دل
سن سن کے اسے سخنوران کامل
آساں کہنے کی کرتے ہیں فرمائش
گویم مشکل و گر نہ گویم مشکل
ایک دن استاد مرحوم سے مرزا صاحب کے انداز نازک خیالی کا اور فارسی ترکیبوں کا اور لوگوں کی مختلف طبیعتوں کا ذکر تھا۔ میں نے کہا: بعض شعر صاف بھی نکل جاتا ہے تو قیامت ہی کر جاتا ہے۔ فرمایا: خوب! پھر کہا کہ جو مرزا کا شعر ہوتا ہے اس کی لوگوں کو خبر بھی نہیں ہوتی، شعر ان کے میں تمھیں سناتا ہوں۔ کئی متفرق شعر پڑھے تھے، ایک اب تک خیال میں ہے:
دریائے معاصی تنک آبی سے ہوا خشکمیرا سر دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا
اس میں کلام نہیں کہ وہ اپنے نام کی تاثیر سے مضامین و معانی کے بیشہ کے شیر تھے۔ دو باتیں ان کے انداز کے ساتھ خصوصیت رکھتی ہیں: اول یہ کہ معنی آفرینی اور نازک خیالی ان کا شیوۂ خاص تھا[۲]، دوسرے چونکہ فارسی کی مشق زیادہ تھی اور اس سے انھیں طبعی تعلق تھا، اس لیے اکثر الفاظ اس طرح ترکیب دے جاتے تھے کہ بول چال میں اس طرح بولتے نہیں، لیکن جو شعر صاف صاف نکل گئے ہیں وہ ایسے ہیں کہ جواب نہیں رکھتے۔ اہل ظرافت بھی اپنی نوک جھوک سے چوکتے نہ تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ مرزا بھی مشاعرہ میں تشریف لے گئے۔ حکیم آغا جان عیش ایک خوش طبع شگفتہ مزاج شخص تھے (دیکھو صفحہ [illegible])، انھوں نے غزل طرحی میں یہ قطعہ پڑھا:
اگر اپنا کہا تم آپ ہی سمجھے تو کیا سمجھےمزا کہنے کا جب ہے اک کہے اور دوسرا سمجھے
کلام میر سمجھے اور زبان میرزا سمجھےمگر ان کا کہا یہ آپ سمجھیں یا خدا سمجھے
اسی واسطے اور آخر عمر میں نازک خیالی کے طریقہ کو بالکل ترک کر دیا تھا۔ چنانچہ دیکھو اخیر کی غزلیں صاف صاف ہیں، دونوں کی کیفیت جو کچھ ہے معلوم ہو جائے گی۔ سن رسیدہ اور معتبر لوگوں سے معلوم ہوا کہ حقیقت میں ان کا دیوان بہت بڑا تھا، یہ منتخب ہے۔ مولوی فضل حق صاحب فاضل بے عدیل تھے، ایک زمانہ میں دہلی کی عدالت ضلع میں سررشتہ دار مرزا قتیل صاحب کے شاگرد تھے، نظم و نثر فارسی اچھی لکھتے تھے۔ غرض کہ یہ دونوں باکمال مرزا صاحب کے دلی دوست تھے، ہمیشہ باہم دوستانہ جلسے اور شعر و سخن کے چرچے رہتے تھے۔ انھوں نے اکثر غزلوں کو سنا اور دیوان کو دیکھا تو مرزا صاحب کو سمجھایا کہ یہ شعر عام لوگوں کی سمجھ میں نہ آئیں گے۔ مرزا نے کہا: اتنا کچھ کہہ چکا، اب تدارک کیا ہو سکتا ہے؟ انھوں نے کہا کہ خیر جو ہوا سو ہوا، انتخاب کرو اور مشکل شعر نکال ڈالو۔ مرزا صاحب نے دیوان حوالہ کر دیا، دونوں صاحبوں نے دیکھ کر انتخاب کیا۔ یہی وہ دیوان ہے جو کہ آج ہم عینک کی طرح آنکھوں سے لگائے پھرتے ہیں۔
عود ہندی: کچھ تقریظیں، کچھ اور نثریں اور خطوط ہیں۔ اکثر خطوں میں ان لوگوں کے جواب ہیں جنھوں نے کسی مشکل شعر کے معنی پوچھے یا کوئی امر تحقیق طلب فارسی یا اردو کا دریافت کیا۔
اردوئے معلی: ۱۲۸۵ھ ۱۸۶۹ء۔ چند شاگردوں اور دوستوں نے جس قدر اردو کے خطوط ان کے ہاتھ آئے ایک جگہ ترتیب دیے اور اس مجموعہ کا نام مرزا نے خود اردوئے معلی رکھا۔ ان خطوط کی عبارت ایسی ہے گویا آپ سامنے بیٹھے گل افشانی کر رہے ہیں، مگر کیا کریں کہ ان کی باتیں بھی خاص فارسی کی خوش نما تراشوں اور عمدہ ترکیبوں سے مرصع ہوتی تھیں۔ بعض فقرے کم استعداد ہندوستانیوں کے کانوں کو نئے معلوم ہوں تو وہ جانیں، یہ علم کی کم رواجی کا سبب ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں: "کیا جگر خون کن اتفاق ہے، اب ورنگ وری کی تقصیر معاف کیجیے۔ بس چاہیے کول کی آرامش کا ترک کرنا اور خواہی نخواہی بابو صاحب کے ہمراہ رہنا۔ یہ رتبہ میری ارزش کے فوق ہے، سرمایۂ نازش قلمرو ہندوستان ہو۔" بعض جگہ خاص محاورہ فارسی ترجمہ کیا ہے، جیسے تیر اور سہرا وغیرہ استادوں کے کلام میں لکھا گیا ہے۔ چنانچہ انھی خطوں میں فرماتے ہیں: "اس قدر عذر چاہتے ہو۔" یہ لفظ ان کے قلم سے اس واسطے نکلا کہ عذر خواستن جو فارسی کا محاورہ ہے وہ اس باکمال کی زبان پر چڑھا ہوا ہے، ہندوستانی عذر کرنا یا عذر معذرت کرنی بولتے ہیں۔ نظر اس دستور پر اگر کر دیکھو تو مجھے اس شخص سے خس برابر علاقہ عزیز داری کا نہیں، یہی ترجمہ نظر بریں ضابطہ کا ہے۔ "منشی نبی بخش تمھارے خط نہ لکھنے کا گلہ رکھتے ہیں"، گلہ دارند و شکوہ دارند فارسی کا محاورہ ہے۔ "کیوں مہاراج، کول میں آنا، منشی نبی بخش کے ساتھ غزل خوانی کرنا، اور ہم کو یاد نہ لانا!" یاد آوردن خاص ایران کا سکہ ہے، ہندوستانی یاد کرنا بولتے ہیں۔ "جو آپ پر معلوم ہے، وہ مجھ پر مجہول رہے"، ہر چہ بر شما منکشف است بر من مخفی نماند۔
ان خطوں کی طرز عبارت بھی ایک خاص قسم کی ہے کہ ظرافت کے چٹکلے اور لطافت کی شوخیاں اس میں خوب ادا ہو سکتی ہیں۔ یہ انھی کا ایجاد تھا کہ آپ مزا لے لیا اور اوروں کو لطف دے گئے، دوسرے کا کام نہیں۔ اگر کوئی چاہے کہ ایک تاریخی حال یا اخلاقی خیال یا علمی مطالب یا دنیا کے معاملات خاص میں مراسلے لکھے تو اس انداز میں ممکن نہیں۔ اس کتاب میں چونکہ اصلی خط لکھے ہیں، اس لیے وہ ان کی ظاہر و باطن کی حالت کا آئینہ ہے۔ اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے غم و الم ہمیشہ انھیں ستاتے تھے، اور وہ علو حوصلہ سے ہنسی ہی میں اڑاتے تھے۔ پورا لطف ان تحریروں کا اس شخص کو آتا ہے کہ جو خود ان کے حال سے اور مکتوب الیہوں کی چال ڈھال سے اور طرفین کے ذاتی معاملات سے بخوبی واقف ہو۔ غیر آدمی کی سمجھ میں نہیں آتیں، اس لیے اگر ناواقف اور بے خبر لوگوں کو اس میں مزہ نہ آئے تو کچھ تعجب نہیں۔
اس کتاب میں قلم، التماس کو مؤنث، پنشن، بیداد، بارک کو مذکر فرمایا ہے۔ ایک جگہ فرماتے ہیں: "میرا اردو بہ نسبت اوروں کے فصیح ہو گا۔"
لطائف غیبی: اس رسالہ میں منشی سعادت علی کی طرف روئے سخن ہے۔ اگرچہ اس کے دیباچہ میں سیف الحق کا نام لکھا ہے، مگر انداز عبارت اور عبارت کے چٹکلے صاف کہتے ہیں کہ مرزا ہیں۔ وہ درحقیقت وہی میاں داد خاں ہیں، جن کے نام چند رقعے مرزا صاحب کے اردوئے معلی میں ہیں۔ چنانچہ ایک رقعہ میں انھیں فرماتے ہیں کہ "صاحب، میں نے تم کو سیف الحق کا خطاب دیا، تم میری فوج کے سپہ سالار ہو۔"
تیغ تیز: مولوی احمد علی پروفیسر مدرسۂ ہگلی نے قاطع برہان کے جواب میں مؤید البرہان لکھی تھی، اس کے بعض مراتب کا جواب مرزا صاحب نے تحریر فرما کر تیغ تیز نام رکھا۔
ساطع برہان کے اخیر میں چند ورق سید عبد اللہ[۳] کے نام سے ہیں، وہ بھی مرزا صاحب کے ہیں۔
حواشی
[۱] غرہ رمضان سے لے کر یہاں تک فقط شوخی طبع ہے، کیوں کہ جو جو باتیں ان فقروں میں ہیں مرزا ان سے کوسوں بھاگتے تھے۔ یہ خط غدر کے بعد کا ہے، اس وقت یہ باتیں دلی میں خواب و خیال ہو گئی تھیں۔
[۲] اوج تخلص، عبد اللہ خاں نام، ۴۰، ۵۰ برس کے مشاق تھے۔ ایسے بلند مضمون اور نازک خیال پیدا کرتے تھے کہ قابو میں نہ لا سکتے تھے، اور انھیں عمدہ الفاظ میں ایسی چستی اور درستی سے باندھتے تھے کہ وہ مضمون سما بھی نہیں سکتا تھا، اس لیے کبھی تو مطلب کچھ کا کچھ ہو جاتا تھا اور کبھی کچھ بھی نہ رہتا تھا۔ سنگلاخ اور مشکل زمینوں میں غزل کہتے تھے، مگر مضامین اور تلاش الفاظ میں [illegible] کا ہوش نہ تھا۔ غور کے ساتھ کاوش کرتے تھے اور آپ ہی آپ مزے لیتے تھے۔ ہونٹ چباتے چباتے ایک حصہ سفید ہو گیا تھا۔ بعض شعر پڑھ کر کہتے تھے کہ [illegible] جب شعر کہا تھا۔ بعض یہ کہتے تھے کہ ۶ مہینے تک برابر پڑھتے رہے، پڑھتے ہیں اور روتے ہیں کہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ مشاعروں میں غزل سناتے تھے تو صف مجلس سے گزر کر آگے نکل جاتے تھے۔ بعض اشخاص شہر کے اور قلعہ میں اکثر مرشد زادے (شہزادے) شاگرد تھے، مگر استاد سب کہتے تھے۔ شعرائے باکمال کو جا کر سناتے تھے اور واہ واہ کی چیخیں اور تعریفوں کے فغان و فریاد لے کے چھوڑتے تھے، کیونکہ اسے اپنا حق سمجھتے تھے۔ ذوق مرحوم باوجود کم سخنی اور عادت خاموشی کے خوب خوب اور بہت خوب کہتے اور مکرر پڑھواتے تھے، مسکراتے اور چہرے پر سرور ظاہر کرتے، گویا شعر کی کیفیت میں بیٹھے ہیں۔ اور مرزا اگر ایسے دل لگی کے مصالح ڈھونڈھتے رہتے ہیں، یہ نعمت خدا دے، شعر سنتے اور کہتے تھے کہ یہ سب کافر ہیں جو تمھیں استاد کہتے ہیں، شعر کے خدا ہو، خدا۔ سجدہ کا اشارہ کرتے اور کہتے: سبحان اللہ، سبحان اللہ۔ میں ان دنوں میں مبتدی شوقین تھا، اپنا مشتاق سمجھ کر مجھ سے بہت خوش ہوتے تھے اور کہتے تھے کہ بس تم ہمارے کلام کو سمجھتے ہو۔ رستہ میں مل جاتے تو دس قدم دور سے دیکھ کر کھڑے ہو جاتے، اور جو نیا شعر کہا ہوتا اسے وہیں سے اکڑ کر پڑھتے، پھر شعر سنتے سناتے چلتے۔ قلعہ کے نیچے میدان میں گھنٹوں ٹہلتے اور شعر پڑھتے رہتے۔ غریب خانہ پر بھی تشریف لاتے اور پہر پہر بھر سے کم نہ بیٹھتے۔ ایک دن راستہ میں ملے، دیکھتے ہی کہنے لگے: آج گیا تھا، انھیں بھی سنا آیا۔ میں نے کہا: کیا؟ کڑک کر کہا: ڈیوڑھ جز پر بھی تو ہے مطلع و مقطع غالب / غالب آسان نہیں صاحب دیوان ہونا۔ پھر بیان کیا کہ ایک جلسہ میں مومن خاں بھی موجود تھے، مجھ سے سب نے شعر کی فرمائش کی۔ میں نے ناسخ کی غزل پر غزل کہی تھی، وہ سنائی۔ مقطع پر بہت حیران ہوئے: "کہ جس کو کہتے ہیں چرخ ہفتم ورق ہے دیوان ہفت میں کا"۔ پوچھنے لگے کہ کیا آپ ساتواں دیوان لکھتے ہیں؟ میں نے کہا کہ ہاں، اب تو آٹھواں دیوان ہے۔ چپ ہو گئے۔ عموماً واقعات پر اکثر شعر کہا کرتے تھے۔ مومن خاں کو کنور اجیت سنگھ نے ہتھنی دی، (دیکھو صفحہ ۶۰۱) آپ نے کہا: جنموں میں وہ مومن مکان لیتا ہے / نجومی بن کے جو ہتھنی کا دان لیتا ہے۔ دلی میں شیریں ایک بڑی نامی رنڈی تھی، وہ حج کو چلی، آپ نے کہا: بجا ہے شیریں اگر چھوڑ دلی حج کو چلی / مثل ہے نو سو چوہے کھا کے بلی حج کو چلی۔ ۲۰، ۳۰ برس ہو گئے، وہ چرچے نہ رہے۔ اکثر شعر یاد تھے، حافظہ نے بے وفائی کی، شاید حروف و کاغذ وفا کریں۔ جو یاد ہے لکھ دیتا ہوں، اور ان کی جاں خراشی اور بربادی کا افسوس کرتا ہوں: ہیں مچھلیاں بھووں کی جبیں پر شکن کے اندر / الٹی ہے بہتی گنگا مچھلی بھون کے اندر۔ دنیائے منقلب کا الٹا ہے کارخانہ / ہے مہر شمع واژوں اس انجمن کے اندر۔ میں وہ ہوں نخل جوئے سلسبیل دریائی / ہے میری کشتی گل نارجیل دریائی۔ مجھے اترتی ہے گرداب آسماں سے وحی / ہے راہبر خضر جبرئیل دریائی۔ میں کالا پانی پڑا ناپتا ہوں روز و شب / زمیں کا گز ہے مرا [illegible] دریائی۔ بنا ہے کنگرۂ خامہ ملک دشت حصار / مرا ہے آبلہ [illegible]۔ ہے آبشار کی مضمون آب دار کوہ بہت / ہمارا خامہ ہے خرطوم فیل دریائی۔ جہاز ہے بڑا اک تار لنگر دم پر / مرے عمل میں ہے جسم ثقیل دریائی۔ میں اپنے کوچ کی ہوں موج میں بہا جاتا / حباب وار ہوں کوس رحیل دریائی۔ ہماری موج تلاطم سے آشنائی ہے / یہ آب شور ہے [illegible] دریائی۔ ہے اوج مردمک دیدۂ مردم آبی / نکال دیدۂ تر سے سبیل دریائی۔ وحشت سے مجھے زنجیر پہناتی ہی تھی اکثر / طفلی میں بھی ہنسلی مری جاتی ہی تھی اکثر۔ جب تھا زر گل کیسۂ غنچہ کی گرہ میں / بلبل پڑی گلچھرے اڑاتی ہی تھی اکثر۔ دم کا جو دمدمہ یہ باندھے خیال اپنا / بے پر صراط اتریں یہ ہے کمال اپنا۔ طفلی ہی سے ہے مجھ کو وحشت سرائے الفت / سم میں گڑا ہوا ہے آہو کے نال اپنا۔ کسب شہادت اپنا ہے یاد کس کو قاتل / سانچے میں تیغ کے سر لیتے ہیں ڈھال اپنا۔ بھاتا ہے جوش عشق شیریں و شور نہیں رونا / ہے آب خور گریہ آب زلال اپنا۔ بہ چیچک کے آبلوں کی میں باگ موڑتا ہوں / - - - - - - [TN: the second line is printed as a row of dashes]
[۳] [illegible: the note for this marker is not printed in the scan]
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.