Urdu in Translation
Recherche

Chapitre 3 sur 8

Mirza Sahib's Life and Natural Habits

مرزا صاحب کے حالات اور طبعی عادات

Muhammad Husain Azad

Écriture
Taille

مرزا صاحب کے حالات اور طبعی عادات

اس میں کچھ شک نہیں کہ مرزا اہل ہند میں فارسی کے باکمال شاعر تھے، مگر علوم درسی کی تحصیل طالب علمانہ طور سے نہیں کی، اور حق پوچھو تو یہ بڑے فخر کی بات ہے کہ ایک امیرزادہ کے سر سے بچپن میں بزرگوں کی تربیت کا ہاتھ اٹھ جائے اور وہ فقط طبعی ذوق سے اپنے تئیں اس درجۂ کمال تک پہنچا لے۔ وہ کیسی طبع لایا ہو گا جس نے اس کے فکر میں بلند پروازی، دماغ میں معنی آفرینی، خیالات میں ایسا انداز، لفظوں میں نئی تراش اور ترکیب میں انوکھی روش پیدا کی۔ جابجا خود ان کا قول ہے، اور حقیقت میں لطف سے خالی نہیں، کہ زبان فارسی سے مجھے مناسبت ازلی ہے۔ ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ میری طبیعت کو اس زبان سے ایک قدرتی لگاؤ ہے۔ میر مفتی عباس صاحب کو قاطع برہان بھیج کر خط لکھا ہے، اس میں فرماتے ہیں: "دیباچہ اور خاتمہ میں جو کچھ لکھ آیا ہوں سب سچ ہے، کلام کی حقیقت کی داد جدا چاہتا ہوں۔ نگارش لطافت سے خالی نہ ہو گی۔ علم و ہنر سے عاری ہوں، لیکن پچپن برس سے محو سخن گزاری ہوں۔ مبدء فیاض کا مجھ پر احسان عظیم ہے۔ ماخذ میرا صحیح اور طبع میری سلیم ہے۔ فارسی کے ساتھ ایک مناسبت ازلی اور سرمدی لایا ہوں۔ مطابق اہل پارس کے منطق کا مزہ بھی ابدی لایا ہوں۔"

ہرمزد نام ایک پارسی ژند و پاژند کا عالم تھا۔ اس نے اسلام اختیار کیا اور عبد الصمد اپنا نام رکھا۔ ایام سیاحت میں ہندوستان کی طرف آ نکلا اور مرزا سے بھی ملاقات ہوئی۔ اگرچہ ان کی عمر اس وقت ۱۴ برس کی تھی، مگر مناسبت ازلی طبیعت میں تھی جس نے اسے کھینچا، اور دو برس تک گھر مہمان رکھ کر اکتساب کمال کیا۔ اس روشن ضمیر کے فیضان صحبت کا انھیں فخر تھا، اور حقیقت میں یہ امر فخر کے قابل ہے۔

میں نے چاہا کہ مرزا صاحب کی تصویر الفاظ و معانی سے کھینچوں، مگر یاد آیا کہ انھوں نے ایک جگہ اسی رنگ و روغن سے اپنی تصویر آپ کھینچی ہے، میں اس سے زیادہ کیا کر لوں گا، اس کی نقل کافی ہے۔ مگر اول اتنا سن لو کہ مرزا حاتم علی مہر ایک شخص آگرہ میں تھے، مرزا کے اور آخر عمر میں اس ہم وطن بھائی سے خط و کتابت جاری ہوئی۔ وہ ایک وجیہ اور طرحدار جوان تھے۔ ان سے ان سے دید وادید نہ ہوئی، لیکن کسی زمانہ کی ہم وطنی، شعر گوئی، ہم مذہبی اور اتحاد خیالات کے تعلق سے شاید کسی جلسہ میں مرزا نے کہا کہ مرزا حاتم علی مہر کو سنتا ہوں کہ طرحدار آدمی ہیں، دیکھنے کو جی چاہتا ہے۔ انھیں جو یہ خبر پہنچی تو مرزا کو خط لکھا اور اپنا حلیہ بھی لکھا۔ اب اس کے جواب میں جو مرزا آپ ہی اپنی تصویر کھینچتے ہیں، اسے دیکھنا چاہیے: "بھائی، تمھاری طرحداری کا ذکر میں نے مغل جان سے سنا تھا جس زمانہ میں کہ وہ حامد علی خاں کی نوکر تھی اور اس میں مجھ میں بے تکلفانہ ربط تھا، تو اکثر مغل جان سے پہروں اختلاط ہوا کرتے تھے۔ اس نے تمھارے شعر اپنی تعریف کے بھی مجھ کو دکھائے۔ بہرحال تمھارا حلیہ دیکھ کر تمھارے کشیدہ قامت ہونے کا مجھے رشک نہ آیا، کس واسطے کہ میرا قد بھی درازی میں انگشت نما ہے۔ تمھارے گندمی رنگ پر رشک نہ آیا، کس واسطے کہ جب میں جیتا تھا تو میرا رنگ چنپئی تھا اور دیدہ ور لوگ اس کی ستائش کیا کرتے تھے۔ اب جو کبھی مجھ کو وہ اپنا رنگ یاد آتا ہے تو چھاتی پر سانپ سا پھر جاتا ہے۔ ہاں مجھ کو رشک آیا اور میں نے خون جگر کھایا تو اس بات پر کہ (تمھاری) ڈاڑھی خوب گھٹی ہوئی ہے۔ وہ مزے یاد آ گئے، کیا کہوں جی پر کیا گزری۔ بقول شیخ علی حزیں:

تا دسترسم بود زدم چاک گریباںشرمندگی از خرقۂ پشمینہ ندارم

(میرے) جب ڈاڑھی مونچھ میں بال سفید آ گئے، تیسرے دن چیونٹی کے انڈے گالوں پر نظر آنے لگے، اس سے بڑھ کر یہ ہوا کہ آگے کے دو دانت ٹوٹ گئے، ناچار (میں نے) مسی بھی چھوڑ دی اور ڈاڑھی بھی۔ مگر یہ یاد رکھیے کہ اس بھونڈے شہر (یعنی دہلی میں) ایک وردی ہے عام، ملا، حافظ، بساطی، نیچہ بند، دھوبی، سقہ، بھٹیارہ، جلاہا، کنجڑہ، منہ پر ڈاڑھی، سر پر بال۔ میں نے جس دن ڈاڑھی رکھی اسی دن سر منڈایا۔" اس فقرہ سے معلوم ہوا کہ اپنا انداز سب سے الگ رکھنا چاہتے تھے۔ لباس ان کا اکثر اہل ولایت کا ہوتا تھا۔ سر پر اگرچہ کلاہ پاپاخ نہ تھی، مگر لمبی ٹوپی سیاہ پوستین کی ہوتی تھی، اور ایسا ضرور چاہیے تھا، کیونکہ وہ فارسی نویسی کو فقط ذوق بلکہ عشق دل کے ساتھ نباہتے تھے، اور لباس و گفتار کی کچھ خصوصیت نہیں، وہ اپنی قدامت کی ہر بات سے محبت رکھتے تھے، خصوصاً خاندان کے اعزازوں کو ہمیشہ جاں کاہ عرق ریزیوں کے ساتھ بچاتے رہے۔ اس اعزاز پر کہ جو ان کے پاس باقی تھے، دو دفعہ آسمانی صدمے پہنچے: اول جب کہ چچا کا انتقال ہوا، دوسرے جب ۱۸۵۷ء میں ناکردہ گناہ بغاوت کے جرم میں پنشن کے ساتھ کرسی دربار اور خلعت بند ہوا۔ اردوئے معلی میں بیسیوں دوستوں کے نام خط ہیں، کوئی اس کے ماتم سے خالی نہیں۔ ان کے لفظوں سے اس غم میں خون ٹپکتا ہے، اور دل پر جو گزرتی ہو گی وہ تو خدا ہی کو خبر ہے۔ آخر پھر ان کی جگہ اور اپنا حق لیا اور بزرگوں کے نام کو قائم رکھا۔

۱۸۴۲ء میں گورنمنٹ انگلشیہ کو دلی کالج کا انتظام از سر نو منظور ہوا۔ ٹامسن صاحب جو کئی سال تک اضلاع شمال و مغرب کے لفٹنٹ گورنر بھی رہے، اس وقت سکرٹری تھے۔ وہ مدرسین کے امتحان کے لیے دلی آئے اور چاہا کہ جس طرح سو روپے مہینہ کا ایک مدرس عربی ہے، ایسا ہی ایک فارسی کا بھی ہو۔ لوگوں نے چند کاملوں کے نام بتائے، ان میں مرزا کا نام بھی آیا۔ مرزا صاحب حسب الطلب تشریف لائے۔ صاحب کو اطلاع ہوئی، مگر یہ پالکی سے اتر کر اس انتظار میں ٹھہرے کہ حسب دستور قدیم صاحب سکرٹری استقبال کو تشریف لائیں گے۔ جب کہ نہ وہ ادھر سے آئے، نہ یہ ادھر سے گئے، دیر ہوئی تو صاحب سکرٹری نے جمعدار سے پوچھا۔ وہ پھر باہر آیا کہ آپ کیوں نہیں چلتے؟ انھوں نے کہا کہ صاحب استقبال کو تشریف نہیں لائے، میں کیونکر جاتا۔ جمعدار نے جا کر پھر عرض کی۔ صاحب باہر آئے اور کہا: "جب آپ دربار گورنری میں بہ حیثیت ریاست تشریف لائیں گے تو آپ کی وہ تعظیم ہو گی، لیکن اس وقت آپ نوکری کے لیے آئے ہیں، اس تعظیم کے مستحق نہیں۔" مرزا صاحب نے فرمایا کہ "گورنمنٹ کی ملازمت باعث زیادتی اعزاز سمجھتا ہوں، نہ یہ کہ بزرگوں کے اعزاز کو بھی گنوا بیٹھوں۔" صاحب نے فرمایا کہ "ہم آئین سے مجبور ہیں۔" مرزا صاحب رخصت ہو کر چلے آئے۔ صاحب موصوف نے مومن خاں صاحب کو بلایا، ان سے کتاب پڑھوا کر سنی اور زبانی باتیں کر کے اسی روپے تنخواہ قرار دی۔ انھوں نے سو روپے سے کم منظور نہ کیے۔ صاحب نے کہا: "سو روپے لو تو ہمارے ساتھ چلو۔" ان کے دل نے نہ مانا کہ دلی کو ایسا سستا بیچ ڈالیں۔

مرزا کے کھلے ہوئے دل اور کھلے ہوئے ہاتھ نے ہمیشہ مرزا کو تنگ رکھا، مگر اس تنگ دستی میں بھی امارت کے تمغے قائم تھے۔ چنانچہ اردوئے معلی کے اکثر خطوط سے یہ حال آئینہ ہے۔ مرزا تفتہ[۱] اپنے شاگرد رشید کو ایک خط میں لکھتے ہیں: "سو روپیہ کی ہنڈی وصول کر لی۔ ۲۴ روپیہ داروغہ کی معرفت اٹھے تھے وہ دیے، ۵۰ روپیہ محل میں دیے، ۲۶ باقی رہے وہ بکس میں رکھ لیے۔ کلیان سودا لینے بازار گیا ہے، جلد آ گیا تو آج ورنہ کل یہ خط ڈاک میں بھیج دوں گا۔ خدا تم کو جیتا رکھے اور اجر دے۔ بھائی، بری آ بنی ہے، انجام اچھا نظر نہیں آتا۔ قصہ مختصر یہ کہ قصہ تمام ہوا۔"

کدار ناتھ آپ کا دیوان تھا، اسی عالم میں آ کر ماہ بماہ چٹھا بانٹ دیتا تھا۔ آپ کہیں سفر میں گئے ہیں تو اس کے لیے بار بار خطوط میں احکام بھیجے ہیں۔ چنانچہ ایک خط میں لکھتے ہیں: "یہ ہنڈی میں ۱۲ دن کی میعاد تھی، ۶ دن گزر گئے تھے، ۶ دن باقی تھے۔ مجھ کو صبر کہاں، بٹی کاٹ کر روپے لے لیے۔ قرض متفرق سب ادا ہوا، بہت سبک دوش ہو گیا۔ آج میرے پاس ۴۷ روپے نقد بکس میں ہیں، اور ۴ بوتل شراب کی اور ۳ شیشے گلاب کے توشہ خانہ میں موجود ہیں۔ الحمد للہ علیٰ احسانہ۔"

ایک اور جگہ اپنی بیماری کا حال کسی کو لکھتے ہیں: "محل سرا اگرچہ دیوان خانہ کے بہت قریب ہے، پر کیا امکان جو چل سکوں۔ صبح کو ۹ بجے کھانا یہیں آ جاتا ہے۔ پلنگ پر سے کھسل پڑا، ہاتھ منہ دھو کر کھانا کھایا، پھر ہاتھ دھوئے، کلی کی، پلنگ پر جا پڑا۔ پلنگ کے پاس حاجتی لگی رہتی تھی، اٹھا اور حاجتی میں پیشاب کر لیا اور پڑ رہا۔"

نواب الٰہی بخش خاں مرحوم کی صاحبزادی سے مرزا صاحب کی شادی ہوئی، اور اس وقت ۱۳ برس کی عمر تھی۔ باوجودیکہ اوضاع و اطوار آزادانہ رکھتے تھے، لیکن آخر صاحب خاندان تھے، گھرانے کی لاج پر خیال کر کے بی بی کے پاس خاطر بہت مد نظر رکھتے تھے۔ پھر بھی اس قید سے کہ خلاف طبع تھی، جب بہت دق ہوتے تھے تو ہنسی میں ٹال دیتے تھے۔ چنانچہ دوستوں کی زبانی بعض نقلیں بھی سنیں، اور ان کے خطوط سے بھی اکثر جگہ پایا جاتا ہے۔ ایک قدیمی شاگرد سے ایسے معاملات میں بے تکلفی تھی۔ اس نے امراؤ سنگھ نام ایک اور شاگرد کی بی بی کے مرنے کا حال مرزا صاحب کو لکھا، اور یہ بھی لکھا کہ ننھے ننھے بچے ہیں، اور اب شادی نہ کرے تو کیا کرے؟ پھر بچے کون پالے؟ اس شخص کی ایک بی بی پہلے مر چکی تھی، اور یہ دوسری بی بی مری تھی۔ اب حضرت اس کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں: "امراؤ سنگھ کے حال پر اس کے واسطے رحم اور اپنے واسطے رشک آتا ہے۔ اللہ اللہ! ایک وہ ہیں کہ دو بار بیڑیاں کٹ چکی ہیں، اور ایک ہم ہیں کہ ایک اوپر پچاس برس سے جو پھانسی کا پھندا گلے میں پڑا ہے تو نہ پھندا ہی ٹوٹتا ہے نہ دم ہی نکلتا ہے۔ اس کو سمجھاؤ کہ بھائی، تیرے بچوں کو میں پال لوں گا، تو کیوں بلا میں پھنستا ہے۔" جب ان کی پنشن کھلی تو ایک اور شخص کو لکھتے ہیں: "تجھ کو میری جان کی قسم، اگر میں تنہا ہوتا تو اس قلیل آمدنی میں کیسا فارغ البال و خوش حال رہتا۔"

مرزا صاحب نے فرزندان روحانی، یعنی پاک خیالات اور عالی مضامین کا ایک انبوہ بے شمار اپنی نسل میں یادگار چھوڑا، مگر افسوس کہ جس قدر ادھر سے خوش نصیب ہوئے، اسی قدر فرزندان ظاہری کی طرف سے بے نصیب ہوئے۔ چنانچہ ایک جگہ فرماتے ہیں: "سات بچے ہوئے مگر برس برس دن کے پس و پیش میں سب ملک عدم کو چلے گئے۔" ان کی بی بی کے بھانجے، الٰہی بخش مرحوم کے نواسے، زین العابدین خاں تھے۔ وہ بھی شعر کہا کرتے تھے اور عارف تخلص کرتے تھے۔ عارف جوان مر گئے اور دو ننھے ننھے بچے یادگار چھوڑے۔ بی بی ان بچوں کو بہت چاہتی تھیں، اس لیے مرزا نے انھیں اپنے بچوں کی طرح پالا۔ بڑھاپے میں انھیں اپنے گلے کا ہار کیے پھرتے تھے، جہاں جاتے وہ پالکی میں ہوتے تھے۔ ان کے آرام کے لیے آپ بے آرام ہوتے تھے، ان کی فرمائشیں پوری کرتے تھے۔ افسوس کہ مرزا کے بعد دونوں جوان مر گئے۔ نواب احمد بخش خاں مرحوم کے رشید فرزند مرزا صاحب کی تکلیف نہ دیکھ سکتے تھے، کمال کی دولت ان سے لیتے تھے، دنیا کی ضرورتوں میں انھیں آرام دیتے تھے۔ چنانچہ نواب ضیاء الدین خاں صاحب شاگرد ہیں، نواب امین الدین خاں مرحوم لوہارو بھی آداب خوردانہ کے ساتھ خدمت کرتے تھے۔ نواب علاء الدین خاں والی حال اس وقت ولی عہد تھے، بچپن سے شاگرد ہیں۔ چنانچہ مرزا صاحب نواب علاء الدین خاں صاحب کو لکھتے ہیں: "میاں، بڑی مصیبت میں ہوں۔ محل سرا کی دیواریں گر گئی ہیں، پاخانہ ڈھ گیا، چھتیں ٹپک رہی ہیں۔ تمھاری پھوپھی[۲] کہتی ہیں: ہائے دبی، ہائے مری۔ دیوان خانہ کا حال محل سرا سے بدتر ہے۔ مرنے سے نہیں ڈرتا، فقدان راحت سے گھبرا گیا ہوں۔ چھت چھلنی ہے، ابر دو گھنٹے برسے تو چھت چار گھنٹے برستی ہے۔ مالک اگر چاہے کہ مرمت کرے تو کیونکر کرے؟ مینھ کھلے تو سب کچھ ہو، اور پھر اثنائے مرمت میں میں بیٹھا کس طرح رہوں۔ اگر تم سے ہو سکے تو برسات تک بھائی سے وہ حویلی جس میں میر حسن رہتے تھے، اپنی پھوپھی کے رہنے کو، اور کوٹھی میں سے وہ بالاخانہ مع دالان زیرین جو الٰہی بخش خاں مرحوم کا مسکن تھا، میرے رہنے کو دلوا دو۔ برسات گزر جائے گی، مرمت ہو جائے گی، پھر صاحب[۳] اور میم اور بابا لوگ اپنے قدیم مسکن میں آ رہیں گے۔ تمھارے والد کے ایثار و عطا کے جہاں مجھ پر احسان ہیں، ایک یہ مروت کا احسان میرے پایان عمر میں اور بھی سہی۔ غالب۔"

مرزا کثیر الاحباب تھے۔ دوستوں سے دوستی کو ایسا نباہتے تھے کہ نہایت سے زیادہ ان کی دوست پرستی خوش مزاجی کے ساتھ رفیق ہو کر ہر وقت ایک دائرہ شرفا اور رئیس زادوں کا ان کے گرد دکھاتی تھی۔ انھی سے غم غلط ہوتا تھا اور اسی میں ان کی زندگی تھی۔ لطف یہ کہ دوستوں کے لڑکوں سے بھی وہی باتیں کرتے تھے۔ جو دوستوں سے، ادھر ہونہار جوانوں کا مؤدب بیٹھنا، ادھر سے بزرگانہ لطیفوں کا پھول برسانا، ادھر سعادت مندوں کا چپ مسکرانا اور بولنا تو حد ادب سے قدم نہ بڑھانا، ادھر پھر بھی شوخی طبع سے باز نہ آنا، ایک عجیب کیفیت رکھتا تھا۔ بہرحال انھی لطافتوں اور ظرافتوں میں زمانے کی مصیبتوں کو ٹالا اور ناگوار کو گوارا کر کے ہنستے کھیلتے چلے گئے۔ چنانچہ میر مہدی، میر سرفراز حسین، نواب یوسف مرزا وغیرہ اکثر شریف زادوں کے لیے خطوط اردوئے معلی میں ہیں، جو کہ ان جلسوں کے فوٹوگراف دکھاتے ہیں۔

زمانہ کی بے وفائی نے مرزا کو وہ فارغ البالی نصیب نہ کی جو ان کے خاندان اور کمال کے لیے شایاں تھی، اور انھی دو باتوں کا مرزا کو بہت خیال تھا، لیکن اس کے لیے وہ اپنے جی کو جلا کر دل تنگ بھی نہ ہوتے تھے بلکہ ہنسی میں اڑا دیتے تھے۔ ان دونوں باتوں کی سند میں دو خط[۴] نقل کرتا ہوں۔ ایک خط میر مہدی صاحب کے نام ہے کہ ایک شریف عالی خاندان ہیں اور ان کے رشید شاگرد ہیں۔ دوسرا خط منشی ہرگوپال صاحب تفتہ کے نام ہے، جن کا ذکر مجملاً پہلے کیا گیا ہے۔

حواشی

[۱] مرزا صاحب سے بھی عمر میں بڑے معلوم ہوتے تھے۔ فارسی کے عاشق تھے، اس لیے باوجود ہندو ہونے کے مرزا تفتہ کے نام سے بڑے خوش ہوتے تھے۔ دیوان قصائد اور دیوان غزلیات چھپوا دیا تھا۔ فارسی میں شعر کہتے تھے۔

[۲] نواب الٰہی بخش خاں مرحوم کی بیٹی، نواب احمد بخش خاں مرحوم کی حقیقی بھتیجی ہوئیں۔ وہ ان کی بی بی تھیں۔

[۳] چونکہ کوٹھے کا مکان رہنے کو مانگا ہے، اس لیے اپنے تئیں صاحب اور بی بی صاحبہ اور بچوں کو بابا لوگ بنایا۔

[۴] دیکھو اردوئے معلی کے خطوط۔

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.