
Chapitre 3 sur 6
Ghazals 21–30 : Une voix sortie de ma tombe
Ghazals 21–30: A Voice from My Grave
غزلیں ۲۱ تا ۳۰: آوے گی میری قبر سے آواز
۲۱۔ آئے ہیں میرؔ منہ کو بنائے خفا سے آج
آئے ہیں میرؔ منہ کو بنائے خفا سے آجشاید بگڑ گئی ہے کچھ اس بے وفا سے آج
واشد ہوئی نہ دل کو فقیروں کے بھی ملےکھلتی نہیں گرہ یہ کسو کی دعا سے آج
جینے میں اختیار نہیں ورنہ ہم نشیںہم چاہتے ہیں موت تو اپنی خدا سے آج
ساقی ٹک ایک موسمِ گل کی طرف بھی دیکھٹپکا پڑے ہے رنگ چمن میں ہوا سے آج
تھا جی میں اس سے ملیے تو کیا کیا نہ کہیے میرؔپر کچھ کہا گیا نہ غمِ دل حیا سے آج
۲۲۔ جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں
جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیںاس راہ میں وے جیسے انجان نکلتے ہیں
کیا تیرِ ستم اس کے سینے میں بھی ٹوٹے تھےجس زخم کو چیروں ہوں پیکان نکلتے ہیں
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوںتب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
کس کا ہے قماش ایسا گودڑ بھرے ہیں سارےدیکھو نہ جو لوگوں کے دیوان نکلتے ہیں
گہ لوہو ٹپکتا ہے گہ لختِ دل آنکھوں سےیا ٹکڑے جگر ہی کے ہر آن نکلتے ہیں
کریے تو گلہ کس سے جیسی تھی ہمیں خواہشاب ویسے ہی یہ اپنے ارمان نکلتے ہیں
جاگہ سے بھی جاتے ہو منہ سے بھی خشن ہو کروے حرف نہیں ہیں جو شایان نکلتے ہیں
سو کاہے کو اپنی تو جوگی کی سی پھیری ہےبرسوں میں کبھو ایدھر ہم آن نکلتے ہیں
ان آئینہ رویوں کے کیا میرؔ بھی عاشق ہیںجب گھر سے نکلتے ہیں حیران نکلتے ہیں
۲۳۔ ہم آپ ہی کو اپنا مقصود جانتے ہیں
ہم آپ ہی کو اپنا مقصود جانتے ہیںاپنے سوائے کس کو موجود جانتے ہیں
عجز و نیاز اپنا اپنی طرف ہے سارااس مشتِ خاک کو ہم مسجود جانتے ہیں
صورت پذیر ہم بن ہرگز نہیں وے مانےاہلِ نظر ہمیں کو معبود جانتے ہیں
عشق ان کی عقل کو ہے جو ماسوا ہمارےناچیز جانتے ہیں نابود جانتے ہیں
اپنی ہی سیر کرنے ہم جلوہ گر ہوئے تھےاس رمز کو ولیکن معدود جانتے ہیں
یا رب کسے ہے ناقہ ہر غنچہ اس چمن کاراہِ وفا کو ہم تو مسدود جانتے ہیں
یہ ظلم بے نہایت دشوار تر کہ خوباںبد وضعیوں کو اپنی محمود جانتے ہیں
کیا جانے داب صحبت از خویش رفتگاں کامجلس میں شیخ صاحب کچھ کود جانتے ہیں
مر کر بھی ہاتھ آوے تو میرؔ مفت ہے وہجی کے زیان کو بھی ہم سود جانتے ہیں
۲۴۔ اب جو اک حسرتِ جوانی ہے
اب جو اک حسرتِ جوانی ہےعمرِ رفتہ کی یہ نشانی ہے
رشکِ یوسف ہے آہ وقتِ عزیزعمر اک بارِ کاروانی ہے
گریہ ہر وقت کا نہیں بے ہیچدل میں کوئی غمِ نہانی ہے
ہم قفس زاد قیدی ہیں ورنہتا چمن ایک پرفشانی ہے
اس کی شمشیر تیز ہے ہمدممر رہیں گے جو زندگانی ہے
غم و رنج و الم نکو یاں سےسب تمہاری ہی مہربانی ہے
خاک تھی موجزن جہاں میں اورہم کو دھوکا یہ تھا کہ پانی ہے
یاں ہوئے میرؔ تم برابرِ خاکواں وہی ناز و سرگرانی ہے
۲۵۔ آوے گی میری قبر سے آواز میرے بعد
آوے گی میری قبر سے آواز میرے بعدابھریں گے عشقِ دل سے ترے راز میرے بعد
جینا مرا تو تجھ کو غنیمت ہے ناسمجھکھینچے گا کون پھر یہ ترے ناز میرے بعد
شمعِ مزار اور یہ سوزِ جگر مراہر شب کریں گے زندگی ناساز میرے بعد
حسرت ہے اس کے دیکھنے کی دل میں بے قیاساغلب کہ میری آنکھیں رہیں باز میرے بعد
کرتا ہوں میں جو نالے سرانجام باغ میںمنہ دیکھو پھر کریں گے ہم آواز میرے بعد
بن گل موا ہی میں تو پہ تو جا کے لوٹیوصحنِ چمن میں اے پرِ پرواز میرے بعد
بیٹھا ہوں میرؔ مرنے کو اپنے میں مستعدپیدا نہ ہوں گے مجھ سے بھی جانباز میرے بعد
۲۶۔ چلتے ہو تو چمن کو چلیے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے
چلتے ہو تو چمن کو چلیے کہتے ہیں کہ بہاراں ہےپات ہرے ہیں پھول کھلے ہیں کم کم باد و باراں ہے
رنگ ہوا سے یوں ٹپکے ہے جیسے شراب چواتے ہیںآگے ہو مے خانے کے نکلو عہدِ بادہ گساراں ہے
عشق کے میداں داروں میں بھی مرنے کا ہے وصف بہتیعنی مصیبت ایسی اٹھانا کارِ کار گزاراں ہے
دل ہے داغ جگر ہے ٹکڑے آنسو سارے خون ہوئےلوہو پانی ایک کرے یہ عشقِ لالہ عذاراں ہے
کوہ کن و مجنوں کی خاطر دشت و کوہ میں ہم نہ گئےعشق میں ہم کو میرؔ نہایت پاسِ عزت داراں ہے
۲۷۔ جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہے
جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہےرومال دو دو دن تک جوں ابرِ تر رہے ہے
آہِ سحر کی میری برچھی کے وسوسے سےخورشید کے منہ اوپر اکثر سپر رہے ہے
آگہ تو رہیے اس کی طرزِ رہ و روش سےآنے میں اس کے لیکن کس کو خبر رہے ہے
ان روزوں اتنی غفلت اچھی نہیں ادھر سےاب اضطراب ہم کو دو دو پہر رہے ہے
آبِ حیات کی سی ساری روش ہے اس کیپر جب وہ اٹھ چلے ہے ایک آدھ مر رہے ہے
تلوار اب لگا ہے بے ڈول پاس رکھنےخون آج کل کسو کا وہ شوخ کر رہے ہے
در سے کبھو جو آتے دیکھا ہے میں نے اس کوتب سے ادھر ہی اکثر میری نظر رہے ہے
آخر کہاں تلک ہم اک روز ہو چکیں گےبرسوں سے وعدۂ شب ہر صبح پر رہے ہے
میرؔ اب بہار آئی صحرا میں چل جنوں کرکوئی بھی فصلِ گل میں نادان گھر رہے ہے
۲۸۔ عام حکمِ شراب کرتا ہوں
عام حکمِ شراب کرتا ہوںمحتسب کو کباب کرتا ہوں
ٹک تو رہ اے بنائے ہستی توتجھ کو کیسا خراب کرتا ہوں
بحث کرتا ہوں ہو کے ابجد خواںکس قدر بے حساب کرتا ہوں
کوئی بجھتی ہے یہ بھڑک میں عبثتشنگی پر عتاب کرتا ہوں
سر تلک آبِ تیغ میں ہوں غرقاب تئیں آب آب کرتا ہوں
جی میں پھرتا ہے میرؔ وہ میرےجاگتا ہوں کہ خواب کرتا ہوں
۲۹۔ باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنیے گا
باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنیے گاپڑھتے کسو کو سنیے گا تو دیر تلک سر دھنیے گا
سعی و تلاش بہت سی رہے گی اس انداز کے کہنے کیصحبت میں علما فضلا کی جا کر پڑھیے گنیے گا
دل کی تسلی جب کہ ہوگی گفت و شنود سے لوگوں کیآگ پھنکے گی غم کی بدن میں اس میں جلیے بھنیے گا
گرم اشعارِ میرؔ درونہ داغوں سے یہ بھر دیں گےزرد رو شہر میں پھریے گا گلیوں میں نے گل چنیے گا
۳۰۔ کچھ موجِ ہوا پیچاں اے میرؔ نظر آئی
کچھ موجِ ہوا پیچاں اے میرؔ نظر آئیشاید کہ بہار آئی زنجیر نظر آئی
دلی کے نہ تھے کوچے اوراقِ مصور تھےجو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی
مغرور بہت تھے ہم آنسو کی سرایت پرسو صبح کے ہونے کو تاثیر نظر آئی
گل بار کرے ہے گا اسبابِ سفر شایدغنچے کی طرح بلبل دلگیر نظر آئی
اس کی تو دل آزاری بے ہیچ ہی تھی یاروکچھ تم کو ہماری بھی تقصیر نظر آئی
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.